اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں ؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت انا للہ) پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالاخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
سورة الْبَقَرَة 156
کہنے سے مراد صرف زبان سے یہ الفاظ کہنا نہیں ہے، بلکہ دل سے اس بات کا قائل ہونا ہے کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں“ ، اس لیے اللہ کی راہ میں ہماری جو چیز بھی قربان ہوئی، وہ گویا ٹھیک اپنے مَصْرَف میں صرف ہوئی، جس کی چیز تھی اسی کے کام آگئی۔ اور یہ کہ ”اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹنا ہے“ ، یعنی بہرحال ہمیشہ اس دنیا میں رہنا نہیں ہے۔ آخر کار، دیر یا سویر، جانا خدا ہی کے پاس ہے۔ لہٰذا کیوں نہ اس کی راہ میں جان لڑا کر اس کے حضور حاضر ہوں۔ یہ اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ہم اپنے نفس کی پرورش میں لگے رہیں اور اسی حالت میں، اپنی موت ہی کے وقت پر کسی بیماری یا حادثے کے شکار ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
مصائب پر صبر کے آسان کرنے کی خاص تدبیر
فاللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بندوں کا امتحان ہوتا ہے اس کی حقیقت آیت وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ کی تفسیر میں گذر چکی ہے اور حوادث کے واقع ہونے سے پہلے ان کی خبر دیدینے میں یہ فائدہ ہوا کہ صبر آسان ہوجاتا ہے ورنہ دفعۃ کوئی صدمہ پڑنے سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے اور یہ خطاب ساری امت کو ہے تو سب کو سمجھ لینا چاہئے کہ دنیا دار المحن ہے (یعنی محنتوں اور تکلیفوں کی جگہ ہے) اس لئے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھا جاوے تو بےصبری نہ ہوگی اور چونکہ یہ لوگ نفس عمل صبر میں سب مشترک ہیں اس لئے اس کا صلہ مشترکہ تو عام رحمت ہے جو نفس صبر پر موعود ہے اور چونکہ…
Read the full tafseer →صابرین کی ڈھال : یہ صابرین کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ آزمائشوں کا مقابلہ بد دلی اور پست ہمتی کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ خندہ پیشانی اور عزم و استقلال کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہاں جو ان کا یہ قول نقل ہوا ہے، یہ درحقیقت ان کے اس عقیدے کا اظہار ہے جس کی چٹان پر صبر و استقامت کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اس عقیدے کا ایک جزو تو یہ ہے کہ آدمی اس بات پر ایمان رکھے کہ وہ اس دنیا میں اللہ ہی کا اور اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کا دوسرا جزو یہ ہے کہ مرنے کے بعد اس کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ جو شخص ان دو حقیقتوں پر مضبوط ایمان رکھتا ہے کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس کے قدم کو جادہ حق سے ہٹا نہیں سکتی۔ جب ہم اس دنیا میں خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
154۔ 1 شہدا کو مردہ نہ کہنا ان کے اعزاز اور تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں یہ زندگی اعلٰے قدر مراتب انبیاء و مومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کی طرح جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں دیکھیے (ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 119) 3:119 (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
102: اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کرجائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :
تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔
وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
8 یعنی جن لوگوں نے ان مصائب پر صبر کیا اور کفران نعمت نہ کیا بلکہ ان مصائب کو وسیلہ ذکر و شکر بنایا تو ان کو اے پیغمبر ہماری طرف سے بشارت سنا دو ۔
Read the full tafseer →آیت 156 الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ لا قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ
آخر کار تو یہاں سے جانا ہے ‘ اگر کل کی بجائے ہمیں آج ہی بلا لیا جائے تب بھی حاضر ہیں۔ بقول اقبال :
نشان مرد مؤمن با تو گویم
چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست !
یعنی مرد مؤمن کی تو نشانی ہی یہی ہے کہ جب موت آتی ہے تو مسرتّ کے ساتھ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ وہ دنیا سے مسکراتا ہوا رخصت ہوتا ہے۔ یہ ایمان کی علامت ہے اور بندۂ مؤمن اس دنیا میں زیادہ دیر تک رہنے کی خواہش نہیں کرسکتا۔ اسے معلوم ہے کہ وہ دنیا میں جو لمحہ بھی گزار رہا ہے اسے اس کا حساب دینا ہوگا۔ تو جتنی عمر بڑھ رہی ہے حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
196 جو یہ کلمات صرف زبان سے ہی ادا نہیں کرتے بلکہ دل سے بھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم اللہ ہی کی ملک ہیں۔ لہذا ہماری جو چیز بھی اللہ کی راہ میں قربان ہوئی وہ اپنے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچ گئی اور وہ کسی قسم کی بےقراری یا اضطراب کا اظہار نہیں کرتے نہ ہی زبان سے کوئی ناشکری کا کلمہ نکالتے ہیں۔ چناچہ جب آپ ﷺ کا نواسہ ( زینب ؓ کا بیٹا) فوت ہوگیا تو آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سے فرمایا : یوں کہو : انَّ لَہُ مَا اَخَذُوْلَہُ مَا اعْطٰی وَکُلُّ شَیٍ عِنْدَہُ بِاَجَلٍ مُّسَمّٰی فَلْتَصْبِرُوْ لِتَحْتَسِبْ (جو اس نے لے لیا وہ اللہ ہی کا تھا اور جو دے رکھا ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ اس کے ہاں ہر چیز کا ایک…
Read the full tafseer →570 ۔ (حضور قلب کے ساتھ) تحصیل صبر میں عقیدہ قلب، تلفظ زبانی پر مقدم ہے۔ (آیت) ” مصیبۃ “ کے لغوی معنی افتاد کے ہیں۔ اور حدیث میں اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے کل شیء سام ال مومن فھو مصیۂ (جو شے بھی مسلمان کو ناگوار گزرے بس وہی اس کے حق میں مصیبت ہے) گویا اس کا اطلاق نہایت وسیع اور عام ہے، اور اس کے تحت میں چھوٹا بڑا ہر ناخوشگوار واقعہ تکوینی آگیا۔ بیماری ہو، مالی نقصان ہو، دوستوں عزیزوں کی مفارقت کا صدمہ ہو، موت کا غم ہو، لاولدی ہو، توہین اور بےعزتی ہو، وقس علی ھذا۔ المصیبۃ کل ما اذی ال مومن فی نفس اومال اواھل صغرت اوکبرت (بحر) ۔ زبان سے اس آیت کی تلاوت کا دستور بحمد اللہ اب بھی اکثر مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
شان نزول : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ غزوہ بدر میں جب چند صحابہ شہید ہوگئے جن کی تعداد چودہ تھی چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے تو نافہم منافقوں اور کافروں نے کہنا شروع کردیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوا دی، اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب دیا جا رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو اس معنی کے اعتبار سے وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں زیادہ لذت سے لذت یاب ہو رہے ہیں، اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں، برزخی زندگی اپنے عام معنی میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوتی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم اسی کے بندے اور مملوک ہیں اور جو نعمتیں اس نے ہمیں عطا فرمائی ہیں یہ سب اسی کی طرف سے ہمارے پاس مستعار ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم اس کے حکم پر راضی ہوں اور اس کی امانت طلبی سے نا شکری نہ کرنے لگیں کیونکہ مالک کو اختیا رہے کہ اپنی ملک میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یعنی آخرت میں ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اسی طرح دنیا میں…
Read the full tafseer →(156) اور اے محمد ﷺ ان مذکورہ حضرات کو جن کی شان یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے جائیں گے اور اگر ہم اس کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوں گے تو وہ ہمارے عملوں سے خوش نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے، وہ خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ (قرطبی، شوکانی) (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ دل کی حاضری سے کہا جائے تو اس میں اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اللہ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں اور اس کا بھی کہ ہمیں ہر حال میں اس کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے واپس بلائے، اس پر شکوہ و شکایت کا کیا موقع ہے ؟ اس سے انسان کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کرنے والوں کو تین نعمتیں ملتی ہیں : 1 رب کی مہربانیاں۔ 2 اس کی بہت بڑی رحمت (َرَحْمَةٌ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے)۔ اور ہدایت یافتہ ہونے کی سند۔ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
آیت نمبر 156 تا 157
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مصیبۃ : ہر وہ چیز جو مومن کو اذیت اور تکلیف دیتی ہے وہ مصیبت ہے۔ کہا جاتا ہے : اصابہ، اصابۃ و مصابۃ ومصابا۔ اور مصیبۃ کی جمع مصائب ہے۔ المصوبۃ (صاد کے ضمہ کے ساتھ) مصیبت کی مثل ہے۔ عرب ہمزہ کے ساتھ جمع بناتے ہیں۔ المصائب اس کی اصل واو ہے گویا انہوں نے اصلی کو زائد کے ساتھ مشابہت دی۔ اس کی جمع مصارب بھی آتی ہے یہ اصل ہے۔ المصاب الاصابۃ۔ شاعر نے کہا :
أسلیم ان مصابکم رجلا اھدی السلام تحیۃ ظلم
وصاب السھم القرطاس، یصیب صیبابہ، اصاب کے معنی میں ہے۔ المصیبۃ۔ النکبۃ ینکبھا الانسان۔ اور یہ شر میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصائب میں صبر کرنے والوں کے لئے بشارت
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولنبونکم “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خبر دی ہے کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور ان کو (اللہ تعالیٰ ) مصیبتوں میں مبتلا کرے گا اس لئے ان کو صبر کا حکم فرمایا اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وبشر الصبرین “ اور ان کو خبر دی ہے کہ مؤمن بندہ (جب) اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے اور مصیبت کے وقت لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ خیر میں اسے اس کے لئے تین بھلائیاں لکھ…
Read the full tafseer →[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ اِذَا : جب بھی ] [ اَصَابَتْھُمْ : پہنچتی ہے ان کو ] [ مُّصِیْبَۃٌ : کوئی مصیبت ] [ قَالُوْا : تو وہ لوگ کہتے ہیں ] [ اِنَّا : بیشک ہم ] [ لِلّٰہِ : اللہ کے لیے ہیں ] [ وَاِنَّا : اور یقینا ہم ] [ اِلَــیْہِ : اس کی طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]
ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ “ اسم موصول۔ ” اِذَا “ حرف شرط ” اَصَابَتْھُمْ “ میں ” ھُمْ “ ضمیر مفعول مقدم۔ ” مُصِیْبَۃٌ“ فاعل مؤخر۔ فعل+فاعل+مفعول جملہ فعلیہ ہو کر شرط۔ ” قَالُوْا “ فعل ” وائو “ ضمیر بارز فاعل ” اِنَّا “ میں ” اِنَّ “ حرفِ مشبہ بالفعل ” نَا “ ضمیر اسم۔ ” لِلّٰہِ “ جار مجرور متعلق بمحذوف جملہ اسمیہ…
Read the full tafseer →صابرین کی ایک خاص صفت :
یہ فرمانے کے بعد کہ ہم تم کو ضرور ضرور آزمائیں گے۔ صابرین کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ (وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ ) (صبر کرنے والوں کو بشارت دے دو ) پھر ان کی صفت بیان فرمائی (الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْ ٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) (وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو وہ ( اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ) کہتے ہیں۔ ) یہ کلمہ بہت سے حقائق کو اپنے اندر سموئے ہوئے اور اس میں بہت بڑی تسلی ہے۔ اس میں اول تو زبان اور دل سے اس بات کا اقرار ہے کہ ہم اللہ ہی کے لیے ہیں جب ہم اللہ ہی کے بندے ہیں۔ اس کی مخلوق ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بیان امتحان صبر وبشارت صابرین وجزاء صبر۔
قال تعالی، ولنبلونکم بشئی من الخوف۔۔۔ الی۔۔۔ المھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کے ساتھ بڑے امتحان کا ذکر فرمایا یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا اب آئندہ آیت میں صبر کے کم درجہ کے امتحان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اس امتحان کے علاوہ اور بھی کچھ ہم تمہارے صبر کا امتحان کا سبق لیں گے وج تم پر زائد شاق اور گراں نہ ہوگا اور خدا کی راہ میں جان دینے کی طرح مشکل نہ ہوگا کبھی تمہارا امتھان کسی قدر دشمنوں کے خوف سے لیں گے کہ تم دشمنوں سے خوف زدہ ہو کر پریشانیوں میں مبتلا ہوگے اور کبھی فقروفاقہ کے ذریعہ سے اور کبھی مالوں کے نقصان سے مثلامال ضائع ہوجائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
290 اگر تحویل قبلہ کے سلسلہ میں انہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس پر صبر کرتے ہیں۔ یہ الصابرین کی صفت ہے اور اس سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اجر وثواب کے مستحق صرف وہی صابر ہیں، جو مصیبت کی ابتداء میں صبر کرتے ہیں۔ لہذا جو لوگ نزول مصیبت کے وقت انتہائی بےصبر اور جزع وفزع کا اظہار کریں اور بعد میں صبر کریں، وہ اس اجر کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ مصیبت کے بھول جانے پر تو صبر کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ اصل صبر جس پر اجر وثواب ملتا ہے وہ تو صدمہ کی ابتداء میں ہوتا ہے۔ اشارۃ الی ان الاجر لمن صبر وقت اصاب تھا کما فی الخبر انما الصبر عند اول صدمۃ (روح ص 23 ج 2) اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
گزشتہ سے پیوستہ
ترقی کے لئے جن منزلوں کو طے کرنا پڑتا ہے ، اس میں تہذیب اخلاق اور اس کے اصولوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے ذکر اور شکر کا تذکرہ ہوا اور پھر تیسرے بڑے اصول صبر کا بیان ہے ، چوتھا اصول۔ دعا ہے جس کا ذکرانا للہ وانا الیہ راجعون میں اجمالی طور پر کیا گیا ہے اور اصل دعا اور نماز کا تعلق بھی اسی سلسلے سے ہے۔
صبر کی قوت
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے صبر کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور اس کی فضیلت بیان ہے ان اللہ مع الصبرین ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔ یہ صبر کی عظمت سے ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں موت جیسی بڑی مصیبت کو بھی بخوبی…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِيْبَۃٌ 0 ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ 156 ۭ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُصِیْبَۃٌ لا قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ قف وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 155 تا 157)
(بےشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنادیجئے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
فہم القرآن
ربط کلام : غم اور آزمائش کی مختلف صورتیں۔
اسلام کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو کسی مبالغہ آمیزی اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونے دیتا کہ جو نہی تم اپنی زبان سے کلمہ ادا کرو گے تو بہاریں لوٹنے کے ساتھ ہر قسم کی کامیابیاں تمہارے دامن میں سمٹ آئیں گی۔ اسلام اور کسی نظریے کی تاریخ بھی اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ جو نہی کسی نے اسے قبول کیا تو ان کے لیے نعمتوں اور سہولتوں کے دروازے کھل گئے ہوں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کرتا ہے کہ تحریک کے ابتدائی معاون بیش بہا قربانیاں پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو ایک…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 156:
الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ : (جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں)
نحوی تحقیق :
نمبر 1۔ الذین۔ صابرین کی صفت ہونے کی بناء پر منصوب ہے اس صورت میں اس پر وقف نہیں۔ بلکہ راجعون پر وقف ہے۔
نمبر 2۔ صابرین پر وقف کریں تو الذینمبتدا ہے اور اولٰئک خبر ہے۔ مگر پہلی صورت زیادہ بہتر ہے کیونکہ الذین اور اس کا صلہ وغیرہ صبر کا بیان ہے۔ اذا اصابتھم مصیبۃ سے مراد ناپسندیدہ بات یہ اسم فاعل کا صیغہ ہے اور اصابت کا معنی لحقت بمعنی پہنچنا۔ ملنا ہے۔ مصیبۃ پر وقف…
Read the full tafseer →156۔ (آیت)” الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا ان اللہ “ (اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں) عبد یعنی بندہ اور غلام ہونے کے لحاظ سے (وانا الیہ راجعون) (اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) آخرت میں ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں میں نے حضور اقدس ﷺ سے سنا ، آپ تھے کہ بندہ کو جو کوئی مصیبت بھی پہنچے پھر وہ بندہ انا للہ وانا الیہ راجعون “ کہے (اور دعا کرے) اے اللہ ! مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کا نعم البدل عطا کر ، اللہ تعالیٰ اس بندہ کو اس مصیبت میں ضرور اجر عطا فرماتے ہیں اور اس کو اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں ، حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں جب حضرت ابو سلمہ (ام سلمہ کے خاوند) فوت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
(155 ۔ 157) ۔ اوپر کی آیت میں مصیبت کے وقت صبر اور نماز سے مدد لینے کا ذکر فرما کر اسی کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا جر دے گا سورة الزمر میں آئے گا۔{ اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ } (39: 10) جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے۔ مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے صحیح ابن حبان وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محنن کے ذریعے سے آزماتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بےصبر کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انہیں کبھی مصائب و محن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انہیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انہیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →قول باری : الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون سے مراد۔ واللہ اعلم۔
اس حالت میں ان کی طرف سے اللہ کے لیے عبودیت اور اس کی مالکیت کا اقرار ہے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے انہیں آزما سکتا ہے تاکہ انہیں صبر کرنے کا ثواب عطا کرے اور ان کی ان کمزوریوں کی اصلاح کردے جن کا اسے علم ہے کیونکہ خیروصلاح کے کام کے سلسلے میں اللہ سبحانہ کی ذات پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ اس کے تمام افعال حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اس طرح مذکورہ حالت کے اندر بندوں کی طرف سے عبودیت کا اقرار دراصل اپنا معاملہ اس کے سپرد کردینے اور آزمائش میں اس کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کے…
Read the full tafseer →427 ہم سب اللہ تعالیٰ ہی کا مال ہیں : اور مالک اپنی ملکیت میں جو تصرف چاہے فرمائے۔ اس پر کسی چون و چرا کی گنجائش ہی کیا ہوسکتی ہے۔ پھر ہمارا خالق ومالک تو اس کے ساتھ ساتھ رحمن و رحیم اور حکیم و کریم بھی ہے۔ اس لئے وہ ہم سے جو بھی معاملہ فرماتا ہے اس میں ہماری خیر اور بہتری ہی ہوتی ہے اگرچہ ہم اس کو نہ سمجھ سکیں۔ کیونکہ وہ ہم پر خود ہم سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے۔ " اَرْحَمُ بِنَا مِنَّا لِاَنْفُسِنَا " ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ فَلَکَ الْحَمْدُ وََالشَّکْرُ یَارَبِّیْ عَلٰی کُلِّ حَالٍ وَنَعُوْذُ بِکَ مِنْ حََال اَہْل النَّارِ ۔ سو صبر و شکر مومن کی عظیم الشان صفات میں سے ہیں، اور یہ دونوں صفتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
آزمائش، صبر اور اجر
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پوری امت کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہ دنیا بڑی بڑی آزمائشوں کا گھر ہے۔ پوری زندگی ایک ہی طرح نہیں گزرتی، بلکہ زندگی میں ہر قسم کا اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور مجھ پر ایمان لانے والو ! تمہیں بھی ان تمام نقصانات اور آزمائشوں کے لئے پوری طرح تیار رہنا چاہیے اور ان آزمائشوں میں بڑی بہادری سے پورا اترنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ آزمائشیں مختلف صورتوں میں آئیں گی۔ مثلاً دشمن کا خوف، قید و بند، جلاوطنی، قحط سالی، اموال و جائیداد کا نقصان، عزیزوں کا اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا، میوؤں، پھلوں اور اناج کا نقصان ہوجانا۔ غرض ہر قسم کی مصیبت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ف 6 مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے خواہ کتنی معمولی کیوں نہ ہو۔ قرطبی۔ شوکانی) اناللہ۔۔ کلمہ بستر جاع ہے حضور قلب کے ساتھ یہ کلمہ زبان سے کہا جائے تو سہی اظہار عبودیت بھی ہے اور دوبارہ زندہ ہو کر جزائے اعمال کا اعتراف بھی۔ (قرطبی۔ شوکانی) اور آیت اذا صابتھم مصیبتہ میں کلمہ اذا میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور یہ کلمہ کہنا چاہیے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے انما الصبر عند الصتد تمہ الا ولی (بخاری) کہ مصیبت جب تازہ ہو تو صبر ہے مصیبت پر ستر جاع کی احادیث میں فضیلت بھی آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر مصیبت پر انا للہ۔۔۔ کے بعد یہ دعا بھی پڑھی جائے اللھم اجرنی فی…
Read the full tafseer →(2:156) الذین اذا اصابتھم ۔۔ الخ صابرین کی صفت ہے۔
اذا حرف شرط ہے اور جملہ شرطیہ ہے قالوا انا للہ ۔۔ الخ جواب شرط ہے۔
مصیبۃ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث اصاب یصلب اصابۃ (افعال) مصدر ہے۔ غم۔ تکلیف۔ سختی۔ دکھ پہنچانے والی ہر چیز۔ اس کی جمع مصائب ومصیبات ہے۔ اس کا مادہ صوب ہے۔
المفردات میں ہے اصاب السھم۔ تیر ٹھیک نشانہ پر جالگا اور مصیبۃ اصل میں اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جاکر بیٹھ جائے۔ اس کے بعد (عرف میں) ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا۔ قرآن مجید میں ہے وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم (42:30) اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ہے۔
راجعون۔ اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157
یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 153 تا 157
اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت کے وقت صبر کا اجر
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا اجر دے گا ۔ لیکن ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعضے بندوں کو عقبیٰ میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے لیکن ان کے اعمال اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے ، اس لئے ان کو بعض مصیبتوں سے آزماتا ہے۔ اور جب وہ صابر رہتے ہیں تو ان کو صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں بڑے درجہ کے قابل کردیتا ہے ۔ اسی طرح صبر کرنے سے گناہ بھی معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
[102] یعنی ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بلند نصب العین :
(ف 1) الہی کتب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ انسان کو کشاکش ہائے حیات کے لئے پوری طرح تیار کر دے ، یعنی اس کے دل و دماغ کو اتنا بلند اور آمادہ صبر کر دے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی مرکز عقل و دانش سے نہ ہٹیں ، قرآن حکیم نے اس مقصد کو جس خوبی سے پورا کیا ہے ، دنیا کی کوئی کتاب اس کی اس میں شریک وسہیم نہیں ، قرآن حکیم کا نظریہ حیات یہ ہے کہ دنیا میں مصائب و حوادث کا وقوع فطری اور ناگزیر ہے ، کبھی خوف وہراس سے دل دہل جاتے ہیں اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزیز جانوں کا ضیاع ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔
غرض کہ جب تک اس دنیا میں ہیں ‘ ان مصائب سے خلاصی نہیں ۔ البتہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
ف 3 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردئیے جائیں ان کے متعلق یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں اور وہ مرچکے ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ تم ان کی حیات کا ادراک نہیں کرسکتے اور یاد رکھو ہم تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کریں گے اور قدرے خوف اور کسی قدر فقرو فاقہ سے اور تھوڑے سے مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی سے تمہارا امتحان لیں گے اور اے پیغمبر آپ ایسے صبر کرنیوالوں کو بشارت دیدیجئے جن کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور ہم سب کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اور ہم سب اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔ (تیسیر)
اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
ف 4۔ ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کے متعلق گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →آزمائش کی گھڑیوں میں اللہ کو یاد رکھنا صبر ہے :
279: مُّصِیْبَةٌ 1ۙ : کے لغوی معنی افتاد کے ہیں اور حدیث میں اس کی حقیقت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ : کل شی وسام المؤمن فھو مصیبۃ ، یعنی جو شے بھی مسلمان کو ناگوار گزرے بس وہی اس کے حق میں مصیبت ہے گویا اس کا اطلاق نہایت وسیع اور عام ہے اور اس کے تحت میں چھوٹا بڑا ہر ناخوشگوار واقعہ تکوینی آگیا ۔ بیماری ہو ، مالی نقصان ہو ، دوستوں ، عزیزوں کی مفارقت کا صدمہ ہو ، موت کا غم ہو ، اولاد اور خصوصاً نرینہ اولاد نہ ہو ، توہین و بےعزتی ہو۔ زبان سے اس آیت کی تلاوت کا دستور بحمد للہ اب بھی اکثر مسلمان گھروں میں پایا جاتا ہے لیکن تحصیل صبر کے لئے محض زبانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
Patience in hardship: The way to make it easy
The nature and the significance of the severe test man is put to by Allah has been thoroughly discussed while explaining the verse’ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ 'And when his Lord put Ibrahim to a test'.
Whatever their magnitude, accidents are unnerving. But a prior knowledge of such accidents makes it easier to bear them and be patient about them. Since the entire Ummah is addressed here, the Ummah should realize that the world is a place of hardships and labour; it is a place of ordeal. It will not, therefore, amount to impatience if…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
156. 'Saying' does not signify the mere making of a statement. It means a statement which is accompanied by a deep conviction in one's heart: 'To Allah do we belong.' This being so, a man is bound to think that whatever has been sacrificed for God has in fact attained its legitimate end, for it has been spent in the way of the One to whom all things truly belong.
'And it is to Him that we are destined to return' refers to the fact that man will not stay forever in this world and will return, sooner or later, to God. And if man is indeed destined to return to God why should he not return to…
Read the full tafseer →