Al-Baqara 2:171

Al-Baqara · from ayah 171

2:171

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ؕ— صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۟وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ کَفَرُوۡا كَمَثَلِ الَّذِىۡ يَنۡعِقُ بِمَا لَا يَسۡمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ؕ صُمٌّۢ بُكۡمٌ عُمۡـىٌ فَهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The example of those who disbelieve is like that of one who shouts at what hears nothing but calls and cries cattle or sheep - deaf, dumb and blind, so they do not understand.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 21 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:171

یہ لوگ جنہوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کر دیا ہے اِن کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی کو سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وه بہرے، گونگے اور ا ندھے ہیں، انہیں عقل نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے کفر کو اپنا لیا ہے ان (کو حق کی دعوت دینے) کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان (جانوروں) کو زور زور سے بلائے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے، گونگے اندھے ہیں، لہذا کچھ نہیں سمجھتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کافروں کی کہاوت اس کی سی ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے بہرے، گونگے، اندھے تو انہیں سمجھ نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کافروں (کو ہدایت کی طرف بلانے) کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو کسی ایسے (جانور) کو پکارے جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ نہیں سنتا، یہ لوگ بہرے، گونگے، اندھے ہیں سو انہیں کوئی سمجھ نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں کی مثال جنھوں نے کفر کیا، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو ان جانوروں کو آواز دیتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے، بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، سو وہ نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کافروں کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ایسی چیز (مثلا جانوروں) کو پکارتا ہے وہ جانور اس کی پکار اور آواز کے سوا کچھ بھی سمجھ نہیں سکتے اسی طرح یہ (کافر) بھی بہرے، گونگے اور اندھے ہیں جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کافروں کی تمثیل ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیزوں کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سنتی سمجھتی ہوں۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، یہ سمجھ نہیں سکتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مثال ان لوگوں کی جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر ایسے ہے جیسے کوئی پکارتا ہو کسی ایسی چیز کو جو کچھ نہ سنتی سمجھتی ہو بجز پکارو آواز کے یہ لوگ بہرے ہیں سماع حق سے گونگے ہیں حق بات کہنے سے اندھے ہیں راہ حق کو دیکھنے پہچاننے سے پس یہ کچھ نہیں سمجھتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ کافر ہیں ان کا حال تو اس شخص جیسا ہے۔ جو ایسے (جانور) کے پیچھے چلا رہا ہے جو کچھ سنتا ہی نہیں بجز بلانے اور پکارنے کے (یہ) لوگ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو (کچھ بھی) نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیز کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سمجھتی ہو وہ بہرے بھی ہیں گونگے بھی ہیں اندھے بھی ہیں پس وہ عقل سے کام نہیں لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیز کو پکارے اور وہ سوائے چلانے اور پکارنے کے کچھ نہیں سمجھتے یہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں اس لئے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی

— محترمہ رفعت اعجاز

The mental condition of those who rejected the way of Allah may be likened to that of the cattle whom the shepherd calls but they hear nothing except the sound of shouts and cries. They are deaf, they are dumb, they are blind; therefore they do not understand anything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The example of (calling) those who disbelieve is such as someone is shouting at an animal that hears nothing but a call and cry. They are deaf, dumb and blind, so they do not understand

— Muhammad Taqi Usmani

The example of (calling) those who disbelieve is such as someone is shouting at an animal that hears nothing but a call and cry. They are deaf, dumb and blind, so they do not understand

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the example of those who disbelieve is as that of him who shouts to those (flock of sheep) that hear nothing but calls and cries. (They are) deaf, dumb and blind. So they do not understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The likeness of those who disbelieve (in relation to the messenger) is as the likeness of one who calleth unto that which heareth naught except a shout and cry. Deaf, dumb, blind, therefore they have no sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The example of those who disbelieve is like that of one who shouts at what hears nothing but calls and cries cattle or sheep - deaf, dumb and blind, so they do not understand.

— Saheeh International

Preaching to unbelievers is like talking to someone who cannot hear anything except yells and shouts. They are deaf, dumb, and blind; they have no understanding.

— Muhammad Sarwar

And the parable of those who disbelieve is as the parable of one who calls out to that which hears no more than a call and a cry; deaf, dumb (and) blind, so they do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

And the likeness of those who disbelieve is as the likeness of one who shouteth unto that which heareth naught except a call and a cry; deaf, dumb; blind, wherefore they understand not.

— Abdul Majid Daryabadi

The parable of those who reject Faith is as if one were to shout Like a goat-herd, to things that listen to nothing but calls and cries: Deaf, dumb, and blind, they are void of wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:171

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 170–171

گمراہی اور جہالت کیا ہے ؟ یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت و جہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔ پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بیخبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جن جن کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 169 اس تمثیل کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ ان لوگوں کی حالت ان بےعقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلّے اپنے اپنے چرواہوں کے پیچھے چلے جاتے ہیں اور بغیر سمجھے بوجھے ان کی صداؤں پر حرکت کرتے ہیں۔ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کو دعوت و تبلیغ کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا جانوروں کو پکارا جا رہا ہے جو فقط آواز سنتے ہیں، مگر کچھ نہیں سمجھتے کہ کہنے والا ان سے کیا کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے الفاظ ایسے جامع استعمال فرمائے ہیں کہ یہ دونوں پہلو ان کے تحت آجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 170–171

خلاصہ تفسیر اور جب کوئی ان (مشرک) لوگوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم (اپنے پیغمبر کے پاس) بھیجا ہے اس پر چلو تو (جواب میں) کہتے ہیں (کہ نہیں) بلکہ ہم تو اسی (طریقہ) پر چلیں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (کیونکہ وہ لوگ اس طریقہ کے اختیار کرنے میں مامور من اللہ تھے حق تعالیٰ ان پر رد فرماتے ہیں) کیا (ہر حالت میں یہ لوگ اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر چلیں گے) اگرچہ ان کے باپ دادا (دین کی) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتاب کی) ہدایت رکھتے ہوں۔ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ (الی قولہ) فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ اور ان کافروں کی کیفیت (نافہمی میں) اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

" نعق ینعق " کے معنی : نَعَقَ یَنعقُ کے معنی چیخنے اور آواز دینے کے آتے ہیں۔ نع المؤذن کے معنی ہیں مؤذن نے اذان دی۔ نعق الراعی بغنمہ کے معنی ہیں چرواہے نے اپنے گلے کو للکارا یا پکارا۔۔ صورت حال کی تمثیل صورت حال : یہ ایک تمثیل ہے جس میں ایک صورت حال کی تمثیل دوسری صورت حال سے دی گئی ہے۔ اس طرح تمثیلات میں، جیسا کہ ہم آیات 16-17 کی تمثیلات کی وضاحت کرتے ہوئے لکھ چکے ہیں۔ ممثل اور ممثل بہ کے تمام اجزاء کی ایک دوسرے سے مطابقت ضروری نہیں ہوتی بلکہ صرف صورت واقعہ کی صورت واقعہ سے مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ نیز اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کہ جس چیز کی تمثیل دی جاتی ہے۔ اسی کے آئینہ میں اس کا عکس بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

171۔ 1 ان کافروں کی مثال جنہوں نے تقلید آباء میں اپنی عقل و فہم کو معطل کر رکھا ہے ان جانوروں کی طرح ہے جن کو چرواہا بلاتا اور پکارتا ہے وہ جانور آواز تو سنتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ انہیں کیوں بلایا اور پکارا جا رہا ہے ؟ اسی طرح یہ آباؤ اجداد کی تقلید کرنے والے بھی بہرے ہیں کہ حق کی آواز نہیں سنتے، گونگے ہیں کہ ان کی زبان سے حق نہیں نکلتا، اندھے ہیں کہ حق کو دیکھنے سے عاجز ہیں اور بےعقل ہیں کہ دعوت حق اور دعوت توحید و سنت کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہاں دعا سے قریب کی آواز اور ندا سے دور کی آواز مراد ہے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 168–172

106: مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی، یہ آیت ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

گونگے ، بہرے اور اندھے ہیں ۔ اگرچہ وہ کانوں ، آنکھوں اور زبانوں والے ہیں ۔ وہ کیوں ایسے نہ ہوں کہ ان چیزوں کے باوجود وہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔ راہِ ہدایت نہیں پاتے ۔ جو آنکھیں ہوتے ہوئے نہیں دیکھتا تو اندھا ہے ، کان ہوتے نہیں سنتاتو بہرہ ہے ، زبان ہوتے حق بات نہیں کرتا تو ، گونگا ہے۔ جو شخص غور وفکر چھوڑ دے ۔ علم ومعرفت اور رشد وہدایت کے دروازے اپنے اپر بند کردے اور نظریہ حیات اور راہ عمل کا مآخذ ومصدر اس ذریعے کو قرار دے جو دراصل ماخذ ومصدر نہ ہو اور نہ اس کا مستحق ہو تو ایسے شخص کی اس سے زیادہ گھناؤنی تصویر کھینچنا ممکن نہیں ہے ۔ اب یہاں روئے سخن مومنین کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ان کافروں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ایسا ہے جیسا کوئی جنگل کے جانوروں کو بلائے کہ وہ سوائے آواز کے کچھ نہیں سمجھتے یہی حال ان لوگوں کا ہے جو خود علم نہ رکھیں اور نہ علم والوں کی بات قبول کریں۔ 3 یعنی یہ کفار گویا بہرے ہیں جو حق بات بالکل نہیں سنتے گونگے ہیں جو حق بات نہیں کہتے اندھے ہیں جو راہ مستقیم نہیں دیکھتے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے کیونکہ جب ان کے ہر سہ قویٰ مذکورہ فاسد ہوگئے تو تحصیل علم و فہم کی اب کیا صورت ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 171 وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لاَ یَسْمَعُ الاَّ دُعَآءً وَّنِدَآءً ط جو لوگ محض باپ دادا کی تقلید میں اپنے کفر پر اڑ گئے ہیں ان کی تشبیہہ جانوروں سے دی گئی ہے جنہیں پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی پکار اور آواز تو سنتے ہیں ‘ لیکن سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل عاری ہوتے ہیں۔ تمثیل سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اس دعوت پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

213 یعنی کافروں کی مثال ان بےعقل جانوروں کی سی ہے۔ جنہیں چرواہا جب پکارتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ بلکہ محض آواز سن کر ادھر ادھر ہوجاتے ہیں۔ جانوروں کی طرح یہ کافر بھی حق بات سن کر نہ اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حق بات کہہ سکتے ہیں اور حق بینی کے معاملہ میں اندھے ہیں۔ پھر انہیں ہدایت نصیب ہو تو کیسے ہو۔ جب کہ ہدایت پانے کے سارے راستے انہوں نے خود ہی اپنے آپ پر بند کر رکھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

610 ۔ (بےحسی اور نافہمی میں) ذکر داعی حق کی دعوت حق کا ہورہا ہے۔ ایک تشبیہ رسول اللہ ﷺ اور اس کی امت دعوت، کے رویہ سے متعلق پیش کی جارہی ہے۔ مضاف ” داعی محذوف ہے۔ علی حذف مضاف تقدیرہ مثل داعی الذین کفروا (بیضاوی) اے مثل داعیھم الی الایمان (کشاف) فیھا مضاف محذوف اما من جانب المشبہ اوالمشبہ بہ (روح) 611 ۔ یعنی اس جانور کی طرح جس کے کان میں پکارنے والے کی آواز اور الفاظ تو آرہے ہیں باقی وہ ومعنی ومفہوم کچھ نہیں سمجھتا، بس وہی معاملہ یہ منکرین دعوت حق کے ساتھ کررہے ہیں، داعی کے الفاظ تو سن لیتے ہیں، لیکن اس کے معنی ومفہوم پر غور ہی نہیں کرتے۔ مثل الدابۃ تنادی فتسمع ولا تعقل مایقال لھا کذلک الکافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 170–172

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا (الآیۃ) اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں سے اشارہ فرمایا : لَایَعْقِلُوْنَ اور لَایَھْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انہیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد احکام ہیں جو اللہ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے ہیں، اور عقل سے مراد وہ احکام ہیں جو بذریععہ اجتہاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے ہوں۔ آباء و اجداد کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ( اور مثال ان لوگوں کی کہ کافر ہیں اس شخص کی سی ہے جو چلاّ چلاّ کر ایسی شئ کو پکار رہا ہے جو کچھ بھی سوائے پکارنے کے اور چلاّ نے کے نہیں سنتے) نعق اور اسی طرح نعیق چرواہے کے بکریوں پر چلاّ نے اور آواز دینے کو کہتے ہیں اگر یہ آیت بت پرستوں کے بارے میں ہو تب تو سہل ہے کچھ تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں حاصل یہ ہوگا کہ بتوں کو پکارنے اور ان سے حاجت طلب کرنے کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی جانوروں کو پکارے کہ وہ سوائے آواز سننے کے خاک بھی نہیں سمجھتے۔ اس تقدیر پر یہ آیت مضمون میں آیت لایَسْمَعُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(171) پھر حضور اکرم ﷺ کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کافروں کی مثال بیان فرماتے ہیں کہ ان کافروں کی مثال ان اونٹ اور بکریوں جیسی ہے جن کو کوئی پکار رہا ہے یعنی ان کو چرانے والا ایسی آواز کے پکار رہا ہے جس کو نہ جانور سنتے ہیں اور نہ سمجھتے یعنی چرانے والا جس وقت ان سے کہتا ہے کھاؤ یا پیو تو یہ کچھ نہیں سمجھتے، ایسے ہی یہ کافر سچی بات کے سننے سے بہرے اور اس کے کلام کرنے سے گونگے اور حق بات کے دیکھنے سے اندھے یعنی یہ حق بات اور ہدایت کے قبول کرنے سے آپس میں بالکل اندھے بہرے اور گونگے ہیں جیسا کہ اونٹ اور بکریاں چرانے والے کی بات کو نہیں سمجھتیں اس طرح یہ کافر اللہ کے حکم اور رسول اکرم ﷺ کے پروگرام…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

”نَعَقَ بِغَنَمِہٖ“ (ف، ض) اپنی بھیڑ بکریوں کو آواز دینا اور ڈانٹنا۔ (قاموس) کفار کی یہ مثال دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ ان کفار کو سمجھانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ان جانوروں کو سمجھاتا ہے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ کفار کان، زبان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود ضد اور عناد کی وجہ سے حق سننے، دیکھنے اور اس کا اقرار کرنے سے بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ سورة اعراف (179) میں ایسے لوگوں کو جانوروں کی طرح، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے اور سرے سے بیخبر قرار دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة زخرف (40) اور یونس (42، 43)۔ دوسری اس طرح کہ ان کی مثال ان بےعقل جانوروں کی سی ہے جن کے گلے (ریوڑ)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 171 اللہ تعالیٰ نے کفار کو وعظ کرنے والے اور ان کو دعوت دینے والے کو اس چروا ہے کے ساتھ تشبیہ دی جو بکریوں اور اونٹوں کو آواز دیتا ہے۔۔۔ وہ داعی حضرت محمد ﷺ تھے۔۔۔ اور وہ جانور صرف اس کی آواز اور ندا کو سنتے ہیں اور جو وہ کہتا ہے اس کو سمجھتے نہیں ہیں اسی طرح حضرت ابن عباس، مجاہد، عکرمہ، سدی، زجاج، فراء اور سیبویہ نے اس کی اسی طرح تفسیر کی ہے۔ یہ انتہائی ایجاز کے ساتھ کلام ہے۔ سیبویہ نے کہا : ان کفار کو پکارنے والے سے تشبیہ نہیں دی بلکہ جانوروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! ﷺ تیری مثال اور کفار کی مثال ان جانوروں کو آواز دینے والے اور ان جانوروں کی ہے جو سمجھتے نہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بمالا یسمع “ سے مراد ہے جیسے مثال گائے گدھے اور بکری کی ہے اگر تو ان (جانوروں) کو کوئی بات کہے تو وہ نہیں جانتے سوائے اس کے کہ تو وہ آواز کو سنتے ہیں اسی طرح کفار ہیں کہ اگر تو ان کو خیر کا حکم کرے یا اس کو برائی سے روکے یا اس کی نصیحت کرے تو وہ کچھ نہیں سمجھتے سوائے اس کے کہ وہ صرف آواز کو سنتے ہیں۔ (2) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں اس کی مثال جانور کی طرح ہے جس کو تو بلاتا ہے وہ آواز کو سنتا ہے لیکن بات کو نہیں سمجھتا جو کچھ اس کے لئے کہا گیا۔ اسی طرح کافر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَثَلُ الَّذِیْنَ : اور ان لوگوں کی مثال جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ کَمَثَلِ الَّذِیْ : اس کی مثال کی مانند ہے ] [ یَنْعِقُ : جو ہانک پکار کرتا ہے۔] [ بِمَا : اس کو جو ] [ لَا یَسْمَعُ : سن کر نہیں سمجھتا ] [ اِلاَّ : سوائے ] [ دُعَآئً : دعا کے ] [ وَّنِدَآئً : اور آواز کے ] [ صُمٌّ : بہرے ہیں ] [ بُــکْمٌ : گونگے ہیں ] [ عُمْیٌ : اندھے ہیں ] [ فَھُمْ : پس وہ لوگ ] [ لَا یَعْقِلُوْنَ : عقل سے کام نہیں لیتے ] ن ع ق نَعَقَ (ض) نَعْقًا : کوے کا کائیں کائیں کرنا ‘ چرواہے کا جانور ہانکنے کے لیے آواز نکالنا ‘ ہانک پکار کرنا۔ (آیت زیر مطالعہ) ن د و نَدَا (ن) نَدْوًا : مجلس میں جمع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں کی ایک مثال صاحب روح المعانی ص 48 ج 2 لکھتے ہیں کہ مشبہ یا مشبہ بہ کی جانب میں مضاف محذوف ہے پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ کافروں کو دعوت دینے والے شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان جانوروں کے پیچھے چیخ رہا ہو جو بس پکار اور آواز سنتے ہیں اور اس سے زیادہ کوئی بات وہ نہیں سمجھتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کسی نے آواز دی لیکن کیا کہا اس کو بالکل نہیں سمجھتے اور دوسری صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ کافروں کی مثال اس شخص کے جانوروں کی طرح ہے جو اپنے جانوروں کو پکارتا اور چیختا چلاتا ہے اور جانوروں کو پکار کے سوا کچھ خبر نہیں۔ (خلاصہ مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ کافر لوگ اپنی جہالت اور حماقت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 165–171

استعجاب واستبعاد براتخاذ انداد بعد واضح شدن وحدانیت رب عباد۔ قال تعالی، ومن الناس من یتخذ۔۔۔ الی۔۔۔ العذاب۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل عقل اور اہل نظر کا بیان تھا اب اس آیت میں بدعقلوں کا بیان ہے کہ جب اللہ کی واحدانیت اور اس کی رحمانیت کے دلائل اظہر من الشمس ہیں تو عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے مگر حد آدمیت اور دائرہ انسانیت سے باہر ہیں کہ اللہ کے سوا جو کہ منعم حقیقی ہے ایسے ہم سر اور شریک بناتے ہیں جو خداوندذوالجلال سے اس درجہ فروتر اور کمتر ہیں کہ خدا سے کوئی نسبت نہیں رکھتے دلائل اور براہین سے تو یہ ثابت ہے کہ اللہ کا ایک بھی شریک اور ہمسر نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

312 یہ کفار ومشرکین کی مثال ہے جو اندھا دھند اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ مَا اسم موصول ہے، اور اس سے مراد چوپائے ہیں جو آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ مشرکین کی نادانی اور بےحسی کی مثال ہے یعنی جس طرح ایک چوپائے کو آواز دی جائے تو وہ آواز تو سن لے گا لیکن جو کچھ اس کو کہا گیا ہے اس کا مطلب نہیں سمجھے گا۔ اسی طرح ان کا حال ہے کہ یہ آواز تو سن لیتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ عن مجاھد کمث الذی ینعق مثل ضربہ اللہ لمن یسمع ما یقال لہ ولا یعقل کمثل البھیمۃ تسمع النعیق ولا تعقل (ابن جریر ص 46 ج 2) یہ آواز حق سے بہرے ہیں۔ کیونکہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور حق بات کا اقرار کرنے کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 168–171

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل اور شرک کا رڈ تھا اور یہ بتلایا گیا تھا کہ جو لوگ دوسروں کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ کے ساتھ کرنی چاہئے ، وہ لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سزا اور عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے برے انجام سے خبردار کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان کے اعمال ان کے لئے حسرت کا باعث بنیں گے۔ قیامت کے دن ایسے لوگ افسوس کا اظہار کریں گے۔ مگر وہ افسوس ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا اور نہ وہ کبھی دوزخ کی آگ سے باہر نکل سکیں گے۔ قانون کی پابندی قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ موضوع کی نوعیت کے اعتبار سے کبھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً۝ 0 ۭ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْيٌ فَہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ 171 مثل والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] . ( م ث ل ) مثل ( ک ) المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ نعق۔ نعیق چرواہے کا بکریوں کا پکارنا اسی طرح نعقان بالتحریک و نفاق بالضم۔ حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّادُعَآئً وَّنِدَآئً ط صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 171) (مثال ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیزوں کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سنتی سمجھتی ہوں۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں یہ سمجھ نہیں سکتے) صورتِ حال کی تمثیل صورت حال ہے یہ تمثیل ان لوگوں کی ہے جو عقل و بصیرت سے کام لینے کی بجائے اندھے بہرے ہو کر محض باپ دادا کی تقلید پر فخر کررہے ہیں۔ جس طرح بھیڑبکریاں بغیر سوچے سمجھے اپنے چرواہے کے پیچھے چلتی رہتی ہیں انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ چرواہا انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 170–171

فہم القرآن ربط کلام : تقلید آباء بھی شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطان بےحیائی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں لایعنی گفتگو کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ یہ بات بھی دلیل کے طور پر آدمی کو سمجھاتا ہے کہ آخر پہلے لوگ اور بزرگ کوئی غلط اور گمراہ تھے ؟ حالانکہ یہ سوچ عقل کے خلاف اور جانوروں کا طریقہ ہے۔ جب انہیں حرام و حلال اور دیگر مسائل کے حوالے سے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو انہی روایات پر چلیں گے جن پر ہمارے آباء و اجداد چلا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے بزرگ دین کی سمجھ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔ اس ارشاد سے یہ بات بڑی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 171: وَمَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَالَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآئً وَّنِدَآئً صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ۔ (کافروں کی مثال اس شخص جیسی ہے جو چِلّا چِلّا کر ایسی چیز کو پکار رہا ہو جو سوائے چِلّانے اور پکارنے کے کچھ نہیں سنتا۔ بہرے گونگے ٗ اندھے ہیں پس وہ کچھ نہیں سمجھتے) مثل الذین کفروا۔ اس سے پہلے مضاف محذوف ہے ای داعی الذین کفروا کمثل الذی ینعق۔ ینعقکا معنی چیختا ہے۔ بما لا یسمع الا دعاء و نداء سے مراد بہائم ہیں۔ مفہوم آیت : اب مطلب آیت کا یہ ہے کہ ان کافروں کو دعوت دینے والے کی مثال جیسے کوئی حیوانات کو آواز دے جو کہ آواز میں سے گھنٹی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 171۔: (آیت)” ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لایسمع “ نعیق اور نعق چرواہے کی اس آواز کو کہتے ہیں جو وہ بکریوں کو ہانکنے کے وقت نکالتا ہے آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ محمد ﷺ آپ کی اور کافروں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بہائم کو آواز دے ، یعنی آپ تو گویا مثل آواز دینے والے کے ہیں اور یہ کفار مثل بہائم کے ہیں ، اور بعض نے کہا ہے کہ کفار کو وعظ کرنے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے کی مثال چرواہے کے ہے جو بکریوں کو آواز دیتا ہے حالانکہ وہ سنتی (سمجھتی) نہیں ۔ ” الادعائ “ آواز (وندائ) پکار لفظ مثل کو ” الذین کفروا “ کی طرف اس پر کلام کی دلالت کرنے کی وجہ سے مضاف کیا ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 170–171

(170 ۔ 171) ۔ یہود اور مشرکین سے جب اسلام لانے اور قرآن شریف کے موافق چلنے کو کہا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ ہم تو اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلیں گے ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال جانوروں کی سی ہے جس طرح ان کا چرواہا ان کو آواز دیتا ہے تو وہ اس آواز کے مطلب کو تو کچھ سمجھتے نہیں صرف آواز ہی آواز سن لیتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کے کانوں میں یہ آواز ہی بسی ہوئی ہے کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ ان کے باپ داداکا طریقہ ہے نیک و بد اور حق ناحق کے امتیاز سے انہوں نے جانوروں کی طرح اپنی زبان آنکھ کان کو بیکار کر رکھا ہے یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ دین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کردیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنہیں ان کا چرواہا پکارتا ہے، لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے ؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوگی مگر وہ اسے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 165–173

مردار کی تحریم ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 171–172

457 نور حق و ہدایت سے محروم لوگ جانور ہیں : سو ان لوگوں نے اپنے سوئ اختیار اور بدنیتی کی بناء پر، اپنے آپ کو شرف انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر حیوانوں کی سطح پر پہنچا دیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حق بات کو سننے، سمجھنے اور اس کو اپنانے کی اہلیت اور صلاحیت سے ہی محروم کردیا اور یہ چوپایوں کی طرح ہوگئے، بلکہ اس سے بھی برے اور بدتر، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ کَالْاَ نْعَام بَلْ ھُمْ اَضَّلُ } ۔ (الاعراف : 179) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بلکہ اس سے بھی آگے انہوں نے اپنے آپ کو بدترین مخلوق " شر البریۃ " بنادیا، جیسا کہ سورة البینۃ میں اس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اندھی تقلید کی مثال تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ کفار و مشرکین بالکل جانوروں کے اس ریوڑ کی طرح ہیں جن کو چرواہا ہانک لگاتا ہے اور جانور آواز سنتے ہیں مگر آواز کا ادراک نہیں رکھتے اس لئے آواز کی اہمیت وہ نہیں سمجھتے کہ کہنے والا دراصل ان کو کیا سمجھا رہا ہے، اس طرح مشرک نہ ہدایت کی بات سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں اور نہ ہی ہدایت کی راہ دیکھتے ہیں اس لئے وہ انسان نہیں بلکہ جانوروں کی طرح زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ” کہ جس شخص نے اپنی قوم کی ناحق پر مدد کی اس کی مثال ایسے ہے جیسے اونٹ کنوئیں میں گر جائے تو اسے اس کی دم پکڑ کر کھینچا جائے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 168–176

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 تر جمہ میں کی ہوئی وضاحت کے مطابق کفار کو گمراہی اور ضلالت میں ان جانوروں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو راعی کی آواز تو سنتے ہوں مگر کچھ سمجھتے نہیں۔ ای مثلک یا محمد ومثل الذین کفروا الخ اور دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ کفار کو بتوں کے پکار نے میں اس راعی کے ساتھ تشببیہ دی گئی ہو جو بھیڑ بکریوں کے دور سے بلاتا ہے۔ ای مثل الذین کفروا ودعائھم الا صنام کمثل الذی الخ مفسرین نے اس مثل کے یہ دونوں مطلب بیان کیے ہیں مگر حاظ ابن کثیر نے پہلی تشبیہ کو پسند فرمایا ہے۔ البحر المحیط۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:171) ومثل الذین کفروا کمثل الذی ینعق بما لا یسمع الا دعاء وندائ۔ اس میں الذین کفروا کا مضاف محذوف ہے اور تقدیر کلام یہ ہے داعی الذین کفروا ۔۔ الخ ینعق مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ نعق۔ نعین۔ نعاق (باب فتح۔ ضرب) مصادر۔ فعل لازم و متعدی ہر دو میں مستعمل ہے۔ چناچہ بولتے ہیں۔ نعق الغراب کوے کا کائیں کائیں کرنا۔ اور متعدی بالباء نعق بغنمہ اس نے چیخ کر اپنی بکریوں کو ڈانٹا۔ بما میں ب تعدیہ کے لئے ہے اور ما موصولہ ہے یعنی الذی جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ اور کافر لوگوں کو دعوت حق دینے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو چلا چلا کر ایسی شے کو پکار رہا ہے جو کچھ بھی سوائے پکارنے کے اور چلانے کے نہیں سنتی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 168–176

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 168–171

حلال و حرام کا ذکر شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانور جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا کہ توحید وقرآن پر ایمان لاؤ، اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا اور جب باپ دادا ہی دین کے امور نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو ان کی پیروی کرنا حماقت وگمراہی ہے۔ اور جس طرح چوپائے ، چرانے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں، کلام کے معنی نہیں سمجھتے، یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی ذہن نشین کرکے ارشاد فیض بیناد سے فائدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 163–172

[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4 [107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 171–172

(ف 1) ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ محرمات منصوصہ کے سوا اللہ کی تمام نعمتیں قابل استعمال ہیں ، تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں ، اللہ کی عبادت کا مفہوم بجزا ادائے شکر کے اور کچھ نہیں ، ترک لذات غیر اسلامی اصول ہے ، قرآن حکیم نے کھانے پینے کی چیزوں میں کوئی مضائقہ نہیں رکھا ، البتہ حرام اور ناجائز اشیاء سے پرہیز ضروری ہے ، شریعت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان تمام قوموں سے زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ خدا کا شکر گذار ہو زیادہ مطیع وفرماں بردار ہو ، نہ یہ کہ خدا کی نعمتوں کا استعمال نہ کرے رسول اللہ ﷺ نے جو زہد وتقوی کا آخری نمونہ ہیں ، کبھی اس قسم کا پرہیز نہیں کیا ، بہتر سے بہتر چیز میسر آگئی تو وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 اور ان کافروں کو دین حق کی طرف بلانے اور دعوت دینے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہو جو سوائے پکارنے اور آواز دینے کے اور نہ کچھ سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے یہ کفار بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں لہٰذا یہ کوئی کام کی بات نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اس مثال میں ایک طرف نبی کریم ﷺ ہیں جو داعی الی الحق ہیں اور دوسری طرف مشرک ہیں جو اپنے آبائو اجداد کے طریقوں پر اڑے ہوئے ہیں وہ شخص جانور کی طرح پکارنے والے کی آواز تو سنتے ہیں مگر سمجھتے کچھ نہیں۔ اسی اعتبار سے ان کو بہرا، گونگا، اندھا کہا گیا ہے کہ وہ نہ حق بات کو سنتے ہیں نہ دین حق کی تائید میں کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 168–172

ف 2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفر کی راہ اختیار کرنے والوں کی مثال قرآن کریم میں : 299: ذکر داعی حق کی دعوت حق کا ہو رہا ہے۔ ایک تشبیہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت دعوت کے رویہ سے متعلق پیش کی جا رہی ہے کہ رسول ہے کہ ان کو پکارتا ہے اور وہ بھی اس کی پکار کو سن رہے ہیں لیکن اس جانور کی طرح جس کے کان میں پکارنے والے کی آواز اور الفاظ تو آرہے ہیں باقی وہ معنی و مفہوم کچھ نہیں سمجھتے۔ بس یہی معاملہ یہ منکرین بھی دعوت حق کے ساتھ کر رہے ہیں کہ داعی کے الفاظ تو سن لیتے ہیں لیکن اس کے معنی اور مفہوم پر غور ہی نہیں کرتے گویا وہ بہرے ہیں لیکن آواز حق کی طرف سے گونگے ہیں کہ اقرار حق کے لئے ان کی زبان بالکل نہیں کھلتی اندھے ہیں کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 170–171

When these mushrik people were asked to follow the injunctions revealed by Allah through His Messenger, they refused to do so and insisted that they would rather follow the customary practice they had inherited from their fathers because, as they assumed, their models were divinely appointed to follow the way they adopted. Allah Almighty refutes this position of theirs by asking how could they go on following the ways of their fathers, under all conditions, to the exclusion of all other ways, even if their fathers did not understand much about the true faith, nor were they blessed with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

169. This parable has two aspects. On the one hand, it suggests that these people are like herds of irrational animals, dumb cattle, that always follow their herdsmen, moving on as they hear their calls without understanding what they mean. (Thus these people follow their leaders even though they do not grasp where it is they are being led to - Ed.) On the other hand, it also suggests that when the Truth is preached to them they show such insensitivity to it that one may as well be addressing animals who merely comprehend sounds but are incapable of understanding their meaning. The expression…

Read the full tafseer →