Al-Baqara 2:175

Al-Baqara · from ayah 175

2:175

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ— فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَی النَّارِ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى وَالۡعَذَابَ بِالۡمَغۡفِرَةِ‌ ۚ فَمَآ اَصۡبَرَهُمۡ عَلَى النَّارِ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones who have exchanged guidance for error and forgiveness for punishment. How patient they are in pursuit of the Fire!

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 21 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:175

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خرید لیا ہے، یہ لوگ آگ کا عذاب کتنا برداشت کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب کی خریداری کرلی ہے۔ چنانچہ (اندازہ کرو کہ) یہ دوزخ کی آگ سہنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی اور بخشش کے بدلے عذاب، تو کس درجہ انہیں آگ کی سہار (برداشت) ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب، کس چیز نے انہیں (دوزخ کی) آگ پر صبر کرنے والا بنا دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے بدلے خریدا، سو وہ آگ پر کس قدر صبر کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا۔ یہ لوگ دوزخ کی آگ پر کتنا بڑا صبر کرنے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت پر اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی یہ دوزخ کے معاملہ میں کتنے ڈھیٹ ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنایا گمراہی کے اندھیروں کو بدلے میں ہدایت کے نور عظیم کے اور عذاب کو بدلے میں بخشش کے سو کس قدر صبر اور حوصلہ رکھتے ہیں یہ لوگ یہ (دوزخ کی اس ہولناک) آگ پر

— مولانا اسحاق مدنی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو خرید لیا ہے ہدایت کے بدلہ میں اور عذاب کو نجات کے بدلہ میں اور یہ لوگ کیسی جیوٹ رکھتے ہیں دوزخ کے لیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہدایت دے کر گمراہی خرید لی ہے اور (اللہ کی) مغفرت ہاتھ سے دے کر عذاب خرید لیا ہے تو یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں دوزخ پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا، کیا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They are the people who have bartered away Guidance for error and Allah's pardon for His punishment. How audacious they are: they are ready even to endure the fire of Hell.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are those who have bought the wrong way at the price of the right way, and punishment at the price of pardon. How well they endure the Fire!

— Muhammad Taqi Usmani

They are those who have bought the wrong way at the price of the right way, and punishment at the price of pardon. How well they endure the Fire!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those are they who have purchased error at the price of guidance, and torment at the price of forgiveness. So how bold they are (for evil deeds which will push them) to the Fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are they who purchase error at the price of guidance, and torment at the price of pardon. How constant are they in their strife to reach the Fire!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones who have exchanged guidance for error and forgiveness for punishment. How patient they are in pursuit of the Fire!

— Saheeh International

They have exchanged guidance for error and forgiveness for torment. What makes them seek the fire so earnestly (for they are doomed to be punished)?

— Muhammad Sarwar

These are they who buy error for the right direction and chastisement for forgiveness; how bold they are to encounter fire.

— Muhammad Habib Shakir

These are they who have purchased error for guidance, and torment for forgiveness, How enduring must they be of the Fire!

— Abdul Majid Daryabadi

They are the ones who buy Error in place of Guidance and Torment in place of Forgiveness. Ah! what boldness (They show) for the Fire!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:175

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 174–176

بدترین لوگ یعنی جو یہودی نبی کی صفات کی آیتوں کو جو توراۃ میں ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بعلے اپنی آؤ بھگت عرب سے کراتے ہیں اور عوام سے تحفے اور نقدی سمیٹتے رہتے ہیں وہ اس گھٹیا دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کررہے ہیں، انہیں ڈرلگا ہوا ہے کہ اگر حضور کی نبوت کی سچائی اور آپ کے دعوے کی تصدیق کی آیتیں (جو توراۃ میں ہیں) لوگوں پر ظاہر ہوگئیں تو لوگ آپ کے ماتحت ہوجائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے اس خوف سے وہ ہدایت و مغفرت کو چھوڑ بیٹھے اور ضلالت و عذاب پر خوش ہوں گئے اس باعث دنیا اور آخرت کی بربادی ان پر نازل ہوئی، آخرت کی رسوائی تو ظاہر ہے لیکن دنیا میں بھی لوگوں پر ان کا مکر کھل گیا، وقتًا فوقتاً وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 174–176

سورة الْبَقَرَة 173 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بےجا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتاب الہٰی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔ سورة الْبَقَرَة 174 یہ دراصل ان پیشواؤں کے جھوٹے دعو وں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو انہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

خلاصہ تفسیر وربط آیات اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی اور ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق فتوے دیدیتے تھے، اور توریت کی آیات میں تحریف کر کے ان مطلب کے موافق بناتے تھے، اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں، دین فروشی کی سزا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفاء کرتے ہیں اور اس (خیانت) کے معاوضہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ۚفَمَآ اَصْبَرَ کا اسلوب ما اَحسَنَ کی طرح اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو اس دیدہ دلیری کے ساتھ ہدایت کی جگہ ضلالت اور مغفرت کی جگہ عذاب کو ترجیح دے رہے ہیں تو دوزخ کے معاملہ میں ان کی ڈھٹائی اور جرات حیرت انگیز ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 173–176

173۔ 1 اس آیت میں چار حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے لیکن اسے کلمہ حصر (انما) کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام صرف یہی چار چیزیں ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ اس لئے اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حصر ایک خاص سیاق میں آیا ہے یعنی مشرکین کے اس فعل کے ضمن میں کہ وہ حلال جانوروں کو بھی حرام قرار دے لیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو صرف یہ ہیں۔ اس لئے یہ حصر اضافی ہے یعنی اس کے علاوہ بھی دیگر محرمات ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ دوسرا حدیث میں دو اصول جانوروں کی حلت وحرمت کے لئے بیان کر دئیے گئے ہیں وہ آیت کی صحیح تفسیر کے طور پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 173–176

107: اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور ایک دوسری زندہ تعبیر أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ” وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لیا ۔ “ گویا یہ ایک خرید وفروخت ہے ۔ جس میں یہ لوگ ہدایت سے روگردانی کرتے ہیں اور ضلالت خریدتے ہیں ۔ مغفرت سے محروم ہوتے ہیں اور عذاب دائمی خریدتے ہیں ۔ کس قدر ناسمجھ ہیں یہ لوگ جو اس قدر عظیم خسارے کا سودا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک عظیم الشان برائی خریدلی ہے ۔ ہدایت ان کے لئے عام تھی مگر انہوں نے اسے ترک کرکے ضلالت کو اختیار کرلیا۔ مغفرت کے مواقع انہیں فراہم تھے ۔ مگر انہوں نے انہیں گنوادیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی وہ لوگ بیشک اسی قابل ہیں کیونکہ انہوں نے خود سرمایہ نجات کو غارت کیا اور گمراہی کو ہدایت کے مقابلہ میں پسند اور اختیار کیا اور اسباب مغفرت کو چھوڑ کر اسباب عذاب کو منظور کیا۔ 2 یعنی اپنی خوشی سے موجبات دخول نار کو اختیار کرتے ہیں گویا آگ ان کو نہایت مرغوب اور محبوب ہے کہ اپنی جان و مال کے بدلے اس کو خرید رہے ہیں ورنہ سب جانتے ہیں کہ عذاب نار پر صبر کرنا کیسا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 175 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بالْہُدٰی وَالْعَذَاب بالْمَغْفِرَۃِج فَمَآ اَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ ! ان کا کتنا حوصلہ ہے کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں ! اس کے لیے کس طرح تیاری کر رہے ہیں !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

219 یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو چھپا کر لوگوں کو گمراہ کرنے والے اور غلط تاویلات کے ذریعے لوگوں سے نذرانے وصول کرنے والے علماء اور پیشوا حضرات جنہیں خوب معلوم ہے کہ ان کی ان کرتوتوں کی سزا کس قدر سخت ہے۔ اس کے باوجود وہ ان حرکتوں سے باز نہیں آتے، ان کی یہ جسارت بڑی حیران کن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

623 ۔ (کہ اس کے لیے تیار ہوگئے، اور یہاں دنیا میں ایمان وطاعت پر آمادہ نہ ہوئے ! ) ما۔ کلمہ تعجب ہے، کہ اپنی ان حرکتوں کے ہولناک ثمرے اور دہشت ناک نتیجے معلوم ہیں، اور اس پر بھی یہ شوخ چشمی ! مذھب الجمھور منہم الحسن ومجاھدان مامعناہ التعجب (قرطبی) (آیت) ” اشتروا الضللۃ بالھدی۔ اس کا تعلق اسی دنیا سے ہے۔ یعنی ہدایت کے بدلے گمراہی کو لے لیا اسی دنیا میں۔ (آیت) ” والعذاب بالمغفرۃ “ اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے۔ یعنی لازمی نتیجہ عدم ایمان کا یہ ہوگا کہ آخرت میں مغفرت کے بجائے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 174–176

آیت نمبر 174 تا 176 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کتاب (تورات) کو جو اللہ نے نازل کی ہے جو محمد ﷺ کی صفات پر مشتمل ہے (اور چھپانے والے) یہود ہیں اور اس کے عوض دنیوی قلیل قیمت لیتے ہیں اور چھپانے کے بدلے اپنے عوام سے قلیل ثمن وصول کرتے ہیں، اور اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے اندیشہ سے حضور ﷺ کی صفات کو ظاہر نہیں کرتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں، اس لئے کہ دوزخ انکا انجام ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر غضبنا کی کی وجہ سے ان سے کلام نہ کرے گا، اور نہ ان کو گناہوں کی گندگی سے پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ ہے الیمٌ بمعنی مولِمٌ ہے، یہی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بالْهُدٰى وَالْعَذَاب بالْمَغْفِرَةِ ( یہی ہیں جنہوں نے خریدی گمراہی ہدایت کے بدلے اور قہر مہر کے بدلے۔۔ ) یعنی یہ لوگ حق بات کو اپنی اغراض فاسدہ کی وجہ سے مخفی رکھ کر سود مند نہ ہوئے ہر طرح سے خسارہ ہی خسارہ میں رہے دنیا میں تو یہ خسارہ کہ ہدایت کی دولت چھوڑ کر چاہ ضلالت میں گرگئے اور آخرت کا یہ نقصان کہ مغفرت سے روگردانی کرکے عذاب دائمی میں گرفتار ہوئے۔ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ( سو کس قدر سہار ہے ان کو آگ کی) یہ مؤمنوں کے تعجب دلانے کے لیے فرمایا۔ حاصل یہ ہے کہ اے مؤمنوں دیکھو تو یہ لوگ کیسے جرأت سے جہنم میں جانے کے اسباب کو جان بوجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 174–175

(174۔ 175) یہ اہل کتاب حضور اکرم ﷺ کی توصیف وتعریف لوگوں سے چھپاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب میں بیان کی ہے اور اس چھپانے پر معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں یہ آیت کعب بن اشرف، حی بن اخطب اور جدی بن اخطب کے بارے میں اتری ہے۔ حرام کے علاوہ ان لوگوں کے شکموں میں اور کوئی چیز نہیں جاتی، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آگ کے علاوہ ان کے پیٹوں میں قیامت کے دن اور کوئی چیز نہیں جائے گی اور نہ یہ گناہوں سے پاک ہوں گے اور نہ ہی ان کی کسی قسم کی تعریف کی جائے گی اور ان کو ایسا دردناک عذاب ملے گا کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی ان لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر اور اسلام کے بدلے یہودیت کو خرید لیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 174–176

یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو چھپا رہے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 159) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ) [ النساء : 77] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ”مَا“ بمعنی ”اَیُّ شَیْءٍ“ اسم تعجب مبتدا، ”اَصْبَرَھُمْ“ فعل ماضی مع فاعل، ”ھُمْ“ مفعول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 175 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک الذین۔۔۔۔۔ بالمغفرۃ اس پر کلام گزر چکی ہے۔ جب عذاب ضلالت کے تابع ہے اور مغفرت اس ہدایت کے تابع ہے جس کو انہوں نے ترک کردیا تو یہ دونوں شراء کے مجاز میں داخل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فمآ اصبرھم علی النار جمہور کا مذہب۔۔ جن میں حسن اور مجاہد بھی ہیں کہ اس کا معنی تعجب ہے۔ یہ مخلوق کی طرف راجع ہے۔ گویا فرمایا : انہوں نے ان کے آگ پر صبر کرنے پر اور آگ پر ٹھہرے رہنے پر تعجب کیا۔ قرآن حکیم میں ہے : قتل الانسان ما اکفرہ۔ (عبس) غارت ہو (منکر) انسان ! وہ کتنا احسان فراموش ہے۔ واسمع بھم وابصر (اس دن) یہ خوب سننے لگیں گے اور خوب دیکھنے لگیں گے۔ اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 175–176

(1) ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ انہوں نے ہدایت پر گمراہی کو اور مغفرت پر عذاب کو ترجیح دی لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ وہ دوزخیوں والے عمل پر ان کی کیسی برأت ہے۔ (2) سفیان بن عبید، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو نعیم نے الحلیہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم علی النار “ یعنی اللہ کی قسم ! نہیں ہے ان کے لئے اس (آگ) پر صبر کرنا لیکن فرمایا کیسی جرأت ہے ان کی آگ پر۔ (3) ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فما اصبرھم “ یعنی کیسی جرأت ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اُولٰٓئِکَ : وہی لوگ ہیں ] [ الَّذِیْنَ : جنہوں نے ] [ اشْتَرَوُا : خریدا ] [ الضَّلٰلَۃَ : گمراہی کو ] [ بِالْھُدٰی : ہدایت کے بدلے ] [ وَالْعَذَابَ : اور عذاب کو ] [ بِالْمَغْفِرَۃِ : مغفرت کے بدلے ] [ فَمَآ : تو کس چیز نے ] [ اَصْبَرَھُمْ : صبر دیا ان کو ] [ عَلَی النَّارِ : آگ پر ] ترکیب :” فَمَا “ میں ” مَا “ اسم تعجب ہے اور مبتداء ہے۔” اَصْبَرَ “ فعل ‘ اس کا فاعل اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو ” مَا “ کے لیے ہے اور ” ھُمْ “ اس کی ضمیر مفعولی ہے۔ ” اَصْبَرَھُمْ “ جملہ فعلیہ مبتداء ” مَا “ کی خبر ہے اور ” عَلَی النَّارِ “ متعلق خبر ہے۔ نوٹ (1) : اوپر ترکیب میں بتایا گیا ہے کہ ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 174–176

کتاب اللہ کی تحریف کرنے والوں کا انجام ان آیات میں اللہ کی نازل فرمودہ کتاب کو چھپانے اور اس میں تحریف و تبدیل کرنے اور غلط تفسیر بتانے اور پھر اس کو دنیاوی معاوضہ کا ذریعہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اسباب النزول میں (ص 44) علامہ واحدی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے رؤسا اور علماء کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے نیچے کے لوگوں سے ہدایا و صول کرتے تھے اور وہ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان میں سے ہوں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوگئی جو ان کے قبائل میں سے نہیں ہیں تو ان کی صفات کو بدل دیا جو توریت میں پاتے تھے اور دوسری صفات بتادیں جو توریت میں نہیں تھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

ذکر محرمات معنویہ مثل دین فروشی وحق پوشی۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لفی شقاق بعید۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں محرمات حسیہ کا بیان تھا ان آیات میں محرمات معنویہ کو بیان کرتے ہیں جو حرمت میں محرمات حسیہ سے بڑھ کر ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق جو اہل کتاب میتہ اور خنزیر کی حرمت پر اعتراض کرتے ہیں تعجب ہے کہ یہ لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ اس علم کو چھپا کر مخلوق کو گمراہ کررہے ہیں اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس امانت کی خیانت کے معاوضہ میں دنیا کا معمولی اور حقیر معاوضہ حاصل کررہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو مال دین کو فروخت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

319 یہ فعل التعجب ہے یعنی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنیکے لیے وہ بہت دلیر ہیں جبھی تو وہ بےکھٹکے کتمان ِ حق کیے جا رہے ہیں۔ اور خدا کے عذاب کی ذرا پرواہ نہیں کرتے ما اشجعہم علی النار اذ یعملون عملا یؤدی الیھا (قرطبی ص 236 ج 2)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 174–176

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے طیبات اور محرمات کا قانون بیان کیا ہے مشرکین کا رد کیا ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے اس سے پہلے …ملت ابراہیمی کے اہم اصول ذکر ، شکر ، صبر نماز ، توحید پر یقین اور شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان بھی آ چکا ہے ، ذرائع معاش کا بھی تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین و آسمان کے درمیان مختلف ذرائع معاش پیدا فرمائے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے توحید پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور گزشتہ دو درسوں میں حلال و حرام پر بھی کافی گفتگو ہوچکی ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزلنا الخ یعنی ہماری نازل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ۝ 0 ۚ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ۝ 175 شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 174–176

ترکیب : الذین موصول یکتمون الخ جملہ صلہ مجموعہ اسم ان۔ اولئک مبتدء یاکلون الخ خبر مجموعہ خبران اولئک مبتدء الذین الخ موصول وصلہ خبر فما موضع رفع میں ہے اور یہ کلام تعجب ہے جس سے خدا مسلمانوں کو تعجب دلاتا ہے۔ اصبر میں ضمیر عائد ہے طرف ما کے وہ فاعل ہے ذلک مبتدء بان اللہ الخ خبر والتقدیر ذلک العذاب مستحق بما انزل اللہ فی القرآن من استحقاق عقوبتہ الکافر فالباء متعلقہ بمحذوف۔ تفسیر : مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیزگاری جتلایا کرتے اور مسلمانوں پر منہ آیا کرتے تھے۔ حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی حالت مخمصہ میں بھی مباح نہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰـلَۃَ بِالْھُدٰے وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ ج فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ ۔ (البقرۃ : 175) (یہی لوگ ہیں جنھوں نے گمراہی کو ہدایت پر اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی یہ کس قدر صبر کرنے والے ہیں جہنم کی آگ پر) اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اس طرح سے بنائی ہے کہ اس کے بنائو اور بگاڑ دونوں میں ایک ترتیب اور تدریج پائی جاتی ہے۔ اصلاح کا عمل بھی یکلخت اپنا کام مکمل نہیں کرلیتا بلکہ آہستہ آہستہ دلوں میں اس کی جوت لگتی ہے۔ ایک احساس سا کروٹیں لینے لگتا ہے پھر دماغ اس کی تائید کرتا ہے زبان اقرار کرتی ہے اور باقی اعضاء وجوارح اس کی تعمیل میں لگ جاتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 174–176

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بیشمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپالیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم ﷺ کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال و حرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بےشمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 175: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَۃِ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَی النَّارِ ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍم بَعِیْدٍ : ( یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مہر کے بدلے قہر لے لیا پس کتنا صبر ہے ان کو آگ پر۔ یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ سخت ضد میں ہیں) اُولٰٓپکَ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب یعنی حضرت محمد ﷺ کی تعریف کو چھپایا۔ (تاکہ انکار کریں جو عذاب و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

175۔ اولئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدی والعذاب بالمغفرۃ فی اصبرھم علی النار “ ۔ حضرت عطاء (رح) اور علامہ سدی (رح) فرماتے ہیں (آیت)” فما اصبرھم “ میں ما استفہامیہ ہے ، یعنی وہ کون سی چیز ہے جس نے ان کو آگ پر صابر بنادیا ہے ؟ ” مائ “ بمعنی ای شیئی کے ہوگا یعنی ” ای شیئ “ وہ کون سی چیز ہے جس نے ان کو آگ پر صابر بنادیا حتی کہ انہوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اور باطل کی پیروی کرلی ؟ حضرت حسن (رح) اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ان کو آگ پر کچھ صبر نہیں لیکن (آیت)” فما اصبرھم علی النار “ کا معنی ہے ” مااجراھم “ کہ ان کو اس عمل پر کس چیز نے دلیر کردیا ہے جو عمل ان کو آگ کے قریب کرتا ہے ؟ حضرت کسائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 173–176

اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 174–176

اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ ” یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں “ کیونکہ یہ قیمت جو انہوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انہیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 175–177

مال میں زکوٰۃ کے سوا کوئی اور حق ارشاد باری ہے : لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب ( نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف) تا آخر آیت ۔ اس آیت کی تفسیر میں کہا گیا ہے اللہ سبحان، نے اس سے یہود و نصاریٰ مراد لیے ہیں۔ جب انہوں نے نسخ قبلہ کی بات تسلیم نہیں کی تو اللہ نے انہیں بتادیا کہ نیکی تو اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کے اتباع کے اندر ہے، مشرق یا مغرب کی طرف چہرے کرلینے کے اندر نہیں ہے جبکہ اس میں اللہ کے حکم کی پیروی موجود نہ ہو، نیز یہ کہ اب اللہ کی طاعت کعبہ کی طرف رخ کرنے میں ہے کیونکہ کسی اور طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ قول باری : ولکن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 175–176

470 ہدایت کے بدلے میں گمراہی کے خریدنے کا مطلب ؟ : یعنی جس طرح گاہک اور خریدار اپنی پسند اور اپنے اختیار سے کوئی چیز بشوق ورغبت خریدتا ہے، اسی طرح ان لوگوں نے اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر نور حق و ہدایت سے منہ موڑا اور گمراہی کے اندھیروں کو اپنایا۔ اسی کو یہاں پر " اشتراء " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر اسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے تو ان کو حق اور ہدایت کی دولت سے نوازنے اور سرفراز کرنے کیلئے پختہ اور موثر انتظام فرمایا تھا، کہ ایک طرف تو اس کو عہد الست کی صورت میں نور فطرت کے طور پر ان کی طبیعت اور فطرت وجبلت میں پیوست…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 175–176

گھاٹے کا سودا تشریح : ان آیات میں غلط کار علماء کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور بھی وضاحت سے فرماتا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے اور تھوڑی سی دنیاوی اجرت کے بدلہ میں گمراہی پھیلانے والے کس قدر بیوقوف اور نقصان دہ تجارت کرنے والے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ خیال ذرہ برابر بھی نہیں آتا کہ اس طرح یہ لوگ ہدایت کے بدلے گمراہی خرید رہے ہیں، روشنی کی بجائے تاریکی میں جارہے ہیں، آخرت کی بجائے دنیا کو پسند کر رہے ہیں اور یوں یہ لوگ عارضی فائدوں کی بجائے ہمیشہ کے آرام کو چھوڑ رہے ہیں ان کو یہ خیال بھی نہیں آرہا ہے کہ یہ اتنے بڑے جرم کی سزا میں پھنس رہے ہیں کہ جو سزا مرنے کے بعد ہمیشہ ان کو ملتی رہے گی یہ سب اس لئے ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 168–176

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 175–177

ف 2 ای لکن البر بؤ من امن) تحویل قبلہ کا حکم نازل ہو اتو یہ اہل کتاب اور بعض مسلمانوں پر بہت شاق گزرا۔ (ابن کثیر) اس میں بحث وجدال نے یہاں تک شدت اختیار کرلے کہ اس کو حق و باطل کا معیار سمجھا جانے لگا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعال نے تحویل قبلہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نیکی یہ ہے نہیں کہ تم مشرق ومغرب کی طرف اپنا رخ کرتے ہو۔ اصل مقصود اور اصل نیکی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے نیک اعمال کا ذکر فرمایا کہ ان پر عمل پیرا ہونا اصل نیکی اور تقوی۔ ہے (ابن کثیر۔ کبیر) دراصل یہ آیت جمیع انوع بر حاوی ہے اور اصول عقائد کے ساتھ اعمال واخلاق کے تمام بڑے شعبوں کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:175) اولئک یہی ہیں وہ لوگ۔ اسم اشارہ بعید، جمع مذکر۔ فما اصبرہم علی النار۔ ما استفہامیہ ہے اور بمعنی توبیخ آیا ہے۔ ای مالذی صبرھم وای شیء جسرھم علی النار حتی ترکوا الحق واتبعوا الباطل۔ دوزخ کا عذاب جھیلنے پر انہیں کسی نے صبر دیا اور کس شے نے انہیں اس کی جسارت دلائی کہ حق کو ترک کرکے باطل کے تابع ہوگئے۔ یا ما بمعنی تعجب ہے۔ تعجب ہے ان کے حال پر کہ حق کو ترک کرکے اس جرأت صبر اور بیباکی سے عذاب جہنم کے لئے تیار ہیں۔ کیا ہی ان کا صبر ہے جہنم کے عذاب کو جھیلنے کا۔ اس صورت میں یہ افعال تعجب میں سے ہے (ما افعلہ وافعل بہ۔ افعال تعجب کے دو صیغے ہیں) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 168–176

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 174–176

حق چھپانے کی مذمت شان نزول : یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے پہلے بڑے عالم وقت کہلاتے تھے، ان کی قوم کے جاہلہ لوگوں نے ان کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے بعد یہود نے آپ کے اصلی اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے اس خوف سے چھپا ڈالا کہ آپ کے اصلی اوصاف لوگوں پر کھل جائیں گے ، تو لوگ آپ کو بنی برحق جان کر آپ کی طرف رجوع کریں گے اور ہم کو پھر کوئی نہیں پوچھے گا ، اور ہماری آمدنی بالکل بند ہوجاوے گی ۔ یہود کی اس مذمت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑے لالچ کے مقابلے میں انہوں نے حق بات کو چھپا کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے اور اللہ ان سے ایسا ناخوش ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 173–176

[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 174–176

(ف 1) قوم کے لئے جب کتاب اللہ سے تمسک قائم رہے ، فرق وجماعات الگ اگل نہیں بنتیں اور جب کتاب اللہ میں تحریف وتاویل کے ذریعہ مختلف قسم کے فرقے بناتے جائیں تو پھر وحدت دینی اور اخوت مذہبی مفقود ہوجاتی ہے ، یہودیوں نے جب تک توراۃ کو اللہ کی کتاب سمجھا ، غالب رہے اور تعصب نے انہیں مختلف قوموں میں بانٹ دیا ، قومی حیثیت سے مٹ گئے ، اس لئے اصل شے جو مدار قومیت ہے ، جب وہی نہیں تو پھر قومیت کہاں ؟ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے تورایت کی جو کتاب حق ہے ، مخالفت کی ، اس لئے اب ان میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مٹائے نہیں جاسکتے ۔ حل لغات : بطون : جمع بطن ۔ پیٹ ۔ شقاق : پھوٹ ۔ بر :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 174–176

ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اس کتمان احکام کے معاوضہ میں لوگوں سے ثمن قلیل اور معمولی اجرت وصول کرتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان سے نہ رخ دے کر بات کرے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ احکام الٰہی میں خیانت کرنے والے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ گمراہی اور مغفرت کو نظر انداز کرکے اس کی جگہ عذاب قبول کرلیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کی کیسی برداشت ہے اور یہ آگ کی کیسے سہار کرنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 174–175

ف 4۔ جس جانور کو غیر اللہ کے نامز اس نیت سے کردیا ہو کہ وہ ہم سے خوش ہوں گے اور ہماری کاروائی کردیں گے وہ حرام ہوجاتا ہے اگر ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیاہو۔ اور محرمات حسیہ کا ذکر تھا اس آیت میں محرم معنوی کا بیان ہے جو عادت تھی علما یہود کی احکام غلط بیان کرکے عوام سے رشوت لیتے اور کھاتے تھے نیز اس میں تعلیم ہے علماء امت محمدیہ کو کہ ہم نے جو کچھ احکام بیان فرمائے ہیں کسی نفسیاتی غرض اور منفعت سے ان کے بیان و تبلیغ میں کوتاہی مت کرنا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے عذاب حاصل کرنے والے یہی لوگ ہیں : 303: ہدایت کے بدلے گمراہی کا تعلق تو اس دنیوی زندگی سے ہے اور ” ما “ کلمہ تعجب ہے کہ اپنی ان حرکتوں کے ہولناک ثمرے اور دہشت ناک نتیجے معلوم ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی یہ شوخ چشمی ! اور عذاب جو مغفرت کے بدلے میں ہوا اس کا تعلق عالم آخرت سے ہے یعنی لازمی نتیجہ عدم ایمان کا یہ ہوگا کہ آخرت میں مغفرت کے بدلے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسری جگہ اس کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ : سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ (رح) 0021 وہ کہیں گے کہ ہم تو خود ہی عذاب میں پڑے ہوئے ہیں خواہ جھیل لیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

Mentioned in the earlier verses were unlawful things which are tangible. Now, the verses that follow take up the intangible deeds that have been made unlawful. These are evil deeds, inner and outer. For instance, religious scholars among the Jews were addicted to giving out false verdicts in favour of people who bribed them. They would go to the limit of distorting the verses of the Torah to suit the desire of their client. In this, there is a veiled warning given to the ` ulama', the religious scholars of the community of the Last of the prophets, that they should keep away from such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

173. This means that the blame for the growth of whole new codes consisting of superstitions, perverted customs, and unjustifiable taboos lay squarely on the shoulders of those religious scholars who had knowledge of the Scriptures but failed to transmit their knowledge to the common people. Moreover, later, when erroneous practices began to spread among them they remained mute spectators of this drama. Indeed, some of them kept wilfully silent about these matters thinking that their interests would be better served if the Scripture remained a sealed book and its injunctions were kept beyond…

Read the full tafseer →