امیر المومنین حضرت عمربن خطاب ؓ فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میرے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک روز میرے پاس حضور ﷺ کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا (اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا) یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
سورة الْبَقَرَة 156
کہنے سے مراد صرف زبان سے یہ الفاظ کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں“ ، اس لیے اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصْرَف میں صرف ہوئی، جس کی چیز تھی اسی کے کام آگئی۔ اور یہ کہ ”اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے“ ، یعنی بہرحال ہمیشہ اس دنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر، جانا خدا ہی کے پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضور حاضر ہوں۔ یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں، اپنی موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
مصائب پر صبر کے آسان کرنے کی خاص تدبیر
فاللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بندوں کا امتحان ہوتا ہے اس کی حقیقت آیت وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور حوادث کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دیدینے میں یہ فائدہ ہوا کہ صبر آسان ہوجاتا ہے ورنہ دفعۃ کوئی صدمہ پڑنے سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے اور یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا دار المحن ہے (یعنی محنتوں اور تکلیفوں کی جگہ ہے) اس لئے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھا جاوے تو بےصبری نہ ہوگی اور چونکہ یہ لوگ نفس عمل صبر میں سب مشترک ہیں اس لئے اس کا صلہ مشترکہ تو عام رحمت ہے جو نفس صبر پر موعود ہے اور چونکہ…
Read the full tafseer →صلوات کا مفہوم : صَلَوات، صلوۃ کی جمع ہے ہے جس کے اصل معنی لغت میں " اقبال الی الشیء " یعنی کسی چیز کی طرف بڑھنے کے ہیں، اسی مفہوم کے اعتبار سے یہ لفظ نماز کے لیے استعمال ہوا کہ بندہ نماز میں اپنے رب کی طرف بڑھتا ہے۔ اسی طرح یہ لفظ اس التفات و توجہ کے لیے بھی آتا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف فرماتا ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی الطاف و عنایات الٰہی کے ہوجاتے ہیں۔ لفظ کی روح تو ایک ہی رہتی ہے لیکن نسبت کے بدل جانے سے ایک میں نیاز مندی کا اور دوسرے میں لطف و عنایت کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کا ترجمہ ہم نے " عنایتیں " کیا ہے۔ نسبت کے بدل جانے الفاظ کے مفہوم میں اس قسم کی تبدیلیوں…
Read the full tafseer →157۔ 1 ان آیات میں صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبریاں ہیں۔ حدیث میں نقصان کے وقت (اِناَّ لِلّٰہِ وَ اناَّاِ لَیْہِ رَجِعُوْنَ) 2:156 اور اللَّھُمْ اَجَرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ پڑھنے کی بھی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
102: اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کرجائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی…
Read the full tafseer →اللہ کی طرف سے عنایات ہوں گی ۔ یہاں صابرین کے لئے لفظ صلوات استعمال کرکے گویا صابرین کو ان صلوات (عنایات) میں شریک کردیا گیا ، جو اللہ اور اس کے فرشتے نبیوں پر بھیجتے رہتے ہیں ۔ کیا ہی بلند مقام ہے ۔ کیا فیضان رحمت ہے کہ خود اللہ گواہ ہے کہ مصائب میں صبر کرنے والے ہی دراصل صحیح معرفت رکھتے ہیں اور صحیح راہ پر گامزن ہیں ۔ غرض ہر بات عظیم اور محیر العقول ہے ۔
تحریک اسلامی کی تیاری اور تربیت کے اس سبق کے آخر تک ہم پہنچ گئے ۔ ذرارک کر جائزہ لیجئے ! مصائب وشدائد ، قتل وشہادت ، جان ومال کا نقصان ، بھوک و افلاس اور خوف وخطر اور دوسری مشکلات کے لئے یہ عظیم تیاری اور تربیت ، پر آشوب اور پر خطر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
8 یعنی جن لوگوں نے ان مصائب پر صبر کیا اور کفران نعمت نہ کیا بلکہ ان مصائب کو وسیلہ ذکر و شکر بنایا تو ان کو اے پیغمبر ہماری طرف سے بشارت سنا دو ۔
Read the full tafseer →آیت 157 اُولٰٓءِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ قف
ان پر ہر وقت اللہ کی عنایتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے اور رحمت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے واقعتا ہدایت کو اختیار کیا ہے۔ اور جو ایسے مرحلے پر ٹھٹک کر کھڑے رہ جائیں ‘ پیچھے ہٹ کر بیٹھ جائیں ‘ پیٹھ موڑ لیں تو گویا وہ ہدایت سے تہی دامن ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
196 جو یہ کلمات صرف زبان سے ہی ادا نہیں کرتے بلکہ دل سے بھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم اللہ ہی کی ملک ہیں۔ لہذا ہماری جو چیز بھی اللہ کی راہ میں قربان ہوئی وہ اپنے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچ گئی اور وہ کسی قسم کی بےقراری یا اضطراب کا اظہار نہیں کرتے نہ ہی زبان سے کوئی ناشکری کا کلمہ نکالتے ہیں۔ چناچہ جب آپ ﷺ کا نواسہ ( زینب ؓ کا بیٹا) فوت ہوگیا تو آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سے فرمایا : یوں کہو : انَّ لَہُ مَا اَخَذُوْلَہُ مَا اعْطٰی وَکُلُّ شَیٍ عِنْدَہُ بِاَجَلٍ مُّسَمّٰی فَلْتَصْبِرُوْ لِتَحْتَسِبْ (جو اس نے لے لیا وہ اللہ ہی کا تھا اور جو دے رکھا ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ اس کے ہاں ہر چیز کا ایک…
Read the full tafseer →572 ۔ (دنیا اور آخرت دونوں میں) اوپر کی آیت میں صابرین کے حق میں جس خوشخبری کا ذکر تھا یہ سب اسی کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” علیھم صلوت من ربھم “ یعنی لوگ عنایت خاصہ کے مورد ہوں گے۔ ہر شخص اپنے اپنے درجہ کے متناسب (آیت) ” ورحمۃ “ یعنی یہ لوگ رحمت عام کے مورد رہیں گے۔ (آیت) ” ھم المھتدون “ دنیا میں ان کی رسائی اس حقیقت تک ہوچکی تھی کہ کوئی چیز بھی اپنی نہیں، یہاں تک کہ خود ان کے جسم وجان، نفس وروح کا مالک حق تعالیٰ ہی ہے۔ چناچہ جب یہ اس کے پاس پہونچیں گے تو سب ہی کچھ پالیں گے۔ جس نے اللہ کی رحمت عامہ وخاصہ کو پالیا، اس سے دنیا اور آخرت کی بچی ہوئی کونسی نعمت ؟ اولئک ھم الفائزون بمطالبھم الدینیۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
شان نزول : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ غزوہ بدر میں جب چند صحابہ شہید ہوگئے جن کی تعداد چودہ تھی چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے تو نافہم منافقوں اور کافروں نے کہنا شروع کردیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوا دی، اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب دیا جا رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو اس معنی کے اعتبار سے وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں زیادہ لذت سے لذت یاب ہو رہے ہیں، اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں، برزخی زندگی اپنے عام معنی میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوتی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ( یہی ہیں جن پر رحمتیں ہیں ان کے پروردگار کی طرف سے) اُوْلٰءِکَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو صفات مذکورہ کے زیور سے اراستہ ہیں صلوٰۃ کے معنی لغت میں دعا کے ہیں اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کریں تو اس سے مراد وہ دعا نہیں ہوتی بلکہ دعاء پر جو ثمرہ مرتب ہوتا ہے وہ مراد ہوتا ہے مثلاً برکت مغفرت رحمت اور چونکہ رحمت اور برکت کی بہت سی انواع ہیں اس لیے صلوات بصغیہ جمع ارشاد فرمایا اور پھر لفظ رحمت تاکیداً زیادہ فرمایا۔
وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ( یہی لوگ ہدایت پر ہیں) یعنی چونکہ ان لوگوں نے مصیبت پر اِنَّا ﷲِ ..... پڑھا اور حکم…
Read the full tafseer →(157) خوشخبری سنا دیجیے، ان ہی خوبیوں کے جو مالک ہیں ان کے لیے دنیا میں مغفرت اور آخرت میں عذاب سے نجات ہے اور (آیت) ”انا اللہ وانا الیہ راجعون“۔ (یعنی اپنا ہر معاملہ اللہ کی ہر بات کے مطابق اس کے سپرد کردینے والے) ہی ہدایت پانے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے، وہ خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ (قرطبی، شوکانی) (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ دل کی حاضری سے کہا جائے تو اس میں اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اللہ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں اور اس کا بھی کہ ہمیں ہر حال میں اس کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے واپس بلائے، اس پر شکوہ و شکایت کا کیا موقع ہے ؟ اس سے انسان کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کرنے والوں کو تین نعمتیں ملتی ہیں : 1 رب کی مہربانیاں۔ 2 اس کی بہت بڑی رحمت (َرَحْمَةٌ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے)۔ اور ہدایت یافتہ ہونے کی سند۔ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
آیت نمبر 156 تا 157
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مصیبۃ : ہر وہ چیز جو مومن کو اذیت اور تکلیف دیتی ہے وہ مصیبت ہے۔ کہا جاتا ہے : اصابہ، اصابۃ و مصابۃ ومصابا۔ اور مصیبۃ کی جمع مصائب ہے۔ المصوبۃ (صاد کے ضمہ کے ساتھ) مصیبت کی مثل ہے۔ عرب ہمزہ کے ساتھ جمع بناتے ہیں۔ المصائب اس کی اصل واو ہے گویا انہوں نے اصلی کو زائد کے ساتھ مشابہت دی۔ اس کی جمع مصارب بھی آتی ہے یہ اصل ہے۔ المصاب الاصابۃ۔ شاعر نے کہا :
أسلیم ان مصابکم رجلا اھدی السلام تحیۃ ظلم
وصاب السھم القرطاس، یصیب صیبابہ، اصاب کے معنی میں ہے۔ المصیبۃ۔ النکبۃ ینکبھا الانسان۔ اور یہ شر میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصائب میں صبر کرنے والوں کے لئے بشارت
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولنبونکم “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خبر دی ہے کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور ان کو (اللہ تعالیٰ ) مصیبتوں میں مبتلا کرے گا اس لئے ان کو صبر کا حکم فرمایا اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وبشر الصبرین “ اور ان کو خبر دی ہے کہ مؤمن بندہ (جب) اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے اور مصیبت کے وقت لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ خیر میں اسے اس کے لئے تین بھلائیاں لکھ…
Read the full tafseer →[ اُولٰٓـئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ عَلَیْھِمْ : جن پر ہیں ] [ صَلَوٰتٌ: عنایتیں ] [ مِّنْ رَّبِّھِمْ : ان کے رب (کی جانب) سے ] [ وَرَحْمَۃٌ: اور رحمت ] [ وَاُولٰٓـئِکَ : اور وہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ : ہی ہدایت پانے والے ہیں ]
ترکیب : ” صلٰوۃ “ سے مراد ہے نماز ‘ دعا ‘ رحمت۔ قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ ” صلٰوۃ “ بغیراضافت ہے وائو کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ یہ لفظ کے مفخم ہونے کی بنا پر ہے۔ جیسے زکوٰۃ۔ صلوٰۃ ” تَصْلِیَۃ “ سے اسم ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں بہت سے اہل لغت کا بیان ہے کہ صلوٰۃ کے معنی دعا کرنے ‘ برکت مانگنے اور بزرگی سے یاد کرنے کے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : (اِذَا دُعِیَ اَحَدُکُمْ اِلٰی…
Read the full tafseer →صَلَوٰتٌ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ:
صابرین کی صفت بیان فرمانے کے بعد (کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کہتے ہیں) ان کے لیے جو بشارت ہے اس کا ذکر فرمایا اور وہ یہ کہ (اُولٰٓءِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ رَحْمَۃٌ وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ )
لفظ صلوات صلاۃ کی جمع ہے صلاۃ رحمت کو کہتے ہیں اور صلوٰت کے ساتھ لفظ رحمت بھی مذکور ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ لفظ رحمت بطور تاکید کے لایا گیا ہے۔ وکرّر الرحمۃ لما اختلف اللفظ تاکیدا اشباعا للمعنی۔ (قرطبی ص 77 ا ج 2)
مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ صلاۃ کی نسبت ہو تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بیان امتحان صبر وبشارت صابرین وجزاء صبر۔
قال تعالی، ولنبلونکم بشئی من الخوف۔۔۔ الی۔۔۔ المھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کے ساتھ بڑے امتحان کا ذکر فرمایا یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا اب آئندہ آیت میں صبر کے کم درجہ کے امتحان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اس امتحان کے علاوہ اور بھی کچھ ہم تمہارے صبر کا امتحان کا سبق لیں گے وج تم پر زائد شاق اور گراں نہ ہوگا اور خدا کی راہ میں جان دینے کی طرح مشکل نہ ہوگا کبھی تمہارا امتھان کسی قدر دشمنوں کے خوف سے لیں گے کہ تم دشمنوں سے خوف زدہ ہو کر پریشانیوں میں مبتلا ہوگے اور کبھی فقروفاقہ کے ذریعہ سے اور کبھی مالوں کے نقصان سے مثلامال ضائع ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
290 اگر تحویل قبلہ کے سلسلہ میں انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ یہ الصابرین کی صفت ہے اور اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اجر وثواب کے مستحق صرف وہی صابر ہیں، جو مصیبت کی ابتداء میں صبر کرتے ہیں۔ لہذا جو لوگ نزول مصیبت کے وقت انتہائی بےصبر اور جزع وفزع کا اظہار کریں اور بعد میں صبر کریں، وہ اس اجر کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ مصیبت کے بھول جانے پر تو صبر کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ اصل صبر جس پر اجر وثواب ملتا ہے وہ تو صدمہ کی ابتداء میں ہوتا ہے۔ اشارۃ الی ان الاجر لمن صبر وقت اصاب تھا کما فی الخبر انما الصبر عند اول صدمۃ (روح ص 23 ج 2) اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
گزشتہ سے پیوستہ
ترقی کے لئے جن منزلوں کو طے کرنا پڑتا ہے ، اس میں تہذیب اخلاق اور اس کے اصولوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے ذکر اور شکر کا تذکرہ ہوا اور پھر تیسرے بڑے اصول صبر کا بیان ہے ، چوتھا اصول۔ دعا ہے جس کا ذکرانا للہ وانا الیہ راجعون میں اجمالی طور پر کیا گیا ہے اور اصل دعا اور نماز کا تعلق بھی اسی سلسلے سے ہے۔
صبر کی قوت
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے صبر کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور اس کی فضیلت بیان ہے ان اللہ مع الصبرین ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔ یہ صبر کی عظمت سے ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں موت جیسی بڑی مصیبت کو بھی بخوبی…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ 0 ۣ وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُہْتَدُوْنَ 157
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103]
وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُصِیْبَۃٌ لا قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ قف وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 155 تا 157)
(بےشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنادیجئے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : صبروشکر اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے ‘ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنیوالے اور مصائب میں جزع ‘ فزع کرنے کی بجائے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے والے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور ہدایت کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔
صبر کا معنی ہے کہ آدمی مصیبت کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے اور ہر حال میں اپنے آپ کو شریعت کا پابند رکھے۔ جب کوئی اپنے آپ کو رب کی رضا اور اس کے احکام کے تابع رکھ کر آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے تو اس کے صلہ میں وہ رب کی رحمت اور عنایات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ اللہ کی رحمت و عنایات کے مستحق لوگ ہی ہدایت یافتہ قرار پاتے ہیں۔ کیونکہ اس فرمان…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 157:
اُولٰٓپکَ عَلَیْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَ َرحْمَۃٌ وَاُولٰٓپکَ ہُمُ الْمُھْتَدُوْنَ : (یہ وہی لوگ ہیں جن پر رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت پر ہیں)
رحمت و صلوٰۃ کے جمع کی حکمت :
الصلوات جمع صلوٰۃً شفقت و مہربانی۔ اس کو رأفۃ بمعنی مہربانی کی جگہ لائے اور رحمت اور صلوٰۃ کو جمع کردیا۔ جیسا سورة التوبۃ آیت نمبر 117 میں رؤف رحیم۔ اور سورة الحدید میں رأفۃ و رحمۃ۔ اب مطلب یہ ہوا ان پر مہربانی کے بعد مہربانی اور رحمت کے بعد رحمت ہے۔ (صلوٰت کو جمع لانے میں انواع کی طرف اشارہ ہے) و اولئک ہم المھتدون۔ وہ ‘ وہی راہ پانے والے ہیں۔ سیدھے راستے کی طرف اس لئے کہ انہوں نے استرجاع کیا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 157۔:
(آیت)” اولئک “ اس صفت والے ” علیھم صلوۃ من ربھم ورحمۃ “ صلوات سے مراد رحمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوۃ (بمعنی) رحمت ہوتی ہے اور صلوات کے بعد اللہ تعالیٰ نے رحمت کا ذکر تاکیدا فرمایا ہے اور تمام صلوات یعنی رحمت ۔ ” واولئک ھم المھتدون “ (آیت)” انا للہ وانا الیہ راجعون “ کی طرف (راہ پانے والے ہیں) اور بعض نے کہا کہ حق اور دوستی کی طرف (راہ پانے والے ہیں) اور بعض نے کہا کہ ہے جنت اور ثواب کی طرف (راہ پانے والے ہیں) حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ” نعم العدلان “ دو ہم مثل اور مساوی (تحفے) اچھے ہیں ” ونعمت العلاوہ “ اور ایک اضافی نعمت اور تحفہ بھی اچھا ، دو مماثل و مساوی چیزیں صلاۃ اور رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
(155 ۔ 157) ۔ اوپر کی آیت میں مصیبت کے وقت صبر اور نماز سے مدد لینے کا ذکر فرما کر اسی کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا جر دے گا سورة الزمر میں آئے گا۔{ اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ } (39: 10) جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے۔ مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے صحیح ابن حبان وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محنن کے ذریعے سے آزماتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بےصبر کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انہیں کبھی مصائب و محن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انہیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انہیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
صفا اور مروہ کے درمیان سعی
ارشاد باری ہے : ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او امتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما ( یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ا ن دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے) ابن عینیہ سے مروی ہے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے عروہ سے روایت بیان کی ہے کہ میں نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت حضرت عائشہ ؓ کے سامنے کرکے ان سے کہا کہ اگر میں سعی نہ کروں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : بھانجے تم نے بہت بری بات کہی۔ حضور ﷺ نے ان کے درمیان سعی کی ہے اور…
Read the full tafseer →429 صبر وسیلہ ظفر : سو صبر کرنے والوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں پر ان کے رب کی جانب سے خاص عنایات بھی ہیں اور عظیم الشان رحمت بھی۔ اور یہی لوگ ہیں راہ پر۔ یعنی حق اور حقیقت کی اس راہ پر جس پر چلنے سے انسان کو دنیا میں بھی حیات طیبہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں بھی حقیقی اور ابدی فوز و فلاح نصیب ہوگی۔ سو کس قدر عظیم الشان ہے حق و ہدایت کی یہ راہ جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و بہرہ ور کرتی ہے ۔ اللہ سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔ اور کس قدر بدنصیب اور محروم ہیں وہ لوگ، جو حق و ہدایت کی اس راہ سے منہ موڑ کر خواہشات نفس کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں۔ اور انسانیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
آزمائش، صبر اور اجر
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پوری امت کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہ دنیا بڑی بڑی آزمائشوں کا گھر ہے۔ پوری زندگی ایک ہی طرح نہیں گزرتی، بلکہ زندگی میں ہر قسم کا اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور مجھ پر ایمان لانے والو ! تمہیں بھی ان تمام نقصانات اور آزمائشوں کے لئے پوری طرح تیار رہنا چاہیے اور ان آزمائشوں میں بڑی بہادری سے پورا اترنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ آزمائشیں مختلف صورتوں میں آئیں گی۔ مثلاً دشمن کا خوف، قید و بند، جلاوطنی، قحط سالی، اموال و جائیداد کا نقصان، عزیزوں کا اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا، میوؤں، پھلوں اور اناج کا نقصان ہوجانا۔ غرض ہر قسم کی مصیبت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →ف 7 صلوہ کے بعد رحمتہ کا لفظ تا کید اور اشباع معنی کے لیے ہے جیسے آیت لا نسمع ستر ھم سلجو نھم میں سر کے بعد نحوی کے بعد کا لفظ ہے !
Read the full tafseer →(2:157) اولئک۔ یعنی وہ لوگ جن میں مندرجہ بالا صفات ہوں یعنی صابرین۔
اولئک مبتدا اول۔ صلوت مبتدا ثانی۔ علیہم متعلق بمبتدا ثانی۔ پھر یہ مجموعہ مبتدا اول کی خبر۔
واولئک ھم المھتدون۔ واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اولئک مبتداء ہم المھتدون اس کی خبر۔
صلوٰت رحمتیں۔ برکتیں ۔ صلوٰۃ کی جمع۔ ص ل و مادہ۔
مھتدون۔ اسم فاعل مذکر۔ اھتداء (افتعال) مصدر۔ ہدایت یافتہ۔ ہدایت پانے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157
یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 153 تا 157
اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت کے وقت صبر کا اجر
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا اجر دے گا ۔ لیکن ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعضے بندوں کو عقبیٰ میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے لیکن ان کے اعمال اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے ، اس لئے ان کو بعض مصیبتوں سے آزماتا ہے۔ اور جب وہ صابر رہتے ہیں تو ان کو صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں بڑے درجہ کے قابل کردیتا ہے ۔ اسی طرح صبر کرنے سے گناہ بھی معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
[102] یعنی ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بلند نصب العین :
(ف 1) الہی کتب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ انسان کو کشاکش ہائے حیات کے لئے پوری طرح تیار کر دے ، یعنی اس کے دل و دماغ کو اتنا بلند اور آمادہ صبر کر دے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی مرکز عقل و دانش سے نہ ہٹیں ، قرآن حکیم نے اس مقصد کو جس خوبی سے پورا کیا ہے ، دنیا کی کوئی کتاب اس کی اس میں شریک وسہیم نہیں ، قرآن حکیم کا نظریہ حیات یہ ہے کہ دنیا میں مصائب و حوادث کا وقوع فطری اور ناگزیر ہے ، کبھی خوف وہراس سے دل دہل جاتے ہیں اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزیز جانوں کا ضیاع ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔
غرض کہ جب تک اس دنیا میں ہیں ‘ ان مصائب سے خلاصی نہیں ۔ البتہ وہ…
Read the full tafseer →ف 4 یہ حضرت صابرین وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی جانب سے خاص خاص عنایتیں بھی نازل ہونگی اور عام رحمت بھی جس میں سب شریک ہوں گے ان پر توجہ ہوگی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی صحیح اور حقیقی مصد کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔ (تیسیر)
صلوۃ اور رحمت متقارب المعنی ہیں ابن عباس نے فرمایا یہاں صلوٰۃ سے مراد مغفرت ہے یا ثنا حسن ہے بعض نے کہا صلوٰۃ کے ساتھ رحمت محض تاکید کے لئے کہا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر رحمت کے بعد رحمت اور مہربانی پر مہربانی نازل ہوتی رہے گی گویا یہ لوگ پیہم اور متواتر مہربانیوں کے مستحق ہوں گے یا وہ مطلب ہے جس کی طرف ہم نے ترجمہ میں اشارہ کیا ہے کہ عام بندوں پر جو…
Read the full tafseer →ف 5۔ یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیادار المحن ہے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →رضائے الٰہی پر راضی رہنے والے اللہ کی رحمت کے مستحق ہوگئے :
280: جب کوئی فردو جماعت جان لے کہ سب کچھ اللہ کی ملک ہے ہم خود بھی اور ہماری ہرچیز بھی اور اپنی کوئی شے ہی نہیں نہ بیوی نہ بچے نہ مال نہ جائیداد اور نہ وطن نہ خاندان اور نہ جسم نہ جان !
جو کچھ ہے سب خدا کا ، وہم گماں ہمارا
انسان کے سارے رنج وغم اور درد و حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتا ہے لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا اور کوئی بھی شے ہو وہ سرے سے اپنی ہی نہ رہی تو اب گلہ و شکوہ رنج وملال کا موقع ہی کیا ؟ دوسری بات یہ ہے کہ بڑے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں رہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
Patience in hardship: The way to make it easy
The nature and the significance of the severe test man is put to by Allah has been thoroughly discussed while explaining the verse’ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ 'And when his Lord put Ibrahim to a test'.
Whatever their magnitude, accidents are unnerving. But a prior knowledge of such accidents makes it easier to bear them and be patient about them. Since the entire Ummah is addressed here, the Ummah should realize that the world is a place of hardships and labour; it is a place of ordeal. It will not, therefore, amount to impatience if…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
156. 'Saying' does not signify the mere making of a statement. It means a statement which is accompanied by a deep conviction in one's heart: 'To Allah do we belong.' This being so, a man is bound to think that whatever has been sacrificed for God has in fact attained its legitimate end, for it has been spent in the way of the One to whom all things truly belong.
'And it is to Him that we are destined to return' refers to the fact that man will not stay forever in this world and will return, sooner or later, to God. And if man is indeed destined to return to God why should he not return to…
Read the full tafseer →