Al-Baqara 2:174

Al-Baqara · from ayah 174

2:174

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَیَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا ۙ— اُولٰٓىِٕكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَلَا یُزَكِّیْهِمْ ۖۚ— وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓئِكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, they who conceal what Allah has sent down of the Book and exchange it for a small price - those consume not into their bellies except the Fire. And Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor will He purify them. And they will have a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 21 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:174

حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں ناز ل کیے ہیں اور تھوڑے سے دُنیوی فائدوں پرا نہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا، نہ اُنہیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، اور اُن کے لیے دردناک سزا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ،

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو چھپاتے ہیں اللہ کی کتاب اور اسکے بدلے ذلیل قیمت لیتےہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ کتابِ (تورات کی ان آیتوں) کو جو اﷲ نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے حقیر قیمت حاصل کرتے ہیں، وہ لوگ سوائے اپنے پیٹوں میں آگ بھرنے کے کچھ نہیں کھاتے اور اﷲ قیامت کے روز ان سے کلام تک نہیں فرمائے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کتاب میں سے اتارا ہے اور اس کے بدلے تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھا رہے اور نہ اللہ ان سے قیامت کے دن بات کرے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ان باتوں کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کی ہیں اور اس کام کے عوض تھوڑا سا دنیوی فائدہ اٹھا لیتے ہیں یہ لوگ دراصل اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے کلام کرے گا اور نہ (گناہوں سے) پاک کرے گا۔ اور انہیں دکھ دینے والا عذاب ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو خدا نے اپنی کتاب میں سے اتاری ہے اور اس کے عوض میں حقیر قیمت قبول کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں صرف دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ تو بات کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان کے لیے بس عذاب دردناک ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں اس کتاب کے مضامین کو جسے اللہ نے اتارا ہے اور اس کے بدلے میں وہ اپناتے ہیں دنیا کا فانی اور گھٹیا مول تو ایسے لوگ نہیں بھرتے اپنے پیٹوں میں مگر دوزخ کی ہولناک آگ اور اللہ قیامت کے روز نہ ان سے کلام فرمائے گا اور نہ ہی وہ ان کو پاک فرمائے گا، اور ان کے لئے وہاں پر ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں قلیل قیمت حاصل کرتے ہیں سو ایسے لوگ تو اپنے سینوں میں بس آگ ہی (آگ) بھر تے ہیں۔ اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے نازل کیا ہے کتاب میں سے اور فروخت کرتے ہیں اسے بہت حقیر سی قیمت پر یہ لوگ نہیں بھر رہے اپنے پیٹوں میں مگر آگ اور اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(حق یہ ہے کہ) جو لوگ ان احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کئے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں فروخت کرتے ہیں وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا اور ان کے لئے درد ناک سزا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed those, who conceal the Commands that Allah has sent down in His Book and barter them away for paltry worldly gains, fill their bellies with fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor will He regard them as pure; "a there is a painful torment for them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Verily, those who conceal the Book Allah has revealed, and earn thereby a small price, they eat nothing into their bellies but fire, and Allah will not speak to them on the Day of Judgment, nor will He purify them, and for them there is painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Verily, those who conceal the Book Allah has revealed, and earn thereby a small price, they eat nothing into their bellies but fire, and Allah will not speak to them on the Day of Judgment, nor will He purify them, and for them there is painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who conceal what Allah has sent down of the Book, and purchase a small gain therewith (of worldly things), they eat into their bellies nothing but fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor purify them, and theirs will be a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who hide aught of the Scripture which Allah hath revealed and purchase a small gain therewith, they eat into their bellies nothing else than fire. Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor will He make them grow. Theirs will be a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, they who conceal what Allah has sent down of the Book and exchange it for a small price - those consume not into their bellies except the Fire. And Allah will not speak to them on the Day of Resurrection, nor will He purify them. And they will have a painful punishment.

— Saheeh International

Those who receive some small gain by hiding the Books which God has revealed, have, in fact, filled up their stomachs with fire. God will not speak with them on the Day of Judgment, nor will He purify them; instead, they will face a painful torment.

— Muhammad Sarwar

Surely those who conceal any part of the Book that Allah has revealed and take for it a small price, they eat nothing but fire into their bellies, and Allah will not speak to them on the day of resurrection, nor will He purify them, and they shall have a painful chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who hide that which Allah hath sent down in the Book and Purchase therewith a small gain, these are they who eat in their bellies naught but Fire. Allah will not speak unto them on the Day of Resurrection, nor purify them; and unto them shall be a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who conceal Allah's revelations in the Book, and purchase for them a miserable profit,- they swallow into themselves naught but Fire; Allah will not address them on the Day of Resurrection. Nor purify them: Grievous will be their penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:174

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 174–176

بدترین لوگ یعنی جو یہودی نبی کی صفات کی آیتوں کو جو توراۃ میں ہیں چھپاتے ہیں اور اس کے بعلے اپنی آؤ بھگت عرب سے کراتے ہیں اور عوام سے تحفے اور نقدی سمیٹتے رہتے ہیں وہ اس گھٹیا دنیا کے بدلے اپنی آخرت خراب کررہے ہیں، انہیں ڈرلگا ہوا ہے کہ اگر حضور کی نبوت کی سچائی اور آپ کے دعوے کی تصدیق کی آیتیں (جو توراۃ میں ہیں) لوگوں پر ظاہر ہوگئیں تو لوگ آپ کے ماتحت ہوجائیں گے اور انہیں چھوڑ دیں گے اس خوف سے وہ ہدایت و مغفرت کو چھوڑ بیٹھے اور ضلالت و عذاب پر خوش ہوں گئے اس باعث دنیا اور آخرت کی بربادی ان پر نازل ہوئی، آخرت کی رسوائی تو ظاہر ہے لیکن دنیا میں بھی لوگوں پر ان کا مکر کھل گیا، وقتًا فوقتاً وہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 174–176

سورة الْبَقَرَة 173 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بےجا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ان سب کی ذمہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتاب الہٰی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھُنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے۔ سورة الْبَقَرَة 174 یہ دراصل ان پیشواؤں کے جھوٹے دعو وں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو انہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

خلاصہ تفسیر وربط آیات اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی اور ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے موافق فتوے دیدیتے تھے، اور توریت کی آیات میں تحریف کر کے ان مطلب کے موافق بناتے تھے، اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کریں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں، دین فروشی کی سزا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب (کے مضامین) کا اخفاء کرتے ہیں اور اس (خیانت) کے معاوضہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل کتاب کی بعض تحریمات : یہ اہل کتاب کی طرف اشارہ ہے۔ جس طرح مشرکین نے اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض چیزیں حرام ٹھہرا لی تھیں اور اسلام کی طرف سے ان کی تحلیل کو خلاف تقوی و طہارت قرار دیتے تھے اسی طرح اہل کتاب نے بھی اپنے جی سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے لیا تھا اور اب جب کہ اسلام حرام و حلال کے معاملہ میں اس ضابطے کی طرف لوگوں کو لوٹا رہا تھا جو توہمات و بدعات کے بجائے ملت ابراہیم کی اساس اور وحی الٰہی کی رہنمائی پر مبنی تھا تو یہ لوگ اس کی تائید کرنے کی جگہ کتاب الٰہی کی باتوں کو چھپاتے تھے۔ اس طرح کی ایک سے زیادہ چیزوں کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ مثلاً یہود اونٹ کے متعلق دعوے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 173–176

173۔ 1 اس آیت میں چار حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے لیکن اسے کلمہ حصر (انما) کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام صرف یہی چار چیزیں ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ اس لئے اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حصر ایک خاص سیاق میں آیا ہے یعنی مشرکین کے اس فعل کے ضمن میں کہ وہ حلال جانوروں کو بھی حرام قرار دے لیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو صرف یہ ہیں۔ اس لئے یہ حصر اضافی ہے یعنی اس کے علاوہ بھی دیگر محرمات ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ دوسرا حدیث میں دو اصول جانوروں کی حلت وحرمت کے لئے بیان کر دئیے گئے ہیں وہ آیت کی صحیح تفسیر کے طور پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 173–176

107: اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

جو لوگ آسمانی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات چھپاتے ہیں ان پر ان آیات میں شدید ترین تنقید کی گئی ہے۔ کون لوگ تھے وہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو چھپاتے تھے ؟ سب سے پہلے ان سے مراد اہل کتاب ہیں ۔ لیکن قرآن مجید کی اس آیت کے مفہوم میں ہر مذہب وملت کے وہ لوگ شامل ہیں جو سوچنے سمجھنے کے باوجود حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں چند ٹکوں کی خاطر ان مفادات کی خاطر جو وہ کتمان حق کے نتیجے میں حاصل کرتے ہیں یا اس لئے کہ انہوں نے کچھ مفادات پیش نظر رکھے ہوتے ہیں اور اگر وہ حق بیان کریں تو یہ مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں ۔ یا ثمن قلیل سے مراد پوری دنیا ہے ۔ کتمان حق سے یہ لوگ ثواب آخرت اور رضائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی اللہ نے جو کتاب آسمانی میں حلال و حرام کا حکم بھیجا یہود نے اس کو چھپایا اور اپنی طرف سے بڑھایا گھٹایا جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوچکا ایسے ہی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صفات جو اس میں لکھی تھیں ان کو بھی چھپاتے اور بدلتے تھے اور یہ دونوں سخت گناہ ہیں کیونکہ ان کا مطلب اور نتیجہ یہ ہے کہ ہدایت اور طریقہ حق کسی کو نصیب نہ ہو، سب گمراہ رہیں حالانکہ حق تعالیٰ نے تو کتاب اور رسول کو ہدایت خلق کے لئے بھیجا تھا سو انہوں نے خدا کے بھی خلاف کیا اور خلق اللہ کو بھی جاہل اور گمراہ بنانا چاہا۔ 12 یعنی اللہ کی نافرمانی اور خلق اللہ کی گمراہی پر بس نہیں کی بلکہ اس حق پوشی کے عوض میں جن کو گمراہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 174 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیلْاً لا یعنی اس کے عوض دنیوی فائدوں کی صورت میں حقیر قیمت قبول کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

217 آیت نمبر 159 کے مضمون کو دہرایا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ کتمان حق کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ پیشوا قسم کے لوگ اس کے عوض کچھ نہ کچھ دنیوی مفاد اور مال و دولت حاصل کرلیتے ہیں آیات کی تاویل یا فقہاء کے مختلف اقوال کو بنیاد بنا کر غلط فتویٰ دیتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف تو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ دوسرے ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ فتویٰ جتنا زیادہ غلط قسم کا ہو اتنے ہی ان کے دام زیادہ وصول کئے جاتے ہیں، یہ مال بلاشبہ حرام ہے جو دوزخ کی ظاہری آگ کے علاوہ ان کے اندر بھی آگ لگا دے گا۔ 218 یہاں کلام نہ کرنے سے مراد اللہ تعالیٰ کی انتہائی خفگی اور ناراضگی ہے۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

619 ۔ یہود کی جانب اشارہ ہے جو اپنے ہاں کی اصل آسمانی تعلیمات کو چھپاتے تھے اور اس اخفاوکتمان سے ان کا مقصود کچھ نفع دنیوی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ (آیت) ” ثمناقلیلا “ سے یہ مراد نہیں کہ زیادہ قیمت اور بڑے معاوضہ پر دین فروشی جائز ہے۔ مراد اس سے محض دنیوی معاوضہ ہے۔ اور دنیوی معاوضہ نفع آخرت کے مقابلہ میں ہمیشہ قلیل ہی ہوگا۔ 620 ۔ یہود کا جرم اخفائے حق اور کتمان وحی آسمانی ان کی معصیت اکل حرام سے کہیں بڑھا ہوا تھا۔ اس لیے اس جرم کی سزا بھی اس سے سخت تر مذکور ہوئی۔ 621 ۔ (بہ طریق لطف وملاطفت) جو خطاب بہ طریق عتاب ہوگا، وہ ظاہر ہے کہ اس سے مستثنی ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی اپنے بندوں سے گفتگو ان کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 174–176

آیت نمبر 174 تا 176 ترجمہ : بلاشبہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کتاب (تورات) کو جو اللہ نے نازل کی ہے جو محمد ﷺ کی صفات پر مشتمل ہے (اور چھپانے والے) یہود ہیں اور اس کے عوض دنیوی قلیل قیمت لیتے ہیں اور چھپانے کے بدلے اپنے عوام سے قلیل ثمن وصول کرتے ہیں، اور اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے اندیشہ سے حضور ﷺ کی صفات کو ظاہر نہیں کرتے، یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں محض آگ بھر رہے ہیں، اس لئے کہ دوزخ انکا انجام ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان پر غضبنا کی کی وجہ سے ان سے کلام نہ کرے گا، اور نہ ان کو گناہوں کی گندگی سے پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ ہے الیمٌ بمعنی مولِمٌ ہے، یہی وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ ( بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں وہ آیتیں کہ اتاریں اللہ نے۔ کتاب میں ما انزل اللہ سے مراد تورات کی وہ آیتیں ہیں جو محمد ﷺ کی شان میں وارد ہوئی ہیں۔ اس آیت کا شان نزول اس طرح ہوا تھا کہ یہود کے رؤسا اور علماء بےچارے غریب لوگوں سے طرح طرح کے ہدایا اور کھانے پینے کی چیزیں لیا کرتے تھے اور جی میں یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخر الزماں ہم لوگوں میں سے ہوں گے جب جناب سرور عالم ﷺ ان میں مبعوث نہ ہوئے تو اب یہ ڈرے کہ اگر ہم نے آپ کا اتباع کرلیا تو یہ ساری آمدنی ہاتھ سے جاتی رہے گی اس لیے انہوں نے یہ بےہودگی کی کہ آپ کی صفت کو بدل ڈالا پھر وہ صفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 174–175

(174۔ 175) یہ اہل کتاب حضور اکرم ﷺ کی توصیف وتعریف لوگوں سے چھپاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی کتاب میں بیان کی ہے اور اس چھپانے پر معمولی سا معاوضہ لیتے ہیں یہ آیت کعب بن اشرف، حی بن اخطب اور جدی بن اخطب کے بارے میں اتری ہے۔ حرام کے علاوہ ان لوگوں کے شکموں میں اور کوئی چیز نہیں جاتی، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ آگ کے علاوہ ان کے پیٹوں میں قیامت کے دن اور کوئی چیز نہیں جائے گی اور نہ یہ گناہوں سے پاک ہوں گے اور نہ ہی ان کی کسی قسم کی تعریف کی جائے گی اور ان کو ایسا دردناک عذاب ملے گا کہ اس کی سختی ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی ان لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر اور اسلام کے بدلے یہودیت کو خرید لیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 174–176

یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں، جو دنیا کے جاہ و مال کے حصول کی خاطر تورات میں مذکور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو چھپا رہے تھے۔ (دیکھیے بقرہ : 159) مگر اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جو دنیا کے مفاد کی خاطر دین کو فروخت کرے۔ ثَـمَنًا قَلِيْلًا اس کا معنی یہ نہیں کہ زیادہ قیمت لے سکتے ہیں، بلکہ ساری دنیا بھی مل جائے تو وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (قُلْ مَتَاع الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ) [ النساء : 77] ”کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے۔“ فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ”مَا“ بمعنی ”اَیُّ شَیْءٍ“ اسم تعجب مبتدا، ”اَصْبَرَھُمْ“ فعل ماضی مع فاعل، ”ھُمْ“ مفعول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 174 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب اس سے مراد علماء یہود ہیں۔ تورات میں محمد ﷺ کی صفت اور رسالت کی صحت کے متعلق جو اللہ نے نازل کیا تھا اسے انہوں نے چھپایا۔ انزل بمعنی اظھر ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ اس آیت میں سانزل بمعنی سأظھر ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ نزول کے معنی میں ہی ہے۔ یعنی جو ملائکہ نے اس کے رسل پر اتارا۔ ویشترون بہ، بہ میں ضمیر کا مرجع چھپائی گئی بات ہے۔ ثمنا قلیلا یعنی رشوت لیتے ہیں۔ اسکو قلیل فرمایا کیونکہ اس کی مدت ختم ہونے والی ہے اور اس کا انجام برا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جو وہ رشوت لیتے تھے وہ تھوڑی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “ اور وہ آیت جو آل عمران میں ہے لفظ آیت ” ان الذین یکتمون اللہ من الکتب ویشترون بہ ثمنا قلیلا “ یہ آیتیں یہود کے بارے میں نازل ہوئیں۔ (2) ابن جریر نے سدی (رح) سے اس آیت نے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے محمد ﷺ کے اسم مبارک کو چھپایا اور اس پر لالچ کی بنیاد پر تھوڑا سا مال حاصل کیا۔ (3) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب “ سے مراد ہے کہ اس کتاب نے چھپایا جو اللہ تعالیٰ نے ان کی کتابوں میں حق اور ہدایت اور اسلام اور محمد ﷺ کی شان اور تعریف کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک وہ لوگ جو ] [ یَکْتُمُوْنَ : چھپاتے ہیں ] [ مَا : اس کو جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنَ الْکِتٰبِ : کتاب میں سے ] [ وَیَشْتَرُوْنَ : اور وہ لوگ خریدتے ہیں ] [ بِہٖ : اس کے بدلے ] [ ثَمَنًا قَلِیْلًا : تھوڑی قیمت ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ مَا یَاْکُلُوْنَ : نہیں کھاتے ] [ فِیْ بُطُوْنِھِمْ : اپنے پیٹوں میں ] [ اِلاَّ : مگر ] [ النَّارَ : آگ ] [ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ : اور کلام نہیں کرے گا ان سے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : قیامت کے دن ] [ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ : اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا ] [ وَلَھُمْ : اور ان کے لیے ہے ] [ عَذَابٌ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 174–176

کتاب اللہ کی تحریف کرنے والوں کا انجام ان آیات میں اللہ کی نازل فرمودہ کتاب کو چھپانے اور اس میں تحریف و تبدیل کرنے اور غلط تفسیر بتانے اور پھر اس کو دنیاوی معاوضہ کا ذریعہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اسباب النزول میں (ص 44) علامہ واحدی نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے رؤسا اور علماء کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے نیچے کے لوگوں سے ہدایا و صول کرتے تھے اور وہ یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ نبی آخر الزماں ﷺ ان میں سے ہوں گے۔ لیکن جب نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوگئی جو ان کے قبائل میں سے نہیں ہیں تو ان کی صفات کو بدل دیا جو توریت میں پاتے تھے اور دوسری صفات بتادیں جو توریت میں نہیں تھیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 174–176

ذکر محرمات معنویہ مثل دین فروشی وحق پوشی۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزل اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ لفی شقاق بعید۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں محرمات حسیہ کا بیان تھا ان آیات میں محرمات معنویہ کو بیان کرتے ہیں جو حرمت میں محرمات حسیہ سے بڑھ کر ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق جو اہل کتاب میتہ اور خنزیر کی حرمت پر اعتراض کرتے ہیں تعجب ہے کہ یہ لوگ اس علم کو چھپاتے ہیں جس کو اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ اس علم کو چھپا کر مخلوق کو گمراہ کررہے ہیں اور پھر اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ اس امانت کی خیانت کے معاوضہ میں دنیا کا معمولی اور حقیر معاوضہ حاصل کررہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو مال دین کو فروخت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

316 نذر غیر اللہ کے احکام بیان کرنے کے بعد اب ان لوگوں کے لیے زجر اور تخویف اخروی بیان فرمائی جو نہ صرف یہ کہ نذر غیرا للہ کے احکام چھپاتے ہیں بلکہ خود غیر اللہ کی نذریں نیازیں کھاتے بھی ہیں جن کو اللہ نے صاف صاف حرام فرمایا ہے۔ آج کل جو مولوی اور گدی نشین نذر ونیاز کا صحیح مسئلہ بیان نہیں کرتے بلکہ خود غیر اللہ کی نیازیں مزے سے کھاتے ان کے لیے بھی آخرت میں یہی سزا مقرر ہے۔ یہ آیت اگرچہ یہود کے حق میں نازل ہوئی تھی جو تورات میں بیان کیے ہوئے حلت و حرمت وغیرہ کے احکام اور آنحضرت ﷺ کے تورات میں بیان کردہ اوصاف چھپاتے تھے لیکن اس کا حکم عام ہے اور امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کے علماء کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 174–176

گزشتہ سے پیوستہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے طیبات اور محرمات کا قانون بیان کیا ہے مشرکین کا رد کیا ہے اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرر کردہ قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے اس سے پہلے …ملت ابراہیمی کے اہم اصول ذکر ، شکر ، صبر نماز ، توحید پر یقین اور شعائر اللہ کی تعظیم کا بیان بھی آ چکا ہے ، ذرائع معاش کا بھی تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح زمین و آسمان کے درمیان مختلف ذرائع معاش پیدا فرمائے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ نے توحید پر بطور دلیل پیش کیا ہے اور گزشتہ دو درسوں میں حلال و حرام پر بھی کافی گفتگو ہوچکی ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزلنا الخ یعنی ہماری نازل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَـمَنًا قَلِيْلًا۝ 0 ۙ اُولٰۗىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِہِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُہُمُ اللہُ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَلَا يُزَكِّيْہِمْ۝ 0 ۚ ۖ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 174 كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، وقال : وَإِنَّ فَرِيقاً مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [ البقرة/ 146] ، وَلا تَكْتُمُوا الشَّهادَةَ [ البقرة/ 283] ، وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 174–176

ترکیب : الذین موصول یکتمون الخ جملہ صلہ مجموعہ اسم ان۔ اولئک مبتدء یاکلون الخ خبر مجموعہ خبران اولئک مبتدء الذین الخ موصول وصلہ خبر فما موضع رفع میں ہے اور یہ کلام تعجب ہے جس سے خدا مسلمانوں کو تعجب دلاتا ہے۔ اصبر میں ضمیر عائد ہے طرف ما کے وہ فاعل ہے ذلک مبتدء بان اللہ الخ خبر والتقدیر ذلک العذاب مستحق بما انزل اللہ فی القرآن من استحقاق عقوبتہ الکافر فالباء متعلقہ بمحذوف۔ تفسیر : مدینہ کے یہود جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے کھانے یا نہ کھانے میں بڑی پرہیزگاری جتلایا کرتے اور مسلمانوں پر منہ آیا کرتے تھے۔ حالانکہ خود ایسے حرام کھانے میں بڑے مشاق تھے کہ جو کسی حالت مخمصہ میں بھی مباح نہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآاَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا لا اُوْلٰٓئِکَ مَایَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّاالنَّارَ وَلَا یُکَلِّمُھُُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ صلے وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (بےشک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں سے اتاری ہے اور اس کے عوض میں حقیر قیمت قبول کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں صرف دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے اللہ قیامت کے دن نہ تو بات کرے گانہ ان کو پاک کرے گا، ان کے لیے بس دردناک عذاب ہے) (البقرۃ : 174) اس رکوع میں خطاب اگرچہ مشرکینِ عرب یا نو مسلموں سے رہا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 174–176

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے حرام و حلال کی فہرست میں تبدیلی کرنے کے ساتھ بیشمار حقائق کو پیٹ کے دھندے کی خاطر چھپالیا تھا جس پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔ اہل ایمان کو ان سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اہل کتاب کے علماء نے صرف رسول معظم ﷺ کے اوصاف حمیدہ ہی نہیں چھپائے بلکہ اپنی شکم پروری اور بڑے لوگوں کی عیاشی اور مفادات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام بھی چھپانے کے جرم میں ملوّث ہوئے۔ جن میں حلال و حرام کی وضاحت کی گئی تھی۔ اس طرح بےشمارامور کو اپنے لیے جائز اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے کی جسارت کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے شکم پروری، سیاسی مفاد، مذہبی مقام اور آخرت کی عظیم اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

174۔ شان نزول : یہ آیت یہود کے ان سرداروں کے متعلق اتری جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفت تبدیل کردی اور اس پر رشوت بھی لی۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوْنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً اُولٰٓپکَ مَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ: (بےشک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ان آیات کو جو اللہ تعالیٰ نے اتاریں کتاب میں اور اس کے بدلے لیتے ہیں قیمت یہ لوگ اپنے پیٹوں میں آگ بھر کر کھاتے ہیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 174: ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب “ یہودیوں کے علماء اور سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی وہ اپنے ماتحت (عوام) سے ہدایات لیتے اور کھانے کی اشیاء اور اس امید میں تھے کہ نبی مبعوث ان میں سے ہوں گے ۔ جب حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) تشریف لائے ان کو اپنے کھانے دانے اور زوال ریاست کی فکر لاحق ہوئی ، چناچہ انہوں نے صفت رسول اللہ ﷺ کو (جوان کی کتاب میں تھی) تبدیل کردیا ، پھر اس (تورات) میں تبدیل شدہ صفت کو عوام کے لیے نکالا جب ماتحت (عوام) نے تبدیل شدہ صفت محمدی کو دیکھا کہ یہ تو حضور ﷺ کی صفات واقعیہ کے برعکس ہے ۔ پس انہوں نے حضور ﷺ کی اتباع نہ کی ، پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت)”…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 173–176

اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 174–176

اللہ تعالیٰ نے جو علم اپنے رسولوں پر نازل فرمایا اور لوگوں پر اس علم کو واضح کرنے اور اس کو نہ چھپانے کا اہل علم سے وعدہ لیا۔ اس علم کو جو لوگ چھپاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس میں ان کو سخت وعید سنائی ہے۔ پس جو لوگ اس علم کے عوض دنیاوی مال و متاع سمیٹتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو دور پھینک دیتے ہیں۔ انہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ ” یہ اپنے پیٹوں میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں “ کیونکہ یہ قیمت جو انہوں نے (آیات الٰہی کے عوض) کمائی ہے یہ انہیں بدترین اور انتہائی حرام طریقے سے حاصل ہوئی ہے، لہٰذا ان کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(بقیہ تفسیر سابقہ آیت) گھی میں گر کر مرجانے والی چوہیا کا مسئلہ قول باری ہے : انما حرم علیکم المیتۃ نیز ارشاد ہے : حرمت علیکم المیتۃ یہ آیات ان مائع چیزوں کی تحریم کی متقضی نہیں ہیں جن میں گر کر کوئی جانور مرجائے، بلکہ یہ صرف عین مردار اور مردار کے اردگرد والے حصوں کی تحریم کی متقضی بھی ہیں مذکورہ مائع چیز مردار نہیں کہلائے گی۔ اس لئے تحریم کا لفظ اسے شامل نہیں ہوگا۔ تاہم حضور ﷺ کی سنت سے اس مائع چیز کے استعمال کی حرمت ثابت ہے چناچہ زہری نے سعید المسیب سے، اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور ﷺ سے گھی کے اندر گر جانے والی چوہیا کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے جواب میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 173–174

462 حصر سے یہاں پر مراد حصر حقیقی نہیں اضافی ہے : یعنی " اِنَّما " کے کلمہء حصر سے جو حصر یہاں مستفاد ہو رہا ہے، اس سے مراد حصر حقیقی نہیں، اضافی ہے۔ یعنی یہ حصران محرمات کے اعتبار سے ہے جن کو مشرکین نے از خود تراش رکھا تھا، جیسے " بحیرہ "، " سائبہ "، اور " وصیلہ " وغیرہ۔ سو اس حصر کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو حرام نہیں فرمایا جن کو تم لوگوں نے ازخود حرام قرار دے رکھا ہے۔ بلکہ اس نے تو محض ان اور ان چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو کہ خود تمہارے لئے ضرر و نقصان کا باعث تھیں، اور ہیں۔ دنیا و آخرت دونوں میں۔ پس تم ہمیشہ انہی سے احتراز کرو۔ سو دارین کی سلامتی اللہ تعالیٰ کے احکام کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

علم کو چھپانے کی سزا تشریح : معارف القرآن میں بڑی مختصر اور جامع تفسیر بیان کی گئی ہے۔ لکھتے ہیں ” اس سے پہلی آیات میں ان حرام چیزوں کا ذکر تھا جو محسوسات میں سے ہیں، اگلی آیات میں ایسے حرام کاموں کا ذکر ہے جو محسوس نہیں بلکہ وہ باطنی و ظاہری اعمال شر ہیں مثلاً علمائے یہود میں یہ مرض تھا کہ عوام سے رشوت لے کر ان کے مطلب کے مطابق غلط فتوے دے دیتے تھے اور تورات کی آیات میں تحریف کرکے ان کے مطلب کے موافق بناتے تھے۔ اس میں امت محمدیہ کے علماء کو بھی تنبیہہ ہے کہ وہ ایسے افعال سے اجتناب کرلیں کسی نفسانی غرض سے احکام حق کے اظہار میں کوتاہی نہ کریں “۔ کیونکہ یہ بہت ہی بڑا گناہ ہے اور جو معاوضہ وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 168–176

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یہ آیات گو علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ہیں جو دینوی مال وجاہ کے حصول کی خاطر توریت میں ذکر کیے ہوئے آنحضرت ﷺ کے اوصاف چھپا رہے تھے۔ (دیکھئے آیت 159) مگر اس سے وہ شخص مراد ہوسکتا ہے جو دینوی مفاد کی خاطر دین فروشی کرے ( قرطبی۔ بحر) ولا یکلمھم اللہ میں نفی خطاب بطریق لطف و عنایت ہے ورنہ بطریق عتاب وزجر تو باری تعالیٰ ان سے مخاطب ہوں گے۔ (دیکھئے المو منون آیت 108) الکتاب میں اختلاف بطریق تحریف یا ایمان ببعض الکتاب اور کفر بالبعض کی صورت میں۔ ( دیکھئے آیت 75 ۔ 85 ۔ 91)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:174) یکتمون۔ مضارع جمع مذکر غائب کتم (باب نصر) مصدر وہ چھپاتے ہیں یا چھپالیتے ہیں۔ ما انزل اللہ میں ما موصولہ ہے من الکتب۔ ای فی الکتب فی صفۃ محمد ﷺ ۔ یعنی ان کی الہامی کتاب توراۃ یا انجیل میں رسول کریم ﷺ کی بعثت کے متعلق جو نازل ہوا تھا اس کو چھپالیتے ہیں یا من تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی یہود توراۃ میں بعض تعلیمات و حقائق کو چھپالیتے تھے اور اس سے مقصود ان کا دنیاوی نفع کمانا ہوتا تھا۔ یشترون بہ۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اشتراء (افتعال) مصدر وہ بدلہ میں لیتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں ۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع کتمان حقیقت ہے یا یہ ضمیر ما انزل اللہ من الکتب کی طرف عائد ہے۔ ثمنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 168–176

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 174–176

حق چھپانے کی مذمت شان نزول : یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے پہلے بڑے عالم وقت کہلاتے تھے، ان کی قوم کے جاہلہ لوگوں نے ان کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے بعد یہود نے آپ کے اصلی اوصاف کو جو توریت میں مذکور تھے اس خوف سے چھپا ڈالا کہ آپ کے اصلی اوصاف لوگوں پر کھل جائیں گے ، تو لوگ آپ کو بنی برحق جان کر آپ کی طرف رجوع کریں گے اور ہم کو پھر کوئی نہیں پوچھے گا ، اور ہماری آمدنی بالکل بند ہوجاوے گی ۔ یہود کی اس مذمت میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ تھوڑے لالچ کے مقابلے میں انہوں نے حق بات کو چھپا کر اپنے پیٹ میں آگ بھری ہے اور اللہ ان سے ایسا ناخوش ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 173–176

[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 174–176

(ف 1) قوم کے لئے جب کتاب اللہ سے تمسک قائم رہے ، فرق وجماعات الگ اگل نہیں بنتیں اور جب کتاب اللہ میں تحریف وتاویل کے ذریعہ مختلف قسم کے فرقے بناتے جائیں تو پھر وحدت دینی اور اخوت مذہبی مفقود ہوجاتی ہے ، یہودیوں نے جب تک توراۃ کو اللہ کی کتاب سمجھا ، غالب رہے اور تعصب نے انہیں مختلف قوموں میں بانٹ دیا ، قومی حیثیت سے مٹ گئے ، اس لئے اصل شے جو مدار قومیت ہے ، جب وہی نہیں تو پھر قومیت کہاں ؟ ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے تورایت کی جو کتاب حق ہے ، مخالفت کی ، اس لئے اب ان میں اختلافات اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ مٹائے نہیں جاسکتے ۔ حل لغات : بطون : جمع بطن ۔ پیٹ ۔ شقاق : پھوٹ ۔ بر :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 174–176

ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے احکام چھپاتے ہیں اور اس کتمان احکام کے معاوضہ میں لوگوں سے ثمن قلیل اور معمولی اجرت وصول کرتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ کے انگارے بھر رہے ہیں اور قیامت میں اللہ تعالیٰ ان سے نہ رخ دے کر بات کرے گا اور نہ ان کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرے گا اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا۔ یہ احکام الٰہی میں خیانت کرنے والے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر اس کی جگہ گمراہی اور مغفرت کو نظر انداز کرکے اس کی جگہ عذاب قبول کرلیا۔ تعجب ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کی کیسی برداشت ہے اور یہ آگ کی کیسے سہار کرنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 174–175

ف 4۔ جس جانور کو غیر اللہ کے نامز اس نیت سے کردیا ہو کہ وہ ہم سے خوش ہوں گے اور ہماری کاروائی کردیں گے وہ حرام ہوجاتا ہے اگر ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیاہو۔ اور محرمات حسیہ کا ذکر تھا اس آیت میں محرم معنوی کا بیان ہے جو عادت تھی علما یہود کی احکام غلط بیان کرکے عوام سے رشوت لیتے اور کھاتے تھے نیز اس میں تعلیم ہے علماء امت محمدیہ کو کہ ہم نے جو کچھ احکام بیان فرمائے ہیں کسی نفسیاتی غرض اور منفعت سے ان کے بیان و تبلیغ میں کوتاہی مت کرنا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے نازل کردہ احکامات کو چھپانا اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے : 302: یہود کی طرف اشارہ ہے جو اپنے ہاں کی اصل آسمانی تعلیمات کو چھپاتے تھے اور اس اخفاء و کتمان سے ان کا مقصود کچھ نفع دنیوی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ ” ثمناً قلیلا ً “ سے یہ مراد نہیں کہ زیادہ قیمت اور بڑے معاوضہ پر دین فروشی جائز ہے۔ اس سے مراد محض دنیوی معاوضہ ہے کیونکہ دنیوی معاوضہ نفع آخرت کے مقابلہ میں خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ہمیشہ قلیل ہی ہوگا۔ یہود کا جرم اخفائے حق اور کتمان وحی الٰہی ان کی معصیت اکل حرام سے بھی کہیں زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ اس لئے اس جرم کی سزا بھی اس سے سخت ترمذکور ہوئی۔ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہ کرنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

Mentioned in the earlier verses were unlawful things which are tangible. Now, the verses that follow take up the intangible deeds that have been made unlawful. These are evil deeds, inner and outer. For instance, religious scholars among the Jews were addicted to giving out false verdicts in favour of people who bribed them. They would go to the limit of distorting the verses of the Torah to suit the desire of their client. In this, there is a veiled warning given to the ` ulama', the religious scholars of the community of the Last of the prophets, that they should keep away from such…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 174–176

173. This means that the blame for the growth of whole new codes consisting of superstitions, perverted customs, and unjustifiable taboos lay squarely on the shoulders of those religious scholars who had knowledge of the Scriptures but failed to transmit their knowledge to the common people. Moreover, later, when erroneous practices began to spread among them they remained mute spectators of this drama. Indeed, some of them kept wilfully silent about these matters thinking that their interests would be better served if the Scripture remained a sealed book and its injunctions were kept beyond…

Read the full tafseer →