Explained with ayahs 159–163
حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے
اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپالیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی ﷺ کو چھپالیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی عمر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپالے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
سورة الْبَقَرَة 161
”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہُوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویّہ کی مختلف صورتیں ہیں
ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔
دُوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔
تیسرے یہ…
Read the full tafseer →ربط
مشرکین عرب نے جو آیت وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ اپنے عقیدہ کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنا چاہئے حق تعالیٰ آگے دلیل بیان فرماتے ہیں،
خلاصہ تفسیر
اور (ایسا معبود) جو تم سب کے معبود بننے کا مستحق وہ تو ایک ہی معبود (حقیقی) ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی رحمٰن ہے، رحیم ہے (اور کوئی ان صفات میں کامل نہیں اور بدون کمال صفات معبودیت کا استحقاق باطل ہے پس بجز معبود حقیقی کے کوئی اور مستحق عبادت نہ ہوا) بلاشبہ آسمانوں کے اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے میں اور جہازوں…
Read the full tafseer →آیات 163 تا 176 کا خلاصہ مضامین :
سورة کے مطالب کا دوسرا باب : آیت 162 پر اس سورة کا پہلا باب ختم ہوا۔ اس باب میں یہود منصب امامت سے معزول ہوئے اور ایک نئی امت اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ نمایاں ہوئی۔ اب آگے آیت 163 سے اس سورة کے مطالب کا دوسرا باب شروع ہورہا ہے جس میں اس نئی امت کے لیے از سرِ نو شریعت الٰہی کی تجدید کی جا رہی ہے۔ اس باب میں ایک مناسب ترتیب کے ساتھ امت کو وہ احکام دیے گئے ہیں جن کے لیے سورة کے زمانہ نزول کے حالات متقاضی تھے اور ساتھ ہی ہر حکم کے تحت ان بدعا کی تردید کی گئی ہے جو یہود یا مشرکین نے شریعت الٰہی میں ملا دی تھیں۔ اس باب کا آغاز توحید کے بیان سے ہو رہا ہے اس لیے کہ…
Read the full tafseer →163۔ 1 اس آیت میں پھر دعوت توحید دی گئی ہے۔ یہ دعوت توحید مشرکین مکہ کے لئے ناقابل فہم تھی، انہوں نے کہا (کیا اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنادیا یہ تو بڑی عجیب بات ہے) اس لئے اگلی آیت میں اس توحید کے دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
104: اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں
Read the full tafseer →(اور اس حقیقت کو پہچاننے کے لئے کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے ہیں دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ۔ بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے ۔ ہواؤن کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر کر کھے گئے ہیں بیشمار نشانیاں ہیں مگر (وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے…
Read the full tafseer →7 یعنی معبود حقیقی تم سب کا ایک ہی ہے اس میں تعدّد کا احتمال بھی نہیں سو اب جس نے اس کی نافرمانی کی بالکل مردود اور غارت ہوا دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ اس سے نفع کی توقع باندھی جاتی یہ آقائی اور پادشاہی اور استادی اور پیری نہیں کہ ایک جگہ موافقت نہ آئی تو دوسری جگہ چلے گئے یہ تو معبودی اور خدائی ہے نہ اس کے سوا کسی کو معبود بنا سکتے ہو اور نہ کسی سے اس کے علاوہ خیر کی توقع کرسکتے ہو۔ جب آیت والٰھکم الٰہ واحد نازل ہوئی تو کفار مکہ نے تعجب کیا کہ تمام عالم کو معبود اور سب کا کام بنانے والا ایک کیسے ہوسکتا ہے اور اس کی دلیل کیا ہے اس پر آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ…
Read the full tafseer →آیت 163 وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
رحمن اور رحیم کی وضاحت سورة الفاتحہ میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →201 یہ خطاب دراصل مشرکین مکہ سے ہے۔ جنہوں نے کئی الٰہ بنا رکھے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے کارگاہ کائنات کا سارے کا سارا انتظام ایک اکیلا اللہ کیسے سنبھال سکتا ہے ؟ ان کی عقل میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہذا انہوں نے مختلف امور کے لیے مختلف الٰہ تجویز کر رکھے تھے اور جتنی پرانی تھذیبیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہندی، رومی، مصری، یونانی تھذیبیں، ان سب لوگوں نے دیوی دیوتاؤں کا ایسا ہی نظام تجویز کر رکھا تھا اور مسلمانوں میں بھی اکثر لوگوں میں گو زبانی نہیں مگر عملاً ایسے ہی اعتقادات و افعال رائج ہوچکے ہیں۔ یہ سب لوگ ہی اس آیت کے مخاطب ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →587 ۔ (اور نہ بڑا نہ چھوٹا۔ نہ ملکی نہ غیر ملکی) یہاں خطاب ساری نوع انسانی سے ہے۔ نفس وجود باری تو مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھا، جس طرح آج بھی ساری مشرک قوموں کو تسلیم ہے۔ لیکن مشرکین علاوہ اس خدائے اعظم یا خدائے برتر کے اور بھی بہت سے چھوٹے چھوٹے خدایا دیوتا تسلیم کرتے ہیں، بلکہ مشرکین قدیم تو اپنی قوم کے علاوہ دوسری قوموں کے، یہاں تک کہ اپنی دشمن قوموں کے بھی دیوتاؤں کے وجود کے قائل تھے۔ ان کی قوت کے قائل تھے، ان کی خدائی کے قائل تھے۔ بس صرف ان کی عبادت کے منکر تھے۔ اور اس کی توجیہ یہ کرتے تھے کہ دشمن کا دیوتا بھی دشمن ہی ہوگا ! گویا خدا بھی جذبات و احساسات کے لحاظ سے انسان کا مثنی ہوتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
آیت نمبر 159 تا 163
ترجمہ : اور یہود کے بارے میں اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ (الآیۃ) نازل ہوئی، بلاشبہ وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی دلیلیوں اور ہدایت مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے ان لوگوں کے لئے کتاب تورات میں بیان کردیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے یعنی اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (اور وہ) فرشتے اور مومنین ہیں یا ہر شئ جو ان کے لئے لعنت کی بددعاء کرتی ہے، مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کرلی، یعنی اس حرکت سے باز آگئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی اور جو انہوں نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ میں جن کی…
Read the full tafseer →وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ( اور تمہارا معبود وہی خدائے واحد ہے) وَاحِدٌ اِلٰہٌ کی صفت مؤکدہ ہے کیونکہاِلٰہٌ کی تنوین سے خود وحدت مترشح ہے اور اِلٰہٌ موصوف کو وحدانیت کی تائید اور تاکید کے لیے ذکر فرمایا۔ اِلھکم واحد ( معبود تمہارا ایک ہے) میں اس قدر تقریر نہ ہوتی اور اِلٰھُکُمْ میں خطاب عالم مخلوق کو ہے کسی خاص گروہ کو نہیں مطلب یہ ہے کہ اے جہان والو ! عبادت کے لائق ایک ایسا معبود ہے کہ جس کا نظیر اور شریک ممکن نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ خاص تورات کی آیات چھپانے والوں کو 2 تو بیخ وتہدید کے لئے خطاب ہو کیونکہ جس طرح وہ محمد ﷺ کے اوصاف کا اخفا کرتے تھے اسی طرح توحید کو بھی چھپاتے تھے۔…
Read the full tafseer →(163) لوگون نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ خود اپنے کلام پاک میں اپنی توحید بیان فرما رہے ہیں کہ نہ اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی شریک ہے، وہ بڑی رحمت فرمانے والا اور بہت ہی شفیق ہے۔
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں حق چھپانے پر وعید فرمائی، اب اس آیت میں بیان فرمایا کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلۂ توحید ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →آیت نمبر 163
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والھکم الہ واحد جب اللہ تعالیٰ نے حق کو چھپانے سے ڈرایا تو یہ بیان فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جس کا اظہار واجب ہے اور جس کا چھپانا جائز نہیں وہ توحید کا امر ہے اور اس کو برہان کے ذکر سے ملایا، نظر و فکر کا طریقہ سکھایا اور وہ کائنات کے عجائب میں غور و فکر ہے تاکہ وہ جان لے کہ اس کائنات کے لئے کوئی فاعل ہونا ضروری ہے جس کے مشابہ کوئی شی نہ ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قریش کفار نے کہا اے محمد ﷺ ہمارے لئے اپنے رب کا نسب بیان کرو تو اللہ تعالیٰ نے سورة اخلاص اور یہ آیت نازل فرمائی۔ اور مشرکین کے لئے تین سو ساٹھ بت تھے۔ تو…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی شیبہ، احمد، دارمی، ابو داؤد، ترمذی، (ترمذی نے صحیح کہا ہے) ابن ماجہ، ابو مسلم الکجی نے السنن میں، ابن الضریس، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں اسماء بنت یزید بن السکن ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے لفظ آیت ” والہکم الہ واحد، لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ اور ” الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔
(2) دیلمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا سرکش جنات پر ان (دو ) آیات سے سخت کوئی چیز نہیں جو سورة بقرہ میں ہیں لفظ آیت ” الہکم الہ واحد “ (دو آیتیں)
(3) ابن عساکر نے ابراہیم بن وثمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ…
Read the full tafseer →[ وَاِلٰــھُکُمْ : اور تم لوگوں کا الٰہ ] [ اِلٰــــہٌ وَّاحِدٌ : واحد الٰہ ہے ] [ لَا اِلٰـــہَ : کسی قسم کا کوئی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ ھُوَ : وہ ] [ الرَّحْمٰنُ : جو بےانتہا رحم کرنے والا ہے ] [ الرَّحِیْمُ : جو ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
ترکیب : ” واؤ“ استیناف ‘ ” اِلٰــہ “ مبتدأ ” کُمْ “ ضمیر مضاف الیہ ” اِلٰــہٌ“ خبر ‘ ” وَاحِدٌ“ اس کی تاکید ہے۔ ” لاَ “ لائے نفی ٔ جنس ” اِلٰـــہَ “ اس کا اسم جو مبنی علی الفتح ہے۔ ” اِلاَّ “ حرفِ استثناء ” ہُوَ “ ضمیر مرفوع منفصل مستثنیٰ ۔ لائے نفی جنس کی خبر محذوف ہے جو کہ مَوْجُوْدٌ ہے ‘ لیکن یہاں پر ” بِحَقٍ “ جار مجرور بھی محذوف…
Read the full tafseer →معبود حقیقی ایک ہی ہے
اس آیت میں خالق تعالیٰ شانہ کی توحید بیان فرمائی ہے اور مشرکین کی تردید فرمائی ہے۔ فرمایا کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اپنی ذات صفات میں یکتا ہے اور تنہا ہے۔ اور ایک ہے وہ بہت مہربان ہے اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس کا کوئی ہمسر اور برابر نہیں۔ وہ واحد ہے احد ہے وحدہ لاشریک ہے۔ ساری مخلوق کو تنہا اسی نے پیدا فرمایا۔ لہٰذا وہی واحد معبود ہے ساری مخلوق پر وہ رحم فرماتا ہے۔ لوگوں نے اس کے علاوہ جو دوسرے معبود بنائے ہیں وہ جھوٹے معبود ہیں ان میں سے کوئی بھی مستحق عبادت نہیں نہ وہ خالق ہیں نہ مالک ہیں نہ رحمن…
Read the full tafseer →اعلان توحید۔
والھکم الہ واحد۔۔۔ الی۔۔۔ الرحیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں اللہ کے احکام چھپانے والوں پر لعنت اور عذاب کا ذکر فرمایا اور آئندہ آیت میں اللہ کی وحدت اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں کہ وہی ایک معبود ہے اس کے سوا کہیں کوئی پناہ نہیں جو اس کی لعنت سے تم کو چھڑا سکے اور اس کے سوا کوئی رحمان اور رحیم نہیں جو اللہ کی لعنت اور نقمت کو رحمت اور عنایت سے بدل سے چناچہ فرماتے ہیں اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور وہی رحمن اور رحیم ہے رحمت عامہ اور خاصہ سب اسی کے ہاتھ میں ہے اس لیے بدون اس کی رحمت کے لعنت سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں اگر خدا کے سوا کوئی دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ تم کو اس کی لعنت…
Read the full tafseer →297 یہاں دعویٰ توحید کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ بھی ہوگیا کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار واجب ہے اور جس کا چھپانا کسی حال میں بھی جائز نہیں وہ توحید ہے۔ لما حذر تعالیٰ من کتمان الحق بین ان اول مایجب اظھارہ ولا یجوز کتمانہ امر التوحید (قرطبی ص 190 ج 2) اور اعادہ دعویٰ کی وجہ پہلے بیان ہوچکی ہے کہ شروع میں تو شرک فی الدعاء کی نفی تھی۔ اب یہاں سے شرک فعلی کی نفی مقصود ہے یعنی جس طرح اللہ کے سوا کوئی پکارنے کے لائق نہیں اسی طرح اللہ کے سوا نذرومنت کا مستحق بھی کوئی نہیں اور نہ ہی کسی کی تعظیم کے لیے سانڈ وغیرہ چھوڑنے جائز ہیں جیسا کہ آگے اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃَ الخ میں غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
کتمان حق
گزشتہ آیات میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں۔ سابقہ درس میں منجملہ ان کے تعظیم شعائر اللہ کا ذکر تھا۔ تہذیب نفس کے جملہ مسائل جس بات پر متفرع ہوتے ہیں ، وہ مسئلہ توحید ہے۔ اس درس میں اسی مسئلہ کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلے مسئلہ کتمان حق کا بیان ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہودیوں میں کتما حق کی بیماری بدرجہ اتم موجود تھی۔ پہلی آیات میں آ چکا ہے ” وتکتموالحق وانتم تعلمون “ یعنی اے اہل کتاب تم جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہو۔ سای طرح تحویل قبلہ کے متعلق فرمایا یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “ یعنی یہ لوگ اس حقیقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنی اولدا کو…
Read the full tafseer →وَاِلٰـہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ 0ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ 163 ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر…
Read the full tafseer →ترکیب : الہکم مبتداء الہ واحد موصوف و صفت خبر الا ھو مستثنیٰ موضع رفع میں ہے کس لیے کہ یہ بدل ہے موضع لا الہ سے کیونکہ محل لا کا اور جس میں کہ یہ عمل کرتا ہے رفع ہے بسبب مبتدا ہونے کے اور اگر مستثنیٰ موضع نصب میں ہوتا تو الا ایاہ ہوتا الرحمن بدل ہے ھو سے یا خبر مبتداء ہے اور یہ جائز نہیں کہ ھو کی صفت ہولان الضمیر لا یوصف اور نہ یہ کہ ہو کی خبر ہولان المستثنیٰ ہنالیس بجملۃ فی خلق السموات الخ سب جملہ یکے بعد دیگرے خبر ہیں۔ ان کے اور لآیات الخ اسم ہے ان کا۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ کے نافرمانوں اور اس کے احکام کے چھپانے والوں اور کفر پر مرنے والوں کو یہ حکم سنایا گیا کہ ان پر خدا اور فرشتوں اور…
Read the full tafseer →وَاِلٰـھُکُمْ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ج لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 163)
(اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بےانتہارحم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا ہے)
گزشتہ آیت کریمہ پر سورة البقرۃ کا پہلا باب ختم ہوگیا۔ اس میں بعض دوسرے اساسی مباحث کے ساتھ ساتھ زیادہ تر گفتگو بنی اسرائیل کے حوالے سے رہی۔ ان کے عقائد سے لے کر ان کی عادات واطوار تک مختلف باتیں زیر بحث آئیں اور ایک مکمل تنقید سے ان کی نااہلی کے اسباب واضح فرمائے گئے اور آخر میں منصب دعوت و امامت سے ان کی نااہلی کا اعلان کردیا گیا۔ اور پھر مسلمانوں کو ملت ابراہیم کا وارث قرار دے کر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح تمہارا رسول، قرآن، قبلہ اور دین ابراہیم ایک ہے اسی طرح تمہارا معبودِ برحق بھی ایک ہی ہے۔ اب اس کی الوہیت کے دلائل سنو اور ان پر غور کرو !
وہ ایک ہی الٰہ ہے ‘ حاکم مطلق، معبود اور مسجود وہی بحروبرّ ، زمین و آسمان ‘ اور فضاؤں پر کلی اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق اور واحد مالک ہونے کے باوجود اپنے اختیارات ظلم و زیادتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نہایت ہی رحم وکرم کی اساس پر استعمال کرتا ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر اس کی شفقت و مہربانی کی گھٹائیں برس رہی ہیں۔ اس کی ذات اور شان کی جھلک دیکھنا چاہتے ہو تو غور کرو کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح پیدا کیا بظاہر زمین…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 163:
وَاِلٰھُکُمْ اِلٰــہٌ وَّاحِدٌ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ : (تمہارا معبود وہ ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے) ۔
الٰہ واحد۔ الوہیت میں یکتا ہے۔ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ دوسرے کو اِلٰہ کا نام دینا درست ہے۔ لا الٰہ الا ہو۔ اس میں وحدانیت کی تقریر اور غیر کی نفی اور اس کے لئے اثبات ہے۔
نحوی تحقیق :
ہو مرفوع ہے۔ کیونکہ یہ موضع لا الٰہ کا بدل ہے یہاں نصب جائز نہیں۔ کیونکہ بدل دلالت کرتا ہے کہ اعتماد دوسرے پر ہے اور آیت میں مقصود یہی ہے۔ اگر نصب مانیں تو اس میں اول پر اعتماد ماننا پڑتا ہے (جو کہ درست نہیں) نحو…
Read the full tafseer →163۔ (آیت)” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “ ۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ بیشک کفار قریش ، نے کہا یا محمد ﷺ ہمارے لیے اپنے رب کا بیان فرمائیں ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور سورة اخلاص نازل فرمائی ، سورة اخلاص میں احد کی وضاحت فرما رہے ہیں کہ واحد وہ ہے جس کی کوئی نظیر نہیں اور نہ کوئی اس کا شریک ۔
حضرت اسماء بنت یزید ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا آپ نے فرمایا ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے ۔
(1) (آیت)” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “۔
(2) (آیت)” اللہ لا الہ ھو الحی القیوم “ ابوالضحی ؓ فرماتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے { وَاِلٰھُکُمْ اِلہٰ ٌوَاحِدٌ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ُ ھَو الْحَیُّ الْقُیُوْم } یہ حدیث ابو داؤد ترمذی و مسند امام احمد وابن ماجہ میں ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ایک راوی شہربن حوشب ہے جس کو اکثر علماء نے ضعیف بتایا ہے مگر امام احمد اور یحییٰ بن معین نے اس کو ثقہ کہا ہے 2۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ وحدہ لا شرک ہے اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے اور وہ سب سے زیادہ سچا ہے، فرماتا ہے، وہ (آیت) اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ” ایک ہی الہ ہے۔ “ یعنی وہ اپنی ذات، اپنے اسماء وصفات اور اپنے افعال میں اکیلا اور متفرد ہے۔ پس اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی ہم نام اور نہ ہمسر، نہ اس کی کوئی مثال اور نہ اس کی کوئی نظیر ہے۔ اس کے سوا کوئی کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اور نہ اس کی تدبیر کرنے والا۔ جب حقیقت حال یہ ہے تو اس بات کا صرف وہی مستحق ہے کہ ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لئے ہو اور اس کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ (آیت) الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ ۔ کیونکہ وہ رحمان و رحیم ہے، یعنی وہ بےپایاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
قول باری ہے والھکم الہ واحد ( اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے) یہاں اللہ سبحانہ کا اپنی ذات کو اس صفت سے موصوف کرنا کہ وہ ایک ہے انے اندر کئی معانی رکھتا ہے اور یہ تمام معانی اس لفظ کے اندر مراد ہیں۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ اللہ واحد ہے کسی بھی چیز کے اندر اس کی نہ کوئی نظیر ہے نہ شبیہ اور نہ کوئی مثل ہے نہ مساوی۔ اسی بنا پر وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے واحد کی صفت کے ساتھ موصوف قرار دیاجائے۔
دوم یہ کہ وہ عبادت کے استحقاق نیز الہٰیت کے وصف میں واحد ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے۔ سوم یہ کہ وہ ان معنوں میں واحد ہے کہ اس پر تجری اور تقسیم کا حکم عائد کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ذات کے…
Read the full tafseer →437 معبود برحق صرف ایک ہے یعنی اللہ وحدہ لاشریک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " معبودِ [ حقیقی ] تم سب کا [ اے لوگو ] ایک ہی معبود ہے "۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم، خواہ وہ بدنی، ہو یا مالی، قلبی ہو، یا قالبی، اسی کا اور صرف اسی کا حق، اور اسی کے ساتھ خاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا اور کسی کیلئے بھی عبادت کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اسی طرح اللہ کے سوا اور کسی کو مافوق الاسباب طور پر حاجت روا و مشکل کشا ماننا، اور اس کو حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے بلانا پکارنا، یہ بھی جائز نہیں کہ یہ بھی شرک ہے، (تفسیر…
Read the full tafseer →توحید الٰہی
تشریح : توحید کی وضاحت جس قدر بہترین اور موثر انداز میں اس چھوٹی سی آیت میں کی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے یوں تو توحید کے بارے میں قرآن پاک میں کئی دفعہ مختلف انداز میں وضاحت آچکی ہے مثلاً ۔
1 ۔ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ (اللہ کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں ہے) قرآن پاک میں یہ 12 مرتبہ آیا ہے۔
2 ۔ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ (اس اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں) یہ قرآن پاک میں 30 دفعہ آیا ہے۔
3 ۔ خود اللہ نے اپنے لئے فرمایا : لَااِلٰہَ اِلَّااَنَا (میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے) ۔ یہ قرآن پاک میں تین جگہ آیا ہے۔
4 ۔ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ (تم سب کا معبود ایک ہی ہے) یہ قرآن میں چھ دفعہ آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–163
ف 4 اوپر کی آیت میں کتمان حق پر وعید فرمائی ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلہ توحید ہے۔ قرطبی ) ۔ ( نیز دیکھئے آل عمران آیت 1)
Read the full tafseer →(2:163) الہکم۔ مضاف مضاف الیہ ۔ تمہارا معبود۔
الۃ واحد۔ واحد۔ صفت مؤکدہ ہے الہ کی کیونکہ الہ کی تنوین سے خود وحدت مترشح ہے۔ اور الہ موصوف کو وحدانیت کی تاکید اور تائید کے لئے فرمایا ۔ موصوف و صفت مل کر الہکم کی خبر ہوئے۔
لا الہ الاھو۔ زیادتی تاکید و تقریر کے لئے ہے اور یہ الہکم کی دوسری خبر ہے۔
الرحمن الرحیم۔ بھی الہکم کی تیسری اور چوتھی خبر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163
شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
شان نزول : مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے : الھکم الہ واحد لا الہ الاھو الرحمٰن الرحیم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی ومسندامام ابن ماجہ میں ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–172
[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4
[107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 3) ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ جس طرح اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں اسی طرح اس کا رحم وکرم بےپایاں ہے ۔ وہ رحمن ہے وہ رحیم ہے ، اس لئے وہ نہیں چاہتا کہ ایک نفس منصوص بھی جہنم میں جائے یا اس کے غضب و جلال کا مستحق ہو ، کیونکہ یہ اس کی ذات کرم آیات کے خلاف ہے ، اس لئے اگر کوئی خواہ مخواہ اس کی مخالفت کرے ، یا اس کی آغوش رحمت سے نکلنا چاہے تو وہ مجبور نہیں کرتا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
ف 1 اور جو تم سب لوگوں کے معبود ہونے کا مستحق ہے اور وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔ وہی بےحد مہربان اور انتہائی رحم کرنے والا ہے بلا شبہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور بنانے میں اور رات و دن کے آگے پیچھے آنے جانے اور گٹھنے بڑھنے میں اور ان کشتیوں اور جہازوں میں جو سمندر کے اندر لوگوں کے فائدے کی چیزیں اور اسباب و سامان لیکر چلتے ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے اتارا اور برسایا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرنے اور بالکل خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کیا اور اس زمین میں ہر قسم کے حیوانات کو پھیلا دیا اور ہوائوں کے رخ اور…
Read the full tafseer →ف 2۔ مشرکین عرب نے جو آیت والھکم الہ واحد اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ دعوی صحیح ہو تو کوئی دلیل پیش کرنا چاہیے حق تعالیٰ دلیل توجیہ بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →پوری کائنات اور انسانیت کا معبود حقیقی ایک ہی ہے :
287: یہاں خطاب ساری نوع انسانی سے ہے ۔ نفس وجود ساری باری تعالیٰ تو مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھا اور آج بھی ساری مشرک قوموں کو تسلیم ہے ۔ لیکن مشرکین عرب ہوں یا عجم ہندوستانی ہوں یا پاکستانی علاوہ خدائے اعظم و برتر کے اور بھی بہت سے چھوٹے خدایا دیوتا یا داتا تسلیم کرتے ہیں بلکہ مشرکین قدیم و جدید اپنی قوم کے علاوہ دوسری قوموں کے یہاں تک کہ اپنی دشمن قوموں کے بھی دیوتاؤں اور داتاؤں کے وجود کے قائل تھے ۔ ان کی طاقت و قوت کے قائل تھے۔ ان کی خدائی کے قائل تھے بس غیر قوموں کے معبودوں کی عبادت سے منکر تھے اور اس کی توجیہ یہ کرتے تھے اور کرتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →When the mushrikin مشرکین ، (the associators) of Arabia heard the verse وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ 'And your god is one God', all against their own belief, they were puzzled thinking how could there be just one single object of worship for the whole wide world. If this was a serious claim, there has to be some proof in support. That proof has been tersely encased in the present two verses.
Understanding Tauhid, the Oneness of Allah, in the wider sense:
Tauhid توحید ، the cardinal principle of Muslim faith as stated in Verse 163 has been proved repeatedly and variously, therefore, we…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
161. The original meaning of kufr is to conceal. This lent the word a nuance of denial and it began to be used as an antonym of iman . Iman means to believe, to accept, and to recognize. Kufr, on the contrary, denotes refusal to believe, to deny, to reject. According to the Qur'an there are several possible forms of disbelief. One is to refuse either to believe in the existence of God, to acknowledge His sovereignty, to recognize Him as the only Lord of the Universe and of mankind or to recognize Him as the only Lord and the only object of worship and adoration. The second form of disbelief…
Read the full tafseer →