Al-Baqara 2:170

Al-Baqara · from ayah 170

2:170

وَاِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ؕ— اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْـًٔا وَّلَا یَهْتَدُوْنَ ۟وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَلَوۡ كَانَ اٰبَآؤُهُمۡ لَا يَعۡقِلُوۡنَ شَيۡئًـا وَّلَا يَهۡتَدُوۡنَ

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is said to them, "Follow what Allah has revealed," they say, "Rather, we will follow that which we found our fathers doing." Even though their fathers understood nothing, nor were they guided?

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 21 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:170

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ اس کلام کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ! ہم تو ان باتوں کی پیروی کریں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔ بھلا کیا اس صورت میں بھی (ان کو یہی چاہیے) جب ان کے باپ دادے (دین کی) ذرا بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں، اور انہوں نے کوئی (آسمانی) ہدایت بھی حاصل نہ کی ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان سے کہا جائے اللہ کے اتارے پر چلو تو کہیں بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ جو اﷲ نے نازل فرمایا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں: (نہیں) بلکہ ہم تو اسی (روش) پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت پر ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں بلکہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان (کفار و مشرکین) سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ اسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔ اگر ان کے آباؤ اجداد ہی کچھ نہ سمجھتے ہوں اور نہ وہ راہ ہدایت پر ہوں (تو کیا پھر بھی یہ لوگ انہی کی پیروی کریں گے ؟)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اور نہ راہ ہدایت پر رہے ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس سب کے باوجود ان کا یہ حال ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم پیروی کرو اس دین حق کی جسے اتارا ہے اللہ نے تو یہ کہتے ہیں کہ نہیں جی ہم تو بس اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا ہے اپنے باپ دادا کو کیا یہ لوگ باپ دادا کے طریقے پر ہی چلتے رہیں گے اگرچہ وہ نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہی انہوں نے سیدھی راہ پائی ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادوں) کو پایا ہے۔ خواہ ان کے باپ (دادا) نہ ذراعقل بھی رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو اللہ نے نازل کیا ہے وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم تو پیروی کریں گے اس طریقے کی جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے اگرچہ ان کے آباء و اَجداد نہ کسی بات کو سمجھ پائے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوئے ہوں (پھر بھی وہ اپنے آباء و اَجداد ہی کی پیروی کرتے رہیں گے ؟)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو اللہ نے نازل فرمایا تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی تابعداری کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ جانتے ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

When it is said to them, "Follow the Commands that Allah has sent down," they reply, "We will follow only what we found our forefathers practising., Well, will they go on following their forefathers even though they did not use common sense and did not find the right way?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When it is said to them: :Follow what Allah has sent down, they say: :Instead, we would follow that (religion) on which we have found our fathers. Is it so, even though their fathers had no understanding at all, nor had they been on the right path?

— Muhammad Taqi Usmani

When it is said to them: :Follow what Allah has sent down, they say: :Instead, we would follow that (religion) on which we have found our fathers. Is it so, even though their fathers had no understanding at all, nor had they been on the right path?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When it is said to them: "Follow what Allah has sent down." They say: "Nay! We shall follow what we found our fathers following." (Would they do that!) even though their fathers did not understand anything nor were they guided

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is said unto them: Follow that which Allah hath revealed, they say: We follow that wherein we found our fathers. What! Even though their fathers were wholly unintelligent and had no guidance?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is said to them, "Follow what Allah has revealed," they say, "Rather, we will follow that which we found our fathers doing." Even though their fathers understood nothing, nor were they guided?

— Saheeh International

When some people are asked to follow the revelations of God, they say, "We would rather follow what our fathers have followed," even though their fathers had no understanding and could not find the true guidance.

— Muhammad Sarwar

And when it is said to them, Follow what Allah has revealed, they say: Nay! we follow what we found our fathers upon. What! and though their fathers had no sense at all, nor did they follow the right way.

— Muhammad Habib Shakir

And when it said unto them: follow that which Allah hath sent down, they say: nay, we shall follow that way whereon we found our fathers - even though their fathers understood not aught, nor were they guided aright?

— Abdul Majid Daryabadi

When it is said to them: "Follow what Allah hath revealed:" They say: "Nay! we shall follow the ways of our fathers." What! even though their fathers Were void of wisdom and guidance?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:170

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 170–171

گمراہی اور جہالت کیا ہے ؟ یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت و جہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔ پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بیخبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جن جن کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 168 یعنی ان پابندیوں کے لیے ان کے پاس کوئی سَنَد اور کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہے کہ باپ دادا سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ نادان سمجھتے ہیں کہ کسی طریقے کی پیروی کے لیے یہ حجّت بالکل کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 170–171

خلاصہ تفسیر اور جب کوئی ان (مشرک) لوگوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم (اپنے پیغمبر کے پاس) بھیجا ہے اس پر چلو تو (جواب میں) کہتے ہیں (کہ نہیں) بلکہ ہم تو اسی (طریقہ) پر چلیں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے (کیونکہ وہ لوگ اس طریقہ کے اختیار کرنے میں مامور من اللہ تھے حق تعالیٰ ان پر رد فرماتے ہیں) کیا (ہر حالت میں یہ لوگ اپنے باپ دادا ہی کے طریقہ پر چلیں گے) اگرچہ ان کے باپ دادا (دین کی) نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ (کسی آسمانی کتاب کی) ہدایت رکھتے ہوں۔ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ (الی قولہ) فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ اور ان کافروں کی کیفیت (نافہمی میں) اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تنقید کے ساتھ ماضی کے ورثہ کا احترام : یعنی ان تمام مشرکانہ رسوم کے معاملہ میں ان کا اعتماد کسی دلیل اور سند پر نہیں بلکہ محض پچھلوں کی تقلید اور ان کی بےسند روایات کی پیروی پر ہے اور جب ان کو اس بات کی دعوت دی جاتی ہے کہ ان بےسند اتوں کی جگہ اس کتاب کی پیروی کرو جو خدا کی اصل شریعت سے اگا کرنے کے لیے تم پر نازل کی جا رہی ہے تو بڑے غرور کے ساتھ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو بدستور اپنے باپ دادا کے طریقے پر جمے رہیں گے۔ اس پر قرآن نے یہ سوال اٹھا یا ہے کہ کیا باپ دادا کے طریقے کی پیروی پر ان کا یہ جمود اور اصرار اس شکل میں بھی معقول قرار دیا جاسکتا ہے جب کہ یہ واضح ہو کہ ان کے باپ دادا نے نہ تو ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

170۔ 1 آج بھی اہل بدعت کو سمجھایا جائے کہ ان بدعات کی دین میں کوئی اصل نہیں تو وہ بھی جواب دیتے ہیں کہ یہ رسمیں تو ہمارے آباؤ اجداد سے چلی آرہی ہیں۔ حالانکہ آباؤ جداد بھی دینی بصیرت سے بےبہرہ اور ہدایت سے محروم رہ سکتے ہیں اس لئے دلائل شریعت کے مقابلے میں آباء پرستی کی پیروی غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس دلدل سے نکالے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 168–172

106: مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی، یہ آیت ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ کون لوگ تھے ، مشرکین بھی ہوسکتے ہیں جو باربار یہ ورد کرتے تھے کہ جب بھی انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جاتی اور کہا جاتا کہ وہ اپنی اقدار اور اپنے قانون کا ماخذ اسلام کو تسلیم کرلیں اور جاہلیت کی ان تمام باتوں کو ترک کردیں جنہیں اسلام نے بحال نہیں رکھا ، تو وہ یہی دلیل دیتے ۔ یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جنہوں نے اپنی روایات کو سختی سے پکڑا ہوا تھا ، اور وہ دین اسلام کی کسی بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے ۔ بہرحال مراد مشرکین ہوں یا یہود ، اسلام اپنے پیروکاروں کو بڑی شدت سے منع کرتا ہے کہ وہ نظریہ وعمل میں کوئی چیز ان لوگوں سے اخذ کریں ۔ مسلمان ان لوگوں کی تقلید کریں ۔ اور نہ ہی ان سے کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی حق تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے باپ دادا کا اتباع کرتے ہیں اور یہ بھی شرک ہے چناچہ بعض جہال مسلمان بھی ترک نکاح بیوگاں وغیرہ رسوم باطلہ میں ایسی بات کہہ گزرتے ہیں اور بعض زبان سے گو نہ کہیں مگر عمل درآمد سے ان کے ایسا ہی مترشح ہوتا ہے سو یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 170 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآءَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّلاَ یَہْتَدُوْنَ سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع کی پہلی آیت جہاں نوع انسانی کو خطاب کر کے عبادتِ رب کی دعوت دی گئی کے ضمن میں وضاحت کی گئی تھی کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی تو مخلوق تھے جیسے تم مخلوق ہو ‘ جیسے تم سے خطا ہوسکتی ہے ان سے بھی ہوئی ‘ جیسے تم غلطی کرسکتے ہو انہوں نے بھی کی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

212 تقلید آباء گمراہی کا بہت بڑا سبب ہے۔ انسان اپنے آباء اور بزرگوں سے عقیدت کی وجہ سے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا کہ ان سے بھی کوئی غلطی ہوسکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر تقلید آباء کی مذمت فرمائی ہے اور اسے شرک قرار دیا ہے۔ کیونکہ آباء کا عمل کوئی شرعی دلیل نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر کام کے متعلق یہ تحقیق ضروری ہوتی ہے کہ آیا وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں۔ خواہ اس کی زد اپنے آپ پر یا اپنے آباء پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ اگر کسی کے باپ دادا سے کوئی غلط کام ہوگیا ہو تو وہ غلطی پشت در پشت اس کی نسلوں میں منتقل ہوتی چلی جائے۔ حتیٰ کہ اسے عین دین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

607 ۔ (آیت) ” انزل اللہ “۔ یعنی اللہ نے جو کچھ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے اتارا ہے۔ مراد یہ کہ جب ان سے عالمگیرشریعت الہی کی ماتحتی میں آنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ 608 ۔ گویا طریق آبائی میں خطاوغلطی کا امکان ہی ان کے نزدیک نہیں، اور یہی جمودعین جہالت وظلالت ہے۔ آج مشرک قوموں اور مبتدع فرقوں کا بھی یہی حال ہے۔ جب انہیں اتباع حق کی دعوت دی جاتی ہے، تو وہ جواب میں اپنے آباؤ اجداد کے رسوم کو پیش کردیتے ہیں۔ 609 ۔ یعنی نہ فہم دین اور اس کے حقائق ومعارف کی رکھتے ہوں، اور نہ ہدایت کسی کتاب آسمانی کے ماتحت رکھتے ہوں۔ (آیت) ” لایعقلون شیئا۔ المراد انھم لا یعلمون شیئا من الدین (کبیر) (آیت) ” لایھتدون۔ اے لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 170–172

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا (الآیۃ) اس آیت سے جس طرح باپ دادوں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوتی ہے اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہوگیا جس کی طرف دو لفظوں سے اشارہ فرمایا : لَایَعْقِلُوْنَ اور لَایَھْتَدُوْنَ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آباء و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انہیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد احکام ہیں جو اللہ کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے ہیں، اور عقل سے مراد وہ احکام ہیں جو بذریععہ اجتہاد نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے ہوں۔ آباء و اجداد کے اتباع و تقلید کے عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ( اور جب کہا جاتا ہے ان ( یہود) سے کہ چلو اس پر جو خدا نے اتارا ہے) یہاں سے نیا قصہ شروع ہوا ہے۔ لَھم میں اضمار قبل الذکر ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو اسلام کی عوت دی اور جنت کی رغبت دلائی اور عذاب سے ڈرایا تو رافع بن حریملہ یہودی اور مالک بن عوف یہودی نے کہا کہ اے محمد ﷺ ہم آپ کا اتباع نہ کریں گے بلکہ جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی پر چلیں گے۔ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ عالم اور ہم سے اچھے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا ..... نازل فرمائی مَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(170) اور جس وقت مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کھیتی اور جن جانوروں کا حلال ہونا بیان کردیا ہے ان چیزوں میں اس کے حکم کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جن چیزوں کی حرمت پر دیکھا ہے ہم اسی پر قائم رہیں گے اور کیا ان کے باپ دادا ایسے نہیں تھے، اور یقیناً ان کے باپ دادا ایسے ہی تھے کہ ان کو دین اور کسی بھی نبی کی سنت کا کچھ بھی علم نہ تھا، پھر تم کیسے ان آباء کی اتباع کرتے ہو، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ان کے آبا کو نہ امور دنیا کی عقل بھی اور نہ وہ کسی نبی کی سنت پر عمل کرنے والے تھے تو پھر یہ لوگ اپنے آباء کی کس بنیاد پر اتباع کرتے ہیں اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مشرکین اور یہود و نصاریٰ کے پاس اپنے شرکیہ افعال کے لیے نہ کوئی عقلی دلیل تھی اور نہ ہی اللہ کی طرف سے آنے والی کوئی نقلی دلیل، چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورة احقاف (4) میں انھیں چیلنج فرمایا کہ اللہ کی کسی کتاب میں سے کوئی نقلی دلیل تمہارے پاس ہے تو پیش کرو۔ چناچہ جب انھیں کہا جاتا کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے تو جواب میں ان کے پاس ایک ہی دلیل تھی کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے، وہ ہم سے زیادہ عقل مند تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اگر کسی کے آباء و اجداد کو کسی بات کی عقل نہ ہو، مثلاً انھوں نے خسارے کی تجارت کی ہو، یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 170 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واذا قیل لھم، ھم ضمیر سے مراد کفار عرب ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ طبری کا قول ہے : لھم میں ضمیر، یا ایھا الناس میں جو الناس ہے اس کی طرف راجع ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : من یتخذ من دون اللہ میں جو من ہے اس کی طرف راجع ہے اور اتبعوا ما انزل اللہ یعنی قول و عمل میں قرآن کی اتباع کرو۔ قالوا بل نتبع۔۔۔ اباءنا، الفینا کا معنی ہے ہم نے پایا۔ شاعر نے کہا : فالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا میں نے اسے نہ تو بہ کرنے والا اور نہ اللہ کا ذکر کرنے والا پایا مگر تھوڑا۔ مسئلہ نمبر 2:…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو اسلام کی طرف بلایا اور ان کو رغبت دلائی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور اس کے انتقام سے ڈرایا تو رافع بن خارجہ مالک ابن عوف نے کہا اے محمد ! ہم اس چیز کی تابعداری کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا اور وہ لوگ ہم سے زیادہ جاننے والے اور ہم سے بہتر تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) اتاری لفظ آیت ” واذا قیل لہم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما الفینا علیہ اباء نا “ (الآیہ) (2) امام الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے لفظ آیت ” ما الفینا “ کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِیْلَ : کہا جاتا ہے ] [ لَھُمْ : ان لوگوں سے ] [ اتَّبِعُوْا : تم لوگ پیروی کرو ] [ مَا : اس کی جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] [ نَتَّبِعُ : ہم پیروی کرتے ہیں ] [ مَا : اس کی ] [ اَلْفَیْنَا : ہم نے پایا ] [ عَلَیْہِ : جس پر ] [ اٰبَـآئَ نَا : اپنے باپ دادا کو ] [ اَوَلَوْ : تو کیا اگر ] [ کَانَ اٰبَـآؤُھُمْ : ان کے باپ دادا ] [ لَا یَعْقِلُوْنَ : عقل سے کام نہیں لیتے ] [ شَیْئًا : ذرا بھی ] [ وَّلَا یَھْتَدُوْنَ : اور نہ ہی ہدایت پاتے تھے (تب بھی ] لو لَفَا (ن) لَفْوًا : کسی چیز کو کم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

باپ داداے ہدایت پر نہ ہوں تو ان کا اتباع اوراقتداء باعث ہلاکت ہے مشرکین کا یہ طریقہ تھا اور اب بھی ہے کہ وہ اپنے باپ دادوں کو مقتدیٰ سمجھتے رہے ہیں۔ ان کو ہزار سمجھایا جائے، حق کی دعوت دی جائے، توحید کی طرف بلایا جائے، اللہ کے دین اور اس کی شریعت قبول کرنے کے لیے کہا جائے اور توحید کی دلیلیں خوب کھول کر بیان کردی جائیں اور شرک و کفر کی مذمت خوب واضح کر کے بتادی جائے تو وہ کسی بھی قیمت پر اپنے باپ دادوں کا دین کفر و شرک چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ان کا یہی ایک جواب ہوتا ہے کہ ہم اس دین اور طور طریق اور رسم و رواج کے پابند ہیں جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔ اس آیت شریفہ میں مشرکین کی یہی بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 165–171

استعجاب واستبعاد براتخاذ انداد بعد واضح شدن وحدانیت رب عباد۔ قال تعالی، ومن الناس من یتخذ۔۔۔ الی۔۔۔ العذاب۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اہل عقل اور اہل نظر کا بیان تھا اب اس آیت میں بدعقلوں کا بیان ہے کہ جب اللہ کی واحدانیت اور اس کی رحمانیت کے دلائل اظہر من الشمس ہیں تو عقل کا مقتضی یہ تھا کہ اللہ کی نعمت کو خوب پہچانتے مگر حد آدمیت اور دائرہ انسانیت سے باہر ہیں کہ اللہ کے سوا جو کہ منعم حقیقی ہے ایسے ہم سر اور شریک بناتے ہیں جو خداوندذوالجلال سے اس درجہ فروتر اور کمتر ہیں کہ خدا سے کوئی نسبت نہیں رکھتے دلائل اور براہین سے تو یہ ثابت ہے کہ اللہ کا ایک بھی شریک اور ہمسر نہیں ہوسکتا اور یہ لوگ اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

311 مشرکین اپنی طرف سے اشیاء کی تحریم کرتے تھے۔ جب انہیں کہا جاتا کہ ان آبائی رسموں کو چھوڑ کر خدا کی کتاب کی پیروی کرو تو ان کا جواب یہ ہوتا کہ ہم تو اپنے باپ دادا کے دین ہی کی پیروی کرینگے اور اس کے مقابلہ میں کسی اور دین کو نہیں مانیں گے۔ یہ ان کی جہالت اور ضدوجمود کی حد تھی تو اللہ تعالیٰ نے آگے اس کا جواب دیا اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـاوَّلَا يَهْتَدُوْنَ ۔ یعنی اگر ان کے آباء و اجداد صاحب علم ہوتے توحید کو جانتے ہوتے اور راہ ہدایت پر ہوتے اور پھر یہ لوگ ان کا اتباع کرتے تو کوئی بات بھی تھی۔ تو کیا اگرچہ وہ دین سے ناواقف اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں پھر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 168–171

گزشتہ سے پیوستہ گزشتہ آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل اور شرک کا رڈ تھا اور یہ بتلایا گیا تھا کہ جو لوگ دوسروں کے ساتھ ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ کے ساتھ کرنی چاہئے ، وہ لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی سزا اور عذاب کے مستحق بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے برے انجام سے خبردار کیا ہے اور بتلایا ہے کہ ان کے اعمال ان کے لئے حسرت کا باعث بنیں گے۔ قیامت کے دن ایسے لوگ افسوس کا اظہار کریں گے۔ مگر وہ افسوس ان کے لئے کچھ مفید نہیں ہوگا اور نہ وہ کبھی دوزخ کی آگ سے باہر نکل سکیں گے۔ قانون کی پابندی قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ موضوع کی نوعیت کے اعتبار سے کبھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا قِيْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْہِ اٰبَاۗءَنَا۝ 0 ۭ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَہْتَدُوْنَ۝ 170 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 168–170

ترکیب : حلالا مفعول ہے کلوا کا اور من متعلق ہے کلوا سے اور یہ ابتداء غایۃ کے لیے ہے اور ممکن ہے کہ من محذوف سے متعلق ہو اور حلالا سے حال ہو اور طیبا صفت ہے حلالا کی خطوات خطوہ کی جمع ہے اور خطوہ کہ ہ کو بالفتح پڑھیں تو اس کے معنی مصدر کے ہیں اور جو ضمہ سے تو فاصلہ بین القد میں کے وان تقولوا موضع جر میں ہے کس لیے کہ اس کا عطف بالسوء پر ہے۔ بل اس جگہ اضراب کے لیے ہے۔ او عطف کے لیے اور ہمزہ استفہام کے لیے بمعنی توبیخ اور جواب کو محذوف ہے۔ تقدیرہ یتبعونہم مثل الذین الخ مبتداء کمثل الذی ینعق خبروفی الکلام حذف تقدیرہ مثل داعی الذین کفروا ای مثل داعیھم کمثل الناعق بالغنم الادعا منصوب سے ہے یسمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآاَلْفَیْنَا عَلَیْہِ اٰبَآئَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 170) (جب ان سے کہا جائے کہ فرمانبرداری کرو اس حکم کی جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ! ہم تو فرمانبرداری کریں گے اس کی جس پر ہم نے اپنے آبائواجدا دکو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دا دا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اور نہ راہ ہدایت پر رہے ہوں ؟ ) آبائو اجداد کی اندھی تقلید جب مشرکین سے یہ کہا جاتا کہ تم نے جو مشرکانہ رسوم بنا رکھی ہیں اور اپنی مرضی سے حلال و حرام کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 170–171

فہم القرآن ربط کلام : تقلید آباء بھی شیطان کی پیروی کا نتیجہ ہے۔ جس طرح شیطان بےحیائی اور انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں لایعنی گفتگو کا حکم دیتا ہے اسی طرح وہ یہ بات بھی دلیل کے طور پر آدمی کو سمجھاتا ہے کہ آخر پہلے لوگ اور بزرگ کوئی غلط اور گمراہ تھے ؟ حالانکہ یہ سوچ عقل کے خلاف اور جانوروں کا طریقہ ہے۔ جب انہیں حرام و حلال اور دیگر مسائل کے حوالے سے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا جائے تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو انہی روایات پر چلیں گے جن پر ہمارے آباء و اجداد چلا کرتے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے بزرگ دین کی سمجھ نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔ اس ارشاد سے یہ بات بڑی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 170: وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَآ اَلْفَیْنَا عَلَیْہِ ٰابَآئَ نَا اَوَلَوْ کَانَ ٰابَآؤُھُمْ لَایَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلَا یَھْتَدُوْنَ ۔ : (جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر چلو جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے تو کہتے ہیں۔ نہیں۔ بلکہ ہم تو اس پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بھلا۔ اگر ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ سیدھے راستے پر ہوں۔ تو پھر بھی ان کے راستہ پر چلیں گے) ھم کا مرجع : نمبر 1۔ واذا قیل لھم اتبعوا۔ ضمیر جمع کی الناس کی طرف لوٹتی ہے اور التفات کے طور پر ان سے رخ پھیرا گیا گویا اس طرح کہا۔ عقل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

170۔ (آیت)” واذا قیل لھم اتبعواما انزل اللہ “۔ بعض نے کہا کہ یہاں سے نیا قصہ شروع ہو رہا ہے اور ” لھم “ میں اضمار قبل الذکر ہے یعنی اس کا مرجع یہاں مذکور نہیں ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی گئی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہود کو اسلام کی دعوت دی تو رافع بن خارجہ اور مالک بن عوف کہنے لگے ہم تو اسی دین کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا کیونکہ وہ ہم سے افضل اور زیادہ عالم تھے ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور کہا گیا ہے کہ یہ (نئی بات نہیں) ماقبل سے متصل ہے اور یہ مشرکین عرب اور کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی اور ” لھم “ کی ضمیر ان کی طرف راجع ہے جن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 170–171

(170 ۔ 171) ۔ یہود اور مشرکین سے جب اسلام لانے اور قرآن شریف کے موافق چلنے کو کہا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ ہم تو اپنے بڑوں کے قدم بقدم چلیں گے ان کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال جانوروں کی سی ہے جس طرح ان کا چرواہا ان کو آواز دیتا ہے تو وہ اس آواز کے مطلب کو تو کچھ سمجھتے نہیں صرف آواز ہی آواز سن لیتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کے کانوں میں یہ آواز ہی بسی ہوئی ہے کہ جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ ان کے باپ داداکا طریقہ ہے نیک و بد اور حق ناحق کے امتیاز سے انہوں نے جانوروں کی طرح اپنی زبان آنکھ کان کو بیکار کر رکھا ہے یہاں سے یہ معلوم ہوا کہ دین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 168–170

یہ خطاب مومن اور کافر تمام لوگوں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر احسان فرمایا کہ انہیں اس بات کا حکم دیا کہ وہ زمین سے پیدا ہونے والے ہر قسم کے اناج، پھل، میوہ جات اور حیوانات اس حال میں کھائیں (آیت) حلالا۔ کہ ان کا کھانا تمہارے لئے حلال ہو، وہ غصب شدہ مال ہو نہ چوری کیا ہوا، نہ حرام معاملے کے ذریعے سے اور نہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو اور نہ کسی حرام امر پر اس سے مدد لی گئی ہو۔ (آیت) طیباً ” پاکیزہ “ یعنی وہ خبیث اور ناپاک نہ ہو، مثلاً مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور دیگر تمام ناپاک چیزیں۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے، کھانے اور فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 165–173

مردار کی تحریم ارشاد باری ہے : انما حرم علیکم المیتہ والدم والحم الخنزیر وما اھل بہ لغیر اللہ ( اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے مردارنہ کھائو، خون سے اور سور کے گوشت سے پرہیز کرو اور کوئی ایسی چیز نہ کھائو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہش رع میں میتہ اس مردہ جانور کو کہتے تھے جسے ذبح نہ کیا گیا ہو۔ جانور کبھی مردار اس طرح ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی طبعت موت مرجائے، اس کی موت میں کسی آدمی کا داخل نہ ہو اور کبھی وہ کسی آدمی کے فعل کے سبب مردار ہوجاتا ہے بشرطیکہ آدمی کا یہ فعل اسے ذبح کرنے کی صورت میں نہ ہو۔ ہم انشاء اللہ ذبح کی شرائط کا اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

454 حق کے مقابلے میں باپ دادا کی تقلید اہل باطل کا پرانا طریقہ : کہ یہ ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارا تاریخی ورثہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو حق کے مقابلے میں ہمیشہ یہی طریقہ و وطیرہ رہا ہے اصحاب کفر و باطل اور اہل زیغ و ضلال کا۔ کل بھی یہی تھا، اور آج بھی یہی ہے۔ وہ ایسے ہی مفروضوں کی بناء پر قبول حق سے انکاری ہو کر نور حق سے محروم ہوجاتے ہیں، اور دائمی خسارے کو اپنے گلے کا ہار بنا لیتے ہیں، ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو واضح رہے کہ اصل چیز ہے حق کی پیروی اس کو چھوڑ کر باپ دادا کی تقلید و پیروی کرنا اہل کفر و باطل کا طریقہ ہے ۔ وََالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اندھی تقلید تشریح : اس آیت میں کفار و مشرکین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو نافرمانی اور سیدھی راہ سے دور رہنے کے لئے یہی بہانہ ملتا ہے کہ بھئی ہم کچھ نہیں جانتے بس ہم تو وہی کام کریں گے وہی طریقے اختیار کریں گے جو ہمارے باپ دادا نے اختیار کر رکھے تھے۔ حالانکہ ان کے آباؤاجداد کے پاس نہ ہدایت تھی اور نہ عقل و شعور۔ ہدایت سے مراد وہ احکامات ہیں جو زندگی گزارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف طور پر نازل کئے گئے اور عقل سے مراد وہ فہم و فراست ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ مثلاً : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جن کا باپ بت تراش تھا اور تمام کنبہ قبیلہ بت پرست تھا مگر حضرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 168–176

آیات 168- 176 اسرارو معارف یایھا الناس کلوا ممافی الارض……………۔ لوگو ! اس ساری بربادی کا سبب اللہ کی نافرمانی ہے کہ زندگی میں ہر متنفس کی ساری محنت ومشقت دراصل غذا حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے تو یادرکھو ! روئے زمین پر ساری غذا تمہارے ہی لئے ہے مگر اللہ نے اس میں حلال و حرام مقرر فرمادیئے ہیں سو اگر تم ابدی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو غذا حلال اور طیب کھائو تاکہ تم شیطان کی پیروی سے بچ سکو کیونکہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے اگر تم اس کی اطاعت اختیار کرو گے تو بھی خوش ہو کر تمہیں سیدھی راہ نہ بتائے گا۔ بلکہ ہمیشہ برائی اور بےحیائی پر اکساتا رہے گا اور تمہارے منہ سے ذات باری پر جھوٹ اگلوائے گا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 169–170

ف 1 آج کل اہل بدعت کا بھی یہی حال ہے کہ کتاب وسنت کی بجائے آباؤ اجداد کے رسوم کو سند سمجھتے ہیں۔ بقول ابن عباس ؓ یہ آیت گو یہود کے حق میں نازل ہوئی مگر اس میں ان تمام لوگوں کی سخت مذت کی گئی ہے جو اپنے مذہبی پیشواؤں کے اقوال پر کسی نظرو استدلال ک کے بغیر چلے جارہے ہیں چونکہ تقلید کی تعریف بھی یہی ہے کہ کسی دوسرے کی بات کو اس کی دلیل معلوم کئے بغیر قبول کرلیا جائے۔ اس لیے جو لوگ ائمہ کے مسائل قیاسہ کو ان کی دلیل معلوم کیے بغیر واجب العمل سمجھتے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ آیا وہ بھی اس مذمت کے تحت نہیں آجاتے۔ ( سلسلہ بیان کے لیے دیکھئے سورت اعراف آیت 28)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:170) قیل لہم میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الناس ہے جو یایھا الناس کلوا ۔۔ میں اوپر آیا ہے۔ مالا تعلمون تک الناس سے خطاب بصیغہ حاضر تھا۔ اب ان کی طرف ناگواری کے اظہار کے لئے حاضر سے بصیغہ غائب ان کا ذکر ہورہا ہے۔ اور عقلاء سے مخاطب ہوکر کہا جا رہا ہے۔ ان احمقوں کی طرف دیکھو ہماری پندونصائح کیا جواب دے رہے ہیں۔ اتبعوا۔ اتباع (افتعال) سے فعل امر کا صیغہ جمع مزکر حاضر ہے۔ تم پیروی کرو۔ ما انزل اللہ۔ ای القران۔ بل حرف اضراب ہے۔ یہاں ما قبل کا ابطال اور مابعد کا اثبات مقصود ہے۔ یعنی ہم ما انزل اللہ کی پیروی نہیں کریں گے بلکہ ما الفینا علیہ اباء نا کی پیروی کریں گے۔ ما الفینا۔ ما موصولہ ہے۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 168–176

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 168–171

حلال و حرام کا ذکر شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے جانوروں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا مثلاً وہ جانور جن کو وہ سانڈ کے طور پر یا اس کے کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ فرمایا کہ توحید وقرآن پر ایمان لاؤ، اور پاک چیزوں کو حلال جانو جنہیں اللہ نے حلال کیا اور جب باپ دادا ہی دین کے امور نہ سمجھتے ہوں اور راہ راست پر نہ ہوں تو ان کی پیروی کرنا حماقت وگمراہی ہے۔ اور جس طرح چوپائے ، چرانے والے کی صرف آواز ہی سنتے ہیں، کلام کے معنی نہیں سمجھتے، یہی حال ان کفار کا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی صدائے مبارک کو سنتے ہیں لیکن اس کے معنی ذہن نشین کرکے ارشاد فیض بیناد سے فائدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 163–172

[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4 [107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 169–170

(ف 2) ان آیات میں مشرکین مکہ کے ہر دو تقلد کو واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح وہ وضوح حق کے باطل پر اڑے رہتے ہیں اور کسی طرح بھی آباد وعلماء کے غلط مذہب سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، خواہ ان کے مقتدا کتنے ہی بےسمجھ و گمراہ ہوں حالانکہ معیار قبول وہدایت ہے ‘ نہ کورا نہ اطاعت ۔ حل لغات : خطوت : جمع خطوۃ ، دو قدموں کے درمیان ، فاصلہ نقش پا ، قدم بہ قدم ۔ السوٓء : برائی ۔ الفحشآء : بہت بری بات ۔ ینعق : مادہ فعوق ، مال ڈھور کے پیچھے چلانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور جب ان منکرین حق سے کہاجاتا ہے کہ جو احکام اور جو کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے تم اس پر چلو اور اسکی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں نہیں اسکی پیروی نہیں کرینگے بلکہ ہم تو اس طریقہ کی پیروی کرینگے جس طریقہ پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا ہے اور اپنے آبائو اجداد کو جو کرتے دیکھا ہے وہ کرینگے کیا یہ لوگ ان ہی کی پیروی کرینگے خواہ ان کے آبائو اجداد کی یہ حالت ہوک ہ نہ وہ دین کی سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ان کو صحیح راہ میسر ہوئی ہو۔ (تیسیر) یہ لوگ یا تو مشرکین ہیں یا یہود ہیں اور ہوسکتا ہے کہ دونوں ہوں کیونکہ اس مرض میں تقریباً سب ہی اہل باطل مبتلا ہیں۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ایک روایت نقل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 168–172

ف 2۔ بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی راہ کے بجائے باپ دادوں کی راہ پر چلنے والے : 298: جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ کرنے کا کام تو یہ ہے کہ تم نبی کریم ﷺ کے قانون کی اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی رسم کو کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اگر ان کی تقلید نہ کی تو خاندان بھر میں ناک کٹ جائے گی۔ حالانکہ اگر ذرا غور سے کام لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ ان رسموں میں نہ تو عقل و دانائی کی کوئی بات ہے اور نہ ان سے کسی شخص کو رشد و ہدایت نصیب ہو سکتی ہے۔ جب وہ خود ہی فہم و تدبر سے محروم تھے تو دوسروں کو انکی تقلید سے کیا نفع مل سکتا ہے جو لوگ تعلیم قرآن کریم سے اعراض کر کے ان روسوم کی پابندی کا دم بھرتے ہیں وہ ان جانوروں کی طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 170–171

When these mushrik people were asked to follow the injunctions revealed by Allah through His Messenger, they refused to do so and insisted that they would rather follow the customary practice they had inherited from their fathers because, as they assumed, their models were divinely appointed to follow the way they adopted. Allah Almighty refutes this position of theirs by asking how could they go on following the ways of their fathers, under all conditions, to the exclusion of all other ways, even if their fathers did not understand much about the true faith, nor were they blessed with…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

168. The only possible argument and justification for these taboos was that they had been sanctified by the practice of their forefathers from whom they had allegedly come down generation after generation. Fickle-minded as they were, they deemed this argument to be sufficiently persuasive.

Read the full tafseer →