Al-Baqara 2:176

Al-Baqara · from ayah 176

2:176

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ ؕ— وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ ۟۠ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَـقِّؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِى الۡكِتٰبِ لَفِىۡ شِقَاقٍۢ بَعِيۡدٍ

یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

That is [deserved by them] because Allah has sent down the Book in truth. And indeed, those who differ over the Book are in extreme dissension.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 21 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:176

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان عذابوں کا باعﺚ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ سب کچھ اس لئے ہوگا کہ اللہ نے حق پر مشتمل کتاب اتاری ہے، اور جن لوگوں نے ایسی کتاب کے بارے میں مخالفت کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ضدا ضدی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس لئے کہ اللہ نے کتاب حق کے ساتھ اتاری، اور بے شک جو لوگ کتاب میں اختلاف ڈالنے لگے وہ ضرور پرلے سرے کے جھگڑالو ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اس وجہ سے ہے کہ اﷲ نے کتاب حق کے ساتھ نازل فرمائی، اور بیشک جنہوں نے کتاب میں اختلاف ڈالا وہ مخالفت میں (حق سے) بہت دور (جا پڑے) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے کہ بیشک اللہ نے یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا ہے یقینا وہ بہت دور کی مخالفت میں (پڑے) ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب حق کے مطابق نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ بدبختی میں دور جا پہنچے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ نے اپنی کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس لئے کہ بیشک اللہ نے اتارا کتاب کو حق کے ساتھ تاکہ دنیا نور حق سے فیض یاب ہو مگر انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر اسے الٹا گمراہی کا ذریعہ بنادیا اور بیشک جن لوگوں نے اختلاف کیا کتاب میں وہ یقینا بہت دور جا پڑے ضد میں حق کے راستے سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ (سزا) اس لئے ہوگی کہ اللہ نے تو کتاب کو (بالکل) ٹھیک ٹھیک اتارا تھا۔ اور بیشک جو لوگ کتاب کے بارے میں اختلاف ڈال رہے ہیں وہ (بڑے) دور دراز کے خلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اس لیے کہ اللہ نے تو کتاب نازل کی حق کے ساتھ اور یقیناً جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف ڈالا وہ ضد اور مخالفت میں بہت دور نکل گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس لئے ہے کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے

— محترمہ رفعت اعجاز

This was inspite of the fact that Allah had sent down the Book with the Truth but the people who sought differences in the Book swerved far away from the Truth in their disputes.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

All that is because Allah revealed the Book with the truth. Yet, those who have opted for dissension about the Book are in extreme division (among themselves)

— Muhammad Taqi Usmani

All that is because Allah revealed the Book with the truth. Yet, those who have opted for dissension about the Book are in extreme division (among themselves)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That is because Allah has sent down the Book (the Qur'an) in truth. And verily, those who disputed as regards the Book are far away in opposition.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That is because Allah hath revealed the Scripture with the truth. Lo! those who find (a cause of) disagreement in the Scripture are in open schism.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

That is [deserved by them] because Allah has sent down the Book in truth. And indeed, those who differ over the Book are in extreme dissension.

— Saheeh International

God has revealed the Book in all Truth and those who dispute it are filled with malice which has taken them far away from the truth.

— Muhammad Sarwar

This is because Allah has revealed the Book with the truth; and surely those who go against the Book are in a great opposition.

— Muhammad Habib Shakir

This shall be because Allah hath verily sent down the Book with truth: and verily those who differ respecting the Book. are surely in cleavage wide.

— Abdul Majid Daryabadi

(Their doom is) because Allah sent down the Book in truth but those who seek causes of dispute in the Book are in a schism Far (from the purpose).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:176

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 174–176

بدترین لوگ یعنی جو یہودی نبی کی صفات کی آیتوں کو جو توراۃ میں ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بعلے اپنی آؤ بھگت عرب سے کراتے ہیں اور عوام سے تحفے اور نقدی سمیٹتے رہتے ہیں وہ اس گھٹیا دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کررہے ہیں، انہیں ڈرلگا ہوا ہے کہ اگر حضور کی نبوت کی سچائی اور آپ کے دعوے کی تصدیق کی آیتیں (جو توراۃ میں ہیں) لوگوں پر ظاہر ہوگئیں تو لوگ آپ کے ماتحت ہوجائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے اس خوف سے وہ ہدایت و مغفرت کو چھوڑ بیٹھے اور ضلالت و عذاب پر خوش ہوں گئے اس باعث دنیا اور آخرت کی بربادی ان پر نازل ہوئی، آخرت کی رسوائی تو ظاہر ہے لیکن دنیا میں بھی لوگوں پر ان کا مکر کھل گیا، وقتًا فوقتاً وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 174–176

سورة الْبَقَرَة 173 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بےجا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتاب الہٰی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔ سورة الْبَقَرَة 174 یہ دراصل ان پیشواؤں کے جھوٹے دعو وں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو انہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

خلاصہ تفسیر وربط آیات اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی اور ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق فتوے دیدیتے تھے، اور توریت کی آیات میں تحریف کر کے ان مطلب کے موافق بناتے تھے، اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں، دین فروشی کی سزا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفاء کرتے ہیں اور اس (خیانت) کے معاوضہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اس ناراضگی اور غضب کا سبب بیان ہو رہا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس عتاب کے مستحق اس وجہ سے ٹھہریں گے کہ خدا نے ان کو راہ رست پر لانے کے لیے ایک ایسی کتاب اتاری جو تمام جھگڑوں اور سارے اختلافات کو چکا دینے والی ہے لیکن انہوں نے اس کے بعد بھی ہدایت کی جگہ ضلالت ہی کو اختیار کیا تو یہ اسی بات کے مستحق ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے خدا کی نظر التفات سے محروم ہو کر اس عذاب میں پڑیں جس سے ان کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہو۔ اس میں بِالْحَـقِّ کے لفظ سے مراد یہ ہے کہ خدا نے یہ کتاب قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے۔ یعنی اہل کتاب نے حق پوشی اور تحریف کر کے اللہ کے دین میں جو طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 173–176

173۔ 1 اس آیت میں چار حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے لیکن اسے کلمہ حصر (انما) کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام صرف یہی چار چیزیں ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ اس لئے اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حصر ایک خاص سیاق میں آیا ہے یعنی مشرکین کے اس فعل کے ضمن میں کہ وہ حلال جانوروں کو بھی حرام قرار دے لیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو صرف یہ ہیں۔ اس لئے یہ حصر اضافی ہے یعنی اس کے علاوہ بھی دیگر محرمات ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ دوسرا حدیث میں دو اصول جانوروں کی حلت وحرمت کے لئے بیان کر دئیے گئے ہیں وہ آیت کی صحیح تفسیر کے طور پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 173–176

107: اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انہوں نے سخت گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور یہ اس کی پوری سزا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب اس لئے بھیجی تھی کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے ، اسے زمین پر نافذ کیا جائے ۔ اور وہ ان کا قانون ہو ، ان کا نظام زندگی ہو ، لیکن ان ظالموں نے اس کو چھپالیا ۔ اسے چھپا کر میدان عمل سے خارج کردیا ۔ حالانکہ وہ ایک ایسی سچائی تھی جس پر عمل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ” یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی ۔ “ اور جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئے وہ ہدایت پر آگئے ، حق کے ساتھی بن گئے ، ان لوگوں کے ٹولے میں آگئے جو حق کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یہ یعنی ضلالت کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خریدنے کی دلیل یا ان پر عذابات مذکورہ سابقہ کے ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب سچی نازل فرمائی انہوں نے اس کے خلاف کیا اور طرح طرح کے اختلاف اس میں ڈالے اور خلاف اور دشمنی میں دور جا پڑے یعنی بڑا خلاف کیا، یا طریقہ حق سے دور ہوگئے ایک صورت یہ بھی ہے کہ ان کا صابر علی النار ہونا چونکہ بدیہی البطلان نظر آتا تھا اس لئے لفظ ذٰلک سے اخیر تک اسکے جواب کی طرف اشارہ فرما دیا فافہم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 176 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ جن لوگوں نے اللہ کی کتاب اور شریعت میں اختلاف کی پگڈنڈیاں نکالیں وہ ضد ‘ ہٹ دھرمی ‘ شقاوت اور دشمنی میں مبتلا ہوگئے اور اس میں بہت دور نکل گئے۔ اعاذنَا اللّٰہ مِنْ ذٰلِکَ !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

220 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت سے مطلع فرمایا ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ اختلاف کرتے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر مشتبہ ہوجاتا ہے بلکہ اس کی اصل وجہ ان کی باہمی ضد ہوتی ہے جس میں وہ دور تک چلے جاتے ہیں۔ چناچہ آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ اسلام میں جتنے فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ سب اپنے حق میں کتاب و سنت سے ہی استدلال کرتے ہیں۔ یہ استدلال عموماً غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح بھی ہوتا ہے مگر استدلال کے اختلاف میں رواداری کے بجائے جب ضد پیدا ہوجائے اور استدلال کرنے والا اپنی بات پر اڑ جائے تو یہیں سے نئے فرقہ کی ابتدا شروع ہوجاتی ہے۔ جس کے لیے قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

624 ۔ (اور ناہنجار بندوں نے اس میں خواہ مخواہ خلط وتلبیس کردیا) (آیت) ” الکتب “ یہاں بہ طور اسم جنس استعمال ہوا ہے۔ مراد ہیں تمام کتب آسمانی (آیت) ” بالحق “ یعنی بالکل صحیح یا دلائل و شواہد کے ساتھ۔ اے بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی) (آیت) ” ذلک “ یہ اشارہ عذاب کی طرف ہے۔ اے ذلک العذاب (بیضاوی) 625 ۔ (اور اس کے نتائج بھگت کر رہیں گے) (آیت) ” اختلفوا فی الکتب “ یعنی خواہ مخواہ اور اپنے اغراض کے لیے اپنی کتاب آسمانی میں جھگڑے نکال کھڑے کیے۔ ورنہ تعلیمات الہی میں کمال وضوح کی بنا پر اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔ (آیت) ” فی شقاق بعید “ یعنی بھٹک کر حق وصداقت سے بہت ہی دور جاپڑے ہیں۔ یہ مراد بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 174–176

آیت نمبر 174 تا 176 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کتاب (تورات) کو جو اللہ نے نازل کی ہے جو محمد ﷺ کی صفات پر مشتمل ہے (اور چھپانے والے) یہود ہیں اور اس کے عوض دنیوی قلیل قیمت لیتے ہیں اور چھپانے کے بدلے اپنے عوام سے قلیل ثمن وصول کرتے ہیں، اور اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے اندیشہ سے حضور ﷺ کی صفات کو ظاہر نہیں کرتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں، اس لئے کہ دوزخ انکا انجام ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر غضبنا کی کی وجہ سے ان سے کلام نہ کرے گا، اور نہ ان کو گناہوں کی گندگی سے پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ ہے الیمٌ بمعنی مولِمٌ ہے، یہی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذٰلِكَ : ذٰلِکَ کا مشارٌ الیہ عذاب ہے۔ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بالْحَـقِّ ( اس لیے کہ اللہ ہی نے اتاری کتاب سچی) کتاب سے یا تورات مراد ہے اور یا مطلق کتاب مراد ہے کہ جو تورات اور قرآن اور دیگر کتب سماویہ کو شامل ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ نے تو اپنی سچی اور حق کتاب نازل فرمائی تھی لوگوں نے اس میں اختلاف کیا کسی نے کفر اختیار کرلیا کسی نے گمراہی کو شیوہ بنا لیا کوئی راہ راست پر رہا اس سبب سے مستوجب عذاب ہوئے اور بعض مفسرین نے کہا ہے : بِاَنَّ اللہ نَزَّلَ الْکِتاب میں الکتاب سے مراد آیت : سَوَاءٌ عَلَیْھِمْ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ خَتَمَ اللہ عَلٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(176) یہ عذاب اس وجہ سے ہے کہ جبریل ؑ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم اور توریت کو حق اور باطل کو بیان کرنے کے لئے اتارا گیا، انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اور رسول اللہ اکرم ﷺ کے جو اوصاف اور صفات توریت میں آئے تھے، اس کے اندر انہوں نے اختلاف کیا اور ان کو چھپایا یہ حق اور ہدایت سے بہت ہی دور جاپڑے ہوئے ہیں،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 174–176

یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو چھپا رہے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 159) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ) [ النساء : 77] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ”مَا“ بمعنی ”اَیُّ شَیْءٍ“ اسم تعجب مبتدا، ”اَصْبَرَھُمْ“ فعل ماضی مع فاعل، ”ھُمْ“ مفعول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 176 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ذلک یہ محل رفع میں ہے اور حکم کی طرف اشارہ ہے۔ گویا فرمایا : ذالک الحکم بالنار۔ زجاج نے کہا : تقدیر عبارت ہے : الامر ذالک یا ذالک الامریا ذالک العذاب لھم۔ اور ذلک کی خبر مضمر ہے اس کا معنی ہے : یہ ان کو معلوم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ذلک محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی ہے : فعلنا ذالک بھم (ہم نے یہ ان کے ساتھ کیا) ۔ بان اللہ نزل الکتب یہاں الکتب سے مراد قرآن ہے۔ بالحق سے مراد سچ ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد حجت ہے۔ وان الذین اختلفوا فی الکتب یہاں الکتب سے مراد تورات ہے۔ نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صفت ہے اور یہود نے آپ کی صفت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 175–176

(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت پر گمراہی کو اور مغفرت پر عذاب کو ترجیح دی لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ وہ دوزخیوں والے عمل پر ان کی کیسی برأت ہے۔ (2) سفیان بن عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ یعنی اللہ کی قسم ! نہیں ہے ان کے لئے اس (آگ) پر صبر کرنا لیکن فرمایا کیسی جرأت ہے ان کی آگ پر۔ (3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم “ یعنی کیسی جرأت ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ذٰلِکَ : وہ ] [ بِاَنَّ : اس سبب سے کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ نے ] [ نَزَّلَ : اُتارا ہے ] [ الْکِتٰبَ : کتاب کو ] [ بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [ وَاِنَّ : اور یقینا ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِی الْکِتٰبِ : کتاب میں ] [ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ : وہ لوگ دور کی مخالفت میں ہیں ] ب ع د بَعُدَ (ک) بُعْدًا : دُور ہونا۔ { وَلٰــکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْھِمُ الشُّقَّۃُ ط } (التوبۃ :42) ” اور لیکن دور ہوئی ان پر مسافت۔ “ بَعِدَ (س) بَعَدًا : تباہ و برباد ہونا ‘ ہلاک ہونا۔ { اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ ۔ } (ھود) ” خبردار ! ہلاکت ہے اہل مدین کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 174–176

کتاب اللہ کی تحریف کرنے والوں کا انجام ان آیات میں اللہ کی نازل فرمودہ کتاب کو چھپانے اور اس میں تحریف و تبدیل کرنے اور غلط تفسیر بتانے اور پھر اس کو دنیاوی معاوضہ کا ذریعہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اسباب النزول میں (ص 44) علامہ واحدی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے رؤسا اور علماء کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے نیچے کے لوگوں سے ہدایا و صول کرتے تھے اور وہ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان میں سے ہوں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوگئی جو ان کے قبائل میں سے نہیں ہیں تو ان کی صفات کو بدل دیا جو توریت میں پاتے تھے اور دوسری صفات بتادیں جو توریت میں نہیں تھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

ذکر محرمات معنویہ مثل دین فروشی وحق پوشی۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لفی شقاق بعید۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں محرمات حسیہ کا بیان تھا ان آیات میں محرمات معنویہ کو بیان کرتے ہیں جو حرمت میں محرمات حسیہ سے بڑھ کر ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق جو اہل کتاب میتہ اور خنزیر کی حرمت پر اعتراض کرتے ہیں تعجب ہے کہ یہ لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ اس علم کو چھپا کر مخلوق کو گمراہ کررہے ہیں اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس امانت کی خیانت کے معاوضہ میں دنیا کا معمولی اور حقیر معاوضہ حاصل کررہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو مال دین کو فروخت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

320 ذٰلِکَ سے مذکورہ عذاب کی طرف اشارہ ہے اور بان۔ لیستیقنوا محذوف کے متعلق ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہ ھُوَ الْحَقُّ (حج ع 1) ای لتستیقنوا بان اللہ الخ اور ایک جگہ فرمایا۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَاقُّوْا اللہ وَرَسُوْلَہ (انفال ع 2) اور اَلْکِتَاب سے جنس کتاب مراد ہے۔ الکتب جنس ہے۔ الحق سے مراد سچائی یا دلیل اور حجت ہے۔ بالحق ای بالصدق وقیل بالحجۃ (قرطبی ص 237 ج 2) اور بالحق میں با بمعنی لام ہے اور اس کے بعد مضاف محذوف ہے ای لاظہار الحق (مدارک) یعنی یہ عذاب اس لیے دیا جائے گا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ نے ان پر اظہار حق کے للیے کتاب نازل فرمائی جس میں نیازات غیر اللہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 174–176

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے طیبات اور محرمات کا قانون بیان کیا ہے مشرکین کا رد کیا ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے اس سے پہلے …ملت ابراہیمی کے اہم اصول ذکر ، شکر ، صبر نماز ، توحید پر یقین اور شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان بھی آ چکا ہے ، ذرائع معاش کا بھی تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین و آسمان کے درمیان مختلف ذرائع معاش پیدا فرمائے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے توحید پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور گزشتہ دو درسوں میں حلال و حرام پر بھی کافی گفتگو ہوچکی ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزلنا الخ یعنی ہماری نازل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللہَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَـقِّ۝ 0 ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍؚ بَعِيْدٍ۝ 176 ۧ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 174–176

ترکیب : الذین موصول یکتمون الخ جملہ صلہ مجموعہ اسم ان۔ اولئک مبتدء یاکلون الخ خبر مجموعہ خبران اولئک مبتدء الذین الخ موصول وصلہ خبر فما موضع رفع میں ہے اور یہ کلام تعجب ہے جس سے خدا مسلمانوں کو تعجب دلاتا ہے۔ اصبر میں ضمیر عائد ہے طرف ما کے وہ فاعل ہے ذلک مبتدء بان اللہ الخ خبر والتقدیر ذلک العذاب مستحق بما انزل اللہ فی القرآن من استحقاق عقوبتہ الکافر فالباء متعلقہ بمحذوف۔ تفسیر : مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیزگاری جتلایا کرتے اور مسلمانوں پر منہ آیا کرتے تھے۔ حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی حالت مخمصہ میں بھی مباح نہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْـکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ م بَعِیْدٍ ۔ (یہ اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو ایک قول فیصل بنا کر اتارا اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں) (البقرۃ : 176) عتاب کا سبب یہ لوگ اپنے بگاڑ کی انتہا اور اس کے نتیجے میں اللہ کے غضب کا شکار اس لیے ہوئے کہ اللہ نے ان پر یہ آخری کتاب قول فیصل کی حیثیت سے اتاری تاکہ مشرکینِ عرب اور اہل کتاب تحلیل وتحریم کے سلسلے میں جن اختلافات کا شکار ہوئے ہیں اور جس طرح انھوں نے ایک خانہ ساز شریعت کھڑی کرلی ہے اور سینٹ پال…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 174–176

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بیشمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپالیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم ﷺ کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال و حرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بےشمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 176: ذٰلک : اس کا مشار الیہ عذاب ہے یعنی یہ عذاب اس سبب سے ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتب سماویہ اتاری ہیں وہ برحق ہیں۔ اختلفوا جنہوں نے اختلاف کیا یعنی اہل کتاب فی الکتٰب۔ اس میں الف لام جنس کا ہے اللہ تعالیٰ کی تمام کتابیں مراد ہیں۔ انہوں نے بعض کتابوں کو برحق اور بعض کو باطل قرار دیا۔ شقاق بعید کا مطلب : لفی شقاق۔ شقاق کا معنی مخالفت۔ بعید۔ دور یعنی حق سے دور۔ دوسرا قول : ان کا یہ کفر اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن برحق اتارا اور جنہوں نے اس کے متعلق اختلاف کیا وہ ایسی مخالفت میں مبتلا ہیں جو ہدایت سے بہت دور ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 176۔: (آیت)” ذالک بان اللہ نزل الکتاب بالحق “ یہ عذاب اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا پس انہوں نے اس (حق) کا انکار کیا اور کفر کیا اور اس وقت لفظ ” ذالک محل رفع میں ہوگا یعنی ” محلا “ پیش والا ہوگا ، بعض نے کہا ہے کہ ـ” ذالک “ کا لفظ محل نصب میں ہے یعنی زبر معنی ہوگا ، (آیت)” فعلنا ذالک بھم “ ہم نے ان کے ساتھ یہ کچھ کیا ” تو گیا ” ذالک “ کا لفظ ” فعلنا “ کا مفعول بہ ہو کر منصوب یعنی زبر والا ہوجائے گا ” بان اللہ “ یعنی یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ، پس انہوں نے اس میں اختلاف کیا اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے ۔ ” ذالک “ کا اسم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 173–176

اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 174–176

اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ ” یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں “ کیونکہ یہ قیمت جو انہوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انہیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 175–177

مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی اور حق ارشاد باری ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ( نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف) تا آخر آیت ۔ اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اللہ سبحان، نے اس سے یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔ جب انہوں نے نسخ قبلہ کی بات تسلیم نہیں کی تو اللہ نے انہیں بتادیا کہ نیکی تو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کے اتباع کے اندر ہے، مشرق یا مغرب کی طرف چہرے کرلینے کے اندر نہیں ہے جبکہ اس میں اللہ کے حکم کی پیروی موجود نہ ہو، نیز یہ کہ اب اللہ کی طاعت کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہے کیونکہ کسی اور طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ولکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 175–176

470 ہدایت کے بدلے میں گمراہی کے خریدنے کا مطلب ؟ : یعنی جس طرح گاہک اور خریدار اپنی پسند اور اپنے اختیار سے کوئی چیز بشوق ورغبت خریدتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر نور حق و ہدایت سے منہ موڑا اور گمراہی کے اندھیروں کو اپنایا۔ اسی کو یہاں پر " اشتراء " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تو ان کو حق اور ہدایت کی دولت سے نوازنے اور سرفراز کرنے کیلئے پختہ اور موثر انتظام فرمایا تھا، کہ ایک طرف تو اس کو عہد الست کی صورت میں نور فطرت کے طور پر ان کی طبیعت اور فطرت وجبلت میں پیوست…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 175–176

گھاٹے کا سودا تشریح : ان آیات میں غلط کار علماء کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور بھی وضاحت سے فرماتا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے اور تھوڑی سی دنیاوی اجرت کے بدلہ میں گمراہی پھیلانے والے کس قدر بیوقوف اور نقصان دہ تجارت کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ خیال ذرہ برابر بھی نہیں آتا کہ اس طرح یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی خرید رہے ہیں، روشنی کی بجائے تاریکی میں جارہے ہیں، آخرت کی بجائے دنیا کو پسند کر رہے ہیں اور یوں یہ لوگ عارضی فائدوں کی بجائے ہمیشہ کے آرام کو چھوڑ رہے ہیں ان کو یہ خیال بھی نہیں آرہا ہے کہ یہ اتنے بڑے جرم کی سزا میں پھنس رہے ہیں کہ جو سزا مرنے کے بعد ہمیشہ ان کو ملتی رہے گی یہ سب اس لئے ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 168–176

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 175–177

ف 2 ای لکن البر بؤ من امن) تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو اتو یہ اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر بہت شاق گزرا۔ (ابن کثیر) اس میں بحث وجدال نے یہاں تک شدت اختیار کرلے کہ اس کو حق و باطل کا معیار سمجھا جانے لگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعال نے تحویل قبلہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی یہ ہے نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف اپنا رخ کرتے ہو۔ اصل مقصود اور اصل نیکی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کا ذکر فرمایا کہ ان پر عمل پیرا ہونا اصل نیکی اور تقوی۔ ہے (ابن کثیر۔ کبیر) دراصل یہ آیت جمیع انوع بر حاوی ہے اور اصول عقائد کے ساتھ اعمال واخلاق کے تمام بڑے شعبوں کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

ذلک۔ ای محبوع ما ذکر من اکل النار وعدم التکلیم والتزکیۃ والعذاب المرتب علی الکتمان ما انزل اللہ من الکتاب۔ یعنی ان کا اپنے پیٹوں کو دوزخ کی آگ سے بھرنا۔ خداوند کریم کا ناراضگی سے ان سے کلام تک نہ کرنا۔ اور نہ ہی ان کے گناہوں کی مغفرت کرکے ان کو پاک کرنا ۔ اور دردناک عذاب میں مبتلا کرنا سب ہی اس میں شامل ہیں۔ ذلک بان اللہ نزل الکتاب بالحق میں ب سببیہ ہے۔ ای ذلک العذاب ان بسبب ان اللہ نزل الکتب بالحق فرفضوہ بالتکذیب۔ یہ عذاب ان پر بدیں سبب نازل ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا مگر انہوں نے اس کی تکذیب کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا۔ الکتب سے مراد تو راۃ بھی ہوسکتی ہے اور القرآن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 168–176

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 174–176

حق چھپانے کی مذمت شان نزول : یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے پہلے بڑے عالم وقت کہلاتے تھے، ان کی قوم کے جاہلہ لوگوں نے ان کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے بعد یہود نے آپ کے اصلی اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے اس خوف سے چھپا ڈالا کہ آپ کے اصلی اوصاف لوگوں پر کھل جائیں گے ، تو لوگ آپ کو بنی برحق جان کر آپ کی طرف رجوع کریں گے اور ہم کو پھر کوئی نہیں پوچھے گا ، اور ہماری آمدنی بالکل بند ہوجاوے گی ۔ یہود کی اس مذمت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑے لالچ کے مقابلے میں انہوں نے حق بات کو چھپا کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے اور اللہ ان سے ایسا ناخوش ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 173–176

[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 174–176

(ف 1) قوم کے لئے جب کتاب اللہ سے تمسک قائم رہے ، فرق وجماعات الگ اگل نہیں بنتیں اور جب کتاب اللہ میں تحریف وتاویل کے ذریعہ مختلف قسم کے فرقے بناتے جائیں تو پھر وحدت دینی اور اخوت مذہبی مفقود ہوجاتی ہے ، یہودیوں نے جب تک توراۃ کو اللہ کی کتاب سمجھا ، غالب رہے اور تعصب نے انہیں مختلف قوموں میں بانٹ دیا ، قومی حیثیت سے مٹ گئے ، اس لئے اصل شے جو مدار قومیت ہے ، جب وہی نہیں تو پھر قومیت کہاں ؟ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے تورایت کی جو کتاب حق ہے ، مخالفت کی ، اس لئے اب ان میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مٹائے نہیں جاسکتے ۔ حل لغات : بطون : جمع بطن ۔ پیٹ ۔ شقاق : پھوٹ ۔ بر :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 174–176

ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اس کتمان احکام کے معاوضہ میں لوگوں سے ثمن قلیل اور معمولی اجرت وصول کرتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان سے نہ رخ دے کر بات کرے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ احکام الٰہی میں خیانت کرنے والے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ گمراہی اور مغفرت کو نظر انداز کرکے اس کی جگہ عذاب قبول کرلیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کی کیسی برداشت ہے اور یہ آگ کی کیسے سہار کرنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ آیات آئندہ میں کہ بقیہ نصف بقرہ ہے۔ زیادہ مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تعلیم کرنا ہے گوضمنا غیر مسلمین کو کوئی خطاب ہوجائے اور یہ مضمون ختم سورت تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان برّ سے جو کہ تمام طاعات ظاہری و باطنی کو عام ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے ایک کلی تعلیم کی گئی ہے آگے اس بر کی تفصیل چلی ہے جس میں بہت سے احکام باقتضائے وقت ومقام بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرمادیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتاب الٰہی کے نزول کے بعد تفرقہ بازی ہدایت نہیں گمراہی ہے : 304: اللہ کا کلام تو سراسر سچائی ہی سچائی ہے نزول کتاب کے بعد بھی سچائی نازل ہوجانے کے بعد پھر اختلاف اور الگ الگ راہوں کا اختیار کرنا خواہ مخواہ اپنے اغراض کے لئے اپنی آسمانی کتاب میں جھگڑے نکال کھڑے کرنا گمراہی ہی گمراہی ہے اس لئے کہ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے پھر سچ میں اختلاف کیوں کر ہوگا۔ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ (رح) 00176 یعنی بھٹک کر حق و صداقت سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ غفلت ان میں سے پیدا ہوگئی کہ اللہ کے سچے کلام میں انہوں نے ازراہ نفسانیت خواہ مخواہ اختلاف کیا اور اس لئے اور زیادہ بھٹک گئے۔ آج مسلم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

Mentioned in the earlier verses were unlawful things which are tangible. Now, the verses that follow take up the intangible deeds that have been made unlawful. These are evil deeds, inner and outer. For instance, religious scholars among the Jews were addicted to giving out false verdicts in favour of people who bribed them. They would go to the limit of distorting the verses of the Torah to suit the desire of their client. In this, there is a veiled warning given to the ` ulama', the religious scholars of the community of the Last of the prophets, that they should keep away from such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

173. This means that the blame for the growth of whole new codes consisting of superstitions, perverted customs, and unjustifiable taboos lay squarely on the shoulders of those religious scholars who had knowledge of the Scriptures but failed to transmit their knowledge to the common people. Moreover, later, when erroneous practices began to spread among them they remained mute spectators of this drama. Indeed, some of them kept wilfully silent about these matters thinking that their interests would be better served if the Scripture remained a sealed book and its injunctions were kept beyond…

Read the full tafseer →