Al-Baqara 2:160

Al-Baqara · from ayah 160

2:160

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ ۚ— وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۟اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا وَاَصۡلَحُوۡا وَبَيَّـنُوۡا فَاُولٰٓئِكَ اَ تُوۡبُ عَلَيۡهِمۡۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Except for those who repent and correct themselves and make evident [what they concealed]. Those - I will accept their repentance, and I am the Accepting of repentance, the Merciful.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 19 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:160

البتہ جو اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے، اُسے بیان کرنے لگیں، اُن کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم وکرم کرنے واﻻ ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر وہ جو توبہ کریں اور سنواریں اور ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مگر جو لوگ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں اور (حق کو) ظاہر کر دیں تو میں (بھی) انہیں معاف فرما دوں گا، اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور کھول کر بیان کردیا تو یہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

البتہ جن لوگوں نے (اس کام سے) توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی اور (جو بات چھپائی تھی اس کی) وضاحت کردی تو میں ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں ہر ایک کی توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور واضح طور پر بیان کردیا تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بجز ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی، (حق پوشی کے اس جرم میں) اور انہوں نے اصلاح کرلی (اپنے فساد و بگاڑ کی) اور انہوں نے بیان کردیا (چھپائے گئے حق کو) تو ایسوں کی توبہ میں (اپنے فضل و کرم سے) قبول کرلوں گا، اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، انتہائی مہربان ہوں،

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ جو لوگ توبہ کرلیں۔ اور درست ہوجائیں۔ اور ظاہر کردیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ میں ان پر متوجہ ہوجاؤں گا رحمت سے۔ اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا ہوں بڑا رحمت والا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

سوائے ان کے جو توبہ کریں اور اصلاح کرلیں اور (جو کچھ چھپاتے تھے اسے) واضح طور پر بیان کرنے لگیں تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں تو ہوں ہی توبہ کا قبول کرنے والا رحم فرمانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں ان کو میں معاف کر دوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

I, however, will forgive those of them who repent of it, mend their ways and make own what they were concealing: for I am very generous in accepting repentance and showing mercy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yet, those who repent and correct and declare (what they used to conceal) , their repentance is accepted by Me. I am the Most-Relenting, the Most-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Yet, those who repent and correct and declare (what they used to conceal) , their repentance is accepted by Me. I am the Most-Relenting, the Most-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Except those who repent and do righteous deeds, and openly declare (the truth which they concealed). These, I will accept their repentance. And I am the One Who accepts repentance, the Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Except those who repent and amend and make manifest (the truth). These it is toward whom I relent. I am the Relenting, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Except for those who repent and correct themselves and make evident [what they concealed]. Those - I will accept their repentance, and I am the Accepting of repentance, the Merciful.

— Saheeh International

However, I shall accept the repentance of those of them who repent for their sins, reform their manners, and preach the truth; I am All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Except those who repent and amend and make manifest (the truth), these it is to whom I turn (mercifully); and I am the Oft-returning (to mercy), the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Save those that repent and amend, and make manifest the truth I these it is toward whom I relent. And I am the Relenting, the Merciful!

— Abdul Majid Daryabadi

Except those who repent and make amends and openly declare (the Truth): To them I turn; for I am Oft-returning, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:160

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 159–163

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپالیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی ﷺ کو چھپالیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہےحضور ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی عمر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپالے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 159–160

سورة الْبَقَرَة 160 علمائے یہود کا سب سے بڑا قصور یہ تھا کہ انہوں نے کتاب اللہ کے علم کی اشاعت کرنے کے بجائے اس کو ربّیوں اور مذہبی پیشہ وروں کے ایک محدود طبقے میں مقید کر رکھا تھا اور عامّہء خلائق تو درکنار، خود یہود عوام تک کو اس کی ہوا نہ لگنے دیتے تھے۔ پھر جب عام جہالت کی وجہ سے ان کے اندر گمراہیاں پھیلیں، تو علما نے نہ صرف یہ کہ اصلاح کی کوئی کوشش نہ کی، بلکہ وہ عوام میں اپنی مقبولیّت برقرار رکھنے کے لیے ہر اس ضلالت اور بدعت کو، جس کا رواج عام ہوجاتا، اپنے قول و عمل سے یا اپنے سکوت سے الٹی سند جواز عطا کرنے لگے۔ اسی سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو کی جارہی ہے۔ دنیا کی ہدایت کا کام جس اُمّت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–160

ربط اوپر بحث قبلہ کے ضمن میں صاحب قبلہ کی نبوت کے متعلق اہل کتاب کی حق پوشی کا مضمون مذکور تھا اس آیت میں اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗا الی قولہ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ آگے اس مضمون کی تکمیل کے واسطے حق کو چھپانے والوں کی اور کتمانِ حق پر اصرار کرنے والوں کی وعید اور توبہ کرنے پر معافی کا وعدہ ارشاد فرماتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر جو لوگ اخفاء کرتے ہیں ان مضامین کا جن کو ہم نے نازل کیا ہے جو کہ (اپنی ذات میں) واضح ہیں اور (دوسروں کے لئے) ہادی ہیں (اور اخفاء بھی) اس (حالت) کے بعد کہ ہم ان (مضامین) کو کتاب (الہیٰ توراۃ و انجیل) میں (نازل فرما کر) عام لوگوں پر ظاہر کرچکے ہوں ایسے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توبہ کے لیے شرط : یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس لعنت سے محفوط رہیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس حق پوشی کے جرم سے توبہ کرلیں۔ اس توبہ کے ساتھ ـاصلحواـ کی شرط لگائی ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ توبہ اس وقت تک معتبر نہیں ہے جب تک آدمی اس غلطی کی اصلاح نہ کرے جس کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مزید شرط اس کے ساتھ“ بینوا ”کی لگائی۔ یہ موقع کی مناسبت سے ہے اور سابق الذکر“ اصلحوا ”کی وضاحت کر رہی ہے۔ یعنی آخری نبی سے متعلق تورات کے جن حقائق و بینات کو انہوں چھپایا ہے اس کو ظاہر کریں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ تک کم از کم یہود کے خواص اور علماء ان تحریفات سے بیخبر نہیں تھے جو حق پوشی کی سازش کے تحت کی گئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 159–160

159۔ 1 اللہ تعالیٰ نے جو باتیں اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہیں انہیں چھپانا اتنا بڑا جرم ہے کہ اللہ کے علاوہ دیگر لعنت کرنے والے بھی اس پر لعنت کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے جس سے کوئی ایسی بات پوچھی گئی جس کا اس کو علم تھا اور اس نے اسے چھپایا تو قیامت والے دن آگ کی لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 159–163

104: اشارہ ان یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں مذکور ان بشارتوں کو چھپاتے تھے جو آنحضرت ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی تھیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لعنت کا مفہوم ہے قہر وغضب سے دھتکارنا ۔ اللہ کی لعنت یہ ہوگی کہ وہ انہیں اپنی رحمت سے باہر نکال دے اور پھر ہر طرف سے لعنت کرنے والے ان کا پیچھا کررہے ہوں گے ۔ یو وہ درگاہ الٰہی سے بھی راندہ ہوں گے اور مسلمانوں کی طرف سے بھی دھتکارے جائیں گے ۔ إِلا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ” البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کروں گا۔ میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔ “ اس تنبیہ وتہدید کے باوجود قرآن کریم توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اگرچہ ان کی حق پوشی کے باعث آدمی گمراہی میں پڑگئے لیکن جب انہوں نے حق پوشی سے توبہ کر کے اظہار حق پوری طرح کردیا تو اب بجائے لعنت ہم ان پر رحمت نازل فرماتے ہیں کیونکہ ہم توّاب و رحیم ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 160–161

آیت 160 اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ ج میں اپنی نگاہ التفات ان کی طرف متوجہ کر دوں گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

199 صرف توبہ کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ ان کے اس کتمان حق سے جو بگاڑ پیدا ہوا تھا۔ اس کی انہیں اصلاح بھی کرنا ہوگی۔ پھر اپنی غلطی کا لوگوں کے سامنے برملا اعتراف بھی کریں تو صرف ایسے لوگوں کی اللہ توبہ قبول کرے گا ورنہ نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ ایک مصنف احکام الٰہی کی غلط تاویل کر کے اپنے ملحدانہ خیالات پر مشتمل ایک کتاب شائع کردیتا ہے، بعد میں توبہ کرلیتا ہے۔ لیکن اس کے جو ملحدانہ خیالات عوام میں پھیل چکے۔ جب تک وہ ان کی تردید میں اپنی دوسری کتاب لکھ کر اس پیدا شدہ بگاڑ کی اصلاح نہ کرے گا۔ اس کی توبہ قبول ہونے کی توقع نہ ہوگی اور یہی بینوا کا مفہوم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

579 (اپنے پچھلے جرائم سے) توبہ کرنے سے مراد ہے باز آنا، نادم ہونا، اور عزم ترک کے ساتھ عذر خواہی کرنا، 580 ۔ یعنی آئندہ کے لیے اپنی اصلاح حال کرلیں۔ 581 ۔ (اپنی آسمانی کتابوں کے ان مضامین کو جنہیں وہ اب تک چھپاتے رہے ہیں) یہاں مراد ہیں اسلام و پیغمبر اسلام سے متعلق پچھلے صحیفوں میں پیش خبریاں، خلاصہ یہ کہ یہ مجرم اگر ماضی پر نادم ہو کر اب بھی ایمان لے آئیں، اور تلافی مافات پر آمادہ ہوجائیں ، 582 ۔ یعنی یہ تائبین نہ صرف لعنت کی زد سے باہر ہوجاتے ہیں، بلکہ رحمت ومغفرت الہی کے ماتحت بھی آجاتے ہیں، البتہ جو لوگ اپنی انہی بدکرداریوں پر اصرار رکھتے ہیں، ان پر سزا بھی قائم رہتی ہے۔ واما الذین ماتوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 159–163

آیت نمبر 159 تا 163 ترجمہ : اور یہود کے بارے میں اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ (الآیۃ) نازل ہوئی، بلاشبہ وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی دلیلیوں اور ہدایت مثلاً آیت رجم اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپاتے ہیں باوجود یکہ ہم نے ان لوگوں کے لئے کتاب تورات میں بیان کردیا ہے یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے یعنی اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں (اور وہ) فرشتے اور مومنین ہیں یا ہر شئ جو ان کے لئے لعنت کی بددعاء کرتی ہے، مگر وہ لوگ کہ جنہوں نے توبہ کرلی، یعنی اس حرکت سے باز آگئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی اور جو انہوں نے چھپایا تھا اس کو ظاہر کردیا، یہ وہ لوگ ہیں کہ میں جن کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا ( مگر جن لوگوں نے توبہ کرلی) یعنی جن لوگوں نے علم کو چھپانے اور دیگر معاصی سے توبہ کرلی ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ وَاَصْلَحُوْا ( اور اصلاح کی) یعنی جو کچھ خرابی کی تھی اس کا تدارک کردیا۔ وَبَيَّنُوْا ( اور صاف صاف بیان کردیا) یعنی تورات میں جو کچھ ہے اس کو صاف صاف بیان کردیا۔ فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ( تو یہ لوگ ہیں جن کی توبہ میں قبول کروں گا) قبول توبہ سے مراد معاف کرنا ہے کیونکہ توبہ اگر بندہ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی گناہ سے باز رہنے کے ہیں اور گر اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہو تو سزا دینے سے رجوع فرمانا مراد ہوتا ہے۔ وَاَنَا التَّوَّاب الرَّحِيْمُ (…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(160) مگر جن حضرات نے یہودیت سے توبہ کی اور توحید کے قائل ہوگئے اور حضور اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف کو بیان کیا تو میں ایسے لوگوں کو معاف کروں گا اور میں توبہ کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہوں اور جو توبہ کے بعد مرے اس پر رحم کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 160–162

اس دائرۂ لعنت سے نکلنے کی صرف ایک صورت ہے کہ یہ لوگ اپنی سابقہ کوتاہیوں سے تائب ہوں اور ندہ لوگوں کے سامنے حق کو صاف طور پر بیان کریں (جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور صہیب ؓ نے کیا تھا) ، ورنہ جو لوگ اس حالت کفر میں مرگئے وہ ہمیشہ کے لیے لعنت میں گرفتار رہیں گے۔ اس آیت کی رو سے علماء کا اتفاق ہے کہ کفار پر نام لیے بغیر عام لعنت جائز ہے۔ اسی طرح جن کا کفر پر مرنا ثابت ہو ان پر بھی لعنت جائز ہے، البتہ کسی زندہ مسلم یا کافر پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں، کیونکہ کیا خبر اللہ تعالیٰ موت سے پہلے اسے توبہ کی توفیق دے دے، جیسا کہ ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ کو ایمان لانے کی توفیق عطا ہوگئی تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 160 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا الذین تابوا اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے والوں، اچھے اعمال کرنے والوں اور توبہ کی طرف لوٹنے والوں کی استثنا فرمائی۔ ہمارے علماء کے نزدیک توبہ میں صرف یہ کہنا (میں نے توبہ کی) کافی نہیں ہے حتیٰ کہ اس سے پہلے قول و عمل کے خلاف دوسرا قول و فعل ظاہر ہوا گروہ مرتد تھا تو وہ اسلام کی طرف ٹوٹ آئے۔ شرائع اسلام کو ظاہر کرنے والا ہو۔ اگر وہ گنہگاروں سے ہو تو اس سے نیک عمل ظاہر ہو اور اہل فساد اور ان احوال سے کنارہ کش ہو جس پر پہلے وہ تھا اگر وہ بت پرستوں میں سے تھا تو وہ بت پرستوں سے علیحدہ ہوجائے اور اہل اسلام سے مل جائے۔ اسی طرح پہلے جس حالت پر تھا اس کا عکس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 159–160

(1) ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے پوچھا جو نبو سلمہ کے بھائی ہیں اور سعد بن معاذ ؓ نے جو بنو اشہل کے بھائ ہیں اور خارجہ بن زید ؓ نے جو حرث بن خزرج کے بھائی ہیں۔ انہوں نے یہود کے بڑے علماء کی ایک جماعت سے بعض وہ مسائل پوچھے جو تورات میں تھے انہوں نے ان مسائل کو چھپا دیا اور ان کے بتانے سے انکار کردیا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ سے مراد اہل کتاب ہیں۔ (3)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِلَّا الَّذِیْنَ : سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ] [ تَابُوْا : توبہ کی ] [ وَاَصْلَحُوْا : اور اصلاح کی ] [ وَبَــیَّنُوْا : اور واضح کیا ] [ فَاُولٰٓـئِکَ : تو وہ لوگ ہیں ] [ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ : میں توبہ قبول کرتا ہوں جن کی ] [ وَاَنَا : اور میں ] [ التَّوَّابُ : بار بار توبہ قبول کرنے والا ہوں ] [ الرَّحِیْمُ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہوں ] ترکیب : ” اِلاَّ “ حرفِ استثنائ۔ ” الَّذِیْنَ “ اسم موصول ۔” تَابُوْا “ فعل۔ ” واؤ“ ضمیر فاعل۔ جملہ فعلیہ ہو کر معطوف علیہ۔” واؤ“ حرف عطف۔ ” اَصْلَحُوْا “۔ فعل فاعل جملہ فعلیہ ہو کر معطوف اوّل ۔” واؤ“ حرفِ عطف ۔” بَیَّنُوْا “ فعل +فاعل جملہ فعلیہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حق چھپانے اور گمراہ کرنے والوں کی توبہ کی شرائط : صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا ای رجعوا عن الکتمان أوعنہ و عن سائر ما یجب أن یتاب عنہ۔ (ص 28 ج 2) (یعنی وہ لوگ لعنت سے بچ جائیں گے جنہوں نے علم کے چھپانے سے اور ہر اس عمل سے توبہ کی جس سے توبہ کرنا لازم ہے) ۔ پھر فرمایا وَ اَصْلَحُوْا۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : اصلحوا ما افسدوا بالتدارک فیما یتعلق بحقوق الحق والخلق و من ذلک أن یصلحوا قومھم بالارشاد الی الاسلام بعد الاضلال وان یزیلوا الکلام المحرف ویکتبوا مکانہ ما کانوا ازالوہ عنہ التحریف۔ ” یعنی توبہ کرنے کے ساتھ اصلاح بھی کریں، جو فساد کیا تھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–162

رجوع بخطاب یہود وعید برکتمان حق وحجود۔ قال تعالی، ان الذین یکتمون ماانزلنا۔۔ الی۔۔۔ ینظرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیات میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ یہود حق کو جانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر باوجود جاننے کے حق کو چھپاتے ہیں کماقال تعالی، الذین آتینھم الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔ یعلمون۔ اب اس آیت میں اس کتمان حق پر وعید ذکر فرماتے ہیں اور توبہ کرنے والوں کے لیے عفو اور رحمت کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق جو لوگ خوب جانتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی شائر اللہ میں سے ہیں اور حضرت ہاجرہ کے وقت سے برابر چلی آرہی ہیں مگر باوجود اس کے یہ لوگ ان مضامین کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل کیا اور جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

294 یہ ماقبل سے استثناء ہے اور تَابُواْ سے مراد یہ ہے کہ امر قبلہ اور صفا ومروہ کے معاملہ میں انہوں نے حق بات چھپانے سے توبہ کرلی اور اصلحوا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اصلاح کرلی اور حق بات کو مان لیا اور بینوا سے مراد یہ ہے کہ جس حق کو چھپاتے رہے یعنی امر قبلہ اور معاملہ صفا ومروہ۔ اب اسے خوب بیان کیا اور اس کی خوب اشاعت کی۔ فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۔ یعنی میں ایسی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں۔ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ ۔ اور نہ صرف توبہ ہی قبول کرتا ہوں بلکہ پچھلے گناہ معاف کر کے اس کو اپنی رحمت میں لے لیتا ہوں یہ تو ان علماء کا حکم تھا جو تحویل قبلہ اور صفا ومروہ کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 159–163

کتمان حق گزشتہ آیات میں تہذیب الاخلاق کے پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں۔ سابقہ درس میں منجملہ ان کے تعظیم شعائر اللہ کا ذکر تھا۔ تہذیب نفس کے جملہ مسائل جس بات پر متفرع ہوتے ہیں ، وہ مسئلہ توحید ہے۔ اس درس میں اسی مسئلہ کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے پہلے مسئلہ کتمان حق کا بیان ہے۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں ذکر ہوچکا ہے۔ یہودیوں میں کتما حق کی بیماری بدرجہ اتم موجود تھی۔ پہلی آیات میں آ چکا ہے ” وتکتموالحق وانتم تعلمون “ یعنی اے اہل کتاب تم جان بوجھ کر حق کو چھپاتے ہو۔ سای طرح تحویل قبلہ کے متعلق فرمایا یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم “ یعنی یہ لوگ اس حقیقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنی اولدا کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْہِمْ۝ 0 ۚ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝ 160 توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 160–162

ترکیب : الذین موصول یکتمون فعل بافاعل ما انزلنا اس کا مفعول من البینت والہدٰی بیان ما من بعد ما متعلق ہے یکتمون سے فی الکتاب متعلق ہے بیناہ سے یہ سب مجموعہ صلہ ہوا۔ پھر موصول وصلہ اسم ان اور اولئک مبتدا یلعنہم الخ جملہ اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے۔ ان کی الا الذین الخ استثناء متصل موضع نصب میں ہے اور مستثنیٰ منہ ضمیر ہے یلعنہم میں الذین کفروا الخ اسم ان اولئک مبتداء علیہم لعنۃ اللہ الخ خبر جملہ خبران خالدین حال سے ضمیر علیہم سے اور لایخفف حال ہے ضمیر خالدین سے۔ تفسیر : اول تحویل قبلہ کے بارے میں گفتگو تھی اور اس کے ضمن میں کعبہ کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کے شکوک و شبہات کا جواب تھا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البتہ ! جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگے تو میں ان کی توبہ قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں) (البقرۃ : 160) توبہ کے لیے شرط اللہ تعالیٰ کی طرف سے برستی ہوئی لعنت سے صرف وہ لوگ محفوظ رہیں گے، جو عذاب کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیں گے اور توبہ بھی محض ارادہ اور خیال کی حد تک نہیں بلکہ اپنی اصلاح بھی کریں گے اور آج تک کتمانِ حق کا جو جرم کرتے رہے ہیں اس کی تلافی کی کوشش بھی کریں گے۔ ان کی حرکتوں نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 159–160

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب نے رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے اوصاف اور بیت اللہ کے قبلۂ حق ہونے کو لوگوں سے چھپا رکھا تھا ‘ جس پر حق چھپانے کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا ہی انکار نہیں کیا بلکہ ہر اس نشانی کو چھپانے اور مٹانے کی کوشش کی جس سے آپ کی رسالت کی نشاندہی ہوتی تھی۔ ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ نے بےقراری کے عالم میں صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگائے تھے لیکن یہود و نصارٰی نے تاریخ کے اس اہم ترین حصّہ کو اپنی کتابوں سے نکال باہر کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان مقامات کو شعائر اللہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نازل…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 160: اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓپکَ اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ : ( مگر جن لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور صاف صاف بیان کردیا۔ پس یہ لوگ ہیں جن کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں توبہ کا بڑا قبول کرنے والا مہربان ہوں) تابوامگر جن لوگوں نے کتمان حق اور ترک ایمان سے توبہ کی۔ اور اصلحوا اور اصلاح کرلی اس خرابی کی جو کر بیٹھے تھے اور جو زیادتی ہوئی تھی اس کا تدارک کرلیا۔ اولٰٓپک اتوب علیہم۔ ان کی توبہ میں قبول کروں گا اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

160۔ (آیت)” الا الذین تابوا “ کفر سے (توبہ کی) (آیت)” واصلحوا “ اسلام لائے یا ان اعمال کی اصلاح کی جن کا تعلق ان بندوں اور ان کے رب کے درمیان ہے ” وبینوا “ جو کچھ انہوں نے چھپایا تھا (اسے بیان کیا) (آیت)” فاولئک اتوب علیھم “ ” جنہوں نے اپنی جانوں پر گناہ کرکے ظلم کیا پھر انہوں نے توبہ کی توبہ قبول کروں گا ۔ (آیت)” وانا التواب “ میں اپنے ان بندوں کے دلوں کو اپنی طرف پھیرنے والا ہوں ” الرحیم “ ان کے ساتھ (رحم کا معاملہ کرنے والا ہوں) جب وہ میری طرف متوجہ ہوں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 159–162

(159 ۔ 162) ۔ یہ آیت ان اہل کتاب کی شان میں ہے جنہوں نے تورات و انجیل کی آیتیں چھپائی اور نبی آخر الزمان کی نشانیوں اور صفتوں کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا اب ان میں سے جو لوگ اس حال پر بغیر توبہ کے مرگئے فرمایا وہ تو ملعون ہیں ہاں جنہوں نے توبہ کرلی ان کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی حدیث میں آیا ہے کہ عالم کے حق میں زمین و آسمان اور ملائکہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں 1۔ یہ اس لئے ہے کہ عالم علم پڑھ کر خود بھی راستہ پر آئے گا۔ اور لوگوں کو بھی نیک راہ سکھائے گا۔ جس عالم نے علم پڑھ کر پھر جاہلوں کے سے کام کئے اور اسی حال میں بغیر توبہ کے مرگیا تو یہی مخلوق اللہ کی اس پر لعنت کرے گی کیوں کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 159–162

یہ آیت کریمہ اگرچہ اہل کتاب کے بارے میں اور اس کی بابت نازل ہوئی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صفات کو چھپایا مگر اس کا حکم ہر اس شخص کے لئے عام ہے جو ان حقائق کو چھپاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں (آیت) مِنَ الْبَيِّنٰتِ ” دلائل “ یعنی حق پر دلالت کرنے والی اور اس کو ظاہر کرنے والی باتیں (آیت) وَالْهُدٰى. ھدی وہ علم ہے جس کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کی جاتی ہے اور جس سے اہل جنت اور اہل جہنم کے راستوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل علم سے وعدہ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اللہ کا جو علم عطا کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے ہرگز نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : الا الذین تابو واصلحو وبینوا ( البتہ جو لوگ اس روش سے باز آ جائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے ہیں ( اسے بیان کرنے لگیں) یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ کتمان علم سے توبہ صرف اظہار بیان کے ذریعے ہوسکتی ہے اور توبہ کے لیے اتنی بات کافی نہیں ہے کہ ماضی میں کتمان پر ندامت کا اظہار کردیاجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 160–162

433 اللہ تعالیٰ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے : اور اتنا بڑا کہ سچی توبہ پر وہ زندگی بھر کے گناہوں کو یکسر معاف کردیتا ہے، خواہ وہ کتنے ہی بڑے اور کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، جیسا کہ صحیح حدیث قدسی میں فرمایا گیا کہ ابن آدم اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں کو بھی چھو رہے ہوں، اور تو سچے دل سے توبہ کرے تو میں وہ سب معاف کر دونگا، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی، ابن آدم ! اگر تو روئے زمین کے برابر بھی گناہ لے کر آئے تو میں (سچی توبہ پر) تجھے اسی کے برابر بخشش سے نواز دونگا، البتہ یہ شرط ضرور ہے کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو { اَلَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْئًا } سبحان اللہ ! کیا کہنے اس شان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 159–160

اللہ کی لعنت، توبہ کی شرائط تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حق اور کتاب اللہ کی تعلیمات کو چھپانے والے سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے جس طرح علماء یہود کی کتاب میں جو ہدایات انسان کی بہتری کے لئے دی گئیں تھیں وہ لوگوں سے چھپادی گئیں بلکہ لوگوں کو اپنے مفاد کی خاطر ایسی غلط راہیں بھی دکھائی گئیں جو سوائے گمراہی کے اور کچھ فائدہ نہ دیتی تھیں۔ اسی برائی سے بچنے کی تاکید مسلمانوں کو بھی کی جارہی ہے کہ ہر وہ بات یا علم جو تمہیں قرآن کی بدولت مل چکا ہے اس کو مت چھپاؤ، بلکہ اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلاؤ، کیونکہ چھپانے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ لعنت کا مطلب ہے رحمت الٰہی سے محرومی ایسے شخص پر اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 153–163

آیات 153- 163 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔ نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے : ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 160–163

ف 4 اوپر کی آیت میں کتمان حق پر وعید فرمائی ہے۔ اب اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ سب سے پہلے جس چیز کا اظہار ضروری ہے وہ مسئلہ توحید ہے۔ قرطبی ) ۔ ( نیز دیکھئے آل عمران آیت 1)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 160–161

(2:160) الا الذین ۔۔ الخ استثناء متصل ہے اور ضمیر ہم (جو یلعنم میں ہے) مستثنی، منہ ہے۔ تابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ توبۃ (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے توبہ کی۔ وہ باز آگئے۔ جب توبۃ کا تعدیہ الیٰ کے ذریعہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ اور جب تعدیہ علی سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی آتے ہیں۔ بندہ کا توبہ کرنا۔ معصیت کے بعد اسے چھوڑ کر نیکی اور اطاعت کی طرف واپس آنا ہے۔ اصلحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اصلاح (افعال) مصدر انہوں نے اپنی اصلاح کی۔ وہ سنور گئے انہوں نے اپنے کام کو درست کیا۔ انہوں نے نیک کام کئے۔ بینوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بتیین (تفعیل) مصدر انہوں نے بیان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 158–163

لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163 شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 158–161

شان نزول : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عبادات کو حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں ، صفامروہ کا دوڑنا بھی انہی میں سے ہے ۔ کیونکہ حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑوں کے مابین زمزم کا چشمہ نکلنے سے پہلے دوڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو حج کی عبادات میں داخل کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 159–162

[105] یعنی جن و انس و ملائکہ بلکہ تمام حیوانات کیونکہ حق کو چھپانے کے وبال میں دنیا کے اندر قحط، وبا اور طرح طرح کی بلائیں پھیلتی ہیں تو حیوانات تک کو تکلیف ہوتی ہے اور سب ان پر لعنت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) خدا تعالیٰ کی جہاں اور صفات حسنہ ہیں ‘ وہاں اس کا تواب ورحیم ہونا بھی ایک صفت ہے یعنی وہ ہمارے گناہوں کی توبہ ‘ گناہوں سے کامل نفرت کے بعد بخش دیتا ہے ، ان آیات میں یہودیوں کو دعوت استغفار ہے کہ وہ اگر سچے دل سے اپنی بداعمالیوں کا اقرار کرلیں اور آئندہ کے لئے اصلاح کرلیں اور پھر اپنی تمام شرارتیں جو انہوں نے کتاب کی تحریف کے سلسلہ میں کی ہیں ۔ ظاہر بھی کردیں تو اللہ انہیں اپنی آغوش رحمت میں لے لے گا اور ان کے گناہ معاف کر دے گا ۔ اس لئے کہ گناہ کرنے سے خدا کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور نہ سعی کرنے سے اس کی خدائی میں کچھ اضافہ ہوتا ہے ، یہ سب اعمال تو انسان کی اپنی اصلاح کے لئے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 159–162

ف 1 یقیناً جو لوگ ان مضامین اور احکام کو چھپاتے ہیں جن کو ہم نے نازل فرمایا ہے اور وہ احکام صاف و واضح ہیں اور وہ مضامین و احکام صحیح راستہ دکھانے والے ہیں اور یہ لوگ ان مضامین کا اخفا بھی اس کے بعد کرتے ہیں جبکہ ہم عام لوگوں کیلئے ان کو خوب کھول کر کتب سماویہ میں بیان کرچکے ہیں۔ اس صراحت و وضاحت کے باوجود جو بدبخت ان مضامین و احکام کو چھپاتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ بھی لعنت فرماتا ہے اور لعنت کرنیوالے بھی ایسوں پر لعنت بھیجتے ہیں مگر ہاں وہ حضرات اس لعنت سے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو اس قسم کے جرم سے رجوع کرلیں اور تائب ہوجائیں اور اپنے اس فعل کی تلافی کردیں اور حق بات کو ظاہر کردیں تو میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 159–162

ف 1۔ اس آیت میں کتمان حق پر جو وعید مذکور ہوئی ہے کہ ہرچند کہ ہر امرحق کے باب میں لفظا عام ہے لیکن بقرینہ جملہ یعرفونہ کمایعرفون ابناءھم باقتضا خصوصیت مقام زیادہ مقصود بالنفل مسئلہ رسالت محمدیہ علی صاحبھا الف الف سلام ہے۔ پس اس لحاظ سے اس آیت میں اثبات ہوا مسئلہ رسالت کا چونکہ اعتقاد و توحید اور اعتقاد رسالت دونوں اعتبار شرع میں متلازم ہیں اس لیے آیت آئندہ میں مسئلہ توحید کی تقریر فرمائی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فساد کی اصلاح کریں جو چھپایا ہے ظاہر کردیں تو یہ ان کی تو بہ ہوگی : 284: توبہ کرنے سے مراد ہے باز آنا۔ نادم ہونا اور عزم و ارادہ کو ترک کرکے فساد کی اصلاح کرلینا اپنی آسمانی کتابوں کے ان مضامین کو جنہیں وہ اب تک چھپاتے رہے تھے ظاہر کردینا یعنی وہ پیشگوئیاں جو رسول عربی ﷺ کے متعلق ان کی آسمانی کتابوں میں موجود ہیں اور وہ جان بوجھ کر ان کو چھپائے ہوئے ہیں ان کو ظاہر کردیں تو یقیناً تلافی ہوجائے گی ۔ اور یہ تائبین لعنت الٰہی کی زد سے نکل جائیں گے بلکہ رحمت ومغفرت الٰہی کے ماتحت بھی آجائیں گے۔ توبہ اور قبول توبہ کا بیان قرآن کریم میں بار بار آتا رہتا ہے ۔ اس جگہ توبہ کے ساتھ قید کی اصلاح اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 159–160

As part of the debated issue of Qiblah قبلہ several verses earlier, the text has pointed out how the people of the Book went about concealing the truth concerning the prophethood of the Holy Prophet for whom the Ka'bah کعبہ was appointed as the Qiblah قبلہ . It was Verse 146, where it was said: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِ‌فُونَهُ كَمَا يَعْرِ‌فُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِ‌يقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿146﴾ "Those whom We have given the Book recognize him (The Holy Prophet) as they recognize their own sons. And, in fact, a group of them does…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 159–160

160. The biggest failure of the Jews was that they kept the teachings contained in the Book of God confined to a limited class of people, the rabbis and professional theologians, instead of spreading them. They did not allow this knowledge to filter through even to the Jewish masses let alone the non-Jewish peoples of the world. Later, when errors and corruptions spread among them owing to widespread ignorance the Jewsish theologians made no serious effort to root them out. Moreover, in order to maintain their hold on the Jewish masses they lent their tacit approval to every corrupting…

Read the full tafseer →