Explained with ayahs 178–179
قصاص کی وضاحت
یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنوقریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر غالب آئے تھے اب یہ دستور ہوگیا تھا کہ جب نضری کسی قرظی کو قتل کرے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک سو وسق کھجور دیت میں لی جاتی تھی اور جب کوئی قرظی نضری کو مار ڈالے تو قصاص میں اسے قتل کردیا تھا اور اگر دیت لی جائے تو دوگنی دیت یعنی دو سو وسق کھجور لی جاتی تھی پس اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 181
یہ ایک دوسری جاہلیت کی تردید ہے، جو پہلے بھی بہت سے دماغوں میں موجود تھی اور آج بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔ جس طرح اہل جاہلیت کا ایک گروہ انتقام کے پہلو میں افراط کی طرف چلا گیا، اسی طرح ایک دوسرا گروہ عفو کے پہلو میں تفریط کی طرف گیا ہے اور اس نے سزائے موت کے خلاف اتنی تبلیغ کی ہے کہ بہت سے لوگ اس کو ایک نفرت انگیز چیز سمجھنے لگے ہیں اور دنیا کے متعدد ملکوں نے اسے بالکل منسوخ کردیا ہے۔ قرآن اسی پر اہل عقل کو مخاطب کر کے تنبیہ کرتا ہے کہ قصاص میں سوسائیٹی کی زندگی ہے۔ جو سوسائیٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھیراتی ہے، وہ دراصل اپنی آستین میں سانپ پالتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
ربط آیات اور خلاصہ تفسیر
اس سے پہلی آیات کی تفسیر میں آپ معلوم کرچکے ہیں کہ ان آیات میں اجمالی طور پر نیکی اور خوبی کے اصول بتلا دئیے گئے ہیں آگے ان کی جزئی تفصیلات آئیں گی جن کو ابواب البر کہا جاسکتا ہے آگے انہی ابواب البر کے کچھ احکام جزئیہ کا بیان ہوتا ہے جو ضرورت اور حالات و واقعات کے تابع بیان ہوئے ہیں۔
حکم اول قصاص
اے ایمان والو تم پر (قانون) قصاص فرض کیا جاتا ہے مقتولین (بقتل عمد) کے بارے میں (یعنی ہر) آزاد آدمی (قتل کیا جاوے ہر دوسرے) آزاد آدمی کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) غلام (دوسرے ہر) غلام کے عوض میں اور (اسی طرح ہر) عورت (دوسری ہر) عورت کے عوض میں (گو یہ قاتلین بڑے درجہ کے اور…
Read the full tafseer →قانون جذبات سے بالا تر ہے : یہ معاشرہ کو تلقین ہے کہ قصص کے معاملہ میں کسی سہل انگاری، کسی جانب داری، کسی چشم پوشی اور کسی بےجا رحم و مروت کو حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جو کسی کو قتل کردیتا ہے وہ صرف ایک شخص ہی کو قتل نہیں کرتا بلکہ ایک قانون کو قتل کرتا ہے جو سب کی جان کی حفاظت کا ضامن ہے۔ اس وجہ سے وہ گویا سب ہی کو قتل کردیتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا قصاص لے کر اس ضمانت کو بحال کریں جس میں سب کی زندگی ہے۔ معاشرے کا جو شخص کسی قاتل کو پکڑتا ہے، یا اس کا سراغ لگاتا ہے یا اس کے جرم کے ثبوت فراہم کرتا ہے اور اس طرح مقتول سے قصاص کی راہ کھولتا ہے وہ گویا اس مقتول کو بھی…
Read the full tafseer →179۔ 1 جب قاتل کو یہ خوف ہوگا کہ میں بھی قصاص میں قتل کردیا جاؤں گا تو پھر اسے کسی کو قتل کرنے کی جرأت نہ ہوگی اور جس معاشرے میں یہ قانون قصاص نافذ ہوجاتا ہے وہاں یہ خوف معاشرے کو قتل اور خونریزی سے محفوظ رکھتا ہے جس سے معاشرے میں نہایت امن اور سکون رہتا ہے اس کا مشاہدہ آج بھی سعودی معاشرے میں کیا جاسکتا ہے جہاں اسلامی حدود کے نفاذ کی یہ برکات الحمد للہ موجود ہیں۔ کاش دوسرے ممالک بھی اسلامی حدود کا نفاذ کر کے اپنے عوام کو یہ پر سکون زندگی مہیا کرسکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
109: قصاص کا مطلب ہے برابر کا بدلہ لینا، اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر ناحق قتل کردیا جائے اور قاتل کا جرم ثابت ہوجائے تو مقتول کے وارث کو حق حاصل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص کا مطالبہ کرے، جاہلیت کے زمانے میں اگرچہ قصاص تو لیا جاتا تھا لیکن اس میں ناانصافی یہ تھی کہ انہوں نے محتلف انسانوں کے جو درجے اپنے خیال میں مقرر کر رکھے تھے ان کے لحاظ سے اگر نچلے درجے کے کسی شخص نے اونچے درجے کے کسی آدمی کو قتل کردیا تو ورثاء کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی دوسرے آدمی کو قتل کیا جائے جو رتبے میں مقتول کے برابر ہو، چنانچہ اگر ایک غلام نے کسی آزاد آدمی کو قتل…
Read the full tafseer →اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتاکر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “
ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کے لئے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔
ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا…
Read the full tafseer →4 یعنی حکم قصاص بظاہر نظر اگرچہ بھاری معلوم ہو لیکن عقلمند سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حکم بڑی زندگانی کا سبب ہے کیونکہ قصاص کے خوف سے ہر کوئی کسی کو قتل کرنے سے رکے گا تو دونوں کی جان محفوظ رہے گی اور قصاص کے سبب قاتل اور مقتول دونوں کی جماعتیں بھی قتل سے محفوظ اور مطمئن رہینگی عرب میں ایسا ہوتا تھا کہ قاتل اور غیر قاتل کا لحاظ نہیں کرتے تھے جو ہاتھ آجاتا مقتول کے وارث اس کو قتل کر ڈالتے تھے اور فریقین میں اس کے باعث ایک خون کی وجہ سے ہزاروں جانیں ضائع ہونے کی نوبت آتی تھی جب خاص قاتل ہی سے قصاص لیا گیا تو یہ تمام جانیں بچ گئیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ قصاص قاتل کے حق میں باعث حیات اخروی ہے۔
5…
Read the full tafseer →آیت 179 وَلَکُمْ فِی الْْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ
معاشرتی زندگی میں عفو و درگزر اگرچہ ایک اچھی قدر ہے اور اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے : وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ التغابن اور اگر تم معاف کردیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو بیشک اللہ بھی بخشنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ لیکن قتل کے مقدمات میں سہل انگاری اور چشم پوشی کو قصاص کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے ‘ بلکہ شدتّ کے ساتھ پیروی ہونی چاہیے ‘ تاکہ اس سے آگے قتل کا سلسلہ بند ہو۔ آیت کے آخر میں فرمایا : لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ یعنی اللہ…
Read the full tafseer →225 یہ نہایت فصیح وبلیغ جملہ ہے۔ جس پر عرب کے فصحاء عش عش کر اٹھے۔ کیونکہ اس مختصر سے جملہ میں دریا کو کوزہ میں بند کردیا گیا ہے۔ یعنی قصاص بظاہر تو موت ہے۔ مگر حقیقت میں پوری زندگی کا راز اسی میں ہے۔ عرب میں جو فصیح محاورہ استعمال ہوتا تھا القتل انفی القتل یعنی قتل قتل ہی سے مٹتا ہے۔ مگر فی القصاص حیاۃ میں بدرجہا زیادہ لطافت، فصاحت، بلاغت ہے اور مضمون بھی بہت زیادہ سما گیا ہے۔ دور جاہلیت میں اگر کوئی شخص مارا جاتا تو اس کے قصاص کا کوئی قاعدہ نہ تھا۔ لہذا اس کے بدلے دونوں طرف سے ہزاروں خون ہوتے مگر پھر بھی فساد کی جڑ ختم نہ ہوتی تھی۔ عرب کی تمام خانہ جنگیاں جو برسہا برس تک جاری رہتی تھیں اور…
Read the full tafseer →641 ۔ قانون قصاص عین عدل و مساوات کا قانون ہے اور ہیئت اجتماعی کے نظم و قیام راستی کا بہترین ضامن وکفیل، کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرنے پائے اور قوی و ضعیف سب کے حقوق کا تحفظ ہوجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو زبردست ہوں وہ زیردستوں پر ستم ڈھاڈھا کر رہیں۔ امت کے مختلف طبقوں میں ایک دوسرے کی طرف سے اطمینان ودلجمعی پیدا کرنے والا درحقیقت یہی قانون ہے، اور جب اس قانون پر عملدر آمد ایک عرصہ تک رہے گا، اس قانون کی روح امت میں سرایت کرجائے گی تو ساری قوم کا مزاج صالح ہوجائے گا، اور آئین پسندی، باہم صلح و سازگاری، خدمت ومعاونت جزو زندگی بن جائے گی، اور امت دیکھتے ہی دیکھتے امت صالحین و ابرار، امت عادلہ کہلانے کی…
Read the full tafseer →وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یہ ایک دوسری رسم جاہلیت کی تردید ہے جو پہلے بھی بہت سے دماغوں میں موجود تھی اور آج بھی بکثرت پائی جاتی ہے جس طرح اہل جاہلیت کا ایک گروہ انتقام کے معالہ میں افراط کی طرف چلا گیا تھا اسی طرح دوسرا گروہ عفو کے معاملہ میں تفریط کی طرف گیا ہے اور اس نے سزائے موت کے خلاف اس قدر شور مچایا ہے کہ بہت سے لوگ اس کو ایک نفرت انگیز چیز سمجھنے لگے ہیں اور دنیا کے بہت سے ملکوں نے سزائے موت کو منسوخ بھی کردیا ہے، قرآن اسی پر اہل عقل و خرد کو مخاطب کرکے تنبیہ کرتا ہے کہ قصاص میں سوسائٹی معاشرہ کی زندگی ہے جو سوسائٹی انسانی جان کا احترام نہ کرنے والوں کی جان کو محترم ٹھہراتی ہے…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوةٌ يّـٰٓــاُولِي الْاَلْبَابِ ( اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے اے عقلمندوں ! القصاص میں الف لام جنس کا ہے اور حیاۃ کی تنکیر، تعظیم کی ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ اس قصاص کے حکم میں ایک بڑی بھاری زندگی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب قصاص کا حکم معلوم ہوجائے گا تو یہ قاتل کو قتل کے ارادہ سے باز رکھے گا کیونکہ وہ ڈرے گا کہ اگر میں قتل کردوں گا تو قصاص میں میری بھی جان جائے گی تو اس قصاص کے مشروع ہونے سے دو جانیں بچ گئیں نیز اہل جاہلیت کی یہ عادت تھی کہ ایک شخص کے عوض سینکڑوں کو مار ڈالتے تھے اور اس سے فتنہ عظیمہ اٹھتا تھا جب قصاص کا حکم ہوگیا تو ہزاروں کی جانیں بچ گئیں…
Read the full tafseer →(179) اواہل عقل کے لیے اس قانون میں نفس انسانی کی بقاء اور عبرت ہے تاکہ تم قصاص کے ڈر سے ایک دوسرے کو قتل کردینے سے بچتے رہو۔
Read the full tafseer →”قصاص میں زندگی“ کے معنی یہ ہیں کہ اس سزا کے خوف سے لوگ قتل کرنے سے رک جائیں گے اور کوئی شخص دوسرے کے قتل پر جرأت نہیں کرے گا۔ پس ”تَتَّقُوْنَ“ کے معنی یہ ہیں ”تاکہ تم دوسرے کو قتل کرنے سے بچ جاؤ“ مگر اس کے معنی عام لینا بہتر ہے ”تاکہ تم گناہ سے کنارہ کرکے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ۔“ علماء نے لکھا ہے کہ یہ آیت اختصار اور جامعیت میں بےنظیر ہے۔ سعودی عرب میں بےمثال امن اسی آیت پر عمل کی برکت سے ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 179
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکم فی القصاص حیوۃ یہ بلیغ مگر مختصر کلام ہے۔ اس کا معنی ہے : بعض بعض کو قتل نہ کریں۔ یہ سفیان نے سدی سے انہوں نے ابو مالک سے روایت کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قصاص جب قائم کیا جائے گا اور حکم قاتل میں ثابت ہوجائے گا تو وہ دوسرے کے قتل کے ارادہ سے باز رہے گا اس خوف سے کہ اس سے قصاص لیا جائے گا۔ پس اس سے وہ دونوں زندہ رہیں گے۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ جب کوئی شخص دوسرے کو قتل کرتا تھا تو دونوں کے قبیلے گرم ہوجاتے اور آپس میں جنگ کرتے اور یہ چیز بہت زیادہ لوگوں کے قتل کا باعث بنتی جب اللہ تعالیٰ نے قصاص مشروع فرمایا تو تمام…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکم فی القصاص حیوۃ “ سے مراد ہے کہ اس میں تمہارے لئے نصیحت اور سزا ہے جب اس ظالم کو قصاص کا تصور ذہن میں آئے گا تو وہ قتل سے رک جائے گا۔
(2) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کو زندگی اور عزت بنایا عقل والوں کے لئے اور اس میں نصیحت ہے جاہلوں اور بیوقوفوں کے لئے کتنے آدمی ہیں جو قتل کا ارادہ کرتے ہیں اگر قصاص کا ڈر نہ ہوتا تو وہ اس (کام) میں واقع ہوجاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قصاص کے ذریعہ بعض کو بعض کے قتل سے روک دیا ہے اپنے بندوں کو اور جو کچھ اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں اس میں انسان کے لئے…
Read the full tafseer →[ وَلَــکُمْ : اور تم لوگوں کے لیے ] [ فِی الْقِصَاصِ : (قتل کے) بدلے میں ] [ حَیٰوۃٌ : زندگی ہے ] [ یّٰـاُولِی الْاَلْبَابِ : اے عقل والو ] [ لَعَلَّـکُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کرو ]
ل ب ب
لَبَّ (ن) لَــبًّا : کسی چیز کا ست یا جوہر نکالنا ‘ بادام یا اخروٹ وغیرہ کی گری نکالنا۔
لَـبَـبًا : عقل مند ہونا ۔ (انسان کا جوہر اس کی عقل ہے) ۔
لَبٌّ ج اَلْبَابٌ (اسم ذات) : خالص عقل۔ (جو آمیزش یعنی وہم اور جذبات وغیرہ سے پاک ہو) ۔ آیت زیر مطالعہ۔
ترکیب : ” حَیٰوۃٌ“ مبتدأ مؤخر نکرہ ہے۔ اس کی خبر محذوف ہے۔ ” لَـکُمْ “ قائم مقام خبر مقدم ہے جبکہ ” فِی الْقِصَاصِ “ متعلق خبر ہے۔…
Read the full tafseer →قانون قصاص میں بڑی زندگی ہے :
قصاص کا قانون جاری کرنے اور اس کو عملاً نافذ کرنے میں بہت بڑی زندگی ہے۔ اس مضمون کو (وَ لَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ) میں بیان فرمایا ہے قصاص میں بظاہر قاتل کی موت ہے لیکن اسے امت کے حق میں بڑی حیات فرمایا کیونکہ جب قصاص کا قانون نافذ ہوگا تو قاتل بھی قتل کرنے سے بچے گا اور ہر شخص کے کنبہ اور قبیلے کے لوگ اس بات کے فکر مند رہیں گے کہ ہمارے کسی فرد سے کوئی شخص قتل نہ ہوجائے۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ائمہ اربعہ اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو چند آدمی مل کر قتل کردیں تو ان سب کو اس ایک مقتول کے عوض قتل کیا جائے گا۔ (ص 210 ج 1)
حضرت سعید بن المسیب ؓ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
فروع بر یعنی احکام عملیہ وفروعیہ کابیان۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم القصاص۔۔۔ الی۔۔۔ تتقون۔
گزشتہ آیات میں اصول بر کا بیان تھا اب اس کے بعد فروع بر یعنی احکام عملیہ وفرعیہ کا بیان شروع ہوتا ہے جس میں زیادہ تر احکام جزئیہ کا بیان ہے۔
حکم اول دربارہ قصاص) ۔ اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے جو احکام تمہارے لیے لکھ دیے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو خصوصا خون کے معاملہ میں خاص صبر سے کام لو اور جوش انتقام میں حدود شرع سے تجاوز نہ کرو مقتولین بقتل عمد کے بارے میں تم پر مساوات اور برابری فرض کردی گئی ہے ایک مقتول کو دوسرے مقتول کے برابر سمجھو، حسب اور نسب اور علم وفضل وغیرہ…
Read the full tafseer →334 قصاص اگرچہ بظاہر بہت دشوار اور برا معلوم ہوتا ہے مگر عقلمند اور صاحب ہوش لوگ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ قصاص تو زندگی کا باعث ہے کیونکہ قصا ص کے خوف سے قاتل قتل سے رک جائے گا اور اس طرح قاتل اور مقتول کی جان بچ جائے گی۔ اسی طرح قتل سے قاتل اور مقتول کے قبیلوں میں عداوت اور انتقام جس آگ کے بھڑکنے کا اندیشہ ہے وہ بھی نہیں بھڑکے گی۔ اور اس طرح دونوں خاندان قتل و خونریزی سے بچ کر آرام اور چین کی زندگی بسر کریں گے۔ اس لیے ارشاد فرمایا۔ اے دانش ورو ! قصاص بری چیز نہیں بلکہ یہ تو تمہاری جانوں کی حفاظت کی ضمانت اور تمہاری زندگی کا بیمہ ہے۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ قصاص سے ایک طرف تو تم دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
اسلام کا فوجداری قانون
گزشتہ آیت میں نیکی کی تعریف بیان کی گئی تھی کہ نیکی کیا ہے اور کیا نہیں ہے نیکی والے لوگوں کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہی لوگ سچے اور متقی ہیں۔ اب ان آیات میں بعض تقویٰ والی باتوں کا ذکر ہے اور ان میں سے ایک مقتولوں کے معاملہ میں مساوات ہے اور دوسرا مال کا قانون ہی اور پھر اس کے بعد روزہ کا قانون بھی بیان ہوگا۔ ان سب کا تعلق تقویٰ سے ہے آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا فوجداری قانون بیان فرمایا ہے ۔ جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جان ایک محترم چیز ہے اور سا کی حفاظت ضروی ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی جان تلف ہوجائے تو اس کے لئے قصاص کا قانون بتلایا گیا ہے۔ جس کا…
Read the full tafseer →وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيٰوۃٌ يّٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 179
قِصاصُ
: تتبّع الدّم بالقود . قال تعالی: وَلَكُمْ فِي الْقِصاصِ حَياةٌ [ البقرة/ 179] وَالْجُرُوحَ قِصاصٌ
[ المائدة/ 45] ويقال : قَصَّ فلان فلانا، وضربه ضربا فَأَقَصَّهُ ، أي : أدناه من الموت، والْقَصُّ : الجصّ ، و «نهى رسول اللہ صلّى اللہ عليه وسلم عن تَقْصِيصِ القبور»
القصاص کے معنی خون کا بدلہ دینے کے ہیں چناچہ فرمایا : وَلَكُمْ فِي الْقِصاصِ حَياةٌ [ البقرة/ 179] حکم قصاص میں تمہاری زندگی ہے ۔ وَالْجُرُوحَ قِصاصٌ [ المائدة/ 45] سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے ۔ محاورہ ہے قص فلان فلانا وضربہ ضربا فاقصہ فلاں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
1 ؎ خدا پاک نے اول حر کو ذکر کیا اس لیے کہ حر تمام ان دقتوں سے بری ہے کہ جو عبد کے ساتھ متعلق ہوتی ہے پھر عبد کو بیان کیا جو حر سے درجہ میں کم ہے مگر انثیٰ سے باعتبار الرّجال قوامون علی النساء فائق ہے عبد کے بعد پھر انثیٰ کو ذکر کیا جو لائقِ تاخیر ہے۔ 12 منہ
ترکیب : یا حرف ندا الذین امنو منادی کتب فعل مجہول القصاص مفعول مالم یسم فاعلہ علیکم متعلق ہے کتب سے یہ جملہ مفسر اور الحر مبتد بالحر خبر۔ ای الحر ماخوذ بالحر الخ یہ اس کی تفسیر پھر مجموعہ ندا من موضع رفع میں ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور جائز ہے کہ شرطیہ ہو اور فاتباع اس کی خبر والتقدیر فعلیہ اتباع۔ باحسان موضع نصب میں ہے۔ بسبب ادا کے اور یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ ” اے عقلمندو ! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے “ تم اگر چاہتے ہو کہ دنیا میں امن قائم ہو اور انسانوں کی جان محفوظ ہوجائے تو اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں کہ تم قصاص سے کام لو پورے عدل اور انصاف سے مساوات کی روح کے مطابق اگر ہر خون کا بدلہ ملے اور ہر قاتل کیفر کردار کو پہنچے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ دنیا میں امن قائم نہ ہوسکے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ تم خالص اور غیرجانبدار عقل سے کام لو۔ تم عقل سے سوچنے کی بجائے جذبات سے سوچتے ہو اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا نے اس کا عجیب فلسفہ تراش لیا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی کو قتل کرتا ہے تو اس کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
فہم القرآن
ربط کلام : متقین کی صفات میں یہ بات بھی شامل ہے اور ہونی چاہیے کہ معاشرے کو جرائم سے بچانے کے لیے وہ اسلام کا حدود و قصاص کا نظام نافذ کریں یہی سمجھ داری، تقو ٰی کا تقاضا اور اس طرح ہی جرائم سے بچا جاسکتا ہے۔
اسلام کے نظام عدل سے پہلے دنیا میں قانون کے وجود اور اس کے نفاذ میں کئی قسم کے اختلافات، تضادات اور امتیازات پائے جاتے تھے۔ یہودیوں کا نقطۂ نگاہ یہ تھا اور ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہیے۔ ان کے ہاں کمزور کے لیے معافی کی کوئی صورت نہیں۔ ان کے برعکس انجیل کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اس سے بدلہ لینے کی بجائے اپنے چہرے کا دوسرا رخ پیش کردینا چاہیے۔ اس طرح یہود…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 179:
وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ : (تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے اے عقل والو) یہ کلام انتہائی فصیح ہے کیونکہ اس میں غرابت پائی جاتی ہے۔
قصاص بڑی زندگی ہے :
نمبر 1۔ قصاص میں انسان قتل ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ مگر آیت میں اس کو حیٰوۃ کے لئے بطور ظرف کے ذکر کیا گیا اور قصاص کو معرفہ لایا گیا۔ اور حیٰوۃ کے لفظ کو نکرہ لا کر خوب بلاغت ظاہر کردی۔ کیونکہ مطلب یہ بنا۔ کہ تمہارے لئے حکم کی اس قسم میں سے جو کہ قصاص ہے۔ بہت بڑی زندگی ہے۔ اس لئے کہ اس سے اس چیز کی روک تھام کی گئی کہ جو ان میں ایک شخص کے بدلے ایک جماعت کا قتل…
Read the full tafseer →(تفسیر) 179۔:
(آیت)” ولکم فی القصاص حیاۃ “ اور یہ اس طرح کہ قتل کا ارادہ کرنے والا جب یہ جان لے گا کہ اس نے جب قتل کیا تو وہ خود بھی قتل کردیا جائے گا تو وہ قتل سے رک جائے گا تو اس میں اس کی بھی زندگی ہے اور جس کا ارادہ قتل کا تھا اس کی بھی بقا ہے ، اس جملہ قرآنی کے مثل جملہ کہا گیا ” القتل النفی للقتل “ یعنی قتل قتل کی بہت زیادہ نفی کرتا ہے مگر یہ لفظ ومعنا آیات کریمہ کے جملہ کا مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ (آیت)” فی القصاص حیاۃ “ کے تلفظ شدہ حروف گیا رہ ہیں جبکہ ” القتل النفی للقتل “ کے حروف چودہ ہیں ، لفظ جملہ قرآنی کو برتری حاصل رہی ، پھر قصاص کا معنی قتل محض نہیں بلکہ بدلہ کا قتل اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
(178 ۔ 179) ۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے طرح طرح کی بےعنوانیاں قصاص اور خون بہا میں رائج تھیں۔ چناچہ مدینہ منورہ کے گرد نواح میں دو قبیلے بنی قریظہ اور بنی نضیر تھے ان دونوں میں لڑائی ہوئی بنی نضیر اس لڑائی میں غالب آئے انہوں نے اس دن سے یہ قرار داد قبیلہ مغلوب سے ٹھہرائی تھی کہ اگرچہ قبیلہ غالب کا کوئی شخص فرقہ مغلوب کے لوگوں کے ہاتھ سے مارا جائے تو اس کا خون بہا قبیلہ مغلوب کو دوگنا دینا پڑے گا۔ اور فرقہ غالب کے لوگوں کے ہاتھ سے فرقہ مغلوب کا کوئی مارا جاوے تو خود اکہرا خون بہا فرقہ مغلوب کو دیں گے۔ اور اپنے قبیلہ کے مقتول کا قصاص بھی جائز رکھا تھا اور قبیلہ مغلوب میں فقط خون بہا جائز رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے مقتولین کے بارے میں قصاص، یعنی اس میں مساوات کو فرض کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے بدلے میں اسیطریقے سے قتل کیا جائے جس طریقے سے اس نے مقتول کو قتل کیا تھا، یہ بندوں کے درمیان عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ اس خطاب کا رخ عام مومنوں کی طرف ہے، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اہل ایمان پر یہ فرض ہے حتی کہ قاتل کے اولیاء اور خود قاتل پر بھی کہ جب مقتول کا ولی قصاص کا مطالبہ کرے اور قاتل سے قصاص لینا ممکن ہو تو مقتول کے ولی کی مدد کی جائے اور یہ کہ انکے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس حد تک کے درمیان حائل ہوں اور مقتول کے وارث کو بدلہ…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
جب فاعل کے اپنے حصے کے اندر اس پر حد واجب نہیں ہوئی تو یہ بات دوسرے شریک کے حلے میں حد کے وجوب کے لیے مانع بن جائے گی، کیونکہ اس میں تبعیض نہیں ہوسکتی، اسی بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اگر دو افراد کسی ایسے شخص کی چوری کرلیں جو ان میں سے ایک کا بیٹا ہو دونوں میں سے کسی کا بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا کیونکہ مسروقہ چیز کی حفاظت کا حصار توڑنے کے جرم میں ایک کی مسارکت ایسے دوسرے شخص کے ساتھ ہوئی تھی جو قطع ید کا مستحق نہیں ہے۔ یعنیی مال کے مالک کا باپ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ عامد اور مخطی، عاقل اور دیوانے ، بالغ اور بچے کی شراکتوں میں وقوع پذیر ہونے والے قتل عمد میں…
Read the full tafseer →486 اعتداء اور زیادتی کا انجام برا ۔ والعیاذ باللہ : اور اس طرح اس نے اس قانون تخفیف و رحمت کی ناقدری کی۔ مثلاً یہ کہ ولی مقتول سے قصاص معاف کردینے اور دیت وصول کرلینے کے بعد جب قاتل مطمئن ہوگیا تو اس نے اس کو قتل کردیا، یا قاتل دیت قبول کرلینے اور اس کی ادائیگی کا وعدہ کرلینے کے بعد فرار ہوگیا۔ اور اس طرح اس نے دھوکہ دہی سے کام لیا وغیر ذلک۔ تو ایسا کرنا بہت برا ہوگا اور ایسا کرنے والے کیلئے بڑا دردناک عذاب ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس جس نے تخفیف کے اس حکم سے فائدہ اٹھانے کے بعد ظلم و زیادتی کی کوئی راہ کھولی، تو وہ یاد رکھے کہ اس کیلئے بڑا ہی برا اور دردناک عذاب ہے، جس سے اس کو کوئی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
قانون قصاص
تشریح : اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں قتل و غارت گری عروج پر تھی پھر یہ بھی کہ اگر کسی حسب ونسب والے خاندان کا غلام قتل ہوجاتا تو اس کے بدلہ میں آزاد کو قتل کرتے اور کئی دفعہ تو ایسے بھی ہوتا کہ ایک کے بدلے کئی آدمی قتل کردیئے جاتے اسلام نے اس بےانصافی اور فرق و امتیاز کو بالکل ختم کرنے کا حکم دیا اور اصول بنا دیا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے اس کو بدلہ میں قتل کردیا جائے جیسے۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد، کیونکہ جانیں سب برابر ہیں ان میں اونچ، نیچ، امیر، غریب، شریف، بدمعاش، عالم، جاہل، عورت، مرد، آزاد، غلام، جوان، بوڑھے اور بیمارو تندرست کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا اگر کوئی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–182
آیات 177- 182
اسرارو معارف
لیس البران تولوا وجوھکم…………وللئک ھم المتقون۔
شروع سورة سے یہاں تک روئے سخن معاندین کی طرف تھا اور ضمناً مسلمانوں کو بھی خطاب فرمایا جاتا رہا۔ مثلاً اولا ایمان کی بحث ، پھر انسانوں کی اقسام بلحاظ عقائد اور پھر نوع انسانی کو دعوت عبادت ، صداقت قرآن اور حقانیت پیغمبر اثبات توحید اور پھر کفار کے اعتراضات کے جواب اور اسی ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر احسانات و انعامات اور پھر قبلہ کی بحث چلی اور عبادات اور ان کا اجر مذکور ہوا۔ اور زاں بعد شرک کے اصول کا ابطال۔
یہ سب مضامین نصف سورة تک آئے۔ ان کے بعد اب بقیہ آیات میں جو تقریباً نصف سورة ہیں ، روئے…
Read the full tafseer →ف 2 قصاص میں زند گی کے معنی یہ ہیں کہ اس سزا کے خوف سے لوگ قتل سے رک جائیں گے اور کوئی دوسرے کے قتل پر جرات نہیں کرے گا۔ ، پس تتقون کے معنی یہ ہیں کہ تم دوسرے کو قتل کرنے سے بچو گے مگر اسے عام معنی پر محمول کرنا بہتر ہے کہ معصیت سے کنارہ کر کے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جاؤ علماء نے لکھا ہے کہ یہ آیت ایجاز اور جامعیت میں بےنظیر ہے۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(2:179) اولی الالباب۔ اولی۔ والے ۔ جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ بحالت رفع اولوا اور بحالت نصب و جر اولی۔ الباب لب کی جمع بمعنی عقل۔ اولی الالباب عقل والے۔ صاحب عقل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
لغات القرآن : آیت نمبر 178 تا 179
کتب علیکم (تم پر فرض کردیا گیا) ۔ القصاص (برابری) ۔ القتلیٰ (مقتول (جو قتل کردیا گیا ) ۔ الحر (آزاد) ۔ العبد (غلام ) ۔ الانثی (عورت) ۔ عفی (معاف کردیا گیا) ۔ فاتباع (پھر پیروی کرنی ہے) ۔ اولی الالباب (عقلوں والے (اولو، والا، الباب (لب عقل) ۔
تشریح : آیت نمبر 178 تا 179
ہر انسان پیدائشی اعتبار سے مجرم نہیں ہوتا بکہ انسانی معاشرہ میں سے کچھ لوگ جذباتی، بےاعتدالی ، عقلی عدم تو ازن ، ذہنی انتشار، انتقام اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر انسانی قتل کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ ایسے نفسیاتی مریضوں کے لئے اسلام نے محض اصلاح و تربیت کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ اس بیماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
شان نزول : جب قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف بدلا تو کچھ مسلمان آپس میں قبلہ کی بابت چرچے کرتے تھے اور یہود ونصاریٰ بھی اپنے قبلہ کے اچھے ہونے کی بحث کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ قبلہ تو سجدہ کرنے کا ایک واسطہ ہے، اسی واسطے پر بھلائی منحصر ہے۔ اصل بھلائی کی باتیں یہ ہیں کہ اللہ پر اور پیغمبروں پر اور اللہ کے فرشتوں پر اور کتابوں پر پورا ایمان ہو، نہ یہ کہ جیسے یہود ونصاریٰ ہیں کہ ایک توریت کو نہیں مانتے اور دوسرے انجیل کو اور قرآن اور نبی آخر الزماں ﷺ کے دونوں منکر ہیں، اور ملائکہ پر ایمان کا یہ حال ہے کہ یہود لوگ جبریل کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور مسلمانوں کو…
Read the full tafseer →[114] یعنی قصاص کے ڈر سے لوگ خونریزی سے باز رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 179–180
وصیت :
(ف 1) ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی شخص مال کثیر رکھتا ہو (خیرا سے مراد مال کثیر ہے) تو وہ والدین اور اقرباء کے لئے علاوہ مقرر حصوں کے کچھ اور بھی بطور احسان ومونت کے وصیت کرے بعض لوگوں نے اس حکم کو آیہ وارثت کی وجہ سے منسوخ سمجھا ہے لیکن یہ صحیح نہیں اس لئے کہ آیت کا انداز بیان اس کی مخالفت کرتا ہے ، (آیت) ” حقا علی المتقین “ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ غیر منسوخ آیت ہے اور یہ مال کی بہتات کی صورت میں کوئی حرج نہیں کہ وصی والدین کے لئے کچھ زائد وصیت کر جائے ، کیونکہ اس صورت میں دوسرے ورثا گھاٹے میں نہیں رہتے ، بعض کے خیال میں یہاں والدین واقربا سے وہ مراد ہیں جو بسبب غیر مسلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
ف 1 اے ایمان والو ! ان مقتولین کے بارے میں جو عمدا، قتل کئے جائیں تو تم پر قصاص فرض کیا جاتا ہے آزاد آدمی قتل کیا جائے آزاد آدمی کے بدلے میں اور غلام قتل کیا جائے ۔ غلام کے بدلے میں اور عورت قتل کی جائے۔ عورض کے عو ض میں مگر ہاں جس قاتل کے لئے اس کے بھائی طالب قصاص کی جانب سے کچھ معاف کردیاجائے اور اولیائے مقتول میں سے کوئی شخص اپنا قصاص کا حق قاتل کو معاف کردے تو پھر فریقین کو اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ طالب دیت کو تو بھلائی اور معقول بات کی پیروی کرنا ہے اور قاتل کو خوش دلی اور خوبی کے ساتھ طالب دیت کو خوں بہا ادا کردینا اور پہونچا دینا ہے یہ حکم دیت و عفو تمہارے پروردگار کی جانب سے تخفیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 177–179
ف 2۔ خاص سمتوں کا قصہ یہاں اس لیے مذکور ہوا کہ تحویل قبلہ کے وقت تمام تر بحث یہود و نصاری کی اس میں رہ گئی تھی اس لیے متنبہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کام اور ہیں ان کا اہتمام کرو۔
3۔ غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا ان ہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص ہے یعنی اقامت صلوة کے توابع و شرائط میں سے اور اس کے حسن سے اس میں بھی حسن آگیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی تو کسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →قصاص کیا ہے یہ گویا زندگی ہے لیکن عقل والوں کے لئے :
308: قانون قصاص عین عدل و مساوات کا قانون ہے اور ہیت اجتماعی کے نظم و قیام راستی کا بہترین ضامن و کفیل کہ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرنے پائے اور قوی و ضعیف سب کے حقوق کا برابری کے اصول پر تحفظ ہوجائے یہ نہ ہو کہ جو زبردست ہوں وہ زیر دستوں پر ستم ڈھا ڈھا کر رہیں۔ امت کے مختلف طبقوں میں ایک دوسرے کی طرف سے اطمینان و دلجمعی پیدا کرنے والا درحقیقت یہی قانون ہے اور جب اس قانون پر عدل درآمد عرصے تک رہے گا اس قانون کی روح امت میں سرایت کر جائے گی تو ساری قوم کا مزاج صالح ہوجائے گا اور آئین پسندی باہم صلح و سازگاری خدمت و معاونت جزو زندگی بن جائے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 178–179
From the brief introduction to the nature of righteousness appearing in verses before this, the text now enters into the description of related subsidiary injunctions. Under the first injunction in this connection, the verse prescribes the law of Qisas (even retaliation), that is, the killer will be killed, irrespective of the status of the parties involved. If the aggrieved party somewhat relents on its own and forgives the Qisas قصاص ، but does not forgive the offence totally, it will become necessary for the killer to pay diyah (دیۃ) or blood-money as fixed, in a fair manner, and promptly.…
Read the full tafseer →181. This refutes another notion of Ignorance, a notion ingrained in the minds of many people, both past and present. On the one hand there are some people who, entrenched in Ignorance, tend to exceed the limits of moderation in revenge. At the other end of the spectrum stand those who are opposed in principle to the concept of executing a murderer. They have conducted such intense, world-wide propaganda against the death penalty that it has become abhorrent to many people. In fact the impact of this propaganda has been so great that in many countries the death penalty has been abolished…
Read the full tafseer →