Explained with ayahs 190–193
حکم جہاد اور شرائط
حضرت ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، حضور ﷺ اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورة برأت نازل ہوئی، بلکہ عبدالرحمن بن زید بن سلام ؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ :5) ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لئے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 204
یہاں فتنہ کا لفظ اوپر کے معنی سے ذرا مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے۔ سیاق وسباق سے صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر ”فتنے“ سے مراد وہ حالت ہے جس میں دین اللہ کے بجائے کسی اور کے لیے ہو، اور لڑائی کا مقصد یہ ہے کہ یہ فتنہ ختم ہوجائے اور دین صرف اللہ کے لیے ہو۔ پھر جب ہم لفظ ”دین“ کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان میں دین کے معنی ”اطاعت“ کے ہیں اور اصطلاحاً اس سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو کسی کو بالا تر مان کر اس کے احکام و قوانین کی پیروی میں اختیار کیا جائے۔ پس دین کی اس تشریح سے یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ سوسائٹی کی وہ حالت، جس میں بندوں پر بندوں کی خدائی و فرماں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
خلاصہ تفسیر
پھر اگر (بعد شروع قتال کے بھی) وہ لوگ (یعنی مشرکین مکہ اپنے کفر سے) باز آجاویں (اور اسلام قبول کرلیں) تو ان کا اسلام بےقدر نہ سمجھا جاوے گا بلکہ) اللہ تعالیٰ (ان کے گذشتہ کفر کو) بخش دے گا اور (مغفرت کے علاوہ بیشمار نعمتیں دے کر ان پر) مہربانی (بھی) فرمادیں گے اور (اگر وہ لوگ اسلام نہ لاویں تو اگرچہ دوسرے کفار کے لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی اگر اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینے کا اقرار کرلیں تو ان کا قتل جائز نہیں رہتا بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت پر لازم ہوجاتی ہے مگر یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں ان کے لئے قانون جزیہ نہیں بلکہ ان کے لئے…
Read the full tafseer →سرزمین حرم میں اسلام کے سوا کسی اور دین کے لیے گنجائش نہیں : اس آیت سے اوپر والی آیت کے مضمون کی مزید وضاحت ہوگئی کہ کفار قریش سے یہ جنگ اس وقت تک جاری رہنی ہے جب تک سرمین حرم پر فتنہ کا کوئی اثر باقی ہے اور اللہ کے دین کے سوا کسی دوسرے دین کے لیے یہاں گنجائش نہیں ہے۔ اور اب یہ کام حضرت ابراہیم کی دعا اور اللہ کے وعدے کے مطابق ہونا ہے، کفار اس کو پسند کریں یا ناپسند۔ اسی بات کو سورة صفت میں یوں فرمایا ہے " هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ : وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو بھیجا اپنی ہدایت اور دین حق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
191۔ 1 مکہ میں مسلمان چونکہ کمزور اور منتشر تھے اس لئے کفار سے قتال ممنوع تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ساری قوت مدینہ میں جمع ہوگئی تو پھر ان کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ ابتداء میں آپ صرف انہی سے لڑتے جو مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کرتے اس کے بعد اس میں مزید توسیع کردی گئی اور مسلمانوں نے حسب ضرورت کفار کے علاقوں میں بھی جا کر جہاد کیا قرآن کریم نے (اَعْندَا) زیادتی کرنے سے منع فرمایا اس لئے نبی کریم ﷺ اپنے لشکر کو تاکید فرماتے کہ خیانت، بد عہدی اور مثلہ نہ کرنا نہ بچوں اور عورتوں اور گرجوں میں مصروف عبادت کرنے والوں کو قتل کرنا۔ اسی طرح درختوں کو جلانے اور حیوانات کو بغیر کسی مصلحت کے مارنے سے…
Read the full tafseer →123: یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جہاد کا اصل مقصد کسی کو اسلام پر مجبور کرنا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں کوئی شخص کفر پر اصرار کرے تب بھی جزیہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قوانین کی اطاعت کرکے اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے، لیکن جزیرۂ عرب کا حکم مختلف ہے، یہ وہ ملک ہے جہاں رسول کریم ﷺ کو براہ راست بھیجا گیا اور جہاں کے لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور آپ ﷺ کی تعلیمات براہ راست سنیں، ایسے لوگ اگر ایمان نہ لائیں تو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے زمانوں میں انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا گیا، آنحضرت ﷺ کے زمانے میں عذاب عام موقوف فرما دیا گیا، لیکن یہ حکم دیا گیا کہ…
Read the full tafseer →اسلام میں جنگ کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ لوگوں کے تشدد کے ذریعے ، دین اسلام سے نہ روکا جائے ۔ قوت کے ذریعے ، یا قوت سے بھی زیادہ مؤثر ہتھیار یعنی معاشرتی حالات کے ذریعے عوام کو اسلام سے نہ پھیرا جائے ۔ ان کے اخلاق کو خراب کرنے والے ، انہیں گمراہ کرنے والے اور انہیں فریب دینے والے ذرائع استعمال نہ کئے جائیں ۔ نیز یہ کہ اسلامی نظام کو وقعت حاصل ہوا اور اس کا پلڑا بھاری ہو ، اس کے دشمن ہیبت زدہ ہوں ۔ ان کو یہ جراءت نہ ہو کہ وہ اہل ایمان پر تشدد کریں یا انہیں اذیت دیں ۔ نیز عام لوگوں کے لئے اب کوئی خوف محسوس نہ ہو کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان پر تشدد ہوگا یا انہیں کوئی اذیت دی جائے گی ۔ ایک…
Read the full tafseer →5 یعنی کافروں سے لڑائی اسی واسطے ہے کہ ظلم موقوف ہو اور کسی کو دین سے گمراہ نہ کرسکیں اور خاص اللہ ہی کا حکم جاری رہے سو وہ جب شرک سے باز آجائیں تو زیادتی سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں یعنی جو بدی سے باز آگئے وہ اب ظالم نہ رہے تو اب ان پر زیادتی بھی مت کرو ہاں جو فتنہ سے باز نہ رہیں ان کو شوق سے قتل کرو۔
Read the full tafseer →آیت 193 وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط فَاِنِ انْتَہَوْا فَلاَ عُدْوَان الاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ
دعوت محمدی ﷺ کے ضمن میں اب یہ جنگ کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ مسلمانو جان لو ‘ ایک دوروہ تھا کہ بارہ تیرہ برس تک تمہیں حکم تھا کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ اپنے ہاتھ باندھے رکھو ! ماریں کھاؤ لیکن ہاتھ مت اٹھانا۔ اب تمہاری دعوت اور تحریک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اب جب تمہاری تلواریں نیام سے باہر آگئی ہیں تو یہ نیام میں نہ جائیں جب تک کہ فتنہ بالکل ختم نہ ہوجائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے ‘ اللہ کا دین قائم ہوجائے ‘ پوری زندگی میں اس کے احکام کی تنفیذ ہو رہی…
Read the full tafseer →255 فتنہ سے مراد ہر وہ مزاحمت اور قوت ہے جو تبلیغ و اشاعت اسلام کی راہ میں آڑے آئے جس سے اللہ کے دین کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام صرف مدافعانہ جنگ کا قائل نہیں۔ بلکہ اسلام کی اشاعت میں جو قوت رکاوٹ بنے اس سے جارحانہ جنگ کرنا ضروری ہے۔ تاآنکہ ایسی رکاوٹیں ختم ہوجائیں اور اللہ کا دین غالب ہو۔ البتہ جو لوگ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں اور جزیہ دینا قبول کرلیں۔ ان پر تمہیں ہاتھ نہ اٹھانا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے عقاید یا دین یا مذہب سے مجبور ہو کر اسلام قبول کرلیں کیونکہ اسلام قبول کرنے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
اس آیت اور اس سے پہلی…
Read the full tafseer →703 ۔ (ان لوگوں میں، یاسر زمین عرب پر) (آیت) ” قتلوھم “ میں ھم کی ضمیر کس کی طرف ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کا حکم کس کے مقابلہ میں دیا جارہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ روئے زمین کے عام کفار بھی مراد ہوسکتے ہیں، اور مشرکین عرب بھی سمجھے جاسکتے ہیں، لیکن فقہاء حنفیہ اور بہ کثرت تابعین نے مراد مشرکین مکہ ہی سے لی ہے۔ ومن راھا غیر ناسخۃ قال المعنی قاتلوا ھو لآء الذین قال اللہ فیھم فان قاتلوکم (قرطبی) وھم کفار مکۃ والفتنۃ ھھنا الشرک ولا یسن بھمسنۃ اھل الکتب فی قبول الجزیۃ قالہ ابن عباس وقتادۃ والربیع والسدی (بحر) عطف علی قاتلوا الذین یقاتلونکم ویؤیدہ ان مشرکین العرب لیس فی حقھم الا الاسلام اوالسیف (روح) وھذہ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ، یعنی تم جس خدا پر ایمان رکھتے ہو اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گنہگار کو بھی معاف کردیتا ہے جب کہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے یہی صفت تم اپنے اندر بھی پیدا کرو، تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے نہ ہو بلکہ خدا کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہو تمہاری لڑائی کسی گروہ یا جماعت سے اسی وقت تک ہونی چاہیے جب تک وہ راہ خدا میں مزاحم ہو اور جب وہ پنا رویہ چھوڑ دے تو تمہارا ہاتھ بھی اس پر نہ اٹھنا چاہیے۔
سابقہ آیت وَقَاقِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ میں جو مظلوم مسلمانوں کو قتال کی اجازت دی جا رہی ہے وہ اچانک اور بلا سبب نہیں…
Read the full tafseer →وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ( اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور رہ جائے طریقہ ایک اللہ کا) وقاتلوھم میں ضمیر ھممشرکین کی طرف راجع ہے فتنہ سے مراد شرک اور فساد ہے۔ ویکون الدین .... یعنی اطاعت اور عبادت اللہ وحدہٗ لا شریک کی راہ جائے غیر کو معبود نہ بنایا جائے ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ مجھ کو قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ شہادت دیں کہ سو اے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں جب ان امور کو کریں گے تو اپنی جان و مال کو مجھ سے بچالیں گے لیکن ان کے جان و…
Read the full tafseer →(193) اور جب ان کی طرف سے قتل کی پہل ہو تو پھر حرم میں ان کے ساتھ اس قدر قتال کرو کہ حرم کے اندر شرک کا نام ونشان مٹ جائے اور اسلام اور اظہار بندگی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہوجائے۔
اور اگر یہ کفار حرم میں لڑائی کرنے سے باز آجائیں تو پھر قتل کرنے کی کوئی اجازت نہیں مگر صرف وہ لوگ جو خود سے لڑائی کی پہل کریں۔
Read the full tafseer →یعنی ان سے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک فتنہ (شرک اور اس پر مجبور کرنے کے لیے ظلم و ستم) کا ہر طرح سے قلع قمع نہیں ہوتا اور اللہ کا دین ہر طرح سے غالب نہیں آجاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پھر جب وہ یہ کام کرلیں تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے اموال مجھ سے محفوظ کرلیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب (فإن تابوا وأقاموا۔۔) : 25 ]
اِلَّا عَلَي الظّٰلِمِيْنَ) یعنی اگر یہ شرک سے یا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 193
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقٰتلوھم یہ ہر جگہ ہر مشرک سے جنگ کرنے کا حکم ہے۔ اس کے قول کے مطابق جو اسے ناسخ دیکھتا ہے اور جو اسے غیر ناسخ کہتا ہے وہ کہتا ہے : اس کا معنی ہے ان سے لڑو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فان قٰتلوکم اگر وہ تم سے لڑیں، پہلا قول اظہر ہے۔ یہ مطلق قتال کا امر ہے اس میں کفار کے آغاز کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : ویکون الدین للہ (دین اللہ کے لئے ہوجائے) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا یہ کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ کہیں لآ الٰه الا اللہ۔ یہ آیت اور حدیث دلالت کرتی ہیں کہ قتال کا…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور ” یکون الدین “ سے مراد ہے کہ توحید خالص اللہ کے لئے ہوجائے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقتلوہم حتی لا تکون فتنۃ “ سے مراد شرک ہے (اور) لفظ آیت ” فان انتھوا فلا عدوان الا علی الظلمین “ سے مراد ہے کہ تم قتال نہ کرو مگر جو تم سے قتال کرتے ہیں۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، النحاس نے ناسخ میں اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” ولا تقاتلوہم عند المسجد الحرام…
Read the full tafseer →[ وَقٰتِلُوْہُمْ : اور تم لوگ جنگ کرو ان سے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ لاَ تَـکُوْنَ : نہ ہو ] [ فِتْنَۃٌ : کوئی تشدد ] [ وَّیَکُوْنَ : اور (یہاں تک کہ) ہو ] [ الدِّیْنُ : نظامِ حیات ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ] [ فَاِنِ انْتَہَوْا : پھر اگر وہ لوگ باز آجائیں ] [ فَلاَ عُدْوَانَ : تو کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہے (ان پر) ] [ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ : مگر ظلم کرنے والوں پر ]
ترکیب :” حَتّٰی “ کے بعد ” اَنْ “ مقدر ہے جس کی وجہ سے ” لَا تَـکُوْنَ “ منصوب ہے اور یہ ” کَانَ “ تامّہ ہے۔ ” فِتْنَۃٌ“ اس کا فاعل ہے۔” یَکُوْنَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ” تَـکُوْنَ “ پر عطف ہے۔ یہ ” کَانَ “ ناقصہ ہے…
Read the full tafseer →قتال کب تک ہونا چاہئے :
پھر فرمایا (وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ) (یعنی کافروں سے یہاں تک جنگ کرو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے) اس میں قتال کی ضرورت اور غرض وغایت بیان فرمائی ہے شرک اور کفر بد ترین گناہ ہے۔ خالق ومالک کی بغاوت ہے۔ دنیا میں اس کو مٹانے کے لیے کافروں اور مشرکوں سے جنگ کرتے رہیں اور یہاں تک جنگ کریں کہ سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔ صحیح بخاری ج 1 صفحہ 8 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہ حکم ہوا کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللّٰہ کو نہ مانیں۔ جب انہوں نے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
حکم نہم متعلق بہ قتال کفار۔
قال تعالی، وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ مع المتقین۔
گزشتہ آیات میں حج اور روزہ کے لیے خاص مہینہ کا ہونا بیان فرمایا کہ سوائے ان ایام مقررہ کے دوسرے ایام میں حج نہیں ہوسکتا اسی طرح ملت ابراہیمی میں یہ حکم تھا کہ چار مہنوں میں قتل و قتال حرام ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب۔ یہ چار مہینے اشہر حرم کہلاتے تھے اور یہ چاروں مہینے امن کے کہلاتے تھے ان دنوں میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی تھی اور کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا تھا اس بناء پر نبی صلی اللہ نے ذی قعدہ الحرام س 6 ھجری میں صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ عمراہ کا قصد فرمایا جب مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین…
Read the full tafseer →ف 367: اگر وہ کفر وشرک سے باز آجائیں اور تم سے لڑائی بند کردیں اور دین اسلام اور توحید کو قبول کرلیں تو پھر ان پر کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ البتہ ان میں سے جو ظالم ہوں یعنی کفر وشرک پر قائم ہوں اور تم سے برسر پیکار ہوں ان سے بیشک لڑو۔ اور انہیں قتل کرو۔ فان انتھوا عن قتالکم ودخلوا فی ملتکم واقروا بما الز مکم اللہ من فرائضہ وترکوا ماھم علیہ من عبادۃ الاوثان (ابن جریر ص 109 ج 2) اور عدوان سے یہاں جنگ اور سزائے قتل مراد ہے۔ والمراد بالعدوان ھھنا المعاقبۃ والمقاتلۃ (ابن کثیر ص 227 ج 1) (ابن کثیر ص 227 ج 1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
جہاد کی قسمیں
اسلام کے پہلے چار ارکان کا بیان سابقہ دروس میں آ چکا ہے ، اب یہاں سے جہاں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ لفظ جہاد ایک عام لفظ ہے اور یہ وسیع تر معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اور قتال خاص ہے ، جس سے مراد جنگ ہے ، جہاد ظاہری اور باطنی طاقت کو دشمن کے مقابلے میں بقائے امن اور اقامت دین کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔ حضور ﷺ نے جہاد کی کئی شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا یا جاھد والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی مشرکوں کے خلاف اپنے مال جان اور زبان کے ساتھ جہاد کرو ، یہ صحیح حدیث مسند احمد اور بو دائود شریف میں موجود ہے ، جان و مال کے ساتھ جہاد کی صورت تو واضح ہے کہ کلمہ توحید بلند کرنے کے…
Read the full tafseer →وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلہِ 0 ۭ فَاِنِ انْتَہَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّٰلِـمِيْنَ 193
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی دنیا پر سب احکامِ الٰہی چلنے لگیں رکاوٹ اٹھ جائے سرکشوں کے قتل اور مغلوب کرنے سے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَاتَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَاعُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ۔
(اور ان سے جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے اور دین اللہ کا ہو کر رہ جائے اور اگر یہ باز آجائیں تو پھر اقدام ان کے خلاف جائز ہے جو ظالم ہیں) (193)
اسلامی انقلاب کا ہدف
اس آیت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس ہدف کا اعلان کردیا جائے اور وہ ہدف یہ ہے کہ مشرکین سے مسلمانوں کے لیے صرف چند مراعات حاصل کرلینا مقصود نہیں اور نہ یہ مطلوب ہے کہ قریش مکہ اگر اپنے ظالمانہ رویہ سے رک جائیں تو باقی انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
فہم القرآن
ربط کلام : حرمت کے مہینوں کا تعلق بھی چاند سے ہے۔ اس لیے حرمت کے مہینوں کے بیان میں ان سے متعلقہ مسائل کا بیان ضروری سمجھا گیا۔
رسول محترم ﷺ اور مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم سہتے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس دوران مسلمانوں پر یکے بعد دیگرے بدر، احد اور خندق کی جنگیں بھی مسلط کی گئیں۔ لیکن آپ اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ نبوت کے اٹھارہویں سال ایک غیبی اشارے کی بنیاد پر عمرہ کی نیت سے آپ عازم مکہ ہوئے۔ لیکن اہل مکہ نے قومی اخلاق اور حرم کی دینی اقدار کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کو عمرہ کرنے سے روک دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف چلے تھے لیکن یہ بھی…
Read the full tafseer →193۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ : (ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے) یعنی شرک
نحوی تحقیق :
یہ کان تامہ ہے اور حتی کَیْ کے معنی میں ہے یا اِلٰی اَنْ کے معنی میں
وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ : (اور دین ہوجائے خالص) اس طرح کہ شیطان کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ یعنی اس کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کی جائے۔
ظالم سے مراد :
فَاِنِ انْتَھَوْا فَـلَا عُدْوَانَ اِلَّاعَلَی الظّٰلِمِیْنَ : (اگر وہ باز آجائیں تو کسی پر زیادتی نہیں سوائے ظالموں کے) یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں تو ان سے مت لڑو۔ اس لئے کہ زیادتی صرف ظالمین پر ہی ہے اور یہ ایمان کی وجہ سے ظالم نہیں رہے)
دوسرا قول : ظالموں کے…
Read the full tafseer →193۔ (آیت)” وقاتلوھم “ مشرکین سے (قتال کرو) (آیت)” حتی لاتکون فتنۃ “ شرک باقی نہ رہے مشرکین سے اس وقت تک قتال کرتے رہو ، یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں ، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بت پرست سے اسلام ہی قبول کیا جائے گا ، اسلام سے اگر انکار کرے تو قتل کردیا جائے ۔ (آیت)” ویکون الدین “ طاعت و عبادت (للہ) صرف اسی ایک ذات (احد) کی ہوجائے ۔
پس اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کی جائے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر ؓ کے زمانہ فتنہ میں ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس آیا پس کہا آپ کو (ان دنوں میدان قتال میں) نکلنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا میرے لیے رکاوٹ یہ چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(191 ۔ 193) ۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو بہت اسلام نہ ہونے سے اور مسلمانوں کی جماعت تھوڑی ہونے سے جہاد کا حکم نہ تھا۔ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا۔ اور مکہ میں درگذر کرنے کی جتنی آیتیں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگئیں۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” جو تم سے لڑیں ان سے لڑو۔ “ علماء مفسرین کے نزدیک اس کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں بچے بوڑھے جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑوں اور ان کو مت مارو۔ اس صورت میں یہ آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہے۔ دوسرے معنی یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(آیت) وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ” اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو “ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کردیا، کیونکہ مسجد حرام کیق ریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔
یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلامقبول کرلیں۔ (اگر وہ ایسا کرلیں) ( تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
قول باری (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ) کافروں سے قتال کی فرضیت کو ضروری قرار دیتا ہے حتیٰ کہ وہ کفر سے باز آ جائیں ۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ایک قول ہے کہ کفر کو اس لئے فتنہ کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے جس طرح فتنہ انسان کو ہلاکت کی راہ دکھاتا ہے۔
ایک قلو یہ بھی ہے کہ فتنہ سے مراد آزمائش ہے اور کفر سے مراد آزمائش کی گھڑی میں اظہار فساد ہے۔ دین کے معنی طاعات کے ذریعے اللہ کے سامنے جھک جانے اور فرماں برداری بجا لانے کے ہیں۔ لغت میں دین کا مفہوم دو معنوں میں منقسم ہے۔ اول انقیاد یعنی فرماں برداری۔ اعشیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–194
531 جہاد اسلامی کا مقصد فتنہ و فساد کی سرکوبی : سو جہاد اسلامی کا مقصد یہی ہے کہ فتنہ و فساد باقی نہ رہے، اور کفر و شرک کو حق کے مقابلے میں سر اٹھانے کی، اور اس کا راستہ روکنے کی ہمت و سکت نہ رہے۔ یا تو کفر و باطل کی ظلمت بالکل مٹ جائے، یا وہ حق کے سامنے مغلوب اور سرنگوں ہو کر رہے، کہ غلبہ بہرحال حق ہی کا ہے، اور اسی کو غالب رہنا چاہیئے تاکہ دنیا اس کے نور سے فیضیاب ہو کر دارین کی سعادت و کامرانی سے بہرہ مند ہوسکے۔ اور یہی خلاصہ و مقصود ہے جہاد اسلامی کی مشروعیت کا، جیسا کہ ابھی اوپر حاشیہ نمبر 26 اور 27 میں بھی گزرا۔ تاکہ حق غالب ہو اور تمام بنی نوع انسان کا بھلا ہو۔ دنیا کی اس عارضی زندگی…
Read the full tafseer →جنگ کی آخری حد
تشریح : اس آیت میں لڑائی کی آخری حد بیان کردی گئی ہے۔ اسلام زبردستی اور ظلم کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اسلام کا مطلب ہے امن و سکون۔ یعنی قانون اللہ کا نافذ ہو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ امن و سکون سے رہیں، ان کی عبادت گا ہیں بالکل محفوظ رہیں، اسلام کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاؤٹ پیدا نہ ہو، امن و سکون کو برقرار رکھنے کے لئے اسلام کے پاس تین راہیں کھلی ہیں۔ (درس قرآن)
1 ۔ لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دے۔ اگر ایمان لے آئیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا۔
2 ۔ اگر لوگ اسلام قبول کرنے کو تیار نہ ہوں۔ البتہ اسلام کی مخالفت سے باز آنے کا اقرار کرلیں تو شوق سے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
ف 2 یعنی ان سے اس وقت تک بر سر پیکار ہو جب تک کہ فتنہ شرک اور ظلم وستم) کا ہر طرح سے قلع قمع ہوجاتا اور اللہ تعالیٰ کا دین ہر طرح سے غالب نہیں آجاتا۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا، مجھے اس وقت تک لڑنے کا حکم ملا ہے جب تک وہ الا لہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوجاتے جب وہ اس کے قائل ہوجا " ئیں گے تو ان کے جان ومال محفوظ ہیں۔ الایہ کہ ان پر اسلام کی رو سے کوئی حق عائد ہو تو اسے پورا کیا جائے گا۔ (ابن کثیر، بحوالہ صحیحین)3 یعنی اگر یہ شرک اور مسلمانوں کے ساتھ مقاتلہ سے باز جائیں تو اس کے بعد جو شخص ان سے جنگ کرے گا وہ ظالم ہے اور اسے اس زیادتی کی سزا ملے گی یہاں عدوان کا لفظ ایسی ہی سزا کے معنی…
Read the full tafseer →(2:193) فلا عدوان۔جواب شرط کے لئے ہے۔ جملہ جزائیہ ہے ۔ (فان انتھوا اس سے قبل کا جملہ شرطیہ ہے) عدوان یہ عدا یعدوا (باب نصر) کا مصدر ہے۔ زیادتی ، ظلم، ستم، تعدی، بہت بری طرح حد سے بڑھ جانا۔ ترجمہ : تو کسی پر زیادتی نہیں سوائے ۔۔ الخ الظلمین۔ ظلم کرنے والے۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر۔ مجرور ۔ یہاں ظالمین سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور حرب میں باقی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195
قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
شان نزول : ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا اور مکہ میں درگزر کرنے کی جتنی آیتیں اتریں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگیئں۔ اس آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ جو تم سے لڑیں ان سے لڑو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں، بچے بوڑھے، جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑو اور ان کو مت مارو۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے سوا جو بھی انمرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے لڑو۔ مقابلہ نہ کرنے والوں سے مت لڑو۔
فوائد القرآن : حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کی شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے۔ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
[126] یہاں فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب اور توحید کی مخالفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
جنگ اور رعایت اخلاق :
(ف 1) اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاح کی ہے ، وہاں شعبہ حرب کو بھی فراموش نہیں کیا ، اسلام سے پہلے لوگ جن میں کسی قسم کی رعایت کو ملحوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اسلام نے بتایا کہ جنگ میں بھی اخلاق وتدین کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے ، اس لئے کہ جنگ اخلاق مندوں سے نہیں ‘ بلکہ ایک اخلاق باختہ قوم سے ہے ، مقصد یہ ہے کہ اخلاق دین کے تحفظ کے لئے آخری قطرہ خون بھی بہا دیا جائے ، مکہ والے ذی قعد ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب میں جنگ کو روک دیتے تھے اور ان چار مہینوں کو احترام کے قابل سمجھتے تھے ، قرآن حکیم نے بھی ان کی اس حرمت کو برقرار رکھا اور فرمایا کہ اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 1 اور ان کفار عرب سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک کہ فتنہ کا بالکل سد باب ہوجائے اور دین خالص اللہ تعالیٰ ہی کا ہوجائے پھر اگر یہ کفار عرب اپنے کفر سے باز آجائیں اور مشرکانہ روش سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائیں تو یہ بات یاد رکھو کہ دست درازی اور سزا کی سختی کی اجازت سوائے ظالموں کے اور کسی پر نہیں ہے۔ (تیسیر)
یعنی ہرچند کہ عام کفار کے ساتھ جنگکا قاعدہ یہ ہے کہ خواہ وہ جارحانہ ہو یا مدافعانہ کہ ان سے کوئی معاہدہ ہوجائے یا وہ جزیہ یعنی حفاظتی ٹیکس اداکرنا قبول کرلیں تو جنگ ختم کردی جائے لیکن عرب کے بت پرستوں کے ساتھ جنگ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ وہ ہیں جن میں پیغمبر اسلام پیدا ہوئے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی…
Read the full tafseer →فتنہ کے خاتمہ تک جنگ جاری رہے گی ، فتنہ ختم ہوگا تو اللہ کا دین جاری ہوگا :
332: ” ان سے لڑائی جاری رکھو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے “ فتنہ کیا ہے ؟ فتنہ یہ ہے کہ اللہ کے دین کو انہوں نے اللہ کا نہیں رہنے دیا۔ اگر اللہ کے دین کو وہ اللہ ہی کا رہنے دیتے تو آخر لڑائی ہی کیوں لڑتے ؟ مسلمانوں کو جو دکھ دیا جاتا ہے اس کا سبب کیا ہے ؟ اس کا سبب صرف ان کا مسلمان ہونا ہے اور مشرکین گویا جنگ اس لئے لڑ رہے ہیں کہ یہ مسلمان ، مسلمان کیوں ہیں ؟ اب فرمایا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم بھی ان مشرکوں سے جنگ لڑو یہاں تک کہ مسلمانوں کو دین اسلام کی وجہ سے دکھ نہ دیا جائے۔ آگے فرمایا : ” وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
Commentary
1. When the Holy Prophet decided to travel to Makkah in the year 7 A.H. to perform his qada"Umrah as envisaged in the peace treaty of Hudaybiyyah; his Companions ؓ who were to accompany him knew that disbelievers could not be trusted with treaties, or peace. It was quite possible that they may start fighting. Now, the blessed Companions had a problem before them. They thought if this fighting came, it would have to be within the sacred precincts of Makkah, which is not permissible in Islam. This doubt was answered in Verse 191 by stating that the sanctity of the sacred precincts of…
Read the full tafseer →204. Here the term fitnah is used in a different sense from the one in which it was used above (see verse 191) . It is evident from the context that fitnah refers here to the state of affairs wherein the object of obedience is someone other than God. Hence the purpose of a believer's fighting is that this fitnah should cease and obedience should be consecrated to God alone.
An investigation of the usages of the word din (which occurs in this verse) reveals that the core of its meaning is obedience. In its technical usage, the word refers to that systern of life which arises as a result of a…
Read the full tafseer →