Al-Baqara 2:161

Al-Baqara · from ayah 161

2:161

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَمَاتُوۡا وَهُمۡ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ لَعۡنَةُ اللّٰهِ وَالۡمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجۡمَعِيۡنَۙ‏

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - upon them will be the curse of Allah and of the angels and the people, all together,

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 19 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:161

جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ایسوں پر خدا کی اور فرشتوں اور لوگوں کی سب کی لعنت

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مرجائیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی لعنت ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جنہوں نے (حق کو چھپا کر) کفر کیا اور اس حال میں مرے کہ وہ کافر ہی تھے ان پر اﷲ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اس حال میں مر گئے کہ وہ کافر تھے، ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کی اور فرشتوں اور لوگوں کی، سب کی لعنت ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ کفر کرتے رہے پھر اسی کفر کی حالت میں مرگئے تو ایسے لوگوں پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حلت میں مر گئے ان پر اللہ کی فرشتوں اور لوگوں کی سب لعنت ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر ہی کو اپنائے رکھا، اور کفر ہی کی حالت میں انہوں نے جان دی، تو ایسوں پر یقینا لعنت ہے اللہ کی، اس کے فرشتوں کی، اور لوگوں کی، سب کی،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اور مرجائیں اسی حال میں کہ وہ کافر ہیں سو یہ وہی لوگ ہیں کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اسی حال میں مرگئے کہ کفر پر قائم تھے ان پر لعنت ہے اللہ کی بھی اور فرشتوں کی بھی اور تمام انسانوں کی بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں مرگئے۔ ان پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who adopted the way of disbelief and died as disbelievers, are accursed of Allah and of angels and of all mankind: they shall remain accursed for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed, those who disbelieved and died while they were disbelievers, upon them is the curse of Allah, and of angels, and of all human beings together,

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed, those who disbelieved and died while they were disbelievers, upon them is the curse of Allah, and of angels, and of all human beings together,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieve, and die while they are disbelievers, it is they on whom is the curse of Allah and of the angels and of mankind, combined.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Those who disbelieve, and die while they are disbelievers; on them is the curse of Allah and of angels and of men combined.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve and die while they are disbelievers - upon them will be the curse of Allah and of the angels and the people, all together,

— Saheeh International

Those who deny My existence and die with such attitude will be subject to the condemnation of God, the angels, and all people.

— Muhammad Sarwar

Surely those who disbelieve and die while they are disbelievers, these it is on whom is the curse of Allah and the angels and men all;

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve, and die while they are infidels, these it is on whom shall be the curse of Allah and the angels and mankind all.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who reject Faith, and die rejecting,- on them is Allah's curse, and the curse of angels, and of all mankind;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:161

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 159–163

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپالیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی ﷺ کو چھپالیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی عمر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپالے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 161–163

سورة الْبَقَرَة 161 ”کفر“ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہُوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں ماننا، قبول کرنا، تسلیم کرلینا۔ اس کے برعکس کفر کے معنی ہیں نہ ماننا، رد کردینا، انکار کرنا۔ قرآن کی رو سے کفر کے رویّہ کی مختلف صورتیں ہیں ایک یہ کہ انسان سرے سے خدا ہی کو نہ مانے، یا اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم نہ کرے اور اس کو اپنا اور ساری کائنات کا مالک اور معبود ماننے سے انکار کر دے، یا اسے واحد مالک اور معبود نہ مانے۔ دُوسرے یہ کہ اللہ کو تو مانے مگر اس کے احکام اور اس کی ہدایات کو واحد منبع علم و قانون تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ تیسرے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 161–162

کسی معیین شخص پر لعنت اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کے کفر پر مرنے کا یقین نہ ہو وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ کے لفظ سے جصاص اور قرطبی وغیرہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس کافر کے کفر کی حالت میں مرنے کا یقین نہ ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور چونکہ ہمیں کسی شخص کے خاتمہ کا یقینی علم ہونے کا اب کوئی ذریعہ نہیں اس لئے کسی کافر کا نام لے کر اس پر لعنت کرنا جائز نہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جن کافروں پر نام لے کر لعنت کی ہے آپ کو ان کی موت علی الکفر کا منجانب اللہ علم ہوگیا تھا البتہ عام کافروں، ظالموں پر بغیر تعیین کے لعنت کرنا درست نہیں ہے، اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ جب لعنت کا معاملہ اتنا شدید ہے کہ کسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

“ جن لوگوں نے کفر کیا اور حالت کفر ہی میں مرے ”سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی ضد پر اڑے رہ گئے اور توبہ و اصلاح اور اظہار واعلان حق سے محروم ہی دنیا سے اٹھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق پوشی ایک ایسا جرم ہے جو ان کی دینداری کی دوسری باتوں اور ان کے ایمان و محبت الٰہی کے تمام دعو وں کو بالکل باطل کردے گا۔ اور اس کی پاداش میں وہ اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کے سزاوار ہوں گے۔ یہاں اللہ کی لعنت کے ساتھ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت کا ذکر اس اجمال کو واضح کر رہا ہے جو اوپر والی آیت کے الفاظ و َيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ میں موجود تھا اور الناس کے ساتھ اجمعین کی قید یہ حقیقت واضح کر رہی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 161–162

161۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ جن کی بابت یقینی علم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے ان پر لعنت جائز ہے لیکن اس کے علاوہ کسی بھی بڑے سے بڑے گنہگار مسلمان پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ممکن ہے مرنے سے پہلے اس نے توبہ کرلی ہو یا اللہ نے اس کے دیگر نیک اعمال کی وجہ سے اس کی غلطیوں پر قلم عفو پھیر دیا ہو۔ جس کا علم ہمیں نہیں ہوسکتا البتہ جن بعض معاصی پر لعنت کا لفظ آیا ہے ان کے مرتکبین کی بابت کہا جاسکتا ہے کہ یہ لعنت والے کام کر رہے ہیں ان سے اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو یہ بارگاہ الٰہی میں ملعون قرار پاسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 159–163

104: اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 161–162

اور جو لوگ اپنی غلط روش پر مصر ہوتے ہیں اور مہلت اور فرصت کو غنیمت نہیں سمجھتے تو وہ یقیناً اپنے اس انجام کو پہنچیں گے جس کی وعید اللہ نے اس سے قبل ان سے فرمائی ہے ۔ اور اب زیادہ تفصیل وتاکید سے کہا جاتا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (161) خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ (162) ” اور جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ۔ اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جس نے خود حق پوشی کی یا کسی دوسرے کی حق پوشی کے باعث گمراہ ہوا اور اخیر تک کافر ہی رہا اور توبہ نصیب نہ ہوئی تو وہ ہمیشہ کو ملعون اور جہنمی ہوا مرنے کے بعد توبہ مقبول نہیں بخلاف اول فریق مذکور سابق کے کہ توبہ نے ان کی لعنت کو منقطع کردیا کہ زندگی ہی میں تائب ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 160–161

آیت 160 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ ج میں اپنی نگاہ التفات ان کی طرف متوجہ کر دوں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 161–162

200 کفر کے معنی انکار کردینا (ایمان نہ لانا) بھی ہے۔ چھپانا بھی اور ناشکری کرنا بھی۔ یہاں موقع کے لحاظ سے یہ سب معنوں میں استعمال ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

584 ۔ (آیت) ” اجمعین “ کا لفظ تاکید کے لیے آیا ہے، اور اس کا تعلق اللہ اور ملائکہ اور الناس تینوں سے ہے۔ محض الناس سے نہیں۔ واجمعین تاکید بالنسبۃ الی الکل لاللناس فقط (روح) (آیت) ” لعنۃ اللہ “ اہل سنت کے ہاں کسی متعین گنہگار پر لعنت کرنا ہرگز جائز نہیں، البتہ بغیر کسی کو متعین کیے ہوئے مبہم ومطلق صورت میں جائز ہے۔ مثلا یہ کہ چور پر لعنت ہو۔ فاما العاصی المعین فلایجوز لعنہ اتفاقا واما لعن العاصی مطلقا یجوزا اجمعاعا (ابن العربی) بلکہ حدیث صحیح میں تو مومن پر لعنت اس کے قتل کے مثل بتائی گئی ہے۔ وفی صحیح مسلم لعن ال مومن کقتلہ (ابن العربی) (آیت) ” وما توا وھم کفار “ بلکہ زندگی میں تو کافر متعین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 159–163

آیت نمبر 159 تا 163 ترجمہ : اور یہود کے بارے میں اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ (الآیۃ) نازل ہوئی، بلاشبہ وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی دلیلیوں اور ہدایت مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے ان لوگوں کے لئے کتاب تورات میں بیان کردیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے یعنی اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (اور وہ) فرشتے اور مومنین ہیں یا ہر شئ جو ان کے لئے لعنت کی بددعاء کرتی ہے، مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کرلی، یعنی اس حرکت سے باز آگئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی اور جو انہوں نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ میں جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ( بیشک جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے کافر یہی لوگ ہیں جن پر پھٹکار ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو چھپاتے ہیں اور بےتوبہ مرگئے۔ ابو العالیہ نے کہا کہ یہ لعنت قیامت کو ہوگی قیامت کے دن کافر کو کھڑا کیا جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا۔ پھر ملائکہ اور آدمی لعنت کریں گے اگر کوئی کہے کہ جس پر لعنت کی گئی ہے وہ بھی آدمی ہے تو وہ اپنے اوپر کیسے لعنت کریگا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یَلْعَنُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 161–162

(161۔ 162) مگر جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننے سے انکار کیا ان پر اللہ کا عذاب اور تمام فرشتوں کی لعنت اور تمام مومنوں کی لعنت جو یہ کافر کرتے تھے، ان ہی کافروں پر نازل ہوگی اور اس لعنت میں یہ ہمیشہ رہیں گے نہ لعنت ان پر اٹھائی جائے گی اور نہ اس لعنت کو یہ الگ کرسکیں گے اور نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ اسی کے عذاب کے متعلق ان کو کسی قسم کی چھوٹ دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 160–162

اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور ندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب ؓ نے کیا تھا) ، ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔ اس آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 161–162

آیت نمبر 161 تا 162 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم کفار واو حالیہ ہے۔ ابن عربی نے کہا : مجھے میرے اکثرمشائخ نے بتایا کہ معین کافر پر لعنت جائز نہیں کیونکہ اسکی وفات کی حالت معلوم نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لعنت کے اطلاق میں کفر پر وفات شرط رکھی ہے۔ اور وہ روایت جو نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے متعین کفار پر لعنت کی۔ تو یہ اس لئے تھا کہ نبی کریم ﷺ کو ان کے انجام کا علم تھا۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک ظاہر حال کی وجہ سے لعنت کرنا اور اسے قتل کرنا اور اس سے قتال کرنا جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! عمرو بن العاص نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 161–162

(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ؤبو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ کافر کو روکا جائے گا قیامت کے دن پھر اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائیں گے پھر فرشتے اس پر لعنت کریں گے پھر سب لوگ اس پر لعنت کریں گے۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اولئک علیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین “ میں الناس سے مراد سارے ایمان والے (لعنت کریں گے) ۔ (3) ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ وہ مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کریں گے دو مؤمن آپس میں لعنت کرتے ہیں اور دو کافر لعنت کرتے ہیں پس ایک ان دونوں میں سے کہتا ہے اللہ ظالم پر لعنت کرے مگر یہ کہ وہ لعنت لوٹ آتی ہے کافر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ الَّذِیْنَ : بیشک جن لوگوں نے ] [ کَفَرُوْا : انکار کیا ] [ وَمَاتُوْا : اور مرے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ کُفَّارٌ : انکار کرنے والے رہے ] [ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ : وہ لوگ ہیں جن پر ] [ لَعْنَۃُ اللّٰہِ : اللہ کی لعنت ہے ] [ وَالْمَلٰٓـئِکَۃِ : اور فرشتوں کی ] [ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ : اور سب کے سب لوگوں کی ] ترکیب :” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل۔” الَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” کَفَرُوْا “ فعل با فاعل (جس میں وائو ضمیر بارز متصل فاعل ہے) ہو کر معطوف علیہ۔ ” وائو “ عاطفہ اور ” مَاتُوْا “ فعل با فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف ۔ معطوف + معطوف علیہ مل کر صلہ ہوا۔ صلہ+ موصول مل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 161–162

کفر پر مرنے والوں پر لعنت اور عذاب اس آیت شریفہ میں کفر پر مرنے والوں کی سزا کا ذکر ہے آیت کا عموم ان یہود کو بھی شامل ہے جو کفر پر جمے رہے اور دوسروں کو بھی کفر پر جمائے رکھا۔ حضور اقدس ﷺ کی نعت اور صفت کو چھپایا اور حق کو قبول نہ کیا اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیا، اور یہود کے علاوہ دوسرے تمام کفار نصاریٰ مشرکین منکرین رسالت انبیاء ( علیہ السلام) اور منکرین عقائد اسلامیہ اور منکرین ضروریات دین اور ختم نبوت کے منکر اور تمام ملاحدہ اور زنادقہ اور وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر کافر ہوگئے ان سب کو آیت کا عموم شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ تمام کافر جو کفر پر مرجائیں ان سب پر اللہ کی لعنت ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–162

رجوع بخطاب یہود وعید برکتمان حق وحجود۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزلنا۔۔ الی۔۔۔ ینظرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ یہود حق کو جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر باوجود جاننے کے حق کو چھپاتے ہیں کماقال تعالی، الذین آتینھم الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔ اب اس آیت میں اس کتمان حق پر وعید ذکر فرماتے ہیں اور توبہ کرنے والوں کے لیے عفو اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق جو لوگ خوب جانتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی شائر اللہ میں سے ہیں اور حضرت ہاجرہ کے وقت سے برابر چلی آرہی ہیں مگر باوجود اس کے یہ لوگ ان مضامین کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل کیا اور جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

295 حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ اسم موصول عموم کے لیے ہے اور کفروا سے تمام منکرین اور کفار مراد ہیں۔ کذا قال الامام الرازی (کبیر ص 70 ج 2) اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ۔ جملہ اسمیہ استمرار اور دوام کے لیے ہے یعنی ایسے لوگوں پر ہمیشہ خدا کی لعنت برستی رہتی ہے اور فرشتے اور تمام انسان بھی ان پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 159–163

کتمان حق گزشتہ آیات میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں۔ سابقہ درس میں منجملہ ان کے تعظیم شعائر اللہ کا ذکر تھا۔ تہذیب نفس کے جملہ مسائل جس بات پر متفرع ہوتے ہیں ، وہ مسئلہ توحید ہے۔ اس درس میں اسی مسئلہ کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلے مسئلہ کتمان حق کا بیان ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہودیوں میں کتما حق کی بیماری بدرجہ اتم موجود تھی۔ پہلی آیات میں آ چکا ہے ” وتکتموالحق وانتم تعلمون “ یعنی اے اہل کتاب تم جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہو۔ سای طرح تحویل قبلہ کے متعلق فرمایا یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “ یعنی یہ لوگ اس حقیقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنی اولدا کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ لَعْنَۃُ اللہِ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۝ 161 ۙ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 160–162

ترکیب : الذین موصول یکتمون فعل بافاعل ما انزلنا اس کا مفعول من البینت والہدٰی بیان ما من بعد ما متعلق ہے یکتمون سے فی الکتاب متعلق ہے بیناہ سے یہ سب مجموعہ صلہ ہوا۔ پھر موصول وصلہ اسم ان اور اولئک مبتدا یلعنہم الخ جملہ اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے۔ ان کی الا الذین الخ استثناء متصل موضع نصب میں ہے اور مستثنیٰ منہ ضمیر ہے یلعنہم میں الذین کفروا الخ اسم ان اولئک مبتداء علیہم لعنۃ اللہ الخ خبر جملہ خبران خالدین حال سے ضمیر علیہم سے اور لایخفف حال ہے ضمیر خالدین سے۔ تفسیر : اول تحویل قبلہ کے بارے میں گفتگو تھی اور اس کے ضمن میں کعبہ کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کے شکوک و شبہات کا جواب تھا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 161–162

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاوَمَاتُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاج لَایُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 161 تا 162) (بےشک جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گانہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی) قرآن کریم میں کفر کا مفہوم ” کفر “ کے اصل معنی چھپانے کے ہیں۔ اسی سے انکار کا مفہوم پیدا ہوا اور یہ لفظ ایمان کے مقابلے میں بولا جانے لگا۔ ایمان کے معنی ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 161–162

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے حق قبول کرنے، اخفائے حق کے گناہ کو ترک کرنے اور حق کھول کر بیان کرنے سے انکار کیا پھر اسی حالت میں مرگئے ایسے مجرموں پر اللہ تعالیٰ اور سب کی طرف سے پھٹکار ہوگی اور حق چھپانے والے ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ یہودو نصارٰی کے علماء کی اکثریت کا یہ حال تھا کہ وہ دنیاوی مفادات کے حصول، علمی برتری اور ظاہری تقدس کے تحفظ کی خاطر کتاب الٰہی کو اپنے تک ہی محدود رکھتے تھے۔ جس طرح ہندو مذہب میں شودر کو مذہبی کتاب اور مندروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ اہل کتاب کے علماء حکمرانوں اور بڑے لوگوں کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے بجائے ان کی چاپلوسی اور مدح سرائی کیا کرتے تھے تاکہ ان سے بڑے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مستحقینِ لعنت : 161: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ : (بےشک جنہوں نے کفر کیا اور کفر پر مرگئے انہی لوگوں پر اللہ تعالیٰ اور ملائکہ اور تمام آدمیوں کی پھٹکار ہے) ان الذین کفروا وماتوا وہم کفار۔ یعنی ان حق چھپانے والوں میں سے جو مرگئے اور توبہ نہ کی۔ کیا الناس سے مومن و کافر دونوں مراد ہیں : اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٰٓپکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ۔ ان پر اللہ ملائکہ و تمام لوگوں کی زندگی اور موت کے بعد لعنت ہوگی۔ الناس سے مومن مراد ہیں۔ یا مومن و کافر دونوں مراد ہیں۔ اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

161۔ (آیت)” ان الذین کفروا وماتوا وھم کفار اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملائکۃ “ یعنی فرشتوں کی لعنت (آیت)” والناس اجمعین “ ابوالعالیہ (رح) فرماتے ہیں یہ قیامت کے دن ہوگا ، کافر کو کھڑا کیا جائے گا ، پس اس کو اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے لعنت کریں گے ، پھر تمام انسان لعنت کریں گے ۔ سوال : اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت)” والناس اجمعین “ کہ سب انسان اور جو ملعون ہے وہ بھی تو سب انسانوں میں شامل ہے تو وہ ملعون اپنے آپ کو کیسے لعنت کرے گا ؟ (1) جواب میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے لعنت کرے گا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ویلعن بعضکم بعضکم “ ۔ (2) جواب بعض نے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 159–162

(159 ۔ 162) ۔ یہ آیت ان اہل کتاب کی شان میں ہے جنہوں نے تورات و انجیل کی آیتیں چھپائی اور نبی آخر الزمان کی نشانیوں اور صفتوں کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا اب ان میں سے جو لوگ اس حال پر بغیر توبہ کے مرگئے فرمایا وہ تو ملعون ہیں ہاں جنہوں نے توبہ کرلی ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی حدیث میں آیا ہے کہ عالم کے حق میں زمین و آسمان اور ملائکہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں 1۔ یہ اس لئے ہے کہ عالم علم پڑھ کر خود بھی راستہ پر آئے گا۔ اور لوگوں کو بھی نیک راہ سکھائے گا۔ جس عالم نے علم پڑھ کر پھر جاہلوں کے سے کام کئے اور اسی حال میں بغیر توبہ کے مرگیا تو یہی مخلوق اللہ کی اس پر لعنت کرے گی کیوں کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 159–162

یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں (آیت) مِنَ الْبَيِّنٰتِ ” دلائل “ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں (آیت) وَالْهُدٰى. ھدی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

کافروں پر لعنت بھیجنے کا بیان قول باری ہے : ان الذین کفروا وما تو ا وھم کف اولئک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین ( جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے) آیت میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ کفر کی حالت میں مرجانے والوں پر مسلمان لعنت کریں، نیز یہ کہ موت کی بنا پر کافر سے احکام الٰہی کے مکلف ہونے کی بات ختم ہوجانے کے باوجود اس پر لعنت کرنے اور اس سے برات کے اظہار کی بات ختم نہیں ہوتی اس لئے کہ قول باری : والناس اجمعین کافر کی موت کے بعد بھی اس پر لعنت کرنے کے حکم کی ہم سے متقضی ہے۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 160–162

433 اللہ تعالیٰ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے گناہوں کو یکسر معاف کردیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ صحیح حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو رہے ہوں، اور تو سچے دل سے توبہ کرے تو میں وہ سب معاف کر دونگا، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے تو میں (سچی توبہ پر) تجھے اسی کے برابر بخشش سے نواز دونگا، البتہ یہ شرط ضرور ہے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو { اَلَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 161–162

حالت کفر میں موت تشریح : انسان غلطیاں کرلیتا ہے کیونکہ انسان تو ہے ہی غلطیوں کا پتلا تو اس کے مقابلہ میں رب العزت کی رحمت، مغفرت ہر وقت موجود ہے۔ وہ ہر پکارنے والے کی پکار، ہر مانگنے والے کی درخواست اور ہر توبہ کرنے والے کی توبہ سنتا ہے اور عطا کرتا ہے لیکن جو لوگ اس کی ان عنایات سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور اپنے کفر کو نہیں چھوڑتے، سیدھی اور ایمان کی راہ اختیار نہیں کرتے ہمیشہ بدکاری اور گناہ گاری کی زندگی بسر کرتے ہیں اور پھر اسی حالت کفر میں ہی مرجاتے ہیں تو ایسے ہی لوگ اللہ کی رحمتوں، فرشتوں کی برکتوں اور انسانوں کی شفقتوں سے دو رہو جاتے ہیں۔ سب ان پر لعنت بھیجتے ہیں اس کے علاوہ رب العزت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 153–163

آیات 153- 163 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔ نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے : ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 160–163

ف 4 اوپر کی آیت میں کتمان حق پر وعید فرمائی ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلہ توحید ہے۔ قرطبی ) ۔ ( نیز دیکھئے آل عمران آیت 1)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 160–161

(2:160) الا الذین ۔۔ الخ استثناء متصل ہے اور ضمیر ہم (جو یلعنم میں ہے) مستثنی، منہ ہے۔ تابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ توبۃ (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے توبہ کی۔ وہ باز آگئے۔ جب توبۃ کا تعدیہ الیٰ کے ذریعہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ اور جب تعدیہ علی سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی آتے ہیں۔ بندہ کا توبہ کرنا۔ معصیت کے بعد اسے چھوڑ کر نیکی اور اطاعت کی طرف واپس آنا ہے۔ اصلحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر انہوں نے اپنی اصلاح کی۔ وہ سنور گئے انہوں نے اپنے کام کو درست کیا۔ انہوں نے نیک کام کئے۔ بینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بتیین (تفعیل) مصدر انہوں نے بیان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 158–163

لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163 شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 158–161

شان نزول : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عبادات کو حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں ، صفامروہ کا دوڑنا بھی انہی میں سے ہے ۔ کیونکہ حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑوں کے مابین زمزم کا چشمہ نکلنے سے پہلے دوڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو حج کی عبادات میں داخل کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 159–162

[105] یعنی جن و انس و ملائکہ بلکہ تمام حیوانات کیونکہ حق کو چھپانے کے وبال میں دنیا کے اندر قحط، وبا اور طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 161–162

(ف 2) وہ لوگ جو کفر وعصیان کی حالت میں مرتے ہیں اور حقائق و دلائل کے باوجود انکار پر مصر رہتے ہیں ‘ ان کے لئے نجات کی کوئی گنجائش نہیں ۔ وہ ہمیشہ اللہ کے غضب اور پاک سرشت فرشتوں کی ناراضگی میں اور تمام لوگوں کی نگاہ نفرت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں سے دور ‘ ملائکہ کی توجہات روحانی سے محروم اور پاکباز گروہ کی عنایات سے الگ ذلت ولعنت کے عمیق گڑھوں میں رہیں گے ، نہ تو ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ ان کے فرد و اعمال پر نظر ثانی کی جائے گی ، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری زندگی میں حق کی طرف کبھی نہیں جھکے اور اسلام کی عالمگیر صداقتوں پر انہیں نے اپنے اوقات کا ایک لمحہ صرف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 159–162

ف 1 یقیناً جو لوگ ان مضامین اور احکام کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور وہ احکام صاف و واضح ہیں اور وہ مضامین و احکام صحیح راستہ دکھانے والے ہیں اور یہ لوگ ان مضامین کا اخفا بھی اس کے بعد کرتے ہیں جبکہ ہم عام لوگوں کیلئے ان کو خوب کھول کر کتب سماویہ میں بیان کرچکے ہیں۔ اس صراحت و وضاحت کے باوجود جو بدبخت ان مضامین و احکام کو چھپاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتا ہے اور لعنت کرنیوالے بھی ایسوں پر لعنت بھیجتے ہیں مگر ہاں وہ حضرات اس لعنت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو اس قسم کے جرم سے رجوع کرلیں اور تائب ہوجائیں اور اپنے اس فعل کی تلافی کردیں اور حق بات کو ظاہر کردیں تو میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 159–162

ف 1۔ اس آیت میں کتمان حق پر جو وعید مذکور ہوئی ہے کہ ہرچند کہ ہر امرحق کے باب میں لفظا عام ہے لیکن بقرینہ جملہ یعرفونہ کمایعرفون ابناءھم باقتضا خصوصیت مقام زیادہ مقصود بالنفل مسئلہ رسالت محمدیہ علی صاحبھا الف الف سلام ہے۔ پس اس لحاظ سے اس آیت میں اثبات ہوا مسئلہ رسالت کا چونکہ اعتقاد و توحید اور اعتقاد رسالت دونوں اعتبار شرع میں متلازم ہیں اس لیے آیت آئندہ میں مسئلہ توحید کی تقریر فرمائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفر پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ اور اس کی تمام مخلوق کی لعنت ہے : 285: کفر پر قائم رہنے کا مطلب واضح ہے کہ وہ کفر پر قائم رہتے ہوئے مر گئے اور اس دار العمل سے انتقال کر کے وہ دار الجزاء کی طرف منتقل ہوگئے۔ جب تک کوئی شخص زندہ ہے وہ کتنا ہی گنہگار ہو اس پر لعنت کرنا جائز نہیں سوائے اس کے کسی کو متعین کر کے کہا جائے جیسے یہ کہا کہ جھوٹے پر لعنت یا یہ کہنا کہ چور پر لعنت اور مؤمن کے لئے لعنت تو اس کے قتل کرنے کے مترادف ہے یعنی اتنا گناہ اور ظلم ہے جتنا کسی کو ناحق قتل کرنا بلکہ زندگی میں تو کافر متعین تک کو بھی لعنت کی اجازت نہیں۔ ” وَ مَاتُوْا “ کی قید نے خود مسئلہ صاف کردیا کہ یہاں جن پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 161–162

Cursing an individual is not permissible From the words of the text :'and died while they were disbelievers', commentators al-Jassas, al-Qurtubi and some others have formulated the view that it is not permissible to curse an infidel about whom it is not certain that he is to die in a state of infidelity. Now that we have no way of finding out for sure that a person will die in a given state, we are bound to obey the ruling that it is not permissible to curse an infidel by name. That the Holy Prophet ﷺ has. Cursed some infidels by name is explained by the fact that their death in a state of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 161–163

161. The original meaning of kufr is to conceal. This lent the word a nuance of denial and it began to be used as an antonym of iman . Iman means to believe, to accept, and to recognize. Kufr, on the contrary, denotes refusal to believe, to deny, to reject. According to the Qur'an there are several possible forms of disbelief. One is to refuse either to believe in the existence of God, to acknowledge His sovereignty, to recognize Him as the only Lord of the Universe and of mankind or to recognize Him as the only Lord and the only object of worship and adoration. The second form of disbelief…

Read the full tafseer →