Al-Baqara 2:177

Al-Baqara · from ayah 177

2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ ۚ— وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰكِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ۙ— وَالسَّآىِٕلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ ۚ— وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَی الزَّكٰوةَ ۚ— وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ۚ— وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۟لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآئِلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Righteousness is not that you turn your faces toward the east or the west, but [true] righteousness is [in] one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves; [and who] establishes prayer and gives zakah; [those who] fulfill their promise when they promise; and [those who] are patient in poverty and hardship and during battle. Those are the ones who have been true, and it is those who are the righteous.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 22 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:177

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعده کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خڑچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰة دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قرابت والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگ دستی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنھوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیکی یہی نہیں کہ تم اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف پھر لو۔ بلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ پر، روز قیامت پر، فرشتوں پر، کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لائے۔ اور اللہ سے محبت کی خاطر اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوال کرنے والوں کو اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے دے۔ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ نیز (نیک لوگ وہ ہیں کہ) جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور بدحالی، مصیبت اور جنگ کے دوران صبر کریں۔ ایسے ہی لوگ راست باز ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خدا کے ساتھ وفاداری محض یہ نہیں ہے کہ تم مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرلو بلکہ وفاداری ان کی وفاداری ہے جو اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر صدق دل سے ایمان لائیں، اور اپنے مال، اس کی محبت کے باوجود، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں مسافروں، سائلوں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں۔ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب معاہدہ کر بیٹھیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ خاص کر وہ لوگ جو فق و فاقہ، تکالیفِ جسمانی اور جنگ کے اوقات میں ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے راست بازی دکھائی اور یہی لوگ ہیں جو سچے متقی ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نیکی یہ نہیں کہ تم لوگ اپنے چہرے پھیر لو مشرق یا مغرب کی طرف اور بس بلکہ نیکی تو دراصل یہ ہے کہ آدمی سچے دل سے ایمان لے آئے اللہ پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر اللہ کی نازل کردہ کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر اور وہ اپنا مال خرچ کرے اس کی محبت پر رشتہ داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کی حاجتوں اور ضرورتوں میں اور گردنوں کے چھڑانے میں اور وہ نماز قائم کرے پابندی کے ساتھ اور زکاۃ ادا کرے صیحح طریقے سے اور جو پورا کرتے ہیں اپنے باندھے ہوئے عہد کو جب وہ کوئی عہد کرلیں اور خاص کر وہ لوگ جو صبر و برداشت سے کام لیں سختی اور تکلیف میں اور حالت جنگ میں یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں اپنے قول و فعل میں اور یہی ہیں متقی و پرہیزگار

— مولانا اسحاق مدنی

طاعت یہ نہیں ہے۔ کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلیا کرو۔ بلکہ طاعت یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ اور قیامت کے دن اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے۔ اور اس کی محبت میں مال صرف کرے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیروں اور سائلوں پر۔ اور گردنوں کے آزاد کردینے میں۔ اور نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے۔ اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے جبکہ وعدہ کرچکے ہوں اور تنگی میں اور بیماری میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ۔ یہی لوگ ہیں جو سچے اترے اور یہی لوگ تو متقی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر دو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو ایمان لائے اللہ پر یوم آخرت پر فرشتوں پر کتاب پر اور نبیوں پر اور وہ خرچ کرے مال اس کی محبت کے باوجود قرابت داروں یتیموں محتاجوں مسافروں اور مانگنے والوں پر اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جو پورا کرنے والے ہیں اپنے عہد کو جب کوئی عہد کرلیں اور خاص طور پر صبر کرنے والے فقر و فاقہ میں تکالیف میں اور جنگ کی حالت میں یہ ہیں وہ لوگ جو سچے ہیں اور یہی حقیقت میں متقیّ ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ، یوم آخر، ملائکہ اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، مدد کے لئے ہاتھ پھیلانے والوں اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکٰوۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے پورا کریں اور تنگی و مصیبت اور (حق و باطل کی) جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is no virtue. That you turn your faces towards the east or the west, but virtue is that one should sincerely believe in Allah and the Last Day and the Angels and the Book and the Prophets and, out of His love, spend of one's choice wealth for relatives and orphans, for the needy and the wayfarer, for beggars and for the ransom of slaves, and establish the Salat and pay the Zakat. And the virtuous are those who keep their pledges when they make them and show fortitude in hardships and adversity and in the struggle between the Truth and falsehood; such are the truthful people and such are the pious.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Righteousness is not (merely) that you turn your faces to the East and the West; but righteousness is that one believes in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the Prophets, and gives wealth, despite (his) love for it, to relatives, and to orphans, the helpless, the wayfarer, and to those who ask, and (spends) in (freeing) slaves and observes the Salah (prayers) and pays Zakah___and (the act of) those who fulfill their covenant when they enter into a covenant, and, of course, those who are patient in hardship and suffering and when in battle! Those are the ones who are truthful, and those are the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

Righteousness is not (merely) that you turn your faces to the East and the West; but righteousness is that one believes in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the Prophets, and gives wealth, despite (his) love for it, to relatives, and to orphans, the helpless, the wayfarer, and to those who ask, and (spends) in (freeing) slaves and observes the Salah (prayers) and pays Zakah___and (the act of) those who fulfill their covenant when they enter into a covenant, and, of course, those who are patient in hardship and suffering and when in battle! Those are the ones who are truthful, and those are the God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is not Birr that you turn your faces towards east and (or) west; but Birr is the one who believes in Allah, the Last Day, the Angels, the Book, the Prophets and gives his wealth, in spite of love for it, to the kinsfolk, to the orphans, and to Al-Masakin (the poor), and to the wayfarer, and to those who ask, and to set servants free, performs As-Salah (Iqamat-As-Salah), and gives the Zakah, and who fulfill their covenant when they make it, and who are patient in extreme poverty and ailment (disease) and at the time of fighting (during the battles). Such are the people of the truth and they are Al-Muttaqun (the pious).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not righteousness that ye turn your faces to the East and the West; but righteous is he who believeth in Allah and the Last Day and the angels and the Scripture and the prophets; and giveth wealth, for love of Him, to kinsfolk and to orphans and the needy and the wayfarer and to those who ask, and to set slaves free; and observeth proper worship and payeth the poor-due. And those who keep their treaty when they make one, and the patient in tribulation and adversity and time of stress. Such are they who are sincere. Such are the Allah-fearing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Righteousness is not that you turn your faces toward the east or the west, but [true] righteousness is [in] one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves; [and who] establishes prayer and gives zakah; [those who] fulfill their promise when they promise; and [those who] are patient in poverty and hardship and during battle. Those are the ones who have been true, and it is those who are the righteous.

— Saheeh International

Righteousness is not determined by facing East or West during prayer. Righteousness consists of the belief in God, the Day of Judgment, the angels, the Books of God, His Prophets; to give money for the love of God to relatives, orphans, the destitute, and those who are on a journey and in urgent need of money, beggars; to set free slaves and to be steadfast in prayer, to pay the religious tax (zakat) to fulfill one's promises, and to exercise patience in poverty, in distress, and in times of war. Such people who do these are truly righteous and pious.

— Muhammad Sarwar

It is not righteousness that you turn your faces towards the East and the West, but righteousness is this that one should believe in Allah and the last day and the angels and the Book and the prophets, and give away wealth out of love for Him to the near of kin and the orphans and the needy and the wayfarer and the beggars and for (the emancipation of) the captives, and keep up prayer and pay the poor-rate; and the performers of their promise when they make a promise, and the patient in distress and affliction and in time of conflicts-- these are they who are true (to themselves) and these are they who guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

Virtue is not in this that ye turn your faces toward the east and west, but virtue is of him who believeth in Allah and the Last Day and the angels and the Book and the prophets: and giveth of his substance, for love of Him unto kindred and orphans and the needy and the wayfarer and the beggars and for redeeming necks, and establisheth prayer and giveth the poor-rate and is of the performers of their covenant when they have covenanted; and is of the patient in adversity and affliction and in time or violence these are they who are proven true, and these they are God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

It is not righteousness that ye turn your faces Towards east or West; but it is righteousness- to believe in Allah and the Last Day, and the Angels, and the Book, and the Messengers; to spend of your substance, out of love for Him, for your kin, for orphans, for the needy, for the wayfarer, for those who ask, and for the ransom of slaves; to be steadfast in prayer, and practice regular charity; to fulfil the contracts which ye have made; and to be firm and patient, in pain (or suffering) and adversity, and throughout all periods of panic. Such are the people of truth, the Allah-fearing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:177

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ایمان کا ایک پہلو اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے حضرت ابوذر ؓ نے جب حضور ﷺ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ تو حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا حضور نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے (ابن ابی حاتم) لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد حضرت ابوذر سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حالانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے حضرت ابوذر سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے ؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا حضرت میں آپ سے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 175 مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے کو تو محض بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے، دراصل مقصود یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کردینا اور صرف ضابطے کی خانہ پری کے طور پر چند مقرر مذہبی اعمال انجام دینا اور تقویٰ کی چند معروف شکلوں کا مظاہرہ کردینا وہ حقیقی نیکی نہیں ہے، جو اللہ کے ہاں وزن اور قدر رکھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط از بیان القرآن شروع سورت سے یہاں تک تقریباً نصف سورة بقرہ ہے زیادہ روئے سخن منکرین کی طرف تھا کیونکہ سب سے اول قرآن کی حقانیت کا اثبات کیا اس ضمن میں اس کے ماننے والے اور نہ ماننے والے فرقوں کا ذکر کیا پھر توحید و رسالت کو ثابت کیا پھر اولاد ابراہیم ؑ پر انعامات و احسانات کو وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ تک بیان فرمایا وہاں سے قبلہ کی بحث چلی اور اس کو بیان کرکے صفا ومروہ کی بحث پر ختم کیا، پھر توحید کے اثبات کے بعد شرک کے اصول و فروع کا ابطال کیا اور یہاں تک یہی بیان ہوا اور ان سب مضامین میں ظاہر ہے کہ منکرین کو زیادہ تنبیہ ہے اور ضمناً کوئی خطاب مسلمانوں کو ہوجانا اور بات ہے، اب آیات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 177 کا مضمون : دین محض چند رسوم و ظواہر کا نام نہیں : اوپر والے مجموعہ آیات میں جیسا کہ واضح ہوا، توحید کا بیان تھا، اب مذکورہ آیات میں اس کے لوازم وثمرات یعنی ایمان، انفاق، اقامت صلوۃ، ادائے زکوۃ، ایفائے عہد اور ہر طرح کے حالات میں حق پر استقامت کا بیان ہورہا ہے۔ اس مضمون کی تمہید اس طرح ہے کہ خدا کے ساتھ وفاداری کا حق مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلینے سے ادا نہیں ہوگا جیسا کہ یہود و نصاری نے سمجھ رکھا ہے، چناچہ اسی مسئلہ پر ان کے ہاں ایک مدت سے معرکہ جدال و قتال گرم ہے۔ گویا ان کے خیال میں اصل دین یہی ہے۔ بلکہ اس کے لیے فلاں فلاں چیزوں کی ضرورت ہے۔ اس تمہید سے مقصود مسلمانوں کو یہ آگاہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

177۔ 1 یہ آیت قبلے کے ضمن میں ہی نازل ہوئی۔ ایک تو یہودی اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مغربی حصہ ہے) اور نصاری اپنے قبلے کو (جو بیت المقدس کا مشرقی حصہ ہے) بڑی اہمیت دے رہے تھے اور اس پر فخر کر رہے تھے۔ دوسری طرف مسلمان تحویل قبلہ پر چہ مگوئیاں کر رہے تھے جس سے بعض دفعہ رنجیدہ دل ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرلینا بذات خود کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف مرکزیت اور اجتماعیت کے حصول کا ایک طریقہ ہے، اصل نیکی تو ان عقائد پر ایمان رکھنا ہے جو اللہ نے بیان فرمائے اور ان اعمال و اخلاق کو اپنانا ہے جس کی تاکید اس نے فرمائی ہے۔ پھر آگے ان عقائد و اعمال کا بیان ہے۔ اللہ پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

108: روئے سخن ان اہل کتاب کی طرف ہے جنہوں نے قبلے کے مسئلے پر بحث و مباحثہ اس انداز سے شروع کر رکھا تھا جیسے دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہوچکی ہے، اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اہل کتاب سے بھی یہ کہنا چاہیے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں، اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں اور اسلامی قانون کے محتلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کرکے آگے آرہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سچ بات یہ ہے کہ یہ آیت بھی تحویل قبلہ کے احکام اور ان پر یہودیوں کے طویل اعتراضات وجوابات کے ساتھ مربوط ہیں ۔ تحویل قبلہ کی حکمت کے بارے میں تو ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ۔ عبادات اور شعائر دین کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں یہودیوں کی ظاہر بینی اور تقشف پرستی کو بےنقاب کرتے ہوئے ، حسن وقبح کا ایک عظیم معیار اور نیکی اور بدی کی اصلی حقیقت بیان کررہے ہیں۔ کیونکہ یہودی ان ظاہری امور کے بارے میں بےحد حساس تھے اور جھگڑتے تھے ۔ تحویل قبلہ یا تمام عبادات میں غرض وغایت یہ نہیں کہ لوگ مشرق کی طرف رخ کریں یا مغرب کی طرف چہرہ کرکے عبادت سر انجام دیں۔ بیت المقدس کی طرف رخ کریں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 جب آیات سابقہ اپنی برائی میں سنیں تو یہود و نصاریٰ کہنے لگے کہ ہم میں تو بہت سے اسباب وآثار ہدایت و مغفرت موجود ہیں ایک کھلی بات یہی ہے کہ ہم جس قبلہ کی طرف منہ کرنے کے مامور ہیں اس کی طرف متوجہ ہو کر نماز جو افضل عبادت ہے اس کو اللہ کے حکم کے موافق ادا کرتے ہیں پھر ان خرابیوں اور عذاب کے ہم کیسے مستحق ہوسکتے ہیں اس خیال کی تردید میں فرمایا جاتا ہے کہ بڑی نیکی جو مغفرت و ہدایت کے لئے کافی ہو یہ نہیں کہ تم صرف اپنا منہ نماز میں مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا کرو اور عقائد و اعمال ضروریہ کی پروا بھی نہ کرو۔ 5 یعنی نیکی اور بھلائی جو اثر ہدایت اور سبب مغفرت ہو یہ ہے کہ اللہ اور اور روز قیامت اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ اس سورة مبارکہ میں کئی ایسی عظیم آیات آئی ہیں جو حجم کے اعتبار سے بھی اور معنی و حکمت کے اعتبار سے بھی بہت عظیم ہیں ‘ جیسے دو ‘ رکوع پہلے آیت الآیات گزر چکی ہے۔ اسی طرح سے اب یہ آیت البر آرہی ہے ‘ جس میں نیکی کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں نیکی کے مختلف تصوّرات ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک طبقہ وہ ہے جس کا نیکی کا تصور یہ ہے کہ بس سچ بولنا چاہیے ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے ‘ کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے ‘ یہ نیکی ہے ‘ باقی کوئی نماز روزہ کی پابندی کرے یا نہ کرے ‘ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ! ایک طبقہ وہ ہے جس میں چورّ اُچکے ‘ گرہ کٹ ‘ ڈاکو اور بدمعاش شامل ہیں۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

221 جب یہود مدینہ نے تحویل قبلہ کے مسئلہ کو مسلمانوں کے ساتھ جھگڑے کا ایک مستقل موضوع بنا لیا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمائی کہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرنا کوئی ایسی نیکی نہیں ہے جس پر نجات اخروی کا مدار ہو بلکہ نیکی کے اصل اور بڑے بڑے کام تو اور ہیں اور وہ کام ایسے تھے جن میں سے اکثر کی ادائیگی میں یہود قاصر تھے یا کوتاہی کر جاتے تھے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ایمان بالغیب کی انواع بیان فرمائیں۔ یہود جبریل کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ حالانکہ اسی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتا رہا۔ پھر وہ انجیل اور قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تھے، بلکہ اپنی کتاب پر بھی ٹھیک طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

626 ۔ (جیسا کہ گمراہ و مشرک قومیں سمجھ رہی ہیں) قرآن مجید کے متعدد مقامات کی طرح یہ آیت بھی اصلا گمراہ و مشرک قوموں کے رد میں ہے اور اس کا مفہوم پوری طرح جبھی روشن ہوگا، جب ان کے عقائد باطل کو پیش نظر رکھا جائے۔ (آیت) ” البر “ بر کے معنی لغت عربی میں بہت وسیع ہیں، نیکی کے جملہ اقسام پر شامل ہے۔ اردو میں اس کا صحیح مفہوم لفظ طاعت ہی سے ادا ہوسکتا ہے۔ البرالتوسع فی فعل الخیر فمن اللہ تعالیٰ الثواب ومن العبد الطاعۃ (راغب) البرالطاعۃ (تاج) قال بعضھم البر الخیر قال ولا اعلم تفسیرا جمع منہ لانہ یحیط بجمیع ماقالوا (تاج) اہل لغت ہی کو نہیں اہل تفسیر کو بھی (آیت) ” بر “ کے مفہوم کی بھی وسعت مسلم ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 177 تا 179 ترجمہ : تمام تر اچھائی نماز میں مشرق و مغرب کی طرف رخ کرنے ہی میں نہیں یہ آیت یہود و نصاریٰ کے رد میں نازل ہوئی ہے اس لئے کہ وہ اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے، بلکہ اچھا یعنی نیک وہ شخص ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھنے والا ہو، اور البِرّ کے بجائے البَار بھی پڑھا گیا ہے، اور جو مال سے محبت رکھنے کے باوجود قرابت داروں کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوالیوں کو دے اور مکاتبوں کو اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز کی پابندی کرے اور فرض زکوٰۃ ادا کرے ما قبل (میں مذکور زکوٰۃ) سے نفلی صدقہ مراد ہے (اور نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ( نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا کرو) حفص اور حمزہ نے البر کو لیس کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب پڑھا ہے اور ان تولوا .... لیس کا اسم ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے اور دیگر قراء نے البر کو مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں ترکیب برعکس ہوگی اللہ کے نزدیک جو فعل پسندیدہ ہو اس کو برکہتے ہیں۔ عبد الرزاق نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہود مغرب یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل آیت کا اس تقدیر پر یہ ہے کہ جس دین پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(177) نیکیاں اور ایمان صرف اسی کا نام نہیں کہ تم نماز میں بیت اللہ کی طرف منہ کرلو، ایمان تواقرار اور تصدیق کا نام ہے اور نیکو کار وہ مومن ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور مرنے کے بعد کی زندگی پر اور تمام فرشتوں اور تمام کتابوں اور تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے، اور ایمان لانے کے بعد جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کا ذکر کرتے ہیں۔ کہ ایمان لانے کے بعد اصل نیکی یہ ہے کہ مال کی کمی اور خواہش کے باوجود اللہ تعالیٰ کی محبت میں رشتہ داروں اور مومن یتیموں اور ان مساکین کو جو مانگتے نہیں، اور ایسے مسافر کو جو کہ بطور مہمان کے آیا ہو اور سوال کرنے والوں کو اور مجاہدین کو اور غلاموں کی آزادی میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مسلمانوں کو جب پہلے بیت المقدس اور پھر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہ بعض اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر شاق گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کے احکام کی فرماں برداری، جدھر وہ کہے ادھر رخ کرنا اور جو حکم وہ دے اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ ہے اصل نیکی، تقویٰ اور کامل ایمان۔ رہا مشرق یا مغرب میں سے کسی طرف رخ کرنے کی پابندی، تو اس میں کوئی نیکی نہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے نہ ہو۔ (ابن کثیر) وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ اس میں ”اٰمَنَ ‘ سے پہلے ”بِرُّ“ محذوف ہے، یعنی اصل نیکی اس شخص کی نیکی ہے۔ یہ آیت نیکی کی تمام اقسام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 177 اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیس البر اس خطاب کی مراد میں اختلاف ہے۔ قتادہ نے کہا : ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے نیکی کے متعلق پوچھا تو یہ آیت نازل فرمائی اور فرائض کے نازل ہونے سے پہلے جو ان لا الہ الا اللہ اور ان محمدا عبدہ رسولہ کی گواہی دیتا اور پھر فوت ہوجاتا تو اس کے لئے جنت واجب تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ربیع اور قتادہ نے یہ بھی کہا کہ یہ خطاب یہود و نصاریٰ کیلئے ہے کیونکہ وہ تھے مشرق کی طرف سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے اور انہوں نے قبلہ کی تبدیلی میں بھی کلام کیا، ہر فرقہ نے اپنے قبلہ کی فضیلت بیان کی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

اصول ایمان کا ذکر (1) ابن ابی حاتم نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے (یہ آیت) تلاوت فرمائی لفظ آیت ” لیس البر ان تولوا وجوھکم “ یہاں تک کہ اس (آیت) کی تلاوت سے فارغ ہوگئے پھر انہوں نے سوال کیا۔ پھر آپ نے اسی آیت کو تلاوت فرمایا اور فرمایا (کہ ایمان کی نشانی یہ بھی ہے) کہ جب تو کوئی نیک کام کرے تو اس کو تیرا دل پسند کرے اور جب تو کوئی برا کام کرے تو تیرا دل اس کو ناپسند کرے۔ (2) اسحاق بن راہو یہ نے اپنی سنن میں، عبد بن حمید اور ابن مردویہ نے قاسم بن عبد الرحمن (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی أبوذر ؓ کے پاس آیا اور کہا ایمان کیا ہے ؟ تو انہوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَـیْسَ الْبِرَّ : کل نیکی یہی نہیں ہے ] [ اَنْ تُوَلُّوْا : کہ تم لوگ پھیر لو ] [ وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو ] [ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ : مشرق اور مغرب کی طرف ] [ وَلٰــکِنَّ : اور لیکن (بلکہ) ] [ الْبِرَّ : نیکی ] [ مَنْ : اس کی ہے جو ] [ اٰمَنَ : ایمان لایا ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ : اور فرشتوں پر ] [ وَالْکِتٰبِ : اور کتاب پر ] [ وَالنَّبِیّٖنَ : اور نبیوں پر ] [ وَاٰتَی : اور (جس نے) دیا ] [ الْمَالَ : مال ] [ عَلٰی حُبِّہٖ : اس کی محبت کے باوجود ] [ ذَوِی الْقُرْبٰی : قرابت داروں کو ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اعمال حسنہ اور اخلاق عالیہ کا بیان یہ آیت کریمہ ان آیات میں سے ہے جن میں بہت سے اعمال حسنہ اور اخلاق عالیہ کو ایک ہی جگہ جمع فرما دیا ہے۔ لباب النقول ص 23 میں بحوالہ مصنف عبدالرزاق حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے کہ یہودی مغرب کی جانب نماز پڑھتے تھے اور نصاریٰ مشرق کی طرف (اور اپنے اپنے قبلہ پر جمنے ہی کو سب کچھ سمجھتے تھے اور ایمان قبول نہ کرتے تھے) لہٰذا آیت (لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) (الایۃ) نازل ہوئی۔ حضرت قتادہ (رح) سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے نیکی (کی تفصیلات) کے بارے میں سوال کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آپ نے اس شخص کو بلایا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ابواب البر والصلہ۔ قال تعالی، لیس البر ان تولوا وجوھکم۔۔۔ الی۔۔۔ المتقون۔ یہاں پہنچ کر سورة بقرہ نصف ہوجاتی ہے ابتداء سورت سے یہاں تک کے نصف میں امت دعوت کو خطاب تھا یعنی ان لوگوں کو خطاب اور عتاب تھا جو نبی کے منکر تھے اور اس میں بھی زیادہ تر خطاب بنی اسرائیل کو رہا جو نبی اکرم کی نبوت کو خوب جانتے اور پہچانتے تھے مگر چھپاتے تھے اور اقرار نہیں کرتے تھے اور اس اخیر نصف میں امت اجابت کو خطاب ہے اور مختلف قسم کے احکام کی تعلیم اور تلقین ہے جو عبادات اور معاملات اور معاشرات وغیرہ وغیرہ سب کو شامل ہے اس طرح سے یہ تفصیل اخیر سورت تک چلی گئی ہے۔ نیز سورت کے اول نصف میں زیادہ تر اصول دین اور ایمانیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

322 ۔ لفظ بر عام ہے اور نیکی تمام انواع کو شامل ہے۔ البر جامع لانواع الخیر والطاعات المقربۃ الی اللہ تعالیٰ والخطاب لاھل الکتابین۔ (روح ص 44 ج 2) اس آیت میں یہود ونصاریٰ کو خطاب ہے۔ بحث رسالت کے اختتام پر تحویل قبلہ کے متعلق دوبارہاہل کتاب کے خیال کی تردید فرما دی ہے۔ تحویل قبلہ کے معاملہ کو اہل کتاب کو بڑے شدومد کے ساتھ بیان کرتے تھے اور اس کے ذریعہ لوگوں کو آنحضرت ﷺ سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکیداً ان کا دوبارہ رد فرمایا ہے۔ یہودی مغرب کی طرف بیت المقدس کو صحیح قبلہ سمجھتے تھے اور عیسائی جانب مشرق کو کیونکہ حضرت مریم درد زہ کے وقت شہر سے مشرق کی جانب نکلی تھیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

گندزشتہ سے پیوستہ بنی اسرائیل کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیا تھا اور ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر کا بیان تھا اور اس کو قبلہ مقرر کئے جانے کی وجہ بیان فرمائی تھی۔ اس پر اہل کتاب کے اعتراض کا بھی ذکر ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اہم ترین اصول بیان فرمائے جن پر ہر شخص کا کار بند ہونا ضروری ہے۔ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ، لشکر ، صبر اور تعظیم شعائر اللہ شامل ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کا ذکر فرمایا ، اور مشرکین کا رد فرمایا ، حلال و حرام کا قانون بیان فرمایا پہلے پوری نسل انسانی کو تلقین فرمائی ، اس کے بعد اہل ایمان کو خصوصی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ۝ 0 ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝ 0 ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ۝ 0 ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَى الزَّكٰوۃَ۝ 0 ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۝ 0 ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۝ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ۝ 177 برَّ ومن العبد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : البر منصوب ہے کس لیے کہ یہ خبر ہے لیس کی اور ان تولوا الخ جملہ چونکہ اس سے اعراف ہے کس لیے کہ مضمر کسی طرح وصف کیا نہیں جاتا بخلاف البر کے یہ اسم ہے لیس کا اور بعض نے البر کو مرفوع پڑھا ہے۔ فاعل لیس کا مان کر ولکن مشدد مشبہ بفعل البر اسم فاعل من بریبّر ویجوزان یکون مصدرا وصف بہ مثل عدل یہ اسم لکن من امن الخ اس کی خبر علی حبہ فی موضع نصب علی الحال اتی المال محبا والضمیر یرجع الی اللہ ویمکن ان یرجع الی المال۔ والموفون معطوف ہے من امن پر والتقدیر ولکن البرالمومنون والموفون والصابرین منصوب علی المدح ہے معطوف ہے ماقبل پر۔ تفسیر : پہلی آیت میں تھا یا ایہا الناس کلوا مما فی الارض الی ولا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

گزشتہ رکوع میں عربوں اور مسلمانوں کو توحید کی تعلیم دی گئی۔ توحید کے خلاف عربوں میں اور بنی اسرائیل میں جو جو تصورات پائے جاتے تھے اور جس جس طرح اللہ کی صفات میں بعض قوتوں کو شریک کیا گیا تھا ایک ایک کرکے ان سب پر تنقید کی گئی۔ اس ضمن میں مسلمانوں کو توحید کے ہمہ جہت تصور کو دل و دماغ میں راسخ کرنے کی تلقین کی گئی۔ اس طرح سے توحید کو بنیاد بنا کر اللہ سے وابستگی اور اس سے وفاداری کی بنیادیں مستحکم کی گئیں۔ انسانی زندگی کا حادثہ یہ ہے کہ انسان بعض دفعہ فکری طور پر جس سے وابستہ ہوتا ہے ضروری نہیں ہے کہ وہ عملی لحاظ سے بھی اپنی وابستگی میں کامل ہو۔ بعض دفعہ فکری کاوشوں اور دماغی تصورات میں کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں حق چھپانے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے بدلے دنیا کمانے کی سزا بیان کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ بیت اللہ کو قبلہ نہ ماننا، رسالت مآب کی نبوت ‘ ایک خدا کا انکار کرنا اور مسائل کو چھپانے کا بنیادی سبب باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ یہ رویہ اور سوچ سراسر نیکی کے خلاف ہے۔ حقیقی نیکی کے اعمال یہ ہیں۔ یہودونصارٰی وقفے وقفے کے بعد قبلہ کی بحث چھیڑتے تاکہ مسلمانوں کو رسمی اور لفظی بحث میں الجھایا جائے۔ حالانکہ تحویل قبلہ کے ابتدائی احکامات میں واضح کردیا گیا تھا کہ اس پر اعتراض کرنا اور اس بحث میں الجھنا بیوقوفوں کا کام ہے۔ کیونکہ مشرق و مغرب اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 177: لَـیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیِّیْنَ ۔ وَ ٰاتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ۔ وَالسَّآپلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ ٰاتَی الزَّکٰوۃَ ۔ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا۔ وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ ( نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق و مغرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

177۔ (آیت)” لیس البران تولوا وجوھکم قبل المشرق والمغرب “ حمزہ (رح) وحفص (رح) نے ” لیس البر “ کو راء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے راء کی پیش کے ساتھ جو لفظ بر کو پیش کے ساتھ پڑھتا ہے وہ لفظ برکو ” لیس “ کا اسم بناتا ہے اور ” لیس “ کی خبر اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے (آیت)” ان تولوا “ تقدیر عبارت ہوگی ۔ ” لیس البر تولیتکم وجوھکم “ نہیں ہے نیکی (صرف یہی) تمہارا اپنے چہروں کو پھیرنا اور جس نے لفظ ” بر “ کو زبر دی ہے اس نے ” ان تولوا “ کو مقام رفع میں رکھا اس پر کہ ” ان تولو لیس “ کا اسم ہے تقدیر عبارت یوں ہوگی ۔ ” لیس تولیتکم وجوھکم البرکلہ “ نہیں ہے تمہارا چہروں کو پھیرنا کل کی کل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان اس بدل مسدل قبلہ سے متردد ہو کر آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے کہ دونوں قبلوں میں کونسا قبلہ بہتر تھا۔ اور یہود اور نصاریٰ بھی اپنے اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحثیں کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو فقط سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے یہ واسطہ جس زمانہ میں جو کچھ اللہ کی طرف سے ٹھہرا دیا گیا وہی کافی ہے اس واسطے پر بھلائی ٹھہر منحصر نہیں ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو نہ یہ کہ جیسے یہود نصاریٰ ہیں کہ ایک تورات کو نہیں مانتے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ قِـبَلَ الْمَشْرِقِ ” نیکی یہ نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلو ‘ یعنی یہ وہ نیکی نہیں ہے جو بندوں سے مطلوب ہے جس کے بارے میں اس اکثرت سے بحث و مباحثہ کی مشقت برداشت کی جائے جس سے سوائے دشمنی اور مخالفت کے کچھ اور جنم نہیں لیتا۔ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی نظیر ہے جس میں آپ نے فرمایا : (حدیث) لیس الشدید بالضرعۃ انما الشدید الذی یملک نفسہ عندالغضب۔” طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں طاقتور ہے، بلکہ حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہے۔ “ (آیت) وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ ” لیکن نیکی تو یہ ہے جو ایمان لایا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 175–177

مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی اور حق ارشاد باری ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ( نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف) تا آخر آیت ۔ اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اللہ سبحان، نے اس سے یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔ جب انہوں نے نسخ قبلہ کی بات تسلیم نہیں کی تو اللہ نے انہیں بتادیا کہ نیکی تو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کے اتباع کے اندر ہے، مشرق یا مغرب کی طرف چہرے کرلینے کے اندر نہیں ہے جبکہ اس میں اللہ کے حکم کی پیروی موجود نہ ہو، نیز یہ کہ اب اللہ کی طاعت کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہے کیونکہ کسی اور طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ولکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 177–178

472 ایمان باللہ اور اس کے تقاضے : یعنی وہ اللہ پر ایسا ایمان لائے جیسا کہ اس پر ایمان لانے کا حق اور تقاضا ہے۔ اس کو اس کی ذات وصفات میں یگانہ و یکتا مانے، اور اس کی اطاعت و رضا کو اپنا قبلہ توجہ اور اصل مقصود حیات بنائے رکھے۔ اور اس کے اوامرو ارشاد ات کو دل و جان سے بجا لائے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اسی میں بھلا ہے۔ میرا بھی اور دوسری ساری مخلوق کا بھی۔ اور یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق ہے۔ اور یہ کہ اس وحدہ لاشریک کا حق سب سے اعلیٰ وبالا اور سب سے مقدم اور فائق حق ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ اپنا حق معرفت و بندگی اس طرح ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جس طرح کہ اس کا حق ہے۔ سو انسان کی اصلاح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اصل نیکی، اچھے عقائد، معاملات، نماز، زکو ٰۃ اور عہد تشریح : سب سے پہلے تو مشرکین و مسلمانوں کو مخاطب کرکے رب العزت فرماتا ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ مشرق کی طرف منہ کرلینا یا مغرب کی طرف۔ اس بات پر تفصیلی بحث گزشتہ اسباق میں ہوچکی ہے۔ اب یہاں ” بِرٌّ“ یعنی نیکی کو واضح کیا جارہا ہے۔ تمام ظاہری اور باطنی بھلائیاں اس ایک لفظ ” بِرٌّ“ میں جمع ہوگئی ہیں اس کی تفصیل یہ ہے شریعت کے کل احکامات تین چیزوں پر مشتمل ہیں۔ 1 عقائد۔ 2 : اعمال۔ 3: اخلاق۔ اس کے بعد سورة البقرہ کے اختتام تک تمام احکام شرعیہ کا ذکر آگیا ہے جو آئندہ بیان کئے جائیں گے۔ سب سے پہلے اعتقادات کا ذکر ہے جس میں توحید الٰہی، آخری بنی اکرم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 177–182

آیات 177- 182 اسرارو معارف لیس البران تولوا وجوھکم…………وللئک ھم المتقون۔ شروع سورة سے یہاں تک روئے سخن معاندین کی طرف تھا اور ضمناً مسلمانوں کو بھی خطاب فرمایا جاتا رہا۔ مثلاً اولا ایمان کی بحث ، پھر انسانوں کی اقسام بلحاظ عقائد اور پھر نوع انسانی کو دعوت عبادت ، صداقت قرآن اور حقانیت پیغمبر اثبات توحید اور پھر کفار کے اعتراضات کے جواب اور اسی ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر احسانات و انعامات اور پھر قبلہ کی بحث چلی اور عبادات اور ان کا اجر مذکور ہوا۔ اور زاں بعد شرک کے اصول کا ابطال۔ یہ سب مضامین نصف سورة تک آئے۔ ان کے بعد اب بقیہ آیات میں جو تقریباً نصف سورة ہیں ، روئے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 175–177

ف 2 ای لکن البر بؤ من امن) تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو اتو یہ اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر بہت شاق گزرا۔ (ابن کثیر) اس میں بحث وجدال نے یہاں تک شدت اختیار کرلے کہ اس کو حق و باطل کا معیار سمجھا جانے لگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعال نے تحویل قبلہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی یہ ہے نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف اپنا رخ کرتے ہو۔ اصل مقصود اور اصل نیکی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کا ذکر فرمایا کہ ان پر عمل پیرا ہونا اصل نیکی اور تقوی۔ ہے (ابن کثیر۔ کبیر) دراصل یہ آیت جمیع انوع بر حاوی ہے اور اصول عقائد کے ساتھ اعمال واخلاق کے تمام بڑے شعبوں کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:177) البر یہ بحر کی ضد ہے۔ اور اس کے معنی خشکی کے ہیں پھر معنی وسعت کے لحاظ سے اس سے البر مشتق کیا گیا جس کے معنی وسیع پیمانہ پر نیکی کرنے کے ہیں۔ اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (52:28) بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بر العبد ربہ، بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی بر وبار اسم صفت۔ ابرار وبررجمع، نیک ، نیکوکار۔ اطاعت شعار، اچھا سلوک کرنے والا۔ ھو بروبار بوالدیہ۔ وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا ہے ان تولوا میں ان مصدریہ ہے۔ تولوا مضارع جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی ان کے عمل سے گرگیا ہے۔ تولیۃ (تفعیل) مصدریہ لغات اضداد میں سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن : آیت نمبر 177 البر (سچی نیکی) ۔ قبل (طرف، سمت) ۔ اتی (دیا) ۔ علی حبہ (اس کی محبت پر (مال کی محبت کے باوجود اس کو اللہ کی محبت پر قربان کرنا) ۔ الرقاب (الرقبتہ ، گردن) ۔ الموفون (پورا کرنے والے، وفاء عہد کرنے والے ) ۔ الباساء (سختیاں) ۔ الضراء (تکلیفیں) ۔ حین (جس وقت) ۔ صدقوا (انہوں نے سچ کیا۔ (سچ کر دکھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 177 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس آیت پر عمل کیا اس نے اپنے ایمان کو کامل و مکمل کرلیا اس لئے کہ اسلام کے تمام اصولوں کا خلاصہ تین چیزیں ہیں، عقائد کی اصلاح، معاملات زندگی میں حسن معاشرت اور نفس کی اصلاح و تہذیب، اس آیت میں ان ہی تینوں باتوں کا ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 177–179

شان نزول : جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے اور یہود ونصاریٰ بھی اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحث کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے، اسی واسطے پر بھلائی منحصر ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو، نہ یہ کہ جیسے یہود ونصاریٰ ہیں کہ ایک توریت کو نہیں مانتے اور دوسرے انجیل کو اور قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کے دونوں منکر ہیں، اور ملائکہ پر ایمان کا یہ حال ہے کہ یہود لوگ جبریل کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور مسلمانوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[109] اس آیت میں اس عظیم حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے کہ سعادت و نجات کے لئے مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کردینا حقیقی نیکی نہیں ہے بلکہ اصلی شے دل کی پاکیزگی اور نیک عمل ہے۔ شریعت کے ظاہری احکام بھی اسی لئے ہیں تاکہ یہ مقصود حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

نیکی کا مفہوم : (ف 1) عام لوگ رسوم ظاہری تک ہی تقوی کا مفہوم محدود رکھتے ہیں اور دیگر حالات پر غور نہیں کرتے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب دین کی روح باقی نہ رہے اور قشہ وظاہر پر سختی سے عمل ہو ، جب کسی قوم کی یہ حالت ہو تو سمجھ لیجئے وہ حقائق دین سے قطعا محروم اور برائے نام مسائل پر محض رکھ رکھاؤ کے لئے عامل ہے ، نزول قرآن مجید کے وقت یہودیوں اور عیسائیوں کی بالکل یہی کیفیت تھی فسق وفجور میں ہر وقت سرشاری کے باوجود ایک دوسرے کو کافر کہتے ، چھوٹے چھوٹے مسائل پر جھگڑتے ، معمولی اختلافات ڈالتے یا اختلاف عمل ان کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا لیکن عملی زندگی میں بڑی سے بڑی بدمعاشی ان کے لئے نہ صرف گوارا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 کوئی سب نیکیوں میں یہی نیکی نہیں ہے کہ تم عبادت کے وقت اپنا رخ مشرق کی جانب کرلو مغرب کی طرف کرلو بلکہ اصلی بھلائی اور حقیقی نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر اور ملائکہ کے وجود پر اور تمام کتب سماویہ پر اور سب پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان پر یقین رکھے اور مال کی محبت کے باوجود اہل قرابت کو اور بن باپ کے بچوں کو اور مساکین کو مسافروں کو اور سوال کرنیوالوں کو مال دیتا ہو اور لوگوں کی گردنیں چھڑانے میں مال دیتا ہو اور نماز کی پابندی رکھتا ہو اور زکو ۃ بھی ادا کرتا ہو اور وہ لوگ جو ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کو بھی ادا کرنے والے ہوں جب وہ کوئی عہد کریں اور وہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 177–179

ف 2۔ خاص سمتوں کا قصہ یہاں اس لیے مذکور ہوا کہ تحویل قبلہ کے وقت تمام تر بحث یہود و نصاری کی اس میں رہ گئی تھی اس لیے متنبہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کام اور ہیں ان کا اہتمام کرو۔ 3۔ غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا ان ہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص ہے یعنی اقامت صلوة کے توابع و شرائط میں سے اور اس کے حسن سے اس میں بھی حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیکی اور بھلائی کی پہچان کہ وہ کیا ہے ؟ 305: ظہور اسلام سے قبل دنیا کی بیشمار گمراہیوں میں ایک گمراہی یہ تھی کہ سمت پرستی ہوتی تھی یعنی بےجان دیوتائوں ، دیویوں ، مورتیوں ، پتھروں ، درختوں ، پہاڑوں اور دریائوں کے علاوہ خود سمتوں یا جہتوں کی بھی پرستش جاری ہوگئی تھی اور مختلف جاہلی قوموں نے یہ اعتقاد جما لیا تھا کہ فلاں مخصوص سمت مثلاً مشرق مقدس ہے اور فلاں متعین جہت مثلاً مغرب قابل پرستش ہے۔ قرآن کریم یہاں شرک کی اس خاص صورت کی تردید کر رہا ہے اور ارشاد کر رہا ہے کہ کسی جہت میں کیا تقدس رکھا ہوا ہے ؟ اور کوئی سمت بےحیثیت سمت ہرگز قابل تقدیس نہیں ہے اور خصوصاً طاعت (البر) سے اس کا کوئی تعلق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

From the beginning to this point, the Sarah al-Baqarah is reaching its half-way mark. Until now, the message was addressed mostly to its deniers since the truth of the Holy Qur'an was the first thing to be established. In that context, mention was made of those who accepted it and those who rejected it, which was followed by providing proof of Allah's Oneness and the Prophethood. Then, recounted were Allah's blessings and favours on the progeny of Ibrahim (علیہ السلام) right through the verse وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ رَ‌بُّهُ (2:124). Thenceforth started the issue of the Qiblah قبلہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

175. Turning one's face towards the east or the west is mentioned here only by way of illustration. The actual purpose of the verse is to emphasize that the observance of certain outward religious rites, the performance of certain formal religious acts out of conformism, and the manifestation of certain familiar forms of piety do not constitute that essential righteousness which alone carries weight with God and earns His recognition and approval.

Read the full tafseer →