Al-Baqara 2:195

Al-Baqara · from ayah 195

2:195

وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَی التَّهْلُكَةِ ۛۖۚ— وَاَحْسِنُوْا ۛۚ— اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۟وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَةِ ۖ  ۛۚ وَاَحۡسِنُوۡا  ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And spend in the way of Allah and do not throw [yourselves] with your [own] hands into destruction [by refraining]. And do good; indeed, Allah loves the doers of good.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 24 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:195

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنو ں کو پسند کرتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا کی راہ میں (مال) خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بےشک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک واحسان کرو، اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی اختیار کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اور نیکی اختیار کرو، بیشک اﷲ نیکوکاروں سے محبت فرماتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف مت ڈالو اور نیکی کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو تباہی میں نہ جھونکو۔ اور انفاق خوبی کے ساتھ کرو۔ بیشک اللہ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور خرچ کرو تم لوگ اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو تم لوگ اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں اور نیکی کرتے رہو بیشک اللہ محبت فرماتا ہے نیکوکاروں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ اور اپنے کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھے کام کرتے رہو یقیناً اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور مت ڈالو اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں اور احسان کی روش اختیار کرو یقیناً اللہ تعالیٰ محسنین کو (ان لوگوں کو جو درجۂ احسان پر فائز ہوجائیں) پسند کرتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ احسان کا طریقہ اختیار کرو یقینا اللہ احسان کرنیوالوں کو پسند کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Spend your wealth in the Way of Allah and do not cast yourselves into ruin with your own hands. Do all things gracefully, for Allah loves those who do all things with excellence

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Spend in the way of Allah and do not put yourselves into destruction, and do good. Of course, Allah loves those who do good.

— Muhammad Taqi Usmani

Spend in the way of Allah and do not put yourselves into destruction, and do good. Of course, Allah loves those who do good.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And spend in the cause of Allah and do not throw yourselves into destruction, and do good. Truly, Allah loves Al-Muhsinin (those who do good).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Spend your wealth for the cause of Allah, and be not cast by your own hands to ruin; and do good. Lo! Allah loveth the beneficent.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And spend in the way of Allah and do not throw [yourselves] with your [own] hands into destruction [by refraining]. And do good; indeed, Allah loves the doers of good.

— Saheeh International

Give money for the cause of God but do not push yourselves into perdition. Do good; God loves the people who do good deeds.

— Muhammad Sarwar

And spend in the way of Allah and cast not yourselves to perdition with your own hands, and do good (to others); surely Allah loves the doers of good.

— Muhammad Habib Shakir

And expend in the way of Allah, and cast not yourselves with your hands into perdition, and do well. verily Allah loveth the well- doers,

— Abdul Majid Daryabadi

And spend of your substance in the cause of Allah, and make not your own hands contribute to (your) destruction; but do good; for Allah loveth those who do good.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:195

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

حق جہاد کیا ہے ؟ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے (بخاری) اور بزرگوں نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی بیان فرمایا ہے، حضرت ابو عمران فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک نے قسطنطنیہ کی جنگ میں کفار کے لشکر پر دلیرانہ حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا ان میں گھس گیا تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ دیکھو یہ اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے حضرت ابو ایوب ؓ نے یہ سن کر فرمایا اس آیت کا صحیح مطلب ہم جانتے ہیں سنو ! یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم نے حضور ﷺ کی صحبت اٹھائی آپ کے ساتھ جنگ وجہاد میں شریک رہے آپ کی مدد پر تلے رہے یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 207 اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے مراد اللہ کے دین کو قائم کرنے کی سعی و جہد میں مالی قربانیاں کرنا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے دین کو سربلند کرنے کے لیے اپنا مال خرچ نہ کرو گے اور اس کے مقابلے میں اپنے ذاتی مفاد کو عزیز رکھو گے، تو یہ تمہارے لیے دنیا میں بھی موجب ہلاکت ہوگا اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں تم کفار سے مغلوب اور ذلیل ہو کر رہو گے اور آخرت میں تم سے سخت باز پرس ہوگی۔ سورة الْبَقَرَة 208 احسان کا لفظ حسن سے نکلا ہے، جس کے معنی کسی کام کو خوبی کے ساتھ کرنے کے ہیں۔ عمل کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی کے سپرد جو خدمت ہو، اسے بس کردے۔ اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسے خوبی کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دسواں حکم جہاد کے لئے مال خرچ کرنا وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اس میں مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جہاد کے لئے بقدر ضرورت اپنے اموال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں اس سے فقہاء نے یہ حکم بھی نکالا ہے کہ مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض کے علاوہ بھی دوسرے حقوق فرض ہیں مگر وہ نہ دائمی ہیں اور نہ ان کے لئے کوئی نصاب اور مقدار متعین ہے بلکہ جب وہ جتنی ضرورت ہو اس کا انتظام کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے اور ضرورت نہ ہو تو کچھ فرض نہیں جہاد کا خرچ بھی اسی میں داخل ہے، وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ کے لفظی معنے تو ظاہر ہیں کہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت بیان فرمائی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

انفاق کا حکم جہاد کے لیے : انفاق کا یہ حکم، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس جہاد کے لیے ہے جس کا یہاں حکم دیا گیا ہے۔ جہاد، جان اور مال دونوں کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے قرآن میں جہاں کہیں بھی جہاد و قتال کا بیان ہوا ہے انفاق کا حکم بھی اس کے ساتھ ضرور ہوا ہے۔ " تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم : اور تم جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے "۔ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ، میں بایدیکم، کے الفاظ سے ایک ایسے شخص کی تصویر نگاہوں کے سامنے آتی ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے، کسی دریا یا غار میں چھلانگ لگا رہا ہو۔ بعض عرب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

195۔ 1 اس سے بعض نے ترک جہاد اور بعض نے گناہ پر گناہ کئے جانا مراد لیا ہے اور یہ ساری صورتیں ہلاکت کی ہیں جہاد چھوڑ دو گے یا جہاد میں اپنا مال صرف کرنے سے گریز کرو گے تو یقینا دشمن قوی ہوگا اور تم کمزور نتیجہ تباہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

125: اشارہ یہ ہے کہ اگر تم نے جہاد میں خرچ کرنے سے بخل سے کام لیا اور اس کی وجہ سے جہاد کے مقاصد حاصل نہ ہوسکے تو یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مرادف ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں دشمن مضبوط ہو کر تمہاری ہلاکت کا سبب بنے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تَوَلَّوا وَّاَعیُنُھُم تَفِیضُ مِنِ الدَّمعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوا یُنفِقُونَ (وہ لوٹتے ، مگر اس حال میں کہ ان کی آنکھیں اشک بار ہوتیں ، اس دکھ کی وجہ سے کہ ان کے پاس وہ کچھ نہیں ہے جسے وہ اس موقعہ پر خرچ کریں) قرآن مجید کی بیشمار آیات اور رسول ﷺ کی بیشمار احادیث میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے ۔ خصوصاً غازیوں کے سازوسامان کے لئے ۔ قرآن مجید میں بیشمار مقامات ایسے ہیں جہاں دعوت و جہاد کے ساتھ ساتھ دعوت انفاق بھی دی گئی ہے اور یہاں تو انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کرنے کو ہلاکت اور بربادی سے تعبیر کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس سے بچووَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت میں یعنی جہاد وغیرہ میں اپنے مال کو صرف کرو اور اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو یعنی جہاد کو چھوڑ بیٹھو یا اپنے مال کو جہاد میں صرف نہ کرو کہ اس سے تم ضعیف اور دشمن قوی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 195 وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ ج۔ یعنی جس وقت اللہ کے دین کو روپے پیسے کی ضرورت ہو اس وقت جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چراتے ہیں وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر عام اپیل کی اور اس وقت جو لوگ اپنے مال کو سمیٹ کر بیٹھے رہے تو گویا انہوں نے اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈال دیا۔ وَاَحْسِنُوْا ج۔ اپنے دین کے اندر خوبصورتی پیدا کرو۔ دین میں بہتر سے بہتر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ دنیا میں آگے سے آگے اور دین میں پیچھے سے پیچھے رہنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

258 اس آیت کی بہترین تفسیر درج ذیل حدیث میں موجود ہے۔ حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ نے اسلام کو عزت دی اور اس کے مددگار بہت ہوگئے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے علیحدگی میں ایک دوسرے سے کہا کہ بلاشبہ ہمارے مال خرچ ہوگئے۔ اب اللہ نے اسلام کو عزت دی ہے اور اس کے مددگاروں کو زیادہ کردیا ہے۔ تو اب اگر ہم اپنے اموال سنبھال رکھیں اور جو کچھ خرچ ہوچکا اس کی تلافی شروع کردیں (تو کوئی بات نہیں) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور جو کچھ ہم نے آپس میں کہا تھا اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

712 ۔ (اپنا مال) جان قربان کر ڈالنے کا حکم تو قتال کے ذیل وضمن میں آچکا، اب حکم صرف مال کامل رہا ہے۔ (آیت) ” فی سبیل اللہ “ اس قید کا خوب کا خیال رہے، اسلام میں جس طرح محض جان دے دینا مطلوب ومقصود نہیں بلکہ وہ جان دینا مطلوب ومقصود ہے، جو خدا کی راہ میں ہو، اللہ کے دین کی بڑائی کے لئے ہو، اسی طرح مطلق صرف مال کی ہرگز کوئی وقعت وقدر نہیں، قدر صرف اس مال کی ہے جو باطل کی راہ میں نہیں، حق کی راہ میں ہو، ہوائے نفس کی تکمیل کے لیے نہیں، رضائے الہی کے حصول کے لیے ہو، یہاں اشارہ خاص جہاد و قتال کی جانب ہے، لیکن (آیت) ” فی سبیل اللہ کے الفاظ عام ہیں۔ ہر دینی خدمت میں مالی امداد اس کے تحت آجاتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 195 تا 196 ترجمہ : اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو (یعنی) اس کی طاعت میں کہ وہ جہاد وغیرہ ہے اور تم جہاد میں خرچ کرنے سے بخل کرکے اور جہاد ترک کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اس لئے کہ یہ (بخل و ترک) دشمن کو تم پر جری کر دے گا (باَیدی) میں باء زائدہ ہے (راہ خدا میں) خرچ وغیرہ کے ذریعہ نیکیاں کرو، اللہ تعالیٰ نیکیاں کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے یعنی ان کو اجر عطا کرتا ہے اور حج وعمرہ اللہ کے لئے پورے کرو، یعنی دونوں کو ان کے حقوق کی رعایت کے ساتھ ادا کرو، پس اگر حج اور عمرہ سے (یعنی) ان کے پورا کرنے سے دشمن یا اسی جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ تم کو روک دیا جائے تو جد ہدی (قربانی کا جانور) تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ( اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنے ہاتھوں کو ( یعنی اپنے آپ کو) ہلاکت میں) سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔ بایدیکم میں با زائد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اصل کلام اس طرح تھا کہ لَا تلقوا انفسکم بایدیکم ( یعنی اپنی جانوں کو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو) (1) [ یعنی دوسرے مفعول پر بجائے فی کے الیٰ اس لیے استعمال کیا کہ یہاں القاء کا سادہ معنی مراد نہیں ہے بلکہ ڈالنے سے مراد ہے ڈال کر پہنچانا یعنی اپنے نفسوں کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت نہ پہنچاؤ اور چونکہ پہنچاؤ فعل۔ مفعول دوئم پر الیٰ کو چاہتا ہے اس لیے لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(195) عمرہ قضا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے اپنا ہاتھ نہ روکو تاکہ تم ہلاکت میں نہ پڑجاؤ، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں مت مبتلا کرو اور ایک یہ تفسیر کی گئی ہے کہ نیک کاموں سے مت رکو کہ کہیں تم ہلاکت میں نہ پڑجاؤ یعنی رحمت خداوندی سے مایوس نہ ہو کر پھر ہلاکت میں گرفتار ہوجاؤ، اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرو، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھو اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ راہ خدا میں اچھی طرح خرچ کرو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں، (آیت) ”۔ وقاتلوا فی سبیل اللہ“۔ سے لے کر یہاں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس سے پہلی آیت میں قتال فی سبیل اللہ کا حکم ہے، یہ آیت بھی اسی حکم کی تکمیل ہے، یعنی جہاد میں اور اس کی تیاری میں خرچ کرتے رہو اور اس میں کوتاہی کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، کیونکہ اس صورت میں کفار تم پر غالب آجائیں گے، جو سراسر ہلاکت ہے۔ اسلم تجیبی کہتے ہیں کہ ہم مدینۂ روم (قسطنطنیہ) میں تھے، انھوں نے ہمارے مقابلے کے لیے رومیوں کی ایک بہت بڑی جماعت نکالی، ان کے مقابلے میں اتنے ہی یا ان سے زیادہ مسلمان نکلے، اہل مصر پر عقبہ بن عامر ؓ اور جماعت پر فضالہ بن عبید ؓ (امیر) تھے۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے رومیوں کی صف پر حملہ کردیا، یہاں تک کہ ان میں داخل ہوگیا، لوگ چیخ اٹھے اور کہنے لگے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 195 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: بخاری نے حذیفہ سے روایت کیا ہے : وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکة۔ کا ارشاد خرچ کے بارے میں نازل ہوا۔ یزید بن ابی حبیب نے اسلم ابو عمران سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم نے قسطنطنیہ کی جنگ لڑی اور مسلمانوں کی جماعت کے جرنیل عبدالرحمن بن ولید تھے اور رومیوں نے اپنی پیٹھیں شہر کی دیوار سے لگائی ہوئی تھیں۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کیا تو لوگوں نے کہا : رک جارک کا لآالٰه الا اللہ، یہ خود کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ حضرت ابوایوب انصاری نے کہا : سبحان اللہ۔ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ کی مدد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام وکیع، سفیان بن عینیہ، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے کہ اللہ کے راستہ میں غربت اور افلاس کے ڈر سے خرچ کرنا چھوڑ دینا۔ (2) امام وکیع، عبد بن حمید، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ لفظ آیت ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ سے مراد ہے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کو چھوڑ دینا خرچ کو اگرچہ کھجور کا آدھا ٹکڑا کیوں نہ ہو۔ (3) الفریابی، ابن جریر، ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ” التھلکۃ “ یہ نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاَنْفِقُوْا : اور تم لوگ مال خرچ کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) ] [ وَلاَ تُلْقُوْا : اور تم لوگ مت پھینکو (اپنے آپ کو) ] [ بِاَیْدِیْکُمْ : اپنے ہاتھوں سے ] [ اِلَی التَّہْلُکَۃِ : بربادی کی طرف ] [ وَاَحْسِنُوْا : اور تم لوگ بلا کم وکاست کام (جہاد) کرو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ یُحِبُّ : محبت کرتا ہے ] [ الْمُحْسِنِیْنَ : بلاکم وکاست کام کرنے والوں سے ] ھـ ل ک ھَلَکَ (ض) ھَلَاکًا : (1) تباہ و برباد ہونا۔ (2) کسی جاندار کا مردہ ہونا ‘ مرنا ‘ ہلاک ہونا۔ { ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ۔ } (الحاقۃ) ” تباہ و برباد ہوئی (یعنی جاتی رہی) مجھ سے میری قوت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت مستدرک حاکم ص 275 ج 3 میں ابو عمران سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم قسطنطنیہ میں تھے اور امیر المومنین کی طرف سے مصر پر عقبہ بن عامر جہنی اور شام پر فضالہ عامل تھے رومیوں کی ایک بہت بڑی صف (جنگ کرنے کے لیے) سامنے آئی۔ مسلمانوں نے بھی ان کے سامنے بہت بڑی صف بنالی ایک مسلمان نے رومیوں کی صف پر حملہ کردیا۔ یہاں تک کہ وہ ان میں گھس گئے پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر وہاں سے نکلے۔ لوگ کہنے لگے کہ اس نے تو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈال دیا اس پر حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم اس آیت کا مطلب غلط لیتے ہو (اس کا یہ مطلب نہیں کہ دشمنوں سے قتال نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم دہم انفاق فی الجہاد۔ قال تعالی، وانفقوا فی سبیل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ المحسنین۔ گزشتہ آیات میں بدنی جہاد کا ذکر تھا ان آیات میں مالی جہاد کا ذکر ہے یعنی جو جان سے کفر وشرک کے فتنہ و فساد کا مقابلہ کرسکے وہ اپنی جان سے کرے اور جو مال سے مقابلہ کرسکتا ہے وہ مال سے مقابلہ کرے خدا کی راہ میں جان کی ضرورت ہو تو جان پیش کرو مال کی ضرورت ہو تو مال پیش کرو اور خدا کی راہ میں جو خرچ کرسکتے ہو وہ خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہاتھوں ہلاکت اور تباہی میں نہ ڈالو یعنی خدا کی راہ میں جان اور مال خرچ کرنے سے دریغ نہ کرو خدا کی راہ میں جان اور مال سے بخل کرنا اپنے کو تباہی میں ڈالنا ہے اگر تم جہاد کو چھوڑ بیٹھو تو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

370 جہاد کے حکم کے بعد اب یہاں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے کیونکہ خرچ کے بغیر جہاد ناممکن ہے۔ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ۔ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ سے بخل کر کے اور جہاد سے جی چرا کر اپنے ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ بترک الغزو الانفاق فیہ روح ص 77 ج 2) کیونکہ خرچ کے بغیر جہاد نہیں ہوسکتا اور جہاد کے بغیر نہ توحید قائم ہوسکتی ہے اور نہ مشرکین کا زور ٹوٹ سکتا ہے۔ وَاَحْسِنُوا۔ اور اپنے تمام اعمال کو اخلاص اور حسن نیت سے بجا لاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلصین کو بہت پسند کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 194–195

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کا حکم دیا تھا ، اور اس کی وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ مشرکین کے برپا کردہ فتنہ و فساد کو فرد کرنے اور ظلم و زیادتی کو ختم کرنے کے لیے جہاد ضروری قرار دیا گیا ہے ، یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ عام طور پر جہاد اپنے دفاع کے لیے کیا جائے ، البتہ اگر اغیار کے ظلم و ستم کی بناء پر مخلوق خدا کی جان و مال اور عزت و ناموس خطرے میں ہو تو جنگ میں پہل بھی کی جاسکتی ہے حرمت والے چار مہینوں کا ذکر بھی اجمالا ً آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق ارض و سماکے وقت سے ہی بارہ مہینوں کی تقویم مقرر کر رکھی ہے ۔ جس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ ملت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّہْلُكَۃِ۝ 0 ۚ ۖۛ وَاَحْسِنُوْا۝ 0 ۚۛ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 195 نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 194–195

1 ؎ یعنی اگر وہ حرمت والے قابل تعظیم مہینے کا لحاظ اور پاس کریں تو اسلام کی طرف سے بھی ادب اور لحاظ ہے۔ قتال ممنوع ہے۔ اسی طرح اور جس قدر قابل تعظیم چیزیں ہیں جیسا کہ حرم اور مسجد الحرام ان کا بھی اگر وہ ادب ملحوظ رکھیں اور قتال وجدال نہ کریں تو مسلمانوں کو بھی لحاظ رکھنا ضروری ہے اور اگر وہ ادب نہ کریں تو اس مہینے اور ان قابل تعظیم چیزوں کو آڑ بنا کر مسلمانوں پر ظلم اور قتال کا وہ موقع حاصل نہیں کرسکتے۔ حرمت والا مہینہ حج کا مہینہ ہے اس کی تعظیم ایام جاہلیت میں بھی عرب کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی یہ بات ان میں باقی تھی۔ 12 منہ ترکیب : الشہر الحرام مبتدا بالشہر الحرام ای…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُـکَۃِ ج وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو اور انفاق خوبی کے ساتھ کرو، بیشک اللہ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) (195) جہاد اور انفاق باہم لازم وملزوم ہیں سابقہ آیات میں چونکہ جہاد کا مضمون بیان ہوا ہے اور مسلمانوں کو بیت اللہ کی آزادی اور فتنہ کے خاتمہ کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے تو جہاد کے حکم کے بعد انفاق کے حکم کا آناتو لازمی تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کا ایک مستقل اسلوب ہے کہ جہاں بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 194–195

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ ان بارہ ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کفار حرمتوں کی آڑ میں تم پر حملہ آور ہونے کی کوشش کریں تو تم بھی کسی حرمت کی پروا کیے بغیر ان کے خلاف برسر پیکار ہوجاؤ۔ کفار کے مقابلے میں حرمت کے بدلے ہی عزت و حرمت کا خیال رکھاجاسکتا ہے کیونکہ اللہ کے بندوں کو اس کی بندگی سے روکنا، کفر کو دین حق پر مسلط کرنا، کمزوروں پر ظلم ڈھانا اور مشرکوں کا بیت اللہ پر قبضہ جمانے سے بڑھ کر کوئی فتنہ نہیں ہوسکتا اگر کفار مزاحم ہونے اور لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آجائیں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار نے اٹھارہ سال تمہارے اوپر ظلم کیے ہیں لیکن یاد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 195: وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ وَاَحْسِنُوْاج اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ : (اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔ اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک اللہ نیک لوگوں کو پسند کرتا ہے) وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اور خرچ کرو اللہ کی رضا مندی میں یہ انفاق جہاد اور دیگر میں عام ہے۔ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ 5 اور تم اپنے نفسوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ ایدیکم سے مراد نفس ہیں۔ باء زائدہ ہے۔ یا نہ قتل کرو اپنے نفسوں کو اپنے ہاتھوں جیسا عرب کہتے ہیں اہلک فلان نفسہ بیدہ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 195۔: (آیت)” وانفقوا فی سبیل اللہ “ اس سے مراد جہاد ہے اور ہر کار خیر میں (خرچ کرنا) فی سبیل اللہ ہے لیکن اس کا مطلقا استعمال جہاد کی طرف راجع ہے ۔ (آیت)” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” بایدیکم “ میں باء زائدہ ہے مراد ہے (آیت)” ولا تلقوا ایدیکم “ یعنی اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف (نہ ڈالو) نفس کو ہاتھوں کے ساتھ تعبیر کیا گیا جیسا کہ فرمان الہی ہے ” بماکسبت ایدیکم “ یعنی بسبب اس کے جو تم نے کمایا (تو یہاں بھی کسب کے مفہوم کو ایدی کے ساتھ تعبیر کیا گیا) اور بعض نے کہا ہے کہ باء اپنی جگہ پر واقع ہے (یعنی زائدہ نہیں ہے) اور عبارت یوں ہوگی ، ” ولا تلقوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

بخاری نے حضرت حذیفہ ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بتائی ہے اس کی صراحت حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی حدیث میں ہے جس کو ابوداؤد، ترمذی، حاکم، نسائی اور ابن حبان وغیرہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے شرط شیخین پر اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم انصار لوگ چند لڑائیاں آنحضرت ﷺ کی ہمراہی میں لڑ چکے تو ایک دن ہم چند انصاروں نے خفیہ طور پر آپس میں مشورہ کیا کہ اب تو آنحضرت ﷺ کے ساتھ اہل اسلام بہت ہیں اگر ہم چند لڑائیوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہ جائیں تو اس میں ایسا ہوگا کہ مدتوں گھر سے باہر رہنے میں اخراجات جو پڑے ہیں اس کی تلافی ہوجائے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے راستے میں مال خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے اور اس سے مراد ہے کہ مال کو ان راستوں میں خرچ کیا جائے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتے ہیں اور یہ بھلائی کے تمام راستے ہیں جیسے مساکین، قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنا اور ان لوگوں پر خرچ کرنا جن پر خرچ کرنا واجب ہے۔ ان راستوں میں سب سے بڑا اور ان میں سب سے پہلے نمبر پر آنے والا، فی سبیل اللہ یعنی جہاد کی راہ میں خرچ کرنا ہے، کیونکہ اس راہ میں خرچ کرنا جہاد بالمال کے زمرے میں آتا ہے اور مالی جہاد بھی اسیط رح فرض ہے جس طرح بدنی جہاد فرض ہے۔ مالی جہاد میں عظیم مصالح پنہاں ہیں۔ مالی جہاد سے اہل ایمان کو تقویت پہنچتی ہے، شرک اور اہل شرک…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 194–196

آیا عمرہ فرض ہے یا نقل ؟ ارشاد باری ہے (واتموا الحج والعمرۃ للہ، اللہ کے لئے حج اور عمرہ پورا کرو) اس آیت کی تاویل میں سلف کا اختلاف ہے۔ حضرت علی ، حضرت عمر، سعید بن جبیر اور طائوس سے مروی ہے کہ حج اور عمرہ کے اتمام کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے دونوں کا احرام باندھ لو۔ مجاہد کا قول ہے کہ اتمام کا مفہمو یہ ہے کہ حج اور عمرہ میں داخل ہونے کے بعد ان دونوں کے آخری افعال تک ادا کئے جائیں۔ سعید بن جبیر اور عطاء کا قول ہے۔ اللہ کے لئے ان کے تمام افعال و ارکان کو قائم کرنا اس لئے کہ یہ دونوں واجب ہیں۔ گویا ان دونوں نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس میں ان دونوں چیزوں کی ادائیگی کا حکم ہے گویا یوں فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

538 اِنفاق فی سبیل اللہ کا حکم : یعنی تم لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے ان مالوں میں سے، جو اسی نے تم کو عطا فرمائے ہیں اپنے کرم اور مہربانی سے۔ اور جب دیئے ہوئے اسی کے ہیں تو ان کو بلکہ ان میں سے بھی کچھ کو اس کی راہ میں خرچ کرنا تمہارے لیے کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو اس کے دیئے ہوئے ان مالوں میں سے اس کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کرو، تاکہ وہ تمہارے لئے توشہ آخرت بنے، اور تمہارے لئے جمع اور محفوظ ہوجائے۔ یوں " انفاق فی سبیل اللہ " کا حکم عام ہے۔ جو بھی کچھ اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کیلئے خرچ کیا جائے گا وہ اس میں داخل ہے، لیکن یہاں پر سیاق وسباق کے اعتبار سے اس سے مراد جہاد کیلئے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اللہ کی راہ میں خرچ تشریح : گزشتہ آیات میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا کہ دشمنوں سے لڑو اور اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کرو، شہادت کی سعادت حاصل کرو۔ اس آیت میں اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کیونکہ جنگ میں مال کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ اسلحہ کے لئے، شہیدوں کے رشتہ داروں کی دیکھ بھال کے لئے، زخمیوں کے علاج کے لئے اور خوردونوش کے لئے۔ غرض جانوں کے ساتھ ساتھ مال کی بھی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ سب تم پوری کرنے کی کوشش نہ کرو گے تو خدا نخواستہ شکست ملک و قوم کی ہوگی۔ نقصان دین کا ہوگا تو گویا یہ خود تمہارا نقصان ہوگا کیونکہ ملک و قوم بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 189–196

آیات 189- 196 اسرارو معارف یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔ یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔ عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا : اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 195–196

ف 6 یعنی ان کے ارکان پوری طرح ادا کرو حج تو بلا اتفاق فرض ہے اور ارکان اسلام میں سے ہے مگر عمرہ کے وجوب میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک وجب ہے جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتاے اور بعض سینیت کے قائل ہیں احادیث میں دونوں طرح کا ثبوت ملتا ہے مگر احرام باندھ لینے کے بعد اس کا اتمام سب کے نزدیک واجب ہے۔ (شوکانی)7 روکے جاؤ یعنی خانہ کعبہ تک نہ پہنچ سکو تو ایک ہدی ( اونٹ۔ گائے۔ یا بکری) حسب ماتیسر جہاں روکے جاؤ ذبح کر کے احرام کھولاؤ اور آئندہ سال حج یا عمرہ کرلو۔8 اس کا عطف اتموالحج پر ہے اور یہ حکم حالت امن کے ساتھ مخصوص ہے یعنی حالت امن میں اس وقت تک سزا سر نہ منڈو تو (احرام۔ نہ کھو لو جب تک کہ حج وعمرہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:195) انفقوا۔ فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر تم خرچ کرو۔ لا تلقوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، القاء (افعال) جمع مذکر حاضر، تم مت ڈالو۔ لقی مادہ ۔ قرآن مجید میں ہے۔ کلما القی فیہا فوج (67:8) جب بھی اس میں کوئی جماعت ڈالی جائے گی۔ بایدیکم۔ باء حرف جار۔ ایدیکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے ہاتھ ۔ بمعنی اپنے ہاتھوں ۔ اس سے قبل انفسکم محذوف ہے تقدیر عبارت یوں ہے ولا تلقوا انفسکم بایدیکم الی النھلۃ۔ اور نہ پھینکو (یا نہ ڈالو) اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں۔ التہلکۃ۔ ھلک (باب ضرب و سمع) سے مصدر ہے ہلاک ہونا۔ تباہ ہونا۔ ہلاکت۔ تباہی۔ احسنوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر، احسان (افعال) مصدر ۔ تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 190–195

لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195 قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 194–195

حج کے احکام شان نزول : اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو جتلا دیا کہ اللہ کے عدل اور انصاف میں حرمتوں کا بدلہ ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے وقت اسی ذیقعدہ حرمت والے مہینے میں ان مشرکوں نے اس مہینے کی حرمت اور حرم کی حد کی حرمت کو قائم نہ رکھا تو اگر لڑائی کا موقع پیش آجائے تو کچھ خدشہ کی بات نہیں ہے۔ اللہ کی طرف سے بدلے کے طور پر تم کو اجازت ہے مگر اتنا کرنا کہ جس قدر کسی کی طرف سے زیادتی ہو۔ بدلہ اتنا ہی لینا حد سے بڑھ کر زیادتی نہ کرنا۔ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[130] یعنی اگر تم اپنا مال جہاد میں خرچ نہ کرو گے تو یہ تمہارے لئے موجب ہلاکت ہوگا۔ تم کفار سے مغلوب اور ذلیل ہو کر رہو گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

بزدلی ہلاکت ہے : (ف 2) جہاد کے لئے جس طرح سرفرشی ضروری ہے ، اسی طرح مالی اعانت بھی لابدی ہے ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ قومیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ کرتی ہیں ان کی ہلاکت قطعی ہے ان کا پنپنا اور دنیا میں رہنا محال ہے قوموں کی زندگی ان کے جذبہ ایثار وقربانی سے وابستہ ہے ، اس لئے وہ لوگ جو قومی احساس نہیں رکھتے جن کے دل تو قوم کے مصائب پر نہیں پسیجتے وہ غورکریں کہ ان کے زندہ رہنے کی کیا صورت ہے ۔ بعض فریب خوردہ لوگ (آیت) ” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “ کے معنی یہ سمجھتے ہیں کہ جہاد میں شرک نہ کی جائے اور جن بچائی جائے اس لئے کہ ہلاکت میں پڑنے سے اللہ تعالیٰ منع فرماتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور تم اللہ کی راہ میں مال بھی خرچ کیا کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت و تباہی میں نہ ڈالو اور خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ اچھے کام کیا کرو اور یقین مانو ! اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو خلوص و نیک نیتی کے ساتھ اچھے کام کیا کرتے ہیں (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے اور اس کے دین کو بلند کرنے کی غرض سے تم جس طرح اپنی جانیں دیتے ہو اسی طرح جہاد کے لئے مال بھی دیا کرو۔ اور دل کھول کر مال خرچ کیا کرو۔ اگر مجاہدین کی مالی ضروریات کو پورا نہ کرو گے اور سامان جنگ فراہم نہ کرکے خود اپنے ہاتھوں اپنے کو تباہ کیا اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یہ جو فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھوں اس قید کا حاصل یہ ہے کہ باختیار کود کوئی امرخلاف حکم نہ کرے اور جو بلاقصد اختیار کچھ ہوجاوے تو وہ معاف ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جہاد میں مال کی بھی ضرورت ہوگی وقت آنے پر دریغ نہ کرنا : 334: جہاد فی سبیل اللہ کے لیے قدم قدم پر روپیہ کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہر ایک مسلمان لڑنے کے لئے تیار ہوگیا اور حکومت کے پاس روپیہ نہ ہوا تو سخت دقتیں پیدا ہوں گی ۔ سامان حرب کی خریداری نہ ہو سکے گی پھر علاوہ ازیں سلطنت کے اور سینکڑوں کام ہیں جو روپیہ کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے۔ خصوصاً ایسے وقت میں تو روپیہ کی اور بھی زیادہ ضرورت ہے جب کہ دشمنوں نے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کی ٹھان لی ہو اس لئے اب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ اسلام میں جس طرح محض جان دے دینا مطلوب و مقصود نہیں بلکہ وہ جان دینا مطلوب و مقصود ہے جو اللہ کی راہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Spending for Jihad The verse 195 introduces the tenth injunction under the theme of 'righteousness' which began in Verse 177. So, in وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ (And spend in the way of Allah...), Muslims have been obligated to spend money and materials according to the need of Jihad ordered in the way of Allah. From here, jurists have deduced the ruling that Muslims have some other financial obligations as well in addition to the mandatory obligation of Zakah, but these are neither permanent nor bound by a 'threshold' or quantity, instead, it is obligatory on all Muslims to provide…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

207. 'To spend in the way of Allah' signifies financial sacrifice in order to establish God's religion. Not to make any financial sacrifice but to be inclined, instead, to hold personal interests dear to one's heart will lead to one's ruin both in this world and in the Next. Allah will set the unbelievers to dominate over you in this world and condemn you in the Next world. 208. The root of the word ihsan is HSN, which means doing something in a goodly manner. One standard of conduct is merely to perform the task entrusted to one. The other and higher standard is to perform that task in a…

Read the full tafseer →