Al-Baqara 2:196

Al-Baqara · from ayah 196

2:196

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ؕ— فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ ۚ— وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ ؕ— فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًی مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ۚ— فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ ۥ— فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ ۚ— فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ؕ— تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ؕ— ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۟۠وَاَتِمُّوا الۡحَجَّ وَالۡعُمۡرَةَ لِلّٰهِؕ فَاِنۡ اُحۡصِرۡتُمۡ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ وَلَا تَحۡلِقُوۡا رُءُوۡسَكُمۡ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡهَدۡىُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ مَّرِيۡضًا اَوۡ بِهٖۤ اَذًى مِّنۡ رَّاۡسِهٖ فَفِدۡيَةٌ مِّنۡ صِيَامٍ اَوۡ صَدَقَةٍ اَوۡ نُسُكٍۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَمَنۡ تَمَتَّعَ بِالۡعُمۡرَةِ اِلَى الۡحَجِّ فَمَا اسۡتَيۡسَرَ مِنَ الۡهَدۡىِ‌ۚ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِى الۡحَجِّ وَسَبۡعَةٍ اِذَا رَجَعۡتُمۡؕ تِلۡكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ  ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ لَّمۡ يَكُنۡ اَهۡلُهٗ حَاضِرِىۡ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ

اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And complete the Hajj and 'umrah for Allah. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity or sacrifice. And when you are secure, then whoever performs 'umrah [during the Hajj months] followed by Hajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during Hajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Haram. And fear Allah and know that Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 24 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:196

اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو، تو اُسے پورا کرو اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوا لے، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جاؤ)، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور ا گر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے یہ رعایت اُن لوگوں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لئے پورا کرو، ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو، اسے کرڈالو اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاه تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے) تو اس پر فدیہ ہے، خواه روزے رکھ لے، خواه صدقہ دے دے، خواه قربانی کرے پس جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے، پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے، جسے طاقت ہی نہ ہو وه تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں، یہ پورے دس ہوگئے۔ یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں، لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا پورا ادا کرو، ہاں اگر تمہیں روک دیا جائے تو جو قربانی میسر ہو (اللہ کے حضور پیش کردو)) اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ ہاں اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو روزوں یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دے۔ پھر جب تم امن حاصل کرلو جو شخص حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی اٹھائے وہ جو قربانی میسر ہو (اللہ کے حضور پیش کرے) ہاں اگر کسی کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے اور سات (روز) اس وقت جب تم (گھروں کو) لوٹ جاؤ۔ اس طرح یہ کل دس روزے ہوں گے یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا کرو پھر اگر تم روکے جاؤ تو قربانی بھیجو جو میسر آئے اور اپنے سر نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے پھر جو تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہے تو بدلے دے روزے یا خیرات یا قربانی، پھر جب تم اطمینان سے ہو تو جو حج سے عمرہ ملانے کا فائدہ اٹھائے اس پر قربانی ہے جیسی میسر آئے پھر جسے مقدور نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے اور سات جب اپنے گھر پلٹ کر جاؤ یہ پورے دس ہوئے یہ حکم اس کے لئے ہے جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور حج اور عمرہ (کے مناسک) اﷲ کے لئے مکمل کرو، پھر اگر تم (راستے میں) روک لئے جاؤ تو جو قربانی بھی میسر آئے (کرنے کے لئے بھیج دو) اور اپنے سروں کو اس وقت تک نہ منڈواؤ جب تک قربانی (کا جانور) اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے، پھر تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو (اس وجہ سے قبل از وقت سر منڈوالے) تو (اس کے) بدلے میں روزے (رکھے) یا صدقہ (دے) یا قربانی (کرے)، پھر جب تم اطمینان کی حالت میں ہو تو جو کوئی عمرہ کو حج کے ساتھ ملانے کا فائدہ اٹھائے تو جو بھی قربانی میّسر آئے (کر دے)، پھر جسے یہ بھی میّسر نہ ہو وہ تین دن کے روزے (زمانۂ) حج میں رکھے اور سات جب تم حج سے واپس لوٹو، یہ پورے دس (روزے) ہوئے، یہ (رعایت) اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال مسجدِ حرام کے پاس نہ رہتے ہوں (یعنی جو مکہ کا رہنے والا نہ ہو)، اور اﷲ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اﷲ سخت عذاب دینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے پورا کرو، پھر اگر تم روک دیے جاؤ تو قربانی میں سے جو میسر ہو (کرو) اور اپنے سروں کو نہ مونڈو، یہاں تک کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ پر پہنچ جائے، پھر تم میں سے جو بیمار ہو، یا اسے اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو روزے یا صدقے یا قربانی میں سے کوئی ایک فدیہ ہے۔ پھر جب تم امن میں ہوجاؤ تو تم میں سے جو عمرہ سے حج تک فائدہ اٹھائے تو قربانی میں سے جو میسر ہو (کرے) پھر جو نہ پائے تو تین دن کے روزے حج کے دوران اور سات دن کے اس وقت رکھے جب تم واپس جاؤ، یہ پورے دس ہیں۔ یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بیشک اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر اللہ (کی خوشنودی) کے لیے حج اور عمرہ (کی نیت کرو تو اسے) پورا کرو۔ اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی تمہیں میسر آسکے وہی کردو۔ اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر نہ پہنچ جائے۔ مگر جو شخص مریض ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو (تو سر منڈوا سکتا ہے بشرطیکہ) روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے اس کا فدیہ ادا کر دے۔ پھر جب تمہیں امن نصیب ہوجائے (اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ سکو) تو جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھانا چاہے وہ قربانی کرے جو اسے میسر آسکے۔ اور اگر میسر نہ آئے تو تین روزے تو ایام حج میں رکھے اور سات گھر واپس پہنچ کر، یہ کل دس روزے ہوجائیں گے۔ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو مسجد الحرام (مکہ) کے باشندے نہ ہوں۔ اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور حج وعمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ پس اگر تم گھر جاؤ تو جو ہدی میسر ہو وہ پیش کردو اور اپنے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس کے لیے روزے یا صدقہ یا قربانی کی شکل میں فدیہ ہے۔ جب اطمینان کی حالت ہو تو جو کوئی حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھائے تو وہ قربانی پیش کرے جو میسر آئے، جس کو میسر نہ آئے تو وہ تین دن کے روزے دورانِ حج میں رکھے اور سات دن کے روزے واپسی کے بعد، یہ کل دس دن ہوئے۔ یہ ان کے لیے ہے جن کا گھر جوارِ حرم میں نہ ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ سخت پاداش والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور پورا کرو تم حج وعمرہ کو اللہ کیلئے پھر اگر تم روک دیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو اسے اس کی بارگاہ اقدس میں پیش کردو اور اپنے سر منڈاؤ تم لوگ یہاں تک کہ پہنچ جائے وہ قربانی اپنی جگہ پھر اگر تم میں سے کوئی بیمار ہوجائے یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو جس کی بناء پر اسکو وقت سے پہلے ہی سر منڈوانا پڑھ جائے تو اس کے ذمے فدیہ و بدلہ ہے روزوں یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں تمہیں امن و سکون کی دولت نصیب ہوجائے تو جو کوئی فائدہ اٹھانا چاہے عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تو وہ ان دونوں عبادتوں کے جمع کرنے کے شکرانے کے طور پر جو قربانی اس سے ہو سکے ادا کرے مگر جس کو قربانی میسر نہ آئے تو وہ روزے رکھے تین حج کے دوران اور سات جب کہ تم لوٹ آؤ اپنے گھروں کو یہ پورے دس دن ہوگئے یہ رعایت و اجازت صرف ایسے لوگوں کے لئے ہے جو مسجد حرام کے آس پاس اور اس کے قرب وجوار کے رہنے والے نہ ہوں اور اللہ سے ڈرتے رہو ہر حال میں اور یقین جانو کہ اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

: اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر گھر جاؤ تو جو بھی قربانی کا جانور میسر ہو (اسے پیش کردو) ۔ اور جب تک قربانی اپنے مقام پر پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ۔ لیکن اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو وہ روزوں سے یاخیرات یا ذبح سے فدیہ دے دے لیکن جب تم حالت اطمینان ہو۔ تو پھر جو شخص عمرہ سے مستفید ہو اسے حج سے ملا کر تو جو قربانی بھی اسے میسر ہو وہ کر ڈالے اور جس کسی کو میسر ہی نہ آئے۔ وہ تین دن کے روزے زمانہ حج میں رکھ ڈالے اور سات روزے جب تم واپس ہو یہ پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ۔ اس کے لیے (درست) ہے جس کے اہل مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جانے رہو کہ اللہ سخت گرفت کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور حج اور عمرہ مکمل کرو اللہ کے لیے پھر اگر تمہیں گھیر لیا جائے تو جو کوئی بھی قربانی میسرّ ہو وہ پیش کر دو اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں امن حاصل ہو (اور تم سیدھے بیت اللہ پہنچ سکتے ہو) تو جو کوئی بھی فائدہ اٹھائے عمرے کا حج سے قبل تو وہ قربانی پیش کرے جو بھی اسے میسرّ ہو جس کو قربانی نہ ملے تو وہ تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے رکھو جبکہ تم واپس پہنچ جاؤ یہ کل دس (روزے) ہوں گے یہ (رعایت) اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کی خوشنودی کے لئے حج اور عمرہ مکمل کرو اور اگر کہیں گھیر لیے جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو اور اپنے سر نہ مونڈواؤ جب تک کہ قربانی اپنی قربان گاہ نہ پہنچ جائے مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (اور اس بناء پر اپنا سر نہ منڈوا سکے تو اسے چاہیے کہ) فدیہ کے طور پر روزے رکھے، صدقہ دے یا قربانی کرے پھر اگر تمہیں امن نصیب ہوجائے تو تم میں جو شخص حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے وہ حسب مقدور قربانی دے اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھرپہنچ کر رکھے، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

When you make up your mind to perform Hajj and `Umrah, accomplish these to please Allah. But if you are hemmed in somewhere, then offer to Allah whatever sacrifice you can afford. And do not shave your heads until the sacrifice reaches its place. But whoever among you is sick or has an ailment of the head and has his head shaved shall atone for this either by fasting or by alms-giving or by offering a sacrifice However, when you are secure (and you reach Makkah before the Hajj season begins), whoever takes advantage of this opportunity to perform `Umrah shall offer the sacrifice that he can afford. But if he cannot afford a sacrifice, he shall fast three days during the Hajj season and seven days after reaching home, that is, ten days in all. This concession is only for those whose homes are not near the Masjid Haram, refrain from transgressing these Commandments of Allah and know it well that Allah is very severe in punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Accomplish the Hajj and the 'Umra for Allah, but if you are restricted, then (sacrifice) whatever animal of offering is available, and do not shave your heads until the offering reaches its place. But if anyone of you is ill, or has some trouble with his scalp, then there is a ransom through fasting or alms giving. And when you are safe, then, whoever avails the advantage of the 'Umra along with the Hajj shall make an offering of whatever animal is available. However, any one who finds none shall fast for three days during Hajj, and for seven days when you return; thus they are ten in all. This is for him whose family folk are not residents of Al-Masjid-ul-Haram. Fear Allah and be aware that Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Accomplish the Hajj and the Umra for Allah, but if you are restricted, then (sacrifice) whatever animal of offering is available, and do not shave your heads until the offering reaches its place. But if anyone of you is ill, or has some trouble with his scalp, then there is a ransom through fasting or alms giving. And when you are safe, then, whoever avails the advantage of the Umra along with the Hajj shall make an offering of whatever animal is available. However, any one who finds none shall fast for three days during Hajj, and for seven days when you return; thus they are ten in all. This is for him whose family folk are not residents of Al-Masjid-ul-Haram. Fear Allah and be aware that Allah is severe in punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And complete Hajj and `Umrah for Allah. But if you are prevented, then sacrifice a Hady that you can afford, and do not shave your heads until the Hady reaches the place of sacrifice. And whosoever of you is ill or has an ailment on his scalp (necessitating shaving), he must pay a Fidyah (ransom) of either fasting or giving Sadaqah or a sacrifice. Then if you are in safety and whosoever performs the `Umrah (in the months of Hajj), before (performing) the Hajj, he must slaughter a Hady such as he can afford, but if he cannot (afford it), he should fast for three days during Hajj and seven days after his return, making ten days in all. This is for him whose family is not present at Al-Masjid Al-Haram (i.e., non-resident of Makkah). And fear Allah much and know that Allah is severe in punishment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Perform the pilgrimage and the visit (to Makka) for Allah. And if ye are prevented, then send such gifts as can be obtained with ease, and shave not your heads until the gifts have reached their destination. And whoever among you is sick or hath an ailment of the head must pay a ransom of fasting or almsgiving or offering. And if ye are in safety, then whosoever contenteth himself with the visit for the pilgrimage (shall give) such gifts as can be had with ease. And whosoever cannot find (such gifts), then a fast of three days while on the pilgrimage, and of seven when ye have returned; that is, ten in all. That is for him whoso folk are not present at the Inviolable Place of Worship. Observe your duty to Allah, and know that Allah is severe in punishment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And complete the Hajj and 'umrah for Allah. But if you are prevented, then [offer] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And do not shave your heads until the sacrificial animal has reached its place of slaughter. And whoever among you is ill or has an ailment of the head [making shaving necessary must offer] a ransom of fasting [three days] or charity or sacrifice. And when you are secure, then whoever performs 'umrah [during the Hajj months] followed by Hajj [offers] what can be obtained with ease of sacrificial animals. And whoever cannot find [or afford such an animal] - then a fast of three days during Hajj and of seven when you have returned [home]. Those are ten complete [days]. This is for those whose family is not in the area of al-Masjid al-Haram. And fear Allah and know that Allah is severe in penalty.

— Saheeh International

Complete the hajj and umrah (two parts of the rituals of pilgrimage to Makka) in obedience to God. If you are prevented from completing the duty of hajj, offer whatever sacrifice is possible and do not shave your heads before the sacrificial animal is delivered to the prescribed place. If one of you is ill or is suffering because of some ailment in your head, you must redeem the shaving of the head by fasting, or paying money, or offering a sheep as a sacrifice. When all is well with you and you want to complete the umrah in the hajj season, offer whatever sacrifice is possible. If you do not find an animal, you have to fast for three days during the days of the pilgrimage rituals and seven days at home to complete the required ten fasting days. This rule is for those who live beyond (a distance of twelve miles from) the Sacred Mosque in Mecca. Have fear of God and know that He is stern in His retribution.

— Muhammad Sarwar

And accomplish the pilgrimage and the visit for Allah, but if, you are prevented, (send) whatever offering is easy to obtain, and do not shave your heads until the offering reaches its destination; but whoever among you is sick or has an ailment of the head, he (should effect) a compensation by fasting or alms or sacrificing, then when you are secure, whoever profits by combining the visit with the pilgrimage (should take) what offering is easy to obtain; but he who cannot find (any offering) should fast for three days during the pilgrimage and for seven days when you return; these (make) ten (days) complete; this is for him whose family is not present in the Sacred Mosque, and be careful (of your duty) to Allah, and know that Allah is severe in requiting (evil).

— Muhammad Habib Shakir

And fulfil the pilgrimage and 'Umra for Allah. And if ye be besieged, offer whatsoever offering be easy, and shave not Your heads, until the offering reacheth its destination. Then whosoever of you sick or hath hurt in his head, for him is a ransom by fasting or alms or a rite. Then when ye are secure, whosoever combinoth 'Umra with the pilgrimage, for him is whatsoever offering be easy. And whosoever cannot afford then for him is a fast of three days during the pilgrimage and of seven when ye return these are ten days complete. That is for him whose family dwell not near the Sacred Mosque. And fear Allah, and know that verily Allah is severe in chastising.

— Abdul Majid Daryabadi

And complete the Hajj or 'umra in the service of Allah. But if ye are prevented (From completing it), send an offering for sacrifice, such as ye may find, and do not shave your heads until the offering reaches the place of sacrifice. And if any of you is ill, or has an ailment in his scalp, (Necessitating shaving), (He should) in compensation either fast, or feed the poor, or offer sacrifice; and when ye are in peaceful conditions (again), if any one wishes to continue the 'umra on to the hajj, He must make an offering, such as he can afford, but if he cannot afford it, He should fast three days during the hajj and seven days on his return, Making ten days in all. This is for those whose household is not in (the precincts of) the Sacred Mosque. And fear Allah, and know that Allah Is strict in punishment.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:196

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حج اور عمرہ کے مسائل اوپر چونکہ روزوں کا ذکر ہوا تھا پھر جہاد کا بیان ہوا اب حج کا تذکرہ ہو رہا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو پورا کرو، ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرنے کے بعد پورا کرنا چاہئے، تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ حج و عمرے کو شروع کرنے کے بعد ان کا پورا کرنا لازم ہے گو عمرے کے واجب ہونے اور مستحب ہونے میں علماء کے دو قول ہیں جنہیں ہم نے پوری طرح کتاب الاحکام میں بیان کردیا ہے فللہ الحمد والمنۃ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ پورا کرنا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھو حضرت سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں کہ ان کا تمام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 209 یعنی اگر راستے میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے، جس کی وجہ سے آگے جانا غیر ممکن ہو اور مجبوراً رک جانا پڑے، تو اونٹ، گائے، بکری میں سے جو جانور بھی میسر ہو، اللہ کے لیے قربان کردو۔ سورة الْبَقَرَة 210 اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد حرم ہے، یعنی اگر آدمی راستہ میں رک جانے پر مجبور ہو، تو اپنی قربانی کا جانور یا اس کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے۔ اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک جہاں آدمی گھر گیا ہو، وہیں قربانی کردینا مراد ہے۔ سر مونڈنے سے مراد حجامت ہے۔ مطلب یہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر گیارہواں حکم متعلق حج وعمرہ اور (جب حج یا عمرہ کرنا ہو تو اس) حج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے (راضی کرنے کے) واسطے پورا پورا ادا کیا کرو (کہ اعمال وآداب بھی سب بجا لاؤ اور نیت بھی خالص ثواب ہی کی ہو) پھر اگر (کسی دشمن کی جانب سے یا کسی مرض کے سبب سے حج وعمرہ کے پورا کرنے سے) روک دیئے جاؤ تو (اس حالت میں یہ حکم ہے کہ) قربانی کا جانور جو کچھ میسر ہو (ذبح کرے اور حج وعمرہ کی جو وضع اختیار کر رکھی تھی موقوف کرے اس کو احرام کھولنا کہتے ہیں جس کا طریقہ شرع میں سر منڈانا ہے اور بال کٹا دینے کا بھی یہی اثر ہے) اور (یہ نہیں کہ فورا روک ٹوک کے ساتھ ہی تم کو احرام کھولنا درست ہوجاوے بلکہ) اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عمرہ کی نوعیت : جس طرح فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں اور نوافل ہیں جن سے اصل نماز کے لیے طبیعت میں بیداری اور آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو ان سے اس کسر کا جبر بھی ہوتا ہے اسی طرح عمرہ کی نوعیت بھی حج کے لیے ایک ریہرسل کی ہے۔ اس سے حج کے لیے طبیعت میں آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور بعض حالات میں اس کے کسر کا جبر بھی ہوتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ لفظ تعمیر، رونق اور آبادی کے مضمون طرف اشارہ کرتا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے گھر کی رونق بھی ہے اور دلوں کی زندگی اور بیداری بھی۔ اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

196۔ 1 یعنی حج اور عمرے کا احرام باندھ لو تو پھر اسکا پورا کرنا ضروری ہے چاہے نفلی حج وعمرہ ہو (امیر التفسیر) 196۔ 2 اگر راستے میں دشمن یا شدید بیماری کی وجہ سے رکاوٹ ہوجائے تو ایک جانور بکری گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ جو بھی میسر ہو وہیں ذبح کر کے سر منڈوا لو اور حلال ہوجاؤ جیسے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے وہیں حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کیں تھیں اور حدیبیہ حرم سے باہر ہے (فتح القدیر) اور آئندہ سال اس کی قضا دو جیسے نبی ﷺ نے 6 ہجری والے عمرے کی قضا 7 ہجری میں دی۔ 196۔ 3 یعنی اس کو ایسی تکلیف ہوجائے کہ سر کے بال منڈوانے پڑجائیں تو اس کا فدیہ ضروری ہے حدیث کی رو سے ایسا شخص 6 مسکینوں کو کھانا کھلا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

126: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو جب تک حج یا عمرے کے اعمال پورے نہ ہوجائیں احرام کھولنا جائز نہیں، البتہ کوئی ایسی مجبوری پیش آسکتی ہے کہ احرام باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے ؛ چنانچہ خود آنحضرت ﷺ کو یہ صورت پیش آئی کہ آپ اور آپ کے صحابہ عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے ؛ لیکن جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آگے بڑھنے سے روک دیا، اسی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، اور ان میں ایسی صورت حال کا یہ حل بتایا گیا کہ ایسی صورت میں قربانی کرکے احرام کھولا جاسکتا ہے، امام ابوحنیفہ ؒ کے مسلک میں یہ قربانی حدود حرم میں ہونی چاہیے، جیسا کے اگلے جملے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ہمارے پاس آیات حج کی تاریخ نزول کا کوئی صحیح علم نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں آیا ہے کہ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر ہو ۔ “ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی ، لہٰذا اسلام میں حج کب فرض ہوا اس کی صحیح تاریخ بھی ہمیں معلوم نہیں ، اس میں اختلاف رائے ہے کہ حج فرض کس آیت سے ہوا ، اس آیت سے یعنی وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو یا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا ” جن لوگوں کے پاس زاد راہ کی استطاعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 حج کے ضمن میں جہاد کا ذکر جو مناسب تھا اس کو بیان فرما کر اب احکام حج وعمرہ بتلائے جاتے ہیں۔ 9 مطلب یہ ہے کہ جب کسی نے حج یا عمرہ شروع کیا یعنی اس کا احرام باندھا تو اس کو پورا کرنا لازم ہوگیا۔ بیچ میں چھوڑ بیٹھے اور احرام سے نکل جائے یہ نہیں ہوسکتا لیکن اگر کوئی دشمن یا مرض کی وجہ سے بیچ ہی میں رک گیا اور حج وعمرہ نہیں کرسکتا تو اس کے ذمہ پر ہے قربانی جو اس کو میسر آئے جس کا ادنیٰ مرتبہ ایک بکری ہے اس قربانی کو کسی کے ہاتھ مکہ کو بھیجے اور یہ مقرر کر دے کہ فلاں روز اس کو حرم مکہ میں پہنچ کر ذبح کردینا اور جب اطمینان ہوجائے کہ اب اپنے ٹھکانے یعنی حرم میں پہنچ کر اس کی قربانی ہوچکی ہوگی اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 196 وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط۔ عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا ‘ لیکن حج مکمل تب ہوگا جب طواف بھی ہوگا ‘ وقوف عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کرلے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے ‘ کوئی کمی نہ رہے۔ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ یعنی روک دیا جائے ‘ جیسا کہ 6 ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ج۔ یہ دم احصار کہلاتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

260 مسور بن مخرمہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے زمانے میں نکلے۔ بدیل بن ورقاء الخزاعی آیا اور کہنے لگا : وہ (قریش) آپ سے لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہم لڑنے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اٹھو، قربانی کرو اور اپنے سر منڈوا دو ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کی۔ پھر حجام کو بلایا۔ اس نے آپ ﷺ کا سر مونڈا۔ (بخاری۔ کتاب الشروط، بابالشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اھل الحرب) 2۔ ضباعہ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرا حج کرنے کا ارادہ ہے، لیکن میں بیمار ہوں، ایسی صورت میں میں کیا کروں ؟ آپ نے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

715 ۔ یعنی جب یہ عبادتیں بجالاؤ تو اللہ کی رضاجوئی ہی کے لیے بجالاؤ۔ اور اخلاص نیت کے ساتھ اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں کے ساتھ، تمام ممنوعات سے محترزرہ کر۔ یہ نہ ہو کہ کسی طرح الٹے سیدھے ادا کر کے ان عبادتوں کو بھی ناقص وفاسد بنادو۔ اے افعلوا الحج والعمرۃ علی نعت الکمال والتمام (کبیر) وظاھر السباق باکمال افعالھمابعد الشروع فیھما (ابن کثیر) اے ادوھما تامین بشرائطھماوفرائضھما لوجہ اللہ تعالیٰ بلاتوان ولا نقصان (مدارک) حضرات صحابہ ؓ وتابعین رحمہم اللہ سے متعدد تفسیرین نقل ہوئی ہیں۔ لیکن سب سے جامع تفسیر مقاتل تابعی کی ہے کہ اس درمیان میں کوئی ایسی چیز نہ کرو کہ جو ان عبادتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

حج کی فرضیت : جمہور کے قول کے مطابق حج کی فرضیت ہجرت کے تیسرے سال یعنی غزوہ احد کے سال سورة آل عمران کی اس آیت سے ہوئی وَللہِ عَلَی النَّاس حِجُّ الْبیْتِ الخ۔ باتفاق مفسرین یہ آیت واقعہ حدیبیہ 6 ھ میں نازل ہوئی اس آیت کا مقصد حج کی فرضیت کو بتلانا نہیں اس لئے کہ حج تو پہلے ہی فرض ہوچکا ہے اس آیت کا مقصد حج کے کچھ احکام بیان کرنا ہے۔ اَتمّوا الحج والعمرۃَ للہ، یعنی اگر راستہ میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے جس کی وجہ سے آگے جانا ممکن نہ رہے اور مجبوراً رک جانا پڑے تو اونٹ، گائے، بکری، میں سے جو جانور بھی میسر ہو اللہ کے لئے قربانی کردو اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ ( اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے) یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حج اور عمرہ اور ان کا پورا کرنا اور حج کو عمرہ سے نسخ نہ کرنا جملہ امور واجب ہیں۔ حج پر تو اجماع ہوچکا ہے کہ حج فرض عین محکم غیر قابل نسخ ہے اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً (اور اللہ کا فرض ہے لوگوں پر حج کرنا اس کا گھر کا جس کو مقدور ہو اس تک پہنچنے کا) اور رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اوّل گواہی دینا اس امر کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

196: تم حج یا عمرہ سے کسی بیماری یا دشمن کی وجہ سے روک دیے جاؤ تو بکری، گائے یا اونٹ میں سے، جس قربانی میں تمہارے لیے آسمانی ہو احرام کے چھوڑنے پر واجب ہے اور اس رکنے کے عرصہ میں اپنے سروں کو نہ منڈواؤ جب تک کہ جو قربانی روانہ کی ہے وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام پر نہ چلی جائے اور جو اس رکنے کی مدت میں اتنے زمانہ تک نہ ٹھہر سکتا ہوں تو وہ قربانی کا جانور کی جگہ پر روانہ کرنے سے پہلے ہی اپنے گھر چلا جائے اور جس کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی ہوں وہ اپنے سر کو منڈوائے، یہ آیت کریمہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی تھیں، اس لیے انہوں نے حرم ہی میں اپنا سر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا ہے : ”جو شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اسے پورا کرنے سے پہلے حلال ہو۔ حج کا پورا کرنا یہ ہے کہ یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور طواف زیارت کرے، تو وہ اپنے احرام سے پوری طرح حلال ہوگیا اور عمرے کا پورا کرنا یہ ہے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلے تو حلال ہوگیا۔“ [ طبری : 2؍213، ح : 3194 ] یعنی حج یا عمرہ فرض ہو یا نفل، احرام باندھ لینے کے بعد پورا کرنا ضروری ہے۔ آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کی خاطر حج اور عمرہ کے تمام ارکان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 196 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتموا الحج والعمرۃ للہ۔ اس میں سات مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: علماء کا حج وعمرہ اللہ کے لئے مکمل کرنے کے مرادی معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : حج و عمرہکا اللہ کی رضا کے لئے ادا کرنا ہے، جیسے ارشاد ہے : فأتمھن (انہیں ادا کیا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتموا الصیام الی الیل (البقرہ :187) پھر تم رات تک روزہ رکھو، یہ مفہوم ان علماء کے نزدیک ہے جنہوں نے عمرہ کو واجب کیا ہے کہ آگے آئے گا۔ اور جنہوں نے عمرہ کو واجب نہیں کیا انہوں نے فرمایا : حج اور عمرہ شروع کرنے کے بعد انہیں مکمل کرنا مراد ہے جس نے عبادر (حج یا عمرہ) کا احرام باندھا اس پر اس کو مکمل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے دلائل میں، ابن عبد البراء نے التمہید میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ (اس وقت) جعرانہ میں تھے وہ آدمی جبہ پہنے ہوئے تھا جس پر خوشبو کا اثر تھا۔ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے میں اپنا عمرہ کیسے ادا کریں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” واتموا الحج والعمرۃ للہ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا میں یہاں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنا جبہ اتار دے اور خوشبو کے اثر کو دھو ڈال پھر جیسے تو اپنے حج میں افعال کرتا ہے۔ ویسے ہی اپنے عمرہ میں (افعال) کر۔ نزول وحی کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَتِمُّوا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ : حج کو اور عمرے کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ : پھر اگر تم لوگ روک دیے جائو ] [ فَمَا : تو جو ] [ اسْتَیْسَرَ : آسان ہو ] [ مِنَ الْہَدْیِ : قربانی کے جانور میں سے وہ (واجب ہے تم پر) ] [ وَلاَ تَحْلِقُوْا : اور تم لوگ مت مونڈو ] [ رُئُ وْسَکُمْ : اپنے سروں کو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَبْلُغَ الْہَدْیُ : پہنچے قربانی کا جانور ] [ مَحِلَّہٗ : اپنی منزل پر ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ کَانَ : ہو ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ مَّرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ بِہٖٓ اَذًی : یا اس کو تکلیف ہو ] [ مِّنْ رَّاْسِہٖ : اپنے سر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حج اور عمرہ کے احکام جہاد کا حکم بیان فرمانے کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان کیے جاتے ہیں۔ جو شخص مکہ معظمہ تک سواری پر آ جاسکتا ہو اور سفر کے اخراجات اس کے پاس ہوں اور بال بچوں کے لیے ضروری اخراجات بھی موجود ہوں اس پر حج کرنا فرض ہے اور حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے اس سے زیادہ جو کوئی شخص حج کرے گا تو وہ نفل ہوگا۔ حج کے کام آٹھ ذوالحجہ سے شروع ہوتے ہیں اور بارہ تیرہ ذوالحجہ تک ختم ہوجاتے ہیں۔ البتہ طواف و داع اس وقت ہوگا جب مکہ معظمہ سے واپس آنے لگیں گے اگرچہ اس سے پہلے بھی جائز ہے (بشرطیکہ اس سے پہلے طوازیارت کرچکا ہو) چونکہ افعال حج کے لیے ایام مقرر ہیں اس لیے حج میں یہ بات نہیں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم یازدہم متعلق حج وعمرہ۔ قال تعالی، واتموالحج والعمرۃ للہ۔۔ الی۔۔ العقاب۔ ماہ صیام کے بعد حج کے مہینے شروع ہوتے ہیں اس لیے روزوں کے بعد حج کا ذکر فرمایا اور پھر حج کی مناسبت سے حج کے مہینوں میں قتل و قتال کا حکم ذکر فرمایا اب پھر حج اور عمرہ کے بقیہ احکام کو بیان فرماتے ہیں نیز حج مبرور عمرہ مبروہ اعلی ترین اعمال بر میں سے ہے اور انفاق فی سبیل اللہ تو احسان الی العباد کا بہترین محل ہے جس کا پہلی آیت میں ذکر ہوچکا ہے، ولاتلقوا بایدکم۔۔ الی۔۔ المحسنین۔ آیت۔ چناچہ فرماتے ہیں اور حج اور عمرہ کو خاص اللہ کے لیے پورا کرو نہ تو شروع کرکے درمیان میں چھوڑو اور نہ حج کا احرام باندھ کر اس کو فسخ کرکے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

371 ربط۔ جہاد اور انفاق کے بعد اب یہاں سے دوسرے امورمصلحہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ امور مصلحہ کا ذکر ساتھ ساتھ چل رہا ہے تاکہ باطن کی اصلح ہوتی رہے۔ اور خدا کے احکام کی تعمیل طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ جہاد کے بعد حج کا ذکر کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم میرے گھر میں حاضر ہو کر مجھ سے دعا مانگو اور مدد کی درخواست کرو میں تمہاری مدد کروں گا اور مشرکین پر تم کو غلبہ دوں گا۔ اور تمہیں قیامت تک قائم رکھوں گا۔ کیونکہ بیت اللہ کی حاضری لوگوں کے لیے قیام کا باعث ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ جَعَلَ اللہُ الْکَعْبةَ الْبَیْتَ الْحرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ (مائدہ ع 12) علامہ نسفی نے لکھا ہے کہ اگر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلے نئے چاند کے متعلق ذکر آچکا ہے کہ چاند اوقات اور خاص طور پر حج کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا قمری مہینے کی تقویم ضروری ہے۔ حج اور اس کے ساتھ جہاد کا بیان بھی آ گیا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کی غرض وغایت بھی آگئی ہے کہ اس سے مقصود فتنہ و فساد ک بیخ کنی ہے۔ جہاد ہی کے ضمن میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ اس کے بغیر جہاد کی تکمیل ممکن نہیں اور اگر جہاد کا جذبہ ختم ہوجائے گا تو دشمن غالب آجائے گا۔ حرمت والے مہینوں کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ کون کونسے مہینے ہیں اور پھر ان میں قتال کے کیا احکام ہیں۔ مسلمانوں کو ان مہینوں کا پورا پورا احترام کرنے کا حکم دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ۝ 0 ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ۝ 0 ۚ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْہَدْيُ مَحِلَّہٗ۝ 0 ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًى مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْيَۃٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُكٍ۝ 0 ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ۝ 0 ۪ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ۝ 0 ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَۃِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ۝ 0 ۭ تِلْكَ عَشَرَۃٌ كَامِلَۃٌ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۝…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : اتموا امر انتم اس کا فاعل الحج والعمرہ مفعول للّٰہ کالام متعلق ہے التوا سے فان احصرتم شرط فما موضع رفع میں ہے بسبب ابتداء کے اور خبر محذوف ہے فعلیکم یہ تمام جملہ جواب شرط ہے محلۃ ظرف مکان اور زمان دونوں ہوسکتا ہے فمن کان الخ شرط ففدیۃ الخ جواب فاذا موضع نصب میں ہے فمن تمتع شرط موضع ابتداء میں فَمَااستیسر جواب پس فمن اور اس کا جواب جملہ شرطیہ جواب ہے۔ اذا کا فمن شرط فصیام الخ جملہ جواب۔ تفسیر : اگلی آیت میں جہاد و قتال کا حکم نازل ہوا تھا تو اس کی شان نزول میں آپ جان چکے ہیں کہ یہ حکم جب نازل ہوا تھا کہ جب آنحضرت (علیہ السلام) حج وعمرہ کے لیے مکہ میں آنا چاہتے تھے۔ کفار نے بمقام حدیبیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرََ مِنَ الْھَدْیِ ج وَلَا تَحْلِقُوْارُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّـہٗ ط فَمَنْ کَانَ مِنْـکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قفۃ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِالْحَرَامِ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : چاند کے ساتھ روزے اور حج کا خصوصی تعلق ہے۔ لہٰذا حج کے مسائل کی تفصیل اور ان کے درمیان دور جہالت کی بدعات اور رسومات کا بیان ہوگا۔ حج عبادات کا مرقع ہے۔ اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی مقررہ ایّام میں متعیّن اور مقدّس مقامات پر ادا ہوتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت، عبادت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع و عریض پلیٹ فارم ہے۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات و معاملات کا جائزہ لینے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی وبیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار اور حالات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

196۔ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُ ْوسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہ ‘ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہ ‘ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 196۔ : (آیت)” واتموا الحج والعمرۃ للہ “ حضرت علقمہ (رح) اور ابراہیم نخعی (رح) نے (آیت)” واتموالحج والعمرۃ للہ “ پڑھا حج اور عمرہ کے اتمام سے متعلق انہوں نے اختلاف کیا ، پس بعض نے کہا کہ ان دونوں کو احکام اور حدود اور سنتوں کی رو سے تمام کرے اور یہ قول ابن عباس ؓ اور علقمہ (رح) اور ابراہیم نخعی (رح) اور مجاہد (رح) کا ہے ارکان حج پانچ ہیں ۔ (1) احرام (2) عرفات میں ٹھہرنا (3) طواف زیارت (4) سعی (صفاومروہ میں دوڑنا (5) سر کا منڈانایا بال کتروانا۔ حج کے احرام سے باہر نکلنے یعنی احرام کھولنے اور حلال ہونے کی دو قسمیں ہیں اور احرام کھولنے کے تین اسباب ہیں ۔ (1) دسویں ذوالحجہ (یوم النحر) کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا حج اسلام کا ایک بڑا رکن ہے حج کی فضیلت میں اور اس وعید کی تاکید میں کہ جس کسی کو قدرت ہو اور وقت پر حج کو نہ جاوے بہت سی حدیثیں وار ہوئی ہیں اور سورة آل عمران میں یہ آیت { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حَجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے حج فرض ہوا ہے اور اس آیت میں تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے ارکان جو پانچ ہیں احرام عرفات میں جا کر ٹھہرنے کے سوا اور بھی باقی کے چار رکن ہیں سیوطی نے لباب النقول فی اسبابالنزول 1 میں تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے یہ جو کہا ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ سے عمرہ کا سوال کرنے آیا تھا۔ اس کے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ’ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ’ اور پورا کرو حج اور عمرے کو “ سے متعدد امور پر استدلال کیا جاتا ہے۔ (1) حج اور عمرے کا وجوب اور ان کی فرضیت (2) حج اور عمرے کو ان ارکان و واجبات کے ساتھ پورا کرنا جن کی طرف رسول اللہ ﷺ کا فعل اور آپ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے ” اپنے مناسب حج مجھ سے اخذ کرو “ 1 ؂ (3) اس آیت کریمہ سے ان علمئا کی تائید ہوتی ہے جو عمرے کو واجب قرار دیتے ہیں۔ (4) حج اور عمرہ کو، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہوں جب شروع کردیا جائے تو ان کا تمام واجب ہے۔ (5) حج اور عمرے کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے اور یہ چیز حج اور عمرے کے لازمی افعال سے قدر زائد ہے۔ (6) اس میں حج اور عمرے کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 194–196

آیا عمرہ فرض ہے یا نقل ؟ ارشاد باری ہے (واتموا الحج والعمرۃ للہ، اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو) اس آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت علی ، حضرت عمر، سعید بن جبیر اور طائوس سے مروی ہے کہ حج اور عمرہ کے اتمام کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے دونوں کا احرام باندھ لو۔ مجاہد کا قول ہے کہ اتمام کا مفہمو یہ ہے کہ حج اور عمرہ میں داخل ہونے کے بعد ان دونوں کے آخری افعال تک ادا کئے جائیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء کا قول ہے۔ اللہ کے لئے ان کے تمام افعال و ارکان کو قائم کرنا اس لئے کہ یہ دونوں واجب ہیں۔ گویا ان دونوں نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس میں ان دونوں چیزوں کی ادائیگی کا حکم ہے گویا یوں فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

540 حج اور عمرے کے اتمام کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کیلئے پورا کرو تم لوگ حج اور عمرہ کو : یعنی ان دونوں کے احکام و افعال کو مکمل کروا اور ان کی ادائیگی اور تکمیل سے صرف اس کی رضا مقصود ہو۔ ریاء و نمود اور نمائش و دکھلاوے وغیرہ کا کوئی شائبہ بھی اس میں شامل نہ ہو۔ حج وعمرہ کی عبادت چونکہ ایک عظیم الشان اور منفرد نوعیت کی عبادت ہے اور اس میں خاص مظاہر اور اعمال بھی پائے جاتے ہیں، جن کی بناء پر اس میں ریاء و نمود کا خطرہ و خدشہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی آمیزش نہ ہوجائے اور وہ ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

حج اور اسکے مسائل تشریح : حج : اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ جو شخص مالی و جسمانی لحاظ سے حج کی استطاعت رکھتا ہو اس پر زندگی میں ایک دفعہ حج فرض ہے ورنہ وہ گناہ گار ہوگا۔ حج مساوات اور یکجہتی کا سبق دیتا ہے۔ ایک ہی لباس میں سب لوگ ایک ہی طریقہ سے اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور ارکان حج ادا کرتے ہیں۔ حج کے دوران احرام باندھنا ضروری ہے۔ سر منڈانا، ناخن تراشنا، شکار کرنا، خوشبو لگانا، میاں بیوی کا آپس میں تعلق قائم کرنا، آرائش کرنا یہ سب منع ہوتے ہیں۔ تمام حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، حجرا سود کو بوسہ دیتے ہیں، آب زم زم پی کر دعائیں کرتے ہیں، صفاء مر وہ کے درمیان سعی کرتے ہیں، میدان عرفات میں جمع ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–196

آیات 189- 196 اسرارو معارف یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔ یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔ عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا : اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 195–196

ف 6 یعنی ان کے ارکان پوری طرح ادا کرو حج تو بلا اتفاق فرض ہے اور ارکان اسلام میں سے ہے مگر عمرہ کے وجوب میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک وجب ہے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتاے اور بعض سینیت کے قائل ہیں احادیث میں دونوں طرح کا ثبوت ملتا ہے مگر احرام باندھ لینے کے بعد اس کا اتمام سب کے نزدیک واجب ہے۔ (شوکانی)7 روکے جاؤ یعنی خانہ کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو ایک ہدی ( اونٹ۔ گائے۔ یا بکری) حسب ماتیسر جہاں روکے جاؤ ذبح کر کے احرام کھولاؤ اور آئندہ سال حج یا عمرہ کرلو۔8 اس کا عطف اتموالحج پر ہے اور یہ حکم حالت امن کے ساتھ مخصوص ہے یعنی حالت امن میں اس وقت تک سزا سر نہ منڈو تو (احرام۔ نہ کھو لو جب تک کہ حج وعمرہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:196) اتموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتمام (افعال) مصدر تم پورا کرو۔ الحج۔ حج یحج (باب نصر) مصدر، اصل لعنت میں حج قصد زیارت کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شرح میں حج کی نیت سے اول احرام باندھ کر طواف اور وقوف کو اوقات مخصوصہ میں ادا کرنا حج کہلاتا ہے۔ العمرۃ۔ عمرہ زیادت بیت اللہ کے سلسلہ میں ایک مخصوص عبادت کا نام ہے ۔ جو حج کی طرح خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ عمر بھر میں ایک دفعہ اس کا بجا لانا بشرط استطاعت سنت مؤکدہ ہے۔ شاہ عبد القادری دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ : عمرے کا طریق یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے۔ اور صفا مروہ کے بیچ دوڑے پھر حجامت کراکر احرام اتارے۔ فان احصرتم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 196 احصرتم (تم روک دئیے گئے ۔ تم روک لئے جاؤ) ۔ استیسر (جو میسر ہو، جو سہولت ہو) ۔ الھدی (قربانی کا جانور) ۔ لا تحلقوا (تم نہ منڈواؤ) ۔ رؤس (راس، سر) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ اذی (کوئی تکلیف) ۔ نسک (ذبح، قربانی ) ۔ امنتم (تم اطمینان سے ہو۔ امن میں ہو) ۔ لم یجد (نہیں پایا) ۔ ثلثۃ ایام (تین دن) ۔ سبعۃ (سات) ۔ رجعتم (تم لوٹے) ۔ عشرۃ کاملۃ (مکمل دس) ۔ لم یکن (نہیں ہے ) ۔ اھلہ (اس کے گھر والے ) ۔ حاضری (رہنے والے ، موجود) ۔ شدید العقاب (سخت عذاب) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 اس آیت میں سب سے پہلے یہ فرمایا کہ (1) اے مومنو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا۔ حج اسلام کا بڑا رکن ہے۔ اس آیت میں یہ تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے۔ وہ ارکان یہ ہیں : احرام باندھے۔ پھر عرفہ کے دن عرفات میں حاضر ہو، پھر وہاں سے چلے تو رات کو رہے مشعر الحرام میں۔ پھر عید کی صبح منیٰ میں پہنچ کر کنکر پھینکے اور حجامت کرا کر احرام اتارے، پھر مکہ میں جاکر طواف کعبہ کرے پھر صفا اور مروہ کے بیچ دوڑے، پھر منیٰ میں آئے تین دن رہے۔ ہر روز کنکر پھینکے پھر مکہ میں جاکر طواف رخصت کرے اور چلا جاوے۔ اور عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے اور صفا ومروہ کے بیچ دوڑے، پھر حجامت کرا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[131] اور وہ ٹھکانا حرم ہے مطلب یہ ہے قربانی کے جانور یا اس کی قیمت کسی کے ہاتھ مکہ بھیج دے اور یہ مقرر کردے کہ فلاں روز اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے۔ [132] نبی ﷺ نے اس صورت میں تین دن کے روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ [133] یعنی زمانہ حج میں ایک احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور پھر دوسرے احرام سے حج کرلیا جائے۔ دونوں احراموں کی درمیانی مدت میں حالت احرام کے ممنوعات سے پوری طرح تمتع (فائدہ اٹھانا) کیا جاسکتا ہے اس طرح کے حج کو حج تمتع کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

آداب حج : (ف 1) حج فرض ہے اور عمرہ محض تطوع ، عمرہ دراصل آداب زیارت کا نام ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ حج وعمرہ جب شروع کیا جائے تو پھر اس میں شروط ولوازم کا خیال رکھا جائے اور کوئی بات ایسی نہ اختیار کی جائے جس سے نقص لازم آئے اور اجر وثواب میں کمی ہو ۔ اگر راستے میں کسی سبب سے زائر یا حاجی رک جائے اور آگے نہ جاسکے تو وہیں احرام کھول دے اور میسر قربانی کر دے ۔ احصار میں چونکہ لغۃ اختلاف ہے ، اس لئے قضا میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک احصار عام ہے ، مرض اور دشمن دونوں اس میں داخل ہیں اور بعض کے نزدیک صرف دشمن ، بہرحال جب لغوی معنوں میں وسعت موجود ہے تو پھر اس کو قائم رکھنا چاہئے اس کے بعد ایک عام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اور جب تم حج اور اسی طرح عمرے کی نیت کرلو تو حج اور عمرے کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے پوری طرح ادا کیا کرو پھر اگر تم سو اتفاق سے کسی دشمن یا کسی مرض یا خرچ کی کمی کے باعث روک دئیے جائو اور حج یا عمرہ بجا نہ لا سکو تو تم کو جو جانور قربانی کا میسر ہو اس کے قربانی کرکے احرام ختم کردو اور حلال ہوجائو لیکن یہ خیال رکھو کہ جب تک تمہاری قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر نہ پہونچ جائے یعنی کوئی شخص اس کو حرام میں لیجا کر ذبح نہ کردے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈوائو اور احرام سے نہ نکلو مگر ہاں کوئی ایسا بیمار ہو کہ جس میں سر منڈانا ضروری ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو مثلاً…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 196–197

ف 1۔ 1 عورت کو سر منڈانا حرام ہے وہ صرف ایک ایک انگل بال کاٹ لے۔ 2۔ حج تین طرح کا ہوتا ہے افراد کہ ایام حج میں صرف حج کیا جائے۔ اور تمتع اور قرآن جن میں ایام حج میں عمرہ اور حج دونوں کیے جاویں افراد ہر شخص کو جائز ہے اور تمتع اور قرآن صرف ان لوگوں کو جائز ہے جو میقات کے حدود سے باہر رہتے ہیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے تمتع اور قرآن کی اجازت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج ادا کرنا : 335: مسلمانوں کو مضبوط اور طاقتور سپاہی بنانے کے لئے حج وعمرہ کا حکم دیا جاتا ہے۔ بس رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج کرو۔ حج کے مقامات یہ ہیں :1 ۔ بیت اللہ جس کا طواف کیا جاتا ہے۔ 2 ۔ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں جو بیت اللہ الجلیل کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔ 3 ۔ شہر سے مشروق کی جانب تین میل کے فاصلہ پر منیٰ ہے۔ 4 ۔ مزدلفہ جو منیٰ سے آگے بڑھ کر تین میل کے فاصلے پر ہی واقع ہے۔ 5 ۔ عرفات۔ مزدلفہ سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر آگے عرفات کا میدان ہے۔ عمرہ میں صرف بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے اور صفاو مروہ کے درمیان چلا جاتا ہے جس کو سعی کہتے ہیں۔ فریضہ حج تین طریقہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Injunctions concerning Hajj and ` Umrah In the series of injunctions appearing under the theme of 'righteousness' which has started from verse 177, the eleventh injunction relates to the Hajj. Since it is tied to Makkah al-Mukarramah and Ka'bah, the House of Allah, therefore, some relevant questions have been covered partly under the subject of Qiblah قبلہ from verse 125 to 128 of Surah al-Baqarah. They begin from وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً and end, at وَأَرِ‌نَا مَنَاسِكَنَا ، then, at the conclusion of the discussion on Qiblah, the injunction of Sa` y سَعِی between Said and Marwah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

209. If any obstruction prevents a person from proceeding with the Pilgrimage and he is forced to stay behind, he should make a sacrificial offering to God of whatever is available - for example, either a camel, a cow, a goat or a sheep 210. The statement: 'until the offering reaches its appointed place' has been variously interpreted by the jurists. The Hanafi jurists consider this to signify the area which lies within the boundaries of the Haram. In their view this injunction means that if a man has been prevented from Pilgrimage he ought to send to the Haram either the animal itself or the…

Read the full tafseer →