حج اور عمرہ کے مسائل
اوپر چونکہ روزوں کا ذکر ہوا تھا پھر جہاد کا بیان ہوا اب حج کا تذکرہ ہو رہا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو پورا کرو، ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرنے کے بعد پورا کرنا چاہئے، تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ حج و عمرے کو شروع کرنے کے بعد ان کا پورا کرنا لازم ہے گو عمرے کے واجب ہونے اور مستحب ہونے میں علماء کے دو قول ہیں جنہیں ہم نے پوری طرح کتاب الاحکام میں بیان کردیا ہے فللہ الحمد والمنۃ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ پورا کرنا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھو حضرت سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں کہ ان کا تمام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 209
یعنی اگر راستے میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے، جس کی وجہ سے آگے جانا غیر ممکن ہو اور مجبوراً رک جانا پڑے، تو اونٹ، گائے، بکری میں سے جو جانور بھی میسر ہو، اللہ کے لیے قربان کردو۔
سورة الْبَقَرَة 210
اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد حرم ہے، یعنی اگر آدمی راستہ میں رک جانے پر مجبور ہو، تو اپنی قربانی کا جانور یا اس کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے۔ اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک جہاں آدمی گھر گیا ہو، وہیں قربانی کردینا مراد ہے۔
سر مونڈنے سے مراد حجامت ہے۔ مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
گیارہواں حکم متعلق حج وعمرہ
اور (جب حج یا عمرہ کرنا ہو تو اس) حج اور عمرہ کو اللہ تعالیٰ کے (راضی کرنے کے) واسطے پورا پورا ادا کیا کرو (کہ اعمال وآداب بھی سب بجا لاؤ اور نیت بھی خالص ثواب ہی کی ہو) پھر اگر (کسی دشمن کی جانب سے یا کسی مرض کے سبب سے حج وعمرہ کے پورا کرنے سے) روک دیئے جاؤ تو (اس حالت میں یہ حکم ہے کہ) قربانی کا جانور جو کچھ میسر ہو (ذبح کرے اور حج وعمرہ کی جو وضع اختیار کر رکھی تھی موقوف کرے اس کو احرام کھولنا کہتے ہیں جس کا طریقہ شرع میں سر منڈانا ہے اور بال کٹا دینے کا بھی یہی اثر ہے) اور (یہ نہیں کہ فورا روک ٹوک کے ساتھ ہی تم کو احرام کھولنا درست ہوجاوے بلکہ) اپنے…
Read the full tafseer →عمرہ کی نوعیت : جس طرح فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں اور نوافل ہیں جن سے اصل نماز کے لیے طبیعت میں بیداری اور آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو ان سے اس کسر کا جبر بھی ہوتا ہے اسی طرح عمرہ کی نوعیت بھی حج کے لیے ایک ریہرسل کی ہے۔ اس سے حج کے لیے طبیعت میں آمادگی بھی پیدا ہوتی ہے اور بعض حالات میں اس کے کسر کا جبر بھی ہوتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم کے اعتبار سے بھی یہ لفظ تعمیر، رونق اور آبادی کے مضمون طرف اشارہ کرتا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کے گھر کی رونق بھی ہے اور دلوں کی زندگی اور بیداری بھی۔ اور یہ دونوں چیزیں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی…
Read the full tafseer →196۔ 1 یعنی حج اور عمرے کا احرام باندھ لو تو پھر اسکا پورا کرنا ضروری ہے چاہے نفلی حج وعمرہ ہو (امیر التفسیر)
196۔ 2 اگر راستے میں دشمن یا شدید بیماری کی وجہ سے رکاوٹ ہوجائے تو ایک جانور بکری گائے یا اونٹ کا ساتواں حصہ جو بھی میسر ہو وہیں ذبح کر کے سر منڈوا لو اور حلال ہوجاؤ جیسے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے وہیں حدیبیہ میں قربانیاں ذبح کیں تھیں اور حدیبیہ حرم سے باہر ہے (فتح القدیر) اور آئندہ سال اس کی قضا دو جیسے نبی ﷺ نے 6 ہجری والے عمرے کی قضا 7 ہجری میں دی۔
196۔ 3 یعنی اس کو ایسی تکلیف ہوجائے کہ سر کے بال منڈوانے پڑجائیں تو اس کا فدیہ ضروری ہے حدیث کی رو سے ایسا شخص 6 مسکینوں کو کھانا کھلا…
Read the full tafseer →126: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو جب تک حج یا عمرے کے اعمال پورے نہ ہوجائیں احرام کھولنا جائز نہیں، البتہ کوئی ایسی مجبوری پیش آسکتی ہے کہ احرام باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے ؛ چنانچہ خود آنحضرت ﷺ کو یہ صورت پیش آئی کہ آپ اور آپ کے صحابہ عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے ؛ لیکن جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آگے بڑھنے سے روک دیا، اسی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، اور ان میں ایسی صورت حال کا یہ حل بتایا گیا کہ ایسی صورت میں قربانی کرکے احرام کھولا جاسکتا ہے، امام ابوحنیفہ ؒ کے مسلک میں یہ قربانی حدود حرم میں ہونی چاہیے، جیسا کے اگلے جملے…
Read the full tafseer →ہمارے پاس آیات حج کی تاریخ نزول کا کوئی صحیح علم نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں ایک روایت ہے جس میں آیا ہے کہ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ” اور اگر کہیں گھر جاؤ تو جو قربانی میسر ہو ۔ “ 6 ھ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی ، لہٰذا اسلام میں حج کب فرض ہوا اس کی صحیح تاریخ بھی ہمیں معلوم نہیں ، اس میں اختلاف رائے ہے کہ حج فرض کس آیت سے ہوا ، اس آیت سے یعنی وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ ” اللہ کی خوشنودی کے لئے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو یا وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیتِ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا ” جن لوگوں کے پاس زاد راہ کی استطاعت…
Read the full tafseer →8 حج کے ضمن میں جہاد کا ذکر جو مناسب تھا اس کو بیان فرما کر اب احکام حج وعمرہ بتلائے جاتے ہیں۔
9 مطلب یہ ہے کہ جب کسی نے حج یا عمرہ شروع کیا یعنی اس کا احرام باندھا تو اس کو پورا کرنا لازم ہوگیا۔ بیچ میں چھوڑ بیٹھے اور احرام سے نکل جائے یہ نہیں ہوسکتا لیکن اگر کوئی دشمن یا مرض کی وجہ سے بیچ ہی میں رک گیا اور حج وعمرہ نہیں کرسکتا تو اس کے ذمہ پر ہے قربانی جو اس کو میسر آئے جس کا ادنیٰ مرتبہ ایک بکری ہے اس قربانی کو کسی کے ہاتھ مکہ کو بھیجے اور یہ مقرر کر دے کہ فلاں روز اس کو حرم مکہ میں پہنچ کر ذبح کردینا اور جب اطمینان ہوجائے کہ اب اپنے ٹھکانے یعنی حرم میں پہنچ کر اس کی قربانی ہوچکی ہوگی اس…
Read the full tafseer →آیت 196 وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط۔
عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا ‘ لیکن حج مکمل تب ہوگا جب طواف بھی ہوگا ‘ وقوف عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کرلے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے ‘ کوئی کمی نہ رہے۔
فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ
یعنی روک دیا جائے ‘ جیسا کہ 6 ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔
فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ج۔
یہ دم احصار کہلاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →260 مسور بن مخرمہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے زمانے میں نکلے۔ بدیل بن ورقاء الخزاعی آیا اور کہنے لگا : وہ (قریش) آپ سے لڑیں گے اور آپ کو بیت اللہ جانے سے روکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہم لڑنے نہیں آئے، ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اٹھو، قربانی کرو اور اپنے سر منڈوا دو ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی قربانی ذبح کی۔ پھر حجام کو بلایا۔ اس نے آپ ﷺ کا سر مونڈا۔ (بخاری۔ کتاب الشروط، بابالشروط فی الجہاد والمصالحہ مع اھل الحرب)
2۔ ضباعہ کہتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرا حج کرنے کا ارادہ ہے، لیکن میں بیمار ہوں، ایسی صورت میں میں کیا کروں ؟ آپ نے جواب…
Read the full tafseer →715 ۔ یعنی جب یہ عبادتیں بجالاؤ تو اللہ کی رضاجوئی ہی کے لیے بجالاؤ۔ اور اخلاص نیت کے ساتھ اور اللہ کے مقرر کیے ہوئے قاعدوں اور ضابطوں کے ساتھ، تمام ممنوعات سے محترزرہ کر۔ یہ نہ ہو کہ کسی طرح الٹے سیدھے ادا کر کے ان عبادتوں کو بھی ناقص وفاسد بنادو۔ اے افعلوا الحج والعمرۃ علی نعت الکمال والتمام (کبیر) وظاھر السباق باکمال افعالھمابعد الشروع فیھما (ابن کثیر) اے ادوھما تامین بشرائطھماوفرائضھما لوجہ اللہ تعالیٰ بلاتوان ولا نقصان (مدارک) حضرات صحابہ ؓ وتابعین رحمہم اللہ سے متعدد تفسیرین نقل ہوئی ہیں۔ لیکن سب سے جامع تفسیر مقاتل تابعی کی ہے کہ اس درمیان میں کوئی ایسی چیز نہ کرو کہ جو ان عبادتوں کے…
Read the full tafseer →حج کی فرضیت : جمہور کے قول کے مطابق حج کی فرضیت ہجرت کے تیسرے سال یعنی غزوہ احد کے سال سورة آل عمران کی اس آیت سے ہوئی وَللہِ عَلَی النَّاس حِجُّ الْبیْتِ الخ۔ باتفاق مفسرین یہ آیت واقعہ حدیبیہ 6 ھ میں نازل ہوئی اس آیت کا مقصد حج کی فرضیت کو بتلانا نہیں اس لئے کہ حج تو پہلے ہی فرض ہوچکا ہے اس آیت کا مقصد حج کے کچھ احکام بیان کرنا ہے۔ اَتمّوا الحج والعمرۃَ للہ، یعنی اگر راستہ میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے جس کی وجہ سے آگے جانا ممکن نہ رہے اور مجبوراً رک جانا پڑے تو اونٹ، گائے، بکری، میں سے جو جانور بھی میسر ہو اللہ کے لئے قربانی کردو اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا…
Read the full tafseer →وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ ( اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے) یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حج اور عمرہ اور ان کا پورا کرنا اور حج کو عمرہ سے نسخ نہ کرنا جملہ امور واجب ہیں۔ حج پر تو اجماع ہوچکا ہے کہ حج فرض عین محکم غیر قابل نسخ ہے اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً (اور اللہ کا فرض ہے لوگوں پر حج کرنا اس کا گھر کا جس کو مقدور ہو اس تک پہنچنے کا) اور رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔
اوّل گواہی دینا اس امر کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔…
Read the full tafseer →196: تم حج یا عمرہ سے کسی بیماری یا دشمن کی وجہ سے روک دیے جاؤ تو بکری، گائے یا اونٹ میں سے، جس قربانی میں تمہارے لیے آسمانی ہو احرام کے چھوڑنے پر واجب ہے اور اس رکنے کے عرصہ میں اپنے سروں کو نہ منڈواؤ جب تک کہ جو قربانی روانہ کی ہے وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام پر نہ چلی جائے اور جو اس رکنے کی مدت میں اتنے زمانہ تک نہ ٹھہر سکتا ہوں تو وہ قربانی کا جانور کی جگہ پر روانہ کرنے سے پہلے ہی اپنے گھر چلا جائے اور جس کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی ہوں وہ اپنے سر کو منڈوائے، یہ آیت کریمہ حضرت کعب بن عجرہ ؓ کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہوگئی تھیں، اس لیے انہوں نے حرم ہی میں اپنا سر…
Read the full tafseer →(وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ) طبری نے اپنی حسن سند کے ساتھ عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا ہے : ”جو شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اسے پورا کرنے سے پہلے حلال ہو۔ حج کا پورا کرنا یہ ہے کہ یوم النحر (دس ذوالحجہ) کو جمرہ عقبہ کو کنکر مارے اور طواف زیارت کرے، تو وہ اپنے احرام سے پوری طرح حلال ہوگیا اور عمرے کا پورا کرنا یہ ہے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلے تو حلال ہوگیا۔“ [ طبری : 2؍213، ح : 3194 ] یعنی حج یا عمرہ فرض ہو یا نفل، احرام باندھ لینے کے بعد پورا کرنا ضروری ہے۔ آیت کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ کی خاطر حج اور عمرہ کے تمام ارکان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 196
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتموا الحج والعمرۃ للہ۔ اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: علماء کا حج وعمرہ اللہ کے لئے مکمل کرنے کے مرادی معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : حج و عمرہکا اللہ کی رضا کے لئے ادا کرنا ہے، جیسے ارشاد ہے : فأتمھن (انہیں ادا کیا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتموا الصیام الی الیل (البقرہ :187) پھر تم رات تک روزہ رکھو، یہ مفہوم ان علماء کے نزدیک ہے جنہوں نے عمرہ کو واجب کیا ہے کہ آگے آئے گا۔ اور جنہوں نے عمرہ کو واجب نہیں کیا انہوں نے فرمایا : حج اور عمرہ شروع کرنے کے بعد انہیں مکمل کرنا مراد ہے جس نے عبادر (حج یا عمرہ) کا احرام باندھا اس پر اس کو مکمل…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے دلائل میں، ابن عبد البراء نے التمہید میں یعلی بن امیہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ (اس وقت) جعرانہ میں تھے وہ آدمی جبہ پہنے ہوئے تھا جس پر خوشبو کا اثر تھا۔ اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے میں اپنا عمرہ کیسے ادا کریں ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” واتموا الحج والعمرۃ للہ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عمرہ کے بارے میں پوچھنے والا سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا میں یہاں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنا جبہ اتار دے اور خوشبو کے اثر کو دھو ڈال پھر جیسے تو اپنے حج میں افعال کرتا ہے۔ ویسے ہی اپنے عمرہ میں (افعال) کر۔
نزول وحی کی…
Read the full tafseer →[ وَاَتِمُّوا : اور تم لوگ پورا کرو ] [ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ : حج کو اور عمرے کو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ : پھر اگر تم لوگ روک دیے جائو ] [ فَمَا : تو جو ] [ اسْتَیْسَرَ : آسان ہو ] [ مِنَ الْہَدْیِ : قربانی کے جانور میں سے وہ (واجب ہے تم پر) ] [ وَلاَ تَحْلِقُوْا : اور تم لوگ مت مونڈو ] [ رُئُ وْسَکُمْ : اپنے سروں کو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یَبْلُغَ الْہَدْیُ : پہنچے قربانی کا جانور ] [ مَحِلَّہٗ : اپنی منزل پر ] [ فَمَنْ : پھر جو ] [ کَانَ : ہو ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ مَّرِیْضًا : مریض ] [ اَوْ بِہٖٓ اَذًی : یا اس کو تکلیف ہو ] [ مِّنْ رَّاْسِہٖ : اپنے سر…
Read the full tafseer →حج اور عمرہ کے احکام
جہاد کا حکم بیان فرمانے کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان کیے جاتے ہیں۔ جو شخص مکہ معظمہ تک سواری پر آ جاسکتا ہو اور سفر کے اخراجات اس کے پاس ہوں اور بال بچوں کے لیے ضروری اخراجات بھی موجود ہوں اس پر حج کرنا فرض ہے اور حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے اس سے زیادہ جو کوئی شخص حج کرے گا تو وہ نفل ہوگا۔ حج کے کام آٹھ ذوالحجہ سے شروع ہوتے ہیں اور بارہ تیرہ ذوالحجہ تک ختم ہوجاتے ہیں۔ البتہ طواف و داع اس وقت ہوگا جب مکہ معظمہ سے واپس آنے لگیں گے اگرچہ اس سے پہلے بھی جائز ہے (بشرطیکہ اس سے پہلے طوازیارت کرچکا ہو) چونکہ افعال حج کے لیے ایام مقرر ہیں اس لیے حج میں یہ بات نہیں ہے کہ…
Read the full tafseer →حکم یازدہم متعلق حج وعمرہ۔
قال تعالی، واتموالحج والعمرۃ للہ۔۔ الی۔۔ العقاب۔
ماہ صیام کے بعد حج کے مہینے شروع ہوتے ہیں اس لیے روزوں کے بعد حج کا ذکر فرمایا اور پھر حج کی مناسبت سے حج کے مہینوں میں قتل و قتال کا حکم ذکر فرمایا اب پھر حج اور عمرہ کے بقیہ احکام کو بیان فرماتے ہیں نیز حج مبرور عمرہ مبروہ اعلی ترین اعمال بر میں سے ہے اور انفاق فی سبیل اللہ تو احسان الی العباد کا بہترین محل ہے جس کا پہلی آیت میں ذکر ہوچکا ہے، ولاتلقوا بایدکم۔۔ الی۔۔ المحسنین۔ آیت۔ چناچہ فرماتے ہیں اور حج اور عمرہ کو خاص اللہ کے لیے پورا کرو نہ تو شروع کرکے درمیان میں چھوڑو اور نہ حج کا احرام باندھ کر اس کو فسخ کرکے…
Read the full tafseer →371 ربط۔ جہاد اور انفاق کے بعد اب یہاں سے دوسرے امورمصلحہ کا بیان شروع ہوتا ہے۔ امور مصلحہ کا ذکر ساتھ ساتھ چل رہا ہے تاکہ باطن کی اصلح ہوتی رہے۔ اور خدا کے احکام کی تعمیل طبیعت پر گراں نہ گزرے۔ جہاد کے بعد حج کا ذکر کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تم میرے گھر میں حاضر ہو کر مجھ سے دعا مانگو اور مدد کی درخواست کرو میں تمہاری مدد کروں گا اور مشرکین پر تم کو غلبہ دوں گا۔ اور تمہیں قیامت تک قائم رکھوں گا۔ کیونکہ بیت اللہ کی حاضری لوگوں کے لیے قیام کا باعث ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ جَعَلَ اللہُ الْکَعْبةَ الْبَیْتَ الْحرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ (مائدہ ع 12) علامہ نسفی نے لکھا ہے کہ اگر…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے نئے چاند کے متعلق ذکر آچکا ہے کہ چاند اوقات اور خاص طور پر حج کے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا قمری مہینے کی تقویم ضروری ہے۔ حج اور اس کے ساتھ جہاد کا بیان بھی آ گیا ہے۔ قتال فی سبیل اللہ کی غرض وغایت بھی آگئی ہے کہ اس سے مقصود فتنہ و فساد ک بیخ کنی ہے۔ جہاد ہی کے ضمن میں انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر بھی آ چکا ہے۔ اس کے بغیر جہاد کی تکمیل ممکن نہیں اور اگر جہاد کا جذبہ ختم ہوجائے گا تو دشمن غالب آجائے گا۔ حرمت والے مہینوں کا بیان بھی آ چکا ہے کہ یہ کون کونسے مہینے ہیں اور پھر ان میں قتال کے کیا احکام ہیں۔ مسلمانوں کو ان مہینوں کا پورا پورا احترام کرنے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِ 0 ۭ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ 0 ۚ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْہَدْيُ مَحِلَّہٗ 0 ۭ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًى مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْيَۃٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُكٍ 0 ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ 0 ۪ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ 0 ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَۃِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ 0 ۭ تِلْكَ عَشَرَۃٌ كَامِلَۃٌ 0 ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ…
Read the full tafseer →ترکیب : اتموا امر انتم اس کا فاعل الحج والعمرہ مفعول للّٰہ کالام متعلق ہے التوا سے فان احصرتم شرط فما موضع رفع میں ہے بسبب ابتداء کے اور خبر محذوف ہے فعلیکم یہ تمام جملہ جواب شرط ہے محلۃ ظرف مکان اور زمان دونوں ہوسکتا ہے فمن کان الخ شرط ففدیۃ الخ جواب فاذا موضع نصب میں ہے فمن تمتع شرط موضع ابتداء میں فَمَااستیسر جواب پس فمن اور اس کا جواب جملہ شرطیہ جواب ہے۔ اذا کا فمن شرط فصیام الخ جملہ جواب۔
تفسیر : اگلی آیت میں جہاد و قتال کا حکم نازل ہوا تھا تو اس کی شان نزول میں آپ جان چکے ہیں کہ یہ حکم جب نازل ہوا تھا کہ جب آنحضرت (علیہ السلام) حج وعمرہ کے لیے مکہ میں آنا چاہتے تھے۔ کفار نے بمقام حدیبیہ…
Read the full tafseer →وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرََ مِنَ الْھَدْیِ ج وَلَا تَحْلِقُوْارُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّـہٗ ط فَمَنْ کَانَ مِنْـکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍج فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قفۃ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِالْحَرَامِ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : چاند کے ساتھ روزے اور حج کا خصوصی تعلق ہے۔ لہٰذا حج کے مسائل کی تفصیل اور ان کے درمیان دور جہالت کی بدعات اور رسومات کا بیان ہوگا۔
حج عبادات کا مرقع ہے۔ اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی مقررہ ایّام میں متعیّن اور مقدّس مقامات پر ادا ہوتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت، عبادت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع و عریض پلیٹ فارم ہے۔ شریعت نے امت مسلمہ کو اپنے اور دنیا بھر کے تعلقات و معاملات کا جائزہ لینے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ مسلمان حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی وبیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ و استغفار اور حالات…
Read the full tafseer →196۔ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُ ْوسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہ ‘ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہ ‘ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 196۔ :
(آیت)” واتموا الحج والعمرۃ للہ “ حضرت علقمہ (رح) اور ابراہیم نخعی (رح) نے (آیت)” واتموالحج والعمرۃ للہ “ پڑھا حج اور عمرہ کے اتمام سے متعلق انہوں نے اختلاف کیا ، پس بعض نے کہا کہ ان دونوں کو احکام اور حدود اور سنتوں کی رو سے تمام کرے اور یہ قول ابن عباس ؓ اور علقمہ (رح) اور ابراہیم نخعی (رح) اور مجاہد (رح) کا ہے ارکان حج پانچ ہیں ۔
(1) احرام (2) عرفات میں ٹھہرنا (3) طواف زیارت (4) سعی (صفاومروہ میں دوڑنا (5) سر کا منڈانایا بال کتروانا۔
حج کے احرام سے باہر نکلنے یعنی احرام کھولنے اور حلال ہونے کی دو قسمیں ہیں اور احرام کھولنے کے تین اسباب ہیں ۔ (1) دسویں ذوالحجہ (یوم النحر) کو…
Read the full tafseer →اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا حج اسلام کا ایک بڑا رکن ہے حج کی فضیلت میں اور اس وعید کی تاکید میں کہ جس کسی کو قدرت ہو اور وقت پر حج کو نہ جاوے بہت سی حدیثیں وار ہوئی ہیں اور سورة آل عمران میں یہ آیت { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حَجَّ الْبَیْتَ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا } سے حج فرض ہوا ہے اور اس آیت میں تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے ارکان جو پانچ ہیں احرام عرفات میں جا کر ٹھہرنے کے سوا اور بھی باقی کے چار رکن ہیں سیوطی نے لباب النقول فی اسبابالنزول 1 میں تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے یہ جو کہا ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ سے عمرہ کا سوال کرنے آیا تھا۔ اس کے جواب…
Read the full tafseer →(آیت) ’ وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ’ اور پورا کرو حج اور عمرے کو “ سے متعدد امور پر استدلال کیا جاتا ہے۔
(1) حج اور عمرے کا وجوب اور ان کی فرضیت
(2) حج اور عمرے کو ان ارکان و واجبات کے ساتھ پورا کرنا جن کی طرف رسول اللہ ﷺ کا فعل اور آپ کا یہ قول اشارہ کرتا ہے ” اپنے مناسب حج مجھ سے اخذ کرو “ 1
(3) اس آیت کریمہ سے ان علمئا کی تائید ہوتی ہے جو عمرے کو واجب قرار دیتے ہیں۔
(4) حج اور عمرہ کو، خواہ وہ نفلی ہی کیوں نہ ہوں جب شروع کردیا جائے تو ان کا تمام واجب ہے۔
(5) حج اور عمرے کو احسن طریقے سے ادا کیا جائے اور یہ چیز حج اور عمرے کے لازمی افعال سے قدر زائد ہے۔
(6) اس میں حج اور عمرے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–196
آیا عمرہ فرض ہے یا نقل ؟
ارشاد باری ہے (واتموا الحج والعمرۃ للہ، اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو) اس آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت علی ، حضرت عمر، سعید بن جبیر اور طائوس سے مروی ہے کہ حج اور عمرہ کے اتمام کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے دونوں کا احرام باندھ لو۔
مجاہد کا قول ہے کہ اتمام کا مفہمو یہ ہے کہ حج اور عمرہ میں داخل ہونے کے بعد ان دونوں کے آخری افعال تک ادا کئے جائیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء کا قول ہے۔ اللہ کے لئے ان کے تمام افعال و ارکان کو قائم کرنا اس لئے کہ یہ دونوں واجب ہیں۔ گویا ان دونوں نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس میں ان دونوں چیزوں کی ادائیگی کا حکم ہے گویا یوں فرمایا…
Read the full tafseer →540 حج اور عمرے کے اتمام کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کیلئے پورا کرو تم لوگ حج اور عمرہ کو : یعنی ان دونوں کے احکام و افعال کو مکمل کروا اور ان کی ادائیگی اور تکمیل سے صرف اس کی رضا مقصود ہو۔ ریاء و نمود اور نمائش و دکھلاوے وغیرہ کا کوئی شائبہ بھی اس میں شامل نہ ہو۔ حج وعمرہ کی عبادت چونکہ ایک عظیم الشان اور منفرد نوعیت کی عبادت ہے اور اس میں خاص مظاہر اور اعمال بھی پائے جاتے ہیں، جن کی بناء پر اس میں ریاء و نمود کا خطرہ و خدشہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے، اس لئے اس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں ریاکاری اور نمود و نمائش کی آمیزش نہ ہوجائے اور وہ ایسے…
Read the full tafseer →حج اور اسکے مسائل
تشریح : حج : اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ جو شخص مالی و جسمانی لحاظ سے حج کی استطاعت رکھتا ہو اس پر زندگی میں ایک دفعہ حج فرض ہے ورنہ وہ گناہ گار ہوگا۔ حج مساوات اور یکجہتی کا سبق دیتا ہے۔ ایک ہی لباس میں سب لوگ ایک ہی طریقہ سے اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور ارکان حج ادا کرتے ہیں۔ حج کے دوران احرام باندھنا ضروری ہے۔ سر منڈانا، ناخن تراشنا، شکار کرنا، خوشبو لگانا، میاں بیوی کا آپس میں تعلق قائم کرنا، آرائش کرنا یہ سب منع ہوتے ہیں۔
تمام حاجی بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، حجرا سود کو بوسہ دیتے ہیں، آب زم زم پی کر دعائیں کرتے ہیں، صفاء مر وہ کے درمیان سعی کرتے ہیں، میدان عرفات میں جمع ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–196
ف 6 یعنی ان کے ارکان پوری طرح ادا کرو حج تو بلا اتفاق فرض ہے اور ارکان اسلام میں سے ہے مگر عمرہ کے وجوب میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک وجب ہے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتاے اور بعض سینیت کے قائل ہیں احادیث میں دونوں طرح کا ثبوت ملتا ہے مگر احرام باندھ لینے کے بعد اس کا اتمام سب کے نزدیک واجب ہے۔ (شوکانی)7 روکے جاؤ یعنی خانہ کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو ایک ہدی ( اونٹ۔ گائے۔ یا بکری) حسب ماتیسر جہاں روکے جاؤ ذبح کر کے احرام کھولاؤ اور آئندہ سال حج یا عمرہ کرلو۔8 اس کا عطف اتموالحج پر ہے اور یہ حکم حالت امن کے ساتھ مخصوص ہے یعنی حالت امن میں اس وقت تک سزا سر نہ منڈو تو (احرام۔ نہ کھو لو جب تک کہ حج وعمرہ…
Read the full tafseer →(2:196) اتموا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتمام (افعال) مصدر تم پورا کرو۔
الحج۔ حج یحج (باب نصر) مصدر، اصل لعنت میں حج قصد زیارت کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شرح میں حج کی نیت سے اول احرام باندھ کر طواف اور وقوف کو اوقات مخصوصہ میں ادا کرنا حج کہلاتا ہے۔
العمرۃ۔ عمرہ زیادت بیت اللہ کے سلسلہ میں ایک مخصوص عبادت کا نام ہے ۔ جو حج کی طرح خاص وقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ عمر بھر میں ایک دفعہ اس کا بجا لانا بشرط استطاعت سنت مؤکدہ ہے۔ شاہ عبد القادری دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ : عمرے کا طریق یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے۔ اور صفا مروہ کے بیچ دوڑے پھر حجامت کراکر احرام اتارے۔
فان احصرتم…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 196
احصرتم (تم روک دئیے گئے ۔ تم روک لئے جاؤ) ۔ استیسر (جو میسر ہو، جو سہولت ہو) ۔ الھدی (قربانی کا جانور) ۔ لا تحلقوا (تم نہ منڈواؤ) ۔ رؤس (راس، سر) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ اذی (کوئی تکلیف) ۔ نسک (ذبح، قربانی ) ۔ امنتم (تم اطمینان سے ہو۔ امن میں ہو) ۔ لم یجد (نہیں پایا) ۔ ثلثۃ ایام (تین دن) ۔ سبعۃ (سات) ۔ رجعتم (تم لوٹے) ۔ عشرۃ کاملۃ (مکمل دس) ۔ لم یکن (نہیں ہے ) ۔ اھلہ (اس کے گھر والے ) ۔ حاضری (رہنے والے ، موجود) ۔ شدید العقاب (سخت عذاب) ۔
تشریح : آیت نمبر 196
اس آیت میں سب سے پہلے یہ فرمایا کہ (1) اے مومنو…
Read the full tafseer →شان نزول : اس آیت سے حج کا ذکر شروع ہوا۔ حج اسلام کا بڑا رکن ہے۔ اس آیت میں یہ تاکید ہے کہ حج اور عمرہ کو پورے ارکان کے ساتھ ادا کیا جائے۔ وہ ارکان یہ ہیں : احرام باندھے۔ پھر عرفہ کے دن عرفات میں حاضر ہو، پھر وہاں سے چلے تو رات کو رہے مشعر الحرام میں۔ پھر عید کی صبح منیٰ میں پہنچ کر کنکر پھینکے اور حجامت کرا کر احرام اتارے، پھر مکہ میں جاکر طواف کعبہ کرے پھر صفا اور مروہ کے بیچ دوڑے، پھر منیٰ میں آئے تین دن رہے۔ ہر روز کنکر پھینکے پھر مکہ میں جاکر طواف رخصت کرے اور چلا جاوے۔ اور عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے اور صفا ومروہ کے بیچ دوڑے، پھر حجامت کرا کر…
Read the full tafseer →[131] اور وہ ٹھکانا حرم ہے مطلب یہ ہے قربانی کے جانور یا اس کی قیمت کسی کے ہاتھ مکہ بھیج دے اور یہ مقرر کردے کہ فلاں روز اس کی طرف سے حدود حرم میں قربانی کی جائے۔
[132] نبی ﷺ نے اس صورت میں تین دن کے روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔
[133] یعنی زمانہ حج میں ایک احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور پھر دوسرے احرام سے حج کرلیا جائے۔ دونوں احراموں کی درمیانی مدت میں حالت احرام کے ممنوعات سے پوری طرح تمتع (فائدہ اٹھانا) کیا جاسکتا ہے اس طرح کے حج کو حج تمتع کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آداب حج :
(ف 1) حج فرض ہے اور عمرہ محض تطوع ، عمرہ دراصل آداب زیارت کا نام ہے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ حج وعمرہ جب شروع کیا جائے تو پھر اس میں شروط ولوازم کا خیال رکھا جائے اور کوئی بات ایسی نہ اختیار کی جائے جس سے نقص لازم آئے اور اجر وثواب میں کمی ہو ۔
اگر راستے میں کسی سبب سے زائر یا حاجی رک جائے اور آگے نہ جاسکے تو وہیں احرام کھول دے اور میسر قربانی کر دے ۔
احصار میں چونکہ لغۃ اختلاف ہے ، اس لئے قضا میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک احصار عام ہے ، مرض اور دشمن دونوں اس میں داخل ہیں اور بعض کے نزدیک صرف دشمن ، بہرحال جب لغوی معنوں میں وسعت موجود ہے تو پھر اس کو قائم رکھنا چاہئے اس کے بعد ایک عام…
Read the full tafseer →ف 1 اور جب تم حج اور اسی طرح عمرے کی نیت کرلو تو حج اور عمرے کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا جوئی کے لئے پوری طرح ادا کیا کرو پھر اگر تم سو اتفاق سے کسی دشمن یا کسی مرض یا خرچ کی کمی کے باعث روک دئیے جائو اور حج یا عمرہ بجا نہ لا سکو تو تم کو جو جانور قربانی کا میسر ہو اس کے قربانی کرکے احرام ختم کردو اور حلال ہوجائو لیکن یہ خیال رکھو کہ جب تک تمہاری قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے پر نہ پہونچ جائے یعنی کوئی شخص اس کو حرام میں لیجا کر ذبح نہ کردے اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈوائو اور احرام سے نہ نکلو مگر ہاں کوئی ایسا بیمار ہو کہ جس میں سر منڈانا ضروری ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو مثلاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
ف 1۔ 1 عورت کو سر منڈانا حرام ہے وہ صرف ایک ایک انگل بال کاٹ لے۔ 2۔ حج تین طرح کا ہوتا ہے افراد کہ ایام حج میں صرف حج کیا جائے۔ اور تمتع اور قرآن جن میں ایام حج میں عمرہ اور حج دونوں کیے جاویں افراد ہر شخص کو جائز ہے اور تمتع اور قرآن صرف ان لوگوں کو جائز ہے جو میقات کے حدود سے باہر رہتے ہیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے تمتع اور قرآن کی اجازت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج ادا کرنا :
335: مسلمانوں کو مضبوط اور طاقتور سپاہی بنانے کے لئے حج وعمرہ کا حکم دیا جاتا ہے۔ بس رضائے الٰہی کے حصول کے لئے حج کرو۔ حج کے مقامات یہ ہیں :1 ۔ بیت اللہ جس کا طواف کیا جاتا ہے۔ 2 ۔ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں جو بیت اللہ الجلیل کے بالکل قریب ہی واقع ہے۔ 3 ۔ شہر سے مشروق کی جانب تین میل کے فاصلہ پر منیٰ ہے۔ 4 ۔ مزدلفہ جو منیٰ سے آگے بڑھ کر تین میل کے فاصلے پر ہی واقع ہے۔ 5 ۔ عرفات۔ مزدلفہ سے تقریبا تین میل کے فاصلہ پر آگے عرفات کا میدان ہے۔ عمرہ میں صرف بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے اور صفاو مروہ کے درمیان چلا جاتا ہے جس کو سعی کہتے ہیں۔ فریضہ حج تین طریقہ…
Read the full tafseer →Injunctions concerning Hajj and ` Umrah
In the series of injunctions appearing under the theme of 'righteousness' which has started from verse 177, the eleventh injunction relates to the Hajj. Since it is tied to Makkah al-Mukarramah and Ka'bah, the House of Allah, therefore, some relevant questions have been covered partly under the subject of Qiblah قبلہ from verse 125 to 128 of Surah al-Baqarah. They begin from وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً and end, at وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا ، then, at the conclusion of the discussion on Qiblah, the injunction of Sa` y سَعِی between Said and Marwah…
Read the full tafseer →209. If any obstruction prevents a person from proceeding with the Pilgrimage and he is forced to stay behind, he should make a sacrificial offering to God of whatever is available - for example, either a camel, a cow, a goat or a sheep
210. The statement: 'until the offering reaches its appointed place' has been variously interpreted by the jurists. The Hanafi jurists consider this to signify the area which lies within the boundaries of the Haram. In their view this injunction means that if a man has been prevented from Pilgrimage he ought to send to the Haram either the animal itself or the…
Read the full tafseer →