دعا اور اللہ مجیب الدعوات
ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہمارا رب قریب ہے ؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کرلیں یا دور ہے ؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں، نبی ﷺ خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ ؓ کے اس سوال پر کہ ہمارا رب کہاں ہے ؟ یہ آیت اتری (ابن جریر) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب آیت (رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ) 40۔ غافر :60) نازل ہوئی یعنی مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا رہوں گا تو لوگوں نے پوچھا کہ دعا کس وقت کرنی چاہئے ؟ اس پر یہ آیت اتری (ابن جریج) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 188
یعنی اگرچہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے اور نہ اپنے حواس سے مجھ کو محسوس کرسکتے ہو، لیکن یہ خیال نہ کرو کہ میں تم سے دور ہوں۔ نہیں، میں اپنے ہر بندے سے اتنا قریب ہوں کہ جب وہ چاہے، مجھ سے عرض معروض کرسکتا ہے، جتّٰی کہ دل ہی دل میں وہ جو کچھ مجھ سے گزارش کرتا ہے میں اسے بھی سن لیتا ہوں اور صرف سنتا ہی نہیں، فیصلہ بھی صادر کرتا ہوں۔ جن بےحقیقت اور بےاختیار ہستیوں کو تم نے اپنی نادانی سے الٰہ اور رب قرار دے رکھا ہے، ان کے پاس تو تمہیں دوڑ دوڑ کر جانا پڑتا ہے اور پھر بھی نہ وہ تمہاری شنوائی کرسکتے ہیں اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ تمہاری درخواستوں پر کوئی فیصلہ صادر کرسکیں۔ مگر میں…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر مع ربط آیات
پچھلی تین آیتوں میں روزہ اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر تھا اور اس کے بعد بھی ایک طویل آیت میں روزہ اور اعتکاف کے احکام کی تفصیل ہے درمیان کی اس مختصر آیت میں بندوں کے حال پر حق تعالیٰ کی خاص عنایت ان کی دعائیں سننے اور قبول کرنے کا ذکر فرما کر اطاعت احکام کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ روزہ کی عبادت میں رخصتوں سہولتوں کے باوجود کسی قدر مشقت ہے اس کو سہل کرنے کے لئے اپنی مخصوص عنایت کا ذکر فرمایا کہ میں اپنے بندوں سے قریب ہی ہوں جب بھی وہ دعاء مانگتے ہیں میں ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں اور ان کی حاجات کو پورا کردیتا ہوں۔
ان حالات میں بندوں کو بھی چاہئے کہ میرے احکام کی…
Read the full tafseer →شبہات اور مشکلات میں خدا کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت : یہ آیت تمہید ہے ان سوالوں کے جوابات کی جو روزے کے حکم کے نزول کے بعد ماہ رمضان کے احترام اور روزے کے احکام و آداب سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں ابھرے یا ان کی زبانوں پر آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی وضاحت فرمائی۔ ایسے لوگوں کو قرآن نے یہ ہدایت فرمائی کہ اپنے اس قسم کے شبہات و اعتراضات کو خدا اور اس کی شریعت کی مخالفت یا اس کی تنقید و تضحیک کا ذریعہ نہ بنا لیں بلکہ ان میں رہنمائی کی طلب کے لیے خدا ہی کی طرف رجوع کریں۔ جو آدمی اخلاص و صداقت کے ساتھ اپنی کسی حقیقی ضرورت کے لیے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے خدا اس کی طلب ضرور پوری کرتا ہے، عام اس سے کہ…
Read the full tafseer →186۔ 1 رمضان المبارک کے احکام و مسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کر کے یہ واضح کردیا کہ رمضان المبارک میں دعا کی بڑی فضیلت ہے جس کا خوب اہتمام کرنا چاہیے خصوصا افطاری کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتلایا گیا ہے۔ تاہم قبولیت دعا کے لئے ضروری ہے ان آداب شرائط کو ملحوظ رکھا جائے جو قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح احادیث میں حرام خوراک سے بچنے اور خشوع و خضوع کا اہتمام کرنے کی تاکید بھی کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →117: رمضان کے ذکرکے عین درمیان اس آیت کو لانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ پیچھے رمضان کی گنتی پوری کرنے کا جو ذکر آیا تھا اس سے کسی کو خیال ہوسکتا تھا کہ رمضان گزرنے کے بعد شاید اللہ تعالیٰ سے وہ قرب باقی نہ رہے جو اس مبارک مہینے میں حاصل ہوا تھا، اس آیت نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے واضح فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ ہر آن اپنے بندوں سے قریب ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔
Read the full tafseer →” میں قریب ہوں۔ “ پکارنے والا جب بھی مجھے پکارے میں اس کی پکار سنتا ہوں۔ کیا نرمی ہے ؟ ذرا نظرکرم ملاحظہ ہو ؟ الفاظ و معانی کی صفائی دیکھو ! انس و محبت دیکھو ! روزے کی تکالیف کیا ۔ بلکہ تمام عبادات کی تکالیف مشقتیں اس قریب و محبت کے مقابلے میں کہاں رہتی ہیں ؟ اس انس اور محبت کے ٹھنڈے سایے میں احساس مشقت کہاں باقی رہتا ہے ؟
اس آیت کے لفظ لفظ پر انس و محبت کی تازہ شبنم ہے ۔” میرے بندے ! اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادیجئے کہ میں تو ان سے قریب ہوں پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں اس کی پکارسنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں ۔ “ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
عجیب آیت ہے یہ ! دل مومن کو…
Read the full tafseer →8 شروع میں یہ حکم تھا کہ رمضان میں اول شب میں کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت تھی مگر سو رہنے کے بعد ان چیزوں کی ممانعت تھی۔ بعض لوگوں نے اسکے خلاف کیا اور سونے کے بعد عورتوں سے قربت کی پھر آپ ﷺ سے آکر عرض کیا اور اپنے قصور کا اقرار اور ندامت کا اظہار کیا اور توبہ کی نسبت آپ ﷺ سے سوال کیا تو اس پر یہ آیت اتری کہ تمہاری توبہ قبول کی گئی اور احکام خداوندی کی اطاعت کی تاکید فرما دی گئی اور حکم سابق منسوخ فرما کر آیندہ کو اجازت دیدی گئی کہ تمام شب رمضان میں صبح صادق سے پہلے کھانا وغیرہ تم کو حلال ہے جس کا ذکر اس کے بعد کی آیت میں آتا ہے اور آیت سابقہ میں جو بندوں پر سہولت اور عنایت کا…
Read the full tafseer →آیت 186 وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط
میرے نزدیک یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔ فصل اگر ہے تو وہ تمہاری اپنی خباثت ہے۔ اگر تمہاری نیت میں فساد ہے کہ حرام خوری تو کرنی ہی کرنی ہے تو اب کس منہ سے اللہ سے دعا کرو گے ؟ لہٰذا کسی پیر کے پاس جاؤ گے کہ آپ دعا کردیجیے ‘ یہ نذرانہ حاضر ہے۔ بندے اور خدا کے درمیان خود انسان کا نفس حائل ہے اور کوئی نہیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو یہ ہے کہ :
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے ‘ راہ رو منزل ہی نہیں !
اس تک پہنچنے کا واسطہ کوئی پوپ…
Read the full tafseer →238۔ 1 رسول اللہ ﷺ سے بعض لوگوں نے پوچھا تھا کہ ہمارا پروردگار اگر دور ہے تو ہم اسے بلند آواز سے پکارا کریں اور اگر قریب ہے تو آہستہ آواز سے پکارا کریں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بتلا دیا کہ میں تمہارے بالکل قریب ہوں۔ حتیٰ کہ تمہاری رگ جان سے بھی قریب ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے صرف ان کے سوال کے جواب پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اور بھی کئی باتیں ارشاد فرما دیں جو انسانی ہدایت کے لیے ضروری تھیں اور جن سے شرکیہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ جب کوئی شخص مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار یا دعا کو صرف سنتا ہی نہیں بلکہ شرف قبولیت بھی بخشتا ہوں اس سے ان لوگوں کے باطل خیال کا رد ہوگیا جو…
Read the full tafseer →670 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” عنی “ یعنی میرے قرب وبعد سے متعلق۔ اقریب ربنا فنناجیہ ام بعید فننادیہ (بیضاوی) گمراہ قوموں نے باری تعالیٰ کے وجود کا اقرار تو بارہا کیا ہے۔ لیکن ذات باری کو انسان سے اس قدر پرے، مادی ومعنوی دونوں حیثیتوں سے فرض کیا ہے کہ وہاں تک بندوں کی رسائی گویا ممکن ہی نہیں ! (آیت) ” اذاسالک “ اہل لطائف نے اس سے یہ نکتہ نکالا ہے کہ قرب و قبول طلب پر موقوف ہے اور ک خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ توسط آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص سمجھا جائے کسی اور کی طرف گمان نہ جائے۔
671 ۔ (اور یہ آپ بندوں سے میری طرف سے کہہ دیجئے) (آیت) ” قریب “ قریب باعتبار کمال علم، یا قریب بہ اعتبار قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْانُ رمضان میں نزول قرآن کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل قرآن کسی ایک رمضان میں نازل کیا گیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ رمضان کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، اور وہاں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا۔ وہاں سے حسب ضرورت 23 سالوں میں اترتا رہا۔ (ابن کثیر) ۔ قرآن کے رمضان میں نازل ہونے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتداء ماہ رمضان میں ہوئی اور سب سے پہلی قرآنی وحی سورة علق کی ابتدائی آیتیں غار حراء میں اسی ماہ رمضان میں یکم سن نبوی 609 عیسوی میں نازل ہوئی۔ سفر کی حالت میں روزہ رکھنایا نہ رکھنا آدمی کے اختیارِ تمیزی پر چھوڑدیا گیا ہے نبی…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ( اور جب پوچھیں آپ ﷺ سے میرے بندے میری بابت ( تو کہئے) میں پاس ہی ہوں) عبدالرزاق نے حسن سے روایت کی ہے کہ صحابہ ؓ نے رسول اللہ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ہمارا پروردگار کہاں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی یہ حدیث مرسل ہے۔
میں کہتا ہوں کیا عجب ہے کہ سائل اعرابی ہو ( اس صورت میں آیت سے ماقبل جو روایت لکھی گئی ہے اس سے موافقت ہوجائے گی) ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ دعا میں کمی مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر آیت : ادعونی استجب لکم ( تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا) نازل فرمائی ہے…
Read the full tafseer →(186) اور جب آپ سے اہل کتاب میرے متعلق دریافت کریں کہ میں قریب ہوں یا دور تو اے محمد ﷺ آپ انہیں بتادیجیے کہ میں دعا کے قبول کرنے میں بہت ہی قریب ہوں، لہٰذا میرے رسول کی اطاعت کرو، اور دعوت سے قبل میرے رسول پر ایمان لاؤ تاکہ تمہیں ہدایت نصیب ہو اور پھر تمہاری دعا بھی (جلد) قبول کی جائے۔
شان نزول : (آیت) ”واذا سالک عبادی“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ ابن مردویہ ؒ اور ابوالشیخ ؒ وغیرہ نے بذریعہ جریر ؒ بن عبدالحمید ؒ ، عبدہۃ السجستانی ؒ ، حلت بن حکیم ؒ حکیم بن معاویہ ؒ ، معاویۃ بن حیدہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک عربی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ہمارا پروردگار قریب ہے کہ…
Read the full tafseer →اس آیت سے پہلے اور بعد میں ماہ رمضان کا ذکر ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماہ رمضان، خصوصاً روزے کی حالت دعا کی قبولیت کا خاص سبب ہے اور پھر
افطار کا وقت قبولیت دعا کا وقت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”روزے دار کے لیے افطار کے وقت ایک قبول کی جانے والی دعا ہے (یعنی رد نہیں ہوتی)۔“ [ ابن ماجہ، الصیام، باب فی الصائم لا ترد دعوتہ : 1753 ] چناچہ حدیث کے راوی عبداللہ بن عمرو ؓ جب روزہ افطار کرتے تو اپنے اہل و اعیال کو بلاتے اور دعا کرتے۔ [ مسند أبی داوٗد الطیالسی : 2262 ] یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ [ ہدایۃ المستنیر ]
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ”عِبَادِيْ“ کہہ کر اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت ظاہر کی ہے اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 186
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا سالک اس کا معنی ہے جب یہ آپ سے معبود کے بارے میں پوچھیں تو انہیں بتاؤ کہ وہ قریب ہے وہ اطاعت پر ثواب دیتا ہے اور دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہے اور بندہ جو صوم و صلاۃ میں سے کرتا ہے اسے وہ جانتا ہے۔ اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے۔ مقاتل نے کہا : حضرت عمر ؓ نے عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد اپنی بیوی سے حقوق زوجیت ادا کئے تو اس پر بہت شرمندہ ہوئے اور رونے لگے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور صورت حال عرض کی اور پریشان ہو کر واپس آئے اور رخصت کے نزول سے پہلے یہ مسئلہ تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی : واذا سالک عبادی عنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
ترجمہ : رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت کے بارے میں اس کے بیانات خوب واضح ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر کرنے والے ہیں سو جو شخص تم میں سے اس ماہ میں موجود ہو وہ اس میں روزہ رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں کی گنتی کرکے روزے رکھ لے، اللہ تمہارے لئے آسانی کا ارادہ فرماتا ہے، دشواری کا ارادہ نہیں فرماتا اور تاکہ تم گنتی پوری کیا کرو اور تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور تاکہ تم شکر کرو (185) ۔
قرآن کریم رمضان میں نازل ہوا
(1) ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن عدی، بیہقی نے السنن میں اور دیلمی نے حضرت…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ سَاَلَکَ : پوچھیں آپ ﷺ سے ] [ عِبَادِیْ : میرے بندے ] [ عَنِّیْ : میرے بارے میں ] [ فَاِنِّیْ : تو یقینا میں تو ] [ قَرِیْبٌ : قریب ہوں ] [ اُجِیْبُ : میں قبول کرتا ہوں ] [ دَعْوَۃَ الدَّاعِ : ہر پکارنے والے کی پکار کو
اِذَا : جب بھی ] [ دَعَانِ : وہ پکارے مجھ کو ] [ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا : پس چاہیے کہ وہ لوگ حکم مانیں ] [ لِیْ : میرا
وَلْیُؤْمِنُوْا : اور چاہیے کہ وہ لوگ ایمان لائیں ] [ بِیْ : مجھ پر ] [ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ : شاید کہ وہ لوگ ہدایت پائیں ]
ج و ب
جَابَ (ن) جَوْبًا : (1) کوئی فاصلہ طے کرنا۔ (2) کسی چیز کو کاٹنا یا تراشنا (کاٹنے والا کاٹتے یا…
Read the full tafseer →دعا کی فضیلت اور آداب
تفسیر درمنثور ج 1 ص 194 میں ذکر کیا ہے کہ ایک شخص حضور انور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہمارا رب قریب ہے۔ جس سے ہم آہستہ طریقے پر مناجات کریں یاد و رہے جسے ہم زور سے پکاریں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے خامو شی اختیار فرمائی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت (وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ ) آخر تک نازل فرمائی اور حضرت عطاء بن ابی رباح نے بیان فرمایا کہ آیت (وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) نازل ہوئی تو صحابہ نے عرض کیا کہ اگر ہمیں معلوم ہوجاتا کہ ہم کس وقت دعا کریں تو اچھا تھا اس پر آیت (وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ ) اخیر تک نازل…
Read the full tafseer →ترغیب دعا بعد تلقین تکبیر وثناء۔
قال تعالی، واذا سالک عبادی عنی۔۔۔ الی۔۔۔ یرشدون۔
گزشتہ آیات میں اللہ کی تکبیر اور ثناء کا بیان تھا اب اس آیت میں دعا کا بیان ہے کہ دعا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور دعا سے پہلے تکبیر اور ثناء کا بیان اس طرف مشیر ہے کہ دعا کا ادب اور طریقہ یہ ہے کہ پہلے اللہ کی حمد وثناء کی جائے اور پھر حاجت کی درخواست کی جائے انبیاء کرام کا یہی طریقہ رہا ہے اور عجب نہیں خہ اس طرف بھی اشارہ ہو کہ ماہ رمضان قبولیت دعا کا مہینہ ہے اس کو غنیمت سمجھو دعا کو روزہ کے ساتھ خاص مناسبت اور خاص تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ روزہ دار کی دعا بہ نسبت غیرروزہ دار کے زیادہ قبول ہوتی ہے جیسا کہ…
Read the full tafseer →344 یہ جملہ معترضہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے قرب کا بیان ہے روزہ چونکہ قرب الٰہی حاصل کرنے کا موجب ہے اس لیے روزہ کے بعد قرب الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ نیز پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور بڑائی کا بیان تھا اس لیے اس سے اللہ کے بعد کا تصور آسکتا تھا۔ اس لیے صحابہ ؓ نے عرض کی کہ یارسول اللہ ہمارا خدا دور ہے یا نزدیک۔ اگر دور ہے تو اس کو زور زور سے پکاریں اور اگر نزدیک ہے تو آہستہ پکاریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عَنِّىْ کے معنی ہیں میرے قرب اور بعد کے متعلق یعنی پیگمبر جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں کہ آیا ہمار رب قریب ہے یا دور، تو آپ ان سے فرمائیں کہ میں نزدیک ہوں دور…
Read the full tafseer →شان نزول
آیت زیر درس سے ما قبل اور ما بعد آیات روزہ سے متعلق ہیں ۔ پہلی آیات میں معذور لوگوں کو حاصل ہونے والی رعایت کا ذکر تھا اور بعد والی آیت میں روزے کے احکام ہیں ۔ اس درمیانی آیت میں اس دعا کا ذکر ہے ، جو بندہ اپنے رب کے حضور کرتا ہے گزشتہ آیت کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور اس کا شکریہ ادا کرنے کا بیا ن تھا۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے حضور نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ کو کس طرح پکارنا چاہئے ، کیا وہ انسان کے قریب ہے یا بعید ، اگر قریب ہے تو اس کے ساتھ سر گوشی سے مناجات کریں اور اگر وہ دور ہے تو زور سے پکاریں ، اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا واذا…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ 0 ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ 0 ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَلْيُؤْمِنُوْا بِيْ لَعَلَّہُمْ يَرْشُدُوْنَ 186
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو (…
Read the full tafseer →ترکیب : واذا سالک فعل عبادی فاعل ک مفعول عنی متعلق ہے فعل سے یہ تمام جملہ شرط فانی قریب ای قفل لہم انی قریب جواب شرط اجیب خبر ثانی۔
تفسیر : پہلی آیت میں تکبیر اور یاد الٰہی اور اس کی شکر گزاری کا حکم تھا جس سے احتمال تھا کہ ہم تو اس کو یاد اور اس کی شکر گذاری کرتے ہیں۔ آیا وہ بھی ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے یا کہ دنیا کے امراء اور شہنشاہوں کی طرح وہاں تک رسائی اور کسی کی شنوائی ہی نہیں ہوتی !
قطعہ :
روئے بر خاک عجزمے مالم
ہر سحر گہ کہ بادمے آید
ایکہ ہرگز فرامشت نکنم
ہیچت از بندہ یادمے آید
اس آیت میں اس شبہ کو زائل کردیا کہ جب میرے بندے اے نبی میرا حال آپ سے پوچھیں تو کہہ دو کہ میں تو ان سے بہت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 185–186
شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ ط وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَط یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَایُرِیْدُبِکُمُ الْعُسْرَ ز وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُـکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔
(مہینہ رمضان کا ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق و باطل سے جدا کرنے کی سو جو شخص پائے تم میں سے اس مہینہ کو اسے چاہیے کہ روزے رکھے اس کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : رمضان کی راتوں اور روزہ کی حالت میں دعا جلد قبول اور اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے دعا سے متعلق سوال کا جواب دینا یہاں مناسب سمجھا گیا تاکہ مومن دل کھول کر اپنے رب سے مانگیں۔
دعا کا معنٰی و مفہوم :
دعا عبادات کا خلاصہ، انسانی حاجات اور جذبات کا مرقّع، بندے اور اس کے رب کے درمیان لطیف مگر مضبوط واسطہ، اللہ تعالیٰ کے مزید انعامات کا حصول اور نقصانات سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ اس سے ضمیر کا بوجھ ہلکا اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے دعا مکمل یکسوئی، خلوص نیت اور انتہائی توجہ، اصرار اور تکرار کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ارض و سماء کے مالک کی خوشی اور اس کا حکم ہے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 186:
وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ : (جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو کہیں۔ میں قریب ہوں۔ قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے دعا کرے۔ پس چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ تاکہ وہ سیدھا راستہ پائیں)
شان نزول : ایک بدو نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔ کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم چپکے چپکے دعا کریں۔ یا دور ہے کہ زور سے پکاریں۔ تو یہ آیت اتری۔ (تفسیر طبری)
مراد قرب :
قرب سے مراد قرب مکانی نہیں۔ کیونکہ اس سے ذات باری…
Read the full tafseer →(تفسیر) 186۔ :
(آیت)” واذا سالک عبادی عنی فانی قریب “ کلبی نے ابو صالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہود مدینہ نے کہا یا محمد ! ﷺ ہمارا رب ہماری دعا کیسے سنتا ہے ؟ حالانکہ آپ کا دعوی ہے کہ ہمارے اور آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے پھر ہر آسمان کی موٹائی بھی اسی قدر ہے ۔
یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ضحاک (رح) کہتے ہیں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور کریم ﷺ سے پوچھا کیا ہمارا رب قریب ہے ؟ ہم اس کو سرگوشی کے انداز میں پکاریں یا دور ہے کہ باآواز بلند ندا دیں ؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →بعض لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ اللہ تعالیٰ پاس ہے یا دورا گر وہ پاس ہو تو ہم چپکے چپکے اس سے دعا مانگا کریں اور اگر دور ہو تو چلا کر دعا مانگا کریں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت فرما دی کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت پوری کرے گا اور اللہ کے حکم کو مانے گا اللہ اس سے قریب ہے اور اس کی ہر خواہش کا جواب دینے اور اس کی دعا قبول کرنے کو موجود ہے اوپر سے یہ آیت روزہ کے ذکر میں تھی ابھی روزہ کا ذکر پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا کو ذکر فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کو روزہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے روزہ دار کی دعا بہ نسبت بےروزہ دار کے زیادہ…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ سے بعض صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ’ کیا ہمارا رب قریب ہے کہ ہم اس سے سرگوشی کے انداز میں مناجات کریں یا وہ دور ہے کہ ہم اسے پکاریں ؟ “ اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ ” اور جب تجھ سے میرے بندے میری بابت پوچھیں تو (ان کو بتلا دیں کہ) میں قریب ہوں “ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کی نگہبانی کرنے والا اور اسے دیکھنے والا ہے وہ ہر بھید اور ہر چھپی ہوئی چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔ وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں مدفون رازوں کو جانتا ہے۔ وہ دعا قبول کرنے کے اعتبار سے بھی پکارنے والے کے قریب ہے۔ اسی لئے فرمایا (آیت) اُجِيْبُ دَعْوَةَ…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
امت کا اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر ایسا روزہ جو واجب فی الذمہ ہو اس کی صحت کی شرط ہے کہ اس کے لیے نیت کی جائے۔ اس لیے رمضان کے روزوں کا بھی یہ حکم ہونا چاہیے کہ ان کی صحت کے لیے نیت شرط قرار دی جائے۔ امام زفر نے اسقاط نیت کے لحاظ سے رمضان کے روزوں کو طہارت کے مشابہ قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ طہارت متعین اعضاء میں فرض کی گئی ہے ۔ اس لیے روزہ اس حیثیت سے اس کے مشابہ ہوجائے گا وہ بھی ایسے وقت میں فرض کیا گیا ہے جو صرف اسی کے لیے متعین و مخصوص ہے۔ لیکن دوسرے تمام فقہاء کے نزدیک امام زفر کا یہ طرز استدلال درست نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جس علت کا ذکر امام…
Read the full tafseer →507 بندوں کا سوال اپنے رب کے بارے میں اور رب کی طرف سے اس کا جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں کہ میں ان کے قریب ہوں یا دور، جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ بعض صحابہ کرام ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ " کیا ہمارا رب ہم سے قریب ہے کہ ہم اس کو آہستہ سے پکاریں، یا دور کہ اسے زور زور سے پکاریں " ۔ " اََرَبُّنَا قَرِیْبٌ فَنُنَاجِیْہ اَمْ بََعِیْدٌ فَنُنَادِیْہِِ ؟ " ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، روح المعانی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور اس میں صاف اور صریح طور پر بتادیا گیا کہ تمہارا رب تمہارے نہایت قریب ہے۔ اس لیے اس کو بلانے…
Read the full tafseer →دعا اور اس کی قبولیت کی شرائط
تشریح : پچھلی تین آیتوں میں روزہ کے بارے میں بتایا گیا ہے اور اس آیت میں دعا کی فضیلت کا بیان ہے۔ کچھ دعا کی قبولیت کے بھی اوقات ہیں جن میں افطار کا وقت بھی شامل ہے اور اس آیت کا شان نزول امام ابن کثیر (رح) نے یوں بیان کیا ہے کہ کسی گاؤں والوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ” ہمارا رب اگر ہم سے قریب ہے تو ہم دعا آہستہ آواز سے مانگا کریں اور دور ہو تو بلند آواز سے پکارا کریں “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اللہ جل شانہ نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کو بتا دو کہ میں زمان و مکان میں اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ موجود ہوتا ہوں، کوئی دل میں بھی مجھے پکارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–188
آیات 183- 188
اسرارو معارف
رمضان اور احکام رمضان :
تیسرا حکم نیکی اور بر کے باپ میں ” صوم “ کا ہے ، اسے ارشاد فرمانے کا ایک خاص انداز ہے کہ قبل ازیں نوع انسانی کو دعوت عبادت دی۔ مگر اس میں یہ انداز نہیں بلکہ ایک عمومی رنگ ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو۔ مگر یہاں ارشاد ہے ،
’ تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جیسے تم سے پہلے گزرنے والوں پر فرض کیا گیا تھا ‘۔
اس کی وجہ ظاہر ہے کہ پہلے مخاطب نوع انسانی ہے اور دوسرا خطاب خاص مومنین کو ہے اور ان کی روحانی تربیت اور حصول رحمت کے لئے ایک خاص اہتمام ہے۔
دراصل انسان روح اور جسم سے مرکب ہے جس طرح جسم مادہ کی ایک ٹھوس اور کثیف شکل ہے اسی طرح روح انتہائی…
Read the full tafseer →ف 4 ایک شخص نے آنحضر ﷺ سے پوچھا کہ ہمارا رب نزدیک ہے تو ہم اس سے مناجات کریں دور ہے تو ہم اس کو پکاریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی ترغیب ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو سنتا ہے لہذا تمہیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ماہ رمضان کے سلسلہ میں اس آیت کے اجانے کا مطلب یہ ہے کہ ماہ رمضان خصوص روزے کی حالت دعاؤں کے قبول ہونے کا خاص سبب ہے۔ ( ابن کثیر) ایک حدیث کے ضمن میں ہے کہ روزے دار کی دعا رائگاں نہیں جاتی۔ اس کی دعا کے لیے بھی آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (ترمذی۔ نسائی) ایک دوسری حدیث میں ہے کہ افطار کے وقت دعاقبول ہوتی ہے۔ مشکوہ۔ کتاب الدعوات) یہی وجہ ہے…
Read the full tafseer →(2:186) واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب۔ اذا ظرف زمان ہے۔ سئل فعل ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ عبادی۔ مضاف مضاف الیہ مل کر فاعل ، منی جار مجرور مل کر متعلق فعل۔ اذا سئلک عبادی عنی جملہ شرطیہ۔ فانی قریب ای قل لہم (ای عبادی) انی قریب۔ جواب شرط۔
اجیب۔ مضارع واحد متکلم ۔ اجابۃ (باب افعال) مصدر بمعنی قبول کرنا۔ میں قبول کرتا ہوں۔
الداع۔ بلانے والا۔ پکارنے والا۔ دعاء (د ع و مادہ) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر بحالت رفع وجر۔ دعوۃ الداع۔ مضاف مضاف الیہ مل کر اجیب کا مفعول۔
دعان۔ اصل میں دعانی تھا۔ ی ضمیر واحد متکلم حذف ہوگئی اور ن وقایہ ہے دعا ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اس نے مجھے پکارا۔ اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 183–187
لغات القرآن : آیت نمبر 183 تا 187
معدودات (معدودۃ، چند) ۔ عدۃ (مدت) ۔ ایام اخر (دوسرے دن ) ۔ یطیقونہ (اس کی طاقت ہو (اصل میں یہ لا یطیقونہ ہے یعنی جس کو اس کی طاقت نہ ہو) ۔ طعام مسکین (ایک غریب کا کھانا) ۔ تصوموا (تم روزہ رکھو) ۔ شھر (مہینہ) ۔ شھد (موجود، جو پائے ) ۔ لا یرید (نہیں چاہتا ہے) ۔ الیسر (آسانی، سہولت) ۔ العسر (تنگی ، دشواری) ، لتکملوا (تا کہ تم مکمل کرلو) ۔ لتکبروا ( تاکہ تم (اللہ ) کی بڑائی بیان کرو۔ سال (اس نے پوچھا) ۔ عبادی (میرے بندے) ۔ اجیب (میں جواب دیتا ہوں) ۔ دعان (مجھے پکارا (دعا ، ن ، ی) ۔ فلیستجیبوا (پھر قبول کرنا چاہئے) ۔ ولیؤمنوا (اور ایمان لانا چاہئے) ۔ احل (حلال…
Read the full tafseer →دعا، روزہ افطاری اور سحری کی شرائط اور فضیلت
شان نزول : بعضے لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تھا کہ : اللہ تعالیٰ پاس ہے یا دور تاکہ اسی طرح دعا مانگیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہدایت فرمائی کہ جو کوئی اللہ کی اطاعت پوری کرے گا اور اس کے حکم کو مانے گا اللہ اس سے قریب ہے، اس کی ہر خواہش اور دعا کے قبول کرنے کو موجود ہے۔
ربط آیات
اوپر سے یہ آیت روزہ کے ذکر میں تھی، ابھی روزہ کا ذکر پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں اللہ تعالیٰ نے اس دعا کا ذکر فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کو روزہ کے ساتھ ایک خالص تعلق ہے۔ جس کی وجہ سے روزہ دار کی دعا بہ نسبت بےروزہ دار کے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ ترمذی،…
Read the full tafseer →[120] رمضان المبارک کے احکام و مسائل کے درمیان دعا کا مسئلہ بیان کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ رمضان میں دعا کی بڑی فضیلت ہے، خصوصاً افطار کے وقت کو قبولیت دعا کا خاص وقت بتایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دعا کے لئے یقین دلایا ہے کہ وہ سنی جاتی ہے ، سابق رمضان میں اس کو اس لئے ذکر فرمایا ، تاکہ معلوم ہو کہ روزہ میں کثرت سے ذکر ودعا کا سلیلہ جاری رہے ، فرمایا کہ میں قریب ہوں اجابت وقبولیت کے لحاظ سے تم مجھ پر ایمان واعتماد رکھو پھر دیکھو میں کسی طور تمہاری التجاؤں کو شرف قبول بخشتا ہوں ۔
Read the full tafseer →ف 3 اور اے نبی ﷺ ! جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق دریافت کریں کہ وہ قریب ہے یا بعید ہے تو میں تو قریب ہی ہوں اور اپنے بندوں سے دور نہیں ہوں اور جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے اور دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں اور اس کی پکار کو پہنچتا ہوں لہٰذا ان بندوں کو بھی چاہئے کہ وہ میرے احکام کو قبول کیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں اور میرے حاکم اور قادر مطلق ہونے پر یقین رکھیں ان کے اس طرز عمل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خیر و فلاح حاصل کرسکیں گے۔ (تیسیر)
چونکہ اوپر کی آیتوں میں روزہ اور احکام صیام میں رعایتوں کا ذکر تھا اور رعایتوں کی حکمت اور تکبیر و شکر کا بیان تھا اس لئے اس آیت میں اپنے علم…
Read the full tafseer →ف 1۔ یہ جو فرمایا کہ میں قریب ہوں تو جیسے حق تعالیٰ کی ذات کی حقیقت بیچون وبیجگوں ہونے کی وجہ سے ادراک نہیں کی جاسکتی اسی طرح ان کی صفات کی حقیقت بھی معلوم نہیں ہوسکتی لہذا ایسے مباحث میں زیادہ تفتیش جائز نہیں اجمالا اتنا سمجھ لیں کہ جیسی ان کی ذات ہے ان کی شان کے مناسب ان کا قرب بھی ہے۔
Read the full tafseer →اللہ ” بندے “ کے اتنا قریب ہے کہ ” بندہ “ اتنا اپنے قریب بھی نہیں :
316: اسلام سے پہلے قوموں نے بھی اللہ تعالیٰ کے وجود کا اقرار تو کیا لیکن ذات باری کو انسان سے معنوی لحاظ سے بھی اس قدر دور رکھا کہ گویا انسان اللہ کا تصور بھی نہیں کرسکتا جب تک مادی شکل و صورت وہ اختیار نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نے اپنے اللہ کو پانے کے لئے واسطوں اور وسیلوں کی شکل اختیار کی پھر اپنے اپنے خیال کے مطابق کسی نے بت اور مورتیاں بنائیں اور کسی نے سورج ، چاند اور ستاروں کی شکل میں اپنے اللہ کو دیکھنے کی کوشش کی۔ اسلام نے ان سب کو مخاطب کر کے کہا کہ یاد رکھو اللہ ظاہری شکل و صورت میں نظر آئے یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →Allah is near His servants
Injunctions and merits concerning fasting and Ramadan were mentioned in three previous verses. This strain continues even after the present verse when details of fasting and I` tikaf اعتکاف appear in a long verse. In between, this brief verse has been introduced to persuade servants of Allah to obey the commands of Allah by recognizing how He, in His special grace, hears and answers their prayers. There is no doubt about fasting being a difficult obligation despite many concessions and permissions. It is to make the trial bearable that special grace has been…
Read the full tafseer →188. Even though people can neither see God nor subject Him to any other form of sense perception this should not make them feel that God is remote from them. On the contrany, He is so close to each and every person that whenever any person so wishes he can communicate with his Lord. So much so that God hears and responds even to the prayers which remain within the innermost recesses of the heart.
People exhaust themselves by approaching false and powerless beings whom they foolishly fancy to be their deities but who have neither the power to hear nor to grant their prayers. But God, the…
Read the full tafseer →