Explained with ayahs 159–163
حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے
اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپالیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی ﷺ کو چھپالیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی عمر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپالے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
سورة الْبَقَرَة 161
”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہُوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویّہ کی مختلف صورتیں ہیں
ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔
دُوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔
تیسرے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
کسی معیین شخص پر لعنت اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو
وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ کے لفظ سے جصاص اور قرطبی وغیرہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس کافر کے کفر کی حالت میں مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور چونکہ ہمیں کسی شخص کے خاتمہ کا یقینی علم ہونے کا اب کوئی ذریعہ نہیں اس لئے کسی کافر کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جن کافروں پر نام لے کر لعنت کی ہے آپ کو ان کی موت علی الکفر کا منجانب اللہ علم ہوگیا تھا البتہ عام کافروں، ظالموں پر بغیر تعیین کے لعنت کرنا درست نہیں ہے،
اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جب لعنت کا معاملہ اتنا شدید ہے کہ کسی…
Read the full tafseer →یعنی نہ تو جس عذاب میں وہ ڈالیں جائیں گے اس میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ اس کے تسلسل میں کوئی وقفہ یا انقطاع واقع ہوگا کہ اس سے انہیں ذرا دم لینے ہی کا موقع مل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
161۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ جن کی بابت یقینی علم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے ان پر لعنت جائز ہے لیکن اس کے علاوہ کسی بھی بڑے سے بڑے گنہگار مسلمان پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ممکن ہے مرنے سے پہلے اس نے توبہ کرلی ہو یا اللہ نے اس کے دیگر نیک اعمال کی وجہ سے اس کی غلطیوں پر قلم عفو پھیر دیا ہو۔ جس کا علم ہمیں نہیں ہوسکتا البتہ جن بعض معاصی پر لعنت کا لفظ آیا ہے ان کے مرتکبین کی بابت کہا جاسکتا ہے کہ یہ لعنت والے کام کر رہے ہیں ان سے اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یہ بارگاہ الٰہی میں ملعون قرار پاسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
104: اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
اور جو لوگ اپنی غلط روش پر مصر ہوتے ہیں اور مہلت اور فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے تو وہ یقیناً اپنے اس انجام کو پہنچیں گے جس کی وعید اللہ نے اس سے قبل ان سے فرمائی ہے ۔ اور اب زیادہ تفصیل وتاکید سے کہا جاتا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162)
” اور جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا…
Read the full tafseer →6 یعنی ان پر عذاب یکساں اور متصل رہیگا یہ نہ ہوگا کہ عذاب میں کسی قسم کی کمی ہوجائے یا کسی وقت ان کو عذاب سے مہلت مل جائے۔
Read the full tafseer →آیت 162 خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنْظَرُوْنَ
عذاب کا تسلسل ہمیشہ قائم رہے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ ذرا سی دیر کے لیے وقفہ ہوجائے یا سانس لینے کی مہلت ہی مل جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
200 کفر کے معنی انکار کردینا (ایمان نہ لانا) بھی ہے۔ چھپانا بھی اور ناشکری کرنا بھی۔ یہاں موقع کے لحاظ سے یہ سب معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →585 ۔ (ہمیشہ ہمیش کے لیے) (آیت) ” خلدین “ خلود کے معنی ہیں لازم پکڑ لینے کے۔ یعنی اسی لعنت و عذاب میں جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ الخلود اللزوم الطویل ومنہ یقال اخلد الی کذا اے لزمہ ورکن الیہ (کبیر) (آیت) ” فیھا “ ضمیر دوزخ کی طرف ہے۔ اور بعض نے لعنت کی طرف راجع کی ہے۔ اے فی اللعنۃ اوالنار (بیضاوی) اور بجائے اسم کے ضمیر لانے سے مقصود اظہار عظمت واہمیت ہے۔ انھا اضمرت تفخیما لشانھا وتھویلا (کشاف)
586 ۔ تخفیف کا تعلق بعد عذاب سے ہے اور مہلت کا تعلق قبل عذاب سے۔ یعنی دوزخ میں پڑنے کے بعد نہ کسی قسم کی تخفیف ان کے عذاب میں ہوگی اور نہ عذاب میں پڑنے سے قبل ہی کوئی مہلت انہیں ملے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
آیت نمبر 159 تا 163
ترجمہ : اور یہود کے بارے میں اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ (الآیۃ) نازل ہوئی، بلاشبہ وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی دلیلیوں اور ہدایت مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے ان لوگوں کے لئے کتاب تورات میں بیان کردیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے یعنی اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (اور وہ) فرشتے اور مومنین ہیں یا ہر شئ جو ان کے لئے لعنت کی بددعاء کرتی ہے، مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کرلی، یعنی اس حرکت سے باز آگئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی اور جو انہوں نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ میں جن کی…
Read the full tafseer →خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ( ہمیشہ رہیں گے اس میں) ضمیر ہا یا تو لعنت کی طرف راجع ہوگی اور یا نار کی طرف صورت اخیر میں ضمیر کو مرجع سے پہلے لانا نار کی شان کی عظمت کو ظاہر کر رہا ہے۔
لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ ( نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی) ینظرُوْن یا تو انظار بمعنی ” مہلت دینا “ سے مشتق ہے اور یا انتظار سے ماخوذ ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے نہیں انتظار کیا جائے گا کہ کسی قسم کی معذرت کریں “ اور یا نظر سے بمعنی دیکھ نہ لیا جائے تو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے ان کی طرف نظر رحمت نہ کی جائے گی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ کفار قریش نے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
(161۔ 162) مگر جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننے سے انکار کیا ان پر اللہ کا عذاب اور تمام فرشتوں کی لعنت اور تمام مومنوں کی لعنت جو یہ کافر کرتے تھے، ان ہی کافروں پر نازل ہوگی اور اس لعنت میں یہ ہمیشہ رہیں گے نہ لعنت ان پر اٹھائی جائے گی اور نہ اس لعنت کو یہ الگ کرسکیں گے اور نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ اسی کے عذاب کے متعلق ان کو کسی قسم کی چھوٹ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور ندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب ؓ نے کیا تھا) ، ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔
اس آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہوگئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
آیت نمبر 161 تا 162
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم کفار واو حالیہ ہے۔ ابن عربی نے کہا : مجھے میرے اکثرمشائخ نے بتایا کہ معین کافر پر لعنت جائز نہیں کیونکہ اسکی وفات کی حالت معلوم نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لعنت کے اطلاق میں کفر پر وفات شرط رکھی ہے۔ اور وہ روایت جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے متعین کفار پر لعنت کی۔ تو یہ اس لئے تھا کہ نبی کریم ﷺ کو ان کے انجام کا علم تھا۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک ظاہر حال کی وجہ سے لعنت کرنا اور اسے قتل کرنا اور اس سے قتال کرنا جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! عمرو بن العاص نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ؤبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ کافر کو روکا جائے گا قیامت کے دن پھر اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائیں گے پھر فرشتے اس پر لعنت کریں گے پھر سب لوگ اس پر لعنت کریں گے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین “ میں الناس سے مراد سارے ایمان والے (لعنت کریں گے) ۔
(3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کریں گے دو مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کرتے ہیں پس ایک ان دونوں میں سے کہتا ہے اللہ ظالم پر لعنت کرے مگر یہ کہ وہ لعنت لوٹ آتی ہے کافر…
Read the full tafseer →[ خٰلِدِیْنَ : ہمیشہ ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ] [ فِیْھَا : اس میں ] [ لَا یُخَفَّفُ : ہلکا نہیں کیا جائے گا ] [ عَنْھُمُ الْعَذَابُ : ان سے عذاب کو ] [ وَلَا ھُمْ : نہ ہی وہ لوگ ] [ یُنْظَرُوْنَ : مہلت دیے جائیں گے ]
ترکیب : ” خٰلِدِیْنَ “ جمع مذکر اسم فاعل کا صیغہ ہے جو کہ یہاں حال بن رہا ہے۔” فِیْھَا “ جار مجرور اس کے متعلق ہوا ۔” لَا “ نافیہ ” یُخَفَّفُ “ فعل مضارع مجہول ‘ ” عَنْہُمْ “ جار مجرور ہو کر متعلق فعل۔ ” الْعَذَابُ “ فعل مجہول کا نائب فاعل ‘ جملہ فعلیہ حال ہوا۔ ” لا “ نافیہ ” ھُمْ “ ضمیر مرفوع منفصل مبتدا۔” یُنْظَرُوْنَ “ فعل مجہول ” وائو “ ضمیر بارز متصل اس میں نائب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
کفر پر مرنے والوں پر لعنت اور عذاب
اس آیت شریفہ میں کفر پر مرنے والوں کی سزا کا ذکر ہے آیت کا عموم ان یہود کو بھی شامل ہے جو کفر پر جمے رہے اور دوسروں کو بھی کفر پر جمائے رکھا۔ حضور اقدس ﷺ کی نعت اور صفت کو چھپایا اور حق کو قبول نہ کیا اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیا، اور یہود کے علاوہ دوسرے تمام کفار نصاریٰ مشرکین منکرین رسالت انبیاء ( علیہ السلام) اور منکرین عقائد اسلامیہ اور منکرین ضروریات دین اور ختم نبوت کے منکر اور تمام ملاحدہ اور زنادقہ اور وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر کافر ہوگئے ان سب کو آیت کا عموم شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ تمام کافر جو کفر پر مرجائیں ان سب پر اللہ کی لعنت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
رجوع بخطاب یہود وعید برکتمان حق وحجود۔
قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزلنا۔۔ الی۔۔۔ ینظرون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ یہود حق کو جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر باوجود جاننے کے حق کو چھپاتے ہیں کماقال تعالی، الذین آتینھم الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔ اب اس آیت میں اس کتمان حق پر وعید ذکر فرماتے ہیں اور توبہ کرنے والوں کے لیے عفو اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق جو لوگ خوب جانتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی شائر اللہ میں سے ہیں اور حضرت ہاجرہ کے وقت سے برابر چلی آرہی ہیں مگر باوجود اس کے یہ لوگ ان مضامین کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل کیا اور جو…
Read the full tafseer →ف 296 وہ لعنت و پھٹکار میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے عذاب میں نہ کمی کی جائے گی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
یہاں تک تو آں حضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات اور شبہات کا جواب تھا۔ اور کتمان حق کے انجام بد کا ذکر تھا۔
ربط۔ گذشتہ آیتوں کا ماقبل سے تو ربط یہ ہے کہ ان میں تحویل قبلہ اور صفا ومروہ سے متعلقہ احکام کو چھپانے والوں اور سرے سے ان کا انکار کرنے والوں کے لیے وعید شدید اور کتمان احکام سے تو یہ کرنے والوں، اپنی اصلاح کرنے والوں اور ان کو بیان کرنے والوں کے لیے بشارت کا بیان تھا اور مابعد والی آیتوں سے ان کا ربط اس طرح ہے کہ اگلی آیتوں میں دعویٰ توحید کا اعادہ کیا گیا ہے۔ لہذا مسئلہ توحید کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–163
کتمان حق
گزشتہ آیات میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں۔ سابقہ درس میں منجملہ ان کے تعظیم شعائر اللہ کا ذکر تھا۔ تہذیب نفس کے جملہ مسائل جس بات پر متفرع ہوتے ہیں ، وہ مسئلہ توحید ہے۔ اس درس میں اسی مسئلہ کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلے مسئلہ کتمان حق کا بیان ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہودیوں میں کتما حق کی بیماری بدرجہ اتم موجود تھی۔ پہلی آیات میں آ چکا ہے ” وتکتموالحق وانتم تعلمون “ یعنی اے اہل کتاب تم جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہو۔ سای طرح تحویل قبلہ کے متعلق فرمایا یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “ یعنی یہ لوگ اس حقیقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنی اولدا کو…
Read the full tafseer →خلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ 162
خلد
الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ،
( خ ل د ) الخلودُ ( ن )
کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم
رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ترکیب : الذین موصول یکتمون فعل بافاعل ما انزلنا اس کا مفعول من البینت والہدٰی بیان ما من بعد ما متعلق ہے یکتمون سے فی الکتاب متعلق ہے بیناہ سے یہ سب مجموعہ صلہ ہوا۔ پھر موصول وصلہ اسم ان اور اولئک مبتدا یلعنہم الخ جملہ اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے۔ ان کی الا الذین الخ استثناء متصل موضع نصب میں ہے اور مستثنیٰ منہ ضمیر ہے یلعنہم میں الذین کفروا الخ اسم ان اولئک مبتداء علیہم لعنۃ اللہ الخ خبر جملہ خبران خالدین حال سے ضمیر علیہم سے اور لایخفف حال ہے ضمیر خالدین سے۔
تفسیر : اول تحویل قبلہ کے بارے میں گفتگو تھی اور اس کے ضمن میں کعبہ کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کے شکوک و شبہات کا جواب تھا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاج لَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔
(البقرۃ : 161 تا 162)
(بےشک جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی)
قرآن کریم میں کفر کا مفہوم
” کفر “ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے حق قبول کرنے، اخفائے حق کے گناہ کو ترک کرنے اور حق کھول کر بیان کرنے سے انکار کیا پھر اسی حالت میں مرگئے ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ اور سب کی طرف سے پھٹکار ہوگی اور حق چھپانے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
یہودو نصارٰی کے علماء کی اکثریت کا یہ حال تھا کہ وہ دنیاوی مفادات کے حصول، علمی برتری اور ظاہری تقدس کے تحفظ کی خاطر کتاب الٰہی کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تھے۔ جس طرح ہندو مذہب میں شودر کو مذہبی کتاب اور مندروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اہل کتاب کے علماء حکمرانوں اور بڑے لوگوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے بجائے ان کی چاپلوسی اور مدح سرائی کیا کرتے تھے تاکہ ان سے بڑے…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 162… ینظرون کا معنی :
خٰلِدِیْنَ فِیْھَا لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ یُنْظَرُوْنَ : (ان سے عذاب کو ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ملے گی) خالدینیہ علیہم کی ہُمْ ضمیر سے حال ہے فیھا اس لعنت میں یا آگ میں ضمیر لائی گئی اس چیز کی بڑائی بیان کرنے اور ڈرانے کے لئے۔ ان سے عذاب کو ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔ نمبر 1۔ ینظرون۔ انظار سے ہے جس کا معنی مہلت دینا ہے۔ یعنی معذرت کرنے کے لئے مہلت نہ دی جائے گی۔
یا دوسرا قول : یہ ہے کہ یہ نظر سے ہے کہ ان کو نظر رحمت سے نہ دیکھا جائے گا۔ جیسا فرمایا۔ ولا ینظرا لیھم یوم القیٰمۃ (الاٰیۃ)
Read the full tafseer →162۔ (آیت)” خالدین فیھا “ اس لعنت میں ٹھہرے رہیں گے اور کہا گیا ہے کہ آگ میں (ہمیشہ رہیں گے) (آیت)” لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون “ نہ وہ مہلت دیئے جائیں گے اور نہ ڈھیل ، حضرت ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ انہیں مہلت نہیں دی جائے گی کہ وہ اس مہلت میں عذر کرسکیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولا یؤذن لھم فیعتذرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
(159 ۔ 162) ۔ یہ آیت ان اہل کتاب کی شان میں ہے جنہوں نے تورات و انجیل کی آیتیں چھپائی اور نبی آخر الزمان کی نشانیوں اور صفتوں کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا اب ان میں سے جو لوگ اس حال پر بغیر توبہ کے مرگئے فرمایا وہ تو ملعون ہیں ہاں جنہوں نے توبہ کرلی ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی حدیث میں آیا ہے کہ عالم کے حق میں زمین و آسمان اور ملائکہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں 1۔ یہ اس لئے ہے کہ عالم علم پڑھ کر خود بھی راستہ پر آئے گا۔ اور لوگوں کو بھی نیک راہ سکھائے گا۔ جس عالم نے علم پڑھ کر پھر جاہلوں کے سے کام کئے اور اسی حال میں بغیر توبہ کے مرگیا تو یہی مخلوق اللہ کی اس پر لعنت کرے گی کیوں کہ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں (آیت) مِنَ الْبَيِّنٰتِ ” دلائل “ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں (آیت) وَالْهُدٰى. ھدی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
قول باری ہے والھکم الہ واحد ( اور تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے) یہاں اللہ سبحانہ کا اپنی ذات کو اس صفت سے موصوف کرنا کہ وہ ایک ہے انے اندر کئی معانی رکھتا ہے اور یہ تمام معانی اس لفظ کے اندر مراد ہیں۔ ایک معنی تو یہ ہے کہ اللہ واحد ہے کسی بھی چیز کے اندر اس کی نہ کوئی نظیر ہے نہ شبیہ اور نہ کوئی مثل ہے نہ مساوی۔ اسی بنا پر وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے واحد کی صفت کے ساتھ موصوف قرار دیاجائے۔
دوم یہ کہ وہ عبادت کے استحقاق نیز الہٰیت کے وصف میں واحد ہے۔ اس میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں ہے۔ سوم یہ کہ وہ ان معنوں میں واحد ہے کہ اس پر تجری اور تقسیم کا حکم عائد کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ذات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
433 اللہ تعالیٰ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے گناہوں کو یکسر معاف کردیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ صحیح حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو رہے ہوں، اور تو سچے دل سے توبہ کرے تو میں وہ سب معاف کر دونگا، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے تو میں (سچی توبہ پر) تجھے اسی کے برابر بخشش سے نواز دونگا، البتہ یہ شرط ضرور ہے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو { اَلَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
حالت کفر میں موت
تشریح : انسان غلطیاں کرلیتا ہے کیونکہ انسان تو ہے ہی غلطیوں کا پتلا تو اس کے مقابلہ میں رب العزت کی رحمت، مغفرت ہر وقت موجود ہے۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار، ہر مانگنے والے کی درخواست اور ہر توبہ کرنے والے کی توبہ سنتا ہے اور عطا کرتا ہے لیکن جو لوگ اس کی ان عنایات سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے کفر کو نہیں چھوڑتے، سیدھی اور ایمان کی راہ اختیار نہیں کرتے ہمیشہ بدکاری اور گناہ گاری کی زندگی بسر کرتے ہیں اور پھر اسی حالت کفر میں ہی مرجاتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں، فرشتوں کی برکتوں اور انسانوں کی شفقتوں سے دو رہو جاتے ہیں۔ سب ان پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے علاوہ رب العزت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–163
ف 4 اوپر کی آیت میں کتمان حق پر وعید فرمائی ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلہ توحید ہے۔ قرطبی ) ۔ ( نیز دیکھئے آل عمران آیت 1)
Read the full tafseer →(2:162) خالدین فیہا۔ خالدین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔ فیہا۔ اس میں ھا ضمیز واحد مؤنث غائب لعنۃ کے لئے ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یا یہ النار۔ (دوزخ) کے لئے ہے اور النار کو اس کی شان کی عظمت کی وجہ سے مضمر رکھا گیا ہے اور اسم کی جگہ ضمیر کو لایا گیا ہے۔ خالدین۔ علیہم کی ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
لا یخفف۔ مضارع منفی مجہول واحد مذکر غائب ۔ وہ ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ یعنی عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ لا یخفف عنھم العذاب۔ یہ جملہ حال ہے ضمیر خالدین سے۔
ولا ہم ینظرون۔ واؤ عاطفہ ہے۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ لا ینظرون۔ مضارع منفی مجہول کا صیغہ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163
شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
شان نزول : مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی صفت پوچھی تھی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ اور حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے : الھکم الہ واحد لا الہ الاھو الرحمٰن الرحیم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی ومسندامام ابن ماجہ میں ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
[105] یعنی جن و انس و ملائکہ بلکہ تمام حیوانات کیونکہ حق کو چھپانے کے وبال میں دنیا کے اندر قحط، وبا اور طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
(ف 2) وہ لوگ جو کفر وعصیان کی حالت میں مرتے ہیں اور حقائق و دلائل کے باوجود انکار پر مصر رہتے ہیں ‘ ان کے لئے نجات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ وہ ہمیشہ اللہ کے غضب اور پاک سرشت فرشتوں کی ناراضگی میں اور تمام لوگوں کی نگاہ نفرت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں سے دور ‘ ملائکہ کی توجہات روحانی سے محروم اور پاکباز گروہ کی عنایات سے الگ ذلت ولعنت کے عمیق گڑھوں میں رہیں گے ، نہ تو ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ ان کے فرد و اعمال پر نظر ثانی کی جائے گی ، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں حق کی طرف کبھی نہیں جھکے اور اسلام کی عالمگیر صداقتوں پر انہیں نے اپنے اوقات کا ایک لمحہ صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
ف 1 یقیناً جو لوگ ان مضامین اور احکام کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور وہ احکام صاف و واضح ہیں اور وہ مضامین و احکام صحیح راستہ دکھانے والے ہیں اور یہ لوگ ان مضامین کا اخفا بھی اس کے بعد کرتے ہیں جبکہ ہم عام لوگوں کیلئے ان کو خوب کھول کر کتب سماویہ میں بیان کرچکے ہیں۔
اس صراحت و وضاحت کے باوجود جو بدبخت ان مضامین و احکام کو چھپاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتا ہے اور لعنت کرنیوالے بھی ایسوں پر لعنت بھیجتے ہیں مگر ہاں وہ حضرات اس لعنت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو اس قسم کے جرم سے رجوع کرلیں اور تائب ہوجائیں اور اپنے اس فعل کی تلافی کردیں اور حق بات کو ظاہر کردیں تو میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
ف 1۔ اس آیت میں کتمان حق پر جو وعید مذکور ہوئی ہے کہ ہرچند کہ ہر امرحق کے باب میں لفظا عام ہے لیکن بقرینہ جملہ یعرفونہ کمایعرفون ابناءھم باقتضا خصوصیت مقام زیادہ مقصود بالنفل مسئلہ رسالت محمدیہ علی صاحبھا الف الف سلام ہے۔ پس اس لحاظ سے اس آیت میں اثبات ہوا مسئلہ رسالت کا چونکہ اعتقاد و توحید اور اعتقاد رسالت دونوں اعتبار شرع میں متلازم ہیں اس لیے آیت آئندہ میں مسئلہ توحید کی تقریر فرمائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →ابدی محروموں کے لئے نہ تحفیف ہوگی اور نہ ہی مہلت دی جائے گی :
286: تخفیف کا تعلق بعد عذاب سے ہے اور مہلت کا تعلق قبل عذاب سے ۔ یعنی جن لوگوں کے لئے ہمیشہ ہمیشہ عذاب میں رہنے کا فیصلہ ہوگیا وہ ابدی طور پر رحمت الٰہی سے محروم ہوگئے ایسے محروموں کے لئے نہ تو عذاب میں تحفیف ہوگی اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ان کے لئے تخفیف نہیں ہوگی اور نہ ہی عذاب میں داخل ہونے سے پہلے کوئی مہلت انہیں ملے گی۔
آیات مذکورہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آیات بینات نازل کی گئی ہیں ان کا لوگوں سے چھپانا بڑا جرم ہے۔ اتنا بڑا جرم کہ اس پر اللہ اور اس کی تمام مخلوق کی لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–162
Cursing an individual is not permissible
From the words of the text :'and died while they were disbelievers', commentators al-Jassas, al-Qurtubi and some others have formulated the view that it is not permissible to curse an infidel about whom it is not certain that he is to die in a state of infidelity. Now that we have no way of finding out for sure that a person will die in a given state, we are bound to obey the ruling that it is not permissible to curse an infidel by name. That the Holy Prophet ﷺ has. Cursed some infidels by name is explained by the fact that their death in a state of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
161. The original meaning of kufr is to conceal. This lent the word a nuance of denial and it began to be used as an antonym of iman . Iman means to believe, to accept, and to recognize. Kufr, on the contrary, denotes refusal to believe, to deny, to reject. According to the Qur'an there are several possible forms of disbelief. One is to refuse either to believe in the existence of God, to acknowledge His sovereignty, to recognize Him as the only Lord of the Universe and of mankind or to recognize Him as the only Lord and the only object of worship and adoration. The second form of disbelief…
Read the full tafseer →