ٹھوس دلائل
مطلب یہ ہے کہ اس اللہ کی فرماں روائی اور اس کی توحید کی دلیل ایک تو یہ آسمان ہے جس کی بلندی لطافت کشادگی جس کے ٹھہرے ہوئے اور چلتے پھرتے والے روشن ستارے تم دیکھ رہے ہو، پھر زمین کی پیدائش جو کثیف چیز ہے جو تمہارے قدموں تلے بچھی ہوئی ہے، جس میں بلند بلند چوٹیوں کے سر بہ فلک پہاڑ ہیں جس میں موجیں مارنے والے بےپایاں سمندر ہیں جس میں انواع واقسام کے خوش رنگ بیل بوٹے ہیں جس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے جس میں تم رہتے سہتے ہو اور اپنی مرضی کے مطابق آرام دہ مکانات بنا کر بستے ہو اور جس سے سینکڑوں طرح کا نفع اٹھاتے ہو، پھر رات دن کا آنا جانا رات گئی دن گیا رات آگئی۔ نہ وہ اس پر سبقت کرے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 162
یعنی اگر انسان کائنات کے اس کارخانے کو، جو شب و روز اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، محض جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ عقل سے کام لے کر اس نظام پر غور کرے، اور ضد یا تعصّب سے آزاد ہو کر سوچے، تو یہ آثار جو اس کے مشاہدے میں آرہے ہیں اس نتیجے پر پہنچانے کے لیے بالکل کافی ہیں کہ یہ عظیم الشان نظام ایک ہی قادر مطلق حکیم کے زیر فرمان ہے، تمام اختیار و اقتدار بالکل اسی ایک کے ہاتھ میں ہے، کسی دوسرے کی خود مختارانہ مداخلت یا مشارکت کے لیے اس نظام میں ذرہ برابر کوئی گنجائش نہیں، لہٰذا فی الحقیقت وہی ایک خدا تمام موجودات عالم کا خدا ہے، اس کے سوا کوئی ہستی کسی قسم کے اختیارات رکھتی…
Read the full tafseer →اس کے بعد حق تعالیٰ کے واحد حقیقی ہونے پر تکوینی علامات و دلائل بتلائے گئے ہیں جن کو ہر عالم و جاہل سمجھ سکتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق اور رات دن کے دائمی انقلاب اس کی قدرت کاملہ اور توحید کے واضح دلائل ہیں کہ ان چیزوں کی پیدائش اور بقاء میں کسی دوسری ہستی کا کوئی دخل نہیں۔
اسی طرح پانی پر کشتیوں کا چلنا ایک بڑی آیت قدرت ہے کہ پانی کو حق تعالیٰ نے ایسا جوہر سیال بنادیا کہ رقیق اور سیال ہونے کے باوجود اس کی پیٹھ پر لاکھوں من وزن کے جہاز بڑے بڑے وزن کو لے کر مشرق سے مغرب تک منتقل کردیتے ہیں اور ان کو حرکت میں لانے کے لئے ہواؤں کا چلانا اور پھر اپنی حکمت کے ساتھ ان کے رخ بدلتے رہنا یہ سب اس…
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف ایک جامع اشارہ : آسمان اور زمین کی خلقت سے مراد ان کی وہ پیدائش بھی ہے جس سے خالق کی عظیم قدرت واضح ہوتی ہے، ان کی وہ ساخت بھی ہے جس سے اس کی بےمثال کاریگری اور حیرت میں ڈال دینے والی حکمت کی شہادت ملتی ہے، ان کی وہ نفع رسانی اور فیض بخشی بھی ہے جس سے خالق کی رحمانیت اور رحیمیت اور پروردگاری ثابت ہوتی ہے، وہ مقصدیت بھی ہے جو گواہی دیتی ہے کہ اتنی حکمتوں سے یہ معمور کارخانہ عبث اور بےغایت نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم مقصد ہے جس کے ظہور کے لیے ایک دن مقرر ہے، اور ان کی وہ موافقت اور ساز گاری بھی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خالق کے ارادہ…
Read the full tafseer →164۔ 1 یہ آیت اس لحاظ سے بڑی جامع ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے نظم و تدبیر کے متعلق سات اہم امور کا اس میں یکجا تذکرہ ہے، جو کسی آیت میں نہیں 1۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، جن کی وسعت و عظمت محتاج بیان نہیں۔ 2۔ رات اور دن کا یکے بعد دیگرے آنا، دن کو روشنی اور رات کو اندھیرا کردینا تاکہ کاروبار معاش بھی ہو سکے اور آرام بھی۔ پھر رات کا لمبا اور دن کا چھوٹا ہونا اور پھر اس کے برعکس دن کا لمبا اور رات کا چھوٹا ہونا۔ 3۔ سمندر میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، جن کے ذریعے سے تجارتی سفر بھی ہوتے ہیں اور ٹنوں کے حساب سے سامان رزق و آسائش ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے۔ 4۔ بارش جو زمین کی شادابی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–167
105: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ کائنات کے ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پھیلے پڑے ہیں اور اگر ان پر معقولیت کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں ؛ چونکہ روز مرہ ان کو دیکھتے دیکھتے ہماری نگاہیں ان کی عادی ہوگئی ہیں، اس لئے ان میں کوئی حیرت کی بات ہمیں محسوس نہیں ہوتی ورنہ ان میں سے ایک ایک چیز ایسے محیرالعقول نظام کا حصہ ہے جس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے سوا کائنات کی کسی طاقت کے بس میں نہیں ہے، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات جس طرح کام کررہی ہیں، چاند اور سورج جس طرح ایک لگے بندھے نظام الاوقات کے تحت دن…
Read the full tafseer →اسی طرح پوری کائنات اور اس کی ہرگز رگاہ اللہ کی رحمت اور اس کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔
احساس و شعور کو بیدار کرنے کے لئے یہ بالکل ایک نیا انداز ہے ۔ اس کے ذریعے عجائبات دنیا کے نظاروں اور کائنات کے گہرے مطالعہ سے قلب ونظر کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔ اس کائنات کے عجائب سے چونکہ ہم مانوس ہوچکے ہیں ، رات دن انہیں دیکھتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ان کی جدت وندرت ، احساس و شعور پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ کائنات انسان کے لئے ایک معمولی چیز بن گئی ہے ۔ اس لئے انسان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دفعہ لوٹ کر ، کھلی آنکھوں کے ساتھ ، تیز احساس کے ساتھ اور زندہ دل کے ساتھ ، اس کائنات پر یوں نظر ڈالے جیسے وہ اسے پہلی…
Read the full tafseer →1 یعنی آسمان کے اس قدر وسیع اور اونچا اور بےستون پیدا کرنے میں اور زمین کے اتنی وسیع اور مضبوط پیدا کرنے اور اس کے پانی پر پھیلانے میں اور رات اور دن کے بدلتے رہنے اور ان کے گھٹانے اور بڑھانے میں اور کشتیوں کے دریا میں چلنے اور آسمان سے پانی برسانے اور اس سے زمین کو سرسبز و ترو تازہ کرنے میں جملہ حیوانات میں اس سے توالد و تناسل نشوونما ہونے میں اور جہات مختلفہ سے ہواؤں کے چلانے میں اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں معلق کرنے میں دلائل عظیمہ اور کثیرہ ہیں حق تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت اور حکمت اور رحمت پر ان کے لئے جو صاحب عقل اور فکر ہیں۔
فائدہ : لَااِلٰہَ اِلّا ھُوَ میں توحید ذات کا اور…
Read the full tafseer →اب جو آیت آرہی ہے اس کے مطالعہ سے پہلے ایک بات سمجھ لیجیے کہ سورة البقرۃ کا نصف ثانی جو بائیس رکوعوں پر مشتمل ہے اور جس کا آغاز انیسویں رکوع سے ہوا ہے ‘ اس میں ترتیب کیا ہے۔ سورة البقرۃ کے پہلے اٹھارہ رکوعوں کی تقسیم عمودی verticle ہے۔ یعنی چار رکوع ادھر ‘ دس درمیان میں ‘ پھر چار ادھر۔ لیکن انیسویں رکوع سے اب افقی horizontal تقسیم کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس حصے ّ میں چار مضامین تانے بانے کی طرح بنے ہوئے ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ چار لڑیاں ہیں جن کو بٹ کر رسّی بنا دیا گیا ہے۔ ان چار میں سے دو لڑیاں تو شریعت کی ہیں ‘ جن میں سے ایک عبادات کی اور دوسری احکام و شرائع کی ہے کہ یہ واجب ہے ‘ یہ کرنا ہے ‘ یہ…
Read the full tafseer →202 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غور و فکر کرنے والوں کے لیے آٹھ ایسے امور کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود پر اور اس کی لامحدود قدرت و تصرف پر واضح دلائل ہیں۔ مثلاً اتنے عظیم الشان آسمان کو بغیر ستونوں کے پیدا کرنا اور زمین کو اس طرح بنانا کہ اس پر بسنے والی تمام مخلوق کی ضروریات کی کفیل ہے۔ دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا اور ان کے اوقات کا گھٹنا بڑھنا، جہازوں کا بڑے بڑے مہیب اور متلاطم سمندروں میں رواں ہونا آسمان سے بارش برسانا جس سے مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے۔ ہر جاندار میں توالدو تناسل کا سلسلہ قائم کرنا انہیں تمام روئے زمین پر پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ میں تبدیلی پیدا کرنا اور بلندیوں…
Read the full tafseer →589 ۔ (اللہ کی حکمت و ربوبیت، قدرت، صناعی اور اس کی فردیت کی) زمین و آسمان کے یہ سارے کارخانے، جو دنیا کے ہر طلسم سے بڑھ کر حیرت انگیز اور انسانی سائنس کے ہر شعبہ سے عجیب تر ہیں، بجائے خود اس کی دلیل ہیں کہ نہ یہ اپنے آپ وجود میں آسکتے ہیں، نہ باقی رہ سکتے ہیں، جب تک کوئی صاحب شعور، صاحب ارادہ، قادر مطلق ہستی ان کی صانع و خالق نہ ہو، ان سارے مظاہر فطرت کا تسلسل و استمرار، ان کی یکرنگی وباقاعدگی، ان کا نظم اوانضباط، ہر عقل سلیم کو مجبور کررہے ہیں کہ ان کے عقب میں ایک ذی اختیار فعال کا ہاتھ تسلیم کیا جائے۔۔ اسی عقل سلیم کو جو ایک معمولی سی گھڑی کو بھی بغیر کسی ماہر فن اور صناع گھڑی ساز کے تسلیم…
Read the full tafseer →آیت نمبر 164 تا 167
ترجمہ : اور مشرکین نے جب اس پر دلیل کا مطالبہ کیا تو یہ آیت ان خلق السماوات الخ اتری بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی ساخت آسمانوں اور زمین کی ساخت میں اور ان کے عجائبات میں اور رات و دن کی آمدورفت اور بڑھنے گھٹنے کے ذریعہ تغیر میں اور ان کشتیوں میں جو دریاؤں میں لوگوں کے لئے نفع بخش سامان تجارت اور بوجھ لے کر چلتی ہیں، اور بوجھل ہونے کے باوجود ڑوبتی نہیں ہیں اور اس پانی میں جسے آسمان سے بارش کی شکل میں اللہ نے برسایا ہے پھر اس پانی سے نباتات کے ذریعہ مردہ یعنی خشک زمین کو زندہ کیا اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلایا اس لئے کہ ان کا نشو و نما اس سبزے سے ہوتا ہے جو پانی سے پیدا…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں) اور ان اشیاء میں جو ان میں ہیں جیسے سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ، درخت، نہریں، جواہر، نباتات، حیوانات اور زمین کے حصوں کا مختلف ہونا کوئی سرد ہے اور کوئی گرم ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے بسند معتبر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ کوہ صفا کو سونا بنا دے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے اپنے دشمن پر غالب رہیں اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں ان کی یہ درخواست پوری کردوں گا لیکن اس کے بعد بھی اگر انہوں نے کفر کیا تو میں انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کروں گا کہ پھر…
Read the full tafseer →(164) ان دونوں چیزوں کی پیدائش میں یہ تفسیر کی گئی ہے کہ ان دونوں یعنی زمین و آسمان میں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان کے لیے بھی شفیق اور مہربان ہے۔
اور رات دن کو تبدیل اور ان کی کمی وبیشی میں اور کشتیوں میں جو لوگوں کی معاشی وزندگی کے لیے چلتی ہیں اور اس چیز میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے بارش برسائی ہے اور پھر قحط سالی اور زمین کے خشک ہونے کے بعد پھر اس بارش سے سبزہ پیدا کرنے میں۔
اور پھر اس زمین میں ہر طرح کے جانور نر و مادہ پیدا کیے اور ہواؤں کی دائیں بائیں، آگے پیچھے تبدیلی میں اور کبھی رحمت کا باعث اور کبھی عذاب کا باعث کرنے میں اور لٹکے ہوئے بادلوں میں، ان تمام چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے الٰہ واحد (ایک معبود) ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں اس کے ایک ہونے کے دلائل کا بیان ہے۔ قرآن نے ان آٹھ چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے ایک ہونے کے ثبوت میں کئی جگہ الگ الگ ذکر فرمایا ہے، مگر یہاں ان سب کو جمع کردیا ہے۔ کائنات کی ان چیزوں کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق خود مشرکین بھی مانتے تھے کہ ان کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ (کبیر)
مفسر قرآن امین شنقیطی ؓ نے فرمایا ہے کہ یہاں آسمان و زمین کی پیدائش میں توحید کی نشانی ہونے کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، دوسرے مقامات پر تفصیل موجود ہے، مثلاً دیکھیے سورة ق (6…
Read the full tafseer →آیت نمبر 164
اس میں چودہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: عطا نے کہا : جب والھکم الہ واحد کا ارشاد نازل ہوا تو کفار قریش نے کہا : ایک خدا سب لوگوں کی باتیں کیسے سنتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی ان فی خلق السموت والارض یہ سفیان نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو الضحی سے روایت کیا ہے فرمایا : جب والھکم الہ واحد کا ارشاد نازل ہوا تو انہوں نے کہا اس پر کوئی دلیل بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان فی خلق السموت والارض، گویا انہوں نے نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے توحید کی دلیل بیان فرمائی کہ یہ عالم اور اس کی عجیب تخلیق کا ضرور کوئی بانی اور صانع ہے۔ اور سموت کو جمع ذکر فرمایا کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی تخلیق میں نشانی قدرت
(1) ابن ابی حاتم و ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے صفا (پہاڑ) کو سونے کا بنا دے تاکہ ہم اس کے ذریعہ اپنے دشمنوں سے قوت حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی میں ان کو یہ چیز عطا کروں اور ان کے لئے صفا کو سونے کا بنا دوں گا۔ اور اگر اس کے بعد انہوں نے کفر کیا تو ایسا عذاب دوں گا کہ جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دوں گا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا اے میرے رب ! مجھ کو اور میری قوم کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے میں ان کو ہر روز بلاتا رہوں گا (پھر)…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں ] [ وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّھَارِ : اور دن اور رات کے اختلاف میں ] [ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ : اور کشتی میں جو ] [ تَجْرِیْ : چلتی ہے ] [ فِی الْبَحْرِ : سمندر میں ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جو ] [ یَنْفَعُ : فائدہ دیتا ہے ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ وَمَآ : اور اس میں جو ] [ اَنْزَلَ : اُتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنَ السَّمَآئِ : آسمان سے ] [ مِنْ مَّآئٍ : کچھ پانی میں سے ] [ فَاَحْیَا : پھر اس نے زندہ کیا ] [ بِہِ : اس سے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ بَعْدَ مَوْتِھَا : اس کی موت کے بعد ] [ وَبَثَّ :…
Read the full tafseer →توحید کے دلائل کا بیان
تفسیر در منثور ص 163 ج 1 میں ہے کہ جب آیت (وَ اِلٰھُکُمْ الہٌ وَّاحِدٌ) نازل ہوئی تو مشرکین کو تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہی ہے۔ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی نشانی دکھائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے خالق ومالک ہونے کا اور کائنات میں تصرف فرمانے کا تذکرہ فرمایا۔ مشرک بھی جانتے ہیں کہ یہ تصرفات اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ سمجھ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور حضرت عطاء سے منقول ہے کہ جب مدینہ منورہ میں آیت کریمہ (وَ اِلٰھُکُمْ الہٌ وَّاحِدٌ) نازل ہوئی تو مکہ میں کفار قریش نے کہا کہ…
Read the full tafseer →دلائل توحید۔
ان فی خلق السماوات۔۔۔ الی۔۔۔ یعقلون۔
ربط) ۔ جب آیت والھکم الہ واحد۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے تعجب سے کہا کہ کیا سارے جہان کا ایک ہی خدا ہے اگر ایسا ہے تو اس پر کیا دلیل ہے اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جن میں توحید کے دلائل بیان فرمائے کہ علویات اور سفلیات اور متوسطات اور ان کے احوال وصفات سب دعوائے واحدانیت اور رحمانیت کی دلیل ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ تحقیق، 1۔ آسمانوں، 2۔ اور زمین کی پیدائش میں، 3، اور دن ورات کی آمد ورفت اور انکے مختلف ہونے میں، 4، اور ان جہازوں اور کشتیوں میں کہ جو دریا میں لوگوں کو منافع کی چیزوں کو لے کرچلتی ہیں اور ایک ملک سے دوسرے ملک کو آدمی اور سامان…
Read the full tafseer →299 اِنّ حرف مشبہ بالفعل ہے۔ اور فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِمعہ معطوفات اِنَّ کی خبر ہے۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنا اور نہ صرف ان کی ذوات کو بلکہ ان کے دیگر متعلقات کو اور پھر فضائے آسمانی اور بطن ارضی میں بےبہا خزانوں کو پیدا کرنا یہ اس کی توحید کی پہلی عقلی دلیل ہے۔ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۔ یعنی رات دن کی آمدورفت، روشنی اور تاریکی میں، کمی اور زیادتی میں ان کا یہ اختلاف یہ دوسری دلیل ہے۔ تیسری دلیل۔ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ۔ یہ خَلْقِ السَّمٰوٰتِپر معطوف ہے۔ لفظ فلک مفرد وجمع دونوں طرح استمعال ہوتا ہے۔ یہاں بطور جمع استعمال ہوا ہے۔ بِمَا…
Read the full tafseer →گزشتہ سے پیوستہ
پہلے خانہ کعبہ کے مرکز ہدایت اور قبلہ ہونے کا بیان ہوا۔ اس کے بعد ملت اسلام کے اہم ترین اصول یعنی ذکر الٰہی ، شکر الٰہی صبر اور تعظیم شعائر اللہ کا ذکر ہوا۔ پھر کتاب اللہ کی تعلیم اور اس کی ضرورت و اہمیت بیان کرتے ہوئے ، ان لوگوں پر وبال کا ذکر کیا۔ جو تعلیم کو چھپاتے ہیں اور پھر آخر میں ان تمام چیزوں کی بنیاد توحید الھکم الہ واحد کا بیان ہوا۔ اور پھر آگے توحید کے دلائل کے طور پر دس چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔
کسب معاش
تہذیب الاخلاق کے بعد سوسائٹی کا دوسرا ہم مسئلہ کب معاش ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ ہر شخص کو اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ گزر اوقات کے لئے معاش کا کوئی نہ کوئی ذریعہ…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّۃٍ 0 ۠ وَّتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ 164
إِنَّ وأَنَ
إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت…
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی خشک زمین کو جو مردہ کے مشابہ ہے زندہ یعنی ہرا کرتا ہے۔ خشک ہونے کو بیکار ہونے کے سبب مردگی سے اور تازہ ہونے اور نباتات اگانے کو کارآمد ہونے کے سبب اس کی زندگی سے بطور استعارہ کے تعبیر کیا اور یہ کلام عرب میں بڑی فصاحت ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْـکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّـآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَبَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃِ ص وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمَسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔
(بےشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں اور جہازوں کے چلنے میں جو سمندر میں ان چیزوں کو لے کر چلتے ہیں، جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے بادلوں سے اتارا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح تمہارا رسول، قرآن، قبلہ اور دین ابراہیم ایک ہے اسی طرح تمہارا معبودِ برحق بھی ایک ہی ہے۔ اب اس کی الوہیت کے دلائل سنو اور ان پر غور کرو !
وہ ایک ہی الٰہ ہے ‘ حاکم مطلق، معبود اور مسجود وہی بحروبرّ ، زمین و آسمان ‘ اور فضاؤں پر کلی اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ ہر چیز کا خالق اور واحد مالک ہونے کے باوجود اپنے اختیارات ظلم و زیادتی کی بنیاد پر نہیں بلکہ نہایت ہی رحم وکرم کی اساس پر استعمال کرتا ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے پر اس کی شفقت و مہربانی کی گھٹائیں برس رہی ہیں۔ اس کی ذات اور شان کی جھلک دیکھنا چاہتے ہو تو غور کرو کہ اس نے زمین و آسمان کو کس طرح پیدا کیا بظاہر زمین…
Read the full tafseer →توحید کے دلائل عقلیہ :
164۔ شان نزول : مشرکین کو اکیلے معبود پر تعجب ہوا تو انہوں نے اس پر نشانی کا مطالبہ کیا تو یہ آیت اتری۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ مَّآئٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِبَیْنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ : (بےشک زمین و آسمان کے پیدا کرنے اور دن رات کی آمدورفت میں اور جہازوں میں جو سمندر…
Read the full tafseer →(تفسیر) 164۔:
(آیت)” ان فی خلق السموات والارض “ لفظ سموات کو جمع فرمایا اور الارض کو مفرد، اس لیے کہ ہر آسمان الگ الگ جنس سے ہے اور زمین ایک ہی جنس سے ہے یعنی مٹی ، پس آسمان میں نشانی ہے کہ اس کا بغیر ستون کے بلند ہونا اور بغیر کسی تعلق کے اسی کا قائم رہنا ہے اور اس میں سورج چاند ستارے سب اس کی نشانیاں ہیں اور زمین کا نشانی ہونا اس کا پھیلاؤ اور اس کی فراخی اور وسعت اور جو کچھ اس میں درکت اور دریا ، پہاڑ جواہر ، نباتات دیکھے جاتے ہیں ۔
(آیت)” واختلاف اللیل والنھار “ یعنی دن رات کا یکے بعد دیگرے آنا جانا ہر ایک دوسرے کا خلیفہ بنتا ہے ، دن جاتا ہے تو رات آجاتی ہے رات جاتی ہے تو دن آجاتا ہے اور…
Read the full tafseer →تفسیر ابن کثیر حاتم وغیرہ معتبر سند سے ان آیتوں کی شان نزول جو حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے لکھی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ کی دعا سے اگر یہ مکہ کا صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے تو ہم لوگ آپ پر ایمان لے آئیں اور اس سونے سے ہتھیار اور گھوڑے خرید کر آپ کے ساتھ جہاد کریں گے اس پر آپ نے قریش سے مضبوط وعدہ ایمان کا لیا اور اللہ تعالیٰ سے صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کی دعا کی حضرت جبرئیل آں حضرت ﷺ کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا کہ صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کے بعد اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے تو ان پر بہت سخت عذاب نازل کیا جائے گا اگر یہ شرط ان کو…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ ان عظیم مخلوقات میں باری تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت، اس کی عظیم قدرت، رحمت اور اس کی تمام صفات کے دلائل ہیں، لیکن یہ تمام دلائل صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جو ان امور میں اپنی عقل استعمال کرتے ہیں جن کے لئے عقل پیدا کی گئی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو جتنی عقل سے نوازا ہے وہ اتنا ہی آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی عقل اور تفکر و تدبر سے ان آیات کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ پس (آیت) فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ ” آسمانوں کے پیدا کرنے میں۔ “ یعنی آسمانوں کی بلندی، ان کی وسعت، ان کے محکم اور مضبوط ہونے میں، نیز ان آسمانوں میں سورج، چاند اور ستاروں کی…
Read the full tafseer →قول باری ہے : ان فی خلق السموت والارض واختلاف اللیل والنھار ( آسمانوں اور زمین کی ساخت میں اور رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں) تا آخر آیت۔ یہ آیت توحید باری پر نیز اس بات پر کہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ شبیہ، کئی قسم کی دلالتوں کو متضمن ہے۔ اس آیت میں ہمارے لیے یہ حکم بھی ہے کہ ہم ان دلالتوں سے استدلال کریں ، چناچہ ارشاد ہے : لا یات لقوم یعقلون ( جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں ان کے لئے بیشمار نشانیاں ہیں) اس نے یہ نشانیاں اس لئے قائم کی ہیں کہ ان سے استدلال کرکے اس کی معرفت، اس کی توحید کی پہچان نیز اس کی ذات سے اشباہ و امثال کی نفی تک رسائی حال کی جائے۔ اس میں ان لوگوں کے قول کا ابطال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
438 قدرت و عنایت خداوندی کا ایک مظہر : یعنی یہ کشتیاں اور جہاز جن سے انسانی ضرورتوں کے سامان ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچتے ہیں اور طرح طرح سے ان کی حاجتوں کی تکمیل ہوتی ہے، کہ ان کو قسما قسم کے سامان بسہولت میسر آتے ہیں اور کتنی ہی دنیا کی ملازمتیں اور نوکریاں اور کاروبار اس سلسلہ حمل و نقل سے وابستہ ہیں، اور اس طرح ان کی روزی روٹی کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو یہ قدرت و عنایت خداوندی کا کس قدر عظیم الشان مظہر ہے کہ اس نے سمندر کو ان قوانین و ضوابط فطرت کا اس قدر پابند بنادیا کہ وہ انسان کیلئے اتنے عظیم الشان اور گوناگوں فوائد و منافع کا ذریعہ بن رہا ہے، اور دنیا دن…
Read the full tafseer →اللہ کی نشانیاں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور طاقت کی بیشمار نشانیاں بتائی ہیں۔ اگر انسان ان پر غور وفکر کرے تو ضرور وہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہوجائے۔ غور کیجئے زمین و آسمان کی پیدائش، دن رات کا چکر، دریا اور سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کا چلنا، آسمان سے بارش کا اترنا، مردہ زمین میں جان پڑجانا، زمین میں طرح طرح کے جانوروں کی موجودگی، ہواؤں اور بادلوں کا زمین آسمان کے درمیان چلنا کیا یہ سب کچھ اللہ کے سوا اور کوئی کرسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ پوری کائنات کا وجود اور اس میں موجود ہر چیز اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ہمارا خالق ومالک ہمیں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–167
آیات 164- 167
اسرارو معارف
ان فی خلق اسلوت والارض…………………لایت لقوم یعقلون۔
توحید باری کے لئے تکوینی دلائل :
یہ بات کہ وہ اکیلا ہی مستحق عبادت ہے اور وہی ہے ہر کہ دمہ پہ رحم کرنے والا ، سب کا خالق ومالک اور رازق معاندین کے لئے بیحد ثقیل تھی۔ خصوصاً نزول کلام کے وقت تو حال یہ تھا کہ گھر کے ہر فرد نے اپنا علیحدہ بت بنارکھا تھا اور پھر مختلف امور کے لئے مختلف خدا ادر الہٰ ۔ تو آج بھی مذاہب باطلہ میں دیکھے جاسکتے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے مطابق سوچتا ہے تو یہ کام کہ ساری کائنات کا رب واحد ہے اور تمام امور اکیلا ہی انجام دے رہا ہے اس کی رسائی سے بالاتر ہے۔
ان حقائق تک پہنچنے کے لئے نور نبوت سے اکتساب…
Read the full tafseer →ف 1 اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کے الا واحد ہونے کا بیان تھا اس آیت میں وحدنیت پر دلائل کا بیان ہے۔ قرآن نے ان امور ثمانیہ کو وجود باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کے ثبوت میں متفرق طور پر جا بجا ذکر کیا ہے مگر یہاں ان سب کو جمع کردیا ہے۔ ان امو رر تکو ینیہ سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے متعلق خود مشرکین کو بھی اعتراف تھا کہ ان کی خلق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ (کبیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ ہمارے لیے کوہ صفا کو سونا بنا دے اگر اس نے ایسا کردیا تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →(2:164) ان حرف مشبہ بالفعل۔
(1) فی خلق المسوت والارض
(2) واختلاف اللیل والنھار
(3) والفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس
(4) وما انزل اللہ من السماء من مائ یہ سب جملے یکے بعد دیگرے ان کی خبر ہیں۔
(ا) ماحیا بہ الارض بعد موتھا
(ب) وبث فیہما من کل دابۃ
(5) ونتصریف الریاح
(6) والسماب المسخر بین السماء والارض
لایت تقوم تعقلون ۔۔ اسم ان۔ (لام کو ان کے اسم کی خبر کے بعد میں آنے کی وجہ سے لایا گیا ہے) ۔
اختلاف اللیل والنھار سے مراد دن رات کا آگے پیچھے آنا۔ ان کا چھوٹا بڑا ہونا۔ کرہ ارضی پر مختلف مقامات پر ان کا طوالت میں کم و بیش ہونا ہے۔
الفلک۔ یہ لفظ مذکر مؤنث، واحد، جمع سب کے لئے استعمال ہوتا…
Read the full tafseer →لغات : آیت نمبر 164
خلق (پیدائش، بناوٹ ) ۔ اختلاف (آنا، جانا) ۔ اللیل (رات ) النھار (دن) ۔ الفلک (کشتی، جہاز) ۔ ینفع (نفع دیتا ہے) ۔ السماء (بلندی، آسمان ) بث (اس نے پھیلا دیا) دابۃ (زمین پر رینگنے والے ہر جاندار کو کہتے ہیں۔ ہر طرح کے جانور) ۔ تصریف (الٹنا پلٹنا) ۔ الریح (ہوائیں، (ریح کی جمع ہے) ۔ السحاب (بادل) ۔ المسخر (تابع، حکم ماننے والا) ۔ لایت (البتہ نشانیاں ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 164
قرآن کریم انسان کو شک و شبہ کی دلدل سے نکال کر یقین کی منزل تک پہنچانے کے لئے ایسی کھلی ہوئی دلیلیں پیش کرتا ہے جس سے ہر شخص اپنی اہلیت و صلاحیت کے مطابق حق کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔ ان دلائل میں جو شخص…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی وحدانیت دلیل
شان نزول : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عنہمانے روایت لکھی ہے ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک دفعہ آنحضرت صلی علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی دعا سے اگر یہ مکہ کا صفا پہاڑ سونے کا ہوجاوے تو ہم لوگ آپ پر ایمان لے آویں گے، اور اس سونے سے ہتھیار اور گھوڑے خرید کر کے آپ کے ساتھ ہو کر جہاد کریں گے ۔ اس پر آپ نے قریش سے مضبوط وعدہ ایمان کا لیا اور اللہ تعالیٰ سے صفا کا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کی دعا کی ۔ حضرت جبرائیل آنحضرت کے پاس آئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچایا کہ صفا پہاڑ کے سونے کے ہوجانے کے بعد اگر یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے تو ان پر بہت سخت عذاب نازل کیا جاوے گا ۔ اگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–172
[106] رحمن و رحیم کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة فاتحہ حاشیہ 9 صفحہ 4
[107] مشرکین عرب نے جو یہ آیت اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے ؟ اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔ اگلی آیت میں دلیل بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کا اسلوب تفہیم :
(ف 1) قرآن کا طرز استدلال اس قدر جاذب ، فطری اور سادہ ہے کہ منطق ہزار جان سے بلائیں لیتی ہے ۔ وہ مصنوعی اصطلاحات کے گورکھ دھندوں میں ہمیں نہیں پھنساتا ، بلکہ روز مرہ کے اصولیی مشاہدات اس طور پر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے کہ غور وفکر کی تمام قوتیں بیدار ہوجائیں اور معارف وحکم کے دریا بہنے لگیں ، اس طرز استدلال کی مثال یہ ہے کہ وہ سمندر کی تعریف نہیں کرتا اس شخص کے سامنے جس نے سمندر نہیں دیکھا یعنی وہ یہ نہیں کہتا کہ سمندر ایک بہت بڑا ذخیرہ جس نے سمندر نہیں دیکھا یعنی وہ یہ نہیں کہتا کہ سمندر ایک بہت بڑا ذخیرہ آب ہے بلکہ براہ راست طالب کو ساحل سمندر پر لا کھڑا کرتا ہے ، تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
ف 1 اور جو تم سب لوگوں کے معبود ہونے کا مستحق ہے اور وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔ وہی بےحد مہربان اور انتہائی رحم کرنے والا ہے بلا شبہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور بنانے میں اور رات و دن کے آگے پیچھے آنے جانے اور گٹھنے بڑھنے میں اور ان کشتیوں اور جہازوں میں جو سمندر کے اندر لوگوں کے فائدے کی چیزیں اور اسباب و سامان لیکر چلتے ہیں اور اس پانی میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے اتارا اور برسایا پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرنے اور بالکل خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کیا اور اس زمین میں ہر قسم کے حیوانات کو پھیلا دیا اور ہوائوں کے رخ اور…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →یگانگت الٰہی کی نشانیاں :
288: ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ غور کرو انسان کی صدہا ضرورتیں ہیں جو زمین و آسمان کی پیدائش اور اختلاف لیل ونہار سے پوری ہوتی ہیں۔ پانی کے شیریں چشمے جنگلوں اور پہاڑوں میں تشنہ لبوں کی سیرابی کا باعث ہوتے ہیں۔ درختوں کی ٹہنیاں میووں کے بوجھ سے جھکی جاتی ہیں۔ ان چیزوں کی پیداوار میں انسانی کوشش کو دخل نہیں بلکہ قدرت خود بخود مہیا کر رہی ہے اور موسم کے تغیر و تبدل نے انکے پورا کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے :
هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّكُمْ مِّنْهُ شَرَابٌ وَّ مِنْهُ شَجَرٌ فِیْهِ تُسِیْمُوْنَ 0010 یُنْۢبِتُ لَكُمْ بِهِ…
Read the full tafseer →Now in Verse 164, there is a series of signs and proofs in support of the premise that Allah Almighty is really One. Stated simply, these can be grasped by the learned and the ignorant alike. How can one bypass the wonder of the creation of the heavens and the earth? Who can ignore the constant alternation of the night and the day? The message is simple and clear. Their origination and their perpetuity is the work of His perfect power alone and that there is absolutely no being other than Him who can take that credit.
Similarly, the movement of boats on the surface of waters, is a formidable…
Read the full tafseer →162. If a man were to observe the constant operation of this universe, reflect on it in a manner befitting a rational being, and think about it without either stubbornness or bias, he would find sufficient signs to convince him that this gigantic system is absolutely subservient to the will of the Omnipotent and Wise Being, Who alone wields all power and authority. Moreover, this system seems to be such as to rule out all possibility of any interference from others whether independent of the Creator of the universe or in partnership with Him. Since this One True God is the Lord of all…
Read the full tafseer →