مسئلہ
مردار کا دودھ اور اس کے انڈے جو اس میں ہوں نجس ہیں امام شافعی کا یہی مذہب ہے اس لئے کہ وہ بھی میت کا ایک جزو ہے، امام مالک رحمتہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ تو وہ پاک لیکن میت میں شامل کی وجہ سے جنس ہوجاتا ہے، اسی طرح مردار کی کھیس (کھیری) بھی مشہور مذہب میں ان بزرگوں کے نزدیک ناپاک ہے گو اس میں اختلاف بھی ہے، صحابہ ؓ کا مجوسیوں کا پنیر کھانا گو بطور اعتراض ان پر ہوسکتا ہے مگر اس کا جواب قرطبی نے یہ دیا ہے کہ دودھ بہت ہی کم ہوتا ہے اور کوئی بہنے والی ایسی تھوڑی سی چیز اگر کسی مقدار میں زیادہ بہنے والی میں بڑ جائے تو کوئی حرج نہیں نبی ﷺ سے گھی اور پنیر اور گور خر کے بارے میں سوال ہوا تو…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 171
اس کا اطلاق اس جانور کے گوشت پر بھی ہوتا ہے جسے خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو اور اس کھانے پر بھی ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر بطور نذر کے پکایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جانور ہو یا غلہ یا اور کوئی کھانے کی چیز، دراصل اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ ہی نے وہ چیز ہم کو عطا کی ہے۔ لہٰذا اعتراف نعمت صدقہ و نذر و نیاز کے طور پر اگر کسی کا نام ان چیزوں پر لیا جاسکتا ہے تو وہ صرف اللہ ہی کا نام ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا نام لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ ہم خدا کے بجائے یا خدا کے ساتھ اس کی بالاتری بھی تسلیم کر رہے ہیں اور اس کو بھی منعم سمجھتے ہیں۔
سورة…
Read the full tafseer →اِنَّمَا حَرَّمَ کلمہ انما حصر کے لئے آتا ہے اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف وہ چیزیں حرام کی ہیں جن کا آگے ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا کچھ حرام نہیں اس آیت میں تو لفظ انما سے اس کی طرف اشارہ ہوا اور دوسری آیت میں اس سے زیادہ صراحت کے ساتھ یہ بھی آیا ہے، قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ الآیۃ (145: 6) اس میں آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ میری وحی میں بجز ان چند چیزوں کے جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے اور کوئی چیز حرام نہیں،
مگر اس پر اشکال یہ ہے کہ دوسری آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے ان چند چیزوں کے علاوہ اور بھی…
Read the full tafseer →ملت ابراہیم میں حرام و حلال : یہ اشارہ ہے ان چیزوں کی طرف جو اصلاً ملت ابراہیم میں حرام ٹھہرائی گئی تھیں اور مقصود اس سے ہرگز ہرگز حرام و حلال کی تفصیل پیش کرنا نہیں ہے بلکہ صرف مشرکین کی تردید ہے کہ انہوں نے اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت چوپایوں میں سے بعض کو جو حرام قرار دے دیا ہے یہ بالکل بےسند بات ہے، ملت ابراہیم میں یہ چیزیں حرام تھیں۔ بالکل اسی سیاق میں یہی بات سورة انعام میں اس طرح فرمائی گئی ہے " قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
173۔ 1 اس آیت میں چار حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے لیکن اسے کلمہ حصر (انما) کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حرام صرف یہی چار چیزیں ہیں جبکہ ان کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جو حرام ہیں۔ اس لئے اول تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حصر ایک خاص سیاق میں آیا ہے یعنی مشرکین کے اس فعل کے ضمن میں کہ وہ حلال جانوروں کو بھی حرام قرار دے لیتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ حرام نہیں حرام تو صرف یہ ہیں۔ اس لئے یہ حصر اضافی ہے یعنی اس کے علاوہ بھی دیگر محرمات ہیں جو یہاں مذکور نہیں۔ دوسرا حدیث میں دو اصول جانوروں کی حلت وحرمت کے لئے بیان کر دئیے گئے ہیں وہ آیت کی صحیح تفسیر کے طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
107: اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تو وہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد مخصوص طور پر بعض ان چیزوں کو جو حرام قرار دی گئی ہیں بیان کردیا جاتا ہے ۔ اور لفظ قصر ” انما “ استعمال کرکے دائرہ محرمات کو محدود کردیا إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ” اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ تم حرام نہ کھاؤ۔ خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ “
ہر سلیم الفطرت انسان ، ازروئے طبع مردار کو ناپسند کرتا ہے ۔ یہی حال خون کا ہے لیکن فطرت کی کراہت کے علاوہ قرآن اور اس سے پہلے تورات کی بیان کردہ حرمت کے طویل عرصہ…
Read the full tafseer →5 مردار وہ ہے کہ خود بخود مرجائے اور ذبح کی نوبت نہ آئے یا خلاف طریقہ شرعیہ اس کو ذبح یا شکار کیا جائے مثلا گلا گھونٹا جائے یا زندہ جانور کا کوئی عضو کاٹ لیا جائے یا لکڑی اور پتھر اور غلیل و بندوق سے مارا جائے یا اوپر سے گر کر یا کسی جانور کے سینگ مارنے سے مرجائے یا درندہ پھاڑ ڈالے یا ذبح کے وقت قصدا تکبیر کو ترک کیا جائے کہ یہ سب مردار اور حرام ہیں البتہ دو جانور مردار بحکم حدیث شریف اس حرمت سے مستثنیٰ اور ہم کو حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی۔
6 اور خون سے مراد وہ خون ہے جو رگوں سے بہتا ہے اور ذبح کے وقت نکلتا ہے اور جو خون کہ گوشت پر لگا رہتا ہے وہ حلال اور پاک ہے اگر گوشت کو بغیر دھوئے ہوئے پکا…
Read the full tafseer →آیت 173 اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ
جو جانور اپنی موت آپ مرگیا ‘ ذبح نہیں کیا گیا وہ حرام ہے اور خون حرام ہے ‘ نجس ہے۔ اسی لیے ِ اہل اسلام کا ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صرف گردن کو کاٹا جائے ‘ تاکہ اس میں شریانیں وغیرہ کٹ جائیں اور جسم کا اکثر خون نکل جائے۔ لیکن اگر جھٹکا کیا جائے ‘ یعنی تیز دھار آلے کے ایک ہی وار سے جانور کی گردن الگ کردی جائے ‘ جیسے سکھ کرتے ہیں یا جیسے یورپ وغیرہ میں ہوتا ہے ‘ تو پھر خون جسم کے اندر رہ جاتا ہے۔ اس طریقے سے مارا گیا جانور حرام ہے۔
وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ ج
یعنی کسی جانور کو ذبح کرتے ہوئے کسی بت کا ‘…
Read the full tafseer →215 اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے :
1۔ مردار خواہ وہ کسی طریقہ سے مرا ہو۔ طبعی موت سے یا کہیں گر کر یا لاٹھی لگنے سے یا سینگ کی ضرب سے یا کسی درندے نے مار ڈالا ہو۔ سب صورتوں میں حرام ہے۔
2۔ وہ خون جو ذبح کرتے وقت رگوں سے باہر نکل جاتا ہے اور جو گوشت کے ساتھ لگا رہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ نیز حدیث میں آیا ہے کہ دو مردار حلال ہیں یعنی مچھلی اور ٹڈی اور دو خون حلال ہیں۔ کلیجی اور تلی جو منجمد خون ہی ہوتا ہے۔ (احمد، بحوالہ مشکوٰۃ کتاب الصید والذبائح باب مایحل اکلہ ما یحرم فصل ثانی)
3۔ خنزیر یا سور جو نجس عین ہے۔ اس کا صرف گوشت کھانا ہی حرام نہیں بلکہ یہ زندہ یا مردہ اس کی کسی بھی چیز سے…
Read the full tafseer →615 ۔ یعنی حیوانات کے سلسلہ میں تو شریعت الہی کی حرام کی ہوئی بس یہ چیزیں ہیں، نہ وہ چیزیں جو تم نے اپنی تجویز سے گڑھ رکھی ہیں، یہاں تردید تمامتر مشرکوں کے خود تراشیدہ محرمات کی ہورہی ہے۔ باقی جو چیزیں حدیث صحیح کی بنا پر، یا کسی اور دلیل شرعی سے حرام ہیں، ان سے آیت کو کوئی بحث نہیں۔ لیس المراد من الایۃ قصر الحرمۃ علی ما ذکر مطلقا بل مقید بما اعتقدوہ حلالا (روح) (آیت) ” المیتۃ “۔ میتہ یا مردار وہ جانور ہے جو بغیر کسی کے ہلاک کیے از خود مرجائے، یا ہلاک تو کیا جائے لیکن ذبح شرعی کے مطابق نہ ہو۔ ھو غیر المزکی اما لانہ لم یذبح اوانہ ذبح ولکن لم یکن ذبحہ ذکاۃ (کبیر) وھی کل مافارقہ الروح میں غیر…
Read the full tafseer →ربط آیات : اوپر تو اس کا بیان تھا کہ حلال کو حرام مت کرو گے اس کا ذکر ہے کہ حرام کو حلال مت سمجھو مثلاً مردار جانور اور ایسے جانور جن کو غیر اللہ کے نام ذبح کیا گیا ہو، اس میں اشارہ ہئ کہ نیک عمل کی توفیق اور دعا قبول ہونے میں اکل حلال کو بڑا دخل ہے، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول کرتا ہے، اور مومنین کو وہی حکم کرتا ہے جو مرسلین کو کرتا ہے، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر فرمایا جو طویل سفر طے کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے یا ربِّ یا ربِّ اشعَثَ اَغْبَرَ ، مَطْعَمَہٗ حرام و مشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فانیّٰ…
Read the full tafseer →اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ ( بس اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار) ابو جعفر نے المیتۃ کو تمام قرآن میں تشدید سے پڑھا ہے اور قراء نے بعض مواقع میں مشدد پڑھا ہے اور بعض میں نہیں ہم انشاء اللہ عنقریب مفصلاً ذکر کریں گے اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ لفظ انّما (سوائے اس کے نہیں) مفید حصر کو ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ نے سوائے مردار اور خون کے اور کوئی شے حرام نہیں فرمائی۔ حالانکہ سینکڑوں چیزیں حرام ہیں تو جواب یہ ہے کہ حنفیہ کے نزدیک کوفہ کے نحویوں کا قول مختار اور پسندیدہ ہے اور ان کے نزدیک لفظ انما حصر کے لیے نہیں بلکہ یہ لفظ اِنّ حرف تحقیق اور مَا کافہ سے مرکب ہے اور اگر بالفرض حصر کے موافق…
Read the full tafseer →(173) اب اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو بیان فرماتے ہیں جن کا حرام ہونا اس نے بیان فرمادیا ہے یعنی مردار اور خون اور وہ جانور جو ارادے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نام کے علاوہ بتوں کے نام پر ذبح کیے جائیں ،
سو جو شخص مردار کا گوشت کھانے پر مجبور ہوجائے اور وہ نہ تو حدود الہیہ سے تجاوز کرنے والا ہو اور نہ اس کے گوشت کو حلال سمجھنے والا ہو اور نہ ہی ڈاکو ہو اور نہ بغیر کسی سخت ضرورت کے مردار کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کو جمع نہ کرے یعنی اس کی ضرورت کے وقت (جب کہ جان جانیکا خطرہ ہو) مردار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں، باقی اس کی ذخیرہ اندوزی نہ کرے، مرنے کے ڈر کے بناء پر جب کہ اسے مردار…
Read the full tafseer →(اِنَّمَا) کا لفظ حصر کے لیے آتا ہے، اس لیے آیت سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہ چار چیزیں حرام کی ہیں، ان کے سوا کچھ حرام نہیں اور دوسری آیت میں اس سے بھی صریح الفاظ میں یہ بات ذکر ہوئی ہے، فرمایا :
(قُلْ لَّآ اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰي طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗٓ اِلَّآ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِيْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ ۚ [ الأنعام : 145 ] ”کہہ دے میں اس وحی میں، جو میری طرف کی گئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا جسے وہ کھائے، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہایا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 173
اس میں چونتیس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما حرم علیکم المیتۃ، انما کا کلمہ حصر کے لئے وضع کیا گیا ہے نفی اور اثبات کو متضمن ہے، خطاب جس کو شامل ہوتا ہے اسے ثابت کرتا ہے اور ماعدا کی نفی کرتا ہے یہاں تحریم کی حصر کی گئی ہے خصوصاً تحلیل کے بعد آئی ہے۔ پہلے فرمایا : یایھا الذین۔۔۔۔ ما رزقنکم۔ اس میں مطلقاً اباحت ہے پھر حرام کا ذکر انما کے کلمہ کے ساتھ کیا۔ پس یہ دونوں قسموں کے ایجاب کا تقاضا ہے۔ پس کوئی حرام اس آیت سے خارج نہیں۔ یہ آیت مدنی ہے، اس کو دوسری آیت کے ساتھ مؤکد کیا۔ روایت ہے کہ یہ عرفہ میں نازل ہوئی۔ قل لا اجد۔۔۔۔ طاعم یطعمہ۔۔ الآیۃ (انعام :45)…
Read the full tafseer →حرام جانوروں کا بیان
(1) امام احمد، ابن ماجہ، دار قطنی، حاکم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دو مروے اور دو خون حلال کر دئیے گئے مچھلی اور ٹڈی جگر اور تلی۔
(2) ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل “ سے مراد ہے ” ماذبح “ (جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو) ۔
(3) ابن جریر نے حجرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل بہ لغیر اللہ “ سے مراد ہے جو طواغیت کے لئے ذبح کیا گیا۔
(4) ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وما اہل “ سے مراد ہے جو غیر اللہ کے لئے ذبح کیا جائے۔
(5) ابن ابی حاتم نے أبو العالیہ…
Read the full tafseer →[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ حَرَّمَ : اس نے حرام کیا ] [ عَلَیْکُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَیْتَۃَ : مردار کو ] [ وَالدَّمَ : اور خون کو ] [ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ : اور سور کے گوشت کو ] [ وَمَا : اور اس کو ] [ اُھِلَّ : پکارا گیا ] [ بِہٖ : جس پر ] [ لِغَیْرِ اللّٰہِ : اللہ کے بغیر ] [ فَمَنِ : پس جو ] [ اضْطُرَّ : لاچار کیا گیا ] [ غَیْرَ بَاغٍ : اس حال میں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو ] [ وَّلَا عَادٍ : اور نہ حد سے گزرنے والا ہو ] [ فَلَا اِثْمَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ غَفُوْرٌ : بےانتہا بخشنے والا ہے ] [ رَّحِیْمٌ:…
Read the full tafseer →محرمات کا اجمالی بیان اور اضطرار کا حکم
اس آیت شریفہ میں مردہ جانور (جو اپنی موت سے بغیر ذبح کیے مرجائے) اور خون اور خنزیر کا گوشت کھانے کی اور ان جانوروں کے کھانے کی حرمت بیان فرمائی ہے۔ جن پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہو۔ ان چیزوں کے کھانے کا عرب کے مشرکوں میں رواج تھا۔ اور ان کے علاوہ حلال چیزیں بھی کھاتے تھے۔ ان کے رواج میں کئی چیزوں میں جو چیزیں حرام تھیں اصولی طور پر ان کی حرمت بیان فرمائی اور لفظ اِنَّمَا سے جو حصر معلوم ہو رہا ہے یہ حصر اضافی ہے۔ جو چیزیں یہاں مذکور ہیں ان کے علاوہ بھی حرام چیزیں ہیں جن کا ذکر دیگر آیات میں اور احادیث میں وارد ہوا ہے۔
سورۂ مائدہ میں مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
خطاب خاص بہ اہل اختصاص۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو کلوا من طیبات۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خطاب عام تھا اور اس آیت میں خاص اہل ایمان کو خطاب ہے اشارہ اس طرف ہے کہ ایمان اور محبت خداوندی کا اقتضاء یہ ہے کہ خدا کے رزق کو کھاؤ اور شکر کرو کلو من رزق ربکم وشکرولہ۔ آیت۔ نعمت کے استعمال سے منع کی محبت پیدا ہوتی ہے اور شکر کرنے سے نعمت میں زیادتی ہوتی ہے نیز احادیث سے ثابت ہے کہ اکل حلال سے دعا اور عبادت قبول ہوتی ہے اور اکل حرام سے دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی اکل حلال سے مسجاب الدعوات ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو ایمان اور محبت کا یہ مقتضی نہیں کہ تم اپنے خیال سے لذید…
Read the full tafseer →314 اب یہاں سے ان چیزوں کی حرمت کا بیان شروع ہوتا ہے جن کو مشرکین حلال سمجھتے تھے۔ اس آیت میں حصر کے ساتھ چار چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے۔ 1 ۔ مردار۔ 2 ۔ بہنے والا خون۔ 3 ۔ خنزیر۔ 4 ۔ نذر لغیر اللہ۔ اب ایک اشکال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اِنَّمَا کلمہ حصر استعمال کر کے حرام چیزوں کو صرف چار میں بند کردیا ہے حالانکہ ان چار چیزوں کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں جن کی حرمت خود قرآن میں اپنی جگہ مذکور ہے تو پھر اس حصر کا کیا مطلب ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں چوپایوں کی حلت و حرمت کا کوئی قانون بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصود صرف مشرکین کی خود ساختہ تحیلیل کی تردید ہے۔ مشرکین نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
اکل حلال
گزشتہ آیات میں ” یا یھا الناس کہ کر پوری نوع انسانی کو خطاب کیا گیا تھا اب ان آیات میں خاص طور پر مومنوں سے خطاب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت مارزقنکم اے ایمان والو۔ پاک چیزکھائو ، جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے۔ حدیث شرفی میں آتا ہے کہ اکل حلال کا یہ وہی حکم اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دیا ہے۔ جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ یعنی یایھا الرسل کالوا من الطیبت واعملوا صالحاً “ یعنی اے رسولوں کی جماعت پاک چیزیں کھائو اور نیک اعمال کرو۔ غرضیکہ تمام انبیاء اور اہل ایمان کو ناپاک چیزوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ کیونکہ ایسی چیزیں کھانے سے انسان میں خرابی پیدا…
Read the full tafseer →اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَيْرِ اللہِ 0 ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْہِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 173
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك : وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ المائدة/ 26] ، وقیل :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
ترکیب : یا حرف ندا۔ ایہا الخ منادی کلوا کا مفعول محذوف ہے ای کلوارزقکم اور من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے انا کلمہ حصر حرم فعل ضمیر راجع طرف اللہ کے اس کا فاعل میتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ معطوف یکے بعد دیگرے اس کا مفعول فمن شرطیہ غیر باغ حال ولاعاد اس پر معطوف فلا اثم جواب شرط۔
تفسیر : اول آیت میں خدا تعالیٰ نے عام لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ہماری پاک اور حلال چیزیں کھائو، یہاں خاص مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ تم ان احمقوں کی باتوں میں نہ آئو۔ ہماری پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے پاک چیزیں شوق سے کھائو پیو اور ہماری نعمت کا شکر کرو کہ ہم نے ان چیزوں کو تمہارے لیے پیدا کیا ہے مگر جن…
Read the full tafseer →اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَـآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَـلَا اِثْمَ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (البقرۃ : 173)
(اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس نے حرام کیا ہے تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا، پھر جو کوئی مجبور ہوجائے اور وہ خواہشمند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے)
ملتِ ابراہیم میں حلال و حرام
روئے سخن مشرکین کی طرف ہے کہ تم نے جس طرح تحلیل وتحریم کا حق جو خالص اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح حلال کھانا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا اور ان سے پوری طرح اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے کھانے کا حکم دیا ہے وہ انسان کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہیں اور جن سے منع فرمایا ہے وہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی حرمت کی وجوہات معلوم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم کو مطمئن کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس میں حرج کی بات نہیں۔ اگر یہ کاوش اس لیے کی جائے کہ حرمت کی حکمت سمجھے بغیر وہ اس سے رکنے کے لیے تیار نہیں تو ایسے شخص کو اپنے ایمان پر غور کرنا چاہیے۔…
Read the full tafseer →ماقبل سے ربط …تفسیر آیت 173:
اب حرام چیزوں کو بیان کیا۔
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآٓ اِثْمَ عَلَیْہِ ۔ اِنَّ اللَّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (بےشک اس نے حرام کیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر پکارا گیا اللہ تعالیٰ کے غیر کا نام پھر جو کوئی مجبور ہوجائے نہ ہو خلاف کرنے والا اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کچھ گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) ۔
میتہ کی تعریف :
انما حرم علیکم المیتۃ ‘ میتہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کی روح ذبح سے پاک کرنے کے بغیر…
Read the full tafseer →(تفسیر) 173۔:
(آیت)” انما حرم علیکم المیتۃ “ ابو جعفر (رح) نے قرآن پاک میں جہاں کہیں ” المیتۃ “ کا لفظ آیا ہے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور بعض قراء نے بعض (جگہوں پر) میتہ کو شد کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بعض میں نہیں ” المیتۃ “ ہر وہ جانور ہے جو بغیر ذبح کئے جائے مگر وہ جانور ایسا ہو جس کو عموما ذبح کیا جاتا ہو ” والدم “ اس سے مراد بہنے والا خون ہے ، اس معنی کو مراد لینے پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلیل ہے (آیت)” او دما مسفوحا “ شریعت نے میتۃ سے مچھلی اور مکڑی کو مستثنی کیا ہے اور خون سے جگر اور تلی کو مستثنی کیا ہے پاس ان کو حلال فرمایا ۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہمارے لیے دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
اس سے اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا دار الامتحان میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے کہ مردار خواہ اپنی موت سے ہو یا گلا گھونٹنے سے یا لاٹھی وغیرہ کے مارنے سے یا اوپر سے گر پڑنے سے ایک ایک جانور کے دوسرے جانور کے سینگ مارنے یا کسی درندہ جانور کے کھا جانے سے ورئہ مائدہ میں اس کی تفصیل زیادہ آئے گی۔ اور قرآن شریف میں تو مردار اور خون کو مطلق طور پر حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لئے خاص حکم ہے اور یہ اس لئے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامرو نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لئے استعمال کرتے ہیں جو انہیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا : (آیت) یا ایھا الرسول کلوامن طیبات واعملوا صالحا۔ (المومنون 51) ” اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔ “ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔
اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–173
مردار کی تحریم
ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–174
462 حصر سے یہاں پر مراد حصر حقیقی نہیں اضافی ہے : یعنی " اِنَّما " کے کلمہء حصر سے جو حصر یہاں مستفاد ہو رہا ہے، اس سے مراد حصر حقیقی نہیں، اضافی ہے۔ یعنی یہ حصران محرمات کے اعتبار سے ہے جن کو مشرکین نے از خود تراش رکھا تھا، جیسے " بحیرہ "، " سائبہ "، اور " وصیلہ " وغیرہ۔ سو اس حصر کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو حرام نہیں فرمایا جن کو تم لوگوں نے ازخود حرام قرار دے رکھا ہے۔ بلکہ اس نے تو محض ان اور ان چیزوں کو حرام فرمایا ہے، جو کہ خود تمہارے لئے ضرر و نقصان کا باعث تھیں، اور ہیں۔ دنیا و آخرت دونوں میں۔ پس تم ہمیشہ انہی سے احتراز کرو۔ سو دارین کی سلامتی اللہ تعالیٰ کے احکام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
حرام غذائیں اور مجبوری کی صورتیں
تشریح : اس آیت میں اللہ جل شانہ بڑے ہی واضح انداز میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ جو کچھ تمہیں نعمتیں دی گئی ہیں ان میں سے ہر پاکیزہ چیز کھاؤ پیؤ اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہو، تاکہ تم میں غرور پیدا نہ ہوجائے اور اس لیے بھی کہ اللہ شکر گزار لوگوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے اور ان سے راضی ہوتا ہے، کیونکہ شکر گزاری انسان اور اللہ کے درمیان رابطے کو مضبوط کرتی ہے اسی مہربانی اور شفقت کی بناء پر اللہ ان کو حرام قرار دیتے ہیں جو دنیا میں موجود ہیں مگر انسانی صحت کے لئے مضر ہیں تو ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور آج کی سائنس نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی یہ حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
آیات 168- 176
اسرارو معارف
یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔
لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →ف 4 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انما کلمہ حصر کے ساتھ صرف چار چیزوں کا کھانا حرام قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں سب جانوروں کا گوشت حلا ہے ماسوا ان کے جن کو حدیث میں حرام قرار دیا گیا ہے مثلا درندہ جانور اور پنجہ سے شکار کرنے والا پرندہ اور الحمر لا ھلیتہ یعنی گدھا۔ المیتتہ ہر اس حلال جانور کو کہا جاتا ہے جو بدوں ذبح شرعی کے مرگیا ہو عام اس سے کہ طبعی موت مراہو یا کسی حادثے سے ہلاک ہوگیا ہو (دیکھئے سورت الانعام آیت 145) اور حدیث میں ہے : احلت لنا میتتان الحوت والجر ادودمان الکبدو الطحال کہ دو مردو جانور ہمارے لیے حلال ہیں یعنی مردہ مچھلی اور ٹڈی اور دو خون جگر اور تلی۔ ( قرطبی بحوالہ دار قطنی) اور…
Read the full tafseer →(2:173) انما۔ بعض کے نزدیک یہ کلمہ حصر ہے بمعنی بس ” سوائے اس کے نہیں کہ “ لیکن حنفیوں کے نزدیک یہاں انما حصر کے لئے نہیں آیا بلکہ یہ لفظ ان حرف تحقیق اور ما کا فہ سے مرکب ہے ، کیونکہ اول الذکر کی صورت میں سوائے مرد ار اور خون کے اور کوئی شے حرام نہیں کی گئی۔ حالانکہ ان دو کے علاوہ اور بہت سی چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائی ہیں۔
حرم۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تحریم (تفعیل) مصدر۔ اس نے منع کیا۔ حرام ، ممنوع۔ حرمت والا۔ ایک ہی مادہ حرم سے مشتق ہیں۔ ماہ ہائے حرام (حرمت والے مہینے) کو حرام اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ان میں بعض چیزوں کو حرام ّممنوع) قرار دیا گیا ہے ۔ جب کہ دیگر مہینوں میں حلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6
کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔
تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ فرمایا تھا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے وہ کھاؤ اور شکر کرو۔ اس آیت میں اس دی ہوئی چیز میں سے جو کچھ دنیا میں امتحان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حرام کیا ہے اس کا ذکر فرمایا ۔ اس آیت میں فقط مردار کا لفظ فرمایا ہے اور سورة مائدہ میں مردار کی تفصیل فرمائی ہے ۔ جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مر جائے، یا اس کو طریق شرعی کے خلاف مارا گیا ہو مثلاً گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ، ڈھیلے غلے ، گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو ، یا وہ گر کر مر گیا ہو ، یا کسی جانور نے سینگ سے مارا ہو ، یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اس کو مردار کہتے ہیں۔
مسئلہ : مردار جانور کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 173–176
[108] اس آیت میں حرام چیز کے استعمال کرنے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ دی گئی ہے، ایک یہ کہ شدت بھوک سے معلوم ہوتا ہو کہ دم نکلا جا رہا ہے لیکن حلال غذا کی دستیابی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرے یہ کہ نیت اور ارادہ قانون شکنی کا نہ ہو، تیسرے یہ کہ محض بقدر ضرورت کھائے۔ یہ نہ ہو کہ خوب سیر ہو کر کھانے لگے۔
Read the full tafseer →زندہ رہنے کی کوشش کرو :
(ف 2) محرمات کے سلسلے میں مفصل بتایا جا چکا ہے کہ اس میں ذوق سلیم صحت انسانی اور اخلاق کا خیال رکھا گیا ہے ، اس لئے محرمات کی جو فہرست بتائی ہے ‘ اس کے لئے دلائل کا ذکر غیر ضروری سمجھا ہے ، کیونکہ ہر شخص جسے ذوق صحیح سے بہرہ وافر ملا ہو ‘ وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ ان کی حرمت بین وظاہر ہے ، سب سے پہلے مردار کی حرمت کو لیجئے کیا کوئی مہذب اور شائستہ قوم مردار کھالے کے لئے آمادہ ہو سکتی ہے ، یہ ازمنہ وحشیہ کی یادگار ہے ، چناچہ اب بھی وہ قومیں جو تہذیب و تمدن کی برکات سے محروم ہیں ، مردار کھاتی ہیں اور شرفاء اسی وجہ سے ان سے نفرت کرتے ہیں نیز مردار خوری سے پست و ذلیل قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
ف 1 اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں جس کو چاہو حسب ضرورت کھائو اور استعمال کرو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اگر تم اسی کے بندے اور عبادت گزار ہو اللہ تعالیٰ نے بس تم پر یہ چیزیں حرام کی ہیں ۔ مردہ جانور اور بہتا خون اور سور کا گوشت اور ایسا جانور جو تقرب کی نیت سے غیر اللہ کی ساتھ نامزد کیا گیا ہو ان سب چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے پھر ان میں یہ گنجائش اور آسانی رکھی ہے کہ جو شخص بھوک سے بیقرار اور بےبس ہوجائے بشرطیکہ نہ تولذت اور مزے کا طالب ہو اور نہ ضرورت و حاجت کی مقدار سے تجاوز کرنے والا ہو تو ایسی حالت میں اگر وہ کچھ تھوڑا سا کھالے اس پر کوئی گناہ نہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس مقام کے متعلق چند مسائل فقیہ ہیں۔ 1۔ جس جانور کا ذبح کرنا شرعا ضروری ہو اور وہ بلاذبح ہلاک ہوجاوئے وہ حرام ہوتا ہے اور جس جانور کا ذبح کرنا ضروری نہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک ٹڈی اور ایک مچھلی۔ دوسرے وحشی جیسے ہرن وغیرہ۔ جب کہ اس کے ذبح پر قدرت نہ ہوئے تو اس کو دور ہی سے تیر یا اور کسی تیز ہتھیار سے اگر بسم اللہ کہہ کر زخمی کیا جائے تو حلال ہوجاتا ہے البتہ بندوق کا شکار بدون ذبح کیے ہوئے حلال نہیں کیونکہ گولی میں دھار نہیں ہوتی۔ 2۔ خون جو بہتا نہ ہو اس سے دوچیزیں مراد ہیں جگر اور طحال۔ یہ حلال ہیں۔ 3۔ خنزیر کے سب اجزاء لحم و شحم و پوست و اعصاب سب حرام ہیں، اور نجس بھی ہیں۔
Read the full tafseer →جن چار چیزوں سے روکا گیا ہے وہ کون کون سی ہیں ؟
301: جن جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے ان جانوروں میں سے اگر کوئی بغیر ذبح کئے مر گیا تو اس کا گوشت حرام ہوگا اور اس کو اردو زبان میں مردار کہتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ مردار حرام ہے ۔ یہ قید جو لگائی گئی کہ ” جن جانوروں کو ذبح کر کے کھانے کی اجازت ہے “ کا مطلب ہے کہ کچھ جانور ایسے بھی ہیں جو بغیر ذبح کئے کھائے جاسکتے ہیں جیسے مچھلی اور ٹڈی اور انہی اقسام میں سے اور چیزیں بھی ہیں جن کو دوسرے ناموں سے پکارا جاتا ہے جیسے جھینگا وغیرہ اصل اس کی یہ ہے کہ ان کا تعلق ان جانوروں سے ہے جن میں بہنے والا خون موجود نہیں ۔ اسی خون کو جسم سے نکالنا ضروری…
Read the full tafseer →The wordإِنَّمَا حَرَّمَ (innama harrama) is a restrictive particle, therefore, the sense of the verse is that Allah Almighty has forbidden only those things which have been mentioned later, other than which, nothing else is forbidden. So, in this verse, it is the word, innama إِنَّمَا which points out to the given sense, while in another verse (6:145): قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ the same thing has been stated more clearly. Here, the Holy Prophet ﷺ has been asked to proclaim that, in what has been revealed to him, there is nothing haram حرام except the…
Read the full tafseer →171. This applies to the flesh of an animal slaughtered in the name of anything and anyone other than God as well as to the food prepared as an offering to someone other than God. God alone is the master of everything - of the animal whose flesh we consume as well as of every other kind of food - and it is He Who has mercifully provided us with them. Hence, if it is appropriate to pronounce any name as an expression of gratitude, of consecration, it can only be the name of God. To use anyone else's name means that we believe that there is some other being either instead of or in addition to…
Read the full tafseer →