تجارت اور حج
صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازار تھے اسلام کے بعد صحابہ کرام ؓ ایام حج میں تجارت کو گناہ سمجھ کر ڈرے تو انہیں اجازت دی گئی کہ ایام حج میں تجارت کرنا گناہ نہیں، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مسئلہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حج کے دنوں میں احرام سے پہلے یا احرام کے بعد حاجی کے لئے خریدو فروخت حلال ہے، ابن عباس کی قرأت میں آیت (من ربکم) کے بعد فی مواسم الحج کا لفظ بھی ہے، ابن زبیر سے بھی یہی مروی ہے دوسرے مفسرین نے بھی اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے، حضرت ابن عمر ؓ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 218
یہ بھی قدیم عربوں کا ایک جاہلانہ تصور تھا کہ سفر حج کے دوران میں کسب معاش کے لیے کام کرنے کو وہ برا سمجھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک کسب معاش ایک دنیا دارانہ فعل تھا اور حج جیسے ایک مذہبی کام کے دوران میں اس کا ارتکاب مذموم تھا۔ قرآن اس خیال کی تردید کرتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ ایک خدا پرست آدمی جب خدا کے قانون کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی معاش کے لیے جدوجہد کرتا ہے، تو دراصل اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے اور کوئی گناہ نہیں، اگر وہ اپنے رب کی رضا کے لیے سفر کرتے ہوئے اس کا فضل بھی تلاش کرتا جائے۔
سورة الْبَقَرَة 219
یعنی جاہلیت کے زمانے میں خدا کی عبادت کے ساتھ جن دوسرے…
Read the full tafseer →سفر حج میں تجارت یا مزدوری کرنا کیسا ہے
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم سفر حج میں تجارت یا مزدوری کے ذریعے کچھ روزی کمالو اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق حاصل کرو، واقعہ نزول اس آیت کا یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب نے جس طرح تمام عبادات و معاملات کو مسخ کرکے طرح طرح کی بیہودہ رسمیں ان میں شامل کردی تھیں اور عبادات کو بھی کھیل تماشہ بنادیا تھا اسی طرح افعال حج میں بھی طرح طرح کی بیہودگیاں کرتے تھے منیٰ کے عظیم اجتماع میں ان کے خاص خاص بازار لگتے تھے نمائش ہوتی تھی تجارتوں کے فرورغ کے ذرائع لگائے جاتے تھے اسلام آیا…
Read the full tafseer →یعنی حج سے اصل مقصود تو تقوی ہے، اس لیے اس کے واسطے اصلی زاد راہ تقوی ہی کا ہونا چاہیے لیکن اس امر میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ کوئی شخص اس سفر سے کوئی چھوٹا بڑا تجارتی فائدہ بھی اٹھا لے۔ یہاں َضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ۭ سے مراد تجارتی فائدہ ہے۔ اس قسم کے معاشی فوائد کے لیے قرآن میں دوسرے مقامات میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ خدا کے حدود کے اندر رہتے ہوئے اور اس کے حقوق ادا کرتے ہوئے بندہ جو معاشی فتوحات حاصل کرتا ہے وہ سب فضلِ رب میں داخل ہیں۔ اوپر والی آیت کے تحت ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ جاہلیت میں حج کا اجتماع ایک بہت بڑے تجارتی میلے کی نوعیت اختیار کر گیا تھا جس کے سبب سے حج کا اصل مقصد بالکل…
Read the full tafseer →198۔ 1 فضل سے مراد تجارت اور کاروبار ہے یعنی سفر حج میں تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
2۔ 198 ذی الحجہ کو زوال آفتاب سے غروب شمس تک میدان عرفات میں وقوف حج کا سب سے اہم رکن ہے جس کی بابت حدیث میں کہا گیا ہے (الحج عرفۃ) (عرفات میں وقوف ہی حج ہے) یہاں مغرب کی نماز نہیں پڑھنی ہے بلکہ مزدلفہ پہنچ کر مغرب کی تین رکعات اور عشاء کی دو رکعات (قصر) جمع کر کے ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ پڑھی جائے گی مزدلفہ ہی کو مشعر حرام کہا گیا ہے کیونکہ یہ حرم کے اندر ہے یہاں ذکر الہی کی تاکید ہے یہاں رات گذارنی ہے فجر کی نماز غلس (اندھیرے) میں یعنی اول وقت میں پڑھ کر طلوع آفتاب تک ذکر میں مشغول رہا جائے طلوع آفتاب…
Read the full tafseer →131: بعض حضرات حج کے سفر میں کوئی تجارت کرنے کو ناجائز سمجھتے تھے، یہ آیت ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس نے بتادیا کہ سفر حج میں روزی کمانے کا کوئی مشغلہ اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے حج کے ضروری کام متاثر نہ ہوں۔
132: وَاذْكُرُوْهُ کَمَا هَدَاكُمْ : حج کے دوران عرفات سے آکر مزدلفہ میں رات گزاری جاتی ہے اور اگلی صبح طلوع آفتاب سے پہلے پہلے وقوف کیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور دعائیں مانگی جاتی ہیں، جاہلیت میں بھی اہل عرب اللہ کا ذکر تو کرتے تھے، مگر اس کے ساتھ اپنے دیوتاؤں کا ذکر بھی شامل کرلیتے تھے، بتایا جارہا ہے کہ مومن کا ذکر خالص اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →مزید احکام حج بیان ہوتے ہیں ، کیا تجارت جائز ہے ۔ کیا دوران حج حاجی مزدوری کرسکتا ہے ؟ وقوف کہاں ہو اور کہاں سے واپسی جائز ہے ؟ ذکر و استغفار کا کیا طریقہ ہے ، یہ مسائل سنئے !
لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (198) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پھر…
Read the full tafseer →8 حج کے سفر میں اگر سوداگری بھی کرو تو گناہ نہیں بلکہ مباح ہے لوگوں کو اس میں شبہ ہوا تھا کہ شاید تجارت کرنے سے حج میں نقصان آئے اب جس کو مقصود اصلی حج ہو اور اس کے ذیل میں تجارت بھی کرلے تو اس کے ثواب میں نقصان نہ آئے گا۔
9 مشعرالحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میں واقع ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے اس پہاڑ پر قیام کرنا افضل ہے اور تمام مزدلفہ میں جہاں قیام کرے جائز ہے سوائے وادی مُحَسَّر کے۔
1 یعنی کفار بھی اللہ کا ذکر تو کرتے تھے مگر شرک کے ساتھ وہ ذکر نہ چاہیے بلکہ توحید کے ساتھ جس کی تم کو ہدایت فرمائی۔
Read the full tafseer →آیت 198 لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط
آدمی ہندوستان سے یا پاکستان سے حج کے لیے جا رہا ہے اور وہ اپنے ساتھ کچھ ایسی اجناس لے جائے جنہیں وہاں پر بیچ کر کچھ نفع حاصل کرلے تو یہ تقویٰ کے منافی نہیں ہے۔
فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِص۔
وقوف عرفات حج کا رکن اعظم ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ 24 یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔ اگر کسی سے حج کے باقی تمام مناسک رہ جائیں ‘ صرف قیام عرفہ میں شمولیت ہوجائے تو اس کا حج ہوگیا ‘ باقی جو چیزیں رہ گئی ہیں ان کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص…
Read the full tafseer →267 جاہلیت کے غلط اعتقادات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ حج کے دوران تجارت کرنا مکروہ خیال کرتے تھے اور اسے خلوص عمل کے خلاف سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت فرما دی جبکہ اصل مقصود حج ہی ہو اور تجارت سے حج کے ارکان وغیرہ میں کچھ خلل واقع نہ ہوتا ہو۔ چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں (منیٰ ) میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز بازار لگا کرتے تھے (صحابہ ؓ نے) حج کے دنوں میں تجارت کو گناہ خیال کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، زیر آیت مذکورہ)
268 اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارکان حج میں سے عرفات میں وقوف بہت ضروری بلکہ رکن اعظم ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →735 ۔ بہ سلسلہ سفر حج اسلام جس طرح فلاح اخروی کا ضامن ہے، فلاح دنیوی کا بھی داعی ہے، اور اس کی یہ جامعیت اس کی ہر عبادت سے بالکل ظاہر ہورہی ہے، وضو، نماز، نماز، باجماعت، روزہ، زکوٰۃ، سب سے روح کو جلا دینے اور اپنے باطن کو صیقل کرنے کے ساتھ ساتھ دینوی، مادی، جسمانی، معاشی فائدوں اور مصلحتوں سے بھی کتنے لبریز ہیں۔ یہی اصول حج کے بارے میں بھی کام کررہے ہیں حج کا منزل در منزل سفر، بری و بحری طویل سفر، اور امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع، ایک خشک عبادت اور محض ذکر الہی کے لیے نہیں، فرد وملت دونوں کے لیے یعنی انفرادی واجتماعی ہر قسم کے فائدے اس سے حاصل کیے جاسکتے…
Read the full tafseer →لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ، قدیم عربوں کا جاہلانہ تصور تھا کہ سفر حج کے دوران کسب معاش کے لئے کام کرنے کو برا سمجھتے تھے، قرآن اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ اگر خدا پرست خدا کے قانون کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے معاش کے لئے جدوجہد کرتا ہے تو دراصل وہ اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے اور یہ کوئی گناہ نہیں۔ امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع محض ایک خشک عبادت اور محض ذکر الٰہی کے لئے ہی نہیں، بلکہ فردوملت یعنی انفرادی اور اجتماعی ہر قسم کے فائدے اس سے حاصل کئے جاسکتے ہیں اور کئے جانے چاہئیں، حج کے روحانی اسرار و حقائق کا ادراک…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ( تم پر کچھ گناہ نہیں کہ چاہو فضل اپنے پروردگار کا) فضلاً یعنی تجارت وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی عطا اور رزق اگر سفر حج میں طلب کرو تو کچھ گناہ نہیں۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جاہلیت میں تین بازار تھے عکاظ اور مجنہ اور ذوالمجاز جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگ گناہ سمجھ کر ان بزاروں میں تجارت سے رکے اس پر حق تعالیٰ نے : لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا۔۔ نازل فرمائی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ نیلیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم فی مواسم الحجپڑھا ہے۔
اور امام احمد اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور…
Read the full tafseer →(198) حرم میں تجارت کرکے کچھ نفع وغیرہ کمانے میں کوئی حرج نہیں، یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو حدود حرم میں خرید وفروخت اور کاروبار کو ناجائز سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس چیز کی اجازت دے دی۔ اس کے بعد جب تم لوگ میدان عرفات سے مشعر حرام پر آؤ تو دل و زبان سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بتایا ہے اللہ تعالیٰ کا خوب اچھی طرح ذکر کرو، رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے نزول قرآن اور اسلام سے پہلے تم لوگ کافر ہی تھے۔
شان نزول : (آیت) ”لیس علیکم جناح“۔ (الخ)
امام بخاری ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عکاظ اور ذوالمجاز یہ زمانہ جاہلیت میں بازار تھے۔ لوگ حج کے زمانہ میں ان بازاروں…
Read the full tafseer →ابن عباس ؓ نے فرمایا :”عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز جاہلیت میں بازار تھے، اب مسلمانوں نے حج کے دنوں میں وہاں تجارت کرنے کو گناہ سمجھا، تو اس پر یہ آیت اتری۔“ [ بخاری، التفسیر، باب : (لیس علیکم جناح۔۔) : 4519 ] یعنی حج کے دوران میں خریدو فروخت ممنوع نہیں، بلکہ یہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، اس لیے روزی کمانا منع نہیں ہے۔
کعبہ سے چلیں تو پہلے منیٰ ، پھر مزدلفہ، پھر عرفات آتا ہے۔ حاجی آٹھ ذوالحجہ (یوم ترویہ) کو منیٰ میں ظہر سے پہلے پہنچتے ہیں، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر منیٰ میں ادا کرتے ہیں۔ احرام کے بعد حج یہاں سے شروع ہوتا ہے، نو ذوالحجہ کو عرفات جاتے ہیں۔ سورج ڈھلنے سے لے کر اس کے غروب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 198
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جناح اس کا مطلب ہے : گناہ۔ یہ لیس کا اسم ہے ان تبتغوا۔ لیس کی خبر کی حیثیت سے محل نصب میں ہے یعنی فی ان تنتغوا۔ خلیل اور کسائی کے قول پر محل جر میں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حج کو رفث، فسق، جدال سے پاک رکھنے کا حکم دیا تو تجارت کی رخصت دی۔ یعنی اللہ کا فضل تلاش کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔ ابتغاء الفضل (فضل کا تلاش کرنا) قرآن میں تجارت کے معنی میں وارد ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ (الجمعہ : 10) اس کی صحت پر دلیل…
Read the full tafseer →(1) سفیان، سعید بن منصور، بخاری، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں عکاظ مجنہ اور ذوالمجاز (کے نام سے) بازار تھے۔ مگر موسم (حج) میں وہ تجارت کرنے کو گناہ سمجھنے لگے (صحابہ کرام ؓ نے) رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم، فاذا افضتم من عرفت “ یعنی مواسم حج میں تجارت کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔
(2) امام وکیع، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن عبید، ابو داؤد، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ موسم حج میں بیع و تجارت کرنے سے رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ…
Read the full tafseer →[ لَیْسَ عَلَیْکُمْ : نہیں تم لوگوں پر ] [ جُنَاحٌ : کوئی گناہ ] [ اَنْ تَبْتَغُوْا : کہ تم لوگ جستجو کرو ] [ فَضْلاً : کچھ روزی کی ] [ مِّنْ رَّبِّکُمْ : اپنے رب سے ] [ فَاِذَآ : پس جب بھی ] [ اَفَضْتُمْ : تم لوگ جوق در جوق نکلو ] [ مِّنْ عَرَفٰتٍ : عرفات سے ] [ فَاذْکُرُوا : تو یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ : مشعر حرام کے پاس ] [ وَاذْکُرُوْہُ : اور یاد کرو اس کو ] [ کَمَا : اس طرح جیسے ] [ ہَدٰٹکُمْ : اس نے ہدایت کی تم کو ] [ وَاِنْ کُنْتُمْ : اور یقینا تم لوگ ] [ مِّنْ قَبْلِہٖ : اس سے پہلے ] [ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ : لازماً گمراہ ہونے والوں میں سے تھے…
Read the full tafseer →حج میں خریدو فروخت کی اجازت اور مشعر حرام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم
اس آیت میں اول تو حج کے موقعہ پر کسب معاش کی اجازت دی اور فرمایا کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فضل تلاش کرنے میں تجارت اور محنت مزدوری سب داخل ہیں۔ صحیح بخاری ج 2 ص 647 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز جاہلیت میں لوگوں کی تجارت گاہیں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو مسلمانوں نے ان میں تجارت کرنے کو گناہ سمجھنا۔ یہاں تک کہ آیت (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ) نازل ہوگئی جس میں موسم حج میں تجارت کرنے کی اجازت دی گئی۔
مستدرک ج 1 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
تتمہ احکام حج۔
قال تعالی، الحج اشھر معلومات۔۔ الی۔۔۔ ذکرا۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں حج اور عمرہ کے اتمام کا ذکر تھا مگر چونکہ عمرہ کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں اور حج کے لیے وقت متعین ہے نیز حج وعمرہ سے افضل ہے اس لیے آئندہ آیات میں اشہر حج اور آداب حج کو ذکر فرماتے ہیں (بحر محیط) ۔ حج کے احرام اور افعال کا وقت چند مہینے معلوم ہیں شوال اور ذی قعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے باقی اصل ارکان کا وقت یوم عرفہ اور یوم نحر ہے شوال اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ یہ خاص فضیلتوں اور برکتوں کے مہینے ہیں اور عشرہ ذی الحجہ تو اس قدر فضیلت اور برکت والا ہے کہ ایک عشرہ ہی قائم مقام پورے مہینے کے ہوگیا پس جشخص نے ان مہینوں…
Read the full tafseer →382 یہاں فضل سے مراد تجارت اور تلاش معاش ہے وھو الربح والنفع بالتجارۃ والکراء (مدارک ص 80 ج 1)383 مکہ مکرمہ سے تقریباً بارہ میل کے فاصلہ پر ایک بہت بڑا میدان ہے اس کا نام عرفات ہے 9 ذی الحجہ کو پچھلے پہر تمام حاجی یہاں پہنچ جاتے ہیں اور آخر وقت عصر تک تکبیر وتہلیل اور ذکر اللہ میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کا نام اصطلاح شرع میں وقوف عرفہ ہے اور یہ حج کا بہت بڑا رکن ہے۔ غروب آفتاب کے بعد یہاں سے مزدلفہ کے لیے روانگی ہوتی ہے اور مزدلفہ میں پہنچ کر مغرب کی نماز عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے کو افاضہ کہتی ہیں اور مشعر الحرام اصل میں تو وہ میدان ہے جو مزدلفہ کی دو پہاڑیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–199
ربط آیات
آیت کے پہلے حصے میں سفر حج کے دوران تجارت کی اجازت دی گئی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ ایسا کرتے تھے۔ مگر مسلمانوں کو تردد پیدا ہوا کہ کہیں یہ چیز حج جیسے مقدس فریضہ کے منافی نہ ہوا اور حج کے ثواب میں کمی کا باعث نہ بن جائے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ سفر حج کے دوران اگر تجارت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ نیت خالص حج کی ہو اور ضمناً لین دین بھی ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا ہے اور جائز ہے۔
وقوف عرفہ
آیت کے اس حصہ میں وقوف عرفہ اور وہاں سے واپسی کے متعلق احکام بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ فاذا افضتم من عرفت پس جب تم عرفات سے …د واپس پلٹو…
Read the full tafseer →لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ 0 ۭ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ 0 ۠ وَاذْكُرُوْہُ كَـمَا ھَدٰىكُمْ 0 ۚ وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ 198
جناح
وسمي الإثم المائل بالإنسان عن الحق جناحا ثم سمّي كلّ إثم جُنَاحاً ، نحو قوله تعالی: لا جُناحَ عَلَيْكُمْ في غير موضع، وجوانح الصدر :
الأضلاع المتصلة رؤوسها في وسط الزور، الواحدة : جَانِحَة، وذلک لما فيها من المیل
اسی لئے ہر وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کردے اسے جناح کہا جاتا ہے ۔ پھر عام گناہ کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہونے لگا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
ترکیب : الحج مبتداء اشہر معلومات خبرو التقدیر الحج اشہر ویمکن ان یقال اشہر۔ الحج اشہر فمن فرض مبتداء متضمن شرط فلارفث والعائد محذوف ای فلارفث ولا فسوق بعدہ وما تفعلو الخ قد مرترکیبہ فی ماننسخ من آیۃ الخ ان تبتغوا موضع نصب میں ہے علی تقدیر فی ان تبتغوا اور ممکن ہے کہ موضع رفع میں ہو۔ جناح کی صفت ہو کر من ربکم متعلق ہے تبتغوا سے پس مفعول بہ ہوگا اور فضل کی صفت بھی ہوسکتا ہے فاذا شرط فاذکر اللّٰہ الخ جملہ جواب عند الشعرالحرام ظرف ہے اذکروا کما ھداکم کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی اور ممکن ہے کہ کاف بمعنی علی ہو تقدیرہ فاذکر اللہ علی ماہدا کم ‘ وان کنتم میں ان مخففہ ہے مثقلہ سے والتقدیر…
Read the full tafseer →لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُواللّٰہَ عِنْدَالْمَشْعَرِالْحَرَامِ ص وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ ج وَاِنْ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔
(تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کروپس جب عرفات سے چلو تو اللہ کو یاد کرومشعرِحرام کے پاس اور اس کو اس طرح یاد کروجس طرح اللہ نے تم کو ہدایت کی ہے، اس سے پہلے بلاشبہ تم گمراہوں میں سے تھے) (198)
حج میں حصول رزق کی اجازت
گزشتہ آیت کریمہ میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ حج کا اصل مقصود تقویٰ ہے۔ اس کا زاد راہ بھی تقویٰ ہے۔ اس لیے حج کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حج کے مناسک کا بیان جاری ہے۔
اسلام کے ورود مسعود سے پہلے لوگوں نے حج جیسے باوقار اور عبادات کے مجموعہ کو ایک میلہ اور تجارتی منڈی میں تبدیل کردیا تھا۔ لیکن جب یہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی سوچ کے زاویے یکسر تبدیل ہوگئے۔ صحابہ کرام ؓ نے سب کچھ اپنے رب کی رضا کے لیے قربان کردیا تھا۔ لہٰذا اب وہ حج کی ادائیگی کے دوران تجارت کرنے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتے تھے ؟ وہ یہاں تک محتاط ہوئے کہ ایک مزدوری کرنے والا صحابی حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا اور یہ سوال کیا کہ ہمارا پہلے سے یہ پیشہ ہے کہ ہم اونٹوں کے ذریعے سواری اور باربرداری کا کام کرتے ہیں کچھ لوگ ہمارے…
Read the full tafseer →حج میں تجارت ممنوع نہیں :
198: لَـیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ 1 (کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم تلاش کرو فضل اپنے رب کا) یعنی حج کے ایام میں روزی جو فضل و عطیہ خداوندی ہے اس کی تلاش میں کوئی حرج نہیں۔ فضل سے مراد نفع یا تجارت ہے۔
فَاِذَ آ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفَاتٍ : (جب تم عرفات سے لوٹو۔ ) یہ افاضۃ الماء سے ہے۔
پانی کا زور سے بہنا۔ اور اصل اس طرح ہے افضتم انفسکم۔ مفعول کو ترک کردیا گیا یعنی جب تم کثرت سے چلائو۔ اپنے آپ کو اور لوٹو۔
عرفات جمع ہے :
عرفات۔ یہ موقف حج کا نام ہے یہ نام جمع ہی ہے۔ جیسے اذرعات۔ اور یہ منصرف ہے۔ کیونکہ اس میں تاء تانیث کی نہیں۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 198۔:
(آیت)” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عکاثظ ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کی منڈیاں (بازار) تھیں (یعنی ان میں خریدو فروخت ہوتی تھی) جب اسلام آیا تو لوگوں نے ایام حج میں تجارت کو گناہ تصور کیا ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ موسم حج میں (یعنی ایام حج میں تجارت کرکے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ایسا ہی پڑھا ، ابو امامۃ تیمی سے روایت کیا گیا ہے فرماتے ہیں میں نے ابن عمر ؓ کو کہا کہ وہ لوگ ہیں کہ حج کے (آنے جانے کے) سلسلہ سواریاں کرایہ پر دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
(198 ۔ 202) ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے موسم حج میں مکہ کے پاس تین بازار لگا کرتے تھے ان میں طرح طرح کی خریدو فروخت ہوتی تھی۔ اور سال بھر کی گذران اکثر لوگوں کی اس خریدو فروخت میں نکل آتی تھی اسلام کے بعد لوگوں کو تردو ہوا کہ اس تجارت کی وجہ سے ہمارے حج میں کچھ فتور نہ پڑتا ہو بلکہ اس طرح تجارت پیشہ اور اجرت پیشہ لوگوں کو دوسرے لوگ یہ کہ اٹھتے تھے کہ تم حاجی نہیں ہو بلکہ تجارت کی غرض سے مکہ آئے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر اس تردد کو رفع کردیا 1۔ اس شان نزول پر اکثر صحابہ کا عمل ہے۔ چناچہ ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرما دیا کہ مواسم حج وغیرہ میں محنت و اکتساب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ وہ فرائض سے غافل ہو کر اسی میں مشغول نہ ہوجائے۔ جبکہ اس کا اصل مقصد حج ہی ہو اور یہ کمائی حلال اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب ہو اور بندے کی اپنی مہارت کی طرف منسوب نہ ہو، کیونکہ سبب کو ہی سب کچھ سمجھنا اور سبب کو فراموش کردینا، یہی عین حرج ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان (آیت) فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ” پس جب تم عرفات سے لوٹو تو شعر…
Read the full tafseer →(آیت 196 کی بقیہ تفسیر)
ہمیں جعفر بن محمد واسطی نے روایت بیان کی۔ انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابو عبید نے، انہیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے مالک بن انس سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ سے کہ آپ فرماتی ہیں کہ ہم حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے۔ ہم میں سے بعض نے توجیح کا تلبیہ کہا، بعض نے حج اور عمر دونوںں کا اور بعض نے صرف عمرے کا حضور ﷺ نے حج کا تلبیہ کہا تھا جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ طواف اور سعی کے بعد معرام سے باہر آ گئے اور جن لوگوں نے حج یا حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا تھا انہوں نے دسویں ذوالحجہ تک احرام نہیں کھولا۔
جعفر محمد بن الیمان کہتے ہیں کہ ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
549 " اشہر حج " سے مقصود و مراد ؟ : " اشہر حج " سے مراد یہ تین مہینے ہیں۔ یعنی شوال، ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن، جن کو " اشہر حج " کہا جاتا ہے، اور ذوالحجہ کے اگرچہ دس ہی دن ہیں مگر یہ اس قدر فضائل اور خصوصیات کے حامل دن ہیں کہ پورے مہینے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور راقم آثم نے " فضائل عشرہ ذی الحج " کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جو عرصہ قبل چھپ بھی چکا ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ " اشہر معلومات " کے الفاظ سے مقصود و مراد " ایام معدودات " کی طرح انکے محدود اور معین ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسی محدود اور غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
حج کے دوران ذکر و اذکار
تشریح : ان آیات میں حج کی ضروری حدود کا بیان ہے۔ حج کے اصل ارکان ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں شروع ہوتے ہیں۔ چناچہ احرام میقات کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر واجب ہوجاتا ہے۔ حج کی نیت کی عملی نشانی احرام باندھ لینا ہے۔ احرام دو بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں جو مرد حضرات ایک تہہ بند کے طور پر باندھ لیتے ہیں اور دوسری چادر اوپر اس طرح ڈال لیتے ہیں کہ سر ننگا رہے، جبکہ عورتیں سر اور جسم کو اس طرح چادر اور سلے ہوئے لباس میں ڈھانپ لیتی ہیں کہ ستر پوشی مکمل ہوجائے۔ حج کے دوران تین باتوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یہ پہلی آیت میں بھی بیان آچکا ہے دوبارہ بیان کیا جارہا ہے۔
1 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →ف 8 ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگ ایام حج کو ذکر الہی کے ایام سمجھتے۔ اس لیے ان میں کسب معاش کو گناہ خیال کرتے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی حج کے دوران خریدو فروخت ممنوع نہیں ہے بلکہ یہ مال و دولت بھی اللہ تعالیٰ فضل و کرم ہے اس لیے روزی کمانا منع نہیں ہے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)9 نوذالحجہ کو عرفات میں وقوف کرنا (ازوال آفتاب تاغروب شمس) حج کا سب سے بڑارکن ہے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ہے الحج عرفتہ کہ عرفات میں وقوف ہی حج ہے۔ یوم النحر کی صبح سے پہلے سے پہلے جس نے وقوف کرلیا اس کا حج ہوگیا۔ مشعر حرام سے مراد مزدلفہ اور حرم کے اندر ہونے کی وجہ سے اسے " الحرام " کہد دیا گیا ہے عرفات سے پلٹ کر حجاج رات یہاں…
Read the full tafseer →جناح۔ گناہ۔ جنوح سے ماخوذ ہے جس کے معنی ایک طرف مائل ہونے کے ہیں۔ اس لئے وہ گناہ جو انسان کو حق سے مائل کر دے اور دوسری طرف جھکادے۔ جناح سے موسوم ہوا۔ اور پھر ہر گناہ کے لئے اس کا ستعمال ہونے لگا۔
مائل ہونے کے معنی میں : وان جنحوا للسلم فاجنح لہا (8:61) اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہوجاؤ۔
ان تبتغوا فضلا۔ میں ان مصدریہ ہے۔ تبتغوا مضارع جمع مذکر ابتغاء (افتعال) مصدر اصل میں تبتغون تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی حذف ہوگیا۔ تم چاہتے ہو، تم ڈھونڈھتے ہو، تم تلاش کرتے ہو۔ فضلا اسم فعل (حالت نصب) تجارت کے ذریعے سے رزق۔ روزی۔ اور بھی کئی معانی میں مستعمل ہے۔ روزی کی تلاش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–203
لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203
معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–202
شان نزول : اوپر کی آیت سے معلوم ہوا کہ تجارت کا پیشہ جائز ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ احرام سے پہلے اور احرام کے بعد کسی حال میں لوگوں کو تجارت یا اجرت سے منع نہیں کرتے تھے۔ حج میں عرفات جانا ضروری ہے یہ اس لئے فرمایا کہ باقی ارکان حج اور عمرہ میں مشترک ہیں، صرف یہ ایک رکن خاص الخاص حج میں ہی ہے عمرہ میں نہیں ہے۔ جبکہ فوت ہوجاوے گا تو خواہ مخواہ رہ جائے گا۔ اسلام سے پہلے حج سے فارغ ہونے کے بعد اپنے باپ دادا کی مدح میں قصائد پڑھا کرتے تھے۔ اسلام میں اللہ تعالیٰ کو اس طریقہ کا بدلنا منظور نظر ہوا۔ اس لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ حج سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاوے اور اللہ سے…
Read the full tafseer →[135] یعنی حج کے سفر میں اگر سوداگری کرو تو گناہ نہیں۔
Read the full tafseer →ایام حج میں تجارت :
(ف 2) اسلامی عبادات میں اور دیگر مذاہب کے نظام عبادت میں ایک بہت بڑا امتیاز یہ ہے کہ اسلامی عبادات صرف ذکر خدا تک محدود نہیں ، بلکہ وہ وسیع تر مفہوم اپنے اندر پنہاں رکھتی ہے ، اسلامی عبادت ذکر الہی کے علاوہ ضروریات تمدن پر حاوی ہے ، اس لئے حج میں جو خالصہ ذکر و ریاضت کی ایک اعلی صورت ہے ، تجارت کی اجازت دی اور فرمایا اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، بلکہ اپنے فضل کے لفظ سے تعبیر کرکے ترغیب دی کہ مسلمان اس عظیم الشان اجتماع سے مادی فائدہ بھی اٹھائیں اور یہ اجتماع ہر محافظ سے مسلمانوں کے لئے باعث برکت وسعادت ہو ۔
(ف 3) عربوں کا قاعدہ تھا کہ جب مناسک حج سے فارغ ہوتے تو ایک مجلس…
Read the full tafseer →ف 1 اور اگر تم سفر حج میں کچھ سامان تجارت بھی لے جانا چاہوتو تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کا فضل یعنی تجارت کا نفع حاصل کرو اور معاش کی تلاش کرو پھر جب تم لوگ عرفات میں قیام کرکے واپس لوٹو تو مشعر حرام کے پاس قیام کرکے خدا کا ذکر کرو اور ذکر کرنے اور خدا تعالیٰ کو یاد کرنے میں اپنی رائے کو دخل نہ دو بلکہ جس طرح تم کو اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے اور سکھا دیا ہے اس طرح اس کو یاد کرو اور یقین جانو کہ تم طریقہ ذکر سکھانے اور بتانے سے قبل بالکل جاہل اور بےعلم تھے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ا ہل عرب جب حج کرنے آتے تھے تو تجارت کا سامان بھی اپنے ہمراہ لے آیا کرتے تھے اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 198–199
ف 4۔ حج میں تجارت مباح یقینا ہے اب رہی یہ بات کہ اخلاص کے خلاف تو نہیں سو اس میں اس کا حکم مثل اور مباحات کے وارد ہوا ہے۔
5۔ زمانہ جاہلیت میں قریش چونکہ اپنے آپ کو مجاور حرام سمجھتے تھے اور مزدلفہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اسلیے یہ لوگ عرفات میں نہ جاتے تھے، مزدلفہ ہی میں ٹھہر کر وہاں سے لوٹ آتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان احکام کا عام ہونابتلا دیا۔
Read the full tafseer →حج اور فضل اللہ کی تلاش :
344: اسلام جس طرح فلاح اخروی کا ضامن ہے ، فلاح دنیوی کا بھی داعی ہے اور اس کی یہ جامعیت اس کی ہر عبادت سے بالکل صاف صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ وضو ، نماز ، نماز باجماعت ، روزہ ، زکوٰۃ سب سے روح کو جلا دینے اور اپنے باطن کو صیقل کرنے کے ساتھ ساتھ دنیوی ، مادی ، جسمانی ، معاشی فائدوں اور مصلحتوں سے بھی کتنے لبریز ہیں۔ یہی اصول حج کے بارے میں بھی کام کر رہے ہیں۔ حج کا منزل در منزل سفر ، بری و بحری ایک طویل سفر ہے اور امت کے مختلف طبقوں کا دنیا کے مختلف گوشوں سے یہ عظیم الشان اجتماع ایک خشک عبادت اور محض اللہ ہی کے لیے نہیں۔ فرد و ملت دونوں ہی کے لیے یعنی انفرادی اور اجتماعی ہر…
Read the full tafseer →Trading or earning during the Hajj
Verse 198: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ : There is no sin on you that you seek the bounty of your Lord (by trading) ' was revealed in a particular background of the Jahiliyyah when the people of Arabia had distorted all rules of worship and social dealings by injecting in them all sorts of absurd customs rendering acts of devotion into amusement. They would not even spare the sacred rites of Hajj when they added to them ridiculous doings out of their wild imagination. In the great gathering at Mina, they would set up…
Read the full tafseer →218. This was another misconception entertained by the pre-Islamic Arabs. They considered it objectionable to do anything relating to one's livelihood during the Pilgrimage. In their view earning one's living was an act of pure worldliness and hence it was bad to indulge in it while engaged in the performance of a religious duty. The Qur'an refutes this and expounds the view that if a person strives to earn his living while observing fully the laws of God his action is tantamount to seeking God's grace and bounty. (See 62: 10 - Ed.) It is no sin if a man sets out to seek God's good pleasure…
Read the full tafseer →