چاند اور مہ وسال
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگوں نے چاند کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس سے قرض وغیرہ کے وعدوں کی میعاد معلوم ہوجاتی ہے، عورتوں کی عدت کا وقت معلوم ہوتا ہے، حج کا وقت معلوم ہوتا ہے، مسلمانوں کے روزے کے افطار کا تعلق بھی اسی سے ہے، مسند عبدالرزاق میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کو لوگوں کے وقت معلوم کرنے کے لئے بنایا ہے اسے دیکھ کر روزے رکھو اسے دیکھ کر عید مناؤ اگر ابرو باراں کی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن پورے گن لیا کرو، اس روایت کو حضرت امام حاکم نے صحیح کہا ہے یہ حدیث اور سندوں سے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 198
چاند کا گھٹنا بڑھنا ایک ایسا منظر ہے، جس نے ہر زمانے میں انسان کی توجہ کو اپنی طرف کھینچا ہے اور اس کے متعلق طرح طرح کے اوہام و تخیلات اور رسوم دنیا کی قوموں میں رائج رہے ہیں اور اب تک رائج ہیں۔ اہل عرب میں بھی اس قسم کے اوہام موجود تھے۔ چاند سے اچھے یا برے شگون لینا، بعض تاریخوں کو سعد اور بعض کو نحس سمجھنا، کسی تاریخ کو سفر کے لیے اور کسی کو ابتدائے کار کے لیے اور کسی کو شادی بیاہ کے لیے منحوس یا مسعود خیال کرنا اور یہ سمجھنا کہ چاند کے طلوع و غروب اور اس کی کمی بیشی اور اس کی حرکت اور اس کے گہن کا کوئی اثر انسانی قسمتوں پر پڑتا ہے، یہ سب باتیں دوسری جاہل قوموں کی طرح…
Read the full tafseer →ربط آیات
آیت لَيْسَ الْبِرُّ کے تحت بیان ہوچکا ہے کہ اس کے بعد آخر سورة بقرہ تک ابواب البر کا بیان ہوگا جو اہم احکام شرعیہ پر مشتمل ہیں، ان میں پہلا حکم قصاص کا دوسرا وصیت کا، تیسرا اور چوتھا صوم اور اس کے متعلقہ مسائل کا، پانچواں اعتکاف کا، چھٹا مال حرام سے بچنے کا تھا، مذکور الصدر دو آیتوں میں حج اور جہاد کے احکام و مسائل کا بیان ہے اور حج کے حکم سے پہلے یہ بتلایا گیا کہ روزہ اور حج وغیرہ میں قمری مہینوں اور دنوں کا اعتبار ہوگا،
لغاتاَهِلَّةِ ہلال کی جمع ہے، قمری مہینہ کی ابتدائی چند راتوں کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے مواقیت، میقات کی جمع ہے جس کے معنی مطلق وقت یا منتہائے وقت کے آتے ہیں…
Read the full tafseer →اَھِلۃ ہلال کی جمع ہے۔ ہلال شروع ماہ کے چاند کو بھی کہتے ہیں اور اس سے مراد مہینہ بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر جمع کی صورت میں تو اس کا استعمال مہینوں ہی کے لیے معروف ہے۔ اہلہ پر الف، لام اس بات کی دلیل ہے کہ سوال کچھ مخصوس مہینوں سے متعلق ہے اور سیاق وسباق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال اشہر حرم اور ان کے احکام و آداب سے متعلق تھا۔ چناچہ آگے کی آیات میں اس سوال کے جو جواب دئیے ہیں وہ تمام تر حج اور اشہر حرم ہی سے متعلق ہیں۔ قرآن مجید، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، سائلوں کے سوالات چونکہ اجمال و اختصار کے ساتھ نقل ہوئے ہیں اس وجہ سے عام اہل تاویل کو یہ گمان ہوا کہ یہ سوال چند کے گھٹنے…
Read the full tafseer →189۔ 1 انصار جاہلیت میں جب حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتے اور پھر کسی خاص ضرورت کے لئے گھر آنے کی ضرورت پڑجاتی تو دروازے سے آنے کے بجائے پیچھے سے دیوار پھلانگ کر اندر آتے، اس کو نیکی سمجھتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نیکی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →120: بعض اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد انہیں کسی ضرورت سے گھر واپس جانا پڑتا تو وہ گھر کے عام دروازے سے داخل ہونے کو ناجائز سمجھتے تھے اور ایسی صورت میں گھر کے پچھلے حصے سے داخل ہوتے تھے خواہ اس کے لئے انہیں گھر میں نقیب ہی کیوں نہ لگانی پڑے، یہ آیت اس فضول رسم کو بےبنیاد قرار دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →درس 12 ایک نظر میں
سابقہ اسباق کی طرح اس سبق میں امت کو بعض فرائض کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے بعض قومی اور بعض بین الاقوامی معاملات پر قانون سازی کی گئی ہے ۔
اس سبق میں چاند کی بڑھتی گھٹتی صورتوں کا بیان ہے ۔ گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہونے کا بیان ہے ، جاہلیت میں بعض اوقات لوگ اس رسم کی پابندی کرتے تھے ۔ احکام قتال ، حرام مہینوں میں مسجد حرام کے پاس جنگ اور حج وعمرہ کے اصلاح شدہ احکام ہیں ۔ ترتیب کے ساتھ اور مناسب ترامیم کے ساتھ ۔ ان تمام معاملات سے وہ اجزاء نکال دیئے گئے ہیں جن کا ربط دور جاہلیت سے تھا۔
سابقہ درس کی طرح اس میں بھی بعض احکام ، عقائد ونظریات سے متعلق ہیں اور…
Read the full tafseer →8 آفتاب ہمیشہ ایک صورت ایک حالت پر رہتا ہے اور چاند کی صورت بدلتی اور اس کی مقدار بڑھتی رہتی ہے اس لئے لوگوں نے چاند کے کم زیادہ ہونے کی وجہ آپ ﷺ سے پوچھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی پہلی آیات میں شہر رمضان اور روزہ کا ذکر تھا اس آیت میں ہلال کا ذکر ہے اور روزہ اور رویت ہلال میں تعلق ظاہر ہے کہ ایک دوسرے پر موقوف ہے اور آگے چل کر حج اور اسکے احکام کا ذکر ہے ذکر ہلال اس کے بھی مناسب ہے۔
9 یعنی ان سے کہہ دو کہ چاند کا اس طرح پر نکلنا اس سے لوگوں کے معاملات اور عبادات مثل قرض اجارہ عدت مدت حمل و رضاعت روزہ زکوٰۃ وغیرہ کے اوقات ہر ایک کو بےتکلف معلوم ہوجاتے ہیں بالخصوص حج کہ روزہ وغیرہ کی قضا تو ان کے…
Read the full tafseer →آیت 189 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ ط قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ ط
یہ اللہ تعالیٰ نے ایک کیلنڈر لٹکا دیا ہے۔ ہلال کو دیکھ کر معلوم ہوگیا کہ چاند کی پہلی تاریخ ہوگئی۔ کچھ دنوں کے بعد نصف چاند دیکھ کر پتا چل گیا کہ اب ایک ہفتہ گزر گیا ہے۔ دو ہفتے ہوگئے تو پورا چاند ہوگیا۔ اب اس نے گھٹنا شروع کیا۔ تو یہ نظام گویا لوگوں کے لیے اوقات کار کی تعیین کے لیے ہے اور اس ضمن میں خاص طور پر سب سے اہم معاملہ حج کا ہے۔ یہ نوٹ کیجیے کہ صوم کے بعد حج اور حج کے ساتھ ہی قتال کا ذکر آ رہا ہے۔ اس لیے کہ حج وہ عبادت ہے جو ایک خاص جگہ پر ہوسکتی ہے۔ نماز اور روزہ ہر جگہ ہوسکتے ہیں ‘ زکوٰۃ ہر جگہ…
Read the full tafseer →248 سائل کا اصل سوال یہ تھا کہ چاند کیسے گھٹتا بڑھتا ہے اور اس کی شکلیں کیوں کر بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سوال چونکہ علم ہئیت کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کہ عام آدمی کی ذہنی سطح سے بلند ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا انسان کی عملی زندگی اور ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس سوال کے جواب کا رخ اس طرف موڑ دیا۔ جس کا تعلق انسان کی ہدایت اور عملی زندگی سے تھا اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے قدرتی جنتری ہے۔ نیز تم ان اشکال قمر سے حج کے اوقات بھی معلوم کرسکتے ہو۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جن شرعی احکام کا تعلق دن کے اوقات سے ہو ان کا تعلق سورج سے ہوگا۔ جیسے نمازوں کے اوقات اور روزہ کے…
Read the full tafseer →689 ۔ (اے پیغمبر ! کہ ان کے گھٹنے بڑھنے کی غایت کیا ہے ؟ ) (آیت) ” الاھلۃ “ نیا چاند یا ہلال تو ایک وقت میں ایک ہی ہوتا ہے، لیکن یہاں سوال اہلہ (بہ صیغہ جمع) سے متعلق ہے۔ سوال عن الاھلہ کے معنی ہی ہوئے چاند کے مہینوں کی بابت دریافت کرنا۔ یعنی پہلے چاند کا طلوع ہونا، پھر تاریخ وار اس کا بڑھنا، اور پھر تاریخ وار اس کا گھٹنا، یہاں تک کہ اس کا غائب ہوجانا۔ یرید بالاھلۃ شھور ھا، قدیعبر بالھلال عن الشھر لحلولہ فیہ (قرطبی) اے عن زیادۃ الاھلۃ ونقصانھا لماذا (ابن عباس) سئل رسول اللہ عن زیادۃ الاھلۃ ونقصانھا واختلاف احوالھا (ابن جریر) چاند کے روزانہ (بلکہ شبانہ) تغیرات مشاہدہ کی چیزیں ہیں، اس لیے سوال…
Read the full tafseer →آیت نمبر 189 تا 194
ترجمہ : اے محمد ﷺ آپ سے چاند کی حالتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ باریک کیوں نمودار ہوتا ہے ؟ (یعنی جب نمودار ہوتا ہے تو باریک ہوتا ہے) پھر بڑھتا ہے، یہاں تک کہ پرنور ہوجاتا ہے، پھر (اپنی سابقہ حالت کی طرف) عود کرتا ہے (یعنی گھٹنا شروع ہوجاتا ہے) اور ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا نمودار ہوا تھا، اور سورج کے مانند ایک حالت پر نہیں رہتا، آپ ان سے کہئے یہ لوگوں کے لئے اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے مواقیت میقات کی جمع ہے، یعنی لوگ ان کے ذریعہ اپنی کھیتی اور تجارت کے اوقات معلوم کرتے ہیں، اور اپنی عورتوں کی عدت اور اپنے روزوں (رمضان) اور افطار (شوال) کے اوقات معلوم کرتے ہیں اور حج کے…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ( اے محمد ﷺ آپ ﷺ سے پہلے رات کے چاندوں کا حال پوچھتے ہیں) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ معاذ بن جبل انصاری اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ نے جناب رسول اللہ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ ہلال اول تو باریک سا ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے بالکل بھر جاتا ہے اور پورا ہوجاتا ہے اس کے بعد باریک ہونا شروع ہوتا ہے حتیٰ کہ ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ اوّل تھا ایک حالت پر نہیں رہتا اس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یہ روایت علامہ بغوی (رح) نے نقل کی ہے اور ابو نعیم اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں بطریق سدی صغیر ابن عباس ؓ سے بھی اس روایت کو نقل…
Read the full tafseer →(189) چاند میں کمی اور زیادتی کس وجہ سے ہوتی ہے، اس کے متعلق لوگ پوچھتے ہیں تو اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ یہ لوگوں کے لیے علامتیں ہیں تاکہ ان کے حساب سے اپنے قرضوں کو ادا کریں اور اپنی عورتوں کی عدت کا حساب رکھیں اور روزے رکھنے اور کھولنے کا حساب لگائیں، اور حج کا وقت معلوم کریں یہ آیت کریمہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے متعلق نازل ہوئی، جس وقت انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں پوچھا تھا۔
احرام کی حالت میں مکانوں کے اندر پیچھے کی طرف سے آنے میں کوئی تقوی اور نیکی نہیں، احرام میں نیکی تو شکار اور دیگر ممنوع چیزوں سے بچنا ہے، اپنے گھروں میں ان ہی دروازوں سے آؤ جن سے تم ہمیشہ نکلتے اور داخل…
Read the full tafseer →الْاَهِلَّةِ یہ ”ھِلاَلٌ“ کی جمع ہے۔ پہلی اور دوسری رات کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے، پھر اسے ”قمر“ کہا جاتا ہے۔ (راغب) لوگوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت دریافت کی تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ چاند ہر ماہ ہلال کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، پھر وہ چودھویں کو پورا (بدر) ہوجاتا ہے۔ آخری رات بالکل غائب ہوجاتا ہے، پھر دوبارہ نئے چاند کی صورت میں نمودار ہوجاتا ہے، جس سے شہروں اور بستیوں کے علاوہ صحراؤں اور سمندروں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ نیا مہینا شروع ہوگیا ہے اور وہ اس کی مختلف حالتوں سے تاریخ بھی معلوم کرسکتے ہیں۔ جب کہ سورج ہمیشہ مکمل رہتا ہے، اس کے حساب سے وقت اور تاریخ معلوم…
Read the full tafseer →آیت نمبر 189
اس میں بارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یسئلونک عن الاھلۃ یہ ان سوالوں میں سے ہے جو یہود نے پوچھے تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کیا تھا۔ حضرت معاذ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ یہود ہم پر غالب آگئے وہ ہم سے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ چاند کو کیا ہے کہ یہ باریک سا ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ برابر اور گول ہوجاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے حتیٰ کہ پہلی حالت پر ہوجاتا ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے نزول کا سبب مسلمان قوم کا نبی کریم ﷺ سے چاند کے متعلق سوال تھا۔ اس چاند کے آخری راتوں میں…
Read the full tafseer →چاند کا فائدہ اوقات کی پہچان ہے
(1) ابن عساکر نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ “ معاذ بن جبل اور ثولبہ بن غنمہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ دونوں آدمی انصار میں سے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! چاند کو کیا ہے ظاہر ہوتا ہے تو دھاگے کی مثل باریک ہوتا ہے پھر بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑا ہو کر گول ہوجاتا ہے پھر برابر گھٹتا رہتا ہے اور باریک ہوجاتا ہے یہاں تک کہ پہلے کی طرح ہوجاتا ہے۔ کیوں ایک حالت پر نہیں رہتا تو (اس پر یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” یسئلونک عن الاہلۃ، قل ہی مواقیت للناس “ یہ لوگوں کی قرض کی ادائیگی، ان کے روزے کی عید، ان کی…
Read the full tafseer →[ یَسْئَلُوْنَکَ : وہ لوگ پوچھتے ہیں آپ ﷺ سے ] [ عَنِ الْاَھِلَّۃِ : باریک چاندوں کے بارے میں ] [ قُلْ : آپ ﷺ ‘ کہہ دیجیے کہ ] [ ھِیَ : یہ ] [ مَوَاقِیْتُ : زمانے کی سرحدوں کو شناخت کرنے کے ذریعے ہیں ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ وَالْحَجِّ : اور حج کے لیے ] [ وَلَـیْسَ الْبِرُّ : اور یہ اصل نیکی نہیں ہے ] [ بِاَنْ تَاْتُوا : کہ تم لوگ آئو ] [ الْبُیُوْتَ : گھروں میں
مِنْ ظُھُوْرِھَا : ان کے پچھواڑوں سے ] [ وَلٰــکِنَّ الْبِرَّ : اور لیکن (بلکہ) اصل نیکی ] [ مَنِ : اس کی ہے جس نے ] [ اتَّـقٰی : تقویٰ اختیار کیا ] [ وَاْتُوا : اور تم لوگ آئو ] [ الْبُیُوْتَ : گھروں میں ] [ مِنْ اَبْوَابِھَا…
Read the full tafseer →چاند میں کمی بیشی کیوں ہوتی ہے
تفسیر درمنثور ج 1 صفحہ 203 میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن عنمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ چاند چھوٹا بڑا کیسے ہوجاتا ہے۔ اول باریک دھاگہ کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے بڑا ہوجاتا ہے۔ اور گول ہوجاتا ہے۔ پھر گھٹتے گھٹتے باریک ہوجاتا ہے۔ اور شروع میں جیسا تھا ویسا ہی آخر میں ہوجاتا ہے۔ ان کے سوال پر آیت بالا نازل ہوئی اور ان کو جواب دیا گیا کہ یہ چاند لوگوں کے لیے اوقات مقررہ بتانے والے ہیں اور حج کا وقت بھی ان کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کب رکھنا شروع کریں گے۔ عورتوں کے عدت کے اوقات ان کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں۔ اور خریدو فروخت کے معاملات میں جو…
Read the full tafseer →حکم ہفتم اعتبار حساب قمری۔
قال تعالی، یسئلونک عن الاھلہ۔۔ الی۔۔ والحج۔
گزشتہ آیات میں روزہ اور افطار اور سحر کا ذکر تھا جس کا تمام تر تعلق رویت ہلال سے ہے اس لیے ان آیات میں رویت ہلال کا مسائل کو ذکر فرماتے ہیں لوگ آپ سے چاندوں کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ ہلال اول باریک ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتا بڑھتا بدرجہ کامل ہوجاتا ہے آپ اس سوال کے جواب میں یہ کہہ دیجئے کہ یہ تغیر اور تبدل لوگوں کے دینی معاملات میں اوقات مخصوصہ اور مدت معینہ معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں اور خصوصا حج اور روزہ اور زکوٰۃ وغیرہ کے لیے یعنی اس سے حج اور روزہ اور عدت کے ختم ہونے اور قرض وغیرہ کے معاملات کی مدت اور موقت کا…
Read the full tafseer →358 الْاَهِلَّةِھلال کی جمع ہے جس کے معنی نئے چاند کے ہیں۔ بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے چاند کے بارے میں سوال کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ چاند سورج کی طرح ایک حال پر نہیں رہتا ہر ماہ کا چاند پہلے باریک سا ہوتا ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے چودھویں تاریخ کو پورا ہوجاتا ہے اور پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ دوبارہ پہلے کی طرح باریک رہ جاتا ہے۔ ذکر ان رسول اللہ ﷺ سئل عن زیادۃ الاھلة ونقصانھا فی اختلاف احوالھا (ابن جریر ص 104 ج 2)359 یہ اس سوال کا جواب ہے۔ یعنی یہ چاند لوگوں کے لیے اپنے معاملات میں تعیین اوقات کا ذریعہ ہے۔ نیز ان کے سب سے بڑے مذہبی اور سماجی اجتماع حج کی تعیین بھی اسی کے ذریعہ ہوتی ہے۔…
Read the full tafseer →ربط آیات
قبل ازیں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزوں کے احکام بیان فرمائے ۔ اور اس کے بعد مال کے متعلق مسئل بیان ہوئے۔ اب اس آیت میں نئے چاند کے متعلق سوال اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ دو مختلف چیزیں معلوم ہوتی ہیں مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے کا رمضان کے ساتھ گہرا تعلق ہے ، کیونکہ نیا چاند نکلنے پر ہی روزہ شروع کیا جاتا ہے اور اگلا چاند نظر آنے پر ماہ رمضان ختم ہوجاتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے ۔ افطروالرئیتہ وصوموالرء یتہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھو اور دیکھ کر افطار کرو ، اس لیے دونوں مسائل کو یکے بعد دیگرے بیان کیا گیا ہے کہ ان دونوں میں باہمی ربط ہے۔
شان…
Read the full tafseer →يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ 0 ۭ قُلْ ہِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ 0 ۭ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِھَا وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى 0 ۚ وَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِہَا 0 ۠ وَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ 189
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد…
Read the full tafseer →ترکیب : یسئلون فعل فاعل ک مفعول عن الاھلۃ متعلق ہے یسئلون سے ھی مبتداء مواقیت للناس معطوف علیہ والحج معطوف مجموعہ خبر البر اسم لیس بان تاتوا البیوت اس کی خبر۔
تفسیر : جبکہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو چاند کے حساب سے رمضان اور شوال کا اور نیز حج کے مہینوں کا حساب و شمار عرب کے قدیم عادت کے موافق ایک ضروری بات ہوگئی۔ اس لیے بعض لوگوں نے رسول کریم ﷺ سے ہلالوں سے سوال کیا کہ اس میں کیا سِرّ ہے کہ اول
راتوں میں چاند باریک خمدار ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے بڑھ جاتا اور پورا ہوجاتا ہے اور پھر گھٹنے لگتا ہے۔ آخر پھر وہی باریک خمدار ہوجاتا ہے۔ چونکہ مسئلہ علمِ ‘ ہیئت سے متعلق تھا جس کے سمجھنے کی ان ان پڑھ…
Read the full tafseer →یَسْئَلُوْنَـکَ عَنِ الْاَھِلَّۃِ ط قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ط وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوْا الْـبُـیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا وَلٰـکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی ج وَاْتُوا الْـبُـیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّـکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (189)
(لوگ تم سے اَھِلَّۃِ کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ! یہ لوگوں کے فوائد کے لیے اور حج کے اوقات ہیں اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو بلکہ نیکی اس کی ہے جو حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھے۔ تم اپنے گھروں میں ان کے دروازوں ہی سے آیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پائو)
اَھِلَّۃِکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
فہم القرآن
ربط کلام : روزے کا چاند سے تعلق ہے لہٰذا ضمناً چاند کے بارے میں ایک سوال کا جواب عنایت فرما دیا گیا ہے۔
کارخانۂ کائنات میں چاند مظاہر فطرت وقدرت میں سے ایک ہے جس کا انسانی زندگی اور ذہن پر خاص اثر پڑتا ہے۔ چاند کا جمال و کمال انسان کے لیے ہمیشہ سے دلربا رہا ہے۔ ماں کی مامتا بےساختگی کے عالم میں اپنے لخت جگر کو چاند کہہ کر پکارتی ہے ‘ شاعروں نے اسے اپنے کلام کا موضوع بنایا اور غلط ذہن لوگ اپنے محبوب کو چاند سے تشبیہ دیتے آئے ہیں چاند کی حسن صورت کو دیکھ کر انسان اس کے سامنے سرنگوں ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبیلہ اور قوم چاند کو اپنا معبود تصور کرنے لگی۔ اسی…
Read the full tafseer →189 : یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُہُوْرِہَا وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِھَا وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (اے محمد ﷺ آپ سے لوگ پہلی رات کے چاند کا حال پوچھتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ یہ وقت ہیں لوگوں کے (معاملات) کے لئے اور حج کے واسطے اور نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آئو بلکہ نیکی اس کی ہے جو پرہیزگاری کرے اور آئو گھروں میں ان کے دروازوں کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجائو) یسئلونک عن الاہلۃ۔ اہلہ ہلال کی جمع…
Read the full tafseer →(تفسیر) 189۔:
(آیت)” ویسئلونک عن الاھلہ “ یہ آیت کریمہ حضرت معاذ بن جبل ؓ اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ، دونوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ چاند کا کیا حال ہے ، باریک نمودار ہوتا ہے اور بڑھتا چلا جاتا ہے حتی کہ نور سے بھر جاتا ہے اس کے بعد پھر باریک ہونا شروع ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے آغاز کیا تھا ، اور ایک حالت پر باقی نہیں رہتا ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)” یسئلونک عن الاھلہ ‘” اھلہ “ ہلال کی جمع ہے جیسے کہ اردیہ رداء کی جمع ہے ہلال کو ہلال اس لیے کہا گیا کیونکہ لوگ اس کے دیکھنے کے وقت آواز بلند کرتے ہیں ، یہ ” استھل الصبی “ سے لیا گیا جب بچہ بوقت ولادت روتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
بعض صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ حضرت چاند کا یہ کیا حال کہ شروع مہینے میں بالکل پتلا ہوتا ہے اور پھر بڑھتا جاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے پھر آخر مہینہ میں کبھی ایک رات کبھی دو راتیں بالکل نکلنا ہی نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ چاند کی اس حالت میں بڑی حکمت ہے اٹھائیس منزلیں اور بارہ 12 برج جن کے علیحدہ نام چاند کے لئے مقرر کئے گئے ہیں جن کی تفصیل سورة یونس اور یسین میں آئے گی۔ ان میں سے چاند ایک منزل جب طے کرتا ہے تو ایک رات ہوتی ہے اور دو منزلیں ایک ایک منزل کا تیسرا حصہ جب طے کرتا ہے تو ایک شبانہ روز ہوتا ہے۔ اور پوری منزلیں اور برج طے کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →(آیت) الْاَهِلَّةِ ۭ(ہلال) جمع ہے، یعنی وہ سوال کرتے ہیں کہ چاند کا کیا فائدہ اور اس میں کیا حکمت ہے یا چاند کیا چیز ہے ؟ (آیت) قُلْ ھِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ ” کہہ دیجیے ! یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے لئے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے اسے درج ذیل نظم و تدبیر پر تخلیق کیا ہے۔
مہینے کے آغاز میں چاند بہت باریک اور کمزور سا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر مہینے کے نصف تک بڑھتا چلا جاتا ہے۔ پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے اور مہینے کے پورا ہونے تک گھٹتا رہتا ہے۔ (اس طرح یہ سلسلہ مستقل جاری رہتا ہے) اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگ اس ذریعے سے اپنی عبادات کے اوقات، مثلاً روزوں، زکوۃ کے اوقات، کفارے اور حج کے اوقات…
Read the full tafseer →(آیت 187 کی بقیہ تفسیر)
بہر حال اس حدیث پر جس قدر نقد و جوع کی جائے فقہاء کے نزدیک یہ نقد و جرح اسے فاسد قرار نہیں دیتی ۔ اصحاب حدیث کے اعتراضات فقہاء کے نزدیک نہ تو حدیث کو فاسد کرتے ہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کوئی معنوی خرابی پیدا کرتے ہیں ۔ اس حدیث کی روایت خصیف نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے کی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ایک روز صبح کے وقت روزے سے تھیں ، ان کے پاس بطور ہدیہ کھانا آگیا اور پھر دونوں روزہ توڑ لیا ۔ حضور ﷺ نے دونوں کو اس کے بدلے ایک روزہ قضا کرنے کا حکم دیا ۔ ہمیں عبد الباقی نے روایت کی ، انہیں عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ، انہیں محمد بن عباد نے ، انہیں…
Read the full tafseer →522 چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں سوال اور اس کا جواب : سو چاند کا گھٹنا، بڑھنا اللہ پاک کا ایک عظیم الفوائد عطیہ و احسان ہے جس سے تم لوگوں کے طرح طرح کے عظیم الشان فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ چناچہ ان کے ذریعے تم لوگ بآسانی اپنی تاریخیں معلوم کرسکتے ہو، اور اپنی عبادات، جیسے روزے اور حج وغیرہ کی ادائیگی میں مدد حاصل کرتے ہو، اور آپس کے معاملات کی مدتیں مقرر کرتے اور ان کے مطابق باہمی لین دین کرتے ہو۔ سو یہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و عنایت کی ایک ایسی عظیم الشان نشانی ہے جس سے عامی بھی فائدہ اٹھا رہا ہے، اور خواص بھی مستفید ہوتے ہیں۔ جبکہ جنتریوں کی کتابوں اور ریاضی کی باریکیوں سے خاص…
Read the full tafseer →چاند کا حساب اور غلط رسم
تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگ آپ سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ اسلام سے قبل لوگ چاند کے بڑھنے کو مبارک اور گھٹنے کو منحوس سمجھتے تھے اور پھر اسی توہم پرستی کی وجہ سے اپنے بہت سے کام کرتے تھے۔ بعض اس کو دیوتا مان کر اس کی پرستش کرتے تھے تو انہی شکوک و شبہات کی وجہ سے مسلمانوں نے چاند کے بارے میں آنحضرت ﷺ سے میں سوالات کئے تو وحی کے ذریعہ سے حکم ہوا کہ لوگوں کو بتاؤ کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے میں فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو تاریخوں، مہینوں اور سالوں کا حساب کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جن پر اسلامی عبادات اور شرعی احکام موقوف ہیں گویا چاند کا عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–196
آیات 189- 196
اسرارو معارف
یسئلونک عن الاھلۃ……………کذالک جزاء الکفرین۔
یہ باب البر چل رہا ہے۔ آخر سورة تک مختلف احکام بیان ہو رہے ہیں ، جیسے قصاص ، دیت ، وصیت ، صوم اور اس کے متعلقہ مسائل اعتکاف ، مال کا حلال و حرام پہچاننا۔
عبادات میں قمری مہینوں کا اعتبار ہوگا :
اب جہاد اور حج کے بارے ارشاد ہے کہ آپ ﷺ سے چان کے گھٹنے اور بڑھنے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو فرمائیے کہ چاند کے اس گھٹنے بڑھنے میں سہولت یہ ہے کہ یہ ایک قدرتی نظام ہے وقت کو شمار کرنے کا۔ خواہ معاملات اختیاری ہوں جیسے مطالبہ حقوق وغیرہ اور خواہ خیر اختیاری ، جیسے عبادات مثل حج روزہ زکوٰۃ وغیرہ۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ عبادات میں قمری…
Read the full tafseer →ف 4 اھلتہ یہ جمع ہلال کی ہے اور چاند کے پورا ہونے سے پہلے اسے ہلال کہا جاتا ہے۔ لوگوں نے اس کی کمی بیشی کا سبب دریافت کیا اللہ تعالیٰ نے مواقیت للناس فرما حکیمانہ انداز میں اس کے فوائد کی طرف اشارہ فرمادیا ہے چاند کے بڑھنے گھٹنے کے فائدے یہ ہیں کہ عبادات اور معاملات جیسے طلاق کی عدت حج، عید الفطر وغیرہ اس کے ساتھ معلق ہیں ان کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ (شوکانی)5 اس کا تعلق بھی چونکہ حج سے ہے اس لیے یہاں بیان فرمادیا جاہلیت میں توہم پرستی کا غلبہ تھا ان کے ہاں یہ رسم تھی کہ وہ حج کے لیے احرام باندھ لیتے اور پھر گھر میں آنے کی ضرورت پڑتی تو دروازے کی بجائے پیچھے سے چھت پر چڑھ کر آتے۔ کیونکہ ان کا…
Read the full tafseer →(2:189) الاہلۃ مہینے کی پہلی اور دوسری تاریخ کے چاند کو الاہلۃ کہتے ہیں پھر اس کے بعد اسے قمر کہا جاتا ہے یسئلونک عن الاہلۃ۔ لوگ تجھ سے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ( کہ یہ گھٹنا بڑھتا کیوں ہے) اہلۃ ھلال کی جمع ہے اھالیل بھی اس کی جمع ہے۔
قل ہی مواقیت للناس والحج کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی) میعادیں اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے۔ ہی ای اہلال۔ مواقیت جمع ہے میقات کی۔ اسم آلہ، وقت کی شناخت کے ذرائع۔ یہ وقت مادہ سے مشتق ہے۔ وقت یوقت توقیت (تفعیل) وقت ظاہر کرنا ۔ میقات اور مؤنث کسی کام کو شروع کرنے کی جگہ ۔ جیسے میقات حج، میقات احرام۔
ظھورھا۔ مضاف مضاف الیہ ان کی پشتوں ( کی جانب)…
Read the full tafseer →تشریح : آیت نمبر 189
حضرت معاذ ابن جبل ؓ اور ثعلبہ ابن عتمہ جو دونوں انصاری صحابی ہیں ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ کیا بات ہے چاند کبھی تو باریک دھاگے کی طرح نظر آتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے پورا چاند بن جاتا ہے۔ پھر اسی طرح گھٹتے گھٹتے دھاگے کی طرح باریک ہوجاتا ہے ان کے سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ چاند تمہارے فائدوں اور مصلحتوں کے لئے بنایا گیا ہے جس سے تم اپنے معاملات اور معاہدوں کی تاریخوں کے علاوہ حج جیسی عظیم عبادت کے دنوں کو بھی متعین کرتے ہو۔ یعنی چاند انسانی فائدوں کے لئے بنایا گیا ہے۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نبی کریم…
Read the full tafseer →شان نزول : یہ آیت حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ کے جواب میں نازل ہوئی۔ ان دونوں نے دریافت کیا کہ : یا رسول اللہ ! چاند کا کیا حال ہے۔ ابتداء میں بہت باریک نکلتا ہے، پھر روز بررز بڑھتا جاتا ہے۔ پھر گھٹنے لگتا ہے کہ پہلے کی طرح باریک ہوجاتا ہے، ایک حال پر نہیں رہتا۔ اس سوال سے مقصد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمتیں دریافت کرنا تھا۔ مفسرین کا خیال ہے کہ سوال کا مقصود چاند کے اختلافات کا سبب دریافت کرنا تھا۔ اس لئے چاند کے گھٹنے او بڑھنے کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں، اور آدمیوں کے ہزارہا دینی کام دنیوی کام اس سے متعلق ہیں : زراعت، تجارت، لین دین کے معاملات، روزے اور عید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–190
[125] اسلام سے پہلے جو عجیب اور توہم پرستانہ رسمیں عرب میں رائج تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ حج کا احرام باندھ لینے کے بعد اگر گھر میں آنے کی ضرورت ہوتی تو پچھواڑے سے آتے نیز سفر سے واپس آ کر بھی گھروں میں پیچھے سے داخل ہوتے۔ یہاں اس رسم کی نہ صرف تردید کی گئی ہے بلکہ فرمایا گیا کہ نیکی اس طرح کی رسموں میں نہیں ہے بلکہ اصل نیکی اللہ سے ڈرنا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنا ہے۔
Read the full tafseer →قمری مہینوں کا فلسفہ :
(ف 2) معاذ بن جبل ؓ اور ثعلبہ بن عتبہ ؓ نے سوال کیا کہ حضور ﷺ چاند کیوں بڑھتا اور گھٹتا ہے ، اس پر یہ جواب دیا گیا کہ (آیت) ” قلھی مواقیت للناس والحج “۔ یعنی بجائے اس کے کہ لم بیان کی جائے ، حکمت و فلسفہ بیان کردیا اور اس طریق سے یہ بتایا کہ سوال غلط ہے ، یہ مذہب کے موضوع سے متعلق نہیں ، البتہ یہ پوچھ سکتے ہو کہ چاند کے بڑھنے اور گھٹنے سے شرعی طور پر کیا فوائد مرتب ہوتے ہیں ؟
اسلام نے حج ، صوم اور دیگر ضروریات دین کے لئے قمری مہینوں کو پسند فرمایا ہے ، حالانکہ شمسی مہینے مہینے زیادہ واضح اور متعین ہوتے ہیں ، اس کی متعدد وجوہ ہیں : (1) اس لئے کہ اسلام دین فطرت ہے جس میں…
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر ﷺ آپ سے کچھ لوگ ہر مہینے چاند کے نکلنے اور اس کے گھٹنے بڑھنے کا حال دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے وہ چاند اپنے گھٹنے بڑھنے کے اعتبار سے اوقات کی پہچان کا ذریعہ ہیں کہ ان سے مقررہ اوقات معلوم ہوتے رہتے ہیں اور اس بات میں کہ تم احرام باندھنے کے بعد اپنے گھروں میں دروازے کو چھوڑ کر ان کی پشت اور ان کے پیچھے کی جانب سے آیا کرو کوئی نیکی اور فضیلت نہیں ہے لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جو شخص نیکی اور تقویٰ اختیار کرے اور معصیت سے بچے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو توقع ہے کہ تم دونوں جہان میں کامیاب ہوگے اور فلاح پائو گے۔ (تیسیر)
اوپر کی آیتوں میں روزے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 189–193
ف 5۔ شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کا مدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تو اس حساب پر لازم کردیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھناجائز ہی نہیں جیسے حج ورزہ رمضان، وعیدین وزکوة وعدت طلاق وامثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بےباق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمری ہی پر مطالبہ کا حق ہوجاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھاجاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
6۔ بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگر کسی…
Read the full tafseer →قمری حساب کی افادیت :
324: شرعی مسائل ہوں یا دنیوی معاملات ان کا حساب کتاب کن مہینوں کے مطابق بہتریا آسان ہے۔ شمی یا قمری ؟ جواب یہ کہ شمسی حساب میں بڑی دقتوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ایک ہی حالت پر رہتا ہے اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوتی۔ اگر طلوع و غروب کے لحاظ سے اس میں معمولی سا تغیر ہوتا ہے تو عام نظریں اس کو محسوس نہیں کرسکتیں۔ اس کے لئے اعلیٰ ترین محاسبوں کی ضرورت ہے۔ جنتریوں اور کیلنڈروں کے بغیر کام نہیں چل سکتا اور ایسے دیہات و قصبات بکثرت ملیں گے جہاں کے لوگ تہذیب و تمدن کے نام سے نا آشنائے محض ہیں۔ وہاں عمدہ ترین حساب دانوں کا ملنا تکلیف سے خالی نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →The theme of righteousness which started from Verse 177 still continues. The six injunctions that have appeared so far relate to even retaliation, bequest, fasting, I` tikaf اعتکاف and abstention from the unlawful. Now come those of Hajj حج and Jihad جہاد prior to which it was clarified that lunar months and days will be followed in Hajj and in other religious obligations. Also erased here is a custom of jahiliyyah جاھلیہ (days of ignorance) which required people in Ihram احرام to go into their houses, if needed, from the back even if it had to be through a hole in the wall bored (made a…
Read the full tafseer →198. The waxing and waning of the moon has attracted men's attentions throughout the ages and all kinds of fanciful ideas, superstitions and rituals have been, and are still today, associated with it. The moon was considered the basis of good and bad omens. Certain dates were considered auspicious and others inauspicious for starting journeys, for beginning new tasks, for weddings and so on on the ground that the rising and setting of the moon, its waxing and waning and its eclipse affect human destiny. The Arabs too had their share of such superstitions. It was therefore natural that…
Read the full tafseer →