Al-Baqara 2:201 · Rabbana Atina fid Dunya (dua)

Al-Baqara · from ayah 201

2:201

وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّفِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۟وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّقُوۡلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِى الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

— Fateh Muhammad Jalandhari

But among them is he who says, "Our Lord, give us in this world [that which is] good and in the Hereafter [that which is] good and protect us from the punishment of the Fire."

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 25 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:201

اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور بعض لوگ وه بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے نجات دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ :“ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہی میں سے ایسے بھی ہیں جو عرض کرتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) بھلائی سے نواز اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی۔ اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور دوزخ کے عذاب سے بچا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسکے برعکس کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں بچا لے دوزخ کی اس آگ کے عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کوئی ان میں ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے ہم کو دنیا میں (بھی) بہتری دے اور آخرت میں (بھی) بہتری اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچائے رکھنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور ہمیں بچا لے آگ کے عذاب سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی اور آگ کے عذاب سے بچا

— محترمہ رفعت اعجاز

Then there are others who say, "Our Lord, give us what is good in this world and also what is good in the Hereafter and save us from the torment of Fire."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yet there is another among them who says: :Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and save us from the punishment of Fire.

— Muhammad Taqi Usmani

Yet there is another among them who says: :Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter, and save us from the punishment of Fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And of them there are some who say: "Our Lord! Give us in this world that which is good and in the Hereafter that which is good, and save us from the torment of the Fire!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of them (also) is he who saith: "Our Lord! Give unto us in the world that which is good and in the Hereafter that which is good, and guard us from the doom of Fire."

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But among them is he who says, "Our Lord, give us in this world [that which is] good and in the Hereafter [that which is] good and protect us from the punishment of the Fire."

— Saheeh International

Others pray, "Lord, give us good things both in this life as well as in the life hereafter and save us from the torment of fire".

— Muhammad Sarwar

And there are some among them who say: Our Lord! grant us good in this world and good in the hereafter, and save us from the chastisement of the fire.

— Muhammad Habib Shakir

And of mankind are some who say: our Lord! vouchsafe unto us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of the Fire.

— Abdul Majid Daryabadi

And there are men who say: "Our Lord! Give us good in this world and good in the Hereafter, and defend us from the torment of the Fire!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:201

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 200–202

تکمیل حج کے بعد یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کردیا کرتا تھا سخاوت و شجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے، غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لئے او اشد پر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 200–202

سورة الْبَقَرَة 221 اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 201–202

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً وَّقِنَا عَذَاب النَّار یعنی ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے دنیا کی بھلائی اور بہتری بھی مانگتے ہیں اور آخرت کی بہتری بھی اور عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں۔ اس میں لفظ حسنۃ تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں اور بھلائیوں کو شامل ہے مثلاً دنیا کی حسنہ میں بدن کی صحت اہل و عیال کی صحت، رزق حلال میں وسعت و برکت دنیوی سب ضروریات کا پورا ہونا اعمال صالحہ، اخلاق محمودہ علم نافع، عزت و وجاہت، عقائد کی درستی صراط مستقیم کی ہدایت، عبادات میں اخلاص کامل سب داخل ہیں اور آخرت کی حسنہ میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جن کے ذہن دنیا اور آخرت دونوں کے معاملہ میں بالکل متوازن ہیں اور جو دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی اپنے رب سے مانگتے ہیں۔ پہلے گروہ کے بعد اس گروہ کا ذکر یہ بتانے کے لیے ہے کہ اس گروہ کی طلب اللہ کی نگاہوں میں پسندیدہ ہے اور اہل ایمان کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے اس دعا سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ بندے کو اپنے رب سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرنی چاہئے اور اس بھلائی کا فیصلہ اور انتخاب اسی پر چھوڑنا چاہیے، وہی سب سے زیادہ بہتر طریقہ پر جانتا ہے کہ ہماے لیے حقیقی خیر کس چیز میں ہے۔ خاص طور پر دنیا کی چیزوں میں سے کسی چیز کا خیر ہونا تو منحصر ہے اس امر پر کہ وہ چیز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 201–202

21۔ 1 یعنی اعمال خیر کی توفیق، اہل ایمان دنیا میں بھی دنیا طلب نہیں کرتے بلکہ نیکی کی ہی توفیق طلب کرتے۔ نبی ﷺ کثرت سے یہ پڑھتے تھے۔ طواف کے دوران ہر چکر کی الگ الگ دعا پڑھتے ہیں جو خود ساختہ ہیں ان کے بجائے طواف کے وقت یہی دعا پڑھی جائے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً) 2:21 رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان پڑھنا مسنون عمل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 200–202

134: جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 201–202

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے : فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 201–202

4 پہلے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، اوروں کا مت کرو اب یہ بتلایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعا مانگنے والے بھی دو قسم کے ہیں ایک وہ کہ جن کو مطلوب صرف دنیا ہے ان کی دعا یہی ہے کہ ہم کو جو کچھ دولت عزت وغیرہ دی جائے دنیا ہی میں دے دی جائے سو یہ لوگ تو آخرت کی نعمتوں سے بےبہرہ ہیں دوسرے وہ کہ طالب آخرت ہیں جو دنیا کی خوبی یعنی توفیق بندگی وغیرہ اور آخرت کی خوبی یعنی ثواب اور رحمت و جنت دونوں کو طلب کرتے ہیں سو ایسوں کو آخرت میں ان کے حج اور دعا جملہ حسنات سے پورا حصہ ملے گا۔ 5 یعنی قیامت کو سب سے ایک دم میں حساب لے گا یا یوں کہو کہ قیامت کو دور نہ سمجھو بلکہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 201 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ یہی وہ دعا ہے جو طواف کے ہر چکر میں رکن یمانی سے حجرِ اسود کے درمیان چلتے ہوئے مانگی جاتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا خیر ایمان اور ہدایت ہے۔ دنیا کا کوئی خیر خیر نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ ہدایت اور ایمان نہ ہو۔ چناچہ سب سے پہلے انسان ہدایت ‘ ایمان اور استقامت طلب کرے ‘ پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں کشادگی اور رزق میں کشائش کی دعا بھی کرے تو یہ بات پسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 201–202

272 چونکہ دنیا پہلے ہے اور آخرت بعد میں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے دنیا کا پہلے ذکر فرمایا۔ گویا مومن کو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے بھلائی مطلوب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی۔ پھر بھلائی کے لفظ میں جو وسعت ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں یہ دعا بہت جامع قسم کی دعا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ حج کے دوران طواف کرتے وقت اور دوسرے اکثر اوقات میں بھی یہی دعا فرمایا کرتے تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ) ان دو آیات میں ایک دنیا دار اور ایک مومن کے مقاصد زندگی کا تقابل پیش کیا گیا ہے جو شخص آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی کا تمام تر مقصد مفادات دنیا کا حصول ہوتا ہے۔ اس کی تمام کوششیں اسی مقصد میں صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

746 یہ اشارہ انسانیت کے پسندیدہ طبقہ یعنی اہل ایمان کی جانب ہے، مومنین کی دعائیں، مناجاتیں، آرزوئیں، دنیا و آخرت دونوں کی فلاح و بہبود کی جامع ہوتی ہیں۔ (آیت) ” حسنۃ “ وہ طاعت ہے جو اللہ کے نزدیک پسندیدہ و بہتر ہے، اور اس کے اندر ہر قسم کی خیر و خوبی آگئی۔ ان حسنۃ نکرۃ فی بیان الدعاء فھو محتمل لک حسنۃ من الحسنات علی البدل (قرطبی) والحسنۃ الکاملۃ فی الدنیا ما یشمل جمیع حسنا تھا (روح) دنیا میں (آیت) ” حسنۃ توفیق خیر ہوئی، اور آخرت میں (آیت) ” حسنۃ “ ثمرۂ خیر۔ والذی علیہ اکثر اھل العلم ان المراد بالحسنتین نعم الدنیا والاخرۃ وھذا ھو الصحیح فان اللفظ یقتضی ھذا کلہ (قرطبی) ایسی جامع وہمہ گیر دعا کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 200–202

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں عرب حج سے فارغ ہونے کے بعد منی میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ داد کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے، اس پر ان کو تاکید کی جا رہی ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے، اب اسے اللہ کی یاد میں صرف کرو۔ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منی سے عرفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، مگر بعد کے زمانہ میں قریش نے یہ طریقہ شروع کردیا کہ عرفات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (اور کوئی ان میں سے کہتا ہے اے ہمارے پروردگار دے ہم کو دنیا میں بھلائی) حسنۃ میں تنکیر تعظیم کی ہے یعنی بڑی بھلائی یعنی عمل کا خالص اللہ کے لیے کرنا اور ممکن ہے کہ عموماً سب بھلائیاں مراد ہوں کیونکہ نکرہ موقع اثبات میں بھی بعض مرتبہ قرینہ اور مقام کی وجہ سے عام ہوجاتا ہے جیسا کہ تمرۃ خَیرٌ من جرَادَۃٍ یعنی ہر تمرہ ہر ٹڈی سے بہتر ہے۔ اس بنا پر ٹڈی کے قتل کرنے کے بدلے اگر کوئی تمرہ دے تو کافی ہوجائے گا۔ یہ آیت نظیر ہوگئی اس دعا کی جو حدیث شریف میں آئی ہے : اللّٰھُم انی اسالک من الخیر کلہ عاجلہ و اٰجلہ ما علمت منہ و مالہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 200–201

(201۔ 200) اور جب تم اپنے اعمال حج سے فارغ ہوجاؤ، تو اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسا کہ اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کیے ہیں ان احسانات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اس طرح سے یاد کرو جیسا زمانہ جاہلیت میں اپنے آباؤاجداد کے احسانات کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اپنے آباء کے تذکرہ سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرو، وقوف کی جگہ میں بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ پروردگار ہمیں اونٹ، گائے، بکریاں، غلام اور باندیاں اور بہت سامال دے مگر بہشت میں ایسے لوگوں کے حج کا کوئی حصہ نہیں۔ شان نزول : فاذا قضیتم ”۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 200–202

اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکر الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر) ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ : 20) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافت اسلامی کا قیام، وسعت رزق،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 201 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومنھم یعنی لوگوں میں سے۔ اس سے مراد مسلمان ہیں جو دنیا اور آخرت کی خیر طلب کرتے ہیں۔ اور الحسنتین کی تاویل میں مختلف اقوال ہیں : حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ دنیا میں الحسنة سے مراد حسین و شکیل عورت ہے اور آخرت میں آہو چشم حوریں ہیں۔ وقنا عذان النار۔ اس سے مراد بری اور بدصورت عورت مراد لینا تجوز ہے۔ میں کہتا ہوں : اس میں بعد ہے۔ یہ حضرت علی ؓ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ النار سے مراز حقیقۃ جلانے والی آگ ہے اور آگ سے عورت مراد لینا تجوز ہے۔ قتادہ نے کہا : حسنة الدنیا سے مراد دنیا میں عافیت اور مال بقدر ضرورت ہے۔ حسن نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 201–202

(1) ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے ” حجکم “ یعنی تمہارا حج۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے ” حجکم “ یعنی تمہارا حج۔ (3) عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذا قضیتم مناسککم “ سے مراد ہے خونوں کا بہانا (اور) لفظ آیت ” فاذکر واللہ کذکرکم اباء کم “ سے مراد ہے قربانی کے دن عرب کے لوگوں اپنے آباؤ اجداد کے کاموں پر فخر کرتے تھے جب (حج سے) فارغ ہوجاتے تھے۔ تو ان کو اس جگہ اللہ کے ذکر کا حکم دیا گیا۔ (4) بیہقی نے الشعب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمِنْہُمْ : اور ان میں وہ بھی ہیں ] [ مَّنْ : جو ] [ یَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ رَبَّنَآ : اے ہمارے ربّ ] [ اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ حَسَنَۃً : بھلائی ] [ وَّفِی الْاٰخِرَۃِ : اور آخرت میں ] [ حَسَنَۃً : بھلائی ] [ وَّقِنَا : اور تو بچا ہم کو ] [ عَذَابَ النَّارِ : آگ کے عذاب سے ] ترکیب : ” مِنْھُمْ “ کی ضمیر گزشتہ آیت کے لفظ ” النَّاس “ کے لیے ہے۔ ” اٰتِنَا “ میں ” اٰتِ “ فعل امر ہے ‘ ضمیر مفعولی ” نَا “ مفعول اوّل ہے اور ” حَسَنَۃً “ مفعول ثانی ہے۔ ” قِنَا “ میں ” قِ “ فعل امر ہے ‘ ضمیر مفعولی ” نَا “ مفعول اوّل ہے اور ” عَذَابَ النَّارِ “ مفعول ثانی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 201–202

ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے آخرت میں ذرا سا بھی حصہ نہیں ہے پھر اہل ایمان کی دعا کا تذکرہ فرمایا کہ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہم کو دنیا میں بھی بہتر عطا فرما اور آخرت میں بھی بہتر عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اہل ایمان دونوں جہاں کی کامیابی، خوشحالی اور خوبی و بہتری کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لفظ حَسَنَۃٌ حَسَنٌ کی تانیث ہے جو ہر خوبی اور ہر بہتری کو شامل ہے مذکورہ دعا میں دنیا کی ہر خوبی اور آخرت کی ہر خوبی اور بہتری کا سوال ہے اور اس میں بڑی جامعیت ہے۔ صحیح بخاری ص 945 ج 2 میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 200–203

اہل ذکر اور اہل دعا کی اقسام قال تعالی، فمن الناس من یقول ربنا۔۔۔ الی۔۔۔ تحشرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے ذکر اور یاد کا حکم تھا اب اہل ذکر کی اقسام کا بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کرنے والے اور اسی سے دعا مانگنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ جو فقط دنیا کے طالب ہیں یہ لوگ فقط دنیاوی عزت اور وجاہت اور فقط مال و دولت کی دعا مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی نعمتوں کا کوئی حصہ نہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبی اور بھلائی اللہ سے مانگتے ہیں ان کو تمام حسنات سے پورا حصہ ملے گا ایک تیسری قسم اور بھی ہے وہ یہ کہ سوائے آخرت کے کچھ نہ مانگے سواول تو ایسی قسم بہت ہی قلیل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 201–202

388 یہ حاجیوں کی دوسری قسم ہے۔ یہ لوگ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے دنیوی مقاصد کے لیے دعا کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ آخرت میں کامیابی اور جہنم کے عذاب سے بچنے کی دعا کرتے ہیں۔ اور حسنۃ سے دونوں جگہ دنیا وآخرت کی تمام نعمتیں مراد ہیں۔ والذی علیہ اکثر اھل العلم ان المراد بالحسنتین نعم الدنیا والاخرۃ وھذا وھ الصحیح (قرطبی ص 432 ج 2) یہ گروہ مومنین کا ہے جو حج کے موقع پر اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی نمام نعمتیں مانگتے ہیں ا۔ ان کا مطمع نظر صرف دنیا ہی نہیں ہوتی اور یہی مومن کی شان ہونی چاہئے بلکہ مومن کا اصل مقصد تو طلب آخرت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے دنیوی منافع حاصل کرنے کی بھی اجازت ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 200–203

منیٰ کی مصروفیات حج سے متعلق عرفات اور مزدلفہ کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب آخری مرحلہ منیٰ کے قیام کا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ فاذا قضیتم مناسکم پھر جب تم مناسک حج کو پورا کر چکو۔ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم عرفات اور مزدلفہ کے مناسک ادا کرلو تو پھر منیٰ آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ کہ حج کے تمام ارکان منیٰ میں آ کر ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کا قیام حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ حج کے جملہ مناسک آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھنے سے شروع ہوتے ہیں اس دن حاجی منیٰ میں پہنچتے ہیں اور سنت کے مطابق وہاں پر پانچ نمازیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نویں تاریخ کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَـنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۝ 201 حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 199–203

1 ؎ مکہ سے عرفات کا میدان جہاں کہ نویں ذوالحج میں جانا اور دعا کرنا حج میں فرض ہے تقریباً سات میل شمال و مشرق کے رخ ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش اس خیال سے کہ ہم کعبہ کے خادم ہیں وہاں تک نہیں جاتے تھے رستے ہی سے واپس آجاتے تھے۔ اس بات کو اس آیت میں منع کرکے حکم دیتا ہے کہ سب کو عرفات میں ٹھہر کر وہاں سے مزدلفہ اور منٰی اور مکہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّـقُوْلُ رَبَّـنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو دعا کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا) (201) پسندیدہ دعا آیت کریمہ کے اس حصے میں بظاہر ان لوگوں کا تذکرہ ہے کہ جن کے دعا مانگنے کا انداز اور اسلوب بالکل صحیح ہے اور جو دعا میں وہ چیز مانگ رہے ہوں جو اللہ کی نگاہ میں بہتر ہے لیکن حقیقت میں لوگوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ زاویہ نگاہ کی اصلاح بھی ہے۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ جن لوگوں کا تذکرہ پہلے گزرچکا ہے وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 200–202

فہم القرآن ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔ کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر ‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے ‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے ‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

201۔ وَمِنْھُمْ : (اور ان لوگوں میں سے) جو حج میں حاضر ہوتے ہیں بعض ایسے ہیں جو مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ ٰاتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً (کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھلائی عنایت فرما) حسنۃ سے مراد نعمت اور عافیت یا علم و عبادت۔ آخرت کی بھلائی : وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً : (اور آخرت میں بھلائی) یعنی معافی و مغفرت یا مال اور جنت یا تعریف خلق اور رضائے حق یا ایمان وامان یا اخلاص و خلاص جہنم یا سنت و جنت یا قناعت و شفاعت یا نیک عورت اور حورا لعین یا سعادت والی زندگی اور بشارت والی بعثت۔ نار سے مراد : وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ : (اور تو ہمیں عذاب سے بچا) تو جہنم کے عذاب سے ہماری حفاظت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 201۔: (آیت)” ومنھم من یقول ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “ مؤمنین (یہ کہتے ہیں) مفسرین نے (اس دعا میں ذکر کی گئی) ہر دو حسنہ کے بارے میں اختلاف کیا ہے سیدنا علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں (آیت)” فی الدنیا حسنہ “ سے مراد نیک بیوی ہے اور (آیت)” فی الاخرۃ حسنہ “ سے مراد حورعین ہیں ، حضرت عبداللہ بن عمروبن ابی العاص ؓ بیان کرتے ہیں وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ـحضور اقدس ﷺ نے فرمایا دنیا ساری کی ساری نفع اٹھانے کا سامان ہے اور اس کا بہترین متاع نیک بیوی ہے حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں (آیت)” فی الدنیا حسنۃ “ سے مراد علم اور عبادت ہے اور (آیت)” فی الاخرۃ حسنۃ “ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 198–202

(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 198–202

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان (آیت) فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو شعر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 201–203

قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثر علیہ لمن اتقی پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں) اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ جو شخص دو دنوں میں واپس ہوگیا اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ حج مقبول کی بنا پر اس کی سیئات اور اس کے گناہوں کی تکفیر ہوگئی ہے۔ اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے ۔ حضور ﷺ سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔ آپ نے فرمایا (من حج فلو یرفث ولم یفسق رجع کیوں مرولدتہ امہ۔ جس شخص نے حج کیا اور حج کے دوران رفث اور فسق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 201–202

561 دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے ایک عظیم الشان اور جامع دعا : سو یہ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنے کیلئے ایک جامع دعا ہے کہ دنیوی زندگی میں اپنی حاجات و ضروریات کی تکمیل کیلئے حلال و پاکیزہ ذرائع و وسائل میسر ہوں۔ خاص کر نیک بیوی، کھلا کشادہ گھر، صحت و عافیت کی نعمت، اور ایمان و یقین کی دولت وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح ہم اس دنیا میں بھی امن و عافیت اور سکون وسعادت والی زندگی گزار سکیں، اور تیری اطاعت و بندگی سے زیادہ سے زیادہ سرفراز و سرشار ہو سکیں، اور اس طرح آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے کمائی کا سامان بھی کرسکیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ تیری توفیق و عنایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اے ہمارے مالک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 200–203

دنیاوی حصہ یا دنیاو آخرت تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر تم اللہ جل شانہ کی تسبیح و تقدیس کرو، اللہ کو یوں یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی کچھ زیادہ، یہ جاہلیت کے زمانہ کی رسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قدیم عرب 12-11-10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جمع رہتے اور وہاں اپنے قبیلہ اور باپ دادا کے کارنامے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کے کارناموں کی کہانیاں سناتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے جتنی دیر مرضی ٹھہرو مگر وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہو۔ کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والا، پرورش کرنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 197–210

آیات 197- 210 اسرارو معارف الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔ احکام حج : عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 201–202

ف 1 (یعنی بہت جلد اور لامحاسبہ ہونے ولا ہے) ذکر الی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ایک وہ صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخروی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے۔ (دیکھئے الشوری آیت 20) اور دوسرے وہ جو دنیا وآخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں۔ اصل کامیابی انہی لوگوں کی ہے۔ (رازی۔ شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں صحت، دسعت رزق، علم دین اور عبادت الہی کی توفیق۔ الغرض سب نیک اعمال شام ہیں اور آخرت کی بھلائی میں دوزخ سے نجات جنت اور رضا الہی کا حصول حساب میں آسانی وغیرہ داخل ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نماز اور عام اوقات…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:201) قنا۔ ق۔ نا۔ ق۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے اور نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ وقائ۔ وقایۃ۔ وقی۔ واقیۃ۔ مصادر (لفیف مفروق) بمعنی بچانا۔ پرہیز کرنا ۔ احتیاط کرنا۔ وقی یقی (باب ضرب سے) کسی دکھ دینے والی ضرر رساں چیز سے بچانا۔ ق نا۔ تو ہم کو بچا۔ تو ہم کو محفوظ رکھ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے : یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم نارا (66:6) اے ایمان والو ! اپنے رب کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جن ہم) سے بچاؤ۔ وفی سے مضارع اصل میں یوقی تھا۔ لفیف مفروق میںکلمہ کی تعلیل مثل معتل الفاء (مثال کے ہوتی ہے۔ لہٰذا مثال کی تعلیل کے مطابق کہ مضارع مکسور العین میں عین کلمہ سے پہلے جو واؤ واقع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 197–203

لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203 معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 198–202

شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 199–202

[136] یعنی عرفات سے۔ [137] عرفات میں ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے لیکن عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جانا قریش اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے اور صرف مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے۔ یہ آیت انہی کی اصلاح کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 201–203

(ف 1) مکہ والے تعجیل کی صورت کو برا جانتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو رعایت بخشی کہ اگر وہ جلد فارغ ہو سکے ، اس سے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اس طرح اگر تیسرے دن پر اٹھا رکھے تو بھی حرج نہیں دونوں صورتوں میں جائز ومباح ہیں ۔ مکہ والے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اصرار کرتے تھے اور بڑی بڑی چیزوں کو فراموش کردیتے تھے ، وہ تاجیل وتعجیل کو تو بڑی اہمیت دیتے تھے ، لیکن توحید ان کے نزدیک بےوقعت چیز تھی ، اہتمام بالصغائر اور تساہل عن الکبائر ، یہ وہ مرض ہے جو مردہ اور بےحس قوموں میں پیدا ہوجاتا ہے ، وہ مقاصد و اصول کو پس پشت ڈال دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے اور غیر اہم جزئیات کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 200–202

ف 3 پھر جب تم اپنے حج کے افعال سے فارغ ہوجائو اور اعمال حج کو پورا کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کیا کرو یہ ذکر اسی طرح ہو جس طرح تم حج سے فارغ ہوکر اپنے آبائو اجداد کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر ان کے ذکر سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے پھر ان لوگوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار جو کچھ تم تجھے دینا ہے ہم کو تو دنیا ہی میں دیدیے اور ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت اور آخرت کے منکر ہیں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ وہاں کی ہر نعمت سے محروم ہیں اور لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں دعا مانگتے ہیں اور دعا میں یوں کہتے ہیں اے ہمارے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 200–201

ف 6۔ آیت میں جو حکم یاد کا فرمایا اس میں نمازیں بھی داخل ہیں پس یہ ذکر تو واجب ہے باقی ذکر جو کچھ کرے مستحب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حقیقی بھلائی وہی ہے جو دنیا و آخرت کے لئے ہو : 351: ہاں ! ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو اپنے جذبہ نوع پرستی کی وجہ سے تمام دنیا کی فلاح و بہبود کا اپنے آپ کو ذمہ دار گردانتا ہے ۔ جس کی اعلیٰ ترین غرض یہی ہے کہ ہر انسان صرف الٰہ واحد کا غلام ہوجائے باقی سب کی غلامی کی زنجیریں کٹ جائیں اور کرہ ارض عدل و انصاف سے معمور ہوجائے ۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام دنیا و آخرت پر حاوی ہیں اس لئے اس کی دعا یہی تھی کہ : رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ 00201 اے ہمارے رب ! ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 201–202

It may be noted at this point that the verse mentions those who pray by saying: رَ‌بَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا (Our Lord, give to us in this world...) which does not include the word, حَسَنَةً ; (good). This indicates that they do not care to have what is really good even in this mortal world, on the contrary, they are so drunk with their craze for material things that nothing short of a constant fulfillment of their desires would satisfy them. They just do not bother to check if it is good or bad, procured rightly or wrongly or what people think about them. This verse extends a serious…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 200–202

221. After the Hajj the Arabs used to hold rallies at Mind. At these rallies people from different tribes proudly narrated the achievements of their forefathers and indulged in much extravagant self-praise. Here they are asked to renounce all such things and devote the time which they formerly spent on trivialities to remembering and celebrating God. Dhikr refers to the remembrance of God at Mina.

Read the full tafseer →