Explained with ayahs 178–179
قصاص کی وضاحت
یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنوقریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر غالب آئے تھے اب یہ دستور ہوگیا تھا کہ جب نضری کسی قرظی کو قتل کرے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک سو وسق کھجور دیت میں لی جاتی تھی اور جب کوئی قرظی نضری کو مار ڈالے تو قصاص میں اسے قتل کردیا تھا اور اگر دیت لی جائے تو دوگنی دیت یعنی دو سو وسق کھجور لی جاتی تھی پس اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 176
قصاص، یعنی خون کا بدلہ، یہ کہ آدمی کے ساتھ وہی کیا جائے، جو اس نے دوسرے آدمی کے ساتھ کیا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قاتل نے جس طریقے سے مقتول کو قتل کیا ہو، اسی طریقے سے اس کو قتل کیا جائے، بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ جان لینے کا جو فعل اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے وہی اس کے ساتھ کیا جائے۔
سورة الْبَقَرَة 177
جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ ایک قوم یا قبیلے کے لوگ اپنے مقتول کے خون کو جتنا قیمتی سمجھتے تھے، اتنی ہی قیمت کا خون اس خاندان یا قبیلے یا قوم سے لینا چاہتے تھے جس کے آدمی نے اسے مارا ہو۔ محض مقتول کے بدلے میں قاتل کی جان لے لینے سے ان کا دل ٹھنڈا نہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
ربط آیات اور خلاصہ تفسیر
اس سے پہلی آیات کی تفسیر میں آپ معلوم کرچکے ہیں کہ ان آیات میں اجمالی طور پر نیکی اور خوبی کے اصول بتلا دئیے گئے ہیں آگے ان کی جزئی تفصیلات آئیں گی جن کو ابواب البر کہا جاسکتا ہے آگے انہی ابواب البر کے کچھ احکام جزئیہ کا بیان ہوتا ہے جو ضرورت اور حالات و واقعات کے تابع بیان ہوئے ہیں۔
حکم اول قصاص
اے ایمان والو تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولین (بقتل عمد) کے بارے میں (یعنی ہر) آزاد آدمی (قتل کیا جاوے ہر دوسرے) آزاد آدمی کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) غلام (دوسرے ہر) غلام کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) عورت (دوسری ہر) عورت کے عوض میں (گو یہ قاتلین بڑے درجہ کے اور…
Read the full tafseer →آیت 178 تا 179 کا خلاصہ مضمون : قیام امن و عدل کی دو بنیادیں : برّ وتقویٰ کی اصلی حقیقت واضح کرنے کے بعد ان معاملات کی طرف توجہ فرمائی جو اسی برّ وتقوی پر مبنی ہیں اور جن کی اس اعتبار سے بڑی اہمیت ہے کہ انہی پر معاشرہ کے امن و عدل اور اس کے تحفظ و بقا کا انحصار ہے۔ اگر ایک متوسط درجہ کا ذہن رکھنے والا آدمی بھی غور کرے گا تو وہ نہایت آسانی سے اس حقیقت تک پہنچ سکتا ہے کہ انسانوں اور انسانوں کے تعلقات کی استواری کی بنیاد اصلاً دو چیزوں پر ہے۔ ایک اس چیز پر کہ ہر شخص دوسرے کی جان کا احترام کرے۔ دوسرے اس چیز پر کہ ہر شخص دوسرے کے مال کا احترام کرے۔ اسی وجہ سے حرمت جان اور حرمت مال کے قانون کو…
Read the full tafseer →178۔ 1 زمانہ جاہلیت میں کوئی نظم اور قانون تو تھا نہیں اس لیے زورآور قبیلے کمزور قبیلوں پر جس طرح چاہتے ظلم کا ارتکاب کرلیتے۔ ایک ظلم کی شکل یہ تھی کہ کسی طاقتور قبیلے کا کوئی مرد قتل ہوجاتا وہ صرف قاتل کو قتل کرنے کے بجائے قاتل کے قبیلے کے کئی مردوں کو بلکہ بسا اوقات پورے قبیلے ہی کو تہس نہس کرنے کی کوشش کرتے اور عورت کے بدلے مرد کو اور غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرق و امتیاز کو ختم کرتے ہوئے کہ جو قاتل ہوگا قصاص (بدلے) میں اسی کو قتل کیا جائے گا۔ جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قصاص میں قاتل ہی کو قتل کیا جائے۔ (فتح القدیر) مزید دیکھیے سورة مائدہ آیت۔ 45۔
178۔ 2 معافی کی دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
109: قصاص کا مطلب ہے برابر کا بدلہ لینا، اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر ناحق قتل کردیا جائے اور قاتل کا جرم ثابت ہوجائے تو مقتول کے وارث کو حق حاصل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص کا مطالبہ کرے، جاہلیت کے زمانے میں اگرچہ قصاص تو لیا جاتا تھا لیکن اس میں ناانصافی یہ تھی کہ انہوں نے محتلف انسانوں کے جو درجے اپنے خیال میں مقرر کر رکھے تھے ان کے لحاظ سے اگر نچلے درجے کے کسی شخص نے اونچے درجے کے کسی آدمی کو قتل کردیا تو ورثاء کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی دوسرے آدمی کو قتل کیا جائے جو رتبے میں مقتول کے برابر ہو، چنانچہ اگر ایک غلام نے کسی آزاد آدمی کو قتل…
Read the full tafseer →درس 11 ایک نظر میں
اس سبق میں مدینہ طیبہ کے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ کے بعض اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ بعض عبادات جیسے فرض عبادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ دونوں چیزیں اس سورت میں ایک ہی ٹکڑے میں باہم ضم کردی گئی ہیں ۔ دونوں قسم کی تعلیمات کے درمیان رابطہ تقویٰ اور خوف خدا کو بنایا گیا ہے ، جہان اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کے آخر میں بار بار تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے وہاں عبادات مفروضہ کے آخر میں بھی تقویٰ ، شکر اور خشیت اللہ پر زور دیا گیا ہے ، اور پھر اس سبق کو آیات بر کے بعد لایا گیا ہے ، جو ایمانی تصورات زندگی ، ایمانی طرز عمل اور اسلامی طریق کار پر…
Read the full tafseer →7 زمانہ جاہلیت میں یہود اور اہل عرب نے یہ دستور کر رکھا تھا کہ شریف النسب لوگوں کے غلام کے بدلے رذیل لوگوں کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک آزاد کے بدلے دو کو قصاص میں قتل کرتے تھے حق تعالیٰ نے اس آیت میں حکم دیا کہ اے ایمان والو ہم نے تم پر مقتولین میں برابری اور مساوات کو فرض کردیا۔ قصاص کے معنی لغت میں برابر اور مساوات کے ہیں تم نے جو یہ دستور نکالا ہے کہ شریف اور رذیل میں امتیاز کرتے ہو یہ لغو ہے جانیں سب کی برابر ہیں غریب ہو یا امیر، شریف ہو یا رذیل، عالم و فاضل ہو یا جاہل، جوان ہو یا بوڑھا اور بچہ تندرست ہو یا بیمار، قریب المرگ صحیح الاعضا ہو یا اندھا لنگڑا۔
فائدہ : پہلی آیت…
Read the full tafseer →آیت 178 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْْقَتْلٰی ط۔
قَتْلٰیقَتِیْلٌکی جمع ہے جس کے معنی مقتول کے ہیں۔ کُتِبَکے بعد عَلٰی فرضیتّ کے لیے آتا ہے ‘ یعنی تم پر یہ فرض کردیا گیا ہے ‘ اس معاملے میں سہل انگاری صحیح نہیں ہے۔ جب کسی معاشرے میں انسان کا خون بہانا عام ہوجائے تو تمدن کی جڑ کٹ جائے گی ‘ لہٰذا قصاص تم پر واجب ہے۔
اَلْحُرُّ بالْحُرِّ آزاد آزاد کے بدلے
اگر کسی آزاد آدمی نے قتل کیا ہے تو قصاص میں وہ آزاد ہی قتل ہوگا۔ یہ نہیں کہ وہ کہہ دے کہ میرا غلام لے جاؤ ‘ یا میری جگہ میرے دو غلام لے جا کر قتل کر دو۔
وَالْعَبْدُ بالْعَبْدِ
اگر غلام قاتل ہے تو وہ غلام ہی…
Read the full tafseer →222 قصاص کا مطلب ہے جان کے بدلے جان لینا۔ پھر دور نبوی کی سوسائٹی کی اصناف کے مطابق حکم دیا گیا۔ آزاد کے بدلے قاتل قوم کا کوئی آزاد مرد ہی قتل ہوگا۔ عورت یا غلام قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح غلام کے بدلے آزاد مرد یا عورت قتل نہیں ہوں گے۔ یہ تفصیل اللہ تعالیٰ نے اس لیے بیان فرمائی کہ اس دور کا دستور یہ تھا کہ اگر کسی قبیلہ کا کوئی معزز آدمی دوسرے قبیلے کے کسی عام آدمی کے ہاتھوں مارا جاتا تو وہ اصلی قاتل کے قتل کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ ان کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ یا تو قاتل قبیلے کا ویسا ہی کوئی معزز آدمی قتل کیا جائے یا اس قبیلہ کے کئی آدمی اس کے عوض قتل کئے جائیں۔ اس کے برعکس مقتول اگر…
Read the full tafseer →634 ۔ (اس حال میں کہ جب تم اپنی حکومت رکھتے ہو، اور سزاؤں کے نفاذ پر باقاعدہ قدرت رکھتے ہو) اسلام اپنے پیرو وں سے توقع دینوی سربلندی ہی کی رکھتا ہے، اور اسے بہ طور ایک مسلمہ کے فرض کیے رہتا ہے کہ امت دنیوی اقتدار کی بھی مالک ہوگی۔ مسلمانوں کا صدیوں تک مسلسل کافروں کے تسلط واقتدار میں رہنا اسلام کے مفروضات اولین میں گویا داخل ہی نہیں۔ قانون فوجداری اور قانون دیوانی دونوں کی اکثر دفعات کا نفاذ نظام حکومت کے اسلامی ہونے پر معلق ہے یعنی امت کو ان قوانین الہی کی تنفیذ کی باقاعدہ قدرت بھی تو ہو۔ لاخلاف ان القصاص فی القتل لایقیمہ الا اولوالامر فرض علیھم النھوض بالقصاص واقامۃ الحدود وغیر ذلک (قرطبی)…
Read the full tafseer →یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ (الآیۃ) قصاص کے لفظی مماثلت کے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنتا ظلم کسی نے کسی پر کیا ہو اتنا ہی بدلہ لینا دوسرے کے لئے جائز ہے اس پر زیادتی جائز نہیں۔
شان نزول : زمانہ جاہلیت میں کوئی نظم و قانون تو تھا نہیں اس لئے زور آور قبیلے کمزور قبیلوں پر جس طرح چاہتے ظلم کرتے، ظلم کی ایک شکل یہ تھی کہ کسی طاقتور قبیلے کا کوئی مرد قتل ہوجاتا تو وہ صرف قاتل کو قتل کرنے کے بجائئے قاتل کے قبیلے کے کئی مردوں کو بلکہ بعض اوقات پورے قبیلے ہی کو ختم کرنے کی کوشش کرتا اور عورت کے بدلے مرد کو اور غلام کے بدلے آزاد کو قتل کرتا۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کی سند سے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي ( اے ایمان والو تم پر لازم کیا جاتا ہے برابری کرنا مقتولوں میں) شعبی اور کلبی اور قتادہ نے کہا ہے کہ زمانہ اسلام سے کچھ ہی پہلے عرب کے دو قبیلوں میں خوب قتل و قتال ہوا اور آپس میں ایک دوسرے کے ذمہ بہت سے خون ہوئے جب اسلام کا عہد برکت آیا تو آیت : یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخنازل ہوئی۔ مقاتل بن حبان نے کہا ہے کہ یہ قتل و قتال قریظہ اور نضیر میں ہوا تھا اور سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ اوس اور خزرج میں ہوا تھا اور سعید اور مقاتل یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس طرح ہوا تھا کہ ان میں ایک قبیلہ دوسرے سے تعداد اور…
Read the full tafseer →(178) دانستہ کسی کو قتل کردینے میں تم پر قصاص لازم ٹھہرایا گیا ہے یہ آیت کریمہ عرب کے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت النفس بالنفس“ والی آیت سے منسوخ ہے اور جو اپنے مقتول بھائی کے حق قتل کو چھوڑ دے یعنی خون معاف کردے اور دیت لینے پر رضامند ہوجائے تو دیت کا مطالبہ کرنے والے کے لیے یہ حکم ہے کہ اگر دیت پوری ہے تو نیکی اور بھلائی کے ساتھ تین سال میں اس سے دیت کا مطالبہ کرے اور اگر دیت آدھی ہے تو دو سال میں اور اگر دیت ایک تہائی ہے تو ایک سال میں مطالبہ کرے اور قاتل کو اس چیز کا حکم ہے کہ وہ ورثاء مقتول کو ان کا حق ادا کر دے کہ جس میں انہیں کسی قسم کا مطالبہ نہ کرنا پڑے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →الْقَتْلٰي) یہ ”قَتِیْلٌ“ کی جمع ہے، جو بمعنی مقتول ہے۔ اس آیت سے بظاہر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مرد، مرد ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کیا جائے گا، عورت کو قتل کر دے تو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح عورت، عورت ہی کو قتل کرنے کی صورت میں قتل کی جائے گی، مرد کو قتل کرنے کی صورت میں نہیں، مگر یہ معنی مراد نہیں، بلکہ یہاں اہل جاہلیت کے ایک ظلم کا خاتمہ مقصود ہے کہ اگر ان کے کمزور قبیلے کی کوئی عورت کسی طاقت ور قبیلے کے کسی مرد کو قتل کردیتی تو وہ قتل کرنے والی عورت کے بجائے اس قبیلے کے کسی بےگناہ مرد یا متعدد مردوں کو قتل کردیتے۔ اسی طرح کسی کمزور قبیلے کا کوئی غلام کسی زور آور قبیلے کے کسی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 178
اس میں سترہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: بخاری، نسائی اور دار قطنی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، فرمایا : بنی اسرائیل میں صرف قصاص (بدلہ) تھا ان میں دیت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کہا : کتب علیکم۔۔۔۔ من اخیہ شیء، العفو سے مراد قتل عمد میں دیت کو قبول کرنا ہے۔ فاتباع بالمعروف وادآء الیہ باحسان وہ معروف طریقہ سے طلب کرے اور وہ احسان کے ساتھ ادا کرے۔ تخفیف من ربکم ورحمۃ جو تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔ فمن اعتدی بعد ذلک عذاب الیم جس نے دیت کی قبولیت کے بعد قتل کیا تو اس پر عذاب الیم ہے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ حمیدی نے ہمیں بیان کیا انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے بیان…
Read the full tafseer →قصاص کا عمومی قانون
(1) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عربوں کے دو قبیلوں کی زمانہ جاہلیت میں اسلام سے پہلے تھوڑی سی بات پر جنگ چھڑی ہوئی تھی اور ان کے درمیان (ایک دوسرے کو) قتل اور زخمیوں کا سلسلہ جاری تھا یہاں تک کہ غلاموں اور عورتوں کو بھی قتل کیا تھا ان کی آپس میں صلح نہ ہوئی یہاں تک کہ (وہ سب لوگ) اسلام لے آئے (اور) ان قبیلوں میں سے ہر قبیلہ دوسرے سے مال اور جنگی تیاری میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا تھا اور انہوں نے قسمیں اٹھائی تھیں کہ وہ راضی نہ ہوں گے جب تک کہ غلام کا بدلہ میں آزاد کو قتل کرلیں اور ان میں سے عورت کے بدلہ میں مرد کو (قتل کرلیں، ان کے بارے میں یہ آیت)…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ کُتِبَ : فرض کیا گیا ] [ عَلَیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْقِصَاصُ : بدلہ فِی الْقَتْلٰی : مقتولوں میں (یعنی مقتولوں کا) ] [ اَلْحُرُّ : (قاتل) آزاد ہے (توبدلہ ہے) ] [ بِالْحُرِّ : آزاد سے ] [ وَالْعَبْدُ : اور غلام ہے ] [ بِالْعَبْدِ : (تو) غلام سے ] [ وَالْاُنْثٰی : اور عورت ہے ] [ بِالْاُنْثٰی : (تو) عورت سے ] [ فَمَنْ عُفِیَ لَــہٗ : پس جس کے لیے معاف کی گئی ] [ مِنْ اَخِیْہِ : اس کے بھائی (کی طرف) سے ] [ شَیْ ئٌ : کوئی چیز ] [ فَاتِّبَاعٌ : تو پیروی کرنا ہے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلے طریقے سے ] [ وَاَدَآئٌ : اور ادائیگی…
Read the full tafseer →قصاص اور دیت کے بعض احکام
جب کوئی شخص کسی کو قتل کردے تو اس کی جان کا بدلہ جو جان سے دیا جاتا ہے قرآن و حدیث میں اس کو قصاص کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ قصاص قتل عمد (یعنی قصداً جان کو قتل کرنے) میں ہوتا ہے۔ جس کی تفصیلات کتب فقہ میں مرقوم ہیں۔ لفظ قصاص مماثلت یعنی برابری پر دلالت کرتا ہے چونکہ جان کا بدلہ جان سے رکھا گیا ہے اس لیے اس میں حاکم محکوم صغیر کبیر اور امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں اور قبیلوں اور قوموں کے اعتبار سے جو دنیا میں امتیاز سمجھا جاتا ہے قصاص کے قانون میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگر مقتول کے اولیاء سب یا کوئی ایک وارث جان کے بدلہ مال لینے پر راضی ہوجائے تو اس مال کو دیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
فروع بر یعنی احکام عملیہ وفروعیہ کابیان۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص۔۔۔ الی۔۔۔ تتقون۔
گزشتہ آیات میں اصول بر کا بیان تھا اب اس کے بعد فروع بر یعنی احکام عملیہ وفرعیہ کا بیان شروع ہوتا ہے جس میں زیادہ تر احکام جزئیہ کا بیان ہے۔
حکم اول دربارہ قصاص) ۔ اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے جو احکام تمہارے لیے لکھ دیے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو خصوصا خون کے معاملہ میں خاص صبر سے کام لو اور جوش انتقام میں حدود شرع سے تجاوز نہ کرو مقتولین بقتل عمد کے بارے میں تم پر مساوات اور برابری فرض کردی گئی ہے ایک مقتول کو دوسرے مقتول کے برابر سمجھو، حسب اور نسب اور علم وفضل وغیرہ…
Read the full tafseer →329/1 ۔ حصہ دوم (1) جہاد فی سبیل اللہ۔ (2) انفاق فی سبیل اللہ
تمہید : یہاں تک سورة بقرہ کا پہلا حصہ جس میں توحید و رسالت کا بیان تھا، ختم ہوگیا۔ اب آگے دوسرا حصہ شروع ہورہا ہے۔ اس حصہ میں دو مسئلے بیان کیے گئے ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے۔ ایک جہاد فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی راہ میں اللہ کی توحید اور اس کے دین کی خاطر لڑنا اور دوسرا انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے دین کی خاطر اپنی دولت خرچ کرنا۔ اصل مسائل شروع کرنے سے پہلے امور انتظامیہ بیان فرمائے ہیں کیونکہ باہمی نظم وضبط اور محبت وانس کے بغیر اجتماعی قوت کے ساتھ جہاد ناممکن ہے اور امور انتظامیہ کی پابندی صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
اسلام کا فوجداری قانون
گزشتہ آیت میں نیکی کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ نیکی کیا ہے اور کیا نہیں ہے نیکی والے لوگوں کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہی لوگ سچے اور متقی ہیں۔ اب ان آیات میں بعض تقویٰ والی باتوں کا ذکر ہے اور ان میں سے ایک مقتولوں کے معاملہ میں مساوات ہے اور دوسرا مال کا قانون ہی اور پھر اس کے بعد روزہ کا قانون بھی بیان ہوگا۔ ان سب کا تعلق تقویٰ سے ہے آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا فوجداری قانون بیان فرمایا ہے ۔ جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جان ایک محترم چیز ہے اور سا کی حفاظت ضروی ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی جان تلف ہوجائے تو اس کے لئے قصاص کا قانون بتلایا گیا ہے۔ جس کا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰي 0 ۭ اَلْحُــرُّ بِالْحُــرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْـثٰى بِالْاُنْـثٰى 0 ۭ فَمَنْ عُفِيَ لَہٗ مِنْ اَخِيْہِ شَيْءٌ فَاتِّـبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَاۗءٌ اِلَيْہِ بِـاِحْسَانٍ 0 ۭ ذٰلِكَ تَخْفِيْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَرَحْمَـۃٌ 0 ۭ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 178
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
1 ؎ خدا پاک نے اول حر کو ذکر کیا اس لیے کہ حر تمام ان دقتوں سے بری ہے کہ جو عبد کے ساتھ متعلق ہوتی ہے پھر عبد کو بیان کیا جو حر سے درجہ میں کم ہے مگر انثیٰ سے باعتبار الرّجال قوامون علی النساء فائق ہے عبد کے بعد پھر انثیٰ کو ذکر کیا جو لائقِ تاخیر ہے۔ 12 منہ
ترکیب : یا حرف ندا الذین امنو منادی کتب فعل مجہول القصاص مفعول مالم یسم فاعلہ علیکم متعلق ہے کتب سے یہ جملہ مفسر اور الحر مبتد بالحر خبر۔ ای الحر ماخوذ بالحر الخ یہ اس کی تفسیر پھر مجموعہ ندا من موضع رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور جائز ہے کہ شرطیہ ہو اور فاتباع اس کی خبر والتقدیر فعلیہ اتباع۔ باحسان موضع نصب میں ہے۔ بسبب ادا کے اور یہی…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی ط اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی ط فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰآُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔
اے ایمان والو ! تم پر فرض کیا گیا ہے مقتولوں کا قصاص لینا، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر جس کسی کے لیے اس کے بھائی کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کی صفات میں یہ بات بھی شامل ہے اور ہونی چاہیے کہ معاشرے کو جرائم سے بچانے کے لیے وہ اسلام کا حدود و قصاص کا نظام نافذ کریں یہی سمجھ داری، تقو ٰی کا تقاضا اور اس طرح ہی جرائم سے بچا جاسکتا ہے۔
اسلام کے نظام عدل سے پہلے دنیا میں قانون کے وجود اور اس کے نفاذ میں کئی قسم کے اختلافات، تضادات اور امتیازات پائے جاتے تھے۔ یہودیوں کا نقطۂ نگاہ یہ تھا اور ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے۔ ان کے ہاں کمزور کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں۔ ان کے برعکس انجیل کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اس سے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ پیش کردینا چاہیے۔ اس طرح یہود…
Read the full tafseer →آیت : 178۔ یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی۔ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰی فَمَنْ عُفِیَ لَہ ‘ مِنْ اَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ م بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآئٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَاٍنط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ۔ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔
(اے ایمان والو فرض کیا جاتا ہے تم پر بدلہ لینا مقتولوں میں۔ آزاد کے بدلے آزاد قتل کیا جائے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے عوض عورت۔ پس جس شخص کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ تو دستور کے موافق چلنا چاہیے اور اچھے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 178۔:
(آیت)” یایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص “ شعبی (رح) کلبی (رح) ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ آیت کریمہ عرب کے قبیلوں میں سے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی اور اسلام کے آنے سے تھوڑا پہلے لڑے ، ان کے درمیان مقتولین بھی تھے مجروحین بھی تھے ، انہوں نے ابھی باہمی بدلہ وغیرہ نہیں لیا تھا یہاں تک کہ اسلام آگیا ، حضرت قتادہ (رح) اور مقاتل بن حبان (رح) فرماتے ہیں (یہ لڑائی) بنو قریظہ ، اور بنو نظیر کے درمیان تھی ، حضرت سعید بن جبیر درحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، کہ (یہ لڑائی) قبیلہ اوس اور خزرج کے درمیان تھی ۔ یہ تمام مفسرین فرماتے ہیں کہ عرب کے ان دو قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کو دوسرے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
(178 ۔ 179) ۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طرح طرح کی بےعنوانیاں قصاص اور خون بہا میں رائج تھیں۔ چناچہ مدینہ منورہ کے گرد نواح میں دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر تھے ان دونوں میں لڑائی ہوئی بنی نضیر اس لڑائی میں غالب آئے انہوں نے اس دن سے یہ قرار داد قبیلہ مغلوب سے ٹھہرائی تھی کہ اگرچہ قبیلہ غالب کا کوئی شخص فرقہ مغلوب کے لوگوں کے ہاتھ سے مارا جائے تو اس کا خون بہا قبیلہ مغلوب کو دوگنا دینا پڑے گا۔ اور فرقہ غالب کے لوگوں کے ہاتھ سے فرقہ مغلوب کا کوئی مارا جاوے تو خود اکہرا خون بہا فرقہ مغلوب کو دیں گے۔ اور اپنے قبیلہ کے مقتول کا قصاص بھی جائز رکھا تھا اور قبیلہ مغلوب میں فقط خون بہا جائز رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے مقتولین کے بارے میں قصاص، یعنی اس میں مساوات کو فرض کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے میں اسیطریقے سے قتل کیا جائے جس طریقے سے اس نے مقتول کو قتل کیا تھا، یہ بندوں کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس خطاب کا رخ عام مومنوں کی طرف ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان پر یہ فرض ہے حتی کہ قاتل کے اولیاء اور خود قاتل پر بھی کہ جب مقتول کا ولی قصاص کا مطالبہ کرے اور قاتل سے قصاص لینا ممکن ہو تو مقتول کے ولی کی مدد کی جائے اور یہ کہ انکے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حد تک کے درمیان حائل ہوں اور مقتول کے وارث کو بدلہ…
Read the full tafseer →قصاص کا بیان
ارشاد باری ہے : کتب علیکم القصاص فی القتلی ( تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے) یہ خود کفیل اور مکتفی بالذات کلام ہے اور اسے اپنے مفہوم کی ادائیگی کے لیے ما بعد کے کلام کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ اگر صرف اسی فقرے پر اقتصار کرلیا جاتا تو الفاظ سے اس کے مفہوم کی پوری ادائیگی ہوجاتی۔ اس کلام کا ظاہر تمام مقتولین کے اندر اہل ایمان قر قصاص کا مقتضی ہے۔ قصاص کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے دوسرے شخص کے ساتھ کیا ہے۔ یہ لفظ اس قول سے ماحوذ ہے : اقتص اثر فلان ( فلاں شخص نے فلاں شخص جیسا فعل کیا) قول باری ہے : فارتدا علی اثارھما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–178
472 ایمان باللہ اور اس کے تقاضے : یعنی وہ اللہ پر ایسا ایمان لائے جیسا کہ اس پر ایمان لانے کا حق اور تقاضا ہے۔ اس کو اس کی ذات وصفات میں یگانہ و یکتا مانے، اور اس کی اطاعت و رضا کو اپنا قبلہ توجہ اور اصل مقصود حیات بنائے رکھے۔ اور اس کے اوامرو ارشاد ات کو دل و جان سے بجا لائے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسی میں بھلا ہے۔ میرا بھی اور دوسری ساری مخلوق کا بھی۔ اور یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے۔ اور یہ کہ اس وحدہ لاشریک کا حق سب سے اعلیٰ وبالا اور سب سے مقدم اور فائق حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ اپنا حق معرفت و بندگی اس طرح ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جس طرح کہ اس کا حق ہے۔ سو انسان کی اصلاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
قانون قصاص
تشریح : اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں قتل و غارت گری عروج پر تھی پھر یہ بھی کہ اگر کسی حسب ونسب والے خاندان کا غلام قتل ہوجاتا تو اس کے بدلہ میں آزاد کو قتل کرتے اور کئی دفعہ تو ایسے بھی ہوتا کہ ایک کے بدلے کئی آدمی قتل کردیئے جاتے اسلام نے اس بےانصافی اور فرق و امتیاز کو بالکل ختم کرنے کا حکم دیا اور اصول بنا دیا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے اس کو بدلہ میں قتل کردیا جائے جیسے۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد، کیونکہ جانیں سب برابر ہیں ان میں اونچ، نیچ، امیر، غریب، شریف، بدمعاش، عالم، جاہل، عورت، مرد، آزاد، غلام، جوان، بوڑھے اور بیمارو تندرست کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا اگر کوئی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
آیات 177- 182
اسرارو معارف
لیس البران تولوا وجوھکم…………وللئک ھم المتقون۔
شروع سورة سے یہاں تک روئے سخن معاندین کی طرف تھا اور ضمناً مسلمانوں کو بھی خطاب فرمایا جاتا رہا۔ مثلاً اولا ایمان کی بحث ، پھر انسانوں کی اقسام بلحاظ عقائد اور پھر نوع انسانی کو دعوت عبادت ، صداقت قرآن اور حقانیت پیغمبر اثبات توحید اور پھر کفار کے اعتراضات کے جواب اور اسی ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر احسانات و انعامات اور پھر قبلہ کی بحث چلی اور عبادات اور ان کا اجر مذکور ہوا۔ اور زاں بعد شرک کے اصول کا ابطال۔
یہ سب مضامین نصف سورة تک آئے۔ ان کے بعد اب بقیہ آیات میں جو تقریباً نصف سورة ہیں ، روئے…
Read the full tafseer →ف 3 زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص کسی دوسرے قبیلے کہ آدمی کو قتل کر ڈالتا تو اس قبیلہ کے لوگ صرف قاتل کو قتل کرنے پر اکتفا نہ کرتے بلکہ اس کے بدلے متعدد آدمیوں کو قتل کئے بغیر صبر نہ کرتے سعید بن جبر کہتے ہیں اسلام سے پہلے دو عرب قبیلوں کی آپس میں جنگ ہوئی تھی ابھی انہوں نے آپس میں بدلہ نہ لیا تھا کہ مسلمان ہوگئے۔ ایک قبیلہ والوں نے قسم کھائی کہ جب تک ہم اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد آدمی کو اور عورت کے بدلے مدر کو قتل نہ کرلیں گے آرام سے نہ بیٹھیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ابن کثیر۔ شوکانی 9 اور بدلہ لینے میں تعداد سے منع فرمادیا ہے۔ القتلی اس کا واحد قتیل ہے جو معنی…
Read the full tafseer →(2:178) کتب علیکم۔ کتب۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ۔ کتب وکتاب (باب نصر) لکھنا ۔ علی کے صلہ کے ساتھ بمعنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنا واجب کرنا۔ کہا جاتا ہے۔
کتب اللہ علی عبادہ الطاعۃ وعلی نفسہ الرحمۃ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اطاعت کا حکم دیا ہے اور اپنی ذات پر رحمت کو ضروری قرار دیا ہے۔ کتب علیکم تم کو حکم دیا ہے۔ تم پر لازم قرار دیا ہے۔ تم پر فرض کیا گیا ہے۔
القصاص۔ خون کا بدلہ۔ خون بہا۔ مفعول مالم یسم فاعلہ
القص کے معنی نشان قدم پر چلنے کے ہیں۔ محاورہ ہے قصصت اثرہ میں اس کے نقش قدم پر چلا۔ قرآن مجید میں ہے فارتد اعلیٰ اثارھما قصصا (18:64) تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
لغات القرآن : آیت نمبر 178 تا 179
کتب علیکم (تم پر فرض کردیا گیا) ۔ القصاص (برابری) ۔ القتلیٰ (مقتول (جو قتل کردیا گیا ) ۔ الحر (آزاد) ۔ العبد (غلام ) ۔ الانثی (عورت) ۔ عفی (معاف کردیا گیا) ۔ فاتباع (پھر پیروی کرنی ہے) ۔ اولی الالباب (عقلوں والے (اولو، والا، الباب (لب عقل) ۔
تشریح : آیت نمبر 178 تا 179
ہر انسان پیدائشی اعتبار سے مجرم نہیں ہوتا بکہ انسانی معاشرہ میں سے کچھ لوگ جذباتی، بےاعتدالی ، عقلی عدم تو ازن ، ذہنی انتشار، انتقام اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر انسانی قتل کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ ایسے نفسیاتی مریضوں کے لئے اسلام نے محض اصلاح و تربیت کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ اس بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
شان نزول : جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے اور یہود ونصاریٰ بھی اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحث کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے، اسی واسطے پر بھلائی منحصر ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو، نہ یہ کہ جیسے یہود ونصاریٰ ہیں کہ ایک توریت کو نہیں مانتے اور دوسرے انجیل کو اور قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کے دونوں منکر ہیں، اور ملائکہ پر ایمان کا یہ حال ہے کہ یہود لوگ جبریل کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →[110] قصاص یعنی خون کا بدلہ۔
[111] یعنی جو قاتل ہو وہی قتل کیا جائے۔
[112] یعنی مقتول کا وارث جو رشتہ انسانی میں قاتل کا بھائی ہے۔
[113] اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتل کا معاملہ قابل راضی نامہ ہے اور مقتول کے وارث کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو قاتل سے قصاص نہ لے۔ اس صورت میں عدالت کے لئے قصاص پر اصرار جائز نہیں۔ البتہ معافی کی صورت میں قاتل کو خوں بہا ادا کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →آزاد کے بدلے آزاد :
(ف 1) اسلام سے پہلے قصاص وانتقام کا مفہوم بھی صاف نہیں تھا یہودی اگر قاتل امیر ہوتا تو چھوڑ دیتے اور اگر غریب ہوتا تو کچھ روپیہ لے کر معاف کردیتے اور اگر غلام ہوتا تو پھر ان کی شریعت نوازی جوش میں آجاتی جس کے معنی یہ ہیں کہ تعزیرات کا باب صرف غربا کے لئے ہے اور روپیہ خدا کے قانون میں نرمی پیدا کرسکتا ہے ، قریش مکہ بھی اس مذموم ذہنیت سے آلودہ تھے ، ان کے سردار وصنادید بھی محض سرمایہ داری کے بل پر ہر تعزیر سے بچ جاتے ، قرآن حکیم جو عدل و انصاف کا اعلان ہے ، بھلا کب اس ظلم اور جنبہ داری کو برداشت کرسکتا تھا ۔ چناچہ اس نے فرمایا کہ قصاص کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں آزاد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
ف 1 اے ایمان والو ! ان مقتولین کے بارے میں جو عمدا، قتل کئے جائیں تو تم پر قصاص فرض کیا جاتا ہے آزاد آدمی قتل کیا جائے آزاد آدمی کے بدلے میں اور غلام قتل کیا جائے ۔ غلام کے بدلے میں اور عورت قتل کی جائے۔ عورض کے عو ض میں مگر ہاں جس قاتل کے لئے اس کے بھائی طالب قصاص کی جانب سے کچھ معاف کردیاجائے اور اولیائے مقتول میں سے کوئی شخص اپنا قصاص کا حق قاتل کو معاف کردے تو پھر فریقین کو اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ طالب دیت کو تو بھلائی اور معقول بات کی پیروی کرنا ہے اور قاتل کو خوش دلی اور خوبی کے ساتھ طالب دیت کو خوں بہا ادا کردینا اور پہونچا دینا ہے یہ حکم دیت و عفو تمہارے پروردگار کی جانب سے تخفیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
ف 2۔ خاص سمتوں کا قصہ یہاں اس لیے مذکور ہوا کہ تحویل قبلہ کے وقت تمام تر بحث یہود و نصاری کی اس میں رہ گئی تھی اس لیے متنبہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کام اور ہیں ان کا اہتمام کرو۔
3۔ غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا ان ہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص ہے یعنی اقامت صلوة کے توابع و شرائط میں سے اور اس کے حسن سے اس میں بھی حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →قانونِ فوجداری کی شق اوّل کا ذکر :
306: قصاص کے اصل معنی ہیں : تتبع الدم بالقود ، یعنی خون کا پیچھا کرنا اس طرح پر کہ قاتل کو قتل کیا جائے۔ اور ایک حدیث کے الفاظ یہ بھی کہ : من قتل عمدافھو قود ، یعنی جس شخص نے عمداً قتل کیا اس شخص کو مقتول کے بدلے میں قتل کیا جائے۔ پس قصاص فی القتلی یہ ہے کہ جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہے اسے قتل کیا جائے۔ اب قصاص کا مطلب سمجھ میں آجانے کے بعد پوری آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے اور کوئی دقت باقی نہیں رہتی۔
زیر نظر آیت میں مقتول کے بارے میں قصاص کا حکم دیا ہے یعنی قاتل کو قتل کردیا جائے اور اس کا ذکر اس جگہ اس مناسبت سے کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں اپنے دکھ دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
From the brief introduction to the nature of righteousness appearing in verses before this, the text now enters into the description of related subsidiary injunctions. Under the first injunction in this connection, the verse prescribes the law of Qisas (even retaliation), that is, the killer will be killed, irrespective of the status of the parties involved. If the aggrieved party somewhat relents on its own and forgives the Qisas قصاص ، but does not forgive the offence totally, it will become necessary for the killer to pay diyah (دیۃ) or blood-money as fixed, in a fair manner, and promptly.…
Read the full tafseer →176. Retribution, that is, blood revenge, is based on the principle that what a person has done to others ought to be done to him. This does not mean that the murderer should be put to death in exactly the same manner as he killed but that the murderer should be subjected to the same act, i.e. killing, as that to which he subjected his victim.
177. In pre-Islamic Arabia people tried to take blood revenge upon the murderer's family and tribe, and the retaliation corresponded to the value placed on the blood of the victim. Their desire for revenge was not quenched merely by putting the murderer…
Read the full tafseer →