منصف، انصاف اور مدعی
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو یہ شخص کا انکار کر جائے اور حاکم کے پاس جاکر بری ہوجائے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس پر اس کا حق ہے وہ اس کا مال مار رہا ہے اور حرام کھا رہا ہے اور اپنے تئیں گنہگاروں میں کر رہا ہے، حضرت مجاہد سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، حسن، قتادہ، سدی مقاتل بن حیان، عبدالرحمن بن زید اسلم بھی یہی فرماتے ہیں کہ باوجود اس علم کے کہ تو ظالم ہے جھگڑا نہ کر، بخاری ومسلم میں حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں انسان ہوں میرے پاس لوگ جھگڑا لے کر آتے ہیں شاید…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 197
اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حاکموں کو رشوت دے کر ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش نہ کرو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب تم خود جانتے ہو کہ مال دوسرے شخص کا ہے، تو محض اس لیے کہ اس کے پاس اپنی ملکیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے یا اس بنا پر کہ کسی اینچ پینچ سے تم اس کو کھا سکتے ہو، اس کا مقدمہ عدالت میں نہ لے جاؤ۔ ہوسکتا ہے کہ حاکم عدالت روداد مقدمہ کے لحاظ سے وہ مال تم کو دلوا دے۔ مگر حاکم کا ایسا فیصلہ دراصل غلط بنائی ہوئی روداد سے دھوکا کھا جانے کا نتیجہ ہوگا۔ اس لیے عدالت سے اس کی ملکیت کا حق حاصل کرلینے کے باوجود حقیقت میں تم اس کے جائز مالک نہ بن جاؤ گے۔ عنداللہ وہ تمہارے لیے…
Read the full tafseer →ربط آیات و خلاصہ تفسیر
پچھلی آیتوں میں روزے کے احکام مذکور تھے جس میں حلال چیزوں کے استعمال کو ایک معین زمانے میں اور معین وقت میں حرام کردیا گیا ہے اس کے بعد مال حرام حاصل کرنے اور اس کے استعمال کرنے کی ممانعت اسی مناسبت سے ذکر کی گئی کہ عبادت صوم کا اصل منشاء یہی ہے کہ انسان کچھ عرصے حلال چیزوں سے بھی صبر کا خوگر ہوجائے گا تو حرام چیزوں سے بچنا آسان ہوجائے گا نیز یہ مناسبت بھی ہے کہ جب روزہ ختم ہو افطار کے لئے مال حلال مہیا کرنا چاہئے جس نے دن بھر روزہ رکھا شام کو مال حرام سے افطار کیا اس کا روزہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں،
حکم ششم، مال حرام سے بچنا
اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق مت کھاؤ…
Read the full tafseer →وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ :rnّّّّ " اکلِ اموال بالباطل " کا مطلب : اکل اموال سے مراد مجرد کھانا نہیں بلکہ اس کا ناجائز استعمال و تصرف ہے۔ باطل، حق کا ضد ہے، جس طرح حق کا لفظ، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، مختلف معنوں میں آتا ہے اسی طرح اس کا ضد بھی مختلف معنوں میں آتا ہے۔ باطل ایک تو عبث اور بےمقصد کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً " رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا : پروردگار تو نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا ہے " (آل عمران :191)۔ اس کے دوسرے معنی کسی ایسی چیز کے ہیں جس کی عقل یا فطرت یا شریعت کے اندر کوئی بنیاد نہ ہو۔ مثلاً " وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا…
Read the full tafseer →188۔ 1 ایسے شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس کسی کا حق ہو لیکن حق والے کے پاس ثبوت نہ ہو اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر وہ عدالت یا حاکم مجاز سے اپنے حق میں فیصلہ کروا لے اس طرح دوسرے کا حق غصب کرلے یہ ظلم ہے اور حرام ہے۔ عدالت کا فیصلہ ظلم اور حرام کو جائز اور حلال نہیں کرسکتا۔ یہ ظالم عند اللہ مجرم ہوگا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
118: شروع شروع میں حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص روزہ افطار کرنے کے بعد ذرا سا بھی سو جائے تو اس کے لئے رات کے وقت بھی نہ کھانا جائز ہوتا تھا نہ جماع کرنا، بعض حضرات سے اس حکم کی خلاف ورزی سرزد ہوئی اور انہوں نے رات کے وقت اپنی بیویوں سے جماع کرلیا، یہ آیت اس خلاف ورزی کی طرف اشارہ کررہی ہے اور ساتھ ہی جن حضرات سے یہ غلطی ہوئی تھی ان کی معافی کا اعلان کرکے آئندہ کے لئے یہ پابندی اٹھارہی ہے۔
119: اس کا مطلب اکثر مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بیوی سے جماع کرنے میں وہ اولاد حاصل کرنے کی نیت رکھنی چاہیے جو اللہ نے تقدیر میں لکھ دی ہے اور بعض حضرات نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جماع کے دوران وہی لذت طلب…
Read the full tafseer →ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے َعلی ابن ابوطلحہ ، حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :” یہ اس شخص کے بارے میں ہے کہ اس پر دوسرے کا قرضہ ہو ۔ اور اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہو۔ وہ انکار کردے اور مقدمہ حکام کے پاس جائے ۔ وہ جانتا ہو کہ اس پر حق موجود ہے اور اسے خوب علم ہو کہ وہ گناہ گار اور حرام خور ہے ۔ “ مجاہد (رح) ، سعیدبن جبیر (رح) ، عکرمہ (رح) ، حسن ، قتادہ (رح) ، سدی (رح) ، مقاتل (رح) بن حیان اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم سے روایت ہے ۔ ان سب نے کہا !” اگر تمہیں معلوم ہو کہ تم ظلم کررہے ہو تو ہرگز مقدمہ دائر نہ کرو۔ “ بخاری ومسلم میں حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا !…
Read the full tafseer →6 روزہ سے طہارت نفس مقصود تھی اب تطہیر اموال کا ارشاد ہے اور معلوم ہوگیا کہ مال حلال تو صرف روزہ میں اس کا کھانا منع ہے اور مال حرام سے روزہ مدت العمر کے لئے ہے اس کے لئے کوئی حد نہیں جیسے چوری یا خیانت یا دغابازی یا رشوت یا زبردستی یا قمار یا بیوع ناجائزہ یا سود وغیرہ ان ذریعوں سے مال کمانا بالکل حرام اور ناجائز ہے۔
7 نہ پہنچاؤ حاکموں تک یعنی کسی کے مال کی خبر نہ دو ظالم حاکموں کو یا اپنا مال بطریق رشوت حاکم تک نہ پہنچاؤ کہ حاکم کو موافق بنا کر کسی کا مال کھالو یا جھوٹی گواہی دیکر یا جھوٹی قسم کھا کر یا جھوٹا دعویٰ کر کے کسی کا مال نہ کھاؤ اور تم کو اپنے ناحق پر ہونے کا علم بھی ہو۔
Read the full tafseer →فرمایا :
آیت 188 وَلاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاس بالْاِثْمِ
وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
یہ تقویٰ کے لیے معیار اور کسوٹی ہے۔ جو شخص اکل حلال پر قانع ہوگیا اور حرام خوری سے بچ گیا وہ متقی ہے۔ ورنہ نمازوں اور روزوں کے انبار کے ساتھ ساتھ جو شخص حرام خوری کی روش اختیار کیے ہوئے ہے وہ متقی نہیں ہے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ احکام کی آیات کے درمیان یہ آیت کیونکر آئی ہے۔ اس سے پہلے روزے کے احکام آئے ہیں ‘ آگے حج کے احکام آ رہے ہیں ‘ پھر قتال کے احکام آئیں گے۔ ان کے…
Read the full tafseer →247 باطل طریقوں سے دوسروں کا مال ہضم کرنے کی کئی صورتیں ہیں مثلاً چوری، خیانت، دغابازی ڈاکہ، جوا، سود اور تمام ناجائز قسم کی تجارتیں اور سودے بازیاں ہیں اور اس آیت میں بالخصوص اس ناجائز طریقہ کا ذکر ہے جو حکام کی وساطت سے حاصل ہو۔ اس کی ایک عام صورت تو رشوت ہے کہ حاکم کو رشوت دے کر مقدمہ اپنے حق میں کرا لے اور اس طرح دوسرے کا مال ہضم کر جائے اور دوسری یہ کہ مثلاً تمہیں معلوم ہے کہ فلاں جائیداد یا فلاں چیز زید کی ہے۔ لیکن اس کی ملکیت کا کوئی ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہے اور تم مقدمہ کی صورت میں ایچ پیچ کے ذریعہ وہ چیز زید سے ہتھیا سکتے ہو تو اس طرح عدالت کے ذریعہ تم اس چیز کے مالک بن سکتے ہو۔…
Read the full tafseer →687 ۔ (اے اہل ایمان ! ) (آیت) ” لاتاکلوا “ اکل۔ یہاں لفظی معنی میں نہیں۔ یعنی صرف ’ کھانا ‘ مراد نہیں، بلکہ کسی طرح بھی اپنے تصرف میں لے آنا ہے۔ عبریا لاکل عن انفاق المال (راغب) عبربہ عن الاخذ والاستیلاء (بحر) اردو محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں، فلاں صاحب روپیہ کھا گئے یا رقم ہضم کرگئے۔ (آیت) ” بالباطل “ باطل سے مراد ہے ہر ناجائز طریق۔ فاکل المال بالباطل صرفہ الی ماینا فیہ حق (راغب) اے بالوجہ الذی لایبیحہ اللہ تعالیٰ (بیضاوی) ولمراد من الباطل الحرام وکل مالم یاذن باخذہ الشرع (روح) گویا دو مختصر لفظوں میں تقوی مال کی ساری تعلیم آگئی۔ ہر خیانت سے احتیاط کی تاکید، اور ہر قسم کی امانت…
Read the full tafseer →وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (الآیۃ) تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناروا طریقہ سے مت کھاؤ اس آیت میں مال حرام سے اجتناب کی تاکید فرمائی گئی ہے اس سے پہلی آیت میں رزق حلال کھانے کی تاکید فرمائی تھی آیت شریفہ میں اکل کے معروف معنی، خوردن، ہی مراد نہیں ہیں بلکہ مطلقاً قبضہ کرنا اور استعمال کرنا مراد ہے۔
شان نزول : ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ قیس بن عابس کی بیوی اور عبدان بن اشوع الحضرمی کے درمیان ایک زمین کے بارے میں جھگڑا تھا امرء القیس نے ارادہ کیا کہ قسم کھا کر معاملہ اپنی طرف کرا لے تو اس وقت وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ (الآیۃ) نازل ہوئی،…
Read the full tafseer →وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ ( اور نہ کھاؤ اپنے آپس میں اپنے مال ناحق) باطل سے مال کھانا اس طرح ہے جیسے کسی شخص کے مال پر جھوٹا دعویٰ کر دیایا جھوٹی گواہی دے دی یا کسی کی حق بات کا انکار کرکے اس پر قسم کھا بیٹھے یا کسی کا مال غصب کرلیا لوٹ لیا چرالیا خیانت کرلی یا جو وے سے کسی کا مال لے لیا اور جیسے زنا کی اجرت اور ڈوم کے گانے کی اجرت اور کاہن کو کچھ دینا اور نر کو مادہ پر کدانے کی مزدوری اور دیگر عقود فاسدہ اور رشوت وغیرہ یہ سب امور باطل میں داخل ہیں اور بین یا تو ظرف ہونے کی وجہ سے اور یا امولکم سے حال ہونے کے باعث سے منصوب ہے اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ امرأ…
Read the full tafseer →(188) یہ آیت کریمہ عبدان بن اشرع ؒ اور امری القیس ؒ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ ظلم، چوری، غصب اور جھوٹی قسم وغیرہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ اور حاکموں کے پاس بھی اس چیز کو نہ لے جاؤ تاکہ ایک جماعت جھوٹی قسموں سے دوسرے کا مال کھالے تو اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد امرا القیس اپنے مال پر قائم رہا۔
شان نزول : ولا تاکلوا“ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؒ سے روایت کی ہے کہ امراء القیس ؒ بن حابس ؒ اور عبدان بن اشرع حضری ؒ ان دونوں میں ایک زمین کے بارے میں جھگڑا ہو اتو امرا القیس ؒ نے قسم اٹھانے کا ارادہ کیا، اس پر یہ آیت کریمہ اتری کہ ناحق طریقہ پر ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ۔ (لباب النقول فی اسباب…
Read the full tafseer →وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ۔۔ : روزے کی حالت میں اللہ کے حکم سے آدمی تین نہایت مرغوب اور حلال چیزیں ترک کردیتا ہے، اس مناسبت سے اب حرام سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ جو مال بھی ناجائز طریقے سے حاصل کیا جائے، خواہ اس میں مالک کی رضا مندی بھی شامل ہو، وہ باطل (یعنی ناحق) طریقے سے کھانا ہے، مثلاً سود، زنا کی اجرت، نجومی کی فیس، شراب کی فروخت، لاٹری یا جوئے کے ذریعے سے کمائی یا گانے بجانے کی اجرت، الغرض تمام ناجائز وسائل باطل کے ساتھ کمانے میں آجاتے ہیں۔
(وَتُدْلُوْا) یہ باب افعال کے مصدر ”اِدْلاَءٌ“ سے جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، جو ”دَلْوٌ“ سے بنا ہے، جس کا معنی ڈول ہے۔ ”اِدْلاَءٌ“ کا اصل معنی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 188
اس میں آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تاکلوا اموالکم بینکم بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت عبدان بن اشوع حصری کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے امرء القیس کندی پر مال کا دعویٰ کیا تھا۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس لائے تھے۔ امرء القیس نے انکار کیا۔ اس نے قسم اٹھانے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ قسم سے رک گیا۔ اس نے اپنی زمین کا فیصلہ عبدان کے سپرد کردیا اور اس سے جھگڑا نہ کیا۔
مسئلہ نمبر 2: اس آیت سے خطاب حضرت محمد ﷺ کی تمام امت کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام “ یہ آیت اس آدمی کے بارے میں ہے کہ اس پر کسی کا مال (قرض) ہو اور اس بارے میں اس پر کوئی گناہ بھی نہ ہو (اس لئے) وہ (دوسرے کے) مال کا انکار کرتا ہے اور حکام کی طرف جھگڑا لے جاتا ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے کہ (دوسرے کا) حق اس پر ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ گناہ ہے، کھانا حرام ہے۔
(2) سعید بن منصور، عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام “ سے مراد ہے کہ تو جھگڑا نہ کرو اور تو جانتا ہے کہ تو…
Read the full tafseer →[ وَلَا تَاْکُلُوْا : اور تم لوگ مت کھائو ] [ اَمْوَالَـــــکُمْ : اپنے مال ] [ بَیْنَــــکُمْ : آپس میں ] [ بِالْبَاطِلِ : ناحق ] [ وَتُدْلُوْا : اور تم لوگ مت لٹکائو ] [ بِھَا : ان کو ] [ اِلَی الْحُکَّامِ : حاکموں کی طرف ] [ لِتَاْکُلُوْا : تاکہ تم لوگ کھائو ] [ فَرِیْقًا : کوئی ٹکڑا ] [ مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ : لوگوں کے مال سے ] [ بِالْاِثْمِ : گناہ سے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جانتے ہو ]
د ل و
دَلَا (ن) دَلْوًا : (1) کنوئیں میں ڈول ڈال کر کھینچنا۔ (2) بہلا پھسلا کر کام نکالنا۔
دَلْوٌ (اسم ذات) : ڈول۔ { فَاَدْلٰی دَلْوَہٗ ط } (یوسف :19) ” تو اس نے کنوئیں…
Read the full tafseer →باطل طریقوں سے مال کھانے کی ممانعت
اس آیت میں باطل طریقہ پر کسی کا مال حاصل کرنے اور اپنے استعمال میں لانے کی ممانعت فرمائی۔ رمضان میں دن کے اندر حلال کھانے کی ممانعت فرمائی گئی۔ اور اب احکام رمضان کے متصل ہی یہ ارشاد ہو رہا ہے کہ حرام کبھی نہ کھاؤ۔ نہ رمضان میں نہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینہ میں۔ لفظ ” بالباطل “ بڑھا کر یہ بتادیا کہ جو مال شرعاً جائز ہو مثلاً طیب نفس کے ساتھ کوئی ہدیہ دے دے یا شریعت کے مطابق تجارت کرنے کی بہت صورتیں ہیں۔ جن میں سے متعدد صورتیں آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا) کے ذیل میں بیان کردی گئی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے ایک…
Read the full tafseer →حکم ششم منع از مال حرام۔
قال تعالی، ولاتاکلو اموالکم بینکم۔۔۔ الی۔۔۔ تعلمون۔
گزشتہ آیات میں روزہ اور دعا کا ذکر تھا اس آیت میں حرام مال کھانے کی ممانعت ہے اشارہ اس طرف ہے کہ روزہ اور دعا کی قبولیت کے لیے اکل حلال شرط ہے نیز پہلے افطار اور سحری کا ذکر تھا اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ افطار اور سحری حلال روزی سے ہونا چاہیے نیز اصلی مقصود روزہ سے طہارت نفس ہے تو جب طہارت نفس کے لیے روزہ میں حلال مال کے استعمال کی اجازت نہ رہی تو حرام مال کی اجازت کیسے ہوسکتی ہے حلال مال سے روزہ تو صرف تیس دن کا ہے اور حرام مال سے روزہ مدت العمر کے لیے ہے یعنی ساری عمر کا صوم وصال ہے چناچہ فرماتے ہیں اور مت کھاؤ…
Read the full tafseer →355 یہاں کھانے سے لینا اور قبضہ کرنا مراد ہے۔ المراد من الاکل مایعم الاخذ والاستیلاء (ص 69 ج 2) باطل سے مراد ہر وہ طریقہ ہے جو حرام ہو اور شریعت کی نظروں میں ناپسندیدہ ہو۔ والمراد من الباطل الحرام کالسرقہ والغصب وکل ما لم یاذن باخذہ الشروع (روح ص 70 ج 2) تو اس تفسیر کے مطابق توحید اور حق چھپانے کی بنا پر جو نذریں، نیازیں اور تحفے تحائف وصول ہوں گے وہ بھی باطل ذریعے کے تحت داخل ہوں گے۔ اسی طرح رشوت، جھوٹے مدعی کی وکالت اور دیگر غیر شرعی پیشوں سے جو کمائی حاصل ہوگی وہ سب اس کے تحت آئے گی۔ 356 اس کا عطف تاکلوا پر ہے یعنی نہ غیر شرعی اور حرام ذریعے سے ایک دوسرے کا مال کھاؤ اور نہ ہی اپنا مال بطور…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے اعتکاف کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے کہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مقاربت جائز نہیں ، حدود اللہ کی حفاظت کا مسئلہ بھی بیان ہوا ۔ تا کہ انسان کے اندر تقویٰ کی روح پیدا ہوجائے ، روزہ کی مدت کا تذکرہ بھی آ گیا کہ روزہ طلوع فجر سے لے کر غروب شمس تک کے لیے ہے ، رات کو کھانے پینے اور عورتوں سے ملنے کی اجازت دے دی ۔ الغرض اس پورے رکوع میں روزہ ہی کا بیان ہے ، جس میں صدقہ فطر ، نزول قرآن دعا ، سحری کھانے اور اعتکاف کے مسائل شامل ہیں ۔
ربط آیات
اس رکوع کے بعد اگلے رکوع میں حج کا ذکرہ ہے۔ یسئلونک عن الاھلۃ سے شروع کر کے مناسک حج کی ترتیب بیان کی گئی ہے ۔ اس کے بعد جہاد کا مسئلہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 188 ۧ
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین،
والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں
اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
بين
بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر…
Read the full tafseer →ترکیب : لاتاکلوا فعل انتم فاعل اموالکم 1 ؎ مفعول بینکم ظرف ہے تاکلوا کا ‘ لان المعنی لاتأ کلوا بالباطل موضع نصب میں ہے بسبب تاکلوا کے وتدلوا مجزوم ہے بسبب معطوف ہونے کے تاکلوا پر لتا کلوا کالام تدلوا سے متعلق ہے فریقاً مفعول تاکلوا کا من اموال الناس اس کا بیان وانتم تعلمون جملہ حال ہے تاکلوا کے فاعل سے۔
تفسیر : گذشتہ آیات میں روزہ کا حکم اور اس میں مباح چیزوں کے بھی وقت معین تک کھانے پینے کی ممانعت تھی جو نفس سرکش کے زیر کرنے کے لیے بڑی عمدہ ریاضت ہے۔ ان آیات میں معنوی روزہ کا حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے ناجائز طور پر مال نہ کھا جایا کرو۔ وہ گناہ جو حقوق العباد سے متعلق ہیں کسی کا غصب ٗ رشوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
اُحِلَّ لَـکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ط ھُنَّ لِبَاسٌ لَّـکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْـکُمْ ج فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَـکُمْ ص وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَـکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ص ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ج وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰـکِفُوْنَ لا فِی الْمَسٰجِدِ ط تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ فَـلاَ تَقْرَبُوْھَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰـتِہٖ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جب تم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر دن کے وقت روزہ میں کھانے پینے، عورتوں سے مباشرت اور اعتکاف کی حالت میں رات کے وقت بھی اپنی بیویوں سے جماع نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کا حکم جانتے ہوئے ہمیشہ کے لیے حرام خوری اور ناجائز ذرائع سے بچ جاؤ۔
حرام کے بارے میں حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے آیت 148 میں ارشاد فرمایا تھا کہ ” لوگوجو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حلال اور طیّب پیدا کیا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو وہ تمہار اکھلا اور واضح دشمن ہے۔ “ یہاں دو ٹوک انداز میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے کھانے اور ہتھیانے سے منع کیا جارہا ہے اور یہ امتناعی حکم روزے کے…
Read the full tafseer →188۔ وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِ ثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : (اور نہ کھائو آپس میں اپنے مال ناحق اور نہ ذریعہ بنائو ان مالوں کو حاکموں تک رسائی تاکہ کھائو تم تھوڑا مال لوگوں کا گناہ کے ساتھ حالانکہ تم جانتے ہو) ولا تاکلوا۔ تم نہ کھائو اپنے اموال اپنے درمیان یعنی تم ایک دوسرے کا مال نہ کھائو۔ بالباطل۔ ناحق کے ساتھ یعنی اس طریق سے جس کو اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں کیا اور نہ مشروع قرار دیا ہے۔
ناحق فیصلے کی مذمت :
وتدلوا بھا الی الحکام اور نہ حکام کے پاس لے جائو تاکہ تم…
Read the full tafseer →(تفسیر) 188۔:
(آیت)” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ بعض نے کہا کہ یہ آیت امرالقیس بن عباس کندی کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس پر ربیعہ بن عبدان حضرمی ؓ نے حضور ﷺ کے پاس زمین کا دعوی کیا ، حضور ﷺ نے حضرمی کو فرمایا تیرے پاس گواہ ہیں ؟ حضرمی نے کہا نہیں تو ، حضور ﷺ نے فرمایا پس تیرے لیے قسم ہوگی (یعنی کندی قسم اٹھائے گا) پس وہ (کندی) قسم اٹھانے چلا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اگر یہ اپنے مال پر قسم اٹھاتا ہے تاکہ ظلما اسے کھائے تو یہ اللہ تعالیٰ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے منہ موڑنے والے ہو گے (بوجہ ناراض ہونے کے) پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” ولا تاکلوا اموالکم…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں کھانے پینے کا ذکر آیا تھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قید لگا دی کہ اسی مال کے کھانے پینے کی اجازت تم کو دی گئی ہے جو حق طور پر ہو اور شریعت نے اس کا کھانا پینا اور برتنا تمہارے لئے جائز رکھا ہو اور آپس میں ایک شخص دوسرے کا مال آپس کی خیانت یا حاکموں سے خلاف واقع کرا کے ہرگز نہ کھائے آپس کی خیانت کی صورتیں یہ ہیں کہ مثلاً کسی کی امانت لے کر مکر جائے یا جوئے میں کسی کا مال جیت لیوے یا حاکم ہو کر کسی محکوم سے رشوت لے لیوے اور حاکموں سے خلاف واقع فیصلہ کرانے کی صورتیں یہ ہیں کہ جھوٹی قسم یا جھوٹی گواہی دے کر یا دلا کر یا چرب زبان ی سے ناحق بات کو حق جتلا کر فیصلہ کرایا جائے۔ صحیحین…
Read the full tafseer →(آیت) وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ” اور اپنے مال آپس میں باطل طریقے سے مت کھاؤ “ کھانے سے مراد لینا ہے اور اپنے مال سے مراد دوسرے لوگوں کا مال ہے۔ دوسروں کے مال کو اپنا مال اس لئے کہا کہ مسلمان کے شایاں یہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے اور اپنے بھائی کے مال کا اسی طرح احترام کرے جس طرح وہ اپنے مال کا احترام کرتا ہے۔ دوسرے کے مال کو اپنا مال کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ دوسرے کا مال کھائے گا تو دوسرا شخص بھی جب اس کو قدرت حاصل ہوگی، تو اس کا مال کھانے کی جسارت کرے گا۔ (اس لئے کسی دوسرے کا مال کھانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنا…
Read the full tafseer →(سابقہ آیات کی بقیہ تفسیر)
جیسا کہ حضور ﷺ سے اس شخص کے متعلق مروی ہے جس نے سفر میں روزہ رکھا تھا اور نڈھال ہوجانے کی بنا پر سائے کی خاطر اس کے سر پر سائبان سا تان دیا گیا تھا، آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا تھا لیس من البر الصیام فی السفر سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے آیت مبارکہ نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ تم سے ایسے روزے کا طلب گار ہے جو تمہارے لیے آسان ہو ایسے روزے کا نہیں جو تمہارے لیے مشکل اور جان جو ھوں والا ہو ۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے خود بھی سفر کے اندر روزہ رکھا ہے اور اس شخص کے لیے اسے مباح بھی کردیا جسے اس سے ضرر نہ پہنچے۔ یہ بات تو سب کے علم میں ہے کہ حضور ﷺ اللہ کے حکم کے پیرو کار اور…
Read the full tafseer →519 آپس کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھانے کی ممانعت : جیسے سود، جوأ، غصب، چوری، دھوکہ، فریب اور رشوت وغیرہ کے ذریعے کہ لفظ " باطل " کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ دوسروں کے مالوں کو اپنا مال فرمایا گیا ہے، اور ان کو " اَمْوَالَکُمْ " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ پوری امت تکافل اجتماعی کے اعتبار سے ایک جسم اور ایک شخص کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے اس لئے کہ دوسروں کے مال کا احترام دراصل خود اپنے مال کا احترام ہے، اور ان کا اتلاف و ضیاع درحقیقت اپنے ہی اموال کا اتلاف و ضیاع ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِِ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے دوسروں کے اموال…
Read the full tafseer →رشوت کی مذمت
تشریح : یہاں ان اموال کا ذکر ہے جو ناجائز طریقہ سے حاصل کئے جائیں۔ جیسے سود، لوٹ مار، جعلسازی، دھوکہ فریب، بددیانتی، جوا اور ناجائز کاروبار سے حاصل شدہ مال، اسی طرح ہر وہ طریقہ کہ جس پر ہمارا ضمیر مطمئن نہ ہونا جائز مال کہلائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ تمام عمر حلال مال کھانے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مال کی حرص تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی اور مال نعمت بھی ہے اور زحمت بھی ہے۔ حدیث میں آتا ہے حضرت کعب بن عیاض ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ” کہ ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال و دولت ہے “۔ آج کل یہی دیکھنے میں آرہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
آیات 183- 188
اسرارو معارف
رمضان اور احکام رمضان :
تیسرا حکم نیکی اور بر کے باپ میں ” صوم “ کا ہے ، اسے ارشاد فرمانے کا ایک خاص انداز ہے کہ قبل ازیں نوع انسانی کو دعوت عبادت دی۔ مگر اس میں یہ انداز نہیں بلکہ ایک عمومی رنگ ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔ مگر یہاں ارشاد ہے ،
’ تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں پر فرض کیا گیا تھا ‘۔
اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے مخاطب نوع انسانی ہے اور دوسرا خطاب خاص مومنین کو ہے اور ان کی روحانی تربیت اور حصول رحمت کے لئے ایک خاص اہتمام ہے۔
دراصل انسان روح اور جسم سے مرکب ہے جس طرح جسم مادہ کی ایک ٹھوس اور کثیف شکل ہے اسی طرح روح انتہائی…
Read the full tafseer →ف 3 جو مال بھی جائز طریقے سے حاصل کیا جائے خواہ مالک کی راضامندی بھی شامل ہو تو وہ باطل (ناحق) طرق سے کھانا ہے۔ مثلا زنا کی اجرت نجومی کی فیس۔ شراب کی فروخت۔ لاٹری یا جوئے کے ذریعہ کمائی یا گانے بجانے اجرت۔ العرض تمام ناجائزومسائل اکل بالبابل کے تحت آجاتے ہیں۔ اسی طرح رشوت دیکر یا حکام کے سامنے جھوٹی گواہیاں پیش کر کے کسی کے مال پر قانونی تصرف حاصل کرلینا بھی حرام ہے محض حاکم کے فیصلہ سے کوئی حرام مال حلال نہیں ہوجاتا۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے ررایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی فریق کے دلائل سن میں اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو میرے فیصلہ سے ایک کے لیے دوسرے کا مال حلال نہیں ہوجائے گا۔ اسے یہ…
Read the full tafseer →(2:188) لا تاکلوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم مت کھاؤ اموالکم ایک دوسرے کا مال بینکم آپس میں ۔ اور باہم ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔
وتدلوا بھا الی الحکام۔ واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور اسی لئے تدلوا تاکلوا کے لا کے تحت میں ہے ای ولا تدلوا۔ اور مت کھینچ لیجاؤ۔ یہ یدلوا۔ ادلاء (افعال) مصدر سے ہے۔ جس کے معنی ڈول نکالنا یا ڈول ڈالنا کے ہیں جیسے کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے فادلی دلوہ (12:19) اس نے کنویں میں اپنا ڈول ڈالا۔ پھر استعارہ کے طور پر اس کے معنی کسی چیز تک پہنچنے کے لئے ذریعہ بنانا بھی آجاتے ہیں ۔ یعنی نہ ہی رسائی حاصل کرو اس مال سے (رشوت دے کر) حاکموں تک (تاکہ…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 188
لا تاکلوا (تم نہ کھاؤ) ۔ اموالکم (اپنوں کے مال) ۔ بالباطل (ناجائز طریقہ، حرام طریقہ) ۔ تدلوا (تم کھینچو) ۔ لتاکلوا (تا کہ تم کھا جاؤ) ۔ فریق (بانٹ کر، ٹکڑے کر کے ) ۔
تشریح : آیت نمبر 188
دین اسلام کی تعلیمات اس بات پر شاہد ہیں کہ رزق حلال حاصل کرنا اور اس کے لئے جدو جہد کرنا ایک اہم عبادت ہے۔ رزق حلال انسان کے دل کو نور سے بھر دیتا ہے اور ناجائز اور حرام ذریعوں سے کمائی ہوئی دولت سے انسان کا دل تاریک ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال روزی حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ جو شخص چالیس دن تک حلال روزی کھائے گا جس میں حرام کا شبہ تک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے…
Read the full tafseer →ناجائز مال کی تشریح
شان نزول : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قید لگادی کہ اسی مال کے کھانے پینے کی اجازت تم کو دی گئی ہے جو حق طور پر ہو جو شریعت نے جائز رکھا ہو اور ہو ہر گز نہ کھایا جائے جو جائز نہیں ہے مثلاً ، (1) کسی کی امانت لے کر مکر جائے یا (2) جوئے میں کسی کا مال جیت لے یا (3) حاکم ہو کر کسی محکوم سے رشوت لے لے یا (4) جھوٹی قسم یا جھوٹی گواہی دے کر یا (5) چرب زبانی سے ناحق بات کو جتلا کر فیصلہ کرایا جائے۔
Read the full tafseer →[124] اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ حکام کو رشوت دے کر ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ مال دوسرے شخص کا ہے اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ عدالت میں نہ لے جاؤ۔ ہوسکتا ہے کہ حاکم عدالت روداد مقدمہ کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ تمہارے حق میں کردے اور اس کا مال تمہیں دلوادے مگر جو ناحق ہے وہ اللہ کے ہاں ناحق ہی شمار ہوگا۔ نیز ایک مزید جرم حاکم عدالت کو فریب میں مبتلا کرنے کا بھی عائد ہوگا۔
Read the full tafseer →(ف 1) ان آیات میں نیک چلن رہنے کی تلقین فرمائی ہے اس لئے کہ روزہ مقصد ہی کردار واخلاق میں پاکیزگی پیدا کرنا ہے ، فرمایا کہ باطل اور مضر اخلاق وسائل سے روپیہ حاصل نہ کرو یعنی خواہ مخواہ کی مقدمہ بازی اور دلالی جس سے مقصود روپیہ کا حصول ہو ، ناجائز ہے ۔
وکالت کی موجودہ صورت جس میں صرف قانون کی نزاکت اور لچک کا خیال رکھا جاتا ہے ، اس ضمن آجاتی ہے موجودہ تہذیب کی متعدد لعنتوں میں سے ایک لعنت وکالت بھی ہے جو قوم کے اخلاق کو بدرجہ غائت تباہ کرنے والی ہے ، اس کا مقصد اکثر جلب زر ہوتا ہے ، چاہے اسکی سچے انسان کا خون ہوجائے ، ان آیات میں تصریح موجود ہے کہ کسی جرم کے علم ہوجانے کے بعد اس کی حمایت…
Read the full tafseer →ف 2 اور تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور بلا کسی شرعی حق کے نہ کھائو اور نہ ان مالوں کو اس غرض سے حکام تک پہنچائو کہ تم لوگوں کے مال کا ایک حصہ بطور ظلم اور گناہ کھائو جائو اور تم کو اپنے گناہ اور اپنے ظلم کا علم بھی ہو۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کا مال ناحق مار لو ایسا نہ کرو جو طریقہ بھی غیر شرعی ہو وہ سب باطل میں داخل ہے مثلاً سود، خیانت، قمار، غصب، چوری ، لوٹ، رشوت مردے پررونے کی اجرت، گانے والی کی اجرت، کاہن کی مزدوری جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہتھیا لینا، غرض تمام وہ صورتیں جو اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں فرمائیں ان کے ذریعہ سے کسی کا مال کھا لینا اور اڑا لینا ان سب سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 2۔ شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ رات کو ایک دفعہ نیند آجانے سے آنکھ کھلنے کے بعد کھانا پینا اور بی بی کے پاس جانا حرام ہوجاتا تھا۔ بعض صحابہ سے غلبہ میں اس حکم کے امتثال میں کوتاہی ہوگئی پھر نادم ہو کر نبی ﷺ سے اطلاع کی ان کی ندامت اور توبہ پر حق تعالیٰ نے رحمت فرمائی اور اس حکم کو منسوخ کردیا۔
3۔ مراد متمیز ہونے سے یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہوجائے۔
4۔ حالت اعتکاف میں بی بی کے ساتھ صحبت اور اسی طرح بوس وکنار سب حرام ہے۔ اعتکاف صرف ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں پانچوں وقت جماعت سے نماز کا انتطام ہو۔ جو اعتکاف رمضان میں نہ ہو اس میں بھی روزہ شرط ہے اعتکاف والے کو مسجد سے کسی وقت باہر نکلنا درست…
Read the full tafseer →ناجائز طریقوں سے ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ :
323: قانون بنانے کے دو ہی مقصد ہو سکتے ہیں :
ایک یہ کہ جھگڑے کثرت سے ہوں۔ عدالت کو مداخلت کا موقع ملے اور حکومت کی جانب فیصلے لے جانے کے لئے لوگ مجبور ہوں۔ اس سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ فریب کا دروازہ کھل جائے ، کذب آفرینی میں ترقی ہو اور جھوٹے مقدمات سے عدالت کو فرصت ہی نہ ملے غیراسلامی قانون خواہ کہیں نافذ ہو اور کسی نے بنایا ہو حقیقت اس کے بنانے سے یہی ہے مشاہدہ کرنے کے لئے لئے دور نہ جاؤ خود اپنے ملک کے اندر دیکھ لو عدلیہ کا کاروبار کیا ہے اور انتظامیہ کیا کررہی ہے ؟
دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں میں جھگڑے کم ہوں۔ اس کے لئے…
Read the full tafseer →Previous verses dealt with injunctions relating to fasting in which the use of lawful things has been forbidden during a fixed period and fixed timings. Now in this verse, the acquisition and use of Haram or unlawful wealth or property has been forbidden. This has a thematic congruity since the real purpose behind fasting, an act of worship, is nothing but to make man get used to abstaining from what is lawful for him. If he can do that, there is every likelihood that abstaining from what is totally unlawful will become all the more easier for him. There is yet another correspondence here. It…
Read the full tafseer →197. One meaning of this verse is that people should not try to seek illegitimate benefits by bribing magistrates. Another meaning is that when a person is aware that the property, he claims rightfully belongs to someone else, he should not file a judicial petition either because the other party lacks the evidence to support their case or because by trickery and cunning the petitioner can usurp that property. It is possible that the judicial authority would decide the case in favour of the false claimant on the basis of the formal strength of the claim, but as this judicial verdict would…
Read the full tafseer →