پھر ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دے دے تو وہ اس پر حرام ہوجائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو، ہم بستری ہو، پھر وہ مرجائے یا طلاق دے دے۔ پس اگر نکاح کے مثلاً لونڈی بنا کر وطی بھی کرلے تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح گو نکاح باقاعدہ ہو لیکن اس دوسرے خاوند نے مجامعت نہ کی ہو تو بھی پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں۔ اکثر فقہاء میں مشہور ہے کہ حضرت سعید بن مسیب مجرم (صرف) و عقد کے حلال کہتے ہیں گو میل نہ ہوا ہو، لیکن یہ بات ان سے ثابت نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور دخول سے پہلے ہی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 253
احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص محض اپنی مطلقہ بیوی کو اپنے لیے حلال کرنے کے خاطر کسی سے سازش کے طور پر اس کا نکاح کرائے اور پہلے سے یہ طے کرے کہ وہ نکاح کے بعد اسے طلاق دے دے گا، تو یہ سراسر ناجائز فعل ہے۔ ایسا نکاح، نکاح نہ ہوگا، بلکہ محض ایک بدکاری ہوگی اور ایسے سازشی نکاح و طلاق سے عورت ہرگز اپنے سابق شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی۔ حضرت علی ؓ اور ابن مسعود ؓ اور ابوہریرہ ؓ اور عُقّبہ بن عامر ؓ کی مُتّفقَہ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس طریقہ سے حلالہ کرنے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →یہ مسئلہ ضمنی بیان فرمانے کے بعد پھر تیسری طلاق کا ذکر اس طرح فرمایافَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ یعنی اگر اس شخص نے تیسری طلاق بھی دے ڈالی (جو شرعا پسندیدہ نہ تھی) تو اب نکاح کا معاملہ بالکلیہ ختم ہوگیا اس کو رجعت کرنے کا کوئی اختیار نہ رہا اور چونکہ اس نے شرعی حدود سے تجازو کیا کہ بلاوجہ تیسری طلاق دے دیتو اس کی سزا یہ ہے کہ اب اگر یہ دونوں راضی ہو کر پھر آپس میں نکاح کرنا چاہیں تو بھی نہیں کرسکتے اب ان کے آپس میں دوبارہ نکاح کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ عورت (عدت طلاق پوری کرکے) کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرکے دوسرے شوہر کے…
Read the full tafseer →ایک پر حکمت پابندی : آخری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اس عورت سے نکاح کرنا چاہے تو یہ اس کا حکم بیان ہو رہا ہے کہ جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے اور وہ اس کو طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں ہوسکتی۔ جس طرح اوپر والا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ طلاق کا فیصلہ غصہ یا عجلت میں نہ کیا جائے اسی طرح اس پابندی سے مقصود طلاق کو ایک سہل کھیل بنانے سے بچانا ہے۔ اگر طلاق کے بعد بھی طلاق دینے والے کے لیے اس عورت سے نکاح کی آزادی باقی رہتی تو بہت سے لوگ طلاق کی حقیقی اہمیت نہ سمجھ سکتے لیکن جب یہ پابندی لگ گئی کہ چھوڑی ہوئی بیوی دوبارہ اسی صورت میں مل سکتی ہے…
Read the full tafseer →اس طلاق سے تیسری طلاق مراد ہے یعنی تیسری طلاق کے بعد خاوند اب نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح البتہ عورت کسی اور جگہ نکاح کرلے اور دوسرا خاوند اپنی مرضی سے اسے طلاق دے دے یا فوت ہوجائے تو اس کے بعد اس سے نکاح جائز ہے لیکن اس کے لئے جو حلالہ کا طریقہ رائج ہے یہ لعنتی فعل ہے نبی ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے حلالہ کی غرض سے کیا گیا نکاح نکاح نہیں ہے زناکاری ہے۔ اس نکاح سے عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
151: اس آیت نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ اگر طلاق دینی ہی پڑجائے تو زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلقات بحال ہونے کا امکان رہتا ہے ؛ چنانچہ عدت کے دوران شوہر کو طلاق سے رجوع کرنے کا حق رہتا ہے، اور عدت کے بعد دونوں کی باہمی رضا مندی سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہوسکتا ہے، لیکن جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تین طلاقوں کے بعد دونوں راستے بند ہوجاتے ہیں اور تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا، دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ شوہر طلاق سے رجوع کا فیصلہ کرے یا علیحدگی کا، دونوں صورتوں میں معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے چاہئیں، عام حالات میں شوہر…
Read the full tafseer →جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ، تیسری بار طلاق اس بات کی دلیل ہے کہ میاں بیوی کے یہاں بنیادی اختلاف موجود ہے ۔ اس قدر گہرا کہ اصلاح کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ تو اس صورت میں مناسب یہی ہے کہ میاں بیوی کو ہمیشہ کے لئے جدا کردیا جائے اور ہر ایک کو آزاد کردیا جائے کہ وہ اپنے لئے جدید رفیق حیات تلاش کریں اور ازسر نو عائلی زندگی کا آغاز کریں۔ اور اگر خاوند محض ژاوہ گوئی ، جلد بازی اور کبر و غرور کی وجہ سے یہ طلاقیں دے رہا ہو تو پھر بھی تیسری طلاق دینے کو نافذ کردیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ اس نازک معاملے میں ژاوہ گوئی کے لئے بھی کوئی حد ہونی چاہئے ۔ اس لئے طلاق کی گنجائش اس لئے نہیں رکھی گئی کہ اسے مذاق بنادیا…
Read the full tafseer →2 یعنی اگر زوج اپنی عورت کو تیسری بار طلاق دیگا تو پھر عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کر کے اپنی خوشی سے طلاق نہ دیوے اس کی عدّت پوری کر کے پھر زوج اوّل سے نکاح جدید ہوسکتا ہے اس کو حلالہ کہتے ہیں اور حلالہ کے بعد زوج اول کے ساتھ نکاح ہونا جب ہی ہے کہ ان کو حکم خداوندی کے قائم رکھنے یعنی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا خیال اور اس پر اعتماد ہو ورنہ ضرور نزاع باہمی اور اتلاف حقوق کی نوبت آئے گی اور گناہ میں مبتلا ہوں گے۔
Read the full tafseer →آیت 230 فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ط۔
تیسری طلاق دے چکنے کے بعد اگر کوئی شخص پھر اسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جب تک وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ اسے طلاق نہ دے اس وقت تک یہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔ اسے حلالہ کہا جاتا ہے۔ لیکن حلالہ کے نام سے ہمارے ہاں جو مکروہ دھندا مروّج ہے کہ ایک معاہدے کے تحت عورت کا نکاح کسی مرد سے کیا جاتا ہے کہ تم پھر اسے طلاق دے دینا ‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے۔
فَاِنْ طَلَّقَہَا
یعنی وہ عورت دوسری جگہ پر شادی کرلے ‘ لیکن دوسرے شوہر سے بھی اس کی نہ بنے اور وہ بھی اس کو…
Read the full tafseer →312 خاوند نے جب تیسری بار طلاق دے دی۔ تو اب وہ اس کے لیے حرام ہوگئی۔ عورت پر عدت تو ہوگی، مگر مرد اس عدت میں رجوع نہیں کرسکتا۔ اب ان دونوں کے ملاپ کی صرف یہ صورت ہے کہ عدت گزرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے پھر کسی وقت وہ مرد از خود اس عورت کو طلاق دے دے یا وہ مرد فوت ہوجائے تو پھر عدت گزرنے کے بعد یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے نکاح کرسکتی ہے۔
احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص محض اپنی مطلقہ بیوی کو حلال کرنے کی خاطر کسی سے اس کا اس شرط پر نکاح کرائے کہ وہ نکاح کے بعد دوسرے یا تیسرے دن اسے طلاق دے دے گا۔ تاکہ یہ عورت پھر اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکے (جسے شرعی اصطلاح میں…
Read the full tafseer →859 ۔ یعنی ان پہلی دونوں طلاقوں کے بعد رجعت نہ کرے، اور طلاق پر قائم ہی رہے، تو اب تیسری بار، یا پہلی طلاق سے تین مہینے گزر جانے کے بعد، اب طلاق قطعی طور پر نافذ ہوجائے گی، تین مہینے کی مدت غور وفکر کے لیے اور سعی مصالحت ومفاہمت کے لیے بہت کافی ہوتی ہے۔
860 (اور وہ شوہر اس سے ہمبستری بھی کرلے) دوسرے شوہر سے یہ نکاح پہلے شوہر سے طلاق قطعی پانے کے تین مہینے بعد یعنی ایام عدت گزارنے کے بعد ہی ہو سکے گا، (آیت) ” تنکح “۔ نکاح۔ یہاں اپنے اصطلاح شرعی معنی میں، یعنی عقد نکاح کے مرادف نہیں، بلکہ اپنے اصلی اور لغوی معنی میں، یعنی ہمبستری کے مرادف ہے۔ محض عقد کا مفہوم تو خود لفظ (آیت) ” زوجا “ سے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 230–231
فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ (الآیۃ) اگر مرد نے تیسری طلاق دیدی تو اب نکاح جدید سے بھی حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے مرد سے وطی حلال نہ کرے، حلالہ کے بعد اگر یہ خیال کریں کہ آئندہ حقوق اللہ کی حفاظت کریں گے تو ان کے لئے نکاح جائز ہے، اِنْ ظنّا شرط نکاح نہیں ہے شرط اولویت ہے۔
مسئلہ : جب تک شوہر ثانی مباشرت نہ کرے عورت شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی، اور یہ قید خود قرآن سے مفہوم ہوتی ہے حَتّٰی تَنْکِحَ رَوْجًا غَیْرَہٗ ، نکاح کے لغوی معنی وطی کے ہیں اور نکاح عرفی زوجًا غیرہ سے مفہوم ہے ورنہ تو شوہر سے عقد نکاح کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اسکے علاوہ امرأۃ رفاعہ کی حدیث مشہور ہے جس سے کتاب…
Read the full tafseer →فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ : پس اگر ( دو طلاقوں کے بعد بھی) عورت کو طلاق دیدے) ( تو اب اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے) اور دوسرا احتمال باقی ہے وہ یہ کہ عدت گذرنے تک بلا طلاق کے اصلی حالت پر چھوڑ دے۔ یعنی پہلے شوہر کی نکاح کی حالت پر۔
حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ( جب تک کہ شوہر ثانی کے نکاح میں نہ آئے) یعنی وہ نکاح صحیح نہ کرلے اور صحیح کی قید ہم نے اس لیے بڑھا دی ہے کہ مطلق سے کامل ( فرد) مراد لیا جاتا ہے اور نکاح کی نسبت میاں بیوی دونوں کی طرف ہوسکتی ہے کیونکہ وہ ایجاب اور قبول سے منعقد ہوتا ہے اور یہ دونوں سے صادر ہوتا ہے اور اسی آیت کے ظاہری معنی کی وجہ سے…
Read the full tafseer →(230) اب پھر اللہ تعالیٰ (آیت) ”الطلاق مرتن“۔ والے مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اگر تیسری طلاق دے دے، تو پھر یہ عورتیں تیسری طلاق کے بعد اس مرد کے لیے حلال نہیں رہی جب تک کہ یہ عورت دوسرے شوہر سے شادی کرلے اور وہ دوسرا خاوند اس کے ساتھ ہم بستری بھی کرلے، پھر اس کے بعد اگر وہ دوسرا شوہر طلاق دے دے، یہ آیت عبدالرحمن بن زبیر ؓ کے بارے میں اتری ہے، تو اب پہلے خاوند اور اس عورت پر عدت گزرنے کے بعد آپس میں مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں، اگر یہ جانتے ہوں کہ میاں بیوی کے درمیاں جو حقوق ہیں ان کی پورے طریقہ پر ادائیگی کریں گے، یہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرائض ہیں، ان کو ماننا اور تصدیق…
Read the full tafseer →یعنی تیسری طلاق کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اور وہ خاوند اس سے جماع نہ کرلے اور پھر وہ اسے از خود طلاق نہ دے، یا فوت نہ ہوجائے تو پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح حلال نہیں۔ اس کا معنی یہ نہیں کہ دوسرے خاوند سے اس غرض سے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے، کیونکہ ایسا نکاح کرنے اور کروانے والے پر تو احادیث میں لعنت آئی ہے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت فرمائی۔“ [ نسائی، الطلاق، باب إحلال المطلقۃ۔۔ : 3445، و حسنہ الألبانی۔ ترمذی : 1119، مختصرًا ] بلکہ آپ ﷺ نے حلالہ کرنے والے کو ”اَلتَّیْسُ الْمُسْتَعَارُ“…
Read the full tafseer →سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر :
اور امام شافعی (رح) نے اپنے دو قولوں میں سے ایک میں کہا ہے : اگر اس نے خلع سے طلاق کی نیت کی اور اس کا نام بھی لیا تو وہ طلاق ہوگی اور اگر اس نے طلاق کی نیت نہ کی اور نہ اس کا نام لیا تو فرقت واقع نہ ہوگی، آپ نے قدیمی قول میں یہی کہا ہے اور آپ کا پہلا قول میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ مزنی نے کہا ہے : وہی ان کے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
اور ابو ثور (رح) نے کہا ہے : جب وہ طلاق کا نام نہ لے تو خلع فقط فرقت ہوگی اور طلاق نہیں ہوگی اور اس نے طلاق کا نام لیا تو وہ طلاق ہوگی اور زوج رجعت کا زیادہ مالک ہوگا جب تک وہ عدت میں رہی۔
اور جنہوں نے کہا ہے کہ خلع فسخ ہے طلاق نہیں ہے مگر…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد “ سے مراد ہے کہ اگر خاوند بیوی کو تین طلاقیں دیدے تو اس کے لئے (اب) حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے مرد سے نکاح کرلے۔
(2) ابن جریر نے مجاہد (رح) سے لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس آیت کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” فامساک بمعروف او تسریح باحسان “ کے ساتھ کہ اب تیسری طلاق کے بعد خامساک بمعروف جائز نہیں۔
(3) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ “ سے یہ تیسری طلاق مراد ہے جس کا اللہ…
Read the full tafseer →[ فَاِنْ : پس اگر ] [ طَلَّقَہَا : وہ طلاق دیتا ہے اس کو ] [ فَلاَ تَحِلُّ : تو وہ حلال نہیں ہوگی ] [ لَہٗ : اس کے لیے ] [ مِنْم بَعْدُ : اس کے بعد ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَنْکِحَ : وہ عورت نکاح کرے ] [ زَوْجًا : کسی (ہونے والے) شوہر سے ] [ غَیْرَہٗ : اس کے علاوہ ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ طَلَّـقَہَا : وہ طلاق دے اس کو ] [ فَلاَ جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِمَا : ان دونوں پر ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـتَرَاجَعَا : وہ دونوں باہم رجوع کریں ] [ اِنْ : اگر ] [ ظَنَّــا : ان دونوں کو خیال ہو ] [ اَنْ یُّقِیْمَا : کہ وہ قائم رکھیں گے ] [ حُدُوْدَ اللّٰہِ : اللہ کی حدوں کو ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
طلاق اور خلع کے چند احکام
ان دونوں آیتوں میں طلاق کے متعدد مسائل اور متعدد تنبیہات مذکور ہیں جو زن و شوہر سے متعلق ہیں، طلاق رجعی طلاق بائن، طلاق مغلظہ اور خلع کے مسائل اجمالی طور پر بیان فرمائے ہیں۔
اگر کوئی شخص طلاق دینے کی ضرورت محسوس کرے تو احسن طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے طہر میں (یعنی پاکی کے زمانے میں) ایک طلاق دے دے جس میں جماع نہ کیا ہو پھر عورت کو اپنی حالت پر چھوڑ دے۔ قانون شرعی کے مطابق یہ طلاق رجعی ہوگی (بشرطیکہ عورت سے نکاح کے بعد جماع بھی کرچکا ہو، اگر صرف نکاح ہوا تھا تو یہ طلاق بائن ہوگی) جب پاکی کے زمانہ میں طلاق رجعی دے دی اور عورت کو اپنے حال پر چھوڑ دیا حتیٰ کہ عدت گزر گئی…
Read the full tafseer →حکم بست وششم، حلالہ درطلاق ثالث۔
قال تعالی، فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں دو طلاق کا حکم بیان فرمایا یعنی دو طلاق کے بعد تم کو امساک بمعروف اور تسریح باحسان کا اختیار ہے اب اس آیت میں تیسری طلاق کا حکم بیان فرماتے ہیں کہ تیسری طلاق کے بعد تم کو رجعت وغیرہ کا کوئی حق نہیں رہتا بدون حلالہ کے تمہاری طرف واپس نہیں ہوسکتی چناچہ فرماتے ہیں پس اگر دو طلاق دینے کے بعد تیسری طلاق بھی دے دے تو اس عورت کا تعلق اس سے بالکلیہ منقطع ہوجائے گا اس لیے کہ دو طلاق کے بعد تو رجعت کا امکان تھا اور جب تیسری طلاق بھی دے دی تو اب رجعت کا کوئی موقعہ نہیں رہا طلاق کی وضع ہی مفارقت…
Read the full tafseer →456 اس کا تعلق الطلاق مرتٰن سے ہے اور اس میں تین طلاقوں کا حکم بیان کیا گیا ہے۔ دو طلاقوں کے بعد تو اگر رجعی ہوں، خاوند رجوع کرسکتا ہے اور اگر ایک بصورت خلع ہو تو بھی دوبارہ نکاح کرسکتا ہے۔ لیکن اگر اس نے عدت کے اندر تیسری طلاق بھی دیدی تو اب وہ اس سے نہ رجوع کرسکتا ہے اور نہ نکاح ہی کرسکتا ہے۔ البتہ ایک طریقہ ہے جس سے وہ عورت دوبارہ اس کے نکاح میں آسکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ عورت انقاء عدت کے بعد کسی دوسرے آدمی سے نکاح کرے اور وہ آدمی اس سے صحبت کے بعد اسے طلاق دیدے اور اس کی عدت گزر جائے تو پہلا خاوند اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ مذکورہ آیت میں یہی حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →حلالہ
گزشتہ درس میں طلاق کا مسئلہ بیان ہوا تھا۔ اور اس کے بعد خلع کا بیان آیا۔ آج کی آیت کا تعلق بھی مسئلہ طلاق سے ہے ۔ وہاں یہ بیان ہوا تھا کہ طلاق دو مرتبہ ہے جس کے بعد خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ اس درس میں تیسری طلاق اور اس کے نتائج کا ذکر آ رہا ہے۔ فرمایا فان طلقھا یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تیسری مرتبہ طلاق دے دے ۔ تو اب رجوع کا حق ختم ہوگیا۔ فلا تحل لہ من بعد حتی تکح زوجاً غیرہ اب اس مرد کے لئے عورت حلال نہیں ہے۔ جب تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کے لئے مغلظ ہوگئی۔ اگرچہ یہاں پر عدت کا ذکر نہیں ہوا۔ تاہم یہ بات پہلے آ چکی ہے کہ طلاق یا بیوگی کے بعد عورت…
Read the full tafseer →فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَہٗ 0 ۭ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْھِمَآ اَنْ يَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللہِ 0 ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ يُبَيِّنُھَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 230
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1]
( ط ل ق )
ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 230–232
ترکیب : فان طلقہا شرط فلا تحل فعل ضمیر ہی راجع عورت کی طرف فاعل لہ متعلق لا یحل من بعد متعلق فعل مذکور حتی غایۃً لا تحل تنکح فعل ضمیر ہی۔ فاعل زوجا مفعول موصوف غیرہ صفت یہ تمام جملہ جواب شرط فان طلقہا ای الزوج الثانی جملہ شرط فلا جناح علیہما ای المرۃ والزوج الاول ان یتراجعا فی محذوف جملہ جواب شرط ان شرطیۃ ظنا فعل الزوجان فاعل ان یقیما الخ جملہ مفعول پھر یہ سب شرط اور فلا جناح دال بر جزاء تلک مبداء حدود اللّٰہ خبر موصوف یبینہا الخ جملہ صفت واذا طلقتم النساء شرط فامسکوھن الخ جواب ضرارا مفعول لہ تمسکوھن وما معطوف ہے نعمت اللہ پر ان ینکحن ای من ان ینکحن۔
تفسیر : اس آیت میں طلاق کے متعلق پانچواں…
Read the full tafseer →فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَـہٗ مِنْ م بَعْدُ حَتّٰی تَنْـکِحَ زُوْجًا غَیْرَہٗ ط فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَـآ اَنْ یَّتَرَاجَعَـآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ یُّـقِیْمَا حُدُوْدَاللّٰہِ ط وَ تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔
(پس اگر وہ اس کو (تیسری) طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں جب تک وہ اس کے سوا کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ (دوسرا شوہر) اس کو طلاق دے دے تو پھر ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ رجوع کرلیں (آپس میں نکاح کرلیں) اگر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم رہ سکتے ہیں، یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اگر میاں بیوی کے درمیان اکٹھا رہنے کی کوئی شکل باقی نہ رہے اور عورت کو تیسری بار طلاق بھی دے دی جائے تو پھر وہ آپس میں رجوع نہیں کرسکتے کیونکہ ایسی طلاق کو طلاق مغلظہ کہتے ہیں۔ اب ان کا میاں بیوی بن کر رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ سوائے اس کے کہ یہ عورت کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے اور اس نکاح میں یہ شرط ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ میں اتنی مدت کے بعد تجھ سے طلاق حاصل کروں گی یا اس کا بننے والا خاوند اس ارادے کے ساتھ نکاح کرے کہ میں مجامعت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دوں گا۔ ایسے ملاپ اور نکاح کو حدیث میں حلالہ کہا گیا ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے پر رسول…
Read the full tafseer →آیت 230:
فَاِنْ طَلَّقَہَا۔ (پس اگر اس نے عورت کو طلاق دے دی) یعنی تیسری بار۔ دو بار کے بعد۔
خلع طلاق بدل :
سوال : خلع ہمارے نزدیک طلاق ہے اور ایک قول امام شافعی (رح) کا بھی یہی ہے۔ تو اس طرح یہ چوتھی طلاق بن گئی۔
جواب : خلع طلاق بالبدل ہے ( اور پہلی دو جو مذکور ہوئیں وہ بلا بدل ہیں) پس یہ تیسری طلاق ہوئی۔ اور یہ اسی کا بیان ہے یعنی اگر اس نے تیسری طلاق بالبدل دے دی۔ تو اس سے تحلیل کا حکم اس طرح ہے۔
فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنْم بَعْدُ ۔ (تو اب اس کے بعد وہ اسکے لئے حلال نہیں ہے) یعنی تیسری طلاق کے بعد۔ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔ (جب تک کہ شوہر ثانی کے نکاح میں نہ آئے) یعنی اس وقت تک جبکہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 230۔ :
(آیت)” فان طلقھا “۔ تیسری طلاق ”(آیت)” فلا تحل لہ من بعد “ ۔ تیسری طلاق کے بعد (آیت)” حتی تنکح زوجا غیرہ “۔ طلاق دہندہ کے علاوہ پس وہ دوسر خاوند اس سے جماع بھی کرے لفظ نکاح جماع اور عقد دونوں کو شامل ہے ، یہ آیت کریمہ تمیمہ کے بارے میں نازل ہوئی اور بعض نے کہا ہے کہ عائشہ بنت عبدالرحمن بن عتیک قرظی کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ اپنے چچا زاد رفاعہ بن وہب بن عتیک قرظی کے گھر میں تھی اس نے اسے تین طلاق دی ۔
حضرت عروہ نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رفاعہ قرظی کی بیوی حضور ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی میں رفاعہ کے پاس تھی پس اس نے مجھے طلاق دی اور طلاق بھی طلاق قطعی (مغلظہ) اس کے بعد…
Read the full tafseer →تفسیر ابراہیم بن المنذر میں ابو بسطام مقاتل بن حیان سے روایت ہے کہ رفاعہ بن وہب ؓ ایک نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اپنی بی بی عائشہ ؓ بنت عبد الرحمن بن عتیک ؓ کو تین دفعہ طلاق دے دی اور اس نے عبد الرحمن بن زبیر ؓ سے دوسرا نکاح کرلیا ایک روز اس عورت عائشہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے آکر عرض کیا کہ عبد الرحمن ؓ نے مجھ کو بغیر مباشرت کے طلاق دے دی ہے۔ کیا اب میں رفاعہ سے پھر نکاح کرسکتی ہوں آپ نے فرمایا کہ جب تک عبد الرحمن ؓ تجھ سے مباشرت نہ کر لیوے رفاعہ کے پاس تو نہیں جاسکتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ اصل حدیث بغیر ذکر شان نزول آیت کے صحاح کی سب کتابوں میں ہے صرف ابوداؤد میں رفاعہ ؓ کا…
Read the full tafseer →(آیت) فَاِنْ طَلَّقَھَا ” پھر اگر (تیسری) طلاق دے دے۔ “ : (آیت) فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ۭ ” تو اب اس کے لئے حلال نہیں وہ عورت اس کے بعد، یہاں تک کہ وہ نکاح کرے کسی خاوند سے اس کے سوا۔ “ یعنی وہ عورت دوسرے خاوند سے صحیح نکاح کرے اور وہ خاوند اس سے ہم بستری بھی کرے، اس لئے کہ اہل علم کے اجماع کے مطابق نکاح شرع اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک کہ اس میں عقد اور مجامعت نہ ہو۔ اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ نکاح ثانی رغبت سے کیا گیا ہو۔ اگر یہ نکاح پہلے شوہر کے لئے لحال ہونے کی نیت سے کیا گیا ہو تو یہ نکاح نہیں ہوگا اور نہ اس نکاح سے عورت پہلے خاوند کے لئے…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر :)
اگر اس شخص کے ارادے کے تحت تین طلاقوں کے واقع ہوجانے کی گنجائش نہ ہوتی تو حضور ﷺ اس سے حلفاً یہ نہ کہلواتے کہ اس نے صرف ایک کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں ہم نے سلف کے اقوال نقل کر دئیے ہیں اور یہ واضح کردیا ہے کہ اگرچہ یہ طریقہ معصیت کا طریقہ ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ اس لیی کتاب و سنت اور اجماع امت ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے واقع وہ جانے کو واجب کر رہے ہیں اگرچہ اس طرح طلاق دینا معصیت ہے۔ بشرین الولید نے امام ابویوسف سے نقل کیا ہ کہ ان کے قول کے مطابق حجاج بنارطاۃ اس مسئلے میں بڑے سخت تھے اور کہا کرتے تھے کہ تین طلاق کوئی چیز نہیں ہے ۔
محمد بن اسحاق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
637 تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن : پس تیسری طلاق آخری اور فیصلہ کن امر ہے۔ اس کے بعد اس کی بیوی قطعی طور پر اس کی زوجیت سے فارغ اور الگ ہوجاتی ہے۔ ایسا نہیں جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتا تھا کہ انسان جتنی طلاقیں چاہتا اپنی بیوی کو دے دیتا۔ اور پھر اس کی عدت گزرنے سے پہلے وہ اس سے رجوع کرلیتا، اور اس طرح وہ " معلقہ " (لٹکی ہوئی) رہتی۔ نہ تو اس کا خاوند اسے باقاعدہ بیوی بنا کر رکھتا، اور نہ ہی وہ اسے باقاعدہ طلاق دے کر چھوڑ دیتا، تاکہ وہ کسی اور جگہ اپنا عقد نکاح کرلیتی۔ یہاں تک کہ اسلام نے آکر صنف نازک کو اس عذاب سے ہمیشہ کیلئے رہائی اور نجات دلائی، اور طلاق کی آخری حد تین تک مقرر کردی، کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–230
خلع اور رجوع کی صورت
تشریح : اسلام سے پہلے یہ بری عادت تھی کہ بعض غلط آدمی جب چاہتے اور جتنی بار چاہتے بیوی کو طلاق دے دیتے اور پھر صلح کرلیتے تو اس خرابی اور ظلم کو روکنے کے لیے حکم دیا گیا کہ صرف دو بار طلاق کے بعد عورت کی واپسی ہوسکتی ہے۔ صاف طور پر بتا دیا گیا ہے کہ دو طلاق تک یہ اختیار دیا گیا ہے کہ مرد اگر چاہے تو عدت کے دوران دستور کے مطابق عورت کو رکھ لے اور اگر نہ چاہے تو بھلائی کے ساتھ عورت کو چھو ڑدے لیکن اگر عدت پوری ہوجائے تو پھر واپسی کی صورت باقی نہیں رہتی۔ ہاں اگر دونوں راضی ہوں کہ آئندہ خوش و خرم رہ سکیں گے تو پھر نئے نکاح کے ساتھ رجوع کرنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ لیکن اگر تیسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 230–231
آیات 230- 231
اسرارو معارف
ایسے ہی اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے علیحدہ ہی ہونا چاہے یا کوئی ایسی صورت واقع ہو کہ آئندہ مل کر رہنا نقصان دہ ہو یا زوجین کے مزاج نہ مل سکیں تو علیحدگی کی بھی ایک خاص صورت ہے جیسے معاہدہ نکاح کی ایک معین اور خاص صورت ہے کہ ہر عورت کا ہر مرد سے نکاح جائز نہیں بلکہ ایک خاص ضابطہ ہے جس کی رو سے متعدد عورتوں اور مردوں کا آپس میں نکاح درست نہیں اور انعقاد نکاح کے لئے دو گواہ موجود ہونا شرط ہے اگر گواہوں کے بغیر مرد اور عورت آپس میں نکاح کرلیں اور پھر زندگی بھر اس سے کوئی فریق بھی انکار نہ کرے تب بھی یہ نکاح باطل ہوگا اور منعقدہ نہ ہوگا۔ اسی طرح نکاح کا اعلان عام بھی مسنون…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی تیسری طلاق کے بعد اب جب تک عورت کسی دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد ایک مرتبہ مجامعت سے لذت اندوز نہ ہو لے اور پھر دوسرا خاوند اسے از خود طلاق نہ دے تو پہلے خاوند کے لیے اس سے نکاح حلال نہیں۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے خاوند سے اس غرض سے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہوجائے کیونکہ ایسے نکاح پر تو احادیث میں لعنت آئی ہے بلکہ دوسرے خاوند سے مستقل طور پر اس کی بیوی بن کر رہنے کے لیے نکاح کرے اور پھر کسی وجہ سے طلاق ہوجائے یا دوسرا خاوند فوت ہوجائے تو اب سابقہ خاوند کے لیے اس سے نکاح جائز ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) مسئلہ ایک مجلس میں بیک وقت تین طلاق دی جائیں تو وہ ایک ہی شمار ہوگی جیسا کہ…
Read the full tafseer →(2:230) فان طلقھا۔ جملہ شرطیہ ہے پھر اگر وہ اس عورت کو (دو مرتبہ طلاق دینے کے بعد تیسری) طلاق دیدے فلا تحل لم من بعد حتی تنکح زوھا غیرہ۔ جواب شرط۔ لا یحل۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب ۔ حل (باب ضرب) مصدر۔ وہ عورت حلال نہیں ۔ تنکح واحد مؤنث غائب نکاح (باب ضرب) زوجا غیرہ۔ زوجا (اسم مفعول) جوڑا (حیوانات سے) نر اور مادہ کا علیحدہ علیحدہ بھی زوج کہتے ہیں۔ اسی طرح غیر حیوانات میں بھی ہر اس شے کو جو دوسری شے کے قرین ہو خواہ مماثل ہو یا متضاد ۔ زوج کہتے ہیں۔ جیسے آسمان و زمین سفیدی، سیاہی وغیرہ۔ زوجہ اس مرد کی بیوی۔ اور زوجھا اس عورت کا خاوند۔ یہاں زوجا بمعنی دوسرا خاوند۔ غیرہ پہلے خاوند کے سوا۔ حتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–231
لغات القرآن : آیت نمبر 229 تا 231
مرتن (دو مرتبہ) ۔ امساک (روکنا) ۔ بمعروف (نیکی، بھلائی سے) ۔ تسریح (چھوڑ دینا ہے) ۔ ان یخافا (یہ کہ وہ دونوں ڈرتے ہیں) ۔ الا یقیما (یہ کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے) ۔ حتی تنکح (جب تک نکاح نہ کرے) ۔ زوج (شوہر) ۔ غیرہ (اس شوہر کے سوا) ۔ ان یتراجعا (یہ کہ وہ دونوں رجوع کرلیں) ۔ ان ظنا (اگر وہ دونوں خیال رکھتے ہیں) ۔ بلغن (وہ عورتیں پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت کو (یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ امسکوا (تم روک لو) ۔ سرحوا (تم چھوڑ دو ) ۔ لاتمسکوھن (نہ روکے رکھو ان عورتوں کو) ۔ ضرار (ایذا اور تکلیف) ۔ لتعتدوا (یہ کہ تم زیادتی کرو) ۔ لا تتخذوا ( تم نہ بناؤ ) ۔ ھزو (مذاق) ۔…
Read the full tafseer →مسائل القرآن : حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ تین طلاق کے بعد اگر وہ عورت دوسرا نکاح کرلے اور اس دوسرے خاوند کی نیت محض حلالہ کی نہ ہو اور فقط خلوت نہیں بلکہ مباشرت بھی یہ دوسرا خاوند کرچکے، اور اتفاق سے یہ دوسرا خاوند بھی طلاق دیوے تو اس حالت میں پہلا خاوند اگر اپنی گزر اوقات حسن اسلوبی سے خیال کرے تو اس عورت سے پھر نکاح کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 230–233
[160] تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ عدت گزرنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے اور وہ بعد صحبت کسی وقت خود اپنی مرضی سے طلاق دے دے پھر عدت گزارنے کے بعد عورت کا اپنے پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →حق خلع :
البتہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر عورت کی طرف سے مطالبہ تخلی ہو تو وہ دے دلا کر مرد کو راضی کرلے اور طلاق حاصل کرلے ، اس کا نام اسلامی اصطلاح میں خلع ہے ، یہ عورت کا حق ہے جو اسلام نے بخشا ہے مگر افسوس کہ آج عورتیں اس حق سے محروم ہیں ۔
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جب عدت میں رجوع کی گنجائش ہو اور اس وقت دو ہی صورتیں ہیں ، یا تو حقوق زوجیت ادا کیا جائے اور پھر انہیں باقاعدہ شرافت کے ساتھ الگ کردیا جائے ، انہیں محض دیکھ دینے کے لئے بار بار رجوع کرنا ، جیسے جاہلیت کے زمانہ میں کرتے تھے ، ناجائز ہے کیونکہ نکاح ایک مقد عہد ہے جس کی رعایت حتی الوسع ضروری ہے اور جب آدمی مجبور ہی ہوجائے…
Read the full tafseer →ف 3۔ پھر اگر دو طلاقوں کے بعد شوہر اپنی عورت کو تیسری طلاق بھی دیدے تو پھر وہ عورت اس تین طلاقیں دینے والے کیلئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک یہ عورت اپنی عدت پوری کر کے کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اور وہ دوسرا خاوند اس سے ہم بستر ہو کر طلاق نہ دے دے اور یہ اس طلاق کی عدت نہ گزار لے ، پھر اگر وہ دوسرا خاوند اس کو طلاق دے دے تو اس عورت پر اور اس کے پہلے خاوند پر اس بات میں کچھ گناہ نہیں کہ دوبارہ نکاح کر کے دونوں آپس میں پھر تعلقات وابستہ کرلیں ۔ بشرطیکہ ان دونوں کو اس امر کا یقین اور ظن غالب ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ضابطے اور قائم کردہ حدود کو نگاہ رکھیں گے اور یہ مذکورہ احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 229–231
ف 2۔ اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں جودو مرتبہ سے زائد نہ ہو اور اس میں یہ بھی قید ہو کہ صاف لفظوں سے ہوں اور قاعدہ سے مراد یہ ہے کہ طریقہ بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی اس میں شرع کے موافق ہو اور خوش عنوانی سے بھی مراد یہ ہے کہ طریقہ اس کا شرع کے موافق ہو نیز خوش عنوانی سے چھوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ نیت بھی شرع کے موافق ہو یعنی دفع نزاع مقصود ہو یہ مقصد نہ ہو کہ اس کی دل شکنی کریں اس کو ذلیل کریں اس لیے نرمی ودل جوئی کی رعایت ضروری ہے۔
3۔ عورت سے مال ٹھیرا کر چھوڑنا اس کی دو صورتیں ہیں ایک خلع دوسرا طلاق علی مال۔ خلع یہ کہ عورت کہے کہ تو اتنے مال پر مجھ…
Read the full tafseer →طلاق مکمل کب ہوتی ہے ؟
391: تین طلاق کے بعد طلاق مکمل ہوگئی یعنی خاوند بیوی میں تفریق ہوگئی۔ اب یہ عورت اس وقت تک کے لیے اس پر حرام ہے جب تک کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح نہ کرے۔ پھر یا تو وہ مر جائے یا وہ بھی اس عورت کو طلاق دیدے اور طلاق مکمل ہوجائے ازیں بعد وہ عورت اپنے پہلے خاوند کی طرف رجوع کرنا چاہے تو کرسکتی ہے بشرطیکہ پہلا خاوند اس کو دوبارہ قبول کرے تو نکاح ہو سکتا ہے۔ شریعت کے اعتبار سے تو یہی ایک صورت جوازِ نکاح کی تھی مگر بعض ارباب حیل نے یہاں بھی خدع و فریب سے کام لیا بلکہ اکثر لیتے رہتے ہیں وہ حیلہ کی ایک صورت یہ پیدا کرتے ہیں کہ جب خاوند نے طلاق دیدی پھر اس کو اپنی حرکت پر ندامت…
Read the full tafseer →After dealing with the above problem, the third talaq was mentioned in this manner فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ that is, if that person goes on to pronounce the third talaq as well (something not liked by the Shari'ah), the transaction of nikah shall stand totally annulled. He has exhausted his choice to revoke his divorce and take his wife back. And since he transgressed the limits of Shari'ah by unnecessarily giving the third talaq, he must now have his punishment whereby it is not possible for them to remarry each other even if both of…
Read the full tafseer →253. It is known from authentic Traditions that it is totally illegitimate for a person to arrange the marriage of his divorced wife with someone else on the understanding that the latter wil divorce her to make it possible for the former husband to recontract marriage with that woman. Such trickery would in fact be an act of sheer sexual corruption and would not render the woman liable to remarriage with her former husband. According to a Tradition transmitted from 'Ali, Ibn Mas'ud, Abu Hurayrah and 'Uqbah ibn 'Amir, the Prophet pronounced his curse on those who arrange, as well as on those…
Read the full tafseer →