Explained with ayahs 174–176
بدترین لوگ
یعنی جو یہودی نبی کی صفات کی آیتوں کو جو توراۃ میں ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بعلے اپنی آؤ بھگت عرب سے کراتے ہیں اور عوام سے تحفے اور نقدی سمیٹتے رہتے ہیں وہ اس گھٹیا دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کررہے ہیں، انہیں ڈرلگا ہوا ہے کہ اگر حضور کی نبوت کی سچائی اور آپ کے دعوے کی تصدیق کی آیتیں (جو توراۃ میں ہیں) لوگوں پر ظاہر ہوگئیں تو لوگ آپ کے ماتحت ہوجائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے اس خوف سے وہ ہدایت و مغفرت کو چھوڑ بیٹھے اور ضلالت و عذاب پر خوش ہوں گئے اس باعث دنیا اور آخرت کی بربادی ان پر نازل ہوئی، آخرت کی رسوائی تو ظاہر ہے لیکن دنیا میں بھی لوگوں پر ان کا مکر کھل گیا، وقتًا فوقتاً وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
سورة الْبَقَرَة 173
مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بےجا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتاب الہٰی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔
سورة الْبَقَرَة 174
یہ دراصل ان پیشواؤں کے جھوٹے دعو وں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو انہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
خلاصہ تفسیر وربط آیات
اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی اور ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق فتوے دیدیتے تھے، اور توریت کی آیات میں تحریف کر کے ان مطلب کے موافق بناتے تھے، اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں،
دین فروشی کی سزا
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفاء کرتے ہیں اور اس (خیانت) کے معاوضہ…
Read the full tafseer →یہ اس ناراضگی اور غضب کا سبب بیان ہو رہا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب کے مستحق اس وجہ سے ٹھہریں گے کہ خدا نے ان کو راہ رست پر لانے کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو تمام جھگڑوں اور سارے اختلافات کو چکا دینے والی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی ہدایت کی جگہ ضلالت ہی کو اختیار کیا تو یہ اسی بات کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر التفات سے محروم ہو کر اس عذاب میں پڑیں جس سے ان کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ اس میں بِالْحَـقِّ کے لفظ سے مراد یہ ہے کہ خدا نے یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ یعنی اہل کتاب نے حق پوشی اور تحریف کر کے اللہ کے دین میں جو طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
173۔ 1 اس آیت میں چار حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے لیکن اسے کلمہ حصر (انما) کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام صرف یہی چار چیزیں ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ اس لئے اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حصر ایک خاص سیاق میں آیا ہے یعنی مشرکین کے اس فعل کے ضمن میں کہ وہ حلال جانوروں کو بھی حرام قرار دے لیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو صرف یہ ہیں۔ اس لئے یہ حصر اضافی ہے یعنی اس کے علاوہ بھی دیگر محرمات ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ دوسرا حدیث میں دو اصول جانوروں کی حلت وحرمت کے لئے بیان کر دئیے گئے ہیں وہ آیت کی صحیح تفسیر کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
107: اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →انہوں نے سخت گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ اس کی پوری سزا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب اس لئے بھیجی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے ، اسے زمین پر نافذ کیا جائے ۔ اور وہ ان کا قانون ہو ، ان کا نظام زندگی ہو ، لیکن ان ظالموں نے اس کو چھپالیا ۔ اسے چھپا کر میدان عمل سے خارج کردیا ۔ حالانکہ وہ ایک ایسی سچائی تھی جس پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی ۔ “ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے وہ ہدایت پر آگئے ، حق کے ساتھی بن گئے ، ان لوگوں کے ٹولے میں آگئے جو حق کے…
Read the full tafseer →3 یہ یعنی ضلالت کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خریدنے کی دلیل یا ان پر عذابات مذکورہ سابقہ کے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب سچی نازل فرمائی انہوں نے اس کے خلاف کیا اور طرح طرح کے اختلاف اس میں ڈالے اور خلاف اور دشمنی میں دور جا پڑے یعنی بڑا خلاف کیا، یا طریقہ حق سے دور ہوگئے ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کا صابر علی النار ہونا چونکہ بدیہی البطلان نظر آتا تھا اس لئے لفظ ذٰلک سے اخیر تک اسکے جواب کی طرف اشارہ فرما دیا فافہم۔
Read the full tafseer →آیت 176 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ
جن لوگوں نے اللہ کی کتاب اور شریعت میں اختلاف کی پگڈنڈیاں نکالیں وہ ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ شقاوت اور دشمنی میں مبتلا ہوگئے اور اس میں بہت دور نکل گئے۔ اعاذنَا اللّٰہ مِنْ ذٰلِکَ !
Read the full tafseer →220 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت سے مطلع فرمایا ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ اختلاف کرتے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر مشتبہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی اصل وجہ ان کی باہمی ضد ہوتی ہے جس میں وہ دور تک چلے جاتے ہیں۔ چناچہ آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ اسلام میں جتنے فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ سب اپنے حق میں کتاب و سنت سے ہی استدلال کرتے ہیں۔ یہ استدلال عموماً غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح بھی ہوتا ہے مگر استدلال کے اختلاف میں رواداری کے بجائے جب ضد پیدا ہوجائے اور استدلال کرنے والا اپنی بات پر اڑ جائے تو یہیں سے نئے فرقہ کی ابتدا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے لیے قرآن…
Read the full tafseer →624 ۔ (اور ناہنجار بندوں نے اس میں خواہ مخواہ خلط وتلبیس کردیا) (آیت) ” الکتب “ یہاں بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ مراد ہیں تمام کتب آسمانی (آیت) ” بالحق “ یعنی بالکل صحیح یا دلائل و شواہد کے ساتھ۔ اے بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی) (آیت) ” ذلک “ یہ اشارہ عذاب کی طرف ہے۔ اے ذلک العذاب (بیضاوی)
625 ۔ (اور اس کے نتائج بھگت کر رہیں گے) (آیت) ” اختلفوا فی الکتب “ یعنی خواہ مخواہ اور اپنے اغراض کے لیے اپنی کتاب آسمانی میں جھگڑے نکال کھڑے کیے۔ ورنہ تعلیمات الہی میں کمال وضوح کی بنا پر اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ (آیت) ” فی شقاق بعید “ یعنی بھٹک کر حق وصداقت سے بہت ہی دور جاپڑے ہیں۔ یہ مراد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
آیت نمبر 174 تا 176
ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کتاب (تورات) کو جو اللہ نے نازل کی ہے جو محمد ﷺ کی صفات پر مشتمل ہے (اور چھپانے والے) یہود ہیں اور اس کے عوض دنیوی قلیل قیمت لیتے ہیں اور چھپانے کے بدلے اپنے عوام سے قلیل ثمن وصول کرتے ہیں، اور اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے اندیشہ سے حضور ﷺ کی صفات کو ظاہر نہیں کرتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں، اس لئے کہ دوزخ انکا انجام ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر غضبنا کی کی وجہ سے ان سے کلام نہ کرے گا، اور نہ ان کو گناہوں کی گندگی سے پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ ہے الیمٌ بمعنی مولِمٌ ہے، یہی وہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ : ذٰلِکَ کا مشارٌ الیہ عذاب ہے۔
بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بالْحَـقِّ ( اس لیے کہ اللہ ہی نے اتاری کتاب سچی) کتاب سے یا تورات مراد ہے اور یا مطلق کتاب مراد ہے کہ جو تورات اور قرآن اور دیگر کتب سماویہ کو شامل ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ نے تو اپنی سچی اور حق کتاب نازل فرمائی تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے کفر اختیار کرلیا کسی نے گمراہی کو شیوہ بنا لیا کوئی راہ راست پر رہا اس سبب سے مستوجب عذاب ہوئے اور بعض مفسرین نے کہا ہے : بِاَنَّ اللہ نَزَّلَ الْکِتاب میں الکتاب سے مراد آیت : سَوَاءٌ عَلَیْھِمْ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ خَتَمَ اللہ عَلٰی…
Read the full tafseer →(176) یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ جبریل ؑ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم اور توریت کو حق اور باطل کو بیان کرنے کے لئے اتارا گیا، انہوں نے اس کا انکار کردیا۔
اور رسول اللہ اکرم ﷺ کے جو اوصاف اور صفات توریت میں آئے تھے، اس کے اندر انہوں نے اختلاف کیا اور ان کو چھپایا یہ حق اور ہدایت سے بہت ہی دور جاپڑے ہوئے ہیں،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو چھپا رہے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 159) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔
ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ) [ النساء : 77] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“
فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ”مَا“ بمعنی ”اَیُّ شَیْءٍ“ اسم تعجب مبتدا، ”اَصْبَرَھُمْ“ فعل ماضی مع فاعل، ”ھُمْ“ مفعول…
Read the full tafseer →آیت نمبر 176
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک یہ محل رفع میں ہے اور حکم کی طرف اشارہ ہے۔ گویا فرمایا : ذالک الحکم بالنار۔ زجاج نے کہا : تقدیر عبارت ہے : الامر ذالک یا ذالک الامریا ذالک العذاب لھم۔ اور ذلک کی خبر مضمر ہے اس کا معنی ہے : یہ ان کو معلوم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ذلک محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی ہے : فعلنا ذالک بھم (ہم نے یہ ان کے ساتھ کیا) ۔ بان اللہ نزل الکتب یہاں الکتب سے مراد قرآن ہے۔ بالحق سے مراد سچ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد حجت ہے۔ وان الذین اختلفوا فی الکتب یہاں الکتب سے مراد تورات ہے۔ نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صفت ہے اور یہود نے آپ کی صفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت پر گمراہی کو اور مغفرت پر عذاب کو ترجیح دی لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ وہ دوزخیوں والے عمل پر ان کی کیسی برأت ہے۔
(2) سفیان بن عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ یعنی اللہ کی قسم ! نہیں ہے ان کے لئے اس (آگ) پر صبر کرنا لیکن فرمایا کیسی جرأت ہے ان کی آگ پر۔
(3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم “ یعنی کیسی جرأت ہے…
Read the full tafseer →[ ذٰلِکَ : وہ ] [ بِاَنَّ : اس سبب سے کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ نے ] [ نَزَّلَ : اُتارا ہے ] [ الْکِتٰبَ : کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَاِنَّ : اور یقینا ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِی الْکِتٰبِ : کتاب میں ] [ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ : وہ لوگ دور کی مخالفت میں ہیں ]
ب ع د
بَعُدَ (ک) بُعْدًا : دُور ہونا۔ { وَلٰــکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ ط } (التوبۃ :42) ” اور لیکن دور ہوئی ان پر مسافت۔ “
بَعِدَ (س) بَعَدًا : تباہ و برباد ہونا ‘ ہلاک ہونا۔ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ } (ھود) ” خبردار ! ہلاکت ہے اہل مدین کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
کتاب اللہ کی تحریف کرنے والوں کا انجام
ان آیات میں اللہ کی نازل فرمودہ کتاب کو چھپانے اور اس میں تحریف و تبدیل کرنے اور غلط تفسیر بتانے اور پھر اس کو دنیاوی معاوضہ کا ذریعہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اسباب النزول میں (ص 44) علامہ واحدی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے رؤسا اور علماء کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے نیچے کے لوگوں سے ہدایا و صول کرتے تھے اور وہ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان میں سے ہوں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوگئی جو ان کے قبائل میں سے نہیں ہیں تو ان کی صفات کو بدل دیا جو توریت میں پاتے تھے اور دوسری صفات بتادیں جو توریت میں نہیں تھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
ذکر محرمات معنویہ مثل دین فروشی وحق پوشی۔
قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لفی شقاق بعید۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں محرمات حسیہ کا بیان تھا ان آیات میں محرمات معنویہ کو بیان کرتے ہیں جو حرمت میں محرمات حسیہ سے بڑھ کر ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق جو اہل کتاب میتہ اور خنزیر کی حرمت پر اعتراض کرتے ہیں تعجب ہے کہ یہ لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ اس علم کو چھپا کر مخلوق کو گمراہ کررہے ہیں اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس امانت کی خیانت کے معاوضہ میں دنیا کا معمولی اور حقیر معاوضہ حاصل کررہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو مال دین کو فروخت…
Read the full tafseer →320 ذٰلِکَ سے مذکورہ عذاب کی طرف اشارہ ہے اور بان۔ لیستیقنوا محذوف کے متعلق ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہ ھُوَ الْحَقُّ (حج ع 1) ای لتستیقنوا بان اللہ الخ اور ایک جگہ فرمایا۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوْا اللہ وَرَسُوْلَہ (انفال ع 2) اور اَلْکِتَاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ الکتب جنس ہے۔ الحق سے مراد سچائی یا دلیل اور حجت ہے۔ بالحق ای بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی ص 237 ج 2) اور بالحق میں با بمعنی لام ہے اور اس کے بعد مضاف محذوف ہے ای لاظہار الحق (مدارک) یعنی یہ عذاب اس لیے دیا جائے گا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ نے ان پر اظہار حق کے للیے کتاب نازل فرمائی جس میں نیازات غیر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
گزشتہ سے پیوستہ
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے طیبات اور محرمات کا قانون بیان کیا ہے مشرکین کا رد کیا ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے اس سے پہلے …ملت ابراہیمی کے اہم اصول ذکر ، شکر ، صبر نماز ، توحید پر یقین اور شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان بھی آ چکا ہے ، ذرائع معاش کا بھی تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین و آسمان کے درمیان مختلف ذرائع معاش پیدا فرمائے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے توحید پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور گزشتہ دو درسوں میں حلال و حرام پر بھی کافی گفتگو ہوچکی ہے۔
ان الذین یکتمون ما انزلنا الخ یعنی ہماری نازل…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَـقِّ 0 ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍؚ بَعِيْدٍ 176 ۧ
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
ترکیب : الذین موصول یکتمون الخ جملہ صلہ مجموعہ اسم ان۔ اولئک مبتدء یاکلون الخ خبر مجموعہ خبران اولئک مبتدء الذین الخ موصول وصلہ خبر فما موضع رفع میں ہے اور یہ کلام تعجب ہے جس سے خدا مسلمانوں کو تعجب دلاتا ہے۔ اصبر میں ضمیر عائد ہے طرف ما کے وہ فاعل ہے ذلک مبتدء بان اللہ الخ خبر والتقدیر ذلک العذاب مستحق بما انزل اللہ فی القرآن من استحقاق عقوبتہ الکافر فالباء متعلقہ بمحذوف۔
تفسیر : مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیزگاری جتلایا کرتے اور مسلمانوں پر منہ آیا کرتے تھے۔ حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی حالت مخمصہ میں بھی مباح نہیں۔ وہ…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْـکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ م بَعِیْدٍ ۔
(یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ایک قول فیصل بنا کر اتارا اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں) (البقرۃ : 176)
عتاب کا سبب
یہ لوگ اپنے بگاڑ کی انتہا اور اس کے نتیجے میں اللہ کے غضب کا شکار اس لیے ہوئے کہ اللہ نے ان پر یہ آخری کتاب قول فیصل کی حیثیت سے اتاری تاکہ مشرکینِ عرب اور اہل کتاب تحلیل وتحریم کے سلسلے میں جن اختلافات کا شکار ہوئے ہیں اور جس طرح انھوں نے ایک خانہ ساز شریعت کھڑی کرلی ہے اور سینٹ پال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بیشمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپالیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم ﷺ کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال و حرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بےشمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 176:
ذٰلک : اس کا مشار الیہ عذاب ہے یعنی یہ عذاب اس سبب سے ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتب سماویہ اتاری ہیں وہ برحق ہیں۔ اختلفوا جنہوں نے اختلاف کیا یعنی اہل کتاب فی الکتٰب۔ اس میں الف لام جنس کا ہے اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں مراد ہیں۔ انہوں نے بعض کتابوں کو برحق اور بعض کو باطل قرار دیا۔
شقاق بعید کا مطلب :
لفی شقاق۔ شقاق کا معنی مخالفت۔ بعید۔ دور یعنی حق سے دور۔
دوسرا قول : ان کا یہ کفر اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن برحق اتارا اور جنہوں نے اس کے متعلق اختلاف کیا وہ ایسی مخالفت میں مبتلا ہیں جو ہدایت سے بہت دور ہے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 176۔:
(آیت)” ذالک بان اللہ نزل الکتاب بالحق “ یہ عذاب اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا پس انہوں نے اس (حق) کا انکار کیا اور کفر کیا اور اس وقت لفظ ” ذالک محل رفع میں ہوگا یعنی ” محلا “ پیش والا ہوگا ، بعض نے کہا ہے کہ ـ” ذالک “ کا لفظ محل نصب میں ہے یعنی زبر معنی ہوگا ، (آیت)” فعلنا ذالک بھم “ ہم نے ان کے ساتھ یہ کچھ کیا ” تو گیا ” ذالک “ کا لفظ ” فعلنا “ کا مفعول بہ ہو کر منصوب یعنی زبر والا ہوجائے گا ” بان اللہ “ یعنی یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ، پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے ۔
” ذالک “ کا اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ ” یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں “ کیونکہ یہ قیمت جو انہوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انہیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی اور حق
ارشاد باری ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ( نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف) تا آخر آیت ۔ اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اللہ سبحان، نے اس سے یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔ جب انہوں نے نسخ قبلہ کی بات تسلیم نہیں کی تو اللہ نے انہیں بتادیا کہ نیکی تو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کے اتباع کے اندر ہے، مشرق یا مغرب کی طرف چہرے کرلینے کے اندر نہیں ہے جبکہ اس میں اللہ کے حکم کی پیروی موجود نہ ہو، نیز یہ کہ اب اللہ کی طاعت کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہے کیونکہ کسی اور طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ولکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
470 ہدایت کے بدلے میں گمراہی کے خریدنے کا مطلب ؟ : یعنی جس طرح گاہک اور خریدار اپنی پسند اور اپنے اختیار سے کوئی چیز بشوق ورغبت خریدتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر نور حق و ہدایت سے منہ موڑا اور گمراہی کے اندھیروں کو اپنایا۔ اسی کو یہاں پر " اشتراء " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تو ان کو حق اور ہدایت کی دولت سے نوازنے اور سرفراز کرنے کیلئے پختہ اور موثر انتظام فرمایا تھا، کہ ایک طرف تو اس کو عہد الست کی صورت میں نور فطرت کے طور پر ان کی طبیعت اور فطرت وجبلت میں پیوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–176
گھاٹے کا سودا
تشریح : ان آیات میں غلط کار علماء کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور بھی وضاحت سے فرماتا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے اور تھوڑی سی دنیاوی اجرت کے بدلہ میں گمراہی پھیلانے والے کس قدر بیوقوف اور نقصان دہ تجارت کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ خیال ذرہ برابر بھی نہیں آتا کہ اس طرح یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی خرید رہے ہیں، روشنی کی بجائے تاریکی میں جارہے ہیں، آخرت کی بجائے دنیا کو پسند کر رہے ہیں اور یوں یہ لوگ عارضی فائدوں کی بجائے ہمیشہ کے آرام کو چھوڑ رہے ہیں ان کو یہ خیال بھی نہیں آرہا ہے کہ یہ اتنے بڑے جرم کی سزا میں پھنس رہے ہیں کہ جو سزا مرنے کے بعد ہمیشہ ان کو ملتی رہے گی یہ سب اس لئے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
آیات 168- 176
اسرارو معارف
یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔
لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 175–177
ف 2 ای لکن البر بؤ من امن) تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو اتو یہ اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر بہت شاق گزرا۔ (ابن کثیر) اس میں بحث وجدال نے یہاں تک شدت اختیار کرلے کہ اس کو حق و باطل کا معیار سمجھا جانے لگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعال نے تحویل قبلہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی یہ ہے نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف اپنا رخ کرتے ہو۔ اصل مقصود اور اصل نیکی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کا ذکر فرمایا کہ ان پر عمل پیرا ہونا اصل نیکی اور تقوی۔ ہے (ابن کثیر۔ کبیر) دراصل یہ آیت جمیع انوع بر حاوی ہے اور اصول عقائد کے ساتھ اعمال واخلاق کے تمام بڑے شعبوں کا…
Read the full tafseer →ذلک۔ ای محبوع ما ذکر من اکل النار وعدم التکلیم والتزکیۃ والعذاب المرتب علی الکتمان ما انزل اللہ من الکتاب۔ یعنی ان کا اپنے پیٹوں کو دوزخ کی آگ سے بھرنا۔ خداوند کریم کا ناراضگی سے ان سے کلام تک نہ کرنا۔ اور نہ ہی ان کے گناہوں کی مغفرت کرکے ان کو پاک کرنا ۔ اور دردناک عذاب میں مبتلا کرنا سب ہی اس میں شامل ہیں۔
ذلک بان اللہ نزل الکتاب بالحق میں ب سببیہ ہے۔ ای ذلک العذاب ان بسبب ان اللہ نزل الکتب بالحق فرفضوہ بالتکذیب۔ یہ عذاب ان پر بدیں سبب نازل ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا مگر انہوں نے اس کی تکذیب کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔ الکتب سے مراد تو راۃ بھی ہوسکتی ہے اور القرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6
کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔
تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
حق چھپانے کی مذمت
شان نزول : یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے پہلے بڑے عالم وقت کہلاتے تھے، ان کی قوم کے جاہلہ لوگوں نے ان کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے بعد یہود نے آپ کے اصلی اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے اس خوف سے چھپا ڈالا کہ آپ کے اصلی اوصاف لوگوں پر کھل جائیں گے ، تو لوگ آپ کو بنی برحق جان کر آپ کی طرف رجوع کریں گے اور ہم کو پھر کوئی نہیں پوچھے گا ، اور ہماری آمدنی بالکل بند ہوجاوے گی ۔ یہود کی اس مذمت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑے لالچ کے مقابلے میں انہوں نے حق بات کو چھپا کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے اور اللہ ان سے ایسا ناخوش ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
(ف 1) قوم کے لئے جب کتاب اللہ سے تمسک قائم رہے ، فرق وجماعات الگ اگل نہیں بنتیں اور جب کتاب اللہ میں تحریف وتاویل کے ذریعہ مختلف قسم کے فرقے بناتے جائیں تو پھر وحدت دینی اور اخوت مذہبی مفقود ہوجاتی ہے ، یہودیوں نے جب تک توراۃ کو اللہ کی کتاب سمجھا ، غالب رہے اور تعصب نے انہیں مختلف قوموں میں بانٹ دیا ، قومی حیثیت سے مٹ گئے ، اس لئے اصل شے جو مدار قومیت ہے ، جب وہی نہیں تو پھر قومیت کہاں ؟
ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے تورایت کی جو کتاب حق ہے ، مخالفت کی ، اس لئے اب ان میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مٹائے نہیں جاسکتے ۔
حل لغات :
بطون : جمع بطن ۔ پیٹ ۔
شقاق : پھوٹ ۔
بر :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اس کتمان احکام کے معاوضہ میں لوگوں سے ثمن قلیل اور معمولی اجرت وصول کرتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان سے نہ رخ دے کر بات کرے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ احکام الٰہی میں خیانت کرنے والے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ گمراہی اور مغفرت کو نظر انداز کرکے اس کی جگہ عذاب قبول کرلیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کی کیسی برداشت ہے اور یہ آگ کی کیسے سہار کرنے…
Read the full tafseer →ف 1۔ آیات آئندہ میں کہ بقیہ نصف بقرہ ہے۔ زیادہ مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تعلیم کرنا ہے گوضمنا غیر مسلمین کو کوئی خطاب ہوجائے اور یہ مضمون ختم سورت تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان برّ سے جو کہ تمام طاعات ظاہری و باطنی کو عام ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے ایک کلی تعلیم کی گئی ہے آگے اس بر کی تفصیل چلی ہے جس میں بہت سے احکام باقتضائے وقت ومقام بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرمادیا۔
Read the full tafseer →کتاب الٰہی کے نزول کے بعد تفرقہ بازی ہدایت نہیں گمراہی ہے :
304: اللہ کا کلام تو سراسر سچائی ہی سچائی ہے نزول کتاب کے بعد بھی سچائی نازل ہوجانے کے بعد پھر اختلاف اور الگ الگ راہوں کا اختیار کرنا خواہ مخواہ اپنے اغراض کے لئے اپنی آسمانی کتاب میں جھگڑے نکال کھڑے کرنا گمراہی ہی گمراہی ہے اس لئے کہ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے پھر سچ میں اختلاف کیوں کر ہوگا۔
لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ (رح) 00176 یعنی بھٹک کر حق و صداقت سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ غفلت ان میں سے پیدا ہوگئی کہ اللہ کے سچے کلام میں انہوں نے ازراہ نفسانیت خواہ مخواہ اختلاف کیا اور اس لئے اور زیادہ بھٹک گئے۔ آج مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
Mentioned in the earlier verses were unlawful things which are tangible. Now, the verses that follow take up the intangible deeds that have been made unlawful. These are evil deeds, inner and outer. For instance, religious scholars among the Jews were addicted to giving out false verdicts in favour of people who bribed them. They would go to the limit of distorting the verses of the Torah to suit the desire of their client. In this, there is a veiled warning given to the ` ulama', the religious scholars of the community of the Last of the prophets, that they should keep away from such…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 174–176
173. This means that the blame for the growth of whole new codes consisting of superstitions, perverted customs, and unjustifiable taboos lay squarely on the shoulders of those religious scholars who had knowledge of the Scriptures but failed to transmit their knowledge to the common people. Moreover, later, when erroneous practices began to spread among them they remained mute spectators of this drama. Indeed, some of them kept wilfully silent about these matters thinking that their interests would be better served if the Scripture remained a sealed book and its injunctions were kept beyond…
Read the full tafseer →