Explained with ayahs 190–193
حکم جہاد اور شرائط
حضرت ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، حضور ﷺ اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورة برأت نازل ہوئی، بلکہ عبدالرحمن بن زید بن سلام ؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ :5) ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لئے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 202
یہاں فتنے کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، جس میں انگریزی کا لفظ (Persecution) استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی گروہ یا شخص کو محض اس بنا پر ظلم و ستم کا نشانہ بنانا کہ اس نے رائج الوقت خیالات و نظریات کی جگہ کچھ دوسرے خیالات و نظریات کو حق پا کر قبول کرلیا ہے اور وہ تنقید و تبلیغ کے ذریعے سے سوسائٹی کے موجود الوقت نظام میں اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ آیت کا منشا یہ ہے کہ بلا شبہہ انسانی خون بہانا بہت برا فعل ہے، لیکن جب کوئی انسانی گروہ زبردستی اپنا فکری استبداد دوسروں پر مسلط کرے اور لوگوں کو قبول حق سے بجبر رو کے اور اصلاح و تغیر کی جائز و معقول کوششوں کا مقابلہ دلائل سے کرنے کے…
Read the full tafseer →وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ آیت واقعہ حدیبیہ کے بعد اس وقت نازل ہوئی ہے جب صلح حدیبیہ کی شرط کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ اس عمرہ کی قضاء کے لئے سفر کا ارادہ کیا جس سے اس سے پہلے سال میں کفار مکہ نے روک دیا تھا صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اس سفر کے وقت یہ خیال ہو رہا تھا کہ کفار کی صلح اور معاہدہ کا کچھ بھروسہ نہیں اگر وہ لوگ اس سال بھی آمادہ پیکار ہوگئے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے اس پر آیت مذکورہ کے الفاظ نے ان کو اجازت دے دی کہ اگر وہ قتال کرنے لگیں تو تمہیں بھی اجازت ہے کہ جہاں پاؤ ان کو قتل کرو…
Read the full tafseer →یعنی بیت اللہ کا حج تم پر فرض ہے اور ملت ابراہیم کے اصلی وارث ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا حق بھی ہے بلکہ اس کے اصلی حق دار تم ہی ہو اس وجہ سے اگر تمہارے اس حق و فرض کی راہ میں قریش مزاحم ہوں تو ان کا مقابلہ کرو اور جہاں کہیں ان سے تصادم ہو وہیں ان کو قتل کرو۔ اگرچہ اس قتال کی نوبت حرم اور حدود حرم ہی میں پیش آجائے اور جس مکہ سے انہوں نے تم کو نکالا ہے تم بھی ان کو وہاں سے نکالو، اس لیے کہ ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کی وراثت صرف نسل و نسب کی بنا پر کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ خود حضرت ابراہیم ؑ کے ارشاد کے موجوب اس کے اصلی حق دار وہ ہیں جو ان کی ملت پر قائم ہیں۔ یہ درجہ تم کو حاصل ہے نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
191۔ 1 مکہ میں مسلمان چونکہ کمزور اور منتشر تھے اس لئے کفار سے قتال ممنوع تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ساری قوت مدینہ میں جمع ہوگئی تو پھر ان کو جہاد کی اجازت دے دی گئی۔ ابتداء میں آپ صرف انہی سے لڑتے جو مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کرتے اس کے بعد اس میں مزید توسیع کردی گئی اور مسلمانوں نے حسب ضرورت کفار کے علاقوں میں بھی جا کر جہاد کیا قرآن کریم نے (اَعْندَا) زیادتی کرنے سے منع فرمایا اس لئے نبی کریم ﷺ اپنے لشکر کو تاکید فرماتے کہ خیانت، بد عہدی اور مثلہ نہ کرنا نہ بچوں اور عورتوں اور گرجوں میں مصروف عبادت کرنے والوں کو قتل کرنا۔ اسی طرح درختوں کو جلانے اور حیوانات کو بغیر کسی مصلحت کے مارنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
122: لفظ“ فتنہ ”قرآن کریم میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے جن میں سے ایک معنی ظلم اور تشدد کے بھی ہیں اور شاید یہاں یہی معنی مراد ہوں، مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل سے روکنے کے لئے بدترین تشدد روا رکھا ہوا تھا، لہذا بظاہر یہاں مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کسی کو قتل کرنا اپنی ذات میں کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن فتنہ اس کے مقابلے میں زیادہ سخت برائی ہے اور جہاں فتنے کا سد باب قتل کے بغیر ممکن نہ ہو وہاں قتل کے سوا چارہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
مسلمانوں کو صرف ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تاکید کی جاتی ہے ، جنہوں نے ان کے ساتھ جنگ کی ۔ محض دینی نظریات کی وجہ سے ان پر تشدد کیا ۔ انہیں ان کے گھروں سے نکالا۔ حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ جنگ جاری رکھو یہاں تک کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ، مارے جائیں ، جہاں بھی ہوں مارے جائیں ۔ ماسوائے مسجد حرام کے ، ہاں اگر مسجد حرام میں بھی کفار جنگ کا آغاز کردیں تو پھر مسلمانوں کے لئے بھی جائز ہوگا ، سوائے اس کے کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں ۔ اس صورت میں چاہے انہوں نے مسلمانوں کو قتل کیا ہو۔ چاہے ان پر ظلم کیا اور تشدد کا ارتکاب کیا ہو ، مسلمانوں کو یہ حکم ہے وہ ہاتھ روک لیں : وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ…
Read the full tafseer →1 جس جگہ پاؤ یعنی حرم میں ہوں خواہ غیر حرم میں جہاں سے تم کو نکالا یعنی مکہ سے۔
2 یعنی دین سے پھرجانا یا دوسرے کو پھر انا مہینہ حرام کے اندر مار ڈالنے سے بہت بڑا گناہ ہے مطلب یہ کہ حرم مکہ میں کفار کا شرک کرنا اور کرانا زیادہ قبیح ہے حرم میں مقاتلہ کرنے سے تو اب اے مسلمانو تم کچھ اندیشہ نہ کرو اور جواب ترکی بہ ترکی دو ۔
3 یعنی مکہ ضرور جائے امن ہے لیکن جب انہوں نے ابتداء کی اور تم پر ظلم کیا اور ایمان لانے پر دشمنی کرنے لگے کہ یہ بات مار ڈالنے سے بھی سخت ہے تو اب انکو امان نہ رہی جہاں پاؤ مارو آخر جب مکہ فتح ہوا تو آپ ﷺ نے یہی فرما دیا کہ جو ہتھیار سامنے کرے اسی کو مارو اور باقی سب کو امن دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت 191 وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ
مہاجرین مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تھے ‘ وہاں پرٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی اہل ایمان پر قافیہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ تبھی تو آپ ﷺ نے ہجرت کی۔ اب حکم دیا جا رہا ہے کہ نکالو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے۔
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ج ۔
کفار و مشرکین سے قتال کے ضمن میں کہیں یہ خیال نہ آئے کہ قتل اور خونریزی بری بات ہے۔ یاد رکھو کہ فتنہ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے۔ فتنہ کیا ہے ؟ ایسے حالات جن میں انسان خدائے واحد کی بندگی نہ کرسکے ‘ اسے غلط کاموں پر مجبور کیا جائے ‘ وہ حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
252 اب جہاں بھی موقع پیش آئے تم ان سے لڑائی کرو اور تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہیے کہ جیسے انہوں نے اسلام لانے کی وجہ سے تمہیں مکہ سے نکالا تھا۔ تم بھی ان کو ان کے مشرک ہونے اور مشرک رہنے کی وجہ سے مکہ سے نکال کے دم لو، اور یہ ادلے کا بدلہ ہے۔
253 فتنہ کا لفظ عربی زبان میں بڑے وسیع مفہوم اور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً مشرکین مکہ کا بیت اللہ کا متولی ہونا اور بیت اللہ میں بت رکھنا، مسلمانوں کو بیت اللہ میں نماز ادا کرنے، حتیٰ کہ داخل ہونے سے روکنا یہ سب فتنہ کے کام ہیں گویا یہاں فتنہ سے مراد مشرکین مکہ کی ہر وہ حرکت ہے جو انہوں نے دین اسلام کو روکنے کی خاطر کی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر…
Read the full tafseer →697 ۔ (آیت) ” واقتلوھم “۔ میں ھم کی ضمیر انہی لوگوں کی طرف ہے جو مسلمانوں سے لڑنے نکلے ہیں۔ والضمیر عائد الی الذین امر لقتلھم فی الایۃ الاولی (کبیر) حیث ثقفتموھم۔ یعنی ان مقاتلین محاربین مکہ کو جہاں کہیں بھی پکڑ پاؤ، اور جب کبھی ان پر غلبہ حاصل کرپاؤ قتل کردو۔ ھم الکفار من اھل مکۃ فامر اللہ تعالیٰ بقتلھم حیث کانوا فی الحل والحرم وفی الشھر الحرام (کبیر) اے حیث وجدتموھم من حل اور حرم (ابو سعود) (آیت) ” واقتلوا “ کے صیغہ جمع سے فقہاء حنفیہ نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ قتال و جہاد فریضہ انفرادی نہیں ہے، امام کی معیت میں ہے۔ لشکر کا وجود وجوب بہ طور عبارۃ النص کے نکلا اور امام کا بہ طور اقتضاء النص…
Read the full tafseer →جہاد کا مقصد خون بہانا نہیں : وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ (الآیۃ) آیت کا منشا یہ ہے کہ بلاشبہ انسانی خون بہانا بہت برا فعل ہے لیکن جب کوئی جماعت یا گروہ زبردستی اپنا فکری استبداد دوسروں پر مسلط کرے اور لوگوں کو قبول حق سے بجبررو کے اور اصلاح و تغیر کی جائز اور معقول کوششوں کا مقابلہ دلائل سے کرنے کے بجائے حیوانی طاقت سے کرنے لگے تو وہ قتل کی بہ نسبت زیادہ سخت برائی کا ارتکاب کرتا ہے ایسے گروہ کو بزور شمشیر راہ سے ہٹا دینا بالکل جائز ہے۔ مکی زندگی میں کافروں کے ذریعہ انتہائی اذیتیں برداشت کرنے کے باوجود مسلمانوں کو حکم تھا کہ عفو و درگذر سے کام لیں مکی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں…
Read the full tafseer →وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ( اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں پاؤ) مقاتل بن حبان کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام سے میں کہتا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ مخصص ہے اقتران کی وجہ سے جیسا کہ ارشاد باری : و احل اللہ البیع و حرام الربٰوا اس لیے کہ ناسخ متراخی ہوتا ہے ثقف کسی شئ کو تیزی سے اچھی طرح پالینا علم ہو یا عمل یہ لفظ غلبہ کو متضمن ہے تو معنی یہ ہیں کہ جس جگہ ان کے قتل پر تم قادر ہو۔
وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ( اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے) یعنی مکہ سے اور یہ فتح مکہ کے دن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا جو مسلمان نہ ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
(191۔ 192) اور اگر مشرکین قتال کی پہل کریں سو وہ جس مقام پر بھی ہوں ان کو قتل کردو اور مکہ مکرمہ سے ان کو نکال دو جس طرح کہ انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا اور بتوں کی پوجا کرنا، یہ تمام چیزیں حرم میں لڑائی کرنے سے زیادہ بدتر ہیں۔
اور حرم میں جب تک کہ کفار لڑائی کی پہل نہ کریں تم ان سے لڑائی نہ کرو اور اگر یہ پہل کریں تو تم بھی ایسا ہی کرسکتے ہو، قتل ہی ان کی سزا ہے لیکن اگر یہ کفر وشرک سے رک جائیں (یعنی ایمان اختیار کرکے مسلمان جماعت میں داخل ہوجائیں) اور توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ توبہ کو قبول فرمانے والا اور جو توبہ کی حالت پر انتقال کرجائے اس پر رحمت فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا اور 9 ہجری میں ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا اور انھیں سورة توبہ میں مذکور اعلان کرنے کا حکم دیا جس کے مطابق مشرکین کو چار ماہ تک مکہ میں اور سرزمین عرب میں چلنے پھرنے کی اجازت دی گئی، اس کے بعد مسلمان نہ ہونے کی صورت میں وہ جہاں ملیں انھیں قتل کرنے کا حکم دے کر جزیرۂ عرب سے نکال دیا گیا۔ دیکھیے سورة توبہ کی پہلی پانچ آیات۔ پھر یہود کو بھی پہلے مدینہ سے، پھر رسول اللہ ﷺ کی وصیت کے مطابق عمر ؓ کے زمانے میں سر زمین عرب سے نکال دیا گیا۔ یہ سب اسی ”اَخْرِجُوْھُمْ“ کے حکم کی تعمیل تھی۔
الْفِتْنَةُ اس کا اصل معنی آزمائش میں ڈالنا ہے، مفسرین سلف نے اس کا معنی شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
آیت نمبر 191 تا 192
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ثقفتموھم کہا جاتا ہے ثقف یثقف ثقفاوثقفا۔ رجل ثقف وہ شخص جو کاموں کو پختہ کرنا ہے۔ اس آیت میں قیدی کو قتل کرنے پر دلیل ہے۔ اس کا بیان سورة انفال میں انشاء اللہ آئے گا۔ واخرجوھم من حیث اخرجوکم یعنی مکہ سے تم ان کو نکالو۔ طبری نے کہا : یہ خطاب مہاجرین کے لئے ہے اور ضمیر کفار قریش کے لئے ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والفتنۃ اشد من القتل وہ فتنہ جس پر انہوں نے تمہیں ابھارا اور انہوں نے اس کے ذریعے تمہارے کفر کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا ہو قتل سے زیادہ شدد ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے مومن کو قتل کرنے…
Read the full tafseer →مسجد حرام میں قتال کب جائز ہے
(1) ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے لفظ آیت ” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مراد لئے ہیں۔
(2) الطستی، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے اسن سے ” ثقفتموہم “ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے ” وجدتموھم “ (یعنی تم جہاں ان کو پاؤ) پھر انہوں نے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں تو انہوں نے فرمایا ہاں کیا تو نے حسان ؓ کا شعر نہیں سنا :۔
فاما یثقفن بنی لوی جذیمۃ ان قتلہم دواء
ترجمہ : اگر بنو لوئی، حذیمہ کو تم پالو تو ان کا قتل کرنا بھی دوا ہے۔
(3) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے…
Read the full tafseer →[ وَاقْـتُلُوْھُمْ : اور تم لوگ قتل کرو ان کو ] [ حَیْثُ : جہاں کہیں ] [ ثَقِفْتُمُوْھُمْ : تم لوگ پائو ان کو ] [ وَاَخْرِجُوْھُمْ : اور نکالو ان کو ] [ مِّنْ حَیْثُ : جہاں سے ] [ اَخْرَجُوْکُمْ : انہوں نے نکالا تم کو ] [ وَالْفِتْنَۃُ : اور آزمائش (دین میں ] [ اَشَدُّ : زیادہ شدید ہے ] [ مِنَ الْقَتْلِ : قتل سے ] [ وَلَا تُقٰتِلُوْ : اور تم لوگ جنگ مت کرو ] [ ھُمْ : ان سے ] [ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کے پاس ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ یُقٰتِلُوْکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں تم سے ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ فَاِنْ : پس اگر قٰــتَـلُوْکُمْ : وہ لوگ جنگ کریں تم سے (اس میں) ] […
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ) (کہ ان کو قتل کرو جہاں بھی پاؤ) (وَ اَخْرِجُوْھُمْ مِنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ ) (اور ان کو نکال دو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا) یعنی تمہیں مکہ معظمہ چھوڑ کر ہجرت پر مجبور کیا۔
فتنہ گری قتل سے زیادہ سخت ہے :
اور فرمایا (وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ) (اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے) فتنہ سے مراد شرک ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ج 1 صفحہ 75 کہ صحابہ کے دلوں میں جو بات آرہی تھی کہ حرم میں ان کو کس طرح قتل کریں گے۔ جبکہ حرم کا احترام ضروری ہے۔ ان کے اس وسوسہ کا جواب دیا گیا کہ جس کام میں یہ لوگ خود لگے ہوئے ہیں یعنی شرک باللہ اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
حکم نہم متعلق بہ قتال کفار۔
قال تعالی، وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ مع المتقین۔
گزشتہ آیات میں حج اور روزہ کے لیے خاص مہینہ کا ہونا بیان فرمایا کہ سوائے ان ایام مقررہ کے دوسرے ایام میں حج نہیں ہوسکتا اسی طرح ملت ابراہیمی میں یہ حکم تھا کہ چار مہنوں میں قتل و قتال حرام ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب۔ یہ چار مہینے اشہر حرم کہلاتے تھے اور یہ چاروں مہینے امن کے کہلاتے تھے ان دنوں میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی تھی اور کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا تھا اس بناء پر نبی صلی اللہ نے ذی قعدہ الحرام س 6 ھجری میں صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ عمراہ کا قصد فرمایا جب مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین…
Read the full tafseer →364 ھُمْ کی ضمیر اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ کی طرف راجع ہے۔ ضمیر المفعول عائد علی الذین یقاتلونکم وھذا امر بقتلھم وحید عم عام فی کل مکان حلال او حرام الخ۔ (بحر ص 66 ج 2) یعنی جو مشرکین تمہارے ساتھ برسرپیکار ہیں جب وہ تم سے لڑنے کے لیے نکل پڑیں تو جہاں کہیں بھی تمہاری ان سے مڈ بھیڑ ہوجائے تم ان سے لڑو اور قتل کرو خواہ حرم ہی میں مقابلہ کیوں نہ ہوجائے۔ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ۔ حیث یہاں تعلیلیہ ہے یعنی ان کو مکہ سے نکالو کیونکہ انہوں نے تم کو نکالا ہے یا ظرفیہ یعنی جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے۔ وہاں سے تم ان کو نکالو۔ یعنی مکہ مکرمہ سے یا حیث تشبیہ کے لیے ہے۔ یعنی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
جہاد کی قسمیں
اسلام کے پہلے چار ارکان کا بیان سابقہ دروس میں آ چکا ہے ، اب یہاں سے جہاں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ لفظ جہاد ایک عام لفظ ہے اور یہ وسیع تر معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اور قتال خاص ہے ، جس سے مراد جنگ ہے ، جہاد ظاہری اور باطنی طاقت کو دشمن کے مقابلے میں بقائے امن اور اقامت دین کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔ حضور ﷺ نے جہاد کی کئی شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا یا جاھد والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی مشرکوں کے خلاف اپنے مال جان اور زبان کے ساتھ جہاد کرو ، یہ صحیح حدیث مسند احمد اور بو دائود شریف میں موجود ہے ، جان و مال کے ساتھ جہاد کی صورت تو واضح ہے کہ کلمہ توحید بلند کرنے کے…
Read the full tafseer →وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ 0 ۚ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْہِ 0 ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ 0 ۭ كَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ 191
حيث
حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] .
( ح ی ث ) حیث
( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
1 ؎ یعنی اگر وہ تم پر مسجدالحرام کے پاس قتال کرنے کا الزام لگا کر بےادبی کعبہ کا طعنہ دیں تو وہ خود اس کے مرتکب ہیں کیونکہ مسجد الحرام میں فتنہ اٹھا رکھا ہے جو قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاقْتُلُوْھُْمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدَّ مِنَ الْقَتْلِ ج وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوکُمْ فِیْہِ ج فَاِنْ قٰـتَـلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ط کَذٰلِکَ جَزَائُ الْکٰفِرِیْنَ ۔
(اور قتل کرو ان کو جہاں کہیں ان کو پائو اور ان کو وہاں سے نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا تھا اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس پہل کرکے جنگ نہ کروجب تک وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو، یہی کافروں کا بدلہ ہے) (191)
اس آیت کریمہ میں واضح طور پر ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
فہم القرآن
ربط کلام : حرمت کے مہینوں کا تعلق بھی چاند سے ہے۔ اس لیے حرمت کے مہینوں کے بیان میں ان سے متعلقہ مسائل کا بیان ضروری سمجھا گیا۔
رسول محترم ﷺ اور مسلمانوں کو کفار کے ظلم وستم سہتے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے تھے۔ اس دوران مسلمانوں پر یکے بعد دیگرے بدر، احد اور خندق کی جنگیں بھی مسلط کی گئیں۔ لیکن آپ اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری۔ نبوت کے اٹھارہویں سال ایک غیبی اشارے کی بنیاد پر عمرہ کی نیت سے آپ عازم مکہ ہوئے۔ لیکن اہل مکہ نے قومی اخلاق اور حرم کی دینی اقدار کی پرواہ کیے بغیر رسول اللہ ﷺ کو عمرہ کرنے سے روک دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف چلے تھے لیکن یہ بھی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 191:
وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ : (اور ان کو قتل کرو جہاں تم ان کو پائو) الثقف کسی چیز کو جلدی پالینا اور اس پر غلبہ حاصل کرلینا۔ یعنی جس جگہ ان کے قتل پر قادر ہو۔
وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ : (اور ان کو وہاں سے نکالو۔ جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا) یعنی مکہ سے
وعدہ الٰہی :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فتح مکہ کا وعدہ فرمایا اور رسول اللہ ﷺ نے اسلام نہ لانے والوں کے ساتھ ایسا سلوک فرمایا۔
فتنہ سے مراد :
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۔ نمبر 1۔ فتنہ سے مراد یہاں شرک ہے جو قتل سے عظیم تر ہے یہ قتل ایک وقت میں مسلمانوں کے لئے مباح کر…
Read the full tafseer →(تفسیر) 191۔:
(آیت)” واقتلوھم حیث ثقفتموھم “ کہا گیا ہے پہلی آیت کریمہ (کامضمون) اس آیت کریمہ کے ساتھ منسوخ ہے (کیونکہ پہلی آیت میں کفار سے قتال اس صورت میں تھا کہ جب وہ مقابلہ میں لڑائی میں پہل کریں تو مسلمان دفاعی جنگ لڑیں اور قتال کی ابتداء نہ کریں مگر اس آیت میں حکم ہے کہ کفار کو جہاں کہیں پاؤ ان کو قتل کرو اور ان کے قتال کرنے کی پہل کرنے کا انتظار نہ کریں) ثقافۃ کا لغوی معنی (کسی کام میں) مہارت و بصیرت کے ہیں اور معنی ہوگا کہ مشرکین کو قتل کرو جہاں تم ان سے قتل کرنا مناسب سمجھو اور ان کے قتل کرنے پر تم قادر ہو (آیت)” واخرجوھم من حیث اخرجوکم “ (اور ان کو اس جگہ سے نکالو جس جگہ سے انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(191 ۔ 193) ۔ ہجرت سے پہلے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو بہت اسلام نہ ہونے سے اور مسلمانوں کی جماعت تھوڑی ہونے سے جہاد کا حکم نہ تھا۔ ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا۔ اور مکہ میں درگذر کرنے کی جتنی آیتیں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگئیں۔ اس آیت میں یہ جو ارشاد فرمایا کہ ” جو تم سے لڑیں ان سے لڑو۔ “ علماء مفسرین کے نزدیک اس کے دو معنے ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں بچے بوڑھے جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑوں اور ان کو مت مارو۔ اس صورت میں یہ آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہے۔ دوسرے معنی یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
(آیت) وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ” اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں بھی پاؤ تم ان کو “ یہ ان کے ساتھ قتال کا حکم ہے ہر وقت اور ہر زمانے میں جہاں کہیں بھی وہ پائے جائیں ان کے خلاف مدافعانہ اور جارحانہ جنگ جاری رہے۔ پھر اس عموم سے مسجد حرام کے قریب قتال کرنے کو مستثنیٰ کردیا، کیونکہ مسجد حرام کیق ریب لڑنا جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسجد حرام کے قریب لڑائی کی ابتدا کریں تو پھر ان کے خلاف لڑائی کی جائے یہ ان کے ظلم و زیادتی کا بدلہ ہے۔
یہ کفار کے خلاف، ہر وقت اور دائمی قتال و جہاد ہے یہاں تک کہ وہ کفر کو چھوڑ کر اسلامقبول کرلیں۔ (اگر وہ ایسا کرلیں) ( تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول…
Read the full tafseer →ارشاد باری (واقتلوھم حیث تقفتموھم واخرجوھم من حیث اخرجو کم) میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین جہاں کہیں بھی قابو میں آ جائیں انہیں نہ چھوڑو بلکہ ا ن کی گردنیں اڑا دو یہ حکم تمام مشرکین سے جنگ کرنے کے متعلق عام ہے۔ خواہ وہ ہم سے برسر پیکار ہوں یا نہ ہوں البتہ وہ جنگ میں حصہ لینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ اس لئے کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ایک متفقہ مسئلہ ہے نیز حضور ﷺ نے گرجا گھروں کے باسیوں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اگر ارشاد باری (وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم) سے مراد ہم سے جنگ کرنے والوں سے جنگ کرنا ہے اور جو جنگ کے قابل نہیں ان سے ہاتھ روکنا ہے اور قول باری (ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–192
527 عہد شکن ظالموں کو جہاں پاؤ قتل کرو : یعنی حدود حرم کے اندر یا باہر، جہاں بھی ان کو پاؤ ان کو قتل کرو، کہ انہوں نے اپنے کفر و شرک اور اپنی عہد شکنی کی بناء پر اپنے آپ کو اسی کے لائق بنادیا ہے۔ (قرطبی، معارف وغیرہ) ۔ سو ایسوں کو حل وحرم میں جہاں پاؤ قتل کرو، تاکہ ایسے ناسوروں کی جڑیں کٹ جائیں اور اللہ کی زمین اور اس کے بندوں کو ایسے شرانگیزوں اور ان کی شرانگیزیوں سے امن وامان نصیب ہوسکے اور اللہ کی دھرتی ایسے لوگوں کے ناروا وجودوں اور ان کے بوجھ سے پاک اور صاف ہوجائے، اور یہی مقصود ہے اسلامی جہاد کا، کہ اس کی حیثیت دراصل ڈاکٹر کے اس نشتر کی ہے جسکے ذریعے وہ آپریشن کر کے مریض کی جسم کا فاسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اللہ کی راہ میں جنگ اور احترام کعبہ
تشریح : اس حکم سے مسلمانوں کو پہلی دفعہ کفار سے لڑنے کی اجازت ملی۔ اس سے پہلے تیرہ برس مکہ میں مسلمانوں کو صبر و سکون کی ہی تلقین کی گئی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک صرف تبلیغ و تلقین کا سلسلہ ہی جاری تھا۔ اب چونکہ مدینہ میں چھوٹی سی شہری ریاست بن گئی تھی تو اپنی حفاظت، دین کی حفاظت اور اسلام کے فروغ کے لئے پہلی دفعہ حکم ہوا کہ جو تم سے لڑیں تم ان سے لڑو اس کے بعد ہی جنگ بدر پیش آئی اور پھر فلاح و بہبود اور اسلام کی تبلیغ کے لئے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مگر جنگ میں بھی حدودبندی کا سلسلہ جاری رہا اور مسلمان کو کبھی ظلم و زیادتی کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →ف 7 چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو اس آیت آیت کے تحت حرم سے ہر شخص کا نکال دیا جو اسلام نہ لایا تھا اور پھر حرم مدینہ سے بھی یہود کو جلا وطن کردیا اور فرمایا : ییتقع دینان فی جز یرہ العرب۔ کہ اب عرب میں دودین اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ (شوکانی۔ کبیر)8 یعنی مکہ کے حرم یا ماہ حرام میں مقابلہ بیشک جرم ہے مگر الفتنہ یعنی شرک اور دین سے بر گشتہ کرنے کے لیے مسلمانوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنانا اس مقابلہ سے بھی جرم ہے لہذا کسی اند یشہ کے بغیر مشرکین کو قتل کرو گو یا اس آیت میں بھی حرم مکہ یا شہر حرم میں مقاتلہ کی مشروط اجازت دی ہے۔ کبیر۔ فتح القدیر)
1 یعنی سرزمین مکہ نے شک حرم یعنی جائے امن ہے اس میں…
Read the full tafseer →(2:191) واقتلوھم۔ واؤ عاطفہ۔ اقتلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ھم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر غائب۔ اس کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ ای الذین یقاتلونکم وہ لوگ جو تم سے لڑائی لڑیں۔
حیث۔ ظرف مکان ہے مبتی برضمہ۔ مکان مہم کے لئے آتا ہے جس کی جملہ مابعد سے تشریح ہوتی ہے۔ جہاں ۔ جس جگہ۔
ثقفتموھم۔ ثقفتموا۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ اصل میں ثقفتم تھا ۔ واؤ اشباع کا ہے ثقف (باب سمع) مصدر سے جس کے معنی پالینے کے ہیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔
الفتنۃ۔ کے لغوی معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ اسی لئے نعمت اور مصیبت کو بھی فتنہ کہتے ہیں۔ فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195
قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
شان نزول : ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا اور مکہ میں درگزر کرنے کی جتنی آیتیں اتریں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگیئں۔ اس آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ جو تم سے لڑیں ان سے لڑو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں، بچے بوڑھے، جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑو اور ان کو مت مارو۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے سوا جو بھی انمرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے لڑو۔ مقابلہ نہ کرنے والوں سے مت لڑو۔
فوائد القرآن : حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کی شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے۔ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 191–193
[126] یہاں فتنہ سے مراد شرک یا اس کی ترغیب اور توحید کی مخالفت ہے۔
Read the full tafseer →شرارگ جنگ سے زیادہ خطرناک ہے :
(ف 1) فتنہ کے معنی ابتلا وآزمائش کے ہیں ، کفار مکہ نے مسلمانوں پر اتنی سختیاں روا رکھیں کہ وہ سخت امتحان میں پڑگئے وہ سوچنے لگے کہ کیا کریں کیا وہ ان ادہام وظنون کو قبول کر کے راحت کی زندگی بسر کریں یا خدا کی راہ میں جان دے دیں اور شہادت کے درجہ عظمی کو حاصل کریں ۔
قرآن حکیم نے کفار مکہ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ پوزیشن ناقابل برداشت ہے ، شرارت جب اس حد سے بڑھ جائے تو پھر جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے اور جنگ اس صورت میں یقینا اس مسلسل وپہیم شرارت وفتنہ انگیزی سے کہیں کم اہمیت رکھتی ہے ، اس لئے جب انہوں نے تمہیں گھروں سے نکال دیا اور تکلیف پر تکلیف پہنچا رہے ہیں تو تم…
Read the full tafseer →ف 3 اور اگر یہ نوبت آجائے کہ وہ نقص عہد کرکے تم سے لڑیں اور تم ان پر جہاں قابو پائو ان کو قتل کرو اور ان کو وہاں سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تم کو پریشان اور تنگ کرکے نکالا ہے اور جو فتنہ شرک و کفرکا وہ برپا کرتے رہے ہیں اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکتے رہے ہیں وہ فتنہ اور شرارت قتل سے کہیں زیادہ سخت ہے۔
ہاں اتنا خیال رہے کہ مسجد حرام کے آس پاس جہاں تک حرم کی حد ہے وہاں ان کو اس وقت تک قتل نہ کرنا جب تک وہ تم کو وہاں قتل کرنے کا ارادہ نہ کریں پھر اگر وہ وہاں بھی تم سے لڑنے پر آمادہ ہوجائیں اور لڑنے کا سامان کرنے لگیں تو پھر تم ان کو بےکھٹکے قتل کرو ایسے کافروں کی جو حرم کا احترام نہ کریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی…
Read the full tafseer →جنگ جاری کرنے والوں کو اب جہاں پاؤ قتل کرو یہاں تک کہ وہ جنگ سے باز آجائیں :
327: ایسے مخالفین اور معاندین اسلام کو جو ہر وقت تمہارے فنا کرنے کی تیاریاں کرتے رہتے ہیں ۔ جہاں پاؤ قتل کردو کیونکہ ان کو چھوڑ دینا اور مخالفت کا موقع دینا ہرگز قرین عقل و انصاف نہیں ہے ۔ جب وہ تمہارے قتل کے لئے ہر مناسب موقع کی تلاش میں رہتے ہیں تو تم انہیں آخر کیوں چھوڑو گے ؟ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً 1ؕ (التوبہ 9 : 10)
” کسی مؤمن کے لئے نہ تو قرابت کا پاس کرتے ہیں ، نہ عہدو قرار کا یہی لوگ ہیں کہ ظلم میں حد سے گزر گئے ہیں “۔
اور ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →As already explained briefly in the opening remarks, the verse 191, that is, وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم (And kill them; wherever you find them and drive them out from where they drove you out...), was revealed after the happening at Hudaybiyyah حُدیبیہ at a time when the Holy Prophet ﷺ decided, in accordance with the condition agreed upon in the Peace Treaty of Hudaybiyyah حُدیبیہ ، to embark on a journey to Makkah to perform the qada' قضاء of ` Umrah along with his Companions, something he was stopped from doing a year before by the disbelievers of Makkah. The…
Read the full tafseer →202. Here the word fitnah is used in the sense of 'persecution'. It refers to a situation whereby either a person or a group is subjected to harassment and intimidation for having accepted, as true, a set of ideas contrary to those currently held, and for striving to effect reforms in the existing order of society by preaching what is good and condemning what is wrong. Such a situation must be changed, if need be, by the force of arms.
Bloodshed is bad, but when one group of people imposes its ideology and forcibly prevents others from accepting the truth, then it becomes guilty of an even…
Read the full tafseer →