احرام کے مسائل
عربی دان حضرات نے کہا ہے کہ مطلب اگلے جملہ کا یہ ہے کہ حج حج ہے ان مہینوں کا جو معلوم اور مقرر ہیں، پس حج کے مہینوں میں احرام باندھنا دوسرے مہینوں کے احرام سے زیادہ کامل ہے، گو اور ماہ کا احرام بھی صحیح ہے، امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام احمد، امام اسحق، امام ابراہیم نخعی، امام ثوری، امام لیث، اللہ تعالیٰ ان پر سب رحمتیں نازل فرمائے فرماتے ہیں کہ سال بھر میں جس مہینہ میں چاہے حج کا احرام باندھ سکتا ہے ان بزرگوں کی دلیل آیت (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ) 2۔ البقرۃ :189) ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کو نسک کہا گیا ہے اور عمرے کا احرام حج کے مہینوں میں ہی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 214
احرام کی حالت میں میاں اور بیوی کے درمیان نہ صرف تعلق زن و شو ممنوع ہے، بلکہ ان کے درمیان کوئی ایسی گفتگو بھی نہ ہونی چاہیے، جو رغبت شہوانی پر مبنی ہو۔
سورة الْبَقَرَة 215
تمام معصیت کے افعال اگرچہ بجائے خود ناجائز ہیں، لیکن احرام کی حالت میں ان کا گناہ بہت سخت ہے۔
سورة الْبَقَرَة 216
حتیٰ کہ خادم کو ڈانٹنا تک جائز نہیں۔
سورة الْبَقَرَة 217
جاہلیت کے زمانے میں حج کے لیے زاد راہ ساتھ لے کر نکلنے کو ایک دنیا دارانہ فعل سمجھا جاتا تھا اور ایک مذہبی آدمی سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ خدا کے گھر کی طرف دنیا کا سامان لیے بغیر جائے گا۔ اس آیت میں ان کے اس غلط خیال کی تردید کی گئی…
Read the full tafseer →احکام حج کی آٹھ آیتوں میں سے دوسری آیت اور اس کے مسائل
اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ اشہر اَشْهُرٌ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں مہینہ۔ پچھلی آیت میں یہ بتلایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے ان دونوں میں عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں سال بھر میں جب چاہئیں کرسکتے ہیں لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں اور اوقات مقرر ہیں اس لئے اس آیت کے شروع میں یہ بتلا دیا کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جو معروف و مشہور ہیں جاہلیت عرب سے لے کر زمانہ اسلام تک یہی مہینے…
Read the full tafseer →موقع دلیل ہے کہ حج کا لفظ یہاں حج اکبر اور حج اصغر یعنی حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ لفظ قصاص پر بحث کرتے ہوئے ہم الفاظ کی اس مخصوص نوعیت استعمال کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ سے مقصود، ایام معدودات، کی طرح ان کے معین و محدود ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ یہ کچھ ایسی غیر محدود و غیر معین مدت نہیں ہے کہ حج یا عمرہ کی نیت کرنے والا ان کی پابندیوں کے تصور سے گھبرا اٹھے۔ بس چند معلوم و متعین مہینے ہیں تو جو شخص ان میں حج یا عمرہ کا عزم کرے وہ ان کی پابندیوں کو نبا ہے اور شہوت و نافرمانی اور لڑائی جھگڑے سے بچے اور زیادہ سے زیادہ نیکی اور تقوی کی کمائی کرنے کی کوشش…
Read the full tafseer →197۔ 1 اور یہ ہیں شوال، ذیقعدہ اور ذوا لحجہ کے پہلے دس دن۔ مطلب یہ ہے کہ عمرہ تو سال میں ہر وقت جائز ہے لیکن حج صرف مخصوص دنوں میں ہی ہوتا ہے اس لئے اسکا احرام حج کے مہینوں کے علاوہ باندھنا جائز نہیں۔ (ابن کثیر)
197۔ 2 صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث ہے جس نے حج کیا اور شہوانی باتوں اور فسقْ و فجور سے بچا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے اس دن پاک تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔
197۔ 3 تقویٰ سے مراد یہاں سوال سے بچنا ہے بعض لوگ بغیر زاد راہ لئے حج کے لئے گھر سے نکل پڑتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمارا اللہ پر توکل ہے اللہ نے توکل کے اس مفہوم کو غلط قرار دیا اور زاد راہ لینے کی تاکید کی۔
Read the full tafseer →130: بعض لوگ حج کو روانہ ہوتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان ساتھ نہیں رکھتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے حج کریں گے، لیکن جب راستے میں کھانے کی ضرورت پڑتی توبسا اوقات وہ لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہوجاتے تھے، اس آیت کریمہ نے یہ بتلایا کہ توکل کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اسباب کو اختیار کرنا شریعت کا تقاضا ہے، اور بہترین زاد راہ تقوی ہے، یعنی وہ زاد راہ جس کے ذریعے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہے۔
Read the full tafseer →قانونی پابندی لیکن اگر احرام کی حالت ختم ہوجائے تو پھر تقویٰ اور اللہ خوفی وہ واحد نگرانی ہے جو انسان پر اچھا اثر ڈال سکتی ہے اور ایک مومن کی نگہبان ہوسکتی ہے ۔ اب حج کے خصوصی احکام بیان ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ حج کے آداب کیا ہیں ؟ اوقات کیا ہیں ؟ سابق پیراگرافوں کی طرح اس مقطع کا اختتام بھی اسی تلقین اللہ خوفی اور اتقاء پر ہوتا ہے ۔ الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الألْبَابِ ” حج کے مہینے سب کو…
Read the full tafseer →5 شوال کے غرہ سے لے کر بقر عید کی صبح یعنی ذی الحجہ کی دسویں رات تک ان کا نام اشہر حج ہے اس لئے کہ احرام حج ان کے اندر ہوتا ہے اگر اس سے پہلے کوئی احرام حج کا باندھے گا تو وہ ناجائز یا مکروہ ہوگا یعنی حج کے لئے چند مہینے مقرر ہیں اور سب کو معلوم ہیں۔ مشرکین عرب جو اپنی ضرورت میں ان میں تغیر تبدّل کرتے تھے جس کو دوسری آیت میں (اِنَّمَا النَّسِيْۗءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ) 9 ۔ التوبہ :37) فرمایا گیا ہے۔ یہ بالکل بےاصل اور باطل ہے۔
6 حج لازم کیا یعنی احرام حج کا باندھا اس طرح پر کہ دل سے نیت کی اور زبان سے تلبیہ پڑھا۔
7 ایک غلط دستور کفر میں یہ بھی تھا کہ بغیر زاد راہ خالی ہاتھ حج کو جانا ثواب…
Read the full tafseer →پچھلے رکوع سے مناسک حج کا تذکرہ شروع ہوچکا ہے۔ اب اس پچیسویں رکوع میں حج کا اصل فلسفہ ‘ اس کی اصل حکمت اور اس کی اصل روح کا بیان ہے۔ فرمایا :
آیت 197 اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌج ۔
یعنی عرب میں جو بھی پہلے سے رواج چلا آ رہا تھا اس کی توثیق فرما دی گئی کہ واقعی حج کے مواقیت کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ّ
فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ
لازم کرنے سے مراد حج کا عزم اور نیت پختہ کرنا ہے اور اس کی علامت احرام باندھ لینا ہے۔
فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْْحَجِّ ط۔
زمانۂ حج میں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان میں اوّلین یہ ہے کہ شہوت کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ میاں بیوی بھی…
Read the full tafseer →264 یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک کی مدت کا نام اشہر حج ہے۔ حج کا احرام اسی مدت کے اندر اندر باندھا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی اس سے پہلے باندھے تو وہ ناجائز یا مکروہ ہوگا البتہ عمرہ کا احرام باندھا جاسکتا ہے۔ احرام باندھنے کے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا ہو کر پوچھنے لگا یا رسول ﷺ ! ہم احرام کہاں سے باندھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مدینہ والے ذوالحلیفہ سے باندھیں، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن (منازل) سے اور یمن والے یلملم سے۔ (بخاری، کتاب العلم، باب ذکر العلم و الفتیا فی المسجد)
2۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ ﷺ…
Read the full tafseer →728 ۔ اور چونکہ وہ مشہور ومعلوم ہیں۔ اس لیے قرآن کو ان کی تصریح کی بھی ضرورت نہیں، اور وہ تین مہینے شوال، ذیقعدہ وذی الحجہ ہیں، اصل ارکان حج تو ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں ادا ہوتے ہیں، لیکن احرام حج شوال ہی سے بندھنا شروع ہوجاتا ہے، احرام اس خاص پوشش کا نام ہے جو حدود حرم یا میقات میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی وزائر پر واجب ہوجاتی ہے۔ یہ پوشش اور کچھ نہیں، صرف بےسلی ہوئی چادریں ہونی چاہئیں۔ حنفیہ کے ہاں احرام جب چاہے باندھا جاسکتا ہے۔ گو قبل شوال ناپسندیدہ ہے۔ جائز ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حنفیہ کے ہاں احرام رکن نہیں صرف شرط حج ہے، جیسے وضو کہ رکن نماز نہیں، صرف شرط نماز ہے۔ امام شافعی (رح) کے ہاں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 197 تا 203
ترجمہ : حج کا وقت متعین مہینے ہیں (اور وہ) شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں اور کہا گیا ہے کہ ذی الحجہ کا پورا مہینہ ہے تو جس نے ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ کر اپنے اوپر حج لازم کرلیا تو نہ اس کے لئے (حالت) احرام میں فحش بات جماع جائز ہے اور نہ ارتکاب معاصی اور نہ حج میں لڑائی جھگڑا ہے اور ایک قراءت میں اول دونوں (رَفَثَ اور فُسُوْقَ ) میں فتحہ ہے یعنی (مبنی برفتحہ) اور (نفی کے) تین صیغوں سے نہی مراد ہے اور جو بھی تم کار خیر کرتے ہو مثلا صدقہ اللہ اس سے باخبر ہے، تو وہ تم کو اس کا صلہ دے گا اور اہل یمن کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی جو بغیر زادراہ کے حج…
Read the full tafseer →اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ( اور حج کے چند مہینے معلوم ہیں) یعنی حج کا وقت بلکہ احرام کا وقت چند مہینے معلوم ہیں کیونکہ ارکان کا وقت تو یوم عرفہ اور یوم نحر کے سوا اور نہیں ہے۔ طبرانی نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ حج کے مہینے شوال اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ پورا شوال اور پورا ذی قعدہ اور نو دن یوم نحر کی صبح تک ماہ ذی الحجہ کے مراد ہیں اور ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ شوال اور ذیقعد اور دس دن ذی الحجہ کے ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ دونوں روایتوں کے الفاظ صحیح ہیں کیونکہ مقصد دونوں کا ایک ہے جس نے دس کہا ہے اس نے دس رات مراد لی ہیں…
Read the full tafseer →(197) حج کے مشہور مہینے ہیں جن میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے یعنی (1) شوال (2) ذی قعدہ (3) دس دن ذی الحجہ کے ہیں۔
لہذا جو آدمی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے تو نہ ہمبستری کرے اور نہ اس قسم کی باتیں کرے اور گالی گلوچ دینے اور اپنے ساتھی سے لڑائی جھگڑا کرنے سے پرہیز کرے، اور ایک تفسیر یہ بھی گی گئی ہے کہ حج کی فرضیت میں کوئی جھگڑا اور بحث نہیں۔
اور احرام کی حالت میں ہمبستری اور اس کے تذکرہ اور گالی گلوچ اور جھگڑے کو جو بھی تم میں سے ان باتوں کو چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے گا، اے عقل والوں سامان سفر بھی ساتھ رکھو اس مقام پر تقدیم وتاخیر ہے، مطلب یہ ہے کہ عقل والو دنیاوی ضرورتوں کے…
Read the full tafseer →(اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ) عمرہ سال میں کسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے، مگر حج مقررہ وقت ہی میں کیا جاسکتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”حج کے مہینے جو اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمائے ہیں شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔“ [ بخاری، الحج، باب قول اللہ تعالیٰ : (ذلک لمن لم یکن أہلہ۔۔): 1572 ] اور ابن عمر ؓ نے فرمایا : ”اس سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔“ [ بخاری، قبل ح : 1560۔ طبری : 2؍267، ح : 3522۔ مستدرک حاکم : 2؍303،
ح : 3092 و صححہ ووافقہ الذھبی ]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں : ”سنت یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →پچھلی آیت کی بقیہ تفسیر
مسئلہ نمبر 3: علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ تمتع جائز ہے جیسا کہ تفصل آگے آئے گی اور حج افراد جائز ہے اور حج قرآن بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تمام صورتوں کو پسند فرمایا اور کسی صحابی کے حج کی کون سی صورت کا احرام باندھا تھا اور حج کی ان صورتوں میں افضل صورت کیا ہے ؟ کیونکہ اس کے متعلق وارد احادیث مختلف ہیں، بعض علماء نے فرمایا : جن میں سے امام مالک بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج مفرد کیا تھا اور حج افراد، حج قرآن سے افضل ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے، فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جو تم میں سے حج اور عمرہ کا احرام…
Read the full tafseer →(1) طبرانی نے الاوسط میں اور ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” الحج اشھر معلومت “ سے مراد شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔
(2) طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” الحج اشھر معلومت “ سے مراد شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہے۔
(3) امام خطیب نے ابن حضرت عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” الحج اشھر معلومت “ سے شوال، ذوالقعد اور ذوالحجہ مراد ہیں۔
حج کے مہینے متعین ہیں
(4) سعید بن منصور، ابن المنذر نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الحج اشھر معلومت “ سے مراد شوال، ذوالقعد اور ذوالحجہ…
Read the full tafseer →[ اَلْحَجُّ : حج (کے)] [ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ : جانے پہچانے مہینے ہیں ] [ فَمَنْ : تو جس نے ] [ فَرَضَ : فرض کیا (خود پر)
فِیْہِنَّ : ان میں ] [ الْحَجَّ : حج کو ] [ فَلاَ رَفَثَ : تو کسی قسم کی فحش گوئی نہیں ہے ] [ وَلاَ فُسُوْقَ : اور کوئی حکم عدولی نہیں ہے ] [ وَلاَ جِدَالَ : اور کوئی تو تو میں مَیں نہیں ہے ] [ فِی الْْحَجِّ : حج میں ] [ وَمَا : اور جو ] [ تَفْعَلُوْا : تم لوگ کرو گے ] [ مِنْ خَیْرٍ : کوئی بھی بھلائی ] [ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ : تو جان لے گا اس کو اللہ ] [ وَتَزَوَّدُوْا : اور تم لوگ سفر خرچ ساتھ رکھو ] [ فَاِنَّ : پس یقینا ] [ خَیْرَ الزَّادِ : بہترین زاد راہ ] […
Read the full tafseer →حج کے مہینوں کا تذکرہ اور حج کے بعض احکام
حج کا وقت چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حج کے چند مہینے اللہ پاک کی طرف سے مقر رہیں جو معروف و مشہور مہینے ہیں۔ ان میں ماہ شوال اور ماہ ذیقعدہ اور شروع کے دس دن ذوالحجہ کے ہیں افعال حج تو ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ سے شروع ہوتے ہیں لیکن شوال اور ذیقعدہ کو حج کے مہینوں میں اس لیے شمار کیا گیا کہ ان میں اگر کوئی شخص عمرہ کرے اور اس کے بعد اسی سال حج بھی کرے تو وہ عمرہ مل کر حج تمتع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے قربانی واجب ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص شوال سے پہلے عمرہ کرے تو وہ عمرہ مفردہ ہوگا اور اس کی وجہ سے حج تمتع نہ بنے گا۔ اسی طرح اگر کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
تتمہ احکام حج۔
قال تعالی، الحج اشھر معلومات۔۔ الی۔۔۔ ذکرا۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں حج اور عمرہ کے اتمام کا ذکر تھا مگر چونکہ عمرہ کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں اور حج کے لیے وقت متعین ہے نیز حج وعمرہ سے افضل ہے اس لیے آئندہ آیات میں اشہر حج اور آداب حج کو ذکر فرماتے ہیں (بحر محیط) ۔ حج کے احرام اور افعال کا وقت چند مہینے معلوم ہیں شوال اور ذی قعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے باقی اصل ارکان کا وقت یوم عرفہ اور یوم نحر ہے شوال اور ذی قعدہ اور ذی الحجہ یہ خاص فضیلتوں اور برکتوں کے مہینے ہیں اور عشرہ ذی الحجہ تو اس قدر فضیلت اور برکت والا ہے کہ ایک عشرہ ہی قائم مقام پورے مہینے کے ہوگیا پس جشخص نے ان مہینوں…
Read the full tafseer →ف 380 الحج سے پہلے وقت مضاف محذوف ہے یعنی حج کا وقت مشہور معروف مہینے ہیں اور وہ شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ ۔ فرض کے معنے یہاں مقرر اور لازم کرلینے کے ہیں اور حج لازم کرلینے سے مراد یہ ہے کہ حج کا احرام باندھ لے ای الزم نفسہ فیھن الحج بالاحرام (روح ص 85 ج 2) رفث سے فحش کلامی، جماع اور اس کے محرکات مثلاً بوسہ اور لمس وغیرہ مراد ہیں۔ ای لاجماع او لا فحش فی الکلام (روح ص 86 ج 2) الجماع ودواعیہ محظورۃ علی المحرم (ابوبکر جصاص) اور فسوق سے ہر قسم کے غیر شرعی افعال کا ارتکاب مراد ہے۔ ولا خروج عن حدود الشرع بارتکاب المحظورات (روح ص 86 ج 2) اور جدال سے…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس سے پہلے جہاد او حج کا مشترکہ حکم بیان ہوا پھر احصار کا مسئلہ بیان ہوا کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہوجائے یعنی بیماری لاحق ہوجائے یا دشمن کی وجہ سے راستہ غیر محفوظ ہوجائے تو اس صورت میں کیا کرنا چاہئے۔ اس ضمن میں احصار کا مسئلہ بیان ہوا۔ اس کے بعد تمتع اور قرآن کا بیان آیا کہ جسے حج اور عمرہ نصیب ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ایسے شخص کو دم یعنی قربانی دینا ہوگی۔ اگر قربانی کی استطاعت نہیں ہے۔ تو دس روزے رکھے یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
ان آیات میں بھی حج کے مختلف احکام بیان ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرکین کی اس تحریف کا رد…
Read the full tafseer →اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ 0 ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيْہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ 0 ۙ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ 0 ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْہُ اللہُ ۭ ؔ وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى 0 ۡوَاتَّقُوْنِ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ 197
حج
أصل الحَجِّ القصد للزیارة، قال الشاعر : يحجّون بيت الزّبرقان المعصفرا خصّ في تعارف الشرع بقصد بيت اللہ تعالیٰ إقامة للنسک، فقیل : الحَجّ والحِجّ ، فالحَجُّ مصدر، والحِجُّ اسم، ويوم الحجّ الأكبر يوم النحر، ويوم عرفة، وروي : «العمرة الحجّ الأصغر» ( ح ج ج ) الحج ( ن ) کے اصل معنی کسی کی زیارت کا قصد اور ارادہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
ترکیب : الحج مبتداء اشہر معلومات خبرو التقدیر الحج اشہر ویمکن ان یقال اشہر۔ الحج اشہر فمن فرض مبتداء متضمن شرط فلارفث والعائد محذوف ای فلارفث ولا فسوق بعدہ وما تفعلو الخ قد مرترکیبہ فی ماننسخ من آیۃ الخ ان تبتغوا موضع نصب میں ہے علی تقدیر فی ان تبتغوا اور ممکن ہے کہ موضع رفع میں ہو۔ جناح کی صفت ہو کر من ربکم متعلق ہے تبتغوا سے پس مفعول بہ ہوگا اور فضل کی صفت بھی ہوسکتا ہے فاذا شرط فاذکر اللّٰہ الخ جملہ جواب عند الشعرالحرام ظرف ہے اذکروا کما ھداکم کاف موضع نصب میں ہے لغت ہے مصدر محذوف کی اور ممکن ہے کہ کاف بمعنی علی ہو تقدیرہ فاذکر اللہ علی ماہدا کم ‘ وان کنتم میں ان مخففہ ہے مثقلہ سے والتقدیر…
Read the full tafseer →اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌج فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَـلَا رَفَثَ وَلَافُسُوْقَ لا وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ ط وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَالزَّادِ التَّقْوٰی ز وَاتَّقُوْنِ یٰٓـاُولِی الْاَلْـبَابِ ۔
(حج کے جانے پہچانے مہینے ہیں، پھر جس شخص نے لازم کرلیا ان میں حج، پھر حج کے زمانے میں نہ تو شہوت کی بات کرنی ہے، نہ گناہ کرنا ہے اور نہ جھگڑا کرنا ہے اور نیکی کے جو کام بھی کروگے اللہ اس کو جانتا ہے اور زاد راہ لے لیا کروبیشک بہترین توشہ تقویٰ ہے اور مجھ سے ڈرتے رہواے عقل والو) (197)
مَعْلُوْمٰتٌ کا مفہوم
اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے حج کے مہینے ایک ہی چلے آرہے تھے۔ جنہیں ہر دور کے ہزاروں ‘ لاکھوں اور ان کی وساطت سے نسل درنسل کروڑوں لوگ جانتے ہیں۔ اتنی عظیم الشان اور مسلسل ہونے والی عبادت کے مہینے بتلانے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ البتہ حدیث میں ان کی وضاحت موجود ہے۔ یہ ایام یکم شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ کی دس تاریخ تک ہیں۔
(قَالَ ابْنُ عُمَرَ ؓ أَشْھُرُ الْحَجِِّ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَۃِ وَعَشْرٌ مِّنْ ذِی الْحَجَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب قول اللّٰہِ تعالیٰ الحج أشھر معلومات ]
” عبدا للہ بن عمر ؓ نے فرمایا : حج کے مہینے شوال، ذو…
Read the full tafseer →آیت۔ 197 : اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَـلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَاتَّقُوْنِ یٰٓـاُولِی الْاَلْبَابِ لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدٰکُمْ وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 197۔:
(آیت)” الحج اشھر معلومات “ حج کا وقت معلوم مہینے ہیں اور یہ ماہ شوال اور ذوالقعدہ اور نو (9) دن ذوالحجہ کے دسویں ذوالحجہ کی طلوع فجر تک ، ابن عمر ؓ سے روایت کی گئی ہے کہ (آیت)” اشھر معلومات “ شوال ، ذوالقعدہ ، اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں اور دونوں باتیں درست ہیں اور ان باتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے جس نے دس ذوالحجہ کا قول کیا اس نے ذوالحجہ کی راتیں شمار کیں اور راتوں سے تعبیر کیا اور جس نے قول کا قول کیا اس نے دنوں سے تعبیر کیا یعنی صرف دن مراد لیے کیونکہ اشھر حج کا آخری دن یوم العرفہ ہے اور وہ نویں ذوالحجہ ہے ، پھر ” اشھر “ جمع کا صیغہ کیوں لایا گیا جبکہ جمع کے لیے تین مہینے ضروری…
Read the full tafseer →جس طرح نماز اور روزہ کا وقت مقرر ہے اسی طرح حج کے مہینے بھی مقرر ہیں اکثر اور تابعین اور ائمہ ثلاثہ کا مذہب یہ ہے کہ حج کے مہینے شروع شوال سے ذوالحجہ کی دسویں کی صبح صادق تک ہیں یہاں تک کہ مقام عرفات میں داخل ہونے سے پہلے اگر کسی کو صبح صادق ہوجائے گی تو اس کا اس سال کا حج فوت ہوجائے گا۔ مگر امام مالک (رح) سے ایک روایت ہے کہ آخر ذوالحجہ تک حج کے مہینوں کی مدت ہے۔ مگر اس سے ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ذوالحجہ کی دسویں کے بعد بھی حج ہوسکتا ہے بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ ناجائز ہے اور اس ناجائز ہونے کی مدت آخر ذوالحجہ تک ہے اور آنحضرت ﷺ کے چار عمرے جو ذیقعدہ میں ہوئے ہیں ان کو وہ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ خبر دیتاے (آیت) اَلْحَجُّ ۔ یعنی حج واقع ہوتا ہے (آیت) اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ” معلوم مہینوں (میں) “ جو مخاطبین کے ہاں معلوم اور معروف ہیں جن کی تخصیص کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ روزوں کے لئے اس کے مہینے کے تعین کی ضرورت پیش آئی اور جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے اوقات بیان فرمائے ہیں۔ رہا حج تو یہ ملت ابراہیم کا رکن ہے جو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں ہمیشہ سے معروف رہا ہے اور وہ لوگ حج کرتے چلے آئے ہیں۔ جمہور اہل علم کے نزدیک (آیت) اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ” معلوم مہینے “ سے مراد شوال، ذیقعد اور ذوالحج کے پہلے دس دن ہیں۔ یہی وہ مہینے ہیں جن میں غالب طور پر حج کے…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
اب ان کے نزدیک دم احصار وہی قربانی ہے جو حج فوت ہونے کی وجہ سے لازم آتی ہے۔ اس لئے وہ عمرہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتی جس طرح کہ وہ اس حج کے قائم مقام نہیں ہوسکتی جو فوت ہوچکا ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آپ تو عمرہ کے احرام کے بعد یوم النحر سے قبل تمتع کے تین دنوں کے روزوں کے جواز کے قائل ہیں جبکہ یہ روزے قربانی کا بدل ہیں اور خود قربانی کو یوم النحر سے پہلے ذبح نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس سے یہ لازم آتا ہے کہ روزوں کا جواز بھی نہ ہو۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان روزوں کا جواز ایک سبب کی وجہ سے ہوا ہے اور وہ ہے تمتع یعنی عمرہ اس بنا پر قربانی کی ذبح کے وقت پر روزوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
549 " اشہر حج " سے مقصود و مراد ؟ : " اشہر حج " سے مراد یہ تین مہینے ہیں۔ یعنی شوال، ذوالقعدہ، اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن، جن کو " اشہر حج " کہا جاتا ہے، اور ذوالحجہ کے اگرچہ دس ہی دن ہیں مگر یہ اس قدر فضائل اور خصوصیات کے حامل دن ہیں کہ پورے مہینے کے برابر، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہ رَبّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اور راقم آثم نے " فضائل عشرہ ذی الحج " کے نام سے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جو عرصہ قبل چھپ بھی چکا ہے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ " اشہر معلومات " کے الفاظ سے مقصود و مراد " ایام معدودات " کی طرح انکے محدود اور معین ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسی محدود اور غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
حج کے دوران ذکر و اذکار
تشریح : ان آیات میں حج کی ضروری حدود کا بیان ہے۔ حج کے اصل ارکان ذی الحجہ کے دوسرے ہفتہ میں شروع ہوتے ہیں۔ چناچہ احرام میقات کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر واجب ہوجاتا ہے۔ حج کی نیت کی عملی نشانی احرام باندھ لینا ہے۔ احرام دو بغیر سلی چادریں ہوتی ہیں جو مرد حضرات ایک تہہ بند کے طور پر باندھ لیتے ہیں اور دوسری چادر اوپر اس طرح ڈال لیتے ہیں کہ سر ننگا رہے، جبکہ عورتیں سر اور جسم کو اس طرح چادر اور سلے ہوئے لباس میں ڈھانپ لیتی ہیں کہ ستر پوشی مکمل ہوجائے۔ حج کے دوران تین باتوں سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یہ پہلی آیت میں بھی بیان آچکا ہے دوبارہ بیان کیا جارہا ہے۔
1 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →ف 4 اشھر معلومات کی یہی تشریح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور دیگر صحابہ وتابعین سے مروی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حج کا احرام بھی غرہ شوال سے پہلے نہ باندھا جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں من السنتہ ان لا یحرم باالحج الا فی اشھر الحج۔ کہ سنت یہ ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا دوسرے مہینوں میں نہ باندھا جائے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول مرفوع حدیث کے حکم میں جسکی تائید حضرت جابر ؓ کی روایت سے بھی ہوتی ہے جو مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے مروی ہے اور یہی مسلک صحیح اور راحج ہے۔ (شوکانی، ابن کثیر) مسئلہ۔ عمرہ تو سارے سال میں جب چاہے کرسکتا ہے مگر حج کے لیے یہ مہینے مقرر ہیں اور عشرہ…
Read the full tafseer →(2:197) الحج اشھر معلومت۔ ای وقت الحج اشھر معلومت وہی شوال و ذوالقعدۃ وعشرلیال من ذوی الحجۃ۔ حج کا وقت چند مہینے ہیں اور وہ ہیں۔ شوال۔ ذوالقعدہ اور ذوالحج کی دس راتیں۔
اشھر معلومت۔ موصوف و صفت۔ جانے بوجھے مہینے۔
فرض۔ ماضی معروف۔ واحد مذکر غائب فرض (باب ضرب) مصدر۔ فرض کے اصل معنی ہیں کسی حجم والی چیز کو جس میں صلابت ہوکاٹ دینا۔ لیکن قرآن مجید میں یہ ان معنی میں آیا ہے۔ اس نے واجب کرلیا۔ اس نے مقرر کردیا۔ اس نے عزم کرلیا۔ اس نے اجازت دیدی۔ یہاں عزم کرلینے یا نیت کرلینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
فیھن۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کا مرجع اشھر ہے۔
رفث۔ ملاحظہ ہو (2:187) ۔
فسوق۔ اسم فعل ۔۔ گناہ۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–203
لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203
معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…
Read the full tafseer →حج کے ارکان و احکام
جس طرح نماز اور روزہ کا وقت مقرر ہے اسی طرح حج کے مہینے بھی مقرر ہیں۔ حج کے مہینے شروع شوال سے ذولحجہ کی دسویں کی صبح صادق تک ہیں۔ یہاں تک کہ مقام عرفات میں داخل ہونے سے پہلے اگر کسی شخص کو صبح صادق ہوجائے گی تو اس کا اس سال کا حج فوت ہوجاوے گا۔ احرام حج کے مہینوں ہی میں ہونا چاہیئے۔ احرام باندھنے کے بعد مباشرت اور خلاف شریعت باتوں اسے بموجب حکم آیت کے جو شخص بچے گا اسی کا حج مقبول ہونے کا ذکر حدیث شریف میں آیا ہے۔ کچھ لوگ بغیر خرچ کے حج کو چلے جاتے تھے اور پھر لوگوں سے سوال کر کے ان کو تنگ کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ آئندہ ایسا کرنے سے…
Read the full tafseer →[134] یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ اصل ارکان حج تو ذی الحجہ کے دوسرے ہفتے میں ادا ہوتے ہیں لیکن احرام حج شوال سے ہی بندھنا شروع ہوجاتا ہے، احرام وہ خاص لباس ہے جو میقات میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی پر لازم ہوجاتا ہے۔ یہ لباس صرف بےسلی ہوئی چادروں پر مشتمل ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ملحوضات حج :
(ف 1) ان آیات میں بتایا کہ حج تطہیر روحانیات کا بہترین ذریعہ ہے ، اس لئے اس میں لغویات وممنوعات سے بکلی احتراز لازم ہے اس لئے اس میں نہ تو رفث درست ہے یعنی مقاربت وتعلقات جنسی نہ فسوق درست ہے یعنی حدود شرعی سے تجاوز ، نہ جدل وبغض ، بلکہ کوشش کرنا چاہئے کہ روحانی حالت نہایت بہتر رہے ، زیادہ سے زیادہ رضائے الہی کو تلاش کیا جائے اور حاصل کیا جائے ۔
بہترین زاد راہ :
بعض لوگ بلا زاد راہ کے حج کے لئے روانہ ہوجاتے ہیں ، وہ کہتے ہیں ہم متوکل ہیں اور اس کے بعد دوسرے حجاج کے لئے تکلیف کا موجب ثابت ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، یہ حرکت خلاف تقوی ہے ، جب تک زاد راہ میسر نہ ہو حج فرض…
Read the full tafseer →ف 2 ارکان حج بجا لانے کا زمانہ چند مہینے ہیں پھر جس شخص نے ان مہینوں میں حج کی نیت کے ساتھ احرام باندھ کر اور تلبیہ پڑھ کر اپنے اوپر حج کو لازم اور واجب کرلیا تو اس کو ایام حج میں تو بےحجابی ہوں یا اب احرام باندھنے کی وجہ سے ہوگئے ہوں اور نہ باہمی لڑنا جھگڑنا درست ہے اور تم جو نیک کام کرو اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا ہے اور دیکھو کھانے پینے کا سامان اور خرچ وغیرہ ساتھ لیکر جایا کرو کیونکہ سب سے بہتر زاد راہ تقویٰ ہے یعنی سفر حج میں زاد راہ کے ہمراہ لینے کا بہترین نفع اور فائدہ گدا گری اور لوٹ مار سے بچنا اور پرہیز کرنا ہے اور اے ارباب عقل و خرد میری گرفت اور میر سے عذاب سے ڈرتے رہو اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
ف 1۔ 1 عورت کو سر منڈانا حرام ہے وہ صرف ایک ایک انگل بال کاٹ لے۔ 2۔ حج تین طرح کا ہوتا ہے افراد کہ ایام حج میں صرف حج کیا جائے۔ اور تمتع اور قرآن جن میں ایام حج میں عمرہ اور حج دونوں کیے جاویں افراد ہر شخص کو جائز ہے اور تمتع اور قرآن صرف ان لوگوں کو جائز ہے جو میقات کے حدود سے باہر رہتے ہیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے تمتع اور قرآن کی اجازت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →حج معلوم مہینوں میں ہے :
341: حج کے تین مہینے مقرر ہیں شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دس بارہ دن یعنی عشرہ اول سے دو دن زائد۔ پچھلی آیت میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو کوئی حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اس پر لازم آتا ہے کہ اس کے احکام پورے ادا کرے۔ ظاہر ہے کہ عمرہ کے لئے تو کوئی تاریخ اور مہینہ مقرر نہیں پورا سال پڑا ہے جو چاہے ادا کرے لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے افعال و اعمال کے لئے خاص تاریخیں مقرر ہیں اور اوقات متعین ہیں۔ اس لئے اب بتایا جا رہا ہے کہ حج کا معاملہ عمرہ کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لئے کچھ مہینے مقرر ہیں جس کا مطلب احادیث میں واضح ہے کہ ان مہینوں کے علاوہ اگر کوئی حج کی نیت سے…
Read the full tafseer →The Hajj Months: Prohibitions
We now move to the second verse out of the eight that deal with the rules of Hajj, which is: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ: The Hajj is (in) the months well-known'. The word, ashhur أَشْهُرٌis the plural of shahr شَھَر meaning the month. It will be recalled that in the previous verse it was said that one who enters into Ihram with the intention of doing Hajj or ` Umrah must complete it as prescribed. Out of these two, there is no fixed date or month for ` Umrah which could be done anytime during a year. But, for Hajj, the months and the dates and timings of…
Read the full tafseer →214. In the state of consecration (ihram) the husband and wife are required to refrain not only from sexual intercourse but also from lascivious conversation (and, for that matter, from any act which either stems from or is likely to stimulate sexual desire - Ed) .
215. Even though all sinful acts are evil, the sinfulness of such acts is aggravated when they are committed in the state of consecration (ihram) .
216. In this state it is not even permitted to rebuke one's servant.
217. In the pre-Islamic Age of Ignorance it was considered an act of gross worldliness for anyone to carry…
Read the full tafseer →