حلال اور حرام کیا ہے ؟
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاک چیز کو قبول فرماتا ہے اس نے رسولوں کو اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) 23۔ المؤمنون :51) اور فرمایا آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 170
یعنی اگر تم ایمان لا کر صرف خدائی قانون کے پیرو بن چکے ہو، جیسا کہ تمہارا دعویٰ ہے تو پھر وہ ساری چھوت چھات، اور زمانہء جاہلیّت کی وہ ساری بندشیں اور پابندیاں توڑ ڈالو جو پنڈتوں اور پروہتوں نے، ربّیوں اور پادریوں نے، جوگیوں اور راہبوں نے اور تمہارے باپ دادا نے قائم کی تھیں۔ جو کچھ خدا نے حرام کیا ہے اس سے تو ضرور بچو، مگر جن چیزوں کو خدا نے حلال کیا ہے انہیں بغیر کسی کراہت اور رکاوٹ کے کھاؤ پیو۔ اسی مضمون کی طرف نبی ﷺ کی وہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ مَنْ صَلّٰی صَلوٰ تَنَا و َ اسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الخ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اوپر اکل طیبات کے معاملہ میں مشرکین کی غلطی بتلا کر ان کی اصلاح مقصود تھی آگے اہل ایمان کو اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس غلطی میں مشرکین کی موافقت نہ کرنے لگیں اسی کے ضمن میں اہل ایمان کو اپنے انعامات کا ذکر اور اس پر ادائے شکر کی تعلیم بھی ہے۔
اے ایمان والو ! (ہماری طرف سے تم کو اجازت ہے کہ) جو (شرع کی رو سے) پاک چیزیں ہم نے تم کو مرحمت فرمائی ہیں ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ (برتو) اور (اس اجازت کے ساتھ یہ حکم ہے کہ) حق تعالیٰ کی شکر گذاری کرو (زبان سے بھی ہاتھ پاؤں سے خدمت وطاعت بجا لاکر بھی اور دل سے ان نعمتوں کو منجانب اللہ سمجھ کر بھی) اگر تم خاص ان کے ساتھ غلامی کا تعلق…
Read the full tafseer →مسلمانوں کے تردد کا ازالہ : مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا اگر یہ مشرکین اپنی مشرکانہ بدعات پر اڑے رہنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو اور تم ان ناروا پابندیوں کو اٹھا کر ان تمام پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں۔ پھر فرمایا اگر تم اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو اسی کے شکر گزار بنو۔ اس کے بخشے ہوئے رزق اور اس کے پیدا کیے ہوئے چوپایوں کو کسی اور کی نسبت سے حرام ٹھہرانا خدا کی بندگی کے بھی منافی ہے اور اس کی شکر گزاری کے بھی۔ مسلمانوں کو خاص طور پر مخاطب کر کے یہ بات کہنے کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ کھانے پینے کا معاملہ، بالخصوص جب کہ ایسی چیزوں کے کھانے کا معاملہ ہو جن کو…
Read the full tafseer →172۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان تمام چیزوں کے کھانے کا حکم ہے جو اللہ نے حلال کی ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی تاکید ہے۔ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں ہی پاک ہیں حرام کردہ اشیاء پاک نہیں ہیں چاہے وہ اپنے نفس کو کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگیں (جیسے اہل یورپ کو سور کا گوشت بڑا پسند ہے) دوسرا یہ کہ بتوں کے نام پر منسوب جانوروں اور اشیا کو مشرکین اپنے اوپر جو حرام کرلیتے تھے (جس کی تفصیل سورة الا نعام میں ہے) مشرکین کا یہ عمل غلط ہے اور اس طرح ایک حلال چیز حرام نہیں ہوتی تم ان کی طرح ان کو حرام مت کرو (حرام صرف وہی ہیں جس کی تفصیل اس کے بعد والی آیت میں ہے) تیسرا یہ کہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–172
106: مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی، یہ آیت ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →یہاں مسلمانوں کو ” اے ایمان والو “ کے الفاظ سے پکارا گیا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان ہی اہل اسلام کے درمیان مضبوط رابطہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں ہی ماخذ قانون ہوں اس لئے قانون مجھ سے اخذ کرو ۔ مجھ سے ہی حلال و حرام کے احکام اخذ کرو ۔ بتایا جاتا ہے کہ میں نے تم پر جو انعامات کئے ہیں انہیں یاد رکھو ۔ میں ہی تمہارا رازق ہوں اور میں نے ہی تمہارے لئے کھانے پینے کی چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ۔ پاکیزہ چیزوں میں سے کسی ایک کو بھی حرام نہیں قرار دیا گیا۔ جو چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ اس لئے حرام نہیں کہ اللہ تم پر تنگی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ پاک اور طیب نہیں ہیں ۔ وہی تو…
Read the full tafseer →4 اکل طیبات کا حکم اوپر گزر چکا تھا لیکن مشرکین چونکہ شیطان کی پیروی سے باز نہیں آتے اور احکام اپنی طرف سے بنا کر اللہ کے اوپر لگاتے ہیں اور اپنے رسوم باطلہ آبائی کو نہیں چھوڑتے اور حق بات سمجھنے کی ان میں گنجائش ہی نہیں تو اب ان سے اعراض فرما کر خاص مسلمانوں کو اکل طیبات کا حکم فرمایا گیا اور اپنا انعام ظاہر کر کے ادائے شکر کا امر کیا گیا اس میں اہل ایمان کے مقبول اور مطیع ہونے کی جانب اور مشرکین کے مردود ومعتوب و نافرمان ہونے کی طرف اشارہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →آیت 172 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا سورة الانعام میں یہ ساری چیزیں تفصیل سے آئیں گی۔
Read the full tafseer →214 آیت نمبر 169 میں خطاب عوام الناس سے تھا۔ اس آیت میں مومنوں سے ہے۔ اسی لیے انہیں تاکید کی جا رہی ہے کہ کھانے کے بعد اللہ کا شکر بھی ادا کیا کرو۔
Read the full tafseer →612 ۔ یعنی کھا پی سکتے ہو، کھانے پینے کی اجازت ہے۔ صیغہ امر یہاں بمعنی اجازت ہے، بہ معنی حکم نہیں، کلوا فی ھذا الموضع لا یفید الایجاب ولا الندب بل الاباحۃ (کبیر) (آیت) ” کلوا “۔ یہاں لفظی معنی میں صرف کھانے تک محدود نہیں، بلکہ ہر قسم کا جائز انتفاع اس میں آگیا۔ المراد بالاکل الانتفاع من جمیع الوجوہ (قرطبی) وکلوا العموم جمیع وھوی الانتفاع دلالۃ وعبارۃ (روح) (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ خطاب اب تک عامۃ الناس سے تھا۔ حلال و حرام کے باب میں مشرکین کی غلطی کے اظہار کے لیے اب خطاب صرف مومنین سے ہے۔ ؛ ان سے ارشاد ہورہا ہے کہ حلال و حرام کے باب میں منکرین کی پیروی نہ کریں۔ (آیت) ” طیبت “ یعنی وہ چیزیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 170–172
وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا (الآیۃ) اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں سے اشارہ فرمایا : لَایَعْقِلُوْنَ اور لَایَھْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انہیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد احکام ہیں جو اللہ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے ہیں، اور عقل سے مراد وہ احکام ہیں جو بذریععہ اجتہاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے ہوں۔ آباء و اجداد کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ( اے ایمان والو ہم نے جو تم کو رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ حلال اور ستھری چیزیں) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود پاک ہیں اس لیے پاکیزہ ہی چیز کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حلال کھانے کا حکم فرمایا جیسا کہ پیغمبروں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ ارشاد ہے : یَاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ ﷲَ الطَیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ( اے پیغمبر و ! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو) اور فرمایا : یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتٍ مَا…
Read the full tafseer →(172) اب اللہ تعالیٰ پھر مزید کھیتی اور جانوروں کے حلال ہونے کو بیان فرماتے ہیں یعنی کھیتی اور حلال جانوروں میں سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے کھاؤ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اگر تم لوگ اسی ہی کی عبادت کرتے ہو ،
اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اگر تم ان چیزوں کی حمت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرح سمجھتے ہو تو پھر ان چیزوں کو مت حرام جانو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان کو حلال سمجھنے میں ہے۔
Read the full tafseer →اس سے پہلے سب لوگوں کو حلال اور طیب چیزیں کھانے کا حکم دیا تھا، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اہل ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کھانے اور کمانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اے لوگو ! بیشک اللہ طیب (پاک) ہے، طیب کے سوا کچھ قبول نہیں فرماتا، اس نے ایمان والوں کو اسی چیز کا حکم دیا جس کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا، چناچہ فرمایا : (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ) [ المؤمنون : 51 ] ”اے رسولو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو، یقیناً میں اسے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 172
یہ پہلے امر کی تاکید ہے اور یہاں تفضیل کے لئے مومن کو ذکر کے ساتھ خاص فرمایا اور کھانے سے مراد ہر اعتبار سے انتفاع ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اکل سے مراد معروف کھانا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاک کو اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اسی بات کا حکم فرمایا جو اس نے رسولوں کو فرمایا تھا۔ ارشاد فرمایا یایھا الرسل۔۔۔۔۔ تعملون علیم۔ (المومنون) اے میرے پیغمبر و ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بیشک میں جو اعمال تم کر رہے ہو ان سے خوب واقف ہوں۔ اور ارشاد فرمایا : یایھا الذین امنوا…
Read the full tafseer →حلال غذا کھانے کی تاکید
(1) امام احمد، مسلم، ترمذی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ پاک ہے اور وہ پاک (اور حلال مال) کو ہی قبول فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو جو حکم فرمایا ہے وہی مؤمنین کو بھی حکم فرمایا ہے چناچہ فرمایا لفظ آیت ” یایھا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا، انی بما تعملون علیہم (المؤمنون) (اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو بیشک جو تم عمل کرتے ہو میں اس کو جانتا ہوں) اور (مؤمنین کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم “ کہ (اے ایمان والو ! جو پاک چیزیں ہم نے تم کو…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ہو ] [ کُلُوْا : تم لوگ کھائو ] [ مِنْ طَیِّبٰتِ مَا : ان کی پاکیزہ (چیزوں) سے جو ] [ رَزَقْنٰــکُمْ : ہم نے عطا کیں تم لوگوں کو ] [ وَاشْکُرُوْا : اور تم لوگ شکر کرو ] [ لِلّٰہِ : اللہ کا ] [ اِنْ کُنْتُمْ : اگر تم لوگ
اِیَّاہُ : صرف اس کی ہے ] [ تَعْبُدُوْنَ : بندگی کرتے ہو ]
ترکیب :” یٰٓــاَیـُّھَا “ حرفِ ندا ہے اور ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ منادیٰ ہے ۔ فعل امر ” کُلُوْا “ کا فاعل اس میں شامل ” اَنْتُمْ “ کی ضمیر ہے۔ اس کا مفعول محذوف ہے جو کہ ” رِزْقَکُمْ “ ہوسکتا ہے۔” مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰــکُمْ “ متعلق فعل ہے۔”…
Read the full tafseer →حلال کھانے اور شکر ادا کرنے کا حکم
اس آیت شریفہ میں بھی پاکیزہ چیزوں کے کھانے کا حکم فرمایا اور اللہ پاک نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر تم اللہ کی عبادت کرتے ہو تو اس کا شکر ادا کرو کیونکہ جو عبادت اس کی عظمت و کبریا کی شایان شان ہے وہ شکر کے بغیر کامل نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے جو حلال رزق عطا فرمایا ہے اسے کھاؤ پیو اور شکر کرو۔ سورة سبا میں فرمایا (کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ) ” اپنے رب کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ “ نعمتوں کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ کی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہوں۔ اور اس کی نعمتوں کو گناہوں میں خرچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
خطاب خاص بہ اہل اختصاص۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنو کلوا من طیبات۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں خطاب عام تھا اور اس آیت میں خاص اہل ایمان کو خطاب ہے اشارہ اس طرف ہے کہ ایمان اور محبت خداوندی کا اقتضاء یہ ہے کہ خدا کے رزق کو کھاؤ اور شکر کرو کلو من رزق ربکم وشکرولہ۔ آیت۔ نعمت کے استعمال سے منع کی محبت پیدا ہوتی ہے اور شکر کرنے سے نعمت میں زیادتی ہوتی ہے نیز احادیث سے ثابت ہے کہ اکل حلال سے دعا اور عبادت قبول ہوتی ہے اور اکل حرام سے دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی اکل حلال سے مسجاب الدعوات ہوجاتا ہے چناچہ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو ایمان اور محبت کا یہ مقتضی نہیں کہ تم اپنے خیال سے لذید…
Read the full tafseer →313 پہلے عام انسانوں سے خطاب تھا۔ اب مسلمانون کو حکم ہورہا ہے کہ وہ مشرکین کی طرح حلال و حرام کے بارے میں من مانی نہ کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حلال کیا ہے ان کو نہ صرف حلال سمجھیں بلکہ ان کو کھائیں اور اس طرح اپنے عمل سے بھی اپنے اعتقاد کی تصدیق کردیں بعض اوقات انسان ایک چیز کو عقیدے کی حد تک تو مان لیتا ہے لیکن اس پر عمل کرنے سے جھجکتا ہے اس لیے ایمان والوں سے ارشاد فرمایا کہ اگر واقعی دل وجان سے تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے ہو اور تحریمات لغیر اللہ کے ذریعے شرک سے سچی توبہ کرچکے ہو تو اس بات کا عملی ثبوت بھی دو اور وہ یہ ہے کہ سائبہ بحیرہ وغیرہ کو کھاؤ اور ان سے فائدہ اٹھاؤ لیکن اگر تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
اکل حلال
گزشتہ آیات میں ” یا یھا الناس کہ کر پوری نوع انسانی کو خطاب کیا گیا تھا اب ان آیات میں خاص طور پر مومنوں سے خطاب ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت مارزقنکم اے ایمان والو۔ پاک چیزکھائو ، جو ہم نے تمہیں روزی دی ہے۔ حدیث شرفی میں آتا ہے کہ اکل حلال کا یہ وہی حکم اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دیا ہے۔ جو اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کو دیا ہے۔ یعنی یایھا الرسل کالوا من الطیبت واعملوا صالحاً “ یعنی اے رسولوں کی جماعت پاک چیزیں کھائو اور نیک اعمال کرو۔ غرضیکہ تمام انبیاء اور اہل ایمان کو ناپاک چیزوں کے کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ کیونکہ ایسی چیزیں کھانے سے انسان میں خرابی پیدا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلہِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاہُ تَعْبُدُوْنَ 172
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
ترکیب : یا حرف ندا۔ ایہا الخ منادی کلوا کا مفعول محذوف ہے ای کلوارزقکم اور من اخفش کے نزدیک زائدہ ہے انا کلمہ حصر حرم فعل ضمیر راجع طرف اللہ کے اس کا فاعل میتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ معطوف یکے بعد دیگرے اس کا مفعول فمن شرطیہ غیر باغ حال ولاعاد اس پر معطوف فلا اثم جواب شرط۔
تفسیر : اول آیت میں خدا تعالیٰ نے عام لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ہماری پاک اور حلال چیزیں کھائو، یہاں خاص مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ تم ان احمقوں کی باتوں میں نہ آئو۔ ہماری پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے پاک چیزیں شوق سے کھائو پیو اور ہماری نعمت کا شکر کرو کہ ہم نے ان چیزوں کو تمہارے لیے پیدا کیا ہے مگر جن…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰـکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ۔ (البقرۃ۔ 172)
(اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں ان کو کھائو اور اللہ ہی کے شکر گزار بنو اگر تم اس کی بندگی کرنے والے ہو)
بدعات و خرافات کا ابطال دلائل سے بھی ہوتا ہے اور مستحکم کردار سے بھی
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلمانوں سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ مشرکین اپنے مشرکانہ رسوم وآداب پر اڑے رہنا چاہتے ہیں اور وہ کسی طرح بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تو تم انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ تحلیل وتحریم کے حوالے سے جس حد تک ان کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلے تمام لوگوں کو حلال کھانے کا حکم دیا تھا اب خاص کر مومنوں کو یہ کہہ کر حلال کھانے کا حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے کا تقاضا ہے کہ حلال کھانے کا اہتمام کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ حرام خور کی عبادت قبول نہیں کرتا۔
قبل ازیں بنی نوع انسان کو حلال وطیب کھانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ حلال وطیب کا اہتمام نہ کرنے والا درحقیقت شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ حرام خوری کے ذریعے نہ صرف تمہیں تمہارے خالق سے دور رکھ کر تمہارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کرتا ہے بلکہ وہ حرام کھانے اور کمانے کے ذرائع کے ذریعے بھی تمہارے درمیان نفرتیں اور عداوتیں…
Read the full tafseer →سابقہ آیات سے ربط : تفسیر آیت 172:
اس میں بتلایا کہ جن چیزوں کو مشرکین حرام قرار دینے والے ہیں وہ حلال ہیں چناچہ فرمایا۔
یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَاشْکُرُوْا لِلّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ : (اے ایمان والو۔ ہم نے جو تم کو رزق دیا ہے اس سے حلال اور ستھری چیزیں کھائو اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو) یٰٓایھا الذین ٰامنوا کلوا من طیبات ما رزقنٰـکم۔ (1) طیبات سے مراد لذیذ چیزیں ‘(2) حلال چیزیں واشکروا للہ : اور تم اس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ جس نے تمہیں رزق دیا۔ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ اگر یہ واقعی صحیح ہے کہ تم…
Read the full tafseer →172۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا کلوا من طیبات “ رزق حلال (آیت)” مارزقناکم “ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ۔
(اے لوگو ! بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ طیب (پاک) ہیں اور صرف طیب (پاک مال) ہی قبول فرماتے ہیں ، بے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اسی چیز کا حکم فرمایا ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو فرمایا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت)” یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا “ (ترجمہ : اے رسولو ! کھاؤ پاکیزہ چیزیں اور نیک اعمال کرو۔ )
ایمان والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے ایمان والو ! کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو پھر حضور ﷺ نے آدمی کا ذکر فرمایا جو سفر…
Read the full tafseer →اکل حلال دنیا میں ہر مسلمان کے لئے بڑی چیز ہے کوئی عبادت اور کوئی دعا بغیر غذائے حلال کے قبول نہیں ہوتی مسند امام احمد بن جنبل اور مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے بدوں پاک چیز کے اور کوئی چیز اللہ کی بار گاہ میں قبول نہیں ہوتی 1۔ بعض لوگ رات دن یا اللہ یا اللہ کہہ کر گڑگڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ کی جناب میں کرتے ہیں اور طرح طرح کی حاجتوں کا روا ہونا اس کی بارگاہ سے چاہتے ہیں اور جب ان کی حاجت روا نہیں ہوتی تو مایوس ہو کر دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول کیوں نہیں ہوتی حالانکہ ان کی قوت بسری رزق حلال سے جب تک نہ ہو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
عام حکم دینے کے بعد یہ اہل ایمان کے لئے خاص حکم ہے اور یہ اس لئے کہ وہی درحقیقت اپنے ایمان کے سبب سے اوامرو نواہی سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رزق کھانے کا اور اللہ کے اس انعام پر اس کا شکر کرنے کا حکم دیا کہ وہ اس رزق کو اس کی اطاعت میں ان امور میں مدد لینے کے لئے استعمال کرتے ہیں جو انہیں اللہ تک پہنچاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی چیز کا حکم دیا ہے جس چیز کا حکم اس نے اپنے رسولوں کو دیا ہے فرمایا : (آیت) یا ایھا الرسول کلوامن طیبات واعملوا صالحا۔ (المومنون 51) ” اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔ “ پس اس آیت کریمہ میں شکر سے مراد عمل صالح ہے۔
اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–173
مردار کی تحریم
ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
457 نور حق و ہدایت سے محروم لوگ جانور ہیں : سو ان لوگوں نے اپنے سوئ اختیار اور بدنیتی کی بناء پر، اپنے آپ کو شرف انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر حیوانوں کی سطح پر پہنچا دیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حق بات کو سننے، سمجھنے اور اس کو اپنانے کی اہلیت اور صلاحیت سے ہی محروم کردیا اور یہ چوپایوں کی طرح ہوگئے، بلکہ اس سے بھی برے اور بدتر، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ کَالْاَ نْعَام بَلْ ھُمْ اَضَّلُ } ۔ (الاعراف : 179) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ اس سے بھی آگے انہوں نے اپنے آپ کو بدترین مخلوق " شر البریۃ " بنادیا، جیسا کہ سورة البینۃ میں اس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
حرام غذائیں اور مجبوری کی صورتیں
تشریح : اس آیت میں اللہ جل شانہ بڑے ہی واضح انداز میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہیں کہ جو کچھ تمہیں نعمتیں دی گئی ہیں ان میں سے ہر پاکیزہ چیز کھاؤ پیؤ اور ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہو، تاکہ تم میں غرور پیدا نہ ہوجائے اور اس لیے بھی کہ اللہ شکر گزار لوگوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے اور ان سے راضی ہوتا ہے، کیونکہ شکر گزاری انسان اور اللہ کے درمیان رابطے کو مضبوط کرتی ہے اسی مہربانی اور شفقت کی بناء پر اللہ ان کو حرام قرار دیتے ہیں جو دنیا میں موجود ہیں مگر انسانی صحت کے لئے مضر ہیں تو ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور آج کی سائنس نے تسلیم کیا ہے کہ واقعی یہ حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
آیات 168- 176
اسرارو معارف
یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔
لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →ف 3 اس میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ایمان کو حلال اور پاکیزہ روزی کمانے اور کھانے کا حکم دیا ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا لو گو ! اللہ تعال طیب ہے او طیب کے بغیر کچھ قبول نہیں فرماتا۔ اس نے پانے رسولوں کو بھی پاک غذاکھانے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھئے آیت 5 سورت المومنون) اس کے بعد آنحضرت ﷺ ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرتا ہے گرد آلود ہے اور اس کے بال پر اگندہ ہیں۔ ایسی حالت میں وہ ہاتھ اٹھاکر یا رب یادب پکارتا ہے مگر اس کا کھانا حرام ہے اور لباس حرام ہے پھر بھلا اس کی یہ دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر…
Read the full tafseer →(2:172) اشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون۔ جملہ شرطیہ کو شرط کے بعد لایا گیا ہے۔ ترجمہ اگر تم صرف اسی کی ہے (یعنی اللہ ہی کی) عبادت کرتے ہو تو شکر بھی ادا کرو۔ یہاں صیغہ امر و جواب کے لئے آیا ہے نہ کہ صرف اجازت کے لئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–176
لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6
کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔
تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…
Read the full tafseer →مسلم اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ بدون پاک چیز کے اور کوئی چیز اللہ کی بار گاہ میں قبول نہیں ہوتی۔ بعضے لوگ رات دن طرح طرح کی دعائیں اللہ کی جناب میں کرتے ہیں ، اور حاجتوں کا روا ہونا اس کی بارگاہ سے چاہتے ہیں اور جب دعا قبول نہیں ہوتی تو مایوس ہوجاتے ہیں ۔ جن تک اکل حلال روزی نہ ہو دعا میں کہاں تاثیر ہوگی۔ اس آیت میں حلال روزی کی تاکید آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–172
[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4
[107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 171–172
(ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ محرمات منصوصہ کے سوا اللہ کی تمام نعمتیں قابل استعمال ہیں ، تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں ، اللہ کی عبادت کا مفہوم بجزا ادائے شکر کے اور کچھ نہیں ، ترک لذات غیر اسلامی اصول ہے ، قرآن حکیم نے کھانے پینے کی چیزوں میں کوئی مضائقہ نہیں رکھا ، البتہ حرام اور ناجائز اشیاء سے پرہیز ضروری ہے ، شریعت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان تمام قوموں سے زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ مطیع وفرماں بردار ہو ، نہ یہ کہ خدا کی نعمتوں کا استعمال نہ کرے رسول اللہ ﷺ نے جو زہد وتقوی کا آخری نمونہ ہیں ، کبھی اس قسم کا پرہیز نہیں کیا ، بہتر سے بہتر چیز میسر آگئی تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 172–173
ف 1 اے ایمان والو ! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں جس کو چاہو حسب ضرورت کھائو اور استعمال کرو اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو اگر تم اسی کے بندے اور عبادت گزار ہو اللہ تعالیٰ نے بس تم پر یہ چیزیں حرام کی ہیں ۔ مردہ جانور اور بہتا خون اور سور کا گوشت اور ایسا جانور جو تقرب کی نیت سے غیر اللہ کی ساتھ نامزد کیا گیا ہو ان سب چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے پھر ان میں یہ گنجائش اور آسانی رکھی ہے کہ جو شخص بھوک سے بیقرار اور بےبس ہوجائے بشرطیکہ نہ تولذت اور مزے کا طالب ہو اور نہ ضرورت و حاجت کی مقدار سے تجاوز کرنے والا ہو تو ایسی حالت میں اگر وہ کچھ تھوڑا سا کھالے اس پر کوئی گناہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 168–172
ف 2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو حلال و طیب کھانے کی ہدایت :
300: آیت مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال و طیب چیزوں کے کھانے اور اس پر اللہ کا شکر گزار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں۔ عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے۔ دعا قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔ دلی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ اخلاق رذیلہ سے نفرت اور اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ عبادت میں دل لگتا ہے۔ گناہ سے دل گھبراتا ہے۔ دعا قبول ہوتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے سب رسولوں کو خصوصاً ہدایت فرمائی ہے کہ :
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ…
Read the full tafseer →Earlier, the aim was to correct the error made by the mushrikin مشرکین when they made unlawful what was good and permissible. Now, in the present Verse (172), the believers are being warned against falling into the same error. As a corollary, they are reminded of Allah's blessings and are taught to be grateful to Him.
Later, in Verse 173 it is said that the prohibited must remain prohibited and should never be treated as lawful, something the mushrikin used to do when they ate carrion or animals slaughtered in a name other than that of Allah. Also implied is the warning that it is an error…
Read the full tafseer →170. The believers are told that if by having believed they have committed themselves to following the Law of God as they claim then they should abandon all taboos and prohibitions imposed by the pundits and priests, by the rabbis and church fathers, by the monks and recluses, and by their own forefathers. Although they were required to abstain from whatever had been prohibited by God, they ought to feel no compunction with regard to consuming all that He had permitted. This has also been alluded to in the saying of the Prophet reported in a Tradition in the following words: 'Whoever prays in…
Read the full tafseer →