Al-Baqara 2:199

Al-Baqara · from ayah 199

2:199

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟ثُمَّ اَفِيۡضُوۡا مِنۡ حَيۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسۡتَغۡفِرُوا اللّٰهَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then depart from the place from where [all] the people depart and ask forgiveness of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 25 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:199

پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جہاں سے اور لوگ واپس ہوں وہیں سے تم بھی واپس ہو اور خدا سے بخشش مانگو۔ بےشک خدا بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے طلب بخشش کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں اور اللہ سے مغفرت مانگو، بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو! تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر تم وہیں سے جاکر واپس آیا کرو جہاں سے (اور) لوگ واپس آتے ہیں اور اﷲ سے (خوب) بخشش طلب کرو، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس جگہ سے واپس آؤ جہاں سے سب لوگ واپس آئیں اور اللہ سے بخشش مانگو، بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو۔ اللہ تعالیٰ یقینا بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر تم بھی وہیں سے چلو جہاں سے لوگ چلیں اور اللہ سے گناہوں کی معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے اور لوگ پلٹ آتے ہیں اور معافی مانگو تم اللہ سے بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں تو تم وہاں جا کر واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے استغفار کرتے رہو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر جہاں سے باقی سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو، یقیناً وہ معاف کرنے والا، رحم کرنیوالا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then return from where others return and ask Allah's forgiveness. Most surely He is Forgiving and Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then flow down from where the people flow, and seek forgiveness from Allah. Certainly Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Then flow down from where the people flow, and seek forgiveness from Allah. Certainly Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then depart from the place whence all the people depart and ask Allah for His forgiveness. Truly, Allah is Oft-Forgiving, Most-Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then hasten onward from the place whence the multitude hasteneth onward, and ask forgiveness of Allah. Lo! Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then depart from the place from where [all] the people depart and ask forgiveness of Allah. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Then leave Mash'ar as the rest of the people do and ask forgiveness from God; He is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Then hasten on from the Place from which the people hasten on and ask the forgiveness of Allah; surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Then hurry from the place whence the other people have hurried, and ask forgiveness of Allah, verily Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Then pass on at a quick pace from the place whence it is usual for the multitude so to do, and ask for Allah's forgiveness. For Allah is Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:199

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

قریش سے خطاب اور معمول نبوی ﷺ " ثم " یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لئے ہے تاکہ ترتیب ہوجائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرسکے، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے، جیسے کہ عام لوگ یہاں ٹھہرتے تھے البتہ قریشیوں نے فخروتکبر اور نشان امتیاز کے طور پر یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ حد حرم سے باہر نہیں جاتے تھے، اور حرم کی آخری حد پر ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ والے ہیں اسی کے شہر کے رئیس ہیں اور اس کے گھر کے مجاور ہیں، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 220 “ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کے زمانے سے عرب کا معروف طریقہ حج یہ تھا کہ 9 ذی الحجہ کو منیٰ سے عَرَفات جاتے تھے اور رات کو وہاں سے پلٹ کر مُزْدلفہ میں ٹھیرتے تھے۔ مگر بعد کے زمانے میں جب رفتہ رفتہ قریش کی برہمنیت قائم ہوگئی، تو انہوں نے کہا ہم اہل حرم ہیں، ہمارے مرتبے سے یہ بات فروتر ہے کہ عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جائیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے لیے یہ شان امتیاز قائم کی کہ مزدلفہ تک جا کر ہی پلٹ آتے اور عام لوگوں کو عرفات تک جانے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ پھر یہی امتیاز بنی خزاعہ اور بنی کنانہ اور ان دوسرے قبیلوں کو بھی حاصل ہوگیا، جن کے ساتھ قریش کے شادی بیاہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہے ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی پھر تم سب کو ضروری ہے کہ اس جگہ ہو کر واپس آؤ جہاں اور لوگ جاکر واپس آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے اور مہربانی فرمادیں گے۔ اس جملے کا شان نزول یہ ہے کہ قریش عرب جو بیت اللہ کے محافظ ومجاور تھے اور سارے عرب میں ان کا اقتدار مسلم تھا اور ان کی ایک ممتاز حیثیت تھی زمانہ جاہلیت میں وہ اپنی امتیازی شان بنانے کے لئے یہ حرکت کرتے تھے اور سب لوگ تو عرفات کو جاتے اور وہاں وقوف کرکے واپس آتے تھے یہ لوگ راستہ میں مزدلفہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرینہ دلیل ہے کہ یہاں خطاب خاص قریش سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مناسک حج کے معاملہ میں جو پابندیاں دوسروں پر ہیں بعینہ وہی پابندیاں تمہارے اوپر بھی ہیں اس وجہ سے جس طرح دوسرے تمام لوگ عرفات جاتے اور وہاں سے لوٹتے ہیں اسی طرح تم بھی عرفات جا کر وہاں سے لوٹا کرو۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ قریش زمانہ جاہلیت میں حج کے موقعہ پر خاص اپنے لیے عرفات کی حاضری ضروری نہیں سمجھتے تھے، صرف مزدلفہ تک جاتے اور وہیں سے لوٹ آتے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بیت اللہ کے پروہت اور مجاور ہیں اس وجہ سے ان کے لیے حدود حرم سے باہر نکلنا مناسب نہیں۔ بندگی میں انہوں نے اپنے لیے ایک امتیاز قائم کرلیا تھا۔ قرآن نے ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

199۔ 1 مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق عرفات جانا اور وہاں پر وقوف کر کے واپس آنا ضروری ہے لیکن عرفات چونکہ حرم سے باہر ہے اس لئے قریش مکہ عرفات تک نہیں جاتے تھے بلکہ مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے تھے چناچہ حکم دیا جا رہا ہے جہاں سے سب لوگ لوٹ کر آتے ہیں وہیں سے لوٹ کر آؤ یعنی عرفات سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

133: جاہلیت میں اہل عرب نے یہ طریقہ مقرر کر رکھا تھا کہ تمام انسان نو ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے مگر قریش اور بعض دوسرے قبائل جو حرم کے قریب رہتے تھے اور خمس کہلاتے تھے، عرفات جانے کے بجائے مزدلفہ میں رہتے تھے اور وہیں وقوف کرتے تھے ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم حرم کے مجاور ہیں اور عرفات چونکہ حدود حرم سے باہر ہے اس لئے ہم وہاں نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ عام لوگوں کو نویں تاریخ کا دن عرفات میں گزارنے کے بعد رات کو مزدلفہ کے لئے روانہ ہونا پڑتا تھا، اس آیت نے یہ رسم ختم کردی اور قریش کے لوگوں کو بھی یہ حکم دیا کے وہ عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور انہی کے ساتھ روانہ ہو کر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حج مسلمانوں کا ایک عظیم سالانہ اجتماع ہے ۔ اس میں وہ باہم ملتے ہیں ، اسلام کے اس آسرے کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا ، اسلامی نشانات کے سوا سب نشانات مٹ جاتے ہیں ۔ بدن پر غیر سلے دوکپڑے ، باقی ہر چیز سے عاری ۔ ضروری ستر کے علاوہ سرپاؤں ننگے ، فرد اور فرد کے درمیان کوئی جدائی نہیں ۔ قبیلے اور قبیلے کے درمیان کوئی اختیار نہیں ، قوم اور قوم کے درمیان کوئی جدائی نہیں ، اسلامی نظریہ حیات ہی سب کا عقیدہ ہے ، اسلامی نسب میں سب کا نسب ہے ۔ اسلامی رنگ ہی سب کا رنگ ہے ۔ قریش دور جاہلیت میں اپنے آپ کو ” حمس “ بہادر وغیور کرہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے لئے ایسے امتیازات اختیار کئے ہوئے تھے جو انہیں تمام عربوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 زمانہ کفر کی ایک غلطی یہ بھی تھی کہ مکہ کے لوگ عرفات تک نہ جاتے کہ عرفات حرم سے باہر ہے بلکہ حرم کی حد یعنی مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور قریش مکہ کے سوا اور سب عرفات تک پہنچتے اور پھر وہاں سے طواف کے لئے مکہ کو واپس آتے اس لئے فرما دیا کہ جہاں سے سب لوگ طواف کو آئیں تم بھی وہیں سے جا کر لوٹو یعنی عرفات سے اور اگلی تقصیر پر نادم ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 199 ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ زمانۂ جاہلیت میں قریش مکہّ عرفات تک نہ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خاص حیثیت ہے ‘ لہٰذا ہم منیٰ ہی میں مقیم رہیں گے ‘ باہر سے آنے والے لوگ عرفات جائیں اور وہاں سے طواف کے لیے واپس لوٹیں ‘ یہ سارے مناسک ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ یہ ایک غلط بات ہے جو تم نے ایجاد کرلی ہے۔ تم بھی وہیں سے طواف کے لیے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں ‘ یعنی عرفات سے۔ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ ط۔ اپنی اگلی تقصیر پر نادم ہو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 199–200

271 حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ : قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ آیت ( ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 199۔ ) 2 ۔ البقرة :199) سے یہی مراد ہے۔ (بخاری، کتاب التفسیر۔ باب ثم افیضوا۔۔ ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

740 ۔ یعنی عرفات سے۔ قریش کے گڑھے ہوئے عقیدوں میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ ہمیں حج میں عرفات کی حاضری کی کیا ضرورت ہے۔ وہاں تک سب کے ساتھ جانا ہماری (آیت) ” علو “ شان کے منافی ہے، ہماری لیے مزدلفہ تک جانا کافی ہے۔ کانت قریش ومن دان دینھا یقفون بالمزدلفۃ وکانوا یسمون الحمس وکانت سائر العرب یقفون بعرفات (صحیح بخاری۔ عن عائشہ ؓ) کانت قریش ومن کان علی دینھا وھم الحمس یقفون بالمزدلفۃ یقولون نحن قطین اللہ (ابن جریر۔ عن عائشہ ؓ کانوا یقولون لانخرج من الحرم فکانوا لایشھدون وقف الناس بعرفۃ معھم (ابن جریر) کانوا یقولون نحن قطین اللہ فینبغی لنا نعظم الحرم ولا نعظم شیئا من الحل (قرطبی) آیت انہی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ حج کے اعمال، واجبات، سنن، مستحبات تو بہت سے ہیں لیکن ضروری تین ہیں، احرام پوشی، 9 ذی الحجہ کو عرفات میں حاضری اور طواف زیارت ان تینوں میں بھی اہم ترین رکن وقوف عرفات ہے۔ عرفات : مکہ معظمہ سے جو سڑک مشرق کی جانب طائف جاتی ہے اس پر مکہ سے تقریبا بارہ میل کے فاصلہ پر کئی میل کے رقبہ کا ایک لمبا چوڑا میدان ہے اس کا نام عرفات ہے اسی نام کی ایک پہاڑی بھی اسی میدان میں واقع ہے سطح زمین سے اس کی بلندی تقریبا دو سو گز ہے 8 ذی الحجہ کی دوپہر تک حاجیوں کو منی پہنچ جانا چاہیے اور 9 ذی الحجہ کو صبح کو اشراق کے بعد عرفات کے لئے روانگی ہوجائے تاکہ منی اور عرفات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ ( پھر تم بھی چلو جہاں سے چلیں دوسرے لوگ) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حج کے واسطے عرب تو عرفہ میں ٹھہرتے تھے اور قریش ورے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے اس پر حق تعالیٰ نے ثم افیضوا۔۔ نازل فرمائی اور ابن منذر نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور لوگ سوائے شیبہ ابن ربیعہ کے عرفہ میں ٹھہرتے تھے اس لیے حق تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ قریش جو حمس ( شدۃ اور حیثیت والے) کہلاتے تھے اور ان کے حلیف عرفات میں دوسرے اہل عرب کے ساتھ ٹھہرنے کو عار سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(199) وہیں جاکر پھر لوٹو جہاں سے یمن والے لوٹ کر آتے ہیں اور اپنے گناہوں کے لیے بخشش طلب کرو جو شخص توبہ طلب کرے اور توبہ ہی پر اس کا انتقال ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی بخشش فرمانے والے ہیں۔ یہ آیت کریمہ اہل حمس کے بارے میں اتری ہے جو اپنے حجوں میں حرم سے میدان عرفات کے علاوہ اور کسی جگہ نہیں جاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز سے روکا اور اس بات کا حکم دیا کہ میدان عرفات جاؤ اور اسی مقام سے لوٹ کر آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر ہے، دوران حج میں تمام لوگ وہاں جاتے، مگر قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے کہ ہم حرم کے رہنے والے ہیں، اس آیت میں حکم ہوا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات جانا اور ان کے ساتھ وہاں سے واپس لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 199 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم افیضوا من حیث افاض الناس بعض علماء نے فرمایا : یہ خطاب جس کو ہے وہ لوگوں کے ساتھ عرفات میں نہیں ٹھہرتے تھے بلکہ وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور یہ حرم میں ہے۔ وہ کہتے تھے : ہم اللہ کے حرم میں رہنے والے ہیں، پس ہمارے لئے مناسب ہے کہ ہم حرم کی تعظیم کریں اور حل میں سے کسی چیز کی تعظیم نہ کریں۔ اس کے باوجود کہ وہ جانتے تھے اور اقرار کرتے تھے کہ عرفہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا موقف ہے وہ حرم سے نہیں نکلتے تھے اور وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور اسی سے نکلتے تھے اور عرفہ میں ٹھہرتے تھے۔ تو انہیں کہا گیا کہ اکٹھے نکلو اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 199–200

(1) امام بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے دلائل میں اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ قریش اور جو لوگ ان کے دین پر تھے وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور ان کو حمس کہا جاتا تھا حالانکہ سارا عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اپنے نبی ﷺ کو عرفات میں آنے کا حکم ہوا پھر آپ یہاں ٹھہرتے تھے اور یہاں سے چلتے تھے اس بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” ثم افیضوا من حیث افاض الناس “۔ (2) بخاری اور مسلم نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ سوائے حمس کے بیت اللہ کا ننگے طواف کرتے تھے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثُمَّ اَفِیْضُوْا : پھر تم لوگ جوق در جوق نکلو ] [ مِنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَفَاضَ : نکلے ] [ النَّاسُ : لوگ ] [ وَاسْتَغْفِرُوا : اور مغفرت طلب کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ] ترکیب : فعل امر ” اَفِیْضُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَفَاضَ “ کا فاعل ” النَّاسُ “ ہے ‘ جبکہ ” مِنْ حَیْثُ “ ان دونوں کا ظرف ہے اس لیے محلاً منصوب ہے۔ فعل امر ” اِسْتَغْفِرُوْا “ کا فاعل اس کی ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے اور لفظ ” اَللّٰہَ “ اس کا مفعول ہے۔ نوٹ (1) : قریش خانہ کعبہ کے ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے (بنو عامر، بنو ثقیف، بنو خزاعہ) یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں حج کرتے تھے تو عرفات میں نہیں جاتے تھے۔ یہ لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے اور وہیں سے واپس ہوجاتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ عرفات میں پہنچیں، اور وہاں وقوف کریں پھر وہاں سے واپس آئیں۔ (ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ ) میں یہی حکم مذکور ہے۔ (صحیح بخاری ص 648 ج 1) تفسیر معالم التنزیل ص 175 ج 1 میں ہے کہ قریش اور ان کے حلفاء اور جو ان کے دین پر تھے مزدلفہ ہی میں ٹھہر جاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم اللہ والے اور اس حرم کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 197–199

تتمہ احکام حج۔ قال تعالی، الحج اشھر معلومات۔۔ الی۔۔۔ ذکرا۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں حج اور عمرہ کے اتمام کا ذکر تھا مگر چونکہ عمرہ کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں اور حج کے لیے وقت متعین ہے نیز حج وعمرہ سے افضل ہے اس لیے آئندہ آیات میں اشہر حج اور آداب حج کو ذکر فرماتے ہیں (بحر محیط) ۔ حج کے احرام اور افعال کا وقت چند مہینے معلوم ہیں شوال اور ذی قعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے باقی اصل ارکان کا وقت یوم عرفہ اور یوم نحر ہے شوال اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ یہ خاص فضیلتوں اور برکتوں کے مہینے ہیں اور عشرہ ذی الحجہ تو اس قدر فضیلت اور برکت والا ہے کہ ایک عشرہ ہی قائم مقام پورے مہینے کے ہوگیا پس جشخص نے ان مہینوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

384 قریش نے زمانہ جاہلیت سے اپنے لیے ایک امتیاز قائم کیا ہوا تھا اور وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے لوگوں سے برتر سمجھتے تھے اور حج کے موقع پر مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے جبکہ دوسرے تمام لوگ عرفات تک جاتے۔ اور وہاں وقوف کر کے واپس آتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر یہ بات بھی یاد رکھو کہ واپس وہیں سے لوٹا کرو۔ جہاں سے عام لوگ واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے اخرج البخاری عن عائشۃ رضیا للہ عنہا قالت کانت قریش ومن دان دینھا یقفوان بالمزدلفۃ وکانوا یسمون الحمس وکانت سائر العرب یقفون بعرفات (روح ص 89 ج 2) اس آیت میں ثُمَّ تعقیب کے لیے ہے یعنی عرفات تک وہاں تک جاؤ اور وہیں سے تمہاری واپسی ہونی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 198–199

ربط آیات آیت کے پہلے حصے میں سفر حج کے دوران تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے۔ مگر مسلمانوں کو تردد پیدا ہوا کہ کہیں یہ چیز حج جیسے مقدس فریضہ کے منافی نہ ہوا اور حج کے ثواب میں کمی کا باعث نہ بن جائے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ سفر حج کے دوران اگر تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ نیت خالص حج کی ہو اور ضمناً لین دین بھی ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے اور جائز ہے۔ وقوف عرفہ آیت کے اس حصہ میں وقوف عرفہ اور وہاں سے واپسی کے متعلق احکام بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ فاذا افضتم من عرفت پس جب تم عرفات سے …د واپس پلٹو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللہَ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 199 حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 199–203

1 ؎ مکہ سے عرفات کا میدان جہاں کہ نویں ذوالحج میں جانا اور دعا کرنا حج میں فرض ہے تقریباً سات میل شمال و مشرق کے رخ ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش اس خیال سے کہ ہم کعبہ کے خادم ہیں وہاں تک نہیں جاتے تھے رستے ہی سے واپس آجاتے تھے۔ اس بات کو اس آیت میں منع کرکے حکم دیتا ہے کہ سب کو عرفات میں ٹھہر کر وہاں سے مزدلفہ اور منٰی اور مکہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (پھر تم پلٹوجہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں اور اللہ سے معافی چاہو، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) (199) ایک رسم بد کی اصلاح اس آیت کریمہ میں قریش کی ایک رسم بد کی اصلاح کی جارہی ہے۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کے زمانے سے عربوں کا طریقہ حج یہ تھا کہ وہ نو ذی الحج کو منیٰ سے عرفات جاتے تھے اور شام کو وہاں سے پلٹ کر مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے۔ پھر اگلے دن صبح کو منیٰ کا رخ کرتے تھے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ جب قریش میں ملت ابراہیم سے انحراف شروع ہوا تو جہاں ان میں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حج کے مناسک میں قریش کے خود ساختہ امتیاز اور بدعت کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ یہاں لوٹنے سے مراد عرفات پہنچ کر مزدلفہ واپس آنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بتلائے ہوئے طریقہ کے مطابق حج کرنے والے نسل در نسل نو ذو الحجہ کو منٰی سے عرفات جاتے اور عرفات سے واپس مزدلفہ ٹھہرتے۔ مگر قریش نے اپنے مذہبی تقدس اور قومی تفاخر کے باعث یہ عقیدہ بنایا اور لوگوں میں پھیلایا ہوا تھا کہ ہم بیت اللہ کے متولّی اور مجاور ہیں اس لیے ہمارا مقام لوگوں سے ممتاز ہے لہٰذا ہمیں حدود حرم سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے۔ وہ مزدلفہ ہی میں قیام کرتے جب کہ لوگ عرفات سے ہو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 199: ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ : (پھر تم لوٹو جہاں سے ہو کر لوٹیں لوگ) صرف مزدلفہ سے ہی مت لوٹو۔ کہا گیا کہ یہ قریش کو عرفات سے ہو کر مزدلفہ آنے کا حکم دیا۔ کیونکہ وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے جبکہ بقیہ تمام لوگ عرفات میں جاتے۔ اور کہتے ہم تو حرم کے باشندے ہیں۔ ہم حرم سے نہ نکلیں گے۔ افاضہ کا معنی : دوسرا قول : افاضہ عرفات تو مذکور ہے یہاں سے مراد مزدلفہ سے منٰی کو لوٹنا ہے۔ اس صورت میں الناس سے مراد قریش ہوں گے۔ اور خطاب عام افیضوا کا مؤمنین کو ہوگا۔ حمس : یہ قریش کا لقب تھا۔ کیونکہ وہ اپنے دین میں مضبوط اور متشدد تھے۔ معافی مانگو : وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ 1 : (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 199۔: (آیت)” ثم افیضوا من حیث افاض الناس “ اہل تفسیر فرماتے ہیں کہ قریش اور ان کے حلفا (ساتھی) اور وہ لوگ جو قریش کے دین کے مطابق ہوتے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور کہتے کہ ہم اللہ والے ہیں اور حرم خداوندی کے ساکن ہیں لہذا ہم حرم سے پیچھے نہیں ہوسکتے (یعنی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے) اور نہ حرم سے نکل سکتے ہیں یہ لوگ حمس کہلاتے ۔ یہ اپنے آپ کو اس سے عظیم جانتے کہ تمام عرب کے ہمراہ مل کر وقوف عرفات کریں ، (ایسا کرنے سے ان کو تکبر اور غرور مانع تھا) جب باقی لوگ عرفات سے لوٹتے یہ اپنے آپ کو حمس کہلانے والے مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے (حماسۃ کے لغوی معنی غیرت مند جو شیلا اور دلیر ہونے کے ہیں) یہ لوگ بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 198–202

(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 198–202

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان (آیت) فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو شعر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(آیت 197 کی بقیہ تفسیر) اگر یہ کہا جائے کہ ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوگا جس کا حج فوت ہوگیا ہو اس لئے اس پر عمرہ کے ذریعے احرام کھول دینا لازم ہوگا۔ اس کے جوا ب میں یہ کہا جائے گا کہ یہ عمرہ نہیں ہوتا یہ تو صرف عمرہ کا فعل ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ حج کے احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو اور اس کا حج فوت ہوجائے تو اسے لازم شدہ عمرے کے عمل کے لئے مکہ مکرمہ سے نکل کر حل کی طرف جانے کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ کیونکہ جو شخص مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے عمرے کے لئے اس کا میقات حل ہوتا ہے۔ اگر وہ شخص عمرے کی ابتداء کا ارادہ کرتا تو اسے حل کی طرف جانے کے لئے کہا اجتا ۔ اس سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 197–199

549 " اشہر حج " سے مقصود و مراد ؟ : " اشہر حج " سے مراد یہ تین مہینے ہیں۔ یعنی شوال، ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن، جن کو " اشہر حج " کہا جاتا ہے، اور ذوالحجہ کے اگرچہ دس ہی دن ہیں مگر یہ اس قدر فضائل اور خصوصیات کے حامل دن ہیں کہ پورے مہینے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور راقم آثم نے " فضائل عشرہ ذی الحج " کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جو عرصہ قبل چھپ بھی چکا ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ " اشہر معلومات " کے الفاظ سے مقصود و مراد " ایام معدودات " کی طرح انکے محدود اور معین ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسی محدود اور غیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 197–199

حج کے دوران ذکر و اذکار تشریح : ان آیات میں حج کی ضروری حدود کا بیان ہے۔ حج کے اصل ارکان ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں شروع ہوتے ہیں۔ چناچہ احرام میقات کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر واجب ہوجاتا ہے۔ حج کی نیت کی عملی نشانی احرام باندھ لینا ہے۔ احرام دو بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں جو مرد حضرات ایک تہہ بند کے طور پر باندھ لیتے ہیں اور دوسری چادر اوپر اس طرح ڈال لیتے ہیں کہ سر ننگا رہے، جبکہ عورتیں سر اور جسم کو اس طرح چادر اور سلے ہوئے لباس میں ڈھانپ لیتی ہیں کہ ستر پوشی مکمل ہوجائے۔ حج کے دوران تین باتوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یہ پہلی آیت میں بھی بیان آچکا ہے دوبارہ بیان کیا جارہا ہے۔ 1 ۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 197–210

آیات 197- 210 اسرارو معارف الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔ احکام حج : عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 عرفات کا میدان حرم کی حدود سے باہر اس لے قریش مزدلفہ سے آگے نہ جاتے۔ ان کو حکم دیا کہ سب لوگوں کے ساتھ عرفات پہنچ کر لوٹنا ضروری ہے۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:199) ثم۔ حرف عطف ہے ماقبل سے مابعد کے متؤخر ہونے پر دلدلت کرتا ہے خواہ تاخر زمانی ہو یا رتبہ کے لحاظ ہو۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی (رح) رقمطراز ہیں۔ ثم۔ یہاں تاخر زمانی کے لئے نہیں فصل کلام کے لئے ہے۔ یعنی ایک بات ختم ہوئی اب دوسری ہدایت سنو ! جیسے اردو میں موقع پر ” اچھا تو “ یا ” ہاں تو “ کہتے ہیں۔ جملہ ثم افیضوا ۔۔ کا عطف جملہ سابقہ فاذا افضتم پر ہے اور ثم یہاں تراخی فی التربۃ کے لئے آیا ہے مطلب یہ کہ جب تم عرفات سے وقوف عرفہ کے بعد منی کی طرف واپس مڑو تو مشعر الحرام کے پاس اللہ کا ذکر کرو۔ ہاں تو اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ تم وہاں سے مڑ اکرو جہاں سے لوگ واپس مڑا کرتے ہیں (یعنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 197–203

لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203 معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 198–202

شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 199–202

[136] یعنی عرفات سے۔ [137] عرفات میں ٹھہرنا حج کا رکن اعظم ہے لیکن عام اہل عرب کے ساتھ عرفات تک جانا قریش اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے اور صرف مزدلفہ سے لوٹ آتے تھے۔ یہ آیت انہی کی اصلاح کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 199–200

دو گروہ : (ف 1) اس کے بعد دو جاعتوں کا ذکر فرمایا ، ایک تو وہی ہیں جن کی دعائیں اور مطالبے صرف دنیا طلبی تک محدود رہتے ہیں ، جو سوا دنیا کی آسائش و کشائش کے اور کچھ نہیں چاہتے ، جو حرص وآز کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے طائر خواہشات کی پرواز بالکل سطح ارض تک ہے جو مادہ پرست ہیں اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے فرمایا ہو سکتا ہے ، ان کی دنیا میں سن لی جائے اور یہاں سیم وزر کے انبار کے انبار ان کے سپرد کردیئے جائیں لیکن یہ جان لیں کے آخرت یعنی دوسری زندگی میں ان کے لئے حصہ نہیں ، چونکہ اس دنیا میں ان کی خواہشیں بلند نہیں ہوتیں اور آخرت کے لئے عملا انہوں نے کچھ نہیں کیا ، اس لئے وہ اس سے زیادہ کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 پھر دیکھو اے قریش اس کا خیال رکھو جہاں سے سب لوگ وقوف کرکے واپس آتے ہیں یعنی عرفات سے تو تم بھی وہیں جاکر وہاں سے لوٹا کرو یہ نہ کیا کرو کہ مزدلفہ ہی میں رہ جایا کرو اور زمانہ جاہلیت میں جو کرتے رہے اس سے توبہ کرو اور آئندہ کے لئے ان رسوم کا ارادہ ترک کردو اگر ایسا کرو گے تو یقین جانو ! اللہ تعالیٰ غفور ہے تمہاری سابقہ خطائوں کو معاف کردے گا اور وہ بڑا رحیم ہے آئندہ تم پر مہربانی کرے گا اور تم کو عمل خیر کی توفیق عطا فرمائے گا۔ (تیسیر) مکہ کے قریش اپنے آپ کو مجاور حرم سمجھتے تھے اس لئے جب حج کو نکلتے تو منا سے چل کر مزدلفہ میں ٹھہر جاتے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں نہ جاتے اور کہتے ہم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 198–199

ف 4۔ حج میں تجارت مباح یقینا ہے اب رہی یہ بات کہ اخلاص کے خلاف تو نہیں سو اس میں اس کا حکم مثل اور مباحات کے وارد ہوا ہے۔ 5۔ زمانہ جاہلیت میں قریش چونکہ اپنے آپ کو مجاور حرام سمجھتے تھے اور مزدلفہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اسلیے یہ لوگ عرفات میں نہ جاتے تھے، مزدلفہ ہی میں ٹھہر کر وہاں سے لوٹ آتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان احکام کا عام ہونابتلا دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حج کا مقصد تفریق مٹانا ہے ڈالنا نہیں : 347: زمانہ جاہلیت میں قریش بیت اللہ کے مجاور ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو حمس کہتے تھے زمانہ حج میں عام لوگ عرفات کے میدان میں جا کر قیام کرتے جس کو وقوف کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر قریش مزدلفہ ہی تک جاتے کیونکہ وہ حرم کی حدود کے اندر ہے اور عرفات اس سے باہر۔ انہیں خیال تھا کہ حدود حرم سے باہرجانا ان کی شرافت ، وجاہت اور عزت کے خلاف ہے اور عوام الناس سے ملنا اور ان میں گھل مل جانا تقدس مذہبی کے منافی ہے ۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ کے ذریعہ دو غلطیوں کو دور کیا جن میں دنیا ہمیشہ مبتلا رہی اور آج بھی باوجود تمدن و تہذیب میں انتہائی ترقی حاصل ہوجانے کے اس کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The third verse (199): ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُ‌وا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ,(Then, flow down from where the people flowed, and seek forgiveness from Allah. Certainly, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful) was revealed in a particular background. The Quraysh of Arabia being the custodians of the Ka'bah کعبہ enjoyed a unique position of influence and distinction in the country. During the days of Jahiliyyah, while every-one went to ` Arafat, the Quraysh would, in order to demonstrate their unusual importance, stop at Muzdalifah and stay…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

220. Since the time of Abraham and Ishmael the recognized practice of the Arabs with regard to Hajj was that on the 9th, Dhu al-Hijjah, they went from Mina to 'Arafat, returning on the morning of the 10th to stay at Muzdalifah. Later, as the priestly monopoly of the Quraysh became well established, they claimed that it was below their dignity to go to 'Arafat with the ordinary people of Arabia. As a mark of what they called their distinction, they went to Muzdalifah only (without going to 'Arafat) and returned from there, leaving it to the commoners to go to 'Arafat. Subsequently Banu…

Read the full tafseer →