وفائے عہد کے آزمائش لازم ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کرلیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کسے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے، جیسے فرماتا ہے آیت (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ ۙ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ) 47۔ محمد :31) یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کرلیں گے اور جگہ ہے آیت (فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ) 6۔ النحل :112) مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
سورة الْبَقَرَة 155
موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شہداء فی سبیل اللہ کو مردہ کہا جائے، کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبہء جہاد و قتال اور روح جاں فروشی کے سرد پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر مطابق واقعہ بھی ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
ربط
اوپر ایک خاص ناگوار واقعہ میں صبر کی تعلیم اور صابرین کی فضیلت بیان فرمائی تھی آیات آئندہ میں اور بھی بعض واقعات خلاف طبع کی تفصیل اور اس میں صبر کی ترغیب اور فضیلت بیان فرماتے ہیں جن میں قتل و قتال مع الکفار کا مضمون مقدم فرماتے ہیں دو وجہ سے اول بوجہ اعظم ہونے کے کہ اعظم پر صبر کرنے والا اصغر پر بدرجہ اولی صبر کرے گا دوسرے خاص طور پر مناسب مقام ہونے کی وجہ سے کیونکہ معترضین مذکورین کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تھا،
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے) قتل کئے جاتے ہیں ان (کی ایسی فضیلت ہی کہ ان) کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ لوگ…
Read the full tafseer →آگے کی مشکلات کی طرف اجمالی اشارہ : یہ ان آزمائشوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے جو آگے کے مراحل میں پیش آنے والی ہیں۔ یہ آزمائشیں اگرچہ پیش تو آئیں گی دشنوں کی شرارتوں اور سازشوں کے باعث لیکن چونکہ یہ اس سنت اللہ کے تحت ہیں جو ازل سے اللہ تعالیٰ نے اہل حق اور اہل باطل میں امتیاز کے لیے مقرر کر رکھی ہے اس وجہ سے ان کو منسوب اپنی طرف فرمایا ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے، اور بات بصیغہ تاکید فرمائی ہے۔ اس لیے کہ اہل حق کے لیے یہ امتحان و آزمائش قانون الٰہی میں ناگزیر ہے۔ اس قسم کے امتحانوں سے گزر کر ہی بندوں کی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور ان کے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز ہوتا ہے۔ اس امتحان کے بغیر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
154۔ 1 شہدا کو مردہ نہ کہنا ان کے اعزاز اور تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں یہ زندگی اعلٰے قدر مراتب انبیاء و مومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کی طرح جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں دیکھیے (ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 119) 3:119 (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
101: اس سورت کی آیت نمبر 40 سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
اب اس سبق میں تحریک اسلامی کو نئے واقعات اور نئی صورتحال کے مقابلے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ آنے والے واقعات کے سلسلے میں اسے ایک صحیح نقطہ نظر دیا جاتا ہے :
تربیت کے لئے انسان کو مصائب کی بھٹی سے گزارا جاتا ہے ۔ خوف وخطر میں مبتلا کرکے ، جان ومال کا نقصان دے کر ، مصائب اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے ، اللہ طالب صادق کے عزم صمیم کا امتحان کرتے ہیں ۔ یہ آزمائشیں اس لئے ضروری ہیں کہ مؤمنین اسلامی نظریہ حیات کی ذمہ داریاں اچھی طرح پوری کرنے کے قابل ہوسکیں اور اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں ، جتنا مصائب سے دوچار ہوں ، اسی قدر نظریہ حیات انہیں عزیز ہوتا چلاجائے۔
وہ نظریات جن کے لئے ان مجاہدین…
Read the full tafseer →7 پہلے تو ان کا ذکر تھا جنہوں نے صبر کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا یعنی شہداء اب فرماتے ہیں کہ تمہارا علی العموم تھوڑی تھوڑی تکلیف اور مصیبت میں وقتا فوقتا امتحان لیا جائیگا اور تمہارے صبر کو دیکھا جائیگا صابرین میں داخل ہونا کچھ سہل نہیں اسی واسطے پہلے سے متنبہ فرما دیا۔
Read the full tafseer →آیت 155 وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ
دیکھ لو ‘ جس راہ میں تم نے قدم رکھا ہے یہاں اب آزمائشیں آئیں گی ‘ تکلیفیں آئیں گی۔ رشتہ دار ناراض ہوں گے ‘ شوہر اور بیوی کے درمیان تفریق ہوگی ‘ اولاد والدین سے جدا ہوگی ‘ فساد ہوگا ‘ فتور ہوگا ‘ تصادم ہوگا ‘ جان و مال کا نقصان ہوگا۔ ہم خوف کی کیفیت سے بھی تمہاری آزمائش کریں گے اور بھوک سے بھی۔ چناچہ صحابہ کرام رض نے کیسی کیسی سختیاں جھیلیں اور کئی کئی روز کے فاقے برداشت کیے۔ غزوۂ احزاب میں کیا حالات پیش آئے ہیں ! اس کے بعد جیش العسرۃ غزوۂ تبوک میں کیا کچھ ہوا ہے !
وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ
مالی اور…
Read the full tafseer →195 یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ خوف سے مراد وہ ہنگامی صورت حال ہے جو جنگ احزاب سے پہلے ہر وقت مدینہ کی آزاد چھوٹی سی ریاست کے گرد منڈلاتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کاش آج رات کوئی میرا پہرہ دے تاکہ میں سو سکوں۔ یہ سن کر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ مسلح ہو کر آگئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میں پہرہ دیتا ہوں آپ ﷺ سو جائیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس طرح آرام فرمایا۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب الحراسہ فی الغزو فی سبیل اللّٰہ عزوجل، بخاری کتاب التمنی باب قولہ النبی لیت کذا وکذا) اور ایک رات اہل مدینہ ایک خوفناک آواز سن کر گھبرا گئے، پھر وہ اس آواز کی طرف روانہ ہوئے تو دیکھا رسول اللہ ﷺ ادھر سے…
Read the full tafseer →568 ۔ (بہ تقاضائے حکمت) خطاب مومنین صادقین سے چلا آرہا ہے، انہیں بتایا ہے کہ مصبتیں اور بلائیں ان پر بھی یقیناً آئیں گی، لیکن بہ طور سزا و عذاب نہیں، بلکہ ابتلاء وامتحان کے رنگ میں، اور اس ارشاد سے ان کی تسلی وتسکین کا بہترین سامان بہم پہنچا دیا۔ آزمائش خداوندی سے مقصود نتائج کو دنیا پر ظاہر کردینا ہوتا ہے، ورنہ حق تعالیٰ کو تو یہ علم ظاہر ہے کہ ہمیشہ سے حاصل ہے۔ (آیت) ” بشیء “ سے یہ بتا دیا کہ امتحان بہت سخت نہیں ہوگا، ہر ملک کے جزوقلیل ہی سے متعلق ہوگا، کل سے متعلق نہیں۔ (آیت) ” الخوف “۔ خوف کا لفظ جامع ہے۔ جان، مال، عزت ہر چیز سے متعلق اندیشہ وہر اس اس کے اندر آگیا (آیت) ” الجوع “۔ بھوک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
شان نزول : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ غزوہ بدر میں جب چند صحابہ شہید ہوگئے جن کی تعداد چودہ تھی چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے تو نافہم منافقوں اور کافروں نے کہنا شروع کردیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوا دی، اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب دیا جا رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو اس معنی کے اعتبار سے وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں زیادہ لذت سے لذت یاب ہو رہے ہیں، اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں، برزخی زندگی اپنے عام معنی میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوتی…
Read the full tafseer →وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ (اور بیشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر) مطلب یہ ہے کہ اے امت محمد ﷺ ہم کسی قدر مصائب پہنچا کر برکات سماویہ سے مستفید کریں گے جیسے کوئی کسی قوم کو آزمایا کرتا ہے کہ آیا یہ بلاء پر صبر کرتے ہیں یا نہیں اور رضا بالقضا سے آراستہ ہیں یا اس جوہر سے خالی ہیں اس پیشینگوئی کی وجہ یہ ہے کہ مصائب کے نزول کے وقت نفس کو اطمینان رہے اور زیادہ پریشانی نہ ہو مصائب فی نفسہٖ اگرچہ بہت ہیں لیکن جن مصائب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو بچا رکھا ہے ان کی نسبت یہ کچھ بھی نہیں اس لیے تنوین تنکیر کے ساتھ قلت بیان فرمائی نیز تقلیل کی وجہ یہ بھی ہے کہ سننے والوں پر گراں نہ ہو اور یہ جان لیں کہ…
Read the full tafseer →(155) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس آزمائش کا ذکر فرماتے ہیں جو اس نے مومنین کی آزمائش فرمائی ہے کہ ہم تمہیں دشمن کے خوف قحط سالی اور مالوں کے خاتمہ اور جانوں کے قتل ہوجانے اور مرجانے اور بیماریوں کے لاحق ہونے اور پھلوں کے ختم ہوجانے سے آزمائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے، وہ خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔ (قرطبی، شوکانی) (اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ دل کی حاضری سے کہا جائے تو اس میں اس بات کا اظہار بھی ہے کہ ہم اللہ کی ملکیت اور اس کے بندے ہیں اور اس کا بھی کہ ہمیں ہر حال میں اس کے پاس واپس جانا ہے۔ وہ جب چاہے، جسے چاہے واپس بلائے، اس پر شکوہ و شکایت کا کیا موقع ہے ؟ اس سے انسان کو صبر کی توفیق ملتی ہے اور صبر کرنے والوں کو تین نعمتیں ملتی ہیں : 1 رب کی مہربانیاں۔ 2 اس کی بہت بڑی رحمت (َرَحْمَةٌ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے)۔ اور ہدایت یافتہ ہونے کی سند۔ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 155
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولنبلونکم یہ واو مفتوحہ ہے۔ سیبویہ کے نزدیک کیونکہ التقائے ساکنین پایا گیا ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : جب واو نون ثقیلہ کے ساتھ ملائی گئی تو فعل مبنی ہوگیا۔ پس یہ خمسۃ عشر کے قائم مقام ہوگیا۔ بلاء کبھی اچھی ہوتی ہے کبھی بری۔ اس کا اصل معنی محبت ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے تاکہ ہم مجاہد اور صابر کو آنکھوں سے دیکھنے والے کے علم کی طرف علم حاصل کرلیں تاکہ اس پر جزا واقع ہو جیسا کہ گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے ساتھ آزمائے گئے تاکہ بعد والوں کے لئے نشانی بن جائیں اور وہ جان لیں کہ انہوں نے اس پر صبر کیا جب ان کے لئے حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصائب میں صبر کرنے والوں کے لئے بشارت
(1) ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولنبونکم “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو خبر دی ہے کہ دنیا مصیبت کا گھر ہے اور ان کو (اللہ تعالیٰ ) مصیبتوں میں مبتلا کرے گا اس لئے ان کو صبر کا حکم فرمایا اور ان کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” وبشر الصبرین “ اور ان کو خبر دی ہے کہ مؤمن بندہ (جب) اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے اور مصیبت کے وقت لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ رجعون “ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ خیر میں اسے اس کے لئے تین بھلائیاں لکھ…
Read the full tafseer →[ وَلَـنَبْلُوَنَّــکُمْ : اور ہم لازماً آزمائیں گے تم لوگوں کو ] [ بِشَیْ ئٍ : کسی چیز سے ] [ مِّنَ الْخَوْفِ : خوف میں سے ] [ وَالْجُوْعِ : اور بھوک میں سے ] [ وَنَقْصٍ : اور کچھ گھاٹے سے ] [ مِّنَ الْاَمْوَالِ : مالوں میں سے ] [ وَالْاَنْفُسِ : اور جانوں میں سے ] [ وَالثَّمَرٰتِ : اور پھلوں میں سے ] [ وَبَشِّرِ : اور آپ ﷺ بشارت دیں ] [ الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم رہنے والوں کو ]
ج و ع
جَاعَ (ن) جَوْعًا : بھوکا ہونا۔ { اِنَّ لَکَ اَلاَّ تَجُوْعَ فِیْھَا وَلَا تَعْرٰی ۔ } (طٰہٰ ) ” بیشک تیرے لیے ہے کہ تو بھوکا نہیں ہوگا اس میں اور نہ ننگا۔ “
جُوْعٌ (اسم ذات) : بھوک۔ { اَلَّذِیْ اَطْعَمَھُمْ…
Read the full tafseer →مختلف طریقوں سے آزمائش ہوگی
یہ دنیا دارالا بتلاء اور دارالامتحان ہے۔ موت اور حیات کی تخلیق ہی ابتلاء اور امتحان کے لیے ہے۔ جیسا کہ سورة ملک میں فرمایا (تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُنِ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں پورا ملک ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے پیدا فرمایا موت کو اور زندگی کو تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں کون عمل کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔ )
سورة محمد ﷺ میں فرمایا (وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصَّابِرِیْنَ وَنَبْلُوَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بیان امتحان صبر وبشارت صابرین وجزاء صبر۔
قال تعالی، ولنبلونکم بشئی من الخوف۔۔۔ الی۔۔۔ المھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کے ساتھ بڑے امتحان کا ذکر فرمایا یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا اب آئندہ آیت میں صبر کے کم درجہ کے امتحان کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ اس امتحان کے علاوہ اور بھی کچھ ہم تمہارے صبر کا امتحان کا سبق لیں گے وج تم پر زائد شاق اور گراں نہ ہوگا اور خدا کی راہ میں جان دینے کی طرح مشکل نہ ہوگا کبھی تمہارا امتھان کسی قدر دشمنوں کے خوف سے لیں گے کہ تم دشمنوں سے خوف زدہ ہو کر پریشانیوں میں مبتلا ہوگے اور کبھی فقروفاقہ کے ذریعہ سے اور کبھی مالوں کے نقصان سے مثلامال ضائع ہوجائے اور…
Read the full tafseer →289 بلآء کے معنی آزمانے اور امتحان لینے کے ہیں۔ والمعنی لنمتحننکم (قرطبی ص 173 ج 2) یعنی ہم تمہارا امتحان لیں گے۔ خوف سے مراد دشمن کا خوف ہے اور اس میں وہ تمام ڈراوے، دھکمیاں اور مشکلات ومصائب بھی داخل ہیں جو تحویل قبلہ کے سلسلہ میں ان کو یہود کی طرف سے پہنچیں گی۔ اور بھوک سے قحط سالی مراد ہے۔ اموال کی کمی سے مویشیوں اور کھیتیوں کا ضائع ہونا، جانوں کی کمی سے عزیزوں اور دوستوں کی موت اور پھلوں کی کمی سے باغات کی تباہی یا بچوں کی موت مراد ہے۔ کیونکہ بچہ انسان کا ایک عمدہ نتیجہ اور پیارا پھل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ تم پر اللہ کی طرف سے امتحان وابتلاء کے طور پر مشکلات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
گزشتہ سے پیوستہ
ترقی کے لئے جن منزلوں کو طے کرنا پڑتا ہے ، اس میں تہذیب اخلاق اور اس کے اصولوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ سب سے پہلے اللہ کے ذکر اور شکر کا تذکرہ ہوا اور پھر تیسرے بڑے اصول صبر کا بیان ہے ، چوتھا اصول۔ دعا ہے جس کا ذکرانا للہ وانا الیہ راجعون میں اجمالی طور پر کیا گیا ہے اور اصل دعا اور نماز کا تعلق بھی اسی سلسلے سے ہے۔
صبر کی قوت
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے صبر کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور اس کی فضیلت بیان ہے ان اللہ مع الصبرین ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں۔ یہ صبر کی عظمت سے ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں موت جیسی بڑی مصیبت کو بھی بخوبی…
Read the full tafseer →وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ 0 ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ 155 ۙ
بلی
يقال : بَلِيَ الثوب بِلًى وبَلَاءً ، أي : خلق، ومنه قيل لمن سافر : بلو سفر وبلي سفر، أي : أبلاه السفر، وبَلَوْتُهُ : اختبرته كأني أخلقته من کثرة اختباري له، وقرئ : هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، أي : تعرف حقیقة ما عملت، ولذلک قيل : بلوت فلانا : إذا اختبرته، وسمّي الغم بلاءً من حيث إنه يبلي الجسم، قال تعالی: وَفِي ذلِكُمْ بَلاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ عَظِيمٌ [ البقرة/ 49]
( ب ل ی )
بلی الوکب ۔ بلی وبلاء کے معنی کپڑے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ ۔ اَلَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُصِیْبَۃٌ لا قَالُوْآ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ اُوْلٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَرَحْمَۃٌ قف وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 155 تا 157)
(بےشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف، بھوک، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوشخبری سنادیجئے۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
فہم القرآن
ربط کلام : غم اور آزمائش کی مختلف صورتیں۔
اسلام کے اوصاف حمیدہ میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو کسی مبالغہ آمیزی اور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونے دیتا کہ جو نہی تم اپنی زبان سے کلمہ ادا کرو گے تو بہاریں لوٹنے کے ساتھ ہر قسم کی کامیابیاں تمہارے دامن میں سمٹ آئیں گی۔ اسلام اور کسی نظریے کی تاریخ بھی اس بات کی تائید نہیں کرتی کہ جو نہی کسی نے اسے قبول کیا تو ان کے لیے نعمتوں اور سہولتوں کے دروازے کھل گئے ہوں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کرتا ہے کہ تحریک کے ابتدائی معاون بیش بہا قربانیاں پیش کیا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں تو ایک…
Read the full tafseer →معمولی مصائب سے آزمائش :
155۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَ نْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِالصّٰبِرِیْنَ : ( اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر ڈر اور بھوک اور اموال وانفس اور پھلوں کی کمی سے اور اے محمد ﷺ خوش خبری سنا دیں صبر کرنے والوں کو) ولنبلونکم یعنی ہم کسی قدر مصائب پہنچا کر برکات سماویہ سے مستفید کریں گے جیسے کوئی کسی قوم کو آزمائے آیا وہ بلاء پر صبر کرتے ہیں یا نہیں اور اطاعت پر باقی رہتے ہیں یا نہیں۔ بشیء۔ یعنی تھوڑے سے ان مصائب میں سے اور معمولی سے۔ تنوین تنکیر شیء پر لا کر انتہائی قلت بیان کردی۔ تاکہ بتلا دیا جائے کہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 155۔:
ولنبلونکم “ یعنی اے امت محمد ! ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے ، لام قسم محذوف کا جواب ہے تقدیر عبارت ہوگی ۔ (آیت)” واللہ لنبلونکم “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش فرمانبردار اور نافرمان کو ظاہر کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔ آزمائش اس لیے نہیں ہوتی تاکہ اللہ وہ کچھ جان لیں جس کا علم پہلے نہ رکھتے تھے (یعنی جس کو پہلے نہ جانتے تھے) ۔۔۔۔ (آیت)” بشیء من الخوف “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی دشمن کا خوف (والجوع) یعنی قحط ” ونقص من الاموال “ خسارہ اور ہلاکت (مال) والانفس، قتل اور موت کے ساتھ بعض نے کہا کہ مرض اور بڑھاپے کے ساتھ ” والثمرات “ پھلوں میں آفات (زرعی بیماریاں وغیرہ) حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
(155 ۔ 157) ۔ اوپر کی آیت میں مصیبت کے وقت صبر اور نماز سے مدد لینے کا ذکر فرما کر اسی کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی آیت میں جو اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا جر دے گا سورة الزمر میں آئے گا۔{ اِنَّمَا یُوَفَّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِحِسَابٍ } (39: 10) جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے۔ مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے صحیح ابن حبان وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ وہ اپنے بندوں کو مصائب و محنن کے ذریعے سے آزماتا ہے، تاکہ سچے اور جھوٹے، صابر اور بےصبر کے درمیان فرق واضح ہوجائے۔ اپنے بندوں کے معاملے میں یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے، کیونکہ اگر اہل ایمان ہمیشہ خوشحالی سے لطف اندوز ہوں انہیں کبھی مصائب و محن کا سامنا نہ ہو تو فساد واقع ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اہل خیر اہل شر میں سے علیحدہ ہوں۔ یہ آزمائش کا فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کا وہ ایمان زائل نہیں ہوتا جو انہیں عطا کیا گیا ہے اور نہ آزمائش انہیں دین سے ہٹاتی ہے، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ایمان کو ضائع نہیں کرتا۔ پس اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →قول باری ہے : ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرین الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالو ا انا للہ وانا الیہ راجعون ( اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدینوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، انہیں خوشخبری دے دو ( تا قول باری : واولئک ھم المھتدون ( اور یہی ہیں ہدایت یافتہ) عطاء الربیع اور حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ اس خطاب سے حضور ﷺ کے بعد الہجرۃ صحابہ کرام مراد ہیں۔
ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →426 صبر والوں کیلئے بشارت کا عموم و شمول : یہاں پر " مُبَشَّربہ " کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔ یعنی یہ نہیں بتایا گیا کہ ان صابرین کو کس چیز کی خوشخبری سنائی جائے، جس سے عموم کا فائدہ ملتا ہے، کہ یہ خوشخبری کسی ایک چیز کی نہیں بلکہ اس کے ماتحت بہت سی اشیاء آتی ہیں جن کا احاطہ اللہ تعالیٰ ہی کرسکتا ہے۔ مثلا ً یہ کہ صبر کے صلہ و بدلہ میں ان کا اجر وثواب محفوظ ہوجائیگا۔ ان کو اطمینان قلب نصیب ہوگا۔ ان کے اندر رقت و عاجزی پیدا ہوگی۔ ان کو رجوع اور انابت الی اللہ کی توفیق نصیب ہوگی اور آخرت میں ان کو جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز فرمایا جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
آزمائش، صبر اور اجر
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ پوری امت کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ یہ دنیا بڑی بڑی آزمائشوں کا گھر ہے۔ پوری زندگی ایک ہی طرح نہیں گزرتی، بلکہ زندگی میں ہر قسم کا اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور مجھ پر ایمان لانے والو ! تمہیں بھی ان تمام نقصانات اور آزمائشوں کے لئے پوری طرح تیار رہنا چاہیے اور ان آزمائشوں میں بڑی بہادری سے پورا اترنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ آزمائشیں مختلف صورتوں میں آئیں گی۔ مثلاً دشمن کا خوف، قید و بند، جلاوطنی، قحط سالی، اموال و جائیداد کا نقصان، عزیزوں کا اللہ کی راہ میں شہید ہوجانا، میوؤں، پھلوں اور اناج کا نقصان ہوجانا۔ غرض ہر قسم کی مصیبت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ف 6 مصیبت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے انسان کو اذیت پہنچے خواہ کتنی معمولی کیوں نہ ہو۔ قرطبی۔ شوکانی) اناللہ۔۔ کلمہ بستر جاع ہے حضور قلب کے ساتھ یہ کلمہ زبان سے کہا جائے تو سہی اظہار عبودیت بھی ہے اور دوبارہ زندہ ہو کر جزائے اعمال کا اعتراف بھی۔ (قرطبی۔ شوکانی) اور آیت اذا صابتھم مصیبتہ میں کلمہ اذا میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور یہ کلمہ کہنا چاہیے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں ہے انما الصبر عند الصتد تمہ الا ولی (بخاری) کہ مصیبت جب تازہ ہو تو صبر ہے مصیبت پر ستر جاع کی احادیث میں فضیلت بھی آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر مصیبت پر انا للہ۔۔۔ کے بعد یہ دعا بھی پڑھی جائے اللھم اجرنی فی…
Read the full tafseer →(2:155) لنبونکم۔ ل تاکید کا ہے نبلون۔ مضارع تاکید بانون ثقلیہ ۔ صیغہ جمع متکلم ۔ بلاء مصدر (باب نصر) بمعنی آزمائش، آزمائش میں ڈالنا۔ آزمانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تم کو ضرور ضرور آزمائیں گے۔
الخوف۔ خوف سے مراد خوف اللہ تعالیٰ ۔ الجوع سے مراد صوم رمضان۔ ونقص من الاموال سے مراد زکوۃ و صدقات من الانفس سے مراد امراض اور من الثمرات سے مراد موت الاولاد ہے۔
یا بالترتیب خوف سے مراد خوف دشمن ۔ جوع سے مراد بھوک، قحط، نقص من الاموال سے مراد مالوں میں خسارہ یا بالکل بلاک ہونا اور نقص من الانفس سے مراد جانوں کی کمی یعنی قتل ہونا یا مرجانا یا امراض کا لاحق ہونا۔ یا بڑھاپا ہے اور پھلوں کی کمی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157
یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 153 تا 157
اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
مصیبت کے وقت صبر کا اجر
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت صبر کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق اس کو پورا اجر دے گا ۔ لیکن ہر نیکی کا اجر دس درجہ سے لے کر سات سو تک ہے مگر صبر جیسی مشکل چیز ہے اسی طرح اس کا ثواب بھی اندازہ سے باہر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بسند معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعضے بندوں کو عقبیٰ میں بڑا درجہ دینا چاہتا ہے لیکن ان کے اعمال اس درجہ کے قابل نہیں ہوتے ، اس لئے ان کو بعض مصیبتوں سے آزماتا ہے۔ اور جب وہ صابر رہتے ہیں تو ان کو صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ عقبیٰ میں بڑے درجہ کے قابل کردیتا ہے ۔ اسی طرح صبر کرنے سے گناہ بھی معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
[101] منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب امت مسلمہ کو ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے یہ ہے کہ منصب امامت پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک عظیم الشان اور پرخطر خدمت بنی نوع انسان ہے جس کے نتیجہ میں طرح طرح کی مشکلات و مصائب کی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–157
بلند نصب العین :
(ف 1) الہی کتب کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ وہ انسان کو کشاکش ہائے حیات کے لئے پوری طرح تیار کر دے ، یعنی اس کے دل و دماغ کو اتنا بلند اور آمادہ صبر کر دے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی مرکز عقل و دانش سے نہ ہٹیں ، قرآن حکیم نے اس مقصد کو جس خوبی سے پورا کیا ہے ، دنیا کی کوئی کتاب اس کی اس میں شریک وسہیم نہیں ، قرآن حکیم کا نظریہ حیات یہ ہے کہ دنیا میں مصائب و حوادث کا وقوع فطری اور ناگزیر ہے ، کبھی خوف وہراس سے دل دہل جاتے ہیں اور پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عزیز جانوں کا ضیاع ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔
غرض کہ جب تک اس دنیا میں ہیں ‘ ان مصائب سے خلاصی نہیں ۔ البتہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
ف 3 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردئیے جائیں ان کے متعلق یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں اور وہ مرچکے ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ تم ان کی حیات کا ادراک نہیں کرسکتے اور یاد رکھو ہم تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کریں گے اور قدرے خوف اور کسی قدر فقرو فاقہ سے اور تھوڑے سے مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی سے تمہارا امتحان لیں گے اور اے پیغمبر آپ ایسے صبر کرنیوالوں کو بشارت دیدیجئے جن کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور ہم سب کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اور ہم سب اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔ (تیسیر)
اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
ف 4۔ ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کے متعلق گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →انسان کی زندگی میں آزمائشیں اور بھی ہیں :
278: موت تو سب سے بڑی مصیبت ہے جو انسان کو بالکلیہ دنیا اور اس کی ہرچیز سے الگ کردیتی ہے ۔ اب ان چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو بظاہر اس کا مقابلہ تو نہیں کرسکتیں مگر ان کا تسلسل اور برابر رہنا مصیبت اور تکلیف میں موت سے بھی بڑھ جاتا ہے اور اکثر لوگ ایسے موقعوں پر کمزوری اور بزدلی کا اظہار کرتے ہیں۔
قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کی تفصیل خود فرما دی ہے چنانچہارشاد ہوتا ہے کہ :
مَا کَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ 1ؕ ذٰلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
Earlier, alluding to an unpleasant incident, patience and steadfastness were inculcated and the excellence of Sabirun (the patient people) was mentioned. The next verses mention, in some detail, other unpleasant incidents and culminate in describing the excellence of pa-tience, and perseverance in it. Those verses give preference to the theme of war with infidels over other themes for two reasons: first, the sacrifice of life is a grand sacrifice; whoever steadfastly endures this loss will, undoubtedly, learn to be patient on losses of lesser magnitude; second, it is relevant to the situation…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
155. The word 'death' as well as its general concept has a depressing effect. People have therefore been instructed not to refer to martyrs who laid down their lives for God as 'dead', since this might lead to the dissipation of the spirit which enables people to struggle and make sacrifices in God's cause. Instead, people have been instructed to bear in mind that anyone who lays down his life for God has in fact attained immortality. As well as being a statement of fact this also helps to arouse and sustain courage.
Read the full tafseer →