Explained with ayahs 200–202
تکمیل حج کے بعد
یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کردیا کرتا تھا سخاوت و شجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے، غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لئے او اشد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
سورة الْبَقَرَة 221
اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار یعنی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے دنیا کی بھلائی اور بہتری بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی بہتری بھی اور عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔
اس میں لفظ حسنۃ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے مثلاً دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت اہل و عیال کی صحت، رزق حلال میں وسعت و برکت دنیوی سب ضروریات کا پورا ہونا اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ علم نافع، عزت و وجاہت، عقائد کی درستی صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں اور آخرت کی حسنہ میں…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا (یہی لوگ ہیں جو اپنی کمائی کا حصہ پائیں گے) پہلے گروہ کے متعلق، جو صرف دنیا کا طالب بنتا ہے، یہ فرما دیا کہ " ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے " لیکن اس دوسرے گروہ کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ اپنی کمائی کا حصہ پائیں گے اور یہ حصہ اس اصول کے مطابق ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے نے اپنے نیک بندوں کی نیکیوں کے بدلہ کے لیے مقرر فرما رکھا ہے۔ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ (اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے)۔ تہدید اور تسلی دونوں موقعوں کے لیے موزوں ہے اور قرآن مجید میں یہ دونوں ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے۔ جو لوگ آخرت کے عذاب وثواب کو ایک بہت بعید چیز سمجھ کر اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
21۔ 1 یعنی اعمال خیر کی توفیق، اہل ایمان دنیا میں بھی دنیا طلب نہیں کرتے بلکہ نیکی کی ہی توفیق طلب کرتے۔ نبی ﷺ کثرت سے یہ پڑھتے تھے۔ طواف کے دوران ہر چکر کی الگ الگ دعا پڑھتے ہیں جو خود ساختہ ہیں ان کے بجائے طواف کے وقت یہی دعا پڑھی جائے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً) 2:21 رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان پڑھنا مسنون عمل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
134: جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے :
فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
4 پہلے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اوروں کا مت کرو اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعا مانگنے والے بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ کہ جن کو مطلوب صرف دنیا ہے ان کی دعا یہی ہے کہ ہم کو جو کچھ دولت عزت وغیرہ دی جائے دنیا ہی میں دے دی جائے سو یہ لوگ تو آخرت کی نعمتوں سے بےبہرہ ہیں دوسرے وہ کہ طالب آخرت ہیں جو دنیا کی خوبی یعنی توفیق بندگی وغیرہ اور آخرت کی خوبی یعنی ثواب اور رحمت و جنت دونوں کو طلب کرتے ہیں سو ایسوں کو آخرت میں ان کے حج اور دعا جملہ حسنات سے پورا حصہ ملے گا۔
5 یعنی قیامت کو سب سے ایک دم میں حساب لے گا یا یوں کہو کہ قیامت کو دور نہ سمجھو بلکہ…
Read the full tafseer →آیت 202 اُولٰٓءِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا ط۔
یہ الفاظ بہت اہم ہیں۔ محض دعا کافی نہیں ہوجائے گی ‘ بلکہ اپنا عمل بھی ضروری ہے۔ یہاں پر یہ جو فرمایا کہ ان کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں سے کیوں ؟ وہ تو سارا ملنا چاہیے ! لیکن نہیں ‘ بندے کو اپنے اعمال پر غرّہ نہیں ہونا چاہیے ‘ اسے ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں کسی مسئلے میں میری نیت میں فساد نہ آگیا ہو ‘ ممکن ہے میرے کسی عمل کے اندر کوئی کمی یا کوتاہی ہوگئی ہو۔ اس لیے یہ نہ سمجھ لیں کہ جو کچھ بھی کیا ہے اس کا اجر لازماً ملے گا۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے اس میں اگر خلوص ہے ‘ ریاکاری نہیں ہے ‘ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
272 چونکہ دنیا پہلے ہے اور آخرت بعد میں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے دنیا کا پہلے ذکر فرمایا۔ گویا مومن کو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے بھلائی مطلوب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر بھلائی کے لفظ میں جو وسعت ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں یہ دعا بہت جامع قسم کی دعا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ حج کے دوران طواف کرتے وقت اور دوسرے اکثر اوقات میں بھی یہی دعا فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ)
ان دو آیات میں ایک دنیا دار اور ایک مومن کے مقاصد زندگی کا تقابل پیش کیا گیا ہے جو شخص آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی کا تمام تر مقصد مفادات دنیا کا حصول ہوتا ہے۔ اس کی تمام کوششیں اسی مقصد میں صرف…
Read the full tafseer →747 (دونوں جہانوں میں۔ اور جو گمراہ قوموں کی طرح بےبہرہ نہ رہیں گے)
748 (اور یوم حساب خود ہر لمحہ قریب آتا جارہا ہے، بس اس سے غفلت ہرگز مقتضائے عقل و دانش نہیں مماکسبوا میں من سبیبہ ہے۔ اے من اجل ما کسبوا (بحر) من اجلہ (بیضاوی) (آیت) ” سریع الحساب “۔ اس جیسے قدرت کاملہ کے مالک کو حساب کرتے یا بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔ اے سریع المجازاۃ للعباد باعمالھم (قرطبی) جاہلی قوموں نے اس وصف خاص میں بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کے باب میں بڑی ٹھوکریں کھائیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں عرب حج سے فارغ ہونے کے بعد منی میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ داد کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے، اس پر ان کو تاکید کی جا رہی ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے، اب اسے اللہ کی یاد میں صرف کرو۔
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منی سے عرفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، مگر بعد کے زمانہ میں قریش نے یہ طریقہ شروع کردیا کہ عرفات…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا ۭ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : یہی ہیں جن کے لیے حصہ ہیں ان کے کیے کا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے
Read the full tafseer →(202) اور بعض حضرات علم و عبادت گناہوں سے حفاظت، شہادت اور غنیمت وغیرہ اور جنت اور اس کی نعمتوں کے لیے دعا مانگتے ہیں اور درخواست گزار ہیں کہ قبر اور دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور کردے ان خوبیوں والوں کے لیے جنت میں ان کے حج کا پورا پورا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ جب حساب فرمانے کا ارادہ فرمائیں تو اس کا حساب بہت جلدی ہوجاتا ہے اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس کی حفاظت بہت جلدی ہوتی ہے اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ریاکاروں سے بہت زبردست بدلہ لینے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکر الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر)
ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ : 20) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافت اسلامی کا قیام، وسعت رزق،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 202
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولٰئک لھم نصیب مما کسبوا یہ فریق ثانی کی طرف راجع ہے۔ یعنی اسلام کے فریق کی طرف۔ یعنی ان کے لئے حج کا ثواب ہے یا دعا کا ثواب ہے۔ بیشک مومن کی دعا عبادت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اولٰئک کا مرجع دونوں فریق ہیں مومن کے لئے اس کے عمل اور دعا کا ثواب ہے اور کافر کے لئے اس کے شرک کی سزا اور دنیا پر اس کی نظر کا منحصر ہونے کا وبال ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مثل ہے : ولکل درجٰت مما عملوا (انعام :132)
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ سریع الحساب یہ سرع یسرع سرعا وسرعة سے مشتق ہے جیسے عظم یعظم، اس کا اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
(1) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے ” حجکم “ یعنی تمہارا حج۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے ” حجکم “ یعنی تمہارا حج۔
(3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے خونوں کا بہانا (اور) لفظ آیت ” فاذکر واللہ کذکرکم اباء کم “ سے مراد ہے قربانی کے دن عرب کے لوگوں اپنے آباؤ اجداد کے کاموں پر فخر کرتے تھے جب (حج سے) فارغ ہوجاتے تھے۔ تو ان کو اس جگہ اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا۔
(4) بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَہُمْ : جن کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ہے ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ کَسَبُوْا : انہوں نے ] [ کمایا ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ سَرِیْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے میں تیز ہے ]
ن ص ب
نَصَبَ (ف ۔ ض) نَصْبًا : (1) کسی چیز کو گاڑنا ‘ جمانا۔ (2) کسی کو تکلیف دینا۔ { وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ } (الغاشیۃ) ” اور پہاڑوں کی طرف (نہیں دیکھتے کہ) کیسے وہ جمائے گئے۔ “
نَصِبَ (س) نَصَبًا : محنت کرنا ‘ کوشش کرنا۔
اِنْصَبْ (فعل امر) : تو محنت کر ‘ کوشش کر۔ { فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۔ وَاِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ ۔ } (الم نشرح : الانشراح) ” پس جب بھی آپ ﷺ فارغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے آخرت میں ذرا سا بھی حصہ نہیں ہے پھر اہل ایمان کی دعا کا تذکرہ فرمایا کہ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہم کو دنیا میں بھی بہتر عطا فرما اور آخرت میں بھی بہتر عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اہل ایمان دونوں جہاں کی کامیابی، خوشحالی اور خوبی و بہتری کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لفظ حَسَنَۃٌ حَسَنٌ کی تانیث ہے جو ہر خوبی اور ہر بہتری کو شامل ہے مذکورہ دعا میں دنیا کی ہر خوبی اور آخرت کی ہر خوبی اور بہتری کا سوال ہے اور اس میں بڑی جامعیت ہے۔
صحیح بخاری ص 945 ج 2 میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
اہل ذکر اور اہل دعا کی اقسام
قال تعالی، فمن الناس من یقول ربنا۔۔۔ الی۔۔۔ تحشرون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے ذکر اور یاد کا حکم تھا اب اہل ذکر کی اقسام کا بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کرنے والے اور اسی سے دعا مانگنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ جو فقط دنیا کے طالب ہیں یہ لوگ فقط دنیاوی عزت اور وجاہت اور فقط مال و دولت کی دعا مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی نعمتوں کا کوئی حصہ نہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبی اور بھلائی اللہ سے مانگتے ہیں ان کو تمام حسنات سے پورا حصہ ملے گا ایک تیسری قسم اور بھی ہے وہ یہ کہ سوائے آخرت کے کچھ نہ مانگے سواول تو ایسی قسم بہت ہی قلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
388 یہ حاجیوں کی دوسری قسم ہے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے دنیوی مقاصد کے لیے دعا کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ آخرت میں کامیابی اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ اور حسنۃ سے دونوں جگہ دنیا وآخرت کی تمام نعمتیں مراد ہیں۔ والذی علیہ اکثر اھل العلم ان المراد بالحسنتین نعم الدنیا والاخرۃ وھذا وھ الصحیح (قرطبی ص 432 ج 2) یہ گروہ مومنین کا ہے جو حج کے موقع پر اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی نمام نعمتیں مانگتے ہیں ا۔ ان کا مطمع نظر صرف دنیا ہی نہیں ہوتی اور یہی مومن کی شان ہونی چاہئے بلکہ مومن کا اصل مقصد تو طلب آخرت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دنیوی منافع حاصل کرنے کی بھی اجازت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
منیٰ کی مصروفیات
حج سے متعلق عرفات اور مزدلفہ کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب آخری مرحلہ منیٰ کے قیام کا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ فاذا قضیتم مناسکم پھر جب تم مناسک حج کو پورا کر چکو۔ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم عرفات اور مزدلفہ کے مناسک ادا کرلو تو پھر منیٰ آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ کہ حج کے تمام ارکان منیٰ میں آ کر ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کا قیام حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
حج کے جملہ مناسک آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھنے سے شروع ہوتے ہیں اس دن حاجی منیٰ میں پہنچتے ہیں اور سنت کے مطابق وہاں پر پانچ نمازیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نویں تاریخ کی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا 0 ۭ وَاللہُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ 202
نَّصِيبُ :
الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53]
( ن ص ب ) نصیب
و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔
كسب ( عمل رزق)
الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–203
1 ؎ مکہ سے عرفات کا میدان جہاں کہ نویں ذوالحج میں جانا اور دعا کرنا حج میں فرض ہے تقریباً سات میل شمال و مشرق کے رخ ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش اس خیال سے کہ ہم کعبہ کے خادم ہیں وہاں تک نہیں جاتے تھے رستے ہی سے واپس آجاتے تھے۔ اس بات کو اس آیت میں منع کرکے حکم دیتا ہے کہ سب کو عرفات میں ٹھہر کر وہاں سے مزدلفہ اور منٰی اور مکہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّاکَسَبُوْا ط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔
(یہی لوگ ہیں جن کو ان کے کیے کا حصہ ملنا ہے اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے) (202)
اس آیت کریمہ میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ جن لوگوں نے صرف دنیا مانگی، ان کے لیے پروردگار نے فرمایا کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ ہم ان کو دنیا دیں گے لیکن یہ آخرت میں محروم رہیں گے۔ اس کے بعد ان پسندیدہ لوگوں کا ذکر کیا جو دنیا اور آخرت دونوں مانگتے ہیں اور دونوں میں اللہ سے بھلائیوں کے طلب گار ہوتے ہیں، ان کے بارے میں فرمایا کہ انھوں نے اللہ کے احکام کی تعمیل میں جس طرح زندگی گزاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
فہم القرآن
ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔
کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر ‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے ‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے ‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے…
Read the full tafseer →202۔ اُولٰٓپکَ : (یہ) یعنی دنیا و آخرت کی دعا کرنے والے۔
لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا : (ان کو ان کی کمائی کا حصہ ملے گا) یعنی اس جنس میں سے حصہ ملے گا۔ جو اعمال حسنہ انہوں نے کمائے اور وہ ثواب ہے جو کہ عمدہ منافع ہیں۔ یا من اجلیہ ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے کمائی کی۔
دُعا کمائی ہے :
سوال : دعا کو کسب کیوں کہا ؟
جواب : کیونکہ دعا اعمال میں سے ہے اور اعمال کی تعریف کسب سے کی جاتی ہے یا ممکن یہ ہے کہ اولئک سے فریقین مراد لیں۔ کہ ہر فریق کو اس جنس سے حصہ ملے گا جو اس نے کمائی۔
سرعت حساب :
وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ : (اللہ جلد حساب لینے والے ہیں) قریب ہے کہ قیامت قائم فرما دیں اور بندوں کا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 202۔:
(آیت)” اولئک لھم نصیب “ ۔ حصہ ہے ” مما کسبوا “ خیر اور دعا سے ثواب اور جزا کے ساتھ ”(آیت)” واللہ سریع الحساب “ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کا حساب لیں گے تو جلد حساب لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کو ہاتھ باندھنے نہ صدری تحفظات اور نہ ہی سوچ وبچار کی ضرورت پڑے گی ، حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں پلک جھپکنے سے زیادہ تیز حساب لے لیں گے ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ قیامت کا آنا (جو یوم الحساب ہے) قریب ہے اس لیے کہ لازما ہر آنے والی چیز قریب ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”(آیت)” وما یریک لعل الساعۃ قریب “ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان (آیت) فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو شعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثر علیہ لمن اتقی پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں) اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ جو شخص دو دنوں میں واپس ہوگیا اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ حج مقبول کی بنا پر اس کی سیئات اور اس کے گناہوں کی تکفیر ہوگئی ہے۔
اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے ۔ حضور ﷺ سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔ آپ نے فرمایا (من حج فلو یرفث ولم یفسق رجع کیوں مرولدتہ امہ۔ جس شخص نے حج کیا اور حج کے دوران رفث اور فسق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
561 دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے ایک عظیم الشان اور جامع دعا : سو یہ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنے کیلئے ایک جامع دعا ہے کہ دنیوی زندگی میں اپنی حاجات و ضروریات کی تکمیل کیلئے حلال و پاکیزہ ذرائع و وسائل میسر ہوں۔ خاص کر نیک بیوی، کھلا کشادہ گھر، صحت و عافیت کی نعمت، اور ایمان و یقین کی دولت وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ہم اس دنیا میں بھی امن و عافیت اور سکون وسعادت والی زندگی گزار سکیں، اور تیری اطاعت و بندگی سے زیادہ سے زیادہ سرفراز و سرشار ہو سکیں، اور اس طرح آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی کا سامان بھی کرسکیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ تیری توفیق و عنایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اے ہمارے مالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
دنیاوی حصہ یا دنیاو آخرت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر تم اللہ جل شانہ کی تسبیح و تقدیس کرو، اللہ کو یوں یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی کچھ زیادہ، یہ جاہلیت کے زمانہ کی رسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قدیم عرب 12-11-10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جمع رہتے اور وہاں اپنے قبیلہ اور باپ دادا کے کارنامے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کے کارناموں کی کہانیاں سناتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے جتنی دیر مرضی ٹھہرو مگر وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہو۔ کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والا، پرورش کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
ف 1 (یعنی بہت جلد اور لامحاسبہ ہونے ولا ہے) ذکر الی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ایک وہ صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخروی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے۔ (دیکھئے الشوری آیت 20) اور دوسرے وہ جو دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں۔ اصل کامیابی انہی لوگوں کی ہے۔ (رازی۔ شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں صحت، دسعت رزق، علم دین اور عبادت الہی کی توفیق۔ الغرض سب نیک اعمال شام ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات جنت اور رضا الہی کا حصول حساب میں آسانی وغیرہ داخل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نماز اور عام اوقات…
Read the full tafseer →(2:202) اولئک۔ اسم اشارہ جمع مذکر۔ وہ سب۔ اس میں مشار الیہم وہ مؤمنین ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں حسنۃ کی دعا کرتے ہیں۔ نصیب۔ حسہ۔ خواہ ثواب کا ہو۔ میراث کا ہو۔ یا حکومت کا ہو۔
کسبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے کمایا۔ کسب۔ کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا۔ خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ قرآن مجید میں کسب کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے۔ (1) قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی جیسے ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم (2:225) لیکن جو قسمیں قصد دل سے کھاؤ گے ان پر مواخذہ کرے گا۔ (2) اچھا برا قول یا فعل ۔ جیسے : ثم توفی کل نفس ما کسبت (3:161) پھر ہر شخص کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ (3) نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–203
لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203
معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
[136] یعنی عرفات سے۔
[137] عرفات میں ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے لیکن عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جانا قریش اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے اور صرف مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے۔ یہ آیت انہی کی اصلاح کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
(ف 1) مکہ والے تعجیل کی صورت کو برا جانتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو رعایت بخشی کہ اگر وہ جلد فارغ ہو سکے ، اس سے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اس طرح اگر تیسرے دن پر اٹھا رکھے تو بھی حرج نہیں دونوں صورتوں میں جائز ومباح ہیں ۔
مکہ والے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اصرار کرتے تھے اور بڑی بڑی چیزوں کو فراموش کردیتے تھے ، وہ تاجیل وتعجیل کو تو بڑی اہمیت دیتے تھے ، لیکن توحید ان کے نزدیک بےوقعت چیز تھی ، اہتمام بالصغائر اور تساہل عن الکبائر ، یہ وہ مرض ہے جو مردہ اور بےحس قوموں میں پیدا ہوجاتا ہے ، وہ مقاصد و اصول کو پس پشت ڈال دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے اور غیر اہم جزئیات کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
ف 3 پھر جب تم اپنے حج کے افعال سے فارغ ہوجائو اور اعمال حج کو پورا کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کیا کرو یہ ذکر اسی طرح ہو جس طرح تم حج سے فارغ ہوکر اپنے آبائو اجداد کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر ان کے ذکر سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے پھر ان لوگوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار جو کچھ تم تجھے دینا ہے ہم کو تو دنیا ہی میں دیدیے اور ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت اور آخرت کے منکر ہیں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ وہاں کی ہر نعمت سے محروم ہیں اور لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں دعا مانگتے ہیں اور دعا میں یوں کہتے ہیں اے ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–204
ف 7۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا ظرف طلب ہے خود مطلوب نہیں بلکہ مطلوب حسنہ ہے۔
Read the full tafseer →دنیا اور آخرت کی بھلائی چاہنے والے ہی لوگ مفید ہو سکتے ہیں :
352: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دونوں جہانوں میں حصہ مل کر رہے گا اور جو گمراہ لوگوں کی طرح بےبہرہ نہ رہیں گے ۔ پس کام کرنے کے لئے یہی لوگ زیادہ مفید و نافع ثابت ہوئے اور پہلے گروہ کو فوراً الگ کردیا گیا تاکہ اس کی صحبت و ہم نشینی دو سروں پر برا اثر نہ ڈالے۔
سَرِیْعُ الْحِسَابِ 00202 اس جیسے قدرت کا ملہ کے مالک کو حساب کرنے یا بندوں کو ان کے اعمال کی جزا دینے میں دیر ہی کیا لگ سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں یا دونوں قسم کے لوگوں کی طلب و سعی کا ذکر جگہ جگہ قرآن کریم میں کیا ہے ایک دو جگہ کی نشاندہی مزید کردی جاتی ہے تاکہ بات اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–202
It may be noted at this point that the verse mentions those who pray by saying: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا (Our Lord, give to us in this world...) which does not include the word, حَسَنَةً ; (good). This indicates that they do not care to have what is really good even in this mortal world, on the contrary, they are so drunk with their craze for material things that nothing short of a constant fulfillment of their desires would satisfy them. They just do not bother to check if it is good or bad, procured rightly or wrongly or what people think about them.
This verse extends a serious…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
221. After the Hajj the Arabs used to hold rallies at Mind. At these rallies people from different tribes proudly narrated the achievements of their forefathers and indulged in much extravagant self-praise. Here they are asked to renounce all such things and devote the time which they formerly spent on trivialities to remembering and celebrating God.
Dhikr refers to the remembrance of God at Mina.
Read the full tafseer →