Explained with ayahs 190–193
حکم جہاد اور شرائط
حضرت ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، حضور ﷺ اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورة برأت نازل ہوئی، بلکہ عبدالرحمن بن زید بن سلام ؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ :5) ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لئے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 203
یعنی تم جس خدا پر ایمان لائے ہو، اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گناہ گار کو بھی معاف کردیتا ہے، جبکہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے۔ یہی صفت تم اپنے اندر بھی پیدا کرو۔ تخلّقوا باخلاق اللہ۔ تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لیے نہ ہو بلکہ خدا کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لیے ہو۔ جب تک کوئی گروہ راہ خدا میں مزاحم رہے، بس اسی وقت تک اس سے تمہاری لڑائی بھی رہے، اور جب وہ اپنا رویہ چھوڑ دے، تو تمہارا ہاتھ بھی پھر اس پر نہ اٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
خلاصہ تفسیر
پھر اگر (بعد شروع قتال کے بھی) وہ لوگ (یعنی مشرکین مکہ اپنے کفر سے) باز آجاویں (اور اسلام قبول کرلیں) تو ان کا اسلام بےقدر نہ سمجھا جاوے گا بلکہ) اللہ تعالیٰ (ان کے گذشتہ کفر کو) بخش دے گا اور (مغفرت کے علاوہ بیشمار نعمتیں دے کر ان پر) مہربانی (بھی) فرمادیں گے اور (اگر وہ لوگ اسلام نہ لاویں تو اگرچہ دوسرے کفار کے لئے اسلامی قانون یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی اگر اسلامی حکومت کی اطاعت اور جزیہ دینے کا اقرار کرلیں تو ان کا قتل جائز نہیں رہتا بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت اسلامی حکومت پر لازم ہوجاتی ہے مگر یہ خاص کفار چونکہ اہل عرب ہیں ان کے لئے قانون جزیہ نہیں بلکہ ان کے لئے…
Read the full tafseer →" پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ غفور رحیم ہے "۔ " باز آجائیں " سے مراد صرف جنگ سے رک جانا نہیں ہے۔ یہاں اس باز آجانے کا صلہ یہ بتایا ہے کہ " پھر اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے " ظاہر ہے کہ کفار اگر مسلمانوں سے جنگ نہ کریں تو اس کا زیادہ سے زیادہ صلہ یہ ہوسکتا ہے کہ مسلمان بھی ان کو مہلت دیں اور بالفعل ان سے جنگ نہ کریں، یہ صلہ تو اس کا نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام کفر و فسق کو معاف کردے۔ اس سے یہاں باز آجانے سے مقصود اس عناد و مخالفت، اور اس جبر و ظلم (Persecution) سے باز آجانا ہے جس کے قریش مرتکب ہوئے تھے اور جس کے ذریعہ سے انہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تھا اور ساتھ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
191۔ 1 مکہ میں مسلمان چونکہ کمزور اور منتشر تھے اس لئے کفار سے قتال ممنوع تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ساری قوت مدینہ میں جمع ہوگئی تو پھر ان کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ ابتداء میں آپ صرف انہی سے لڑتے جو مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کرتے اس کے بعد اس میں مزید توسیع کردی گئی اور مسلمانوں نے حسب ضرورت کفار کے علاقوں میں بھی جا کر جہاد کیا قرآن کریم نے (اَعْندَا) زیادتی کرنے سے منع فرمایا اس لئے نبی کریم ﷺ اپنے لشکر کو تاکید فرماتے کہ خیانت، بد عہدی اور مثلہ نہ کرنا نہ بچوں اور عورتوں اور گرجوں میں مصروف عبادت کرنے والوں کو قتل کرنا۔ اسی طرح درختوں کو جلانے اور حیوانات کو بغیر کسی مصلحت کے مارنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
122: لفظ“ فتنہ ”قرآن کریم میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے جن میں سے ایک معنی ظلم اور تشدد کے بھی ہیں اور شاید یہاں یہی معنی مراد ہوں، مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل سے روکنے کے لئے بدترین تشدد روا رکھا ہوا تھا، لہذا بظاہر یہاں مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کسی کو قتل کرنا اپنی ذات میں کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن فتنہ اس کے مقابلے میں زیادہ سخت برائی ہے اور جہاں فتنے کا سد باب قتل کے بغیر ممکن نہ ہو وہاں قتل کے سوا چارہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے ، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ، مارے جائیں ، جہاں بھی ہوں مارے جائیں ۔ ماسوائے مسجد حرام کے ، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کردیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں ۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو ، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ…
Read the full tafseer →4 یعنی باوجود ان سب باتوں کے اگر اب بھی مسلمان ہوں اور شرک سے باز آئیں تو توبہ قبول ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت 191 وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ
مہاجرین مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تھے ‘ وہاں پرٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی اہل ایمان پر قافیہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ تبھی تو آپ ﷺ نے ہجرت کی۔ اب حکم دیا جا رہا ہے کہ نکالو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے۔
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ج ۔
کفار و مشرکین سے قتال کے ضمن میں کہیں یہ خیال نہ آئے کہ قتل اور خونریزی بری بات ہے۔ یاد رکھو کہ فتنہ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے۔ فتنہ کیا ہے ؟ ایسے حالات جن میں انسان خدائے واحد کی بندگی نہ کرسکے ‘ اسے غلط کاموں پر مجبور کیا جائے ‘ وہ حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
252 اب جہاں بھی موقع پیش آئے تم ان سے لڑائی کرو اور تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہیے کہ جیسے انہوں نے اسلام لانے کی وجہ سے تمہیں مکہ سے نکالا تھا۔ تم بھی ان کو ان کے مشرک ہونے اور مشرک رہنے کی وجہ سے مکہ سے نکال کے دم لو، اور یہ ادلے کا بدلہ ہے۔
253 فتنہ کا لفظ عربی زبان میں بڑے وسیع مفہوم اور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مشرکین مکہ کا بیت اللہ کا متولی ہونا اور بیت اللہ میں بت رکھنا، مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز ادا کرنے، حتیٰ کہ داخل ہونے سے روکنا یہ سب فتنہ کے کام ہیں گویا یہاں فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہر وہ حرکت ہے جو انہوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →701 ۔ (محض جنگ سے نہیں، جسے انہوں نے شروع کیا تھا، بلکہ عقائد کفر وشرک سے جو محرک اور باعث بنے ہوئے تھے جنگ و قتال کے) اے عن الکفر والشرک وتابوا (ابن عباس) اے فان تابوا (ابن جریر۔ عن مجاہد) من قتالکم وکفرھم باللہ (ابن جریر) عن الشرک والقتال (مدارک) یعنی انتھوا بالایمان (ابن العربی) عن الکفر بالتوبۃ منہ کما روی عن مجاہد وغیرہ اوعنہ و عن القتال (روح) (آیت) ” فان انتھوا “ میں ضمیر غائب کفار محاربین کی طرف ہے، حرف تعقبسے مراد ہے، جنگ شروع کرنے کے بعد، جن مفسرین جدید نے انتھوا سے صرف جنگ میں باز آجانا مراد لیا ہے۔ انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔
702 (اس لیے ان کی توبہ قبول کرلی جائے گی، انہیں دائرہ اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ، یعنی تم جس خدا پر ایمان رکھتے ہو اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گنہگار کو بھی معاف کردیتا ہے جب کہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے یہی صفت تم اپنے اندر بھی پیدا کرو، تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے نہ ہو بلکہ خدا کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہو تمہاری لڑائی کسی گروہ یا جماعت سے اسی وقت تک ہونی چاہیے جب تک وہ راہ خدا میں مزاحم ہو اور جب وہ پنا رویہ چھوڑ دے تو تمہارا ہاتھ بھی اس پر نہ اٹھنا چاہیے۔
سابقہ آیت وَقَاقِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ میں جو مظلوم مسلمانوں کو قتال کی اجازت دی جا رہی ہے وہ اچانک اور بلا سبب نہیں…
Read the full tafseer →فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) یعنی اگر یہ قتال اور کفر سے باز رہیں تو گذشتہ خطا میں اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بندوں پر رحمت کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(191۔ 192) اور اگر مشرکین قتال کی پہل کریں سو وہ جس مقام پر بھی ہوں ان کو قتل کردو اور مکہ مکرمہ سے ان کو نکال دو جس طرح کہ انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور بتوں کی پوجا کرنا، یہ تمام چیزیں حرم میں لڑائی کرنے سے زیادہ بدتر ہیں۔
اور حرم میں جب تک کہ کفار لڑائی کی پہل نہ کریں تم ان سے لڑائی نہ کرو اور اگر یہ پہل کریں تو تم بھی ایسا ہی کرسکتے ہو، قتل ہی ان کی سزا ہے لیکن اگر یہ کفر وشرک سے رک جائیں (یعنی ایمان اختیار کرکے مسلمان جماعت میں داخل ہوجائیں) اور توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا اور جو توبہ کی حالت پر انتقال کرجائے اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور 9 ہجری میں ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور انھیں سورة توبہ میں مذکور اعلان کرنے کا حکم دیا جس کے مطابق مشرکین کو چار ماہ تک مکہ میں اور سرزمین عرب میں چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی، اس کے بعد مسلمان نہ ہونے کی صورت میں وہ جہاں ملیں انھیں قتل کرنے کا حکم دے کر جزیرۂ عرب سے نکال دیا گیا۔ دیکھیے سورة توبہ کی پہلی پانچ آیات۔ پھر یہود کو بھی پہلے مدینہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق عمر ؓ کے زمانے میں سر زمین عرب سے نکال دیا گیا۔ یہ سب اسی ”اَخْرِجُوْھُمْ“ کے حکم کی تعمیل تھی۔
الْفِتْنَةُ اس کا اصل معنی آزمائش میں ڈالنا ہے، مفسرین سلف نے اس کا معنی شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت نمبر 191 تا 192
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ثقفتموھم کہا جاتا ہے ثقف یثقف ثقفاوثقفا۔ رجل ثقف وہ شخص جو کاموں کو پختہ کرنا ہے۔ اس آیت میں قیدی کو قتل کرنے پر دلیل ہے۔ اس کا بیان سورة انفال میں انشاء اللہ آئے گا۔ واخرجوھم من حیث اخرجوکم یعنی مکہ سے تم ان کو نکالو۔ طبری نے کہا : یہ خطاب مہاجرین کے لئے ہے اور ضمیر کفار قریش کے لئے ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والفتنۃ اشد من القتل وہ فتنہ جس پر انہوں نے تمہیں ابھارا اور انہوں نے اس کے ذریعے تمہارے کفر کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا ہو قتل سے زیادہ شدد ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے مومن کو قتل کرنے…
Read the full tafseer →(آیت نمبر 185 کا بقیہ حاشیہ)
(81) ابن ابی شیبہ، مسلم نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ہم کو آمادہ فرماتے تھے اور آپ اپنی طرف سے اس کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ جب رمضان فرض کیا گیا پھر ہم کو نہ تو (عاشورہ کے روزہ کا) حکم دیا گیا اور نہ ہم کو منع کیا گیا اور نہ ہم کو اس کی ترغیب دی۔
(82) عبد بن حمید، ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے مراد ہے کہ جو گھر میں ٹھہرا ہوا ہو۔
(83) عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ “ سے مراد ہے کہ جو شخص شہر میں…
Read the full tafseer →[ فَاِنِ : پس اگر ] [ انْتَھَوْا : وہ لوگ باز آئیں ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
ن ھـ ی
نَھٰی (ف) نَھْیًا : (1) کسی کام سے منع کرنا ‘ روکنا۔ (2) ذہین ہونا ‘ زیرک ہونا (تاکہ صحیح چیز سے روکے) ۔ { اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِط } (العنکبوت :45) ” بیشک نماز روکتی ہے بےحیائیوں سے اور برائی سے۔ “
اِنْہَ (فعل امر) : تو منع کر ‘ تو روک۔ { وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ } (لقمن :17) ” تو ترغیب دے نیکی کی اور منع کر برائی سے۔ “
نَاہٍ (اسم الفاعل) : منع کرنے والا۔ {…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) یعنی اگر مشرکین کفر اور شرک سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو (اھل اسلام سے قتال بھی نہ کریں گے) اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (وہ سب کی توبہ قبول فرماتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
حکم نہم متعلق بہ قتال کفار۔
قال تعالی، وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ مع المتقین۔
گزشتہ آیات میں حج اور روزہ کے لیے خاص مہینہ کا ہونا بیان فرمایا کہ سوائے ان ایام مقررہ کے دوسرے ایام میں حج نہیں ہوسکتا اسی طرح ملت ابراہیمی میں یہ حکم تھا کہ چار مہنوں میں قتل و قتال حرام ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب۔ یہ چار مہینے اشہر حرم کہلاتے تھے اور یہ چاروں مہینے امن کے کہلاتے تھے ان دنوں میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی تھی اور کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا تھا اس بناء پر نبی صلی اللہ نے ذی قعدہ الحرام س 6 ھجری میں صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ عمراہ کا قصد فرمایا جب مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین…
Read the full tafseer →366 یعنی اگر وہ ایمان لے آئیں اور شرک چھوڑ دیں اور جنگ و قتال سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گذشتہ گناہ معاف فرما کر انہیں اپنی رحمت میں شامل فرما لے گا۔ ای عن قتالکم بالایمان فان اللہ یغفرلہم جمیع ما تقدم ویرحم کلا منھم بالعفو عما اجترموا (قرطبی ص 353 ج 2) وَقٰتِلُوْھُمْالخ یہاں بھی ہُمْ کی ضمیر ان مشرکینِ عرب کی طرف راجع ہے اور فتنۃ سے مراد شرک ہے یعنی مشرکین عرب سے اس وقت تک جہاد جاری رکھو جب تک کہ سرزمین عرب سے شرک کا بالکل خاتمہ ہوجائے۔ اور ہر طرف صرف اللہ ہی کی عبادت اور پکار ہونے لگے۔ ضمیر المفعول عائد علی من قاتلہ وھم کفار مکہ والفتنۃ ھنا الشرک وما تابعہ من اذی امسلمین امروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
جہاد کی قسمیں
اسلام کے پہلے چار ارکان کا بیان سابقہ دروس میں آ چکا ہے ، اب یہاں سے جہاں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ لفظ جہاد ایک عام لفظ ہے اور یہ وسیع تر معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اور قتال خاص ہے ، جس سے مراد جنگ ہے ، جہاد ظاہری اور باطنی طاقت کو دشمن کے مقابلے میں بقائے امن اور اقامت دین کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔ حضور ﷺ نے جہاد کی کئی شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا یا جاھد والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی مشرکوں کے خلاف اپنے مال جان اور زبان کے ساتھ جہاد کرو ، یہ صحیح حدیث مسند احمد اور بو دائود شریف میں موجود ہے ، جان و مال کے ساتھ جہاد کی صورت تو واضح ہے کہ کلمہ توحید بلند کرنے کے…
Read the full tafseer →فَاِنِ انْــتَہَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 192
انتهَاءُ
والانتهَاءُ : الانزجار عمّا نهى عنه، قال تعالی: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ ما قَدْ سَلَفَ [ الأنفال/ 38] الانتھاء کسی ممنوع کام سے رک جانا ۔ قرآن پاک میں ہے : قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ ما قَدْ سَلَفَ [ الأنفال/ 38]( اے پیغمبر ) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیاجائے گا ۔
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
1 ؎ یعنی اگر وہ تم پر مسجدالحرام کے پاس قتال کرنے کا الزام لگا کر بےادبی کعبہ کا طعنہ دیں تو وہ خود اس کے مرتکب ہیں کیونکہ مسجد الحرام میں فتنہ اٹھا رکھا ہے جو قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فَاِنِ انْتَھَوْافَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔
(پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے) (192)
” اگر وہ بازآجائیں “ کے دو مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے جو فتنہ پر مبنی رویہ اختیار کررکھا تھا اور مسلمانوں کو اذیت پہنچا کر لطف حاصل کرنا ان کا معمول بن گیا تھا اور جو مسلمان پیچھے مکہ میں رہ گئے تھے ان پر طرح طرح کے مظالم بدستور جاری تھے اور اجتماعی طور پر انھوں نے مسلمانوں پر بیت اللہ کا راستہ بند کررکھا تھا اور وہ کسی طرح بھی اسے گوارا کرنے کو تیار نہ تھے کہ مسلمان اللہ کے گھر تک پہنچ سکیں۔ یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اگر وہ اپنے اس رویے سے دستبردار ہوجائیں اور مسلمانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
فہم القرآن
ربط کلام : حرمت کے مہینوں کا تعلق بھی چاند سے ہے۔ اس لیے حرمت کے مہینوں کے بیان میں ان سے متعلقہ مسائل کا بیان ضروری سمجھا گیا۔
رسول محترم ﷺ اور مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم سہتے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس دوران مسلمانوں پر یکے بعد دیگرے بدر، احد اور خندق کی جنگیں بھی مسلط کی گئیں۔ لیکن آپ اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ نبوت کے اٹھارہویں سال ایک غیبی اشارے کی بنیاد پر عمرہ کی نیت سے آپ عازم مکہ ہوئے۔ لیکن اہل مکہ نے قومی اخلاق اور حرم کی دینی اقدار کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کو عمرہ کرنے سے روک دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف چلے تھے لیکن یہ بھی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 192:
فَاِنِ انْتَہَوْا : (اگر وہ باز آجائیں) یعنی شرک سے اور قتال سے
فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ: (بےشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے) ان تمام سرکشیوں کو جو پہلے کی جا چکیں۔
رَّحِیْمٌ: (مہربان ہے) ان کے ایمان و توبہ کو قبول فرمائے گا۔
Read the full tafseer →192۔ (آیت)” افان انتھوا “ قتال اور کفر سے (اگر رک جائیں) (آیت)” فان اللہ غفور رحیم “۔ یعنی غفور سے گزشتہ گناہوں کے لیے اور بندوں کے ساتھ رحیم بھی ہے۔ ل
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(191 ۔ 193) ۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو بہت اسلام نہ ہونے سے اور مسلمانوں کی جماعت تھوڑی ہونے سے جہاد کا حکم نہ تھا۔ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا۔ اور مکہ میں درگذر کرنے کی جتنی آیتیں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگئیں۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” جو تم سے لڑیں ان سے لڑو۔ “ علماء مفسرین کے نزدیک اس کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں بچے بوڑھے جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑوں اور ان کو مت مارو۔ اس صورت میں یہ آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہے۔ دوسرے معنی یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(آیت) وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ” اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو “ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کردیا، کیونکہ مسجد حرام کیق ریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔
یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلامقبول کرلیں۔ (اگر وہ ایسا کرلیں) ( تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
قول باری (وقاتلوھم حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین للہ) کافروں سے قتال کی فرضیت کو ضروری قرار دیتا ہے حتیٰ کہ وہ کفر سے باز آ جائیں ۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ربیع بن انس کا قول ہے کہ یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے۔ ایک قول ہے کہ کفر کو اس لئے فتنہ کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو ہلاکت تک لے جاتا ہے جس طرح فتنہ انسان کو ہلاکت کی راہ دکھاتا ہے۔
ایک قلو یہ بھی ہے کہ فتنہ سے مراد آزمائش ہے اور کفر سے مراد آزمائش کی گھڑی میں اظہار فساد ہے۔ دین کے معنی طاعات کے ذریعے اللہ کے سامنے جھک جانے اور فرماں برداری بجا لانے کے ہیں۔ لغت میں دین کا مفہوم دو معنوں میں منقسم ہے۔ اول انقیاد یعنی فرماں برداری۔ اعشیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
527 عہد شکن ظالموں کو جہاں پاؤ قتل کرو : یعنی حدود حرم کے اندر یا باہر، جہاں بھی ان کو پاؤ ان کو قتل کرو، کہ انہوں نے اپنے کفر و شرک اور اپنی عہد شکنی کی بناء پر اپنے آپ کو اسی کے لائق بنادیا ہے۔ (قرطبی، معارف وغیرہ) ۔ سو ایسوں کو حل وحرم میں جہاں پاؤ قتل کرو، تاکہ ایسے ناسوروں کی جڑیں کٹ جائیں اور اللہ کی زمین اور اس کے بندوں کو ایسے شرانگیزوں اور ان کی شرانگیزیوں سے امن وامان نصیب ہوسکے اور اللہ کی دھرتی ایسے لوگوں کے ناروا وجودوں اور ان کے بوجھ سے پاک اور صاف ہوجائے، اور یہی مقصود ہے اسلامی جہاد کا، کہ اس کی حیثیت دراصل ڈاکٹر کے اس نشتر کی ہے جسکے ذریعے وہ آپریشن کر کے مریض کی جسم کا فاسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اللہ کی راہ میں جنگ اور احترام کعبہ
تشریح : اس حکم سے مسلمانوں کو پہلی دفعہ کفار سے لڑنے کی اجازت ملی۔ اس سے پہلے تیرہ برس مکہ میں مسلمانوں کو صبر و سکون کی ہی تلقین کی گئی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک صرف تبلیغ و تلقین کا سلسلہ ہی جاری تھا۔ اب چونکہ مدینہ میں چھوٹی سی شہری ریاست بن گئی تھی تو اپنی حفاظت، دین کی حفاظت اور اسلام کے فروغ کے لئے پہلی دفعہ حکم ہوا کہ جو تم سے لڑیں تم ان سے لڑو اس کے بعد ہی جنگ بدر پیش آئی اور پھر فلاح و بہبود اور اسلام کی تبلیغ کے لئے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مگر جنگ میں بھی حدودبندی کا سلسلہ جاری رہا اور مسلمان کو کبھی ظلم و زیادتی کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
ف 2 یعنی ان سے اس وقت تک بر سر پیکار ہو جب تک کہ فتنہ شرک اور ظلم وستم) کا ہر طرح سے قلع قمع ہوجاتا اور اللہ تعالیٰ کا دین ہر طرح سے غالب نہیں آجاتا۔ ایک حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا، مجھے اس وقت تک لڑنے کا حکم ملا ہے جب تک وہ الا لہ الا اللہ کے قائل نہیں ہوجاتے جب وہ اس کے قائل ہوجا " ئیں گے تو ان کے جان ومال محفوظ ہیں۔ الایہ کہ ان پر اسلام کی رو سے کوئی حق عائد ہو تو اسے پورا کیا جائے گا۔ (ابن کثیر، بحوالہ صحیحین)3 یعنی اگر یہ شرک اور مسلمانوں کے ساتھ مقاتلہ سے باز جائیں تو اس کے بعد جو شخص ان سے جنگ کرے گا وہ ظالم ہے اور اسے اس زیادتی کی سزا ملے گی یہاں عدوان کا لفظ ایسی ہی سزا کے معنی…
Read the full tafseer →(2:192) انْتَهَوْا۔ ماضی جمع مذکر غائب انتھائ ۔ (افتعال) مصدر سے ۔ نہی مادہ ۔ وہ رک گئے، انہوں نے چھوڑ دیا ۔ فَاِنِ انْتَهَوْا جملہ شرطیہ ہے ، اور فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ جملہ جزائیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195
قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
شان نزول : ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا اور مکہ میں درگزر کرنے کی جتنی آیتیں اتریں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگیئں۔ اس آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ جو تم سے لڑیں ان سے لڑو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں، بچے بوڑھے، جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑو اور ان کو مت مارو۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے سوا جو بھی انمرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے لڑو۔ مقابلہ نہ کرنے والوں سے مت لڑو۔
فوائد القرآن : حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کی شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے۔ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
[126] یہاں فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب اور توحید کی مخالفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–194
جنگ اور رعایت اخلاق :
(ف 1) اسلام نے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں اصلاح کی ہے ، وہاں شعبہ حرب کو بھی فراموش نہیں کیا ، اسلام سے پہلے لوگ جن میں کسی قسم کی رعایت کو ملحوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اسلام نے بتایا کہ جنگ میں بھی اخلاق وتدین کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے ، اس لئے کہ جنگ اخلاق مندوں سے نہیں ‘ بلکہ ایک اخلاق باختہ قوم سے ہے ، مقصد یہ ہے کہ اخلاق دین کے تحفظ کے لئے آخری قطرہ خون بھی بہا دیا جائے ، مکہ والے ذی قعد ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب میں جنگ کو روک دیتے تھے اور ان چار مہینوں کو احترام کے قابل سمجھتے تھے ، قرآن حکیم نے بھی ان کی اس حرمت کو برقرار رکھا اور فرمایا کہ اگر وہ…
Read the full tafseer →ف 4 پھر اگر یہ کفار اس پر بھی اپنی شرارت اور فتنے سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ (تیسیر)
یعنی کفر سے باز آجائیں اور اسلام لے آئیں کیونکہ کفر ہی تمام حرکات شنیعہ اور غیر قانونی افعال کی جڑ ہے اور تمام فتنوں کی یہی ایک فتنہ اصلی اور حقیقی بنیاد ہے جب اس سے باز آجائیں اور کفر سے تائب ہوکر مسلمان ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پہلے جرائم کو بخش دے گا اور اپنی مہربانی سے ان کو اعمال خیر کی توفیق عطا فرمائے گا اور اپنی اور نعمتوں سے بھی ان کو بہر ہ مند کرے گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس سب پر اگر اب بھی مسلمان ہوں تو توبہ قبول ہے۔ (موضح القرآن)
حضرت شاہ صاحب (رح) کے ارشاد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی…
Read the full tafseer →کفار اپنی روش چھوڑ دیں تو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا
331: تم جس اللہ پر ایمان لائے ہو اس کی صفت یہ ہے کہ بدتر سے بدتر مجرم اور گنہگار کو بھی وہ معاف کردیتا ہے جب وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائے۔ یہی صفت تم بھی اپنے اندر پیدا کرو ۔ تخلقوا باخلاق اللہ۔
تمہاری لڑائی انتقام کی پیاس بجھانے کے لئے نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ صاف کرنے کے لئے ہو جب تک کوئی گروہ راہ خدا میں مزاحم رہے بس اسی وقت تک اس سے تمہاری لڑائی بھی رہے اور جب وہ اپنا رویہ چھوڑ دے تو تمہارا ہاتھ بھی پھر اس پر نہ اٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–193
Commentary
1. When the Holy Prophet decided to travel to Makkah in the year 7 A.H. to perform his qada"Umrah as envisaged in the peace treaty of Hudaybiyyah; his Companions ؓ who were to accompany him knew that disbelievers could not be trusted with treaties, or peace. It was quite possible that they may start fighting. Now, the blessed Companions had a problem before them. They thought if this fighting came, it would have to be within the sacred precincts of Makkah, which is not permissible in Islam. This doubt was answered in Verse 191 by stating that the sanctity of the sacred precincts of…
Read the full tafseer →203. God, in whom the believers have faith, is forgiving and ready to pardon even the worst criminals and sinners after they have renounced their arrogant defiance towards Him. It is suggested that this attribute of God should be reflected in the behaviour of the believers as well. As the saying goes: 'Mould your morals according to the attributes of God.' Hence, Whenever the believers have to resort to armed conflict, they should do so not for the sake of quenching their thirst for venueance but in the cause of God's religion. Their conflict with any group should last only as long as that…
Read the full tafseer →