ایام تشریق
آیت (ایام معدودات) سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں عرفے کا دن قربانی کا دن اور ایام تشریق ہمارے یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ دن کھانے پینے کے ہیں (احمد) اور حدیث میں ہے ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں (احمد) پہلے یہ حدیث بھی بیان ہوچکی ہے کہ عرفات کل ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایام تشریق سب قربانی کے دن ہیں، اور یہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ منی کے دن تین ہیں دو دن میں جلدی یا دو دیر کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، ابن جریر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 222
یعنی ایام تشریق میں منٰی سے مکہ کی طرف واپسی خواہ 12 ذی الحجہ کو ہو یا تیرھویں تاریخ کو، دونوں صورتوں میں کوئی حرج نہیں۔ اصل اہمیت اس کی نہیں کہ تم ٹھیرے کتنے دن، بلکہ اس کی ہے کہ جتنے دن بھی ٹھیرے ان میں خدا کے ساتھ تمہارے تعلق کا کیا حال رہا۔ خدا کا ذکر کرتے رہے یا میلوں ٹھیلوں میں لگے رہے۔
Read the full tafseer →منیٰ میں دو یا تین دن کا قیام اور ذکر اللہ کی تاکید
آٹھویں آیت جو اس جگہ احکام حج کی آخری آیت ہے اس میں حجاج کو ذکر اللہ کی طرف متوجہ کرکے ان کے مقصد حج کی تکمیل اور آئندہ زندگی کو درست رکھنے کی ہدایت اس طرح فرمائی گئی وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ یعنی اللہ کو یاد کرو گنتی کے چند دنوں میں ان چند دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں جن میں ہر نماز کے بعد تکبیر کہنا واجب ہے، آگے ایک مسئلہ کی وضاحت کی گئی کہ منٰی میں قیام اور جمرات پر کنکریاں مارنا کب تک ضروری ہے اس میں اہل جاہلیت کا اختلاف رہا کرتا تھا بعض لوگ تیرہویں تاریخ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام اور جمرات پر رمی کرنے کو ضروری…
Read the full tafseer →حج کا اجتماع روز حشر کے اجتماع کی یاد دہانی ہے : " ایام معدودات " کے الفاظ جس مقصد سے روزے کے ذکر میں وارد ہوئے ہیں اسی مقصد سے یہاں بھی وارد ہوئے اور مراد ان سے ایام تشریق یعنی قیام منیٰ کے ایام ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں تو ان میں ذکر الٰہی کے خزانے میں جتنا اضافہ کرسکتے ہو کرلو۔ اس قلیل مدت کو بھاری اور گراں سمجھ کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ ویسے اس امر کی اجازت ہے کہ جسے کوئی عجلت ہو تو 12 ذی الحجہ ہی کو واپس ہوجائے ورنہ 13 تک کے قیام کا ثواب حاصل کرلے۔ دونوں ہی صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ البتہ یہ ملحوظ رہے کہ اس عجلت کا باعث ان ایمان کی گرانی اور طوالت کا احساس…
Read the full tafseer →23۔ 1 مراد ایام تشریق ہیں یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ۔ ان میں ذکر الہی یعنی باآواز بلند تکبیرات مسنون ہیں صرف فرض نمازوں کے بعد ہی نہیں (جیسے کہ ایک کمزور حدیث کی بنیاد پر مشہور ہے) بلکہ ہر وقت یہ تکبیرات پڑھی جائیں۔ کنکریاں مارتے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھنی مسنون ہے۔
(اَ للّٰہُ اَکبَرْ ، اللّٰہُ اَکبَر، ْ لَا اِلٰہَ اِلَّا، واللّٰہُ اَکبَر، اللّٰہُ اَکبَر وَ لِلّٰہِ الْحَمْدُہ)
23۔ 2 رمی جماد (جمرات کو کنکریاں مارنا) 3 دن افضل ہیں لیکن اگر کوئی دو دن (11 اور 12 ذوالحجہ) کنکریاں مار کر واپس آجائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–204
135: منیٰ میں تین دن گزارنا سنت ہے اور اس دوران جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے، البتہ 12 تاریخ کے بعد منی سے چلا جانا جائز ہے، 13 تاریخ تک رکنا ضروری نہیں، اور اگر کوئی رکنا چاہے تو 13 تاریخ کو بھی رمی کرکے واپس جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں ۔ پھر جو کوئی جلدی کرے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔ “
راجح بات یہ ہے کہ ایام ذکر یوم عرفہ ، یوم نحر اور پھر…
Read the full tafseer →6 ایام معدودات سے مراد ذی الحجہ کی گیا رھویں، بارھویں، تیرھویں، تاریخیں ہیں جن میں حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں قیام کا حکم ہے ان دنوں میں رمی جمار یعنی کنکریوں کے مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے اور دیگر اوقات میں بھی ان دنوں میں چاہیے کہ تکبیر اور ذکر الہٰی کثرت سے کرے۔
7 یعنی گناہ تو یہ ہے کہ ممنوعات شرعیہ سے پرہیز نہ کرے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے اور زمانہء حج میں پرہیزگاری کرے تو پھر اس بات میں کچھ گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کیا یا تین دن کہ اللہ نے دونوں باتیں جائز رکھیں گو افضل یہی ہے کہ تین روز قیام کرے۔
8 یعنی حج کی خصوصیت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہر کام میں اور…
Read the full tafseer →آیت 203 وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ط
اس سے مراد ذوالحجہ کی گیارہویں ‘ بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں جن میں یوم نحر کے بعد منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے۔ اِن تین دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے۔ دیگر اوقات میں بھی ان دنوں میں تکبیر اور ذکر الٰہی کثرت سے کرنا چاہیے۔
فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج۔
یعنی جو کوئی تین دن پورے نہیں کرتا ‘ بلکہ دو دن ہی میں واپسی اختیار کرلیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
وَمَنْ تَاَخَّرَ
یعنی منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تین دن کی مقدار پوری کرے۔
فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–204
272۔ ا ایام معدودات سے مراد ماہ ذی الحجہ کی گیا رہ، بارہ اور تیرہ تاریخ ہے۔ ان دنوں میں بکثرت اللہ کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔ رمی جمار کے وقت بھی بآواز بلند تکبیر کہی جائے اور تمام حالات میں بھی بازاروں میں چلتے پھرتے وقت بھی اور ہر نماز کے بعد بھی اور تکبیر کے الفاظ یہ ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر (تین مرتبہ) (لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد)
عیدین کی تکبیریں بھی یہی ہیں اور ایام تشریق میں بھی یہی باواز بلند کہتے رہنا چاہیے۔ ایام تشریق کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ یہ کھانے پینے اور ذکر الٰہی کے دن ہیں۔ تکبیرات کے شروع اور ختم کرنے میں اگرچہ اختلاف ہے۔ تاہم صحیح اور راجح…
Read the full tafseer →749 ۔ یعنی ایام تشریق میں، زمانہ قیام منی میں۔ منی مکہ معظمہ سے شمال ومغرب میں 4 میل کے فاصلہ پر ہے۔ پہلے کبھی محض میدان تھا۔ اب بہت سی پختہ اور عالی شان عمارتیں بن گئی ہیں۔ سال بھر تو خالی پڑی رہتی ہیں۔ موسم حج میں خوب آباد ہوجاتی ہیں۔ صاحب حیثیت حاجی انہیں بڑے بڑے کر ایوں پر لے لیتے ہیں، بعض سرکاری عمارتیں ہیں۔ بازار بھی اس زمانہ میں یہ اں بہت بڑا اور بہت پررونق لگتا ہے۔ دنیا جہان کی چیزیں بکنے آجاتی ہیں۔ تشریق کے معنی قربانی سکھانے کے ہیں۔ ایام تشریق 10 ۔ 1 1 ۔ 12 ذی الحجہ ہیں۔ حاجیوں کے قافلے عرفات ومزدلفہ سے واپسی میں آکر صبح یہاں پہنچ جاتے ہیں، اور 12 کی شام تک تو بہرحال یہاں قیام رہتا…
Read the full tafseer →فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلآ اِثْمَ عَلَیْہِ ، منی سے مکہ کی طرف روانگی کی دو صورتیں ہیں اور دونوں بالکل جائز ہیں اب اگر کوئی شخص 10 ذی الحجہ کے بعد صرف دو دن قیام کرکے 12 کی شام کو مکہ چلا آئے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور جس کا جی چاہے 13 تک منی میں قیام کرلے یہ بھی درست ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کے یہاں اگر 13 تک ٹھہرتا ہے تو طلوع آفات سے قبل ہی رمی جمرات کرلے، فقہاء حنفیہ کے یہاں 13 کا قیام افضل ہے۔
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ (اور یاد کرتے رہو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں پھر جو جلدی چلا گیا دو ہی دن میں) اولیک فریق ثانی ( جو دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کے طالب ہیں) کی طرف اشارہ ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ دونوں فریق مراد ہیں۔ مما کسبوا دعا کو کسب اس لیے فرمایا کہ وہ اعمال میں سے ہے : وا اللہ سریع الحساب ( اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے) حسن فرماتے ہیں کہ جتنی دیر میں آنکھ جھپکتی ہے اس سے بھی جلدی حساب لے لیں گے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ قیامت عنقریب آنے والی ہے اس لیے آخرت کو طلب کرو ایام معدوادت…
Read the full tafseer →(203) اور ایام معلوم یعنی ایام تشریق کے پانچ دنوں میں یوم عرفہ، یوم النحر اور 11، 12، 13 کو اللہ تعالیٰ کی حمد و تہلیل (لا الہ الا اللہ) بہت زیادہ کیا کرو۔
اور جو شخص دسویں تاریخ کے دو دن بعد ہی اپنے گھر واپس آنا چاہے تو اس جلدی میں کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تیرہویں تاریخ تک منی میں ٹھہرے تو اس میں بھی کوئی گناہ کی بات نہیں، اس کی بخشش ہوجائے گی، تو تیرہویں تاریخ تک شکار کرنے سے رکا رہے گا اور تیرہویں تاریخ تک شکار کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔
Read the full tafseer →(وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ) عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ”ایام معدودات ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) ہیں۔“ [ بخاری، العیدین، باب فضل العمل۔۔ قبل، ح : 969 ] پھر امام بخاری ؓ نے باب باندھا ہے : ”منیٰ میں ٹھہرنے کے دنوں میں تکبیر کہنا اور جب عرفات کو جائے۔“ عمر ؓ منیٰ میں اپنے خیمے کے اندر تکبیر کہتے، مسجد والے اسے سنتے تو وہ بھی تکبیر کہتے اور بازاروں والے بھی تکبیر کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیرات سے گونج اٹھتا۔ اسی طرح ابن عمر ؓ بھی ان دنوں میں منیٰ میں تکبیر کہتے، نمازوں کے بعد تکبیر کہتے اور اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : واذکروا اللہ فی ایام معدودت اس میں چھ مسائل ہیں۔ :
مسئلہ نمبر، (1)
کو فیوں نے کہا ہے کہ معدودات میں الف اور تاعدد کی قلت کو بیان کرنے کے لئے ہیں اور بصریوں کا موقف ہے کہ یہ دونوں قلیل و کثیر کے لیے آتے ہیں اور اس پر دلیل رب العالمین کا یہ ارشاد ہے (آیت) ’ وھم فی الغرفت امنون “۔ (سبا : 37) اور غرفات کثیر ہیں۔ (یعنی غرفات میں الف اور تا کثرت کے بیان کے لئے ہیں اور (آیت) ” معدودت “ میں قلت کو بیان کرنے کے لئے۔ معلوم ہوا یہ دونوں قلیل وکثیر کے لئے آتے ہیں۔ )
اور علماء کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس آیت میں (آیت) ” ایام معدودت “۔ سے مراد ایام معنی ہیں اور یہی ایام تشریق…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا اور ابن ابی حاتم نے علی ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی ایام معدودت “ تین دن ہیں۔ یوم الاضحی اور اس کے بعد دو دن۔ ذبح کر جس دن میں تو چاہے اور افضل پہلا دن ہے۔
(2) الفریابی، ابن ابی الدنیا اور ابن المنذر نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذکروا اللہ فی ایام معدودت “ سے مراد تین دن ایام تشریق کے اور دوسرے لفظ میں یوم النحر کے بعد تین دن ہیں۔
(3) الفریابی، عبد بن حمید المروزی نے کتاب العیدین میں، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی نے الشعب میں، اور الضیاء نے المختارہ میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فی ایام…
Read the full tafseer →[ وَاذْکُرُوا : اور تم لوگ یاد کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کو ] [ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ : گنے ہوئے دنوں میں ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ تَعَجَّلَ : جلدی کی ] [ فِیْ یَوْمَیْنِ : دو دنوں میں ] [ فَلَا اِثْمَ : تو کسی قسم کا گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ وَمَنْ تَاَخَّرَ : اور جس نے دیر کی ] [ فَلاَ اِثْمَ عَلَیْہِ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے اس پر ] [ لِمَنِ اتَّقٰی : اس کے لیے جس نے تقویٰ کیا ] [ وَاتَّقُوا : اور تم لوگ تقویٰ کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کا ] [ وَاعْلَمُوْآ : اور تم لوگ جان لو ] [ اَنَّـــکُمْ : کہ ] [ اِلَــیْہِ : اس کی طرف ہی ] [ تُحْشَرُوْنَ : تم سب اکٹھا کیے جائو…
Read the full tafseer →ایام تشریق میں ذکر اللہ اور رمی جمار کی مشغولیت
آیت بالا میں اول تو یہ فرمایا کہ چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔ ان دنوں سے ایام تشریق مراد ہیں جن میں قربانیاں کی جاتی ہیں اور حجاج کا منیٰ میں قیام ہوتا ہے۔ اور جمرات کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس سے پہلے مزدلفہ میں ذکر کرنے کا حکم فرمایا اور عرفات میں تو ذکر اور دعا ہی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جمرات کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ کی سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ (رواہ التر مذی و قال حدیث حسن صحیح)
اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ مومن بندوں کو ہر وقت اس میں لگا رہنا چاہئے، بعض خاص ایام اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
اہل ذکر اور اہل دعا کی اقسام
قال تعالی، فمن الناس من یقول ربنا۔۔۔ الی۔۔۔ تحشرون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے ذکر اور یاد کا حکم تھا اب اہل ذکر کی اقسام کا بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے ذکر کرنے والے اور اسی سے دعا مانگنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ جو فقط دنیا کے طالب ہیں یہ لوگ فقط دنیاوی عزت اور وجاہت اور فقط مال و دولت کی دعا مانگتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت کی نعمتوں کا کوئی حصہ نہیں اور دوسرے وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کی خوبی اور بھلائی اللہ سے مانگتے ہیں ان کو تمام حسنات سے پورا حصہ ملے گا ایک تیسری قسم اور بھی ہے وہ یہ کہ سوائے آخرت کے کچھ نہ مانگے سواول تو ایسی قسم بہت ہی قلیل…
Read the full tafseer →389 ایاما معدودات سے مراد تین ایام تشریق ہیں یعنی 10، 11، 12 ذوالحجہ 9 ذی الحجہ کی رات مزدلفہ میں گزار کر علی الصباح حجاج کرام منی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ یہ مقام مکہ مکرمہ سے کوئی چار میل کے فاصلے پر شام سے ذرا مغرب کی طرف ہٹ کر واقع ہے۔ اس جگہ 10 سے لے کر 12 کو غروب آفتاب تک قربانیاں کی جاتی ہیں اور جمرات کی رمی کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہ ایام، تکبیر وتہلیل اور میری حمدوثنا اور دعاء و پکار ہی میں گذارو۔390 منی میں قیام کے دوران تین جگہوں پر جنہیں جمرات کہتے ہیں۔ کنکریاں پھینکی جاتی ہیں۔ پہلے دن یعنی 10 کو طلوع صبح کے وقت اور سب سے آخر میں جمرہ عقبہ پر۔ ہر جمرہ پر سات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
منیٰ کی مصروفیات
حج سے متعلق عرفات اور مزدلفہ کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب آخری مرحلہ منیٰ کے قیام کا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ فاذا قضیتم مناسکم پھر جب تم مناسک حج کو پورا کر چکو۔ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم عرفات اور مزدلفہ کے مناسک ادا کرلو تو پھر منیٰ آ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ کہ حج کے تمام ارکان منیٰ میں آ کر ختم ہوجاتے ہیں اور یہاں کا قیام حج کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
حج کے جملہ مناسک آٹھ ذی الحجہ کو احرام باندھنے سے شروع ہوتے ہیں اس دن حاجی منیٰ میں پہنچتے ہیں اور سنت کے مطابق وہاں پر پانچ نمازیں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اور نویں تاریخ کی…
Read the full tafseer →وَاذْكُرُوا اللہَ فِيْٓ اَيَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ 0 ۭ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ 0 ۚ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ 0 ۙ لِمَنِ اتَّقٰى 0 ۭ وَاتَّقُوا اللہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 203
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2 قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–203
1 ؎ مکہ سے عرفات کا میدان جہاں کہ نویں ذوالحج میں جانا اور دعا کرنا حج میں فرض ہے تقریباً سات میل شمال و مشرق کے رخ ہے۔ ایام جاہلیت میں قریش اس خیال سے کہ ہم کعبہ کے خادم ہیں وہاں تک نہیں جاتے تھے رستے ہی سے واپس آجاتے تھے۔ اس بات کو اس آیت میں منع کرکے حکم دیتا ہے کہ سب کو عرفات میں ٹھہر کر وہاں سے مزدلفہ اور منٰی اور مکہ کی طرف واپس آنا چاہیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ط فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج وَمَنْ تَاَخَّرَ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لا لِمَنِ اتَّقٰی ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔
(اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو، پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو ہی دن میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو کوئی ٹھہرا رہا ‘ اس پر بھی کچھ گناہ نہیں ‘ یہ رعایت اس کے لیے ہے جو تقوی کو ملحوظ رکھے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تم اسی کے حضور میں اکھٹے کیے جاؤگے) (203)
گزشتہ آیات میں عربوں کے اعمال قبیحہ اور ان کی رسومات بد پر کافی تنقید ہوچکی ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
کفّار نے منٰی کو تفریح کا میدان اور اس کے اجتماع کو ایک اجتماع عام کا رنگ دے کر تفاخر کا ذریعہ بنالیا تھا۔ شاعر اپنا اپنا کلام پیش کرتے جس میں عشق وعاشقی کی داستانیں اور اپنے آباء و اجداد کے کارناموں کو اس طرح بڑھا چڑھا کر بیان کرتے جس میں دوسرے قبائل کی توہین پائی جاتی۔ بسا اوقات لوگوں میں تصادم کی صورت پید اہوجاتی۔ اللہ تعالیٰ نے چند دن کا لفظ استعمال فرما کر یہ احساس دلایا ہے کہ ان قیمتی ایام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تم نے انہیں بھی فخروغرور کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ حالانکہ تمہیں اپنے رب کا شکر گزار اور اسے کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ جس کی…
Read the full tafseer →آیت 203:
وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَـلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓ ا اََنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ : (اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرو گنتی کے دنوں میں پھر جو جلدی چلا گیا۔ تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ ان کے لئے ہے جو پرہیز گاری اختیار کرے اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ اور یقین کرلو کہ تم اس کے ہاں جمع کیے جائو گے) وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ۔ گنتی کے دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں۔
مراد ذکر…
Read the full tafseer →203۔ (آیت)” واذکروا اللہ “ تکبیرات کے ساتھ نمازوں کے بعد اور (رمی) جمرات کے وقت کہ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے اور اس کے علاوہ بقیہ اوقات میں (فی ایام معدودات) گنے چنے دونوں میں یہ ایام تشریق اور یہ ایام منی اور رمی جمرات کے دن ہیں ان دنوں کے تھوڑے ہونے کی وجہ سے انہیں معدودات کا نام دیا گیا جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” دراھم معدودہ “ اور ایام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے دس دن ہیں جن کا آخری دن دس ذوالحجہ (یوم النحر) ہے اور اکثر اہل علم کا قول ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ (ایام) معلومات سے مراد دس ذوالحجہ کا دن اور دو دن اس کے بعد والے اور معدودات سے مراد ایام…
Read the full tafseer →حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ گنے ہوئے دن چار دن ہیں عید الضحٰی کا ایک روز اور تین روز اس کے بعد کے اور ایک جماعت صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے صحیح مسلم و مسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کی یاد کرنے کے ہیں 2۔ موسم حج میں لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے حج کے ذکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن کے جمع ہونے کو یاد دلایا اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنے سے مراد تکبیرات ہیں جو ان دنوں میں فرض نماز کے بعد کہی جاتی ہیں اور وہ تکبیرات بھی ہیں جو حاجی لوگ شیطانوں کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ گنتی کے چند دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، ان دنوں سے مراد عید کے بعد کے ایام تشریق (کے تین دن) ہیں، کیونکہ انہیں شرف و فضیلت حاصل ہے نیز اس لئے بھی کہ بقیہ تمام مناسک حج انہی ایام میں پورے کئے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان دنوں میں لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان دنوں میں روزہ رکھنا حرام قرار دیا ہے۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ایک ایسی خوبی ہے جو اور دنوں میں نہیں پائی جاتی، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ “ اور ان ایام میں جو اللہ کا ذکر کرنے کا حکم ہے، تو اس میں رمی جمار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
قول باری ہے (فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ومن تاخر فلا اثر علیہ لمن اتقی پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس تو کوئی حرج نہیں اور جو کچھ دیر ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں) اس آیت کی دو تفسیریں بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ جو شخص دو دنوں میں واپس ہوگیا اس پر کوئی گناہ نہیں اس لئے کہ حج مقبول کی بنا پر اس کی سیئات اور اس کے گناہوں کی تکفیر ہوگئی ہے۔
اسی طرح کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے ۔ حضور ﷺ سے بھی اسی مضمون کی ایک روایت ہے ۔ آپ نے فرمایا (من حج فلو یرفث ولم یفسق رجع کیوں مرولدتہ امہ۔ جس شخص نے حج کیا اور حج کے دوران رفث اور فسق…
Read the full tafseer →563 " ایام منیٰ " میں ذکر خداوندی کی ہدایت و تلقین : " ایام منیٰ " سے مراد ہیں " ایام تشریق " یعنی ذو الحجہ کی گیا رہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخ (ابن عباس ؓ ۔ نیز " یوم عرفہ " اور " یوم نحر " بھی اس میں شامل ہیں، کہ ان دنوں کو حدیث میں اکل و شرب اور خوشی کے دن فرمایا گیا ہے، اسی لئے ان میں فرض نمازوں کے بعد بآواز بلند تکبیرات کہی جاتی ہیں (ابن کثیر، محاسن التاویل، اور معارف وغیرہ) ۔ سو ان مخصوص اور مبارک دنوں میں اللہ پاک کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے زیادہ سے زیادہ بہرہ ور و سرفراز ہونے کی ضرورت ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
564 منیٰ سے کوچ کیلئے تعجیل و تاخیر دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–203
دنیاوی حصہ یا دنیاو آخرت
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حکم یہ ہے کہ حج سے فارغ ہو کر تم اللہ جل شانہ کی تسبیح و تقدیس کرو، اللہ کو یوں یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی کچھ زیادہ، یہ جاہلیت کے زمانہ کی رسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ قدیم عرب 12-11-10 ذوالحجہ کو منیٰ میں جمع رہتے اور وہاں اپنے قبیلہ اور باپ دادا کے کارنامے فخریہ انداز میں بیان کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کے کارناموں کی کہانیاں سناتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ چاہے جتنی دیر مرضی ٹھہرو مگر وہاں ذکر الٰہی میں مشغول رہو۔ کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والا، پرورش کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–210
آیات 197- 210
اسرارو معارف
الحج اشھر معلومات………………والی اللہ ترجع الامور۔
احکام حج :
عمرہ کے لئے تاریخ یا مہینہ مقرر نہیں بلکہ سارا سال جب چاہیں ادا کریں مگر حج میں یہ بات نہیں۔ بلکہ اس کے لئے مہینے مخصوص اور پھر تاریخیں مقامات اور پھر خاص تاریخوں میں مقررہ مقامات پر افعال و اعمال مقرر ہیں جو معروف ہیں کہ عہد جاہلیت میں بھی یہی مہینے مقرر تھے یعنی شوال ، ذی قعد اور دس روز ذی الحج کے اور اسلام میں بھی یہی باقی رہے۔ یعنی شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ اب جو کوئی حج کا ارادہ کرے تو یہ بات خوب جان لے کہ فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دوران حج بالکل گنجائش نہیں…
Read the full tafseer →ان ایام سے ایام تشریق یعنی 11 ۔ 12 ۔ 13، ذی الحجہ کے دن مراد ہیں ان ایام میں ذکر الہی یہ ہے کہ رمی کے وقت ہر کنکر کے ساتھ بآواز بلند تکبیر کہی جائے۔ نیر عام اوقات خصو صافرض نماوں کے بعد تکبیرات اور ذکر الہی میں مشغول رہا جائے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنے خیمہ میں اور چلتے پھر تے اور نما زوں کے بعد بلند آواز سے تکبیرات پڑھتے۔ ، حدیث میں ہے۔ ایاما التشریق ایام اکل وشرب وذکر اللہ۔ کہ تشریق کے دن کھا نے پینے اور ذکر الہی کے دن میں تکبیر ات کی ابتدا اور انتہا میں گو اختلاف ہے مگر صحیح یہ ہے کہ عرفہ کے دن صبح کی نماز سے شروع کی جائیں اور تشریق کے آخری دن یعنی 13 تاریخ کا نماز…
Read the full tafseer →(3:203) فی ایام معدودات دن جو معدودے چند ہیں۔ چند گنتی کے دن، چند دن گنتی کے۔
فائدہ : حج کا ذکر ہو رہا ہے مزدلفہ میں رات بسر کرکے دسویں تاریخ ذوالحجہ کو صبح سویرے بعد از نماز فجر وہاں سے نکل کر منی پہنچے۔ 10 /11/12 تاریخ کو منیٰ میں قیام کیا اور ذکرو اذکار میں مشغول رہے۔ اور دیگر مناسک حج کی ادائیگی کی مثلاً دس تاریخ کو جمرہ عقبہ کی رمی کی ، قربانی دی، سرمنڈایا، احرام سے باہر آئے، طواف زیارت کیا۔ صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔ اور واپس منیٰ آئے۔ اب منیٰ سے مکہ کی طرف واپسی کی دو صورتیں ہیں اگر کوئی شخص دسویں تاریخ کے بعد صرف دو دن قیام کرکے بارہ تاریخ کی شام کو مکہ معظمہ چلا جائے تو بھی درست ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–203
لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203
معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب…
Read the full tafseer →عید الاضحیٰ کے روزے اور تکبیرات
شان نزول : صحیح مسلم ومسند امام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (ایک یوم عید الفطر اور) ایک یوم عید الاضحیٰ کا، تین یوم اس کے بعد کے روزہ رکھنے سے منع فرما کر یہ فرمایا ہے کہ یہ دن کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ سال میں پانچ دن روزہ رکھنا حرام ہے جیسا کہ ذکر ہوا۔ (متفق علیہ حدیث بخاری ومسلم)
موسم حج میں لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حشر کے دن کے جمع ہونے کو یاد دلا یا اور ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے مراد وہ تکبیرات ہیں جو ان دنوں میں فرض نماز کے بعد کہی جاتی ہیں اور وہ تکبیرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–207
[138] یعنی ایام تشریق (10/ ذی الحجہ سے 13/ذی الحجہ)
[139] یعنی ایام تشریق میں منیٰ سے مکہ کی طرف واپسی خواہ 12/ذی الحجہ کو ہو یا 13/کو، دونوں صورتیں جائز ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–203
(ف 1) مکہ والے تعجیل کی صورت کو برا جانتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو رعایت بخشی کہ اگر وہ جلد فارغ ہو سکے ، اس سے تو کوئی مضائقہ نہیں اور اس طرح اگر تیسرے دن پر اٹھا رکھے تو بھی حرج نہیں دونوں صورتوں میں جائز ومباح ہیں ۔
مکہ والے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر اصرار کرتے تھے اور بڑی بڑی چیزوں کو فراموش کردیتے تھے ، وہ تاجیل وتعجیل کو تو بڑی اہمیت دیتے تھے ، لیکن توحید ان کے نزدیک بےوقعت چیز تھی ، اہتمام بالصغائر اور تساہل عن الکبائر ، یہ وہ مرض ہے جو مردہ اور بےحس قوموں میں پیدا ہوجاتا ہے ، وہ مقاصد و اصول کو پس پشت ڈال دینے میں کوئی باک نہیں سمجھتے اور غیر اہم جزئیات کو اہمیت دیتے ہیں اور اسی کو…
Read the full tafseer →ف 1
اور منیٰ میں اللہ تعالیٰ کا گنتی کے چند روز تک ذکر کرتے رہو یعنی دس ۔ گیارہ۔ بارہ یا تیرہ بھی اور جو شخص دسویں کے بعد دو ہی دن میں مکہ واپس آنے میں جلدی کرے تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو مکہ واپس ہونے کے لئے ان دونوں میں تاخیر کرے یعنی بجائے بارہویں کے تیرھویں کو آئے تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ سب طور طریقے اس شخص کے لئے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور جو نہ ڈرے اس کو گناہ ثواب سے کیا۔ غرض اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہو اور اس بات کو خوب جان لو کہ تم سب اسی کے حضور میں جمع کئے جائو گے۔ (تیسیر)
مزدلفہ کی واپسی پر منا میں قیام کرنے کا حکم ہے یہاں دس تاریخ کی صبح کو پہونچتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 202–204
ف 7۔ حاصل یہ ہے کہ دنیا ظرف طلب ہے خود مطلوب نہیں بلکہ مطلوب حسنہ ہے۔
Read the full tafseer →حج کے دنوں کی مشغولیت صرف اللہ کی یاد ہے :
353: فریضہ حج کے قریباً تمام ضروری احکام آگئے اب ایک بات کو بیان کرنا باقی ہے کہ نویں ذی الحجہ میدان عرفات سے بعد از مغرب یعنی سورج غروب ہونے کے بعد نکلے تھے منیٰ میں واپس آکر جمرہ عقبیٰ پر رمی کر کے قربانی کی گئی تھی قربانی ہو چکنے کے بعد حجامت اور غسل کر کے طواف افاضہ کے لئے بیت اللہ میں حاضری دی تھی طواف و سعی کے بعد دو بارہ میدان منیٰ میں لوٹ گئے تھے کوئی دسویں شام تک فارغ ہوگیا کوئی گیارہویں روز واپس منیٰ پہنچ پایا۔ اب تم کو منیٰ میں قیام کرنا ہے 11 ، 12 ، 13 ذی الحج کو ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے ان دنوں کا مخصوص ذکر تو تینوں جمرات پر…
Read the full tafseer →The emphasis on remembering Allah in Mina
In the last of the eight verses relating to injunctions about Hajj, that is, وَاذْكُرُوا اللَّـهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (And recite the name of Allah in the given number of days), the Hajj pilgrims have been asked to engage themselves in the remembrance of Allah so that their Hajj meets a perfect ending and their post-Hajj life becomes correct and fruitful. These 'given number of days' refer to (ayyam al-tashriq) ایام التشریق during which it is necessary (wajib) to say takbir (which is, اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر…
Read the full tafseer →222 Whether a person returned on the 12th or on the 13th of Dhu al-Hijjah from Mina to Makka during the day of tashriq (i.e. from the 10th to 13th of Dhu al-Hijjah) was immatcrial. What was of real importance was not the number of days spent at Mina but the intensity of one's devotion to God during the period of one's stay.
Read the full tafseer →