Explained with ayahs 190–193
حکم جہاد اور شرائط
حضرت ابو العالیہ ؒ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، حضور ﷺ اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورة برأت نازل ہوئی، بلکہ عبدالرحمن بن زید بن سلام ؒ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ) 9۔ التوبہ :5) ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لئے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 200
یعنی جو لوگ خدا کے کام میں تمہارا راستہ روکتے ہیں، اور اس بنا پر تمہارے دشمن بن گئے ہیں کہ تم خدا کی ہدایت کے مطابق نظام زندگی کی اصلاح کرنا چاہتے ہو، اور اس اصلاحی کام کی مزاحمت میں جبر و ظلم کی طاقتیں استعمال کر رہے ہیں، ان سے جنگ کرو۔ اس سے پہلے جب تک مسلمان کمزور اور منتشر تھے، ان کو صرف تبلیغ کا حکم تھا اور مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہدایت کی جاتی تھی۔ اب مدینے میں ان کی چھوٹی سی شہری ریاست بن جانے کے بعد پہلی مرتبہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جو لوگ اس دعوت اصلاح کی راہ میں مسلح مزاحمت کرتے ہیں، ان کو تلوار کا جواب تلوار سے دو۔ اس کے بعد ہی جنگ بدر پیش آئی اور…
Read the full tafseer →حکم نہم جہاد و قتال
اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا اس وقت کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگذر کی ہی تلقین تھی ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اس آیت میں قتال کفار کا حکم آیا (قالہ الربیع بن انس وغیرہ) اور صدیق اکبر سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ قتال کفار کے متعلق پہلی آیت یہ ہے، اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا مگر اکثر حضرات صحابہ کرام ؓ اجمعین وتابعین کے نزدیک پہلی آیت سورة بقرہ کی آیت مذکورہ ہی ہے اور صدیق اکبر نے جس کو پہلی فرمایا ہے وہ بھی ابتدائی آیتوں میں ہونے کے سبب پہلی کہی جاسکتی…
Read the full tafseer →اشہر حرم میں رفاعی جنگ جائز ہے : یہ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت ہے کہ اگر حج کے سلسلہ میں جنگ کی نوبت آجائے تو اشہر حرم میں دفاعی جنگ جائز ہے۔ البتہ حدود سے تجاوز اللہ کو پسند نہیں ہے۔ یعنی نہ تو یہ بات جائز ہے کہ تم خود اشہر حرم میں جنگ کے لیے پہل کرو اور نہ یہ جائز ہے کہ مدافعت کے لیے جتنی کارروائی ضروری ہے، اس سے آگے کوئی قدم اٹھاؤ البتہ مدافعت کرنے کے تم پورے طور پر مجاز ہو، اشہر حرم یا خود حرم کا حترام اس میں کسی پہلو سے مانع نہیں ہے بلکہ یہ عین ان کے احترام کا تقاضا ہے۔ اس نکتہ کی تفصیل آگے کی آیات میں آرہی ہے۔ حج کے ذکر کے ساتھ یہ وضاحت اس لیے ضروری ہوئی کہ اس وقت تک حرم پر مشرکین کا…
Read the full tafseer →190۔ 1 اس آیت میں پہلی مرتبہ ان لوگوں سے لڑنے کی اجازت دی گئی جو مسلمانوں سے آمادہ قتل رکھتے تھے۔ تاہم زیادتی سے منع فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو جن کا جنگ میں حصہ نہ ہو اسی طرح درخت وغیرہ جلا دینا یا جانوروں کو بغیر مصلحت کے مار ڈالنا بھی زیادتی ہے جس سے بچا جائے (ابن کثیر)۔
Read the full tafseer →121: یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب مکہ کے مشرکین نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا اور یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال آکر عمرہ کریں گے، جب اگلے سال عمرہ کا ارادہ کیا گیا تو کچھ صحابہ کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں مشرکین مکہ عہد شکنی کرکے ہم سے لڑائی شروع نہ کردیں اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کو یہ مشکل پیش آئے گی کے حدود حرم میں اور خاص طور پر ذیقعدہ کے مہینے میں لڑائی کیسے کریں جبکہ اس مہینے میں جنگ ناجائز ہے، ان آیات نے وضاحت فرمائی کہ اپنی طرف سے تو جنگ نہ کی جائے، البتہ اگر کفار معاہدہ توڑ کر جنگ شروع کردیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے لئے جنگ…
Read the full tafseer →بعض روایات میں آتا ہے کہ قانون جنگ کے سلسلے میں قرآن کریم کا یہ پہلا حکم ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان مومنین کو جن کے ساتھ کفار برسر پیکار تھے صرف جنگ کی اجازت دی تھی ۔ اس لئے کہ وہ مظلوم ہیں ۔ مسلمانوں نے محسوس کرلیا تھا کہ یہ اذن فرضیت جہاد کے لئے ایک تمہید ہے اور اللہ تعالیٰ اب اس زمین پر مسلمانوں کو تمکنت عطا کرنے والا ہے ، چناچہ سورة حج میں فرمایا :
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (39) الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ…
Read the full tafseer →11 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے مکہ دارالامن تھا، کوئی اپنے دشمن کو بھی مکہ میں پاتا تو کچھ نہ کہتا اور اشہر حرام یعنی ذی القعدہ اور ذی الحجہ اور محرم اور رجب یہ چاروں مہینے بھی امن کے تھے ان میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی اور کوئی کسی کو کچھ نہ کہتا۔ ذی القعدہ 6 ہجری میں حضرت ﷺ جماعت صحابہ کے ہمراہ عمرہ کے قصد سے مکہ کی زیارت کو تشریف لائے جب آپ مکہ کے نزدیک پہنچے تو مشرکین جمع ہو کر لڑنے کو تیار ہوگئے اور مسلمانوں کو روک دیا آخر کو اس پر صلح ہوئی کہ اب تو بدون زیارت واپس ہوجائیں اور اگلے برس آکر عمرہ کریں اور تین روز اطمینان سے مکہ میں رہیں۔ جب دوسرے برس ذی القعدہ 7 ہجری…
Read the full tafseer →آیت 190 وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ
لیجیے قتال کا حکم آگیا۔ سورة البقرۃ کے نصف ثانی کے مضامین کی جو چار لڑیاں میں نے گنوائی تھیں یعنی عبادات ‘ معاملات ‘ انفاق اور قتال یہ ان میں سے چوتھی لڑی ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →250 مکہ میں مسلمانوں کو مخالفین کے ظلم و ستم پر صبر کرنے کی ہی ہدایت کی جاتی رہی۔ مدینہ آ کر جب مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی ریاست قائم ہوگئی تو مسلمانوں کو لڑائی کی اجازت مل گئی اور اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورة حج کی یہ آیت تھی۔ ( اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُۨ 39ۙ ) 22 ۔ الحج :39)
جن لوگوں سے لڑائی کی جاتی رہی اب انہیں (بھی لڑنے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم ہوتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ تاکید کی گئی کہ صرف انہیں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کریں۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →695 ۔ (آیت) ” قاتلوا “۔ قتال کا یہ حکم ان مظلوم مسلمانوں کو مل رہا ہے، جو دو چار مہینے نہیں، پورے تیرہ برس مکہ میں ہر طرح کے شدائد پر، اور شدائد کیسے، یہ کہیے شقاوت، سفاکی، بہیمیت پر، صبر کے امتحان میں پورے اتر چکے تھے، اور اب وطن سے بےوطن ہوکر، گھر بار چھوڑنے پر بھی، مدینہ میں چین سے نہیں بیٹھنے پاتے تھے۔ اللہ تربت ٹھنڈی رکھے لارڈ ہیڈلے انگریز کی، نومسلم ہو کر بات پتہ کی کہہ گیا ہے، کہ اسلامی غزوات کے تین ابتدائی جغرافی محل وقوع کو دیکھ کر خود فیصلہ کرلو، کہ لڑائی کی ابتداء کس نے کی، اور چڑھائی کون کس پر کرکے گیا تھا ؟ حملہ اور جارحانہ اقدام کون کررہا تھا، اور حفاظت خود اختیاری ومدافعت میں…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ ذی القعدہ 6 ھ میں آپ ﷺ ادائے عمرہ کے قصد سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے اس وقت تک مکہ مشرکین کے قبضہ میں تھا، ان لوگوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو مکہ میں داخل ہونے سے حدیبیہ کے مقام پر روک دیا، آخر کار بڑی گفتگو کے بعد یہ معاہدہ قرار پایا کہ آئندہ سال آکر عمرہ کریں چناچہ ذی قعدہ 7 ھ میں قضائے عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے لیکن آپ کے اصحاب کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں مشرکین مکہ عہد شکنی کرکے حملہ آور نہ ہوں تو ایسی حالت میں نہ سکوت مصلحت ہے اور اگر مقابلہ کیا جائے تو ماہ محترم میں قتال لازم آتا ہے اس لئے کہ ذی القعدہ چار محترم مہینوں…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (لڑو اللہ کی راہ میں)
الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ ( ان سے جو تم سے لڑائی کریں) ان سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن سے لڑائی کا اندیشہ ہو۔
وَلَا تَعْتَدُوْا ( اور زیادتی نہ کرو) یعنی عورتوں اور بچوں اور بہت بوڑھوں اور راہبوں اور صلح کرنے والوں کو قتل نہ کرو۔ بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب کہیں لشکر بھیجتے تھے ( بطور وصیت) فرماتے کہ اللہ کے نام پر اور اللہ کی راہ میں غزوہ کرو جو اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان سے قتال کرو اور قتال میں حد سے مت تجاوز کرو اور بد عہدی نہ کرو اور عورت اور بچہ اور بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ اس حدیث کو بغوی (رح) نے روایت کیا ہے اور مسلم…
Read the full tafseer →(190) جب کوئی تم سے قتال کی پہل کرے تو تم جوابا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے مسجد حرام میں قتال کرسکتے ہو باقی خود سے پہل مت کرو کیوں کہ حالت احرام اور حرم میں قتال کی پہل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے ،
Read the full tafseer →مسلمان عمرہ کے لیے آئے تو کفار لڑائی پر آمادہ ہوگئے۔ حج کے بیان کے ساتھ لڑائی کے حکم کی مناسبت یہ ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت میں صرف ان کفار سے لڑنے کا حکم ہے جو خود لڑنے میں پہل کریں ”وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ“ (زیادتی نہ کرو) کا معنی انھوں نے یہ کیا کہ تم لڑائی میں پہل نہ کرو، پھر ان مفسرین نے اسے ان آیات کے ساتھ منسوخ قرار دیا جن میں تمام کفار سے لڑنے کا حکم ہے، وہ پہل کریں یا نہ کریں، مثلاً : (وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً) [ التوبۃ : 36 ] ”اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو۔“ اور فرمایا : (قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ) [ التوبۃ : 133 ]”ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں سے تمہارے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 190
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقاتلوا یہ پہلی آیت ہے جو قتال کے حکم میں نازل ہوئی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہجرت سے پہلے ان ارشادات کی وجہ سے قتال ممنوع تھا۔ اذقع بالتی ھی احسن (المومنوں :96) (دور کرو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے) فاعف عنھم واصفع (المائدہ :13) (معاف فرماتے رہئے اور دوگزر فرمایئے) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واھجرًا ھم ھجرًا جمیلا۔ (مزمل) (اور ان سے الگ ہوجایئے بڑی خوبصورتی سے) ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لست علیھم بمصیطر۔ (الغاشیہ) (آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں) اس قسم کے دوسرے ارشادات جو مکہ میں نازل ہوئے۔ جب آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →(1) امام آدم بن ابی ایاس نے اپنی تفسیر میں اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جن کو کافروں سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔
(2) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تعتدوا “ سے مراد ہے کہ تم قتل نہ کرو عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو اور نہ اس کو جو صلح کرنا چاہے اور اپنے ہاتھ کو (لڑائی سے) روک دے اگر تم نے ایسا کیا (یعنی ان کو قتل کیا) تو تم نے زیادتی کی۔
(3) ابن ابی شیبہ، بخاری اور مسلم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ بعض لڑائیوں میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو…
Read the full tafseer →[ وَقَاتِلُوْا : اور تم لوگ قتال کرو ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں ] [ الَّذِیْنَ : ان لوگوں سے جو ] [ یُـقَاتِلُوْنَــکُمْ : قتال کرتے ہیں تم لوگوں سے ] [ وَلَا تَعْتَدُوْا : اور زیادتی مت کرو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ] [ لَا یُحِبُّ : محبت نہیں کرتا ] [ الْمُعْتَدِیْنَ : زیادتی کرنے والوں سے ]
ترکیب : ” قَاتِلُوْا “ فعل امر ہے۔ اس کا فاعل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے ‘ جبکہ ” اَلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ “ پورا جملہ اس کا مفعول ہے۔ ” فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ متعلق فعل ہے ۔ ” اِنَّ “ کا اسم لفظ ” اللّٰہَ “ ہے اور ” لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ “ پورا جملہ اس کی خب رہے۔
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں قتال کرنے کا حکم اور ظلم و زیادتی سے پرہیز کرنے کی تاکید
حضرت سید المرسلین ﷺ ہجرت کے چھٹے سال اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے جب مکہ معظمہ قریب آیا تو مقام حدیبیہ پر مشرکین مکہ نے آپ کو روک دیا۔ اور مکہ معظمہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ بڑی رد وکد کے بعد انہوں نے دس سال کے لیے چند شرطوں پر صلح کرلی ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال عمرہ نہیں کرسکتے آئندہ سال عمرہ کے لیے تشریف لائیں۔ اور اس وقت مکہ معظمہ میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہریں گے۔ یہ ہی ذی قعدہ کا مہینہ تھا۔ پھر آپ آئندہ سال ماہ ذی قعدہ ہی میں عمرہ کی قضاء کے لیے تشریف لائے اس زمانے میں چار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–194
حکم نہم متعلق بہ قتال کفار۔
قال تعالی، وقاتلوا فی سبیل اللہ۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ مع المتقین۔
گزشتہ آیات میں حج اور روزہ کے لیے خاص مہینہ کا ہونا بیان فرمایا کہ سوائے ان ایام مقررہ کے دوسرے ایام میں حج نہیں ہوسکتا اسی طرح ملت ابراہیمی میں یہ حکم تھا کہ چار مہنوں میں قتل و قتال حرام ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب۔ یہ چار مہینے اشہر حرم کہلاتے تھے اور یہ چاروں مہینے امن کے کہلاتے تھے ان دنوں میں تمام ملک عرب میں لڑائی موقوف ہوجاتی تھی اور کوئی کسی سے تعرض نہ کرتا تھا اس بناء پر نبی صلی اللہ نے ذی قعدہ الحرام س 6 ھجری میں صحابہ کی ایک کثیر جماعت کے ہمراہ عمراہ کا قصد فرمایا جب مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین…
Read the full tafseer →363 ربط۔ دوسرے حصہ میں پہلے تین امور انتظامیہ بیان فرمائے کیونکہ نظم ونسق اور اتحاد باہمی کے بغیر جہاد ناممکن ہے۔ پھر ایک اور امر مصلح بیان فرمایا کہ باطن کی صفائی ہو اور امور انتظامیہ پر بخوشی عمل کیا جاسکے اب آگے اصل مضمون کا ذکر ہے یعنی امر قتال اور یہ قتال محض اللہ کی توحید کو بلند کرنے کے لیے ہے۔ مسلمانوں نے مکہ میں پورے تیرہ برس انتہائی مظلومیت کی حالت میں گذارے۔ مشرکین کی طرف سے ہر قسم کی ایذائیں اور تکلیفیں برداشت کیں۔ آخر مدینہ کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے مگر دشمنوں نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بھی اپنی مدافعت کے لیے جنگ کرنے کی اجازت دیدی۔ لیکن ساتھ ہی تین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
جہاد کی قسمیں
اسلام کے پہلے چار ارکان کا بیان سابقہ دروس میں آ چکا ہے ، اب یہاں سے جہاں کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ لفظ جہاد ایک عام لفظ ہے اور یہ وسیع تر معانی میں استعمال ہوتا ہے ، اور قتال خاص ہے ، جس سے مراد جنگ ہے ، جہاد ظاہری اور باطنی طاقت کو دشمن کے مقابلے میں بقائے امن اور اقامت دین کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔ حضور ﷺ نے جہاد کی کئی شکلیں بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا یا جاھد والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی مشرکوں کے خلاف اپنے مال جان اور زبان کے ساتھ جہاد کرو ، یہ صحیح حدیث مسند احمد اور بو دائود شریف میں موجود ہے ، جان و مال کے ساتھ جہاد کی صورت تو واضح ہے کہ کلمہ توحید بلند کرنے کے…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللہِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ 190
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں…
Read the full tafseer →ترکیب : قاتلوا فعل انتم اس کا فاعل فی سبیل اللہ اس کے متعلق الذین یقاتلونکم جملہ مفعول ولا تعتدوا معطوف ہے قاتلوا پر اللہ اسم ان لایحب الخ خبر واقتلوا فعل انتم فاعل ھم مفعول حیث متعلق ہے اقتلوا سے وقس علیہ اخرجوھم والفتنۃ مبتدا اشد الخ خبر حتیٰ بمعنی کے اور ممکن ہے کہ بمعنی الی ان ھو لا تکون کان تامہ اور یکون میں بھی کان تامہ اور جو دونوں کو ناقصہ کیا جاوے تو للہ خبر عدو ان اسم لا الاعلی الظالمین خبرلا۔
تفسیر : پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ نیکی گھروں میں پیچھے سے آنے میں نہیں بلکہ نیکی تقویٰ ہے اور تقویٰ کی بڑی شاخ اللہ کے دشمنوں سے لڑ کر زمین کو کفر و معاصی اور دیگر فساد سے پاک کرنا ہے جس کی…
Read the full tafseer →وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ وَلَاتَعْتَدُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۔
(اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کریں اور حد سے مت بڑھو، بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا) (190)
حج کے بعد جہاد کے ذکر کا سبب
حج کے ذکر کے بعد قتال اور جہاد کا ذکر عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب آپ حالات کے جھروکوں میں جھانک کردیکھتے ہیں تو تب اندازہ ہوتا ہے کہ پروردگار نے یہاں قتال کا ذکر کیوں فرمایا۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین ہجری میں حج فرض کردیا تھا اور سورة البقرۃ نے نازل ہو کر مسلمانوں کو یہ آگاہی دی تھی کہ ملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
فہم القرآن
ربط کلام : روزے کا چاند سے تعلق ہے لہٰذا ضمناً چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب عنایت فرما دیا گیا ہے۔
کارخانۂ کائنات میں چاند مظاہر فطرت وقدرت میں سے ایک ہے جس کا انسانی زندگی اور ذہن پر خاص اثر پڑتا ہے۔ چاند کا جمال و کمال انسان کے لیے ہمیشہ سے دلربا رہا ہے۔ ماں کی مامتا بےساختگی کے عالم میں اپنے لخت جگر کو چاند کہہ کر پکارتی ہے ‘ شاعروں نے اسے اپنے کلام کا موضوع بنایا اور غلط ذہن لوگ اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہ دیتے آئے ہیں چاند کی حسن صورت کو دیکھ کر انسان اس کے سامنے سرنگوں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبیلہ اور قوم چاند کو اپنا معبود تصور کرنے لگی۔ اسی…
Read the full tafseer →مفہوم آیت میں چار اقوال :
190۔ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْاج اِنَّ اللّٰہَ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ : اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں ‘ اور زیادتی مت کرو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ اللہ کے راہ میں مقاتلہ کا مطلب اعلائے کلمۃ اللہ اور عظمت دین کے لئے جہاد کرنا ہے الذین یقاتلونکم۔ جو تم سے لڑائی کرتے ہیں نہ ان سے جو کہ باز رہنے والے ہیں اس صورت میں یہ آیت سورة التوبہ آیت نمبر 26 قاتلوا المشرکین کآفۃ سے منسوخ مانی جائے گی۔
دوسرا قول : یہ آیت سب…
Read the full tafseer →(تفسیر) 190۔:
(آیت)” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں (لڑو) (آیت)” الذین یقاتلونکم “ ابتداء اسلام میں حضور ﷺ کو مشرکین سے قتال کرنے سے روک دیا تھا ، پھر جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان مشرکین سے لڑنے کا اس آیت کے ذریعے سے حکم فرمایا جو آپ ﷺ سے لڑیں۔
حضرت ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں کہ لڑائی سے متعلق یہ پہلی آیت کریمہ ہے جو نازل ہوئی ، پھر اس اس کے بعد تمام مشرکین سے لڑنے کا حکم کا حکم جو مقابلہ میں لڑیں یا نہ لڑیں اس آیت کریمہ کے ساتھ دیا گیا، (آیت)” اقتلوا المشرکین “ تو (آیت)” الذین یقاتلونکم “ والی آیت کریمہ (جس میں یہ شرط لگائی گئی تھی کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضرت چاند کا یہ کیا حال کہ شروع مہینے میں بالکل پتلا ہوتا ہے اور پھر بڑھتا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے پھر آخر مہینہ میں کبھی ایک رات کبھی دو راتیں بالکل نکلنا ہی نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ چاند کی اس حالت میں بڑی حکمت ہے اٹھائیس منزلیں اور بارہ 12 برج جن کے علیحدہ نام چاند کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن کی تفصیل سورة یونس اور یسین میں آئے گی۔ ان میں سے چاند ایک منزل جب طے کرتا ہے تو ایک رات ہوتی ہے اور دو منزلیں ایک ایک منزل کا تیسرا حصہ جب طے کرتا ہے تو ایک شبانہ روز ہوتا ہے۔ اور پوری منزلیں اور برج طے کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد اور قتال کو متضمن ہیں اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد جب مسلمان طاقتور ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس قتال کا حکم دیا جب کہ اس سے قبل ان کو حکم تھا کہ وہ اپنے آپ کو لڑائی سے روکے رکھیں۔ قتال کو (آیت) فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ کے ساتھ مختص کرنے میں، اخلاص کی ترغیب اور فتنوں کے زمانے میں مسلمانوں کے آپس میں لڑنے کی ممانعت ہے۔ (آیت) الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ ” جو تم سے لڑتے ہیں۔ “ یعنی ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو تمہارے ساتھ لڑنے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہ ذمے دار لڑنے کی اہلیت رکھنے والے کافر مرد ہیں، نہ کہ وہ بوڑھے جو لڑ سکتے ہیں اور نہ لڑائی میں…
Read the full tafseer →(آیت 187 کی بقہ تفسیر)
یہ حدیث اس مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مسجد کے اندر ہو اور وہ اپنا سر باہر نکال کر کسی سے دھلوائے تو وہ شخص مسجد کے اندر سر دھونے والا خیال کیا جائے گا ۔ اس مسئلے کا عملی طور پر اثر اس صورت میں پڑے گا جبکہ کوئی شخص یہ قسم اٹھالے کہ وہ فلاں شخص کا سر مسجد میں نہیں دھوئے گا ، پھر اگر وہ اس کا مسجد سے باہر نکال کر دھو لے جبکہ دھونے والا مسجد سے باہر ہو تو ایسی صورت میں سر دھونے والا حانث ہوجائے گا ۔ دراصل اس قسیمہ فقرے میں مغسول یعنی جس کا سردھویا گیا اس کی جگہ کا اعتبار کیا گیا ہے۔ سردھونے والے کی جگہ اور مقام کا اعتبار نہیں کیا گیا ۔ اس لیے دھونے کا عمل اس وقت…
Read the full tafseer →525 تم ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں : تاکہ وہ حق کا راستہ روکنے نہ پائیں، اور اس طرح بول بالا حق اور اہل حق ہی کا ہو، کہ حق ہی کا یہ حق ہے کہ وہ غالب رہے، اور اسی میں بھلا ہے خلق خدا اور اس پوری کائنات کا۔ سو اسلامی تعلیمات کی رو سے جہاد و قتال کا اصل مقصد یہی ہے کہ غلبہ حق ہی کا ہو، اور باطل اور اس کے کارندے و کارپرداز حق کی راہ میں روڑے نہ اٹکا سکیں، اور وہ اپنے کفر و باطل پر چلیں تو بھی اسلام کی بالا دستی کو تسلیم کرتے ہوئے کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { حَتّٰی یُوْتُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صَاغِرُوْنَ } ۔ (توبہ :29) ۔ سو اس ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–192
اللہ کی راہ میں جنگ اور احترام کعبہ
تشریح : اس حکم سے مسلمانوں کو پہلی دفعہ کفار سے لڑنے کی اجازت ملی۔ اس سے پہلے تیرہ برس مکہ میں مسلمانوں کو صبر و سکون کی ہی تلقین کی گئی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک صرف تبلیغ و تلقین کا سلسلہ ہی جاری تھا۔ اب چونکہ مدینہ میں چھوٹی سی شہری ریاست بن گئی تھی تو اپنی حفاظت، دین کی حفاظت اور اسلام کے فروغ کے لئے پہلی دفعہ حکم ہوا کہ جو تم سے لڑیں تم ان سے لڑو اس کے بعد ہی جنگ بدر پیش آئی اور پھر فلاح و بہبود اور اسلام کی تبلیغ کے لئے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مگر جنگ میں بھی حدودبندی کا سلسلہ جاری رہا اور مسلمان کو کبھی ظلم و زیادتی کی اجازت ہرگز نہیں دی گئی۔ کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →ف 6 اوپر کی آیت میں دو حکم مذ کور ہیں۔ (شو کانی) معرفت الہی میں استقامت جس کا تعلق علم سے ہے اور طاعت میں تقوی کے راہ اختیار کرنا جو عمل کے متعقل ہے۔ اس آیت میں جہاد کا حکم ہے جو عملا تقوی کی مشکل تریں صورت ہے۔ (کبیر) جملہ اہل علم اس امر پر متفق ہیں کہ ہجرت سے قبل قتال ممنوع تھا۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد یہ پہلا حکم ہے جو قتال کی اجازت میں نازل ہوا۔ اس آیت کے تحت جب تک کہ عام اجازت نازل نہیں ہوئی آنحضرت ﷺ انہیے لڑتے جو پہل کرتے اس کے بعد عام اجازت ہوگئی۔ اس آیت میں اعتدا۔ یعنی ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے منع فرمادیا ہے۔ چناچہ حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ (جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو) تو…
Read the full tafseer →الذین یقاتلونکم۔ جملہ مفعول ہے فعل قاتلوا کا۔؎
المعتدین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب۔ حد سے بڑھ جانیوالا۔
الذین یقاتلونکم۔ جملہ مفعول ہے فعل قاتلوا کا۔
المعتدین۔ اسم فاعل ۔ جمع مذکر منصوب۔ حد سے بڑھ جانیوالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–195
لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195
قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–193
شان نزول : ہجرت کے بعد جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے اور انصار لوگوں کے سبب سے مسلمانوں کی جماعت کو غلبہ ہوگیا تو اس آیت میں جہاد کا حکم اترا اور مکہ میں درگزر کرنے کی جتنی آیتیں اتریں تھیں وہ سب اس حکم سے منسوخ ہوگیئں۔ اس آیت میں جو ارشاد فرمایا کہ جو تم سے لڑیں ان سے لڑو اس کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ عورتیں، بچے بوڑھے، جو تم سے لڑنے کے قابل نہیں ان سے مت لڑو اور ان کو مت مارو۔ دوسرے معنی یہ کہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے سوا جو بھی انمرد تم سے لڑیں اور مقابلہ کریں ان سے لڑو۔ مقابلہ نہ کرنے والوں سے مت لڑو۔
فوائد القرآن : حرم کی حد میں بھی مشرکین سے محض ان کی شرک کی وجہ سے لڑائی جائز ہے۔ خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
[125] اسلام سے پہلے جو عجیب اور توہم پرستانہ رسمیں عرب میں رائج تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ حج کا احرام باندھ لینے کے بعد اگر گھر میں آنے کی ضرورت ہوتی تو پچھواڑے سے آتے نیز سفر سے واپس آ کر بھی گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے۔ یہاں اس رسم کی نہ صرف تردید کی گئی ہے بلکہ فرمایا گیا کہ نیکی اس طرح کی رسموں میں نہیں ہے بلکہ اصل نیکی اللہ سے ڈرنا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنا ہے۔
Read the full tafseer →جنگ کن سے ہے ؟
(ف 4) ہجرت سے پہلے مسلمان کفر کی طرف سے ہر زیادتی کو برداشت کرتے رہے اور ان کا عمل (آیت) ” فاعف عنھم واصفح “ کی تصویر رہا ، مگر جب ان کی زیادیتاں حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان لوگوں سے مصروف جہاد ہوجاؤ جو تمہیں دق کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو مسلمانوں سے تعرض نہیں کرتے اور ان سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ان سے جنگ درست نہیں ، وہ لوگ جو اسلام کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتے ، وہ ان آیات کو غور سے پڑھیں اور یہ دیکھیں کہ اسلام نے جہاد میں بھی آداب واخلاق کی پابندی کو ضروری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دیکھنا دشمن پر…
Read the full tafseer →ف 2 اور تم بھی اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو نقص عہد اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہوئے تم سے لڑیں اور دیکھو حد سے تجاوز نہ کرنا کہ کہیں ان کے نقص عہد کے بغیر ان سے لڑنے لگو کیونکہ اللہ تعالیٰ حد سے شرح سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں کرتا۔ (تیسیر)
بعض لوگوں نے اس کو جہاد کی پہلی آیت قرار دیا ہے لیکن اس میں اقدام کی شرط ہے پھر آگے کی آیت سے جو مطلقاً قتال کا حکم دیتی ہے اس کو منسوخ ٹھہرایا ہے لیکن فقیر کے نزدیک محقق قول یوں ہے کہ ان آیتوں میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ 6ھ کے ذیقعدہ میں جب نبی کریم ﷺ نے عمرے کا ارادہ کیا اور مکہ تک پہنچ گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی…
Read the full tafseer →جہاد فی سبیل اللہ کا حکم عام :
326: پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ ہجرت مدینہ سے پہلے کفار کے ساتھ جہاد و قتال ممنوع تھا۔ مکہ مکرمہ کی تمام آیات قرآنی میں مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر اور عفو و درگزر ہی کی تلقین تھی۔ ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے اسی آیت کریمہ میں قتال کفار سے جہاد کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں حکم یہ ہے کہ مسلمان صرف ان کفار سے قتال کریں جو ان کے مقابلہ پر قتال کے لئے آئیں یعنی میدان جنگ میں۔
حقیقت اس کی یہ ہے کہ تمام دنیا مسلمانوں کی جولا نگاہ ہے کرہ ارض میں اس وقت صرف اور صرف ایک نبی یعنی محمد ﷺ کی نبوت جاری ہے۔ اب کسی نبی کا آنا ممکن نہیں رہا کیونکہ ختم نبوت کا اعلان…
Read the full tafseer →Jihad: To fight in the way of Allah
That Jihad and Qital or fighting against disbelievers was prohibited prior to the emigration to Madinah is a fact the entire Muslim community agrees upon. All verses revealed during that time advised Muslims to be patient against pains inflicted on them by disbelievers, even to ignore and forgive when they can. It was after the emigration to Madinah that the first command to fight against them came through this verse (as said by al-Rabi' ibn Anas and others). Another narration from Sayyidna Abu Bakr al-Siddiq ؓ says that the first verse relating to this…
Read the full tafseer →200. The believers are asked to fight those who hindered their efforts in the cause of God, and acted with hostility towards them merely because they sought to fashion human life according to the revealed guidance of God. Earlier, when they were weak and scattered, the Muslims were asked merely to preach and be patient with the wrongful repression meted out to them by their opponents. However, now that a small city state had been established in Madina they were commanded for the first time to unsheathe their swords against those who had resorted to armed hostility against their movement of…
Read the full tafseer →