رمضان میں مراعات اور کچھ پابندیاں
ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا عشاء کی نماز تک جائز تھا اور اگر کوئی اس سے بھی پہلے سوگیا تو اس پر نیند آتے ہی حرام ہوگیا، اس میں صحابہ ؓ کو قدرے مشقت ہوئی جس یہ رخصت کی آیتیں نازل ہوئیں اور آسانی کے احکام مل گئے رفث سے مراد یہاں جماع ہے، ابن عباس ؓ عطا مجاہد سعید بن جبیر طاؤس سالم بن عبداللہ بن عمرو بن دینا حسن قتادو زہری ضحاک، ابراہیم نخعی، سدی، عطا خراسانی، مقاتل بن حبان رحمہم اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ لباس سے مراد سکون ہے، ربیع بن انس لحاف کے معنی بیان کرتے ہیں مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی کے آپس کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 190
یعنی جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہ سکتا، بلکہ دونوں کا باہمی تعلق و اتصال بالکل غیر منفک ہوتا ہے، اسی طرح تمہارا اور تمہاری بیویوں کا تعلق بھی ہے۔
سورة الْبَقَرَة 191
ابتدا میں اگرچہ اس قسم کا کوئی صاف حکم موجود نہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت نہ کرے، لیکن لوگ اپنی جگہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسا کر ناجائز نہیں ہے۔ پھر اس کے ناجائز یا مکروہ ہونے کا خیال دل میں لیے ہوئے بسا اوقات اپنی بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔ یہ گویا اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کا ارتکاب تھا اور اس سے اندیشہ تھا کہ ایک مجرمانہ اور گناہ گارانہ ذہنیت ان کے اندر پرورش پاتی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
حکم چہارم رمضان کی راتوں میں جماع
اس آیت روزہ کے بقیہ احکام کی کچھ تفسیر مذکور ہے تم لوگوں کے واسطے روزہ کی شب میں اپنی بیبیوں سے مشغول ہونا حلال کردیا گیا (اور پہلے جو اس سے ممانعت تھی وہ موقوف کی گئی) کیونکہ (بوجہ قرب واتصال کے) وہ تمہارے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہیں اور تم ان کے (بجائے) اوڑھنے بچھونے (کے) ہو خدا تعالیٰ کو (اس کی خبر تھی کہ تم (اس حکم الٰہی میں) خیانت (کر) کے گناہ میں اپنے کو مبتلا کر رہے تھے (مگر) خیر (جب تم معذرت سے پیش آئے تو) اللہ تعالیٰ نے تم پر عنایت فرمائی اور تم سے گناہ کو دھو دیا سو (جب اجازت ہوگئی تو) اب ان سے ملو ملاؤ اور جو (قانون اجازت) تمہارے لئے…
Read the full tafseer →روزے سے متعلق سوالات کے جوابات : اوپر کی تمہید کے بعد اب یہ ان سوالات کا جواب ہے جو روزے کے احکام و آداب سے متعلق اس وقت لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے۔ اس کے آخر میں كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ کے الفاظ اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ آیت اصل حکم کے نزول کے کچھ عرصہ بعد توضیح و تبیین کے طور پر نازل ہوئی۔ جو لوگ قرآن مجید کے انداز بیان سے آشنا ہیں وہ جان سکتے ہیں کہ قرآن میں جب کسی حکم کے بعد اس کی کوئی مزید توضیح و تفصیل نازل ہوئی ہے تو اس کے ساتھ بالعموم یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں جن سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حکم بعد میں بطور وضاحت نازل ہوا ہے۔ یہ قرآن سے متعلق اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تکمیل…
Read the full tafseer →187۔ 1 ابتدا اسلام میں ایک حکم یہ تھا کہ روزہ افطار کرنے کے بعد عشاء کی نماز یا سونے تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت تھی سونے کے بعد ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جاسکتا تھا ظاہر بات ہے یہ پابندی سخت تھی اور اس پر عمل مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ دونوں پابندیاں اٹھا لیں اور افطار سے لے کر صبح صادق تک کھانے پینے اور بیوی سے مباشرت کرنے کی اجازت فرما دی۔
187۔ 2 یعنی رات ہوتے ہی (سورج غروب کے فورا بعد) روزہ افطار کرلو تاخیر مت کرو جیسا کہ حدیث میں بھی روزہ جلد افطار کرنے کی تاکید اور فضیلت آئی ہے دوسرا یہ کہ ایک روزہ افطار کئے بغیر دوسرا روزہ رکھ لینا اس سے نبی ﷺ نے نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
118: شروع شروع میں حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص روزہ افطار کرنے کے بعد ذرا سا بھی سو جائے تو اس کے لئے رات کے وقت بھی نہ کھانا جائز ہوتا تھا نہ جماع کرنا، بعض حضرات سے اس حکم کی خلاف ورزی سرزد ہوئی اور انہوں نے رات کے وقت اپنی بیویوں سے جماع کرلیا، یہ آیت اس خلاف ورزی کی طرف اشارہ کررہی ہے اور ساتھ ہی جن حضرات سے یہ غلطی ہوئی تھی ان کی معافی کا اعلان کرکے آئندہ کے لئے یہ پابندی اٹھارہی ہے۔
119: اس کا مطلب اکثر مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ بیوی سے جماع کرنے میں وہ اولاد حاصل کرنے کی نیت رکھنی چاہیے جو اللہ نے تقدیر میں لکھ دی ہے اور بعض حضرات نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جماع کے دوران وہی لذت طلب…
Read the full tafseer →ابتدأً یہ حکم تھا کہ اگر روزہ دار افطار کے بعد سوجائے تو اس پر کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانا حرام ہے ۔ اگر کسی کی آنکھ لگ جاتی اور پھر وہ اٹھتا تو اگرچہ طلوع فجر سے پہلے اٹھتا ۔ اس کے لئے بیوی کے پاس جانا اور کھانا پیناحرام ہوتا ۔ بارہا ایسا ہوتا کہ ایک صحابی پر افطار کے وقت نیند کا غلبہ ہوگیا اور آنکھ لگ گئی ۔ اب اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ تھا کہ وہ مسلسل دوسرے دن روزہ رکھے ۔ ایک صاحب کے ساتھ ایسا ہی ہوا ۔ دوسرے دن اس نے بڑی مشکل سے روزہ پورا کیا ۔ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی ۔ اس طرح ایسے واقعات بھی ہوئے کہ افطار کے بعد ایک صاحب سوگئے ، بیوی بھی سو گئی ۔ جب جاگے تو ہم بستری کی اور رسول ﷺ تک…
Read the full tafseer →9 رمضان کی رات میں جو نیند کے بعد کھانا پینا عورت کے پاس جانا حرام تھا اس میں بھی سہولت کردی گئی اب تمام رات میں جب چاہو عورتوں کے ساتھ اختلاط کرو۔
10 لباس اور پوشاک سے غرض غایت اتصال و اختلاط ہے یعنی جس طرح بدن سے کپڑے لگے اور ملے ہوتے ہیں اسی طرح مرد و عورت آپس میں ملتے ہیں۔
11 اپنے نفس کے ساتھ خیانت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کے بعد عورتوں کے پاس جا کر بوجہ مخالفت حکم الہٰی تم اپنے آپ کو گنہگار بناتے ہو جس سے تمہارے نفس مستحق عقاب ہوتے ہیں اور ان کے ثواب میں نقصان پڑتا ہے سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تم کو معاف فرمایا اور آیندہ کو اجازت فرما دی۔
1 یعنی لوح محفوظ میں جو اولاد تمہارے لئے…
Read the full tafseer →آیت 187 اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَام الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْ ط۔
احکام روزہ سے متعلق یہ آیت بڑی طویل ہے۔ یہود کے ہاں شریعت موسوی میں روزہ شام کو ہی شروع ہوجاتا تھا اور رات بھی روزے میں شامل تھی۔ چناچہ تعلق زن و شو بھی قائم نہیں ہوسکتا تھا۔ ان کے ہاں سحری وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ جیسے ہی رات کو سوتے روزہ شروع ہوجاتا اور اگلے دن غروب آفتاب تک روزہ رہتا۔ ہمارے ہاں روزے میں نرمی کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ رات کو روزے سے خارج کردیا گیا۔ روزہ بس دن کا ہے اور رات کے وقت روزے کی ساری پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ چناچہ رات کو تعلق زن و شو بھی قائم کیا جاسکتا ہے اور کھانے پینے کی بھی اجازت ہے۔…
Read the full tafseer →239 میاں بیوی کے تعلقات کے لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف استعارہ فرمایا۔ جس کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جس طرح لباس اور جسم کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہیں ہوتی اسی طرح میاں بیوی کا تعلق ایک دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے راز دار اور رازدان ہو۔ تیسرے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کی عزت کے شریک ہو اور چوتھے یہ کہ تم دونوں ایک دوسرے کے پردہ پوش ہو وغیرہ وغیرہ۔
240 ابتدائے اسلام میں رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے مباشرت کرنے کے متعلق کوئی واضح حکم موجود نہ تھا۔ تاہم صحابہ کرام ؓ اپنی جگہ اسے ناجائز سمجھتے تھے۔ پھر بعض صحابہ ؓ مکروہ سمجھتے ہوئے بھی اس کام سے…
Read the full tafseer →675 ۔ یہ اجازت شروع میں نہ تھی۔ ابتداء روزہ کی حالت میں رات میں بھی دن ہی کی طرح بیویوں سے علیحدگی کا حکم تھا۔ شریعت اسلامی رسول اللہ ﷺ کی حیات رسالت میں بتدریج نازل ہوئی۔ کہیں تو ایسا ہوا کہ احکام شروع میں نرم تھے۔ رفتہ رفتہ سخت کیے گئے، مثلا شراب نوشی، کہ پہلے صرف ناپسند کی گئی، اور پھر ہوتے ہوتے اس کی حرمت کا حکم آگیا، اور کہیں اس کے برعکس ہوا ہے۔ یعنی ابتداء قانون سخت تھا۔ رفتہ رفتہ اس میں سہولتیں اور رعایتیں زیادہ ہوتی گئیں۔ چناچہ یہی روزہ کا معاملہ ہے کہ پہلے صحبت رات میں بھی حرام تھی، بعد کو جائز کردی گئی، رفث کے لفظی معنی شہوت انگیز کلام کے ہیں لیکن جب صیغہ متعدی میں اسے لایا جاتا ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 187 تا 188
ترجمہ : اور حلال کردیا گیا تمہارے لئے روزہ کی رات میں تمہاری عورتوں سے جماع کے طور پر بےحجاب ہونا یہ حکم ابتداء اسلام میں عورتوں سے جماع اور عشاء کے بعد کھانے پینے کی حرمت کو منسوخ کرنے کے لئے نازل ہوا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، یہ کنایہ ہے باہمی معانقہ سے یا ایک دوسرے کا حاجتمند ہونے سے، اللہ کو معلوم ہے کہ تم روزہ کی رات جماع کرکے اپنے ہی ساتھ خیانت کر رہے ہو، یہ واقعہ حضرت عمر ؓ وغیرہ کو پیش آیا تھا، اور ان لوگوں نے آپ ﷺ سے معذرت چاہی، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تم سے درگزر کیا پس اب جب کہ تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے تو ان سے مباشرت کرسکتے ہو یا…
Read the full tafseer →اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَام الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ ( جائز کردیا گیا تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں پاس جانا اپنی بیبیوں کے) لفظ رفث جماع سے کنایہ ہے۔ زجاج نے کہا ہے کہ رفث ایک لفظ جامع ہے جس قسم کا مرد عورتوں سے فائدہ اٹھائیں سب کو شامل ہے اور رفث کو الیٰ سے اس لیے متعدی کیا ہے کہ اس لفظ کے اندرافضا (جماع) کا مضمون ہے اور افضا کا صلہ الٰہی آتا ہے) امام احمد اور ابو داؤد اور حاکم نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کی ہے کہ ابتدا اسلام میں لوگ اوّل شب میں سونے تک کھاتے پیتے تھے عورتوں سے جماع کرتے تھے اور سونے کے بعد سے پھر صبح تک سب چیزوں سے باز رہتے تھے…
Read the full tafseer →(187) رات کو رمضان المبارک میں تمہارے لیے عورتوں سے جماع کرنا حلال کیا گیا ہے وہ عورتیں تمہارے لیے سکون کا باعث ہیں، اور تم ان کے لیے سکون کا باعث ہوعشاء کے بعد ہمبستری کرنے میں جو خیانت پیش آجائے اللہ تعالیٰ اس کو تم سے درگزر کرنے والا ہے اور اس پر تمہاری کسی قسم کی کوئی پکڑ نہیں جس وقت تمہارے لیے صبحت کرنا حلال کیا گیا ہے تم ان سے صحبت کرو اور نیک اولاد کے بارے میں جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اسے تلاش کرو یہ آیت کریمہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور رات سے لے کر صبح صادق کی سفیدی ظاہر ہونے تک کھاؤ پیو اور پھر رات تک روزہ کو پورا کرو یہ آیت کریمہ حرملہ مالک بن…
Read the full tafseer →ابن کثیر میں ہے کہ ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو روزہ کھولنے سے لے کر صرف نماز عشاء تک کھانا پینا اور عورت سے صحبت جائز تھی، اگر کسی شخص نے عشاء کی نماز پڑھ لی، یا وہ اس سے پہلے سو گیا تو اس کا روزہ شروع ہوجاتا تھا، پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کرسکے اور رات کو بیویوں سے صحبت کر بیٹھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں لوگ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو ان پر کھانا پینا اور بیویاں حرام ہوجاتی تھیں اور وہ اگلی شام تک کے لیے روزے دار ہوجاتے تھے۔۔ تو اللہ تعالیٰ
نے یہ آیت نازل کی۔ [ أبو داوٗد، الصیام، باب…
Read the full tafseer →آیت نمبر 187
اس میں چھتیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : احل لکم لفظ احل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے پہلے یہ عمل حرام تھا پھر منسوخ کیا گیا۔ ابوداؤد نے ابن لیلیٰ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہمارے اصحاب بت ہمیں بیان کیا، فرمایا : ایک شخص جب روزہ افطار کرتا تھا پھر کچھ کھانے سے پہلے سو جاتا تھا تو وہ صبح تک نہیں کھاتا تھا۔ فرمایا : حضرت عمر آئے اور اپنی بیوی سے حقوق زوجیت کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا : میں سوچکی تھی۔ حضرت عمر نے کہا : ویسے کہہ رہی ہے۔ حضرت عمر نے اس سے حقوق زوجیت ادا کئے۔ ایک انصاری آیا اس نے کھانے کا ارادہ کیا۔ گھر والوں نے کہا : ہم تیرے لئے کھانا گرم…
Read the full tafseer →شروع میں رات کا روزہ بھی فرض تھا
(1) امام وکیع، عبد بن حمید، بخاری، ابو داؤد، ترمذی النحاس (الناسخ میں) ابن جریر، ابن المنذر، بیہقی نے سنن میں حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے جب کوئی آدمی روزہ رکھتا پھر وہ افطاری کے وقت افطار کرنے سے پہلے سو جاتا تو پھر وہ نہ کھا سکتا تھا رات کو اور نہ دن کو یہاں تک کہ (دوسرے دن کی) شام ہوجاتی۔ قیس بن مردوہ انصاری ؓ روزہ سے تھے۔ دن بھر اپنی زمین میں کام کرتے رہے۔ جب افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا کیا تیرے پاس کھانا ہے۔ اس نے کہا نہیں ہے لیکن میں تیرے لئے کھانا ابھی تلاش کرتی ہوں (اتنے میں) ان پر نیند کا غلبہ…
Read the full tafseer →[ اُحِلَّ : حلال کیا گیا ] [ لَــــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ لَیـْـــــــلَۃَ الصِّیَامِ : روزہ رکھنے کی رات میں ] [ الرَّفَثُ : مباشرت کو
اِلٰی نِسَآئِ کُمْ : تمہاری عورتوں کی طرف ] [ ھُنَّ : وہ ] [ لِبَاسٌ : لباس ہیں ] [ لَّــکُمْ : تم لوگوں کے لیے ] [ وَاَنْتُمْ : اور تم لوگ ] [ لِبَاسٌ : لباس ہو ] [ لَّھُنَّ : ان کے لیے ] [ عَلِمَ : جانا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اَ نَّـــکُمْ : کہ تم لوگ ] [ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ : خیانت کرتے رہتے ہو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنے آپ سے ] [ فَتَابَ : تو اس نے شفقت کی ] [ عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَعَفَا : اور اس نے درگزر کیا ] [ عَنْکُمْ : تم سے ] […
Read the full tafseer →تکملہ احکام صیام
حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان فرمایا کہ روزوں کی فرضیت کے ابتدائی زمانہ میں (قانون کے مطابق) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس پر عمل کرتے تھے کہ جب کسی شخص کا روزہ ہوتا اور افطارکا وقت آجاتا اور وہ افطار سے پہلے ہوجاتا تو اب پوری رات اور اگلے پورے دن نہیں کھا سکتا تھا جب تک کہ شام نہ ہوجائے۔ اور یہ واقعہ پیش آیا کہ قیس بن صرمہ انصاری ؓ کا روزہ تھا افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے ان سے کہا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے لیکن میں کہیں جا کر تمہارے لیے انتظام کرکے لاتی ہوں۔ انہوں نے دن بھر کام کیا تھا ابھی ان کی بیوی واپس نہ آئی تھی کہ ان…
Read the full tafseer →حکم چہارم متعلق بہ سحور وافطار۔
قال تعالی، احل لکم لیلۃ الصیام۔۔۔۔ الی۔۔۔ الی الیل۔
ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے کھانے اور پینے اور عورتوں سے جماع کرنے کی تو اجازت تھی لیکن اگر سوجانے کے بعد آنکھ کھلے تو پھر اجازت نہ تھی بعض صحابہ بغیر کھائے پیے سو رہے اور اسی طرح روزہ رکھ لیا بھوک اور پیاس کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوئی اور بعض سونے کے بعد عورتوں سے صحبت کربیٹھے اور بعد میں سخت نادم اور پیشمان ہوئے اور حضور کی خدمت میں حاضر ہوکرتائب ہوئے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم منسوخ ہوا چناچہ فرماتے ہیں جائز اور حلال کردیا گیا تمہارے لیے روزے کی رات میں اپنی عورتوں سے مشغول ہونا جیسے روزہ دار کے…
Read the full tafseer →347 شروع شروع میں جب رمضان کے روزوں کی فرضیت نازل ہوئی اس وقت جس طرح دن کو کھانے پینے اور جماع سے علیحدگی کا حکم تھا اسی طرح رات کو بھی ان چیزوں سے بچنا لازم تھا۔ صرف اس قدر اجازت تھی کہ غروب آفتاب کے وقت روزہ افطار کرنے کے بعد سے لے کر سوجانے تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت تھی ایک دفعہ سوجانے کے بعد اجازت نہیں تھی اس تنگی کی وجہ سے بعض دفعہ صحابہ کرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑتی۔ چناچہ حضرت قیس بن صرمہ انصاری کا واقعہ ہے کہ وہ روزہ سے تھے اور دن بھر ایک باغ میں مزدور کرتے رہے افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے کھانے کی کوئی چیز طلب کی۔ چونکہ کوئی چیز موجود نہیں تھی اس لیے ان کی بیوی کہیں سے کوئی…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
حصول تقویٰ کے کئی ایک ذرائع ہیں ، منجملہ ان کے روزہ بھی ایک ہے ، اس سے پہلے روزے کی فرضیت اور اسکے لیے دنوں کے تعین کا بیان ہوچکا ہے اس کے بعد صدقہ نظر کا مسئلہ اور رمضان المبارک کی فضلیت کا بینا ہوا ، پھر قرآن کریم کے نزول کا ذکر اور رمضان کے مسائل کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کا حکم ہوا ۔
شان نزول
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے روزے کے بعض دیگر مسائل بیان فرمائے ہیں ، فرضیت رمضان نے پہلے یہود و نصاریٰ چوبیس گھنٹے کا روزہ رکھتے تھے اور سحری نہیں کرتے تھے ، جب مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض ہوئے تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا فرق ما بیننا و بین…
Read the full tafseer →اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَۃَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ 0 ۭ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ 0 ۭ عَلِمَ اللہُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ 0 ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللہُ لَكُمْ 0 ۠ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ 0 ۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ 0 ۚ وَلَا تُـبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ 0 ۙ فِي الْمَسٰجِدِ 0 ۭ تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا 0 ۭ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ…
Read the full tafseer →ترکیب : احل فعل مجہول الرفث الخ مفعول مالم یسم فاعلہ لیلۃ الصیام ظرف ہے الرفث کا اور بعض کہتے ہیں احل کا۔ وفیہ نظر چونکہ رفث میں افضی کے معنی ملحوظ ہیں اس لیے اس کے صلہ میں الی ایاب نہیں آئی۔ علم فعل اللہ فاعل انکم الخ جملہ مفعول باشروا امر ضمیر انتم اس کا فاعل ھن
مفعول اور پھر وابتغوا اور کلوا واشربوا جملہ اس پر معطوف الآن ان سب کا ظرف من الفجر الخیط کا بیان ہے۔ وانتم عاکفون الخ حال ہے لاتباشروھن سے۔
تفسیر : یہ آیت احکام صیام کا تتمہ ہے۔ اکثر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ ابتدائِ اسلام میں روزہ دار کو افطار کے بعد جب تک کہ عشا نہ پڑھے اور نہ سوئے کھانا پینا جماع کرنا درست تھا اور جب وہ عشا پڑھ چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
اُحِلَّ لَـکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَائِکُمْ ط ھُنَّ لِبَاسٌ لَّـکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ ط عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْـکُمْ ج فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَـکُمْ ص وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَـکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ص ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ج وَلَا تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰـکِفُوْنَ لا فِی الْمَسٰجِدِ ط تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ فَـلاَ تَقْرَبُوْھَا ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ اٰیٰـتِہٖ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : روزہ کے اوقات کا تعین، ماہ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے جماع اور رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کے مسائل۔
یہودیوں کے ہاں یہ دستور تھا کہ روزہ افطار کرنے کے وقت اگر کوئی شخص سو جائے تو اسے اگلے دن کی مغرب سے پہلے کھانے پینے کی اجازت نہ تھی۔ اسی طرح روزہ کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت کے بارے میں ان پر پابندی تھی۔ فرضیت رمضان کے ابتدائی دور میں صحابہ ؓ نے یہودیوں کے روزے پر قیاس کرتے ہوئے اپنے آپ پر یہ پابندیاں عائد کرلی تھیں۔ جن کی وجہ سے انہیں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعض دفعہ ان پابندیوں کے برعکس عمل کر بیٹھتے تو اپنے ضمیر میں ایک خلش محسوس کرتے۔ ان خود…
Read the full tafseer →187 : اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآپکُمْ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْ ھُنَّ وَابْتَغُوْا مَاکَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَ سْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ وَلَا تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِدِ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ ٰایَاتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 187۔:
(آیت)” احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الی نسائکم “ رفث جماع سے کنایہ ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حیاء فرمانے والے کریم ہیں وہ اس قسم کی باتوں ، اشارات وکنایات میں ذکر فرماتے ہیں تصریح نہیں کرتے جب بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مباشرت (باہمی ملاپ) کا اور ملامستہ (بدن کا بدن سے چھونا) کا اور افضائ (ایک کا دوسرے تک پہنچنا) کا یادخول (داخل ہونا) اور رفث (فحش گوئی) کا ذکر کرتے ہیں (اگرچہ ان الفاظ کے لغوی معنی وہی ہیں جو ان الفاظ کے بعد بریکٹ میں ذکر کیے گئے مگر) اس سے مراد جماع ہوتا ہے ، حضرت زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ رفث کا کلمہ ہر اس مراد کے لیے جامع ہے جو…
Read the full tafseer →جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ عشاء کی نماز سے پہلے جس کسی کو جو کچھ کھانا پینا ہوتا تھا وہ کھا پی لیتا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد پھر کھانا پینا مباشرت سب کچھ حرام ہوجاتا تھا۔ اسی طرح عشاء کی نماز سے پہلے اگر کسی کی آنکھ لگ جاتی تو عشاء کی نماز سے پہلے ہی یہ سب چیزیں حرام ہوجاتی تھیں۔ یہ حکم صحابہ کرام پر بہت شاق ہوا اور اس حکم کی پابندی میں رخنہ پڑنے لگا۔
قیس بن حرمہ ؓ ایک صحابی تھے وہ روزہ کھول کر بغیر کھانا کھانے ایک دفعہ سو گئے اور دوسرے دن روزہ پر روزہ رکھنے کے سبب سے دوپہر کے وقت ان کو غش آگیا۔ آنحضرت ﷺ اور سب صحابہ نے ان کے حال پر بڑا تاسف کیا اور بعض…
Read the full tafseer →روزوں کے فرض کئے جانے کے بعد شروع شروع میں مسلمانوں پر رات کے وقت سو جانے کے بعد کھانا پینا اور جماع وغیرہ حرام تھا، بنا بریں بعض اصحاب کے لئے یہ چیز مشقت کا باعث ہوئی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس حکم میں تخفیف فرما دی اور رمضان کی راتوں میں ان کے لئے کھانا پینا اور جماع مباح قرار دے دیا۔ خواہ وہ سویا ہو یا نہ سویا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کچھ ایسے امور کو ترک کر کے جن کا انہیں حکم دیا گیا تھا، اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے۔ (آیت) فَتَابَ عَلَيْكُمْ ” پس اس (اللہ تعالیٰ ) نے تم پر رجوع کیا “ بایں طور کہ اس نے تمہارے لئے اس معاملے میں وسعت پیدا کردی، اگر اس میں یہ وسعت پیدا نہ…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
رمضان کی قضا میں تاخیر کا جواز
ارشاد باری ہے فمن کان منکم مریضاً او علی سفر فعدۃ من ایام اخر اللہ تعالیٰ نے گنتی پوری کرنا ایسے دنوں میں واجب کردیا جن کی آیت میں تعیین نہیں کی گئی ہے۔ اس بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس کے لیے جائز ہے کہ جس وقت چاہے روزے رکھ لے البتہ سال کے اختتام تک قضا کی تاخیر کے جواز میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت محفوظ نہیں ہے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے اتنی تاخیر جائز نہیں کہ اگلا رمضان شروع ہوجائے۔ میری یہ رائے احناف کے مسلک کے مطابق ہے ۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک اگر امر غیر موقت ہو ، یعنی اس کا کوئی وقت مقرر نہ ہو ، تو وہ علی الفور ہوتا…
Read the full tafseer →511 رمضان کی راتوں میں رفث نساء کی اجازت : جو کہ اس سے قبل ممنوع تھا، جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد و مذکور ہے (صحیح بخاری کتاب التفسیر، وغیرہ) ۔ سو اس طرح یہ تم پر ایک اور کرم و احسان ہے، اس رب رحمان و رحیم کا، جس سے اس نے تم کو نوازا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ " رَفَثَ " کے اصل معنی فحش کلام اور شہوانی باتوں کے آتے ہیں، مگر یہاں یہ کنایہ ہے جماع اور اس کے متعلقات سے۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو شروع میں جو اس کی ممانعت تھی وہ اب ختم ہوگئی اور اب تم کو اس کی اجازت دے دی گئی ہے۔ " رفث " کے بعد " الی " کا جو صلہ آگیا تو اس سے اس کے اندر بیویوں سے اختلاط و ملاقات کا مضون پیدا ہوگیا۔ بہرکیف اس ارشاد…
Read the full tafseer →میاں بیوی کا تعلق اور اللہ کی حدود
تشریح : اس آیت مبارکہ میں بعض ان پابندیوں اور آسانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو روزوں میں میاں بیوی کے آپس میں تعلقات پر شک کا باعث تھیں۔ مثلاً یہ واضح کردیا گیا ہے کہ میاں بیوی روزے کے دوران آپس میں بےتکلفی سے نہ ملیں البتہ روزہ افطار کرنے کے بعد مل سکتے ہیں کیونکہ میاں بیوی کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ مطلب یہ کہ میاں بیوی لباس کی طرح ایک دوسرے کے راز دان ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں اچھے میاں بیوی ہمیشہ ایک دوسرے کے لئے سکون، راحت اور آرام کا موجب ہوتے ہیں، مگر روزے کے دوران جس طرح کھانے پینے، بےحیائی کی باتیں کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
آیات 183- 188
اسرارو معارف
رمضان اور احکام رمضان :
تیسرا حکم نیکی اور بر کے باپ میں ” صوم “ کا ہے ، اسے ارشاد فرمانے کا ایک خاص انداز ہے کہ قبل ازیں نوع انسانی کو دعوت عبادت دی۔ مگر اس میں یہ انداز نہیں بلکہ ایک عمومی رنگ ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔ مگر یہاں ارشاد ہے ،
’ تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں پر فرض کیا گیا تھا ‘۔
اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے مخاطب نوع انسانی ہے اور دوسرا خطاب خاص مومنین کو ہے اور ان کی روحانی تربیت اور حصول رحمت کے لئے ایک خاص اہتمام ہے۔
دراصل انسان روح اور جسم سے مرکب ہے جس طرح جسم مادہ کی ایک ٹھوس اور کثیف شکل ہے اسی طرح روح انتہائی…
Read the full tafseer →ف 5 ابتدا میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو افطار سے صرف نام عشاتک کھانا پینا اور عورت سے مقاربت جائز تھی۔ اگر کسی شخص نے عشا کی نماز پڑھ لی یا وہ اس سے پہلے سوگیا تو اس کا روزہ شروع ہوجاتا تھا پھر اگلے روز افطار یعنی سورج غروب ہونے تک کھانا پینا اور جماع اس پر حرام ہوتا تھا، بعض لوگ ضبط نہ کرسکے اور رات کو عشا کے بعد بیویوں سے مقاربت کر بیٹھے ایک انصاری قیس بن صرمہ کے متعلق روایت ہے وہ روزے کی حالت میں دن بھر کھیت میں کام کرتے رہے۔ افطار کے وقت گھر آئے اور بیوی سے پوچھا کوئی چیز کھانے کے لیے ہے ؟ بیوی بیوی نے جواب دیا نہیں۔ آپ ٹھہریئے میں جاکر پڑسیوں سے لاتی ہوں بیوی کے چلے جانے کے ان کی آنکھ…
Read the full tafseer →(2:187) احل۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب احلال (افعال) مصدر حلال کیا گیا۔ مباح کیا گیا ۔ الرفث مفعول مالم یسم فاعلہ، لیلۃ الصیام۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ظرف ہے الرفث کا۔ رفث ایک لفظ جامع ہے۔ جس قسم کا مرد عورتوں سے فائدہ اٹھائیں سب کو یہ شامل ہے۔ اور رفث کو الی سے اس لئے متعدی کیا ہے کہ اس لفظ کے اندر افضاء (جماع) کا مضمون ہے اور افضاء کا صلہ الیٰ آتا ہے۔
ترجمہ : جائز کردیا گیا تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں پاس جانا اپنی بیبیوں کے۔
کنتم تختانون انفسکم۔ کنتم تختانون ماضی استمراری کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تختانون اختیان (افتعال) خین مادہ۔ خیانت کرنا ۔ اختیان میں خیانۃ سے زیادہ مبالغہ ہے۔ تم اپنے آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
لغات القرآن : آیت نمبر 183 تا 187
معدودات (معدودۃ، چند) ۔ عدۃ (مدت) ۔ ایام اخر (دوسرے دن ) ۔ یطیقونہ (اس کی طاقت ہو (اصل میں یہ لا یطیقونہ ہے یعنی جس کو اس کی طاقت نہ ہو) ۔ طعام مسکین (ایک غریب کا کھانا) ۔ تصوموا (تم روزہ رکھو) ۔ شھر (مہینہ) ۔ شھد (موجود، جو پائے ) ۔ لا یرید (نہیں چاہتا ہے) ۔ الیسر (آسانی، سہولت) ۔ العسر (تنگی ، دشواری) ، لتکملوا (تا کہ تم مکمل کرلو) ۔ لتکبروا ( تاکہ تم (اللہ ) کی بڑائی بیان کرو۔ سال (اس نے پوچھا) ۔ عبادی (میرے بندے) ۔ اجیب (میں جواب دیتا ہوں) ۔ دعان (مجھے پکارا (دعا ، ن ، ی) ۔ فلیستجیبوا (پھر قبول کرنا چاہئے) ۔ ولیؤمنوا (اور ایمان لانا چاہئے) ۔ احل (حلال…
Read the full tafseer →شان نزول : جب رمضان شریف کے روزے فرض ہوئے تو ابتدائے سلام میں یہ حکم تھا کہ عشاء کی نماز سے پہلے جس کو کسی کو جو کچھ کھانا پینا ہوتا تھا ہو کھا پی لیتا تھا، اس کے بعد کھانا، پینا، مباشرت سب کچھ حرام ہوجاتا تھا۔ حضرت قیس بن حرمہ ؓ ایک صحابی تھے۔ وہ روزہ کھول کر بغیر کھانا کھائے ایک دفعہ سو گئے، دوسرے دن روزہ پر روزہ رکھنے کے سبب سے دوپہر کے وقت ان کو غش آگیا۔ اس پر آنحضرت ﷺ اور سب صحابہ کرام نے ان کے حال پر بڑا تاسف کیا۔ اور بعضے صحابہ کرام سو جانے کے بعد پھر رات کو اٹھ کر مباشرت کی جرأت کر بیٹھے۔ اس رخنہ کے رفع کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور صبح صادق کے شروع تک یہ چیزیں…
Read the full tafseer →[121] لباس کا ایک وصف امتیازی پردہ پوشی ہے۔ لباس جسم کے عیبوں کو چھپاتا ہے اور اس کے حسن و خوبی کو ابھارتا ہے۔ تشبیہ سے اشارہ اسی خاص وصف کی جانب معلوم ہوتا ہے۔ گویا میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ پوش ہونا چاہئے۔
[122] یعنی مباشرت اولاد حاصل کرنے کی نیت سے ہونی چاہئے تاکہ امت کی قوت اور کثرت میں اضافہ ہوتا رہے۔
[123] اعتکاف کے معنی ہیں رک جانا، پابند ہونا۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے رمضان کے آخری دنوں میں مسجد میں رہنا اور اللہ کی عبادت میں گزارنا۔ اعتکاف کی مدت کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے۔
Read the full tafseer →روزہ کا مقصد :
(ف 3) ازدواجی تعلقات کو رات کے وقت برقرار رکھتا قرآن حکیم نے جائز ومباح قرار دیا ، اس لئے کہ روزہ کا مقصد رہبانیت یا فاقہ نہیں ، بلکہ تحسین اخلاق ہے اور کیا بیوی سے پیار بہترین اور پاکیزہ تر حسن اخلاق نہیں ؟ حدیث میں جو آتا ہے کہ دن کے وقت بھی حضور ﷺ ازواج مطہرات سے محبانہ پیش آتے اور بوس وکنار میں کوئی مضائقہ نہ سمجھتے تھے تو اس کے یہ ہیں کہ روزہ زاہدانہ یبوست نہیں ، خشک ریاضت نہیں بلکہ ہر خواہش میں اور ہر جذبہ میں تابحد لطافت اعتدال پیدا کرتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ کھانا پینا ممنوع ہے لیکن نہانا دھونا اور دیگر پاک تفریح کی چیزوں کی اجازت دیتا ہے اسی طرح صنفی جذبات کی تکمیل تو…
Read the full tafseer →ف 1 روزے کی رات میں یعنی رمضان المبارک کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں سے خواہ وہ بیویاں ہوں یا باندیاں اختلاط اور ملنا حلال کردیا گیا اور ممانعت کا حکم موقوف ہوا وہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کی پوشاک اور لباس ہو۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پہلے ہی سے معلوم تھی کہ تم احکام الٰہی میں خیانت کرکے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کر رہے ہو مگر چونکہ تم نے معذرت کی تو اللہ تعالیٰ نے تم پر مہربانی اور اپنے کرم کے ساتھ توجہ فرمائی اور تم کو معاف فرما دیا اور تم کو درگزر کیا لہٰذا اب تم ان سے اگر چاہو تو بےتکلف ہم بستری اور مباشرت کرسکتے ہو ہماری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 187–188
ف 2۔ شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ رات کو ایک دفعہ نیند آجانے سے آنکھ کھلنے کے بعد کھانا پینا اور بی بی کے پاس جانا حرام ہوجاتا تھا۔ بعض صحابہ سے غلبہ میں اس حکم کے امتثال میں کوتاہی ہوگئی پھر نادم ہو کر نبی ﷺ سے اطلاع کی ان کی ندامت اور توبہ پر حق تعالیٰ نے رحمت فرمائی اور اس حکم کو منسوخ کردیا۔
3۔ مراد متمیز ہونے سے یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہوجائے۔
4۔ حالت اعتکاف میں بی بی کے ساتھ صحبت اور اسی طرح بوس وکنار سب حرام ہے۔ اعتکاف صرف ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں پانچوں وقت جماعت سے نماز کا انتطام ہو۔ جو اعتکاف رمضان میں نہ ہو اس میں بھی روزہ شرط ہے اعتکاف والے کو مسجد سے کسی وقت باہر نکلنا درست…
Read the full tafseer →رمضان کی راتوں میں فرصت کے اوقات ہوں تو ازدواجی تعلق کی ممانعت نہیں :
317: روزہ کے دو مقاصد کا تذکرہ گذشتہ آیات میں کیا گیا ہے اب تیسرے مقصد یعنی قانون کی پابندی پر بحث کی جاتی ہے کہ جو قانون صحیح اس کو دیا جائے گا بلا چون و چرا اس پر عمل کرنے کو تیار ہو تاکہ بد نظمی نہ ہونے پائے۔ اس جذبہ کی تربیت اور تکمیل حسب ذیل احکام سے کی جائے گی۔
اگر روزوں میں مشکل احکام کی پابندی کا اپنے آپ کو عادی بنا لیا تو پھر خواہ کیسا ہی سخت سے سخت اور وقت طلب قانون دیا جائے کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی۔ مسلمانوں کو دنیا بھر میں حق و صداقت کی نشر و اشاعت کرنا ہے۔ ہر قوم ان کی مخالفت کرے گی اور ان کو مٹا دینے کی فکر…
Read the full tafseer →Explained here in this verse are the remaining injunctions of fasting including the injunction relating to I` tikaf اعتکاف .
Commentary
The opening words of the verse, أُحِلَّ لَكُمْ (uhilla lakum: 'It is made lawful for you' ) tell us that the act made lawful through this verse was unlawful before. According to a narration by the blessed Companion, Bar-a' ibn ` Azib براء بن عازب appearing in Sahib al-Bukhari, in the early days when the fasts of Ramadan were made obligatory, the permission to eat, drink and have marital intimacy with wives was subjected to the condition that one does not…
Read the full tafseer →190. Just as nothing intervenes between a person's body and his clothes, so nothing can intervene between a man and his wife; it is a relationship of inalienable intimacy.
191. Although there was no categorical ordinance in the early days prohibiting sexual intercourse between husband and wife during the nights of Ramadan, people generally assumed that this was not permissible. Despite the feeling that their action was either not permitted or was at least disapproved of, they did at times approach their wives. Such a betrayal of conscience can encourage a sinful disposition. God, therefore,…
Read the full tafseer →