Explained with ayahs 200–202
تکمیل حج کے بعد
یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کردیا کرتا تھا سخاوت و شجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے، غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لئے او اشد پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
سورة الْبَقَرَة 221
اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →رسوم جاہلیت کی اصلاح منیٰ میں فضول اجتماعات کی ممانعت
چوتھی پانچویں اور چھٹی آیات میں چند رسوم جاہلیت کی اصلاح کی گئی ہے، ایک تو یہ کہ عرب زمانہ جاہلیت میں عرفات ومزدلفہ اور طواف و قربانی سے فارغ ہو کر جب منیٰ میں قیام کرتے تھے تو ان کی مجلسیں صرف اس کام کے لئے ہوتی تھیں کہ مشاعرے منعقد کریں اور ان میں اپنے مفاخر اور اپنے آباء و اجداد کے مفاخر اور کارناموں کا بیان کریں ان کی مجلسیں ذکر اللہ سے یکسر خالی ہوتی تھیں ان مبارک ایام کو ایسی لغو اور فضول چیزوں میں ضائع کرتے تھے اس لئے ارشاد ہوا کہ جب تم اپنے افعال احرام کو پورا کرچکو اور منیٰ میں قیام کرو تو وہاں رہ کر اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اپنے…
Read the full tafseer →مناسک حج سے فراغت کے بعد لوگوں پر، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، تفریحات اور دلچسپیوں کا موڈ طاری ہوتا تھا اور شعر و شاعری اور مفاخرت کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں، خاص کر قیام منیٰ کے ایام تو انہی چیزوں کے لیے خاص ہو کر رہ گئے تھے۔ شعرا اور خطباء اپنے اپنے قبیلوں اور اپنے اپنے آباء و اجداد کے مفاخر نثر و نظم میں بیان کرتے اور طلاقت لسانی سے ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی کوشش کرتے۔ قرآن نے اس لغویت کی بھی اصلاح کی اور اس کی جگہ اس سے زیادہ اہتمام اور اس سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔
طالبین دنیا کو تنبیہ : فمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ لایۃ، یہ…
Read the full tafseer →20۔ 1 عرب کے لوگ فراغت کے بعد منٰی میں میلا لگاتے اور اپنے آباوجداد کے کارناموں کا ذکر کرتے مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے جب تم 10 ذوی الحجہ کو کنکریاں مارنے قربانی کرنے، سر منڈانے، طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ سے فارغ ہوجاؤ تو اس کے بعد جو تین دن منٰی میں قیام کرنا ہے وہاں خوب اللہ کا ذکر کرو کیونکہ جاہلیت میں تم اپنے آباوجداد کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
134: جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہیے۔
Read the full tafseer →جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، اختتام حج کے بعد عرب سوق عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازاروں کو جاتے ۔ یہ بازار صرف خروید وفروخت ہی کے بازار نہ تھے ۔ بلکہ ان میں تقریروں ، اشعار اور آباء اجداد کی نفرتوں کا بھی مقابلہ ہوتا ۔ ان بازاروں میں ہر شخص اپنا نسب نامہ بیان کرتا ۔ اس وقت عربوں کی حالت یہ تھی کہ ان نفرتوں اور کارہائے نمایاں کے بیان و اظہار کے علاوہ عربوں کے پاس کوئی پروگرام ہی نہ تھا ۔ ان کے پاس کوئی انسانی مشن نہ تھا ، جس کی راہ میں وہ اپنی عظیم قوت گویائی اور بلاغت اور عظیم عملی قوتوں کو کام میں لاتے ۔
عربوں کو بلند ترانسانی مشن تو صرف اسلام نے دیا ہے ۔ اسلام سے پہلے ان کی حالت یہ تھی کہ نہ…
Read the full tafseer →3 یعنی دسویں ذی الحجہ کو جب افعالِ حج رمی جمرہ اور ذبح قربانی اور سر منڈوانے اور طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ سے فراغت پا چکو تو زمانہ قیام منیٰ میں اللہ کا ذکر کرو جیسے کفر کے زمانہ میں اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اس بےبھی زیادہ ذکر کرنا چاہیئے۔ ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں تین روز قیام کرتے اور بازار لگاتے اور اپنے باپ دادا کی بڑائی اور فضائل بیان کیا کرتے سو اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا اور فرما دیا کہ ان دنوں میں خدا تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔
Read the full tafseer →آیت 200 فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَ ‘ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ط
یعنی دسویں ذوالحجہ کو جب افعالِ حج سے فراغت پا چکو تو قیام منیٰ کے دوران اللہ کا خوب ذکر کرو جیس ئزمانہ جاہلیت میں اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کیا کرتے تھے ‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر اللہ کا ذکر کرو۔ ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر تین دن منیٰ میں قیام کرتے اور بازار لگاتے۔ وہاں میلے کا سا سماں ہوتا جہاں مختلف قبائل کے شعراء اپنے قبیلوں کی مدح سرائی کرتے تھے اور اپنے اسلاف کی عظمت بیان کرتے تھے۔ اللہ کا ذکر ختم ہوچکا تھا۔ فرمایا کہ جس شدو مدّ کے ساتھ تم اپنے آباء و اَجداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
271 حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ : قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ آیت ( ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 199۔ ) 2 ۔ البقرة :199) سے یہی مراد ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب ثم افیضوا۔۔ )
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ…
Read the full tafseer →742 ۔ (اور ابھی منی سے منتشر نہیں ہوئے ہو) عرفات ومزدلفہ سے واپسی کے بعد منی میں قیام تین دن 10 ۔ 1 1 ۔ 12 ۔ کو لازمی ہے، اور بعض ائمہ کے نزدیک 13 ۔ کو بھی۔ اذا کے لفظ سے یہ دھوکانہ ہو کہ یہاں حکم ادائے مناسک کے بعد کے لیے مل رہا ہے۔ (آیت) ” اذا “ ہمیشہ بعد کے لیے نہیں آتا ہے۔ ہمزمانی کے موقع پر بھی قرآن مجید میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا “ جس کے معنی ہیں کہ جب تم نماز پڑھتے ہو (نہ یہ کہ جب تم نماز ختم کرچکو) یا (آیت) ” اذا طلقتم النسآء “ جس کے معنی ہیں کہ جب تم طلاق دینے لگو (نہ یہ کہ جب تم طلاق دے چکو) اسی طرح یہاں بھی معنی یہ ہیں کہ جب تم ادائے مناسک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں عرب حج سے فارغ ہونے کے بعد منی میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ داد کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے، اس پر ان کو تاکید کی جا رہی ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے، اب اسے اللہ کی یاد میں صرف کرو۔
ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منی سے عرفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں قیام کرتے تھے، مگر بعد کے زمانہ میں قریش نے یہ طریقہ شروع کردیا کہ عرفات…
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ ( پھر جب تم پورے کر چکو اپنے حج کے ارکان) یعنی جب ارکان حج سے فارغ ہوجاؤ اور یہ فراغت جمرہ عقبہ کی رمی اور ذبح اور سر منڈانے اور طواف اور سعی کے بعد یوم نحر کو ہوتی ہے جاننا چاہئے کہ ارکانِ حج احرام اور وقوف عرفہ اور طواف زیارت تو بالاجماع ہیں اور امام شافعی نے فرمایا ہے کہ سعی اور سر منڈانا بھی ہے اور سعی کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ حلق ( سر منڈانا) کی بحث انشاء اللہ ہم سورة حج میں ذکر کریں گے۔
فَاذْكُرُوا اللّٰهَ ( تو یاد کرو اللہ کو) یعنی اللہ کی تحمید اور تکبیر اور ثنا بیان کرو۔
كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ ( مثل اپنے باپ دادے کے یاد کرنے کے) اس کا قصہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
(201۔ 200) اور جب تم اپنے اعمال حج سے فارغ ہوجاؤ، تو اللہ تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسا کہ اپنے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر احسانات کیے ہیں ان احسانات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو اس طرح سے یاد کرو جیسا زمانہ جاہلیت میں اپنے آباؤاجداد کے احسانات کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اپنے آباء کے تذکرہ سے بھی کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کرو، وقوف کی جگہ میں بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ پروردگار ہمیں اونٹ، گائے، بکریاں، غلام اور باندیاں اور بہت سامال دے مگر بہشت میں ایسے لوگوں کے حج کا کوئی حصہ نہیں۔
شان نزول : فاذا قضیتم ”۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
اسلام سے پہلے عرب حج سے فارغ ہوتے تو منیٰ میں میلہ لگاتے اور اپنے آباء و اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح ذکر الٰہی کیا کرو، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (فتح القدیر)
ذکر الٰہی کا حکم دینے کے بعد دعا کی کیفیت بیان فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے والے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو صرف دنیا کے طالب ہوتے ہیں ایسے لوگ آخرت کی نعمتوں سے یکسر محروم رہیں گے (دیکھیے الشوریٰ : 20) اور دوسرے وہ جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی طلب کرتے ہیں، اصل کامیابی انھی لوگوں کی ہے۔ (رازی، شوکانی) دنیا کی بھلائی (حسنہ) میں نیک بیوی، دنیا میں غلبہ، خلافت اسلامی کا قیام، وسعت رزق،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 200
اس میں دو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذاقضیتم من سککم مجاہد نے مناسک سے مراد ذبائح اور ان کا خون نہانا لیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہی حج کے شعائر ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھ سے اپنے مناسک سیکھو۔ معنی یہ ہے کہ جب تم حج کے مناسک میں سے کوئی منسک ادا کرلو تو اللہ کا ذکر و اور اس پر اس کی تعمتوں کی تعریف کرو۔ ابو عمرو نے کاف کو کاف میں مدغم کیا ہے اسی طرح اس نے سلککم میں کہا ہے کیونکہ دونوں ایک جیسے ہیں اور قضیتم یہاں ادیتم اور فرغتم کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذاقضیت الصلاۃ یعنی جب تم جمعہ ادا کرلو۔ یہاں فعل کی ادئیگی کو قضا سے تعبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
(1) امام بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے دلائل میں اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قریش اور جو لوگ ان کے دین پر تھے وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور ان کو حمس کہا جاتا تھا حالانکہ سارا عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اپنے نبی ﷺ کو عرفات میں آنے کا حکم ہوا پھر آپ یہاں ٹھہرتے تھے اور یہاں سے چلتے تھے اس بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ثم افیضوا من حیث افاض الناس “۔
(2) بخاری اور مسلم نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ سوائے حمس کے بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے…
Read the full tafseer →[ فَاِذَا : پس جب ] [ قَضَیْتُمْ : تم لوگ پورا کرلو ] [ مَّنَاسِکَکُمْ : اپنے حج کے اعمال کو ] [ فَاذْکُرُوا : تو یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ کَذِکْرِکُمْ : تمہارے یاد کرنے کی مانند ] [ اٰبَــآئَ کُمْ : اپنے آباء و اجداد کو ] [ اَوْ اَشَدَّ : یا زیادہ شدید ہوتے ہوئے ] [ ذِکْرًا : بلحاظ ذکر کے ] [ فَمِنَ النَّاسِ : پس لوگوں میں وہ بھی ہیں ] [ مَنْ : جو ] [ یَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ رَبَّـنَآ : اے ہمارے ربّ ! ] [ اٰتِنَا : تو دے ہم کو ] [ فِی الدُّنْیَا : دنیا میں ] [ وَمَا لَہٗ : اور نہیں ہے اس کے لیے ] [ فِی الْاٰخِرَۃِ : آخرت میں ] [ مِنْ خَلاَقٍ : بھلائی کا کسی قسم کا کوئی بھی حصہ…
Read the full tafseer →ایام منیٰ میں ذکر اللہ میں مشغول ہونے کا حکم
دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر جمرہ کبریٰ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں اور پھر حلق اور قصر کر کے احرام سے نکل جاتے ہیں اس کے بعد طواف زیارت اور دو یا تین دن کی رمی یعنی کنکریاں مارنا باقی رہ جاتا ہے۔ زمانہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ حج سے فارغ ہو کر اپنے باپ دادوں کا تذکر کیا کرتے تھے اور مقابلہ میں اشعار پڑھتے تھے اور اپنے قبیلوں کی بڑائی بیان کرتے تھے۔
اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ حج کے کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے رہے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔ (روح المعانی ص 89 ج 2)
صاحب معالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
اہل ذکر اور اہل دعا کی اقسام
قال تعالی، فمن الناس من یقول ربنا۔۔۔ الی۔۔۔ تحشرون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے ذکر اور یاد کا حکم تھا اب اہل ذکر کی اقسام کا بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کرنے والے اور اسی سے دعا مانگنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ جو فقط دنیا کے طالب ہیں یہ لوگ فقط دنیاوی عزت اور وجاہت اور فقط مال و دولت کی دعا مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی نعمتوں کا کوئی حصہ نہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبی اور بھلائی اللہ سے مانگتے ہیں ان کو تمام حسنات سے پورا حصہ ملے گا ایک تیسری قسم اور بھی ہے وہ یہ کہ سوائے آخرت کے کچھ نہ مانگے سواول تو ایسی قسم بہت ہی قلیل…
Read the full tafseer →386 زمانہ جاہلیت میں مشرکین عرب حج سے فارغ ہو کر مل کر بیٹھتے اور اپنے آباء و اجداد کی تعریفیں کرتے اور اپنی خاندانی بڑائی بیان کرتے اور اپنے بڑوں کے کارناموں پر فخر کرتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح پہلے تم لوگ اپنے آباء کی بڑائی بیان کرتے تھے اس طرح اب اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کیا کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر تو تم اپنے باپ دادا سے بھی بڑھ کر کیا کرو۔ اب آگے حاجیوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔387 پہلی قسم کے حاجی تو وہ ہیں کہ جس طرح ان کی زندگی کی ساری تگ ودو کا مطلب صرف حصول دنیا ہوتا ہے اسی طرح حج بھی وہ دنیوی اغراض ہی کے لیے کرتے ہیں جیسا کہ مشرکین عرب۔ یہ لوگ حج اس لیے کرتے تھے کہ حج کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
منیٰ کی مصروفیات
حج سے متعلق عرفات اور مزدلفہ کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب آخری مرحلہ منیٰ کے قیام کا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ فاذا قضیتم مناسکم پھر جب تم مناسک حج کو پورا کر چکو۔ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم عرفات اور مزدلفہ کے مناسک ادا کرلو تو پھر منیٰ آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ کہ حج کے تمام ارکان منیٰ میں آ کر ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کا قیام حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
حج کے جملہ مناسک آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھنے سے شروع ہوتے ہیں اس دن حاجی منیٰ میں پہنچتے ہیں اور سنت کے مطابق وہاں پر پانچ نمازیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نویں تاریخ کی…
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللہَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا 0 ۭ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ 200
قضی
الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی:
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک،
( ق ض ی ) القضاء
کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–203
1 ؎ مکہ سے عرفات کا میدان جہاں کہ نویں ذوالحج میں جانا اور دعا کرنا حج میں فرض ہے تقریباً سات میل شمال و مشرق کے رخ ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش اس خیال سے کہ ہم کعبہ کے خادم ہیں وہاں تک نہیں جاتے تھے رستے ہی سے واپس آجاتے تھے۔ اس بات کو اس آیت میں منع کرکے حکم دیتا ہے کہ سب کو عرفات میں ٹھہر کر وہاں سے مزدلفہ اور منٰی اور مکہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَ کُمْ اَوْاَشَدَّ ذِکْرًا ط فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ رَبَّنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ ۔
(جب تم حج کے مناسک ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کروجس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر، لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں کامیابی عطا کر اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ (200)
مزید اعمال بد کی اصلاح
ان آیات کریمہ میں پروردگار نے کچھ اعمالِ بد کی اصلاح فرمائی ہے جن میں عرب مبتلا تھے اور کچھ خیالات اور تصورات کو صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
فہم القرآن
ربط کلام : حج کو عام اجتماع اور میلہ کا رنگ دینے کے بجائے اس میں عبادت اور ذکر و اذکار کا ماحول ہونا چاہیے۔
کفار اور مشرکین نے حج کے مقدس اجتماع کو دنیا کے فائدے اور خود غرضی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ یہاں تک کہ دعا کرتے ہوئے رب کے حضور دنیا ہی کے طلبگار ہوتے تھے۔ گویا کہ دین اور عبادت بھی ان کی نظروں میں دنیا کا ہی مقصود ٹھہری تھی۔ جیسے آج کل بعض لوگ کسی کو کھانا کھلائیں تو فقط دعا اور نمائش کی خاطر ‘ مسجد میں اعتکاف کریں تو صرف دنیا کے مصائب سے چھٹکارا پانے کے لیے ‘ مساجد ومدارس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تو نمائش اور شہرت کے لیے ‘ حج دنیاوی مشکلات سے نجات پانے اور دولت کی نمائش کے لیے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 200:
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَا سِکَکُمْ : (جب تم اپنے افعال حج پورے کرچکو) جن کا تمہیں حکم دیا گیا حج میں اور وہاں سے کوچ کرو۔
فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ ٰابَآئَ کُمْ : (تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرو جس طرح تم اپنے آباء کو یاد کرتے تھے) یعنی کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اور اس میں مبالغہ کرو۔ جس طرح اپنے آباء کے تذکرہ میں مبالغہ کرتے تھے اور ان کے مفاخر اور ان کے واقعات زندگی بیان کرتے تھے۔
طریقہ جاہلیت :
جب وہ حج کے افعال ادا کرلیتے تو مسجد منیٰ اور پہاڑ کے درمیان ٹھہرتے اور اپنے آباء کے فضائل و محاسن اور ان کے کارنامے بیان کرتے۔
طریقہ جاہلیت :
اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا : (بلکہ اس…
Read the full tafseer →(تفسیر) 200۔:
(آیت)” فاذا قضیتم مناسککم “ جب تم اپنے حج سے فارغ ہوجاؤ اور ذبح ہونے والے جانور ذبح کرچکے (مناسک کی تشریح کچھ اس طرح ہے) ” نسک الرجل ینسک نسکا “ یہ اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے جب وہ اپنے جانور کو ذبح کرلے اور یہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے اور منی میں ٹھہرنے کے بعد ہوتا ہے (آیت)” فاذکروا اللہ “ تکبیر یعنی اللہ اکبر ، الحمد للہ اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کے ساتھ (اللہ کا ذکر کرو) ” کذکرکم آباء کم “ اور یہ اس طرح کہ جب عرب والے حج سے فارغ ہوتے بیت اللہ شریف کے قریب ٹھہر جاتے اور اپنے آباء و اجداد کے فخریہ کارنامے بیان کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان (آیت) فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو شعر…
Read the full tafseer →مناسک حج ادا کرنے کے بعد کیفیت ذکر
قول باری ہے (فاذا قضیتم مناسکم فاذاکروا اللہ کذکرکم اباء کم اواشد ذکراً پھر جب تم اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو تو جس طرح پہلے اپنے آبائو اجداد کا ذکر کرتے تھے اسی طرح اب اللہ کا ذکر کرو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر) قضا مناسک کا معنی علی وجہ التمام ان کی ادائیگی ہے۔
اس معنی میں قول باری ہے (فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیا ما وقعوداً جب تم نماز ادا کرلو تو قیام وعقود کی حالت میں اللہ کو یاد کرو ) اسی طرح (فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروافی الارض جب نماز پڑھ لی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو)
اس معنی میں حضور ﷺ کا قول ہے (فما ادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا ، نماز با جماعت…
Read the full tafseer →557 آباؤ اجداد کی بجائے اللہ کو یاد کرنے کی ہدایت و ارشاد : سو تم لوگ دل و جان سے یاد کرو اللہ کو تاکہ اس طرح تم دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو، کہ اللہ اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد انقلاب آفریں اور حیات بخش سعادت ہے۔ اور اس سے محرومی موت ہے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اپنے باپ دادوں کے تذکروں اور ان کے مفاخر گنوانے سے جھوٹی نخوت اور تکبر کے سوا تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا، کہ وہ دنیا سے کفر ہی کی حالت میں گئے، اور کفر پر مرنے والے باپ دادوں سے انتساب پر فخر کرنا اپنی ہلاکت و تباہی میں اضافے کا باعث ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فخر کی چیز یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کون حق و ہدایت کی دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
دنیاوی حصہ یا دنیاو آخرت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر تم اللہ جل شانہ کی تسبیح و تقدیس کرو، اللہ کو یوں یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی کچھ زیادہ، یہ جاہلیت کے زمانہ کی رسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قدیم عرب 12-11-10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جمع رہتے اور وہاں اپنے قبیلہ اور باپ دادا کے کارنامے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کے کارناموں کی کہانیاں سناتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے جتنی دیر مرضی ٹھہرو مگر وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہو۔ کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والا، پرورش کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →ف 11 اسلام سے پہلے اہل عرب لوگ حج سے فارغ ہوتے تو منی میں میلہ لگاتے اور اپنے آباؤ اجداد کا خوب تذکرہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس طرح ذکر الہی کیا کرو۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(2:200) قضیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ قضاء مصدر (باب ضرب) قضی مادہ۔ جب تم نے ادا کرلیا۔ جب تم پورے کر چکو۔
مناسککم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنے (حج کے) ارکان منسک واحد۔
کذکرکم اباء کم۔ کاف حرف تشبیہ ہے ذکر کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف۔
اباء کم۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ تمہارے اپنے آباء اجداد کے ذکر کی طرح یعنی جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو اسی طرح اللہ کا ذکر کرو۔
او۔ یہاں اختیار کے معنی میں نہیں۔ بلکہ ترقی کے لئے ہے اور بل کا ہم معنی ہے یعنی بلکہ ان کو ذکر سے بھی بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔
اشد کرا۔ صاحب تفسیر حقانی فرماتے ہیں : اشدذکرا میں اگرچہ لوگوں نے بہت قیل وقال کی ہے مگر صاف قول یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–203
لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203
معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–202
[136] یعنی عرفات سے۔
[137] عرفات میں ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے لیکن عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جانا قریش اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے اور صرف مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے۔ یہ آیت انہی کی اصلاح کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–200
دو گروہ :
(ف 1) اس کے بعد دو جاعتوں کا ذکر فرمایا ، ایک تو وہی ہیں جن کی دعائیں اور مطالبے صرف دنیا طلبی تک محدود رہتے ہیں ، جو سوا دنیا کی آسائش و کشائش کے اور کچھ نہیں چاہتے ، جو حرص وآز کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے طائر خواہشات کی پرواز بالکل سطح ارض تک ہے جو مادہ پرست ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے فرمایا ہو سکتا ہے ، ان کی دنیا میں سن لی جائے اور یہاں سیم وزر کے انبار کے انبار ان کے سپرد کردیئے جائیں لیکن یہ جان لیں کے آخرت یعنی دوسری زندگی میں ان کے لئے حصہ نہیں ، چونکہ اس دنیا میں ان کی خواہشیں بلند نہیں ہوتیں اور آخرت کے لئے عملا انہوں نے کچھ نہیں کیا ، اس لئے وہ اس سے زیادہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
ف 3 پھر جب تم اپنے حج کے افعال سے فارغ ہوجائو اور اعمال حج کو پورا کرچکو تو اللہ تعالیٰ کا خوب ذکر کیا کرو یہ ذکر اسی طرح ہو جس طرح تم حج سے فارغ ہوکر اپنے آبائو اجداد کا ذکر کیا کرتے ہو بلکہ یہ ذکر ان کے ذکر سے بھی بڑھ کر ہونا چاہئے پھر ان لوگوں میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو یوں کہتے ہیں اور ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار جو کچھ تم تجھے دینا ہے ہم کو تو دنیا ہی میں دیدیے اور ایسے لوگوں کے لئے جو قیامت اور آخرت کے منکر ہیں آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ وہاں کی ہر نعمت سے محروم ہیں اور لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں دعا مانگتے ہیں اور دعا میں یوں کہتے ہیں اے ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–201
ف 6۔ آیت میں جو حکم یاد کا فرمایا اس میں نمازیں بھی داخل ہیں پس یہ ذکر تو واجب ہے باقی ذکر جو کچھ کرے مستحب ہے۔
Read the full tafseer →مناسک حج کی تکمیل کے بعد خالص اللہ کے ذکر میں مصروف ہو جاؤ :
349: زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر منی کے میدان میں تین دن تک مجالس و مجامع منعقد کرتے اور ان میں اپنے باپ دادوں کے مفاخر و فضائل بیان کرتے۔ قرآن کریم نے اس بیہودہ رسم کی اصلاح کی اور حکم دیا کہ اس کی جگہ پر اللہ کا ذکر ہونا چاہئے جو خود بڑا ہے اور دوسروں کو بڑائی بخشتا ہے ۔ باپ دادوں کی بزرگی بیان کرنے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ الٹا نقصان ہوگا۔
باپ دادوں کا ذکر وہی لوگ کرتے ہیں جو شریف اور خاندانی ہوں۔ جن کا ماضی مشہور آفاق ہو۔ جن میں درخشندگی اور تابناکی کے سوا کچھ نہ ہو اور جنہوں نے جواں مردی و شجاعت ، فیاضی و…
Read the full tafseer →The prohibition of Jahili customs at Mina
In the verses 199 to 201, some Jahili جاھلی customs have been corrected. One of these was that the Arabs of the Jahiliyyah جاھلیہ would, once they had finished their rites at ` Arafat and Muzdalifah and performed their tawaf طواف and sacrifice and stay in Mina منٰی ، hold gatherings to recite poetry and to eulogize the achievements of their forefathers. Such gatherings were obviously devoid of the remembrance of Allah. It was strange that they elected to waste such blessed days in activities which were of no consequence in relation to what they were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–202
221. After the Hajj the Arabs used to hold rallies at Mind. At these rallies people from different tribes proudly narrated the achievements of their forefathers and indulged in much extravagant self-praise. Here they are asked to renounce all such things and devote the time which they formerly spent on trivialities to remembering and celebrating God.
Dhikr refers to the remembrance of God at Mina.
Read the full tafseer →