Al-Baqara 2:154

Al-Baqara · from ayah 154

2:154

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ؕ— بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۟وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ يُّقۡتَلُ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not say about those who are killed in the way of Allah, "They are dead." Rather, they are alive, but you perceive [it] not.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 19 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:154

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مُردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ تعالیٰ کی راه کے شہیدوں کو مرده مت کہو وه زنده ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبرنہیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مت کہا کرو کہ یہ مُردہ ہیں، (وہ مُردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں (ان کی زندگی کا) شعور نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کو جو اللہ کے راستے میں قتل کیے جائیں، مردے مت کہو، بلکہ زندہ ہیں اور لیکن تم نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو۔ کیونکہ وہ (حقیقتاً) زندہ ہیں مگر تم (ان کی زندگی کی کیفیت کو)۔ سمجھ نہیں سکتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مت کہو تم ان لوگوں کے بارے میں جو مارے جائیں اللہ کی راہ میں، کہ وہ مردہ ہیں، (کہ ایسے لوگ حقیقت میں مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم لوگ (ان کی اس زندگی کا) شعور نہیں رکھتے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو (نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں۔ البتہ تم ادراک نہیں کرسکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مت کہو ان کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں کہ وہ مردہ ہیں (وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And do not say of those who are slain in the way of Allah, "they are dead." In fact, they are alive but you do not perceive that life.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not say of those who are slain in the way of Allah that they are dead. Instead, they are alive, but you do not perceive.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not say of those who are slain in the way of Allah that they are dead. Instead, they are alive, but you do not perceive.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And say not of those who are killed in the way of Allah, "They are dead." Nay, they are living, but you perceive (it) not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And call not those who are slain in the way of Allah "dead." Nay, they are living, only ye perceive not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not say about those who are killed in the way of Allah, "They are dead." Rather, they are alive, but you perceive [it] not.

— Saheeh International

Do not consider those who are slain for the cause of God to be dead. They are alive but you are unaware of them.

— Muhammad Sarwar

And do not speak of those who are slain in Allah's way as dead; nay, (they are) alive, but you do not perceive.

— Muhammad Habib Shakir

And say not of those who are slain in the way of Allah: dead. Nay, they are living, but ye perceive not.

— Abdul Majid Daryabadi

And say not of those who are slain in the way of Allah: "They are dead." Nay, they are living, though ye perceive (it) not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:154

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خوردو نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہوگی ؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہوگا تو کہا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 154–155

سورة الْبَقَرَة 155 موت کا لفظ اور اس کا تصوّر انسان کے ذہن پر ایک ہمّت شکن اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے اس بات سے منع کیا گیا کہ شہداء فی سبیل اللہ کو مردہ کہا جائے، کیونکہ اس سے جماعت کے لوگوں میں جذبہء جہاد و قتال اور روح جاں فروشی کے سرد پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بجائے ہدایت کی گئی کہ اہل ایمان اپنے ذہن میں یہ تصوّر جمائے رکھیں کہ جو شخص خدا کی راہ میں جان دیتا ہے، وہ حقیقت میں حیات جاوداں پاتا ہے۔ یہ تصوّر مطابق واقعہ بھی ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ ہوتی اور تازہ رہتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 154–155

ربط اوپر ایک خاص ناگوار واقعہ میں صبر کی تعلیم اور صابرین کی فضیلت بیان فرمائی تھی آیات آئندہ میں اور بھی بعض واقعات خلاف طبع کی تفصیل اور اس میں صبر کی ترغیب اور فضیلت بیان فرماتے ہیں جن میں قتل و قتال مع الکفار کا مضمون مقدم فرماتے ہیں دو وجہ سے اول بوجہ اعظم ہونے کے کہ اعظم پر صبر کرنے والا اصغر پر بدرجہ اولی صبر کرے گا دوسرے خاص طور پر مناسب مقام ہونے کی وجہ سے کیونکہ معترضین مذکورین کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا تھا، خلاصہ تفسیر اور جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے) قتل کئے جاتے ہیں ان (کی ایسی فضیلت ہی کہ ان) کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

زندگی اور موت سے متعلق صحیح تصور : راہ عزیمت و استقامت میں استوار رہنے کے لیے دوسری چیز جو مطلب ہے، یہ اس کی طرف اشارہ ہے یعنی زندگی اور موت سے متعلق صحیح اسلامی تصور کا استحضار۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے نزدیک تو زندگی نام بس اسی دنیا کی زندگی کا ہے، جو آدمی مرا یا مارا گیا بس وہ ختم ہوگیا۔ لیکن مومن کے نزدیک تو یہ زندگی چند روزہ اور فانی زندگی ہے، اصلی زندگی کا، جو ابدی ہے آغاز تو اس کے نزدیک اس وقت سے ہوتا ہے، جب یہ زندگی ختم ہوتی ہے، یہ زندگی عالم برزخ اور پھر عالم آخرت میں حاصل ہوتی ہے۔ جہاں تک موت کے بعد زندگی کا تعلق ہے یہ حاصل تو کافر و مومن سب ہی کو ہوتی ہے لیکن کفار کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 154–156

154۔ 1 شہدا کو مردہ نہ کہنا ان کے اعزاز اور تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں یہ زندگی اعلٰے قدر مراتب انبیاء و مومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کی طرح جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں دیکھیے (ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بالْكِتٰبِ كُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 119؁) 3:119 (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 153–155

101: اس سورت کی آیت نمبر 40 سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

معرکہ حق و باطل میں کچھ لوگ کام آئیں گے ، راہ حق میں جان دیں گے ۔ کچھ عزیز ومحبوب مارے جائیں گے ، کچھ شرفاء اور دین دار بھی شہید ہوں گے ، تو جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں اور جو لوگ معرکہ خیر وشر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ، وہ بالعموم پاک نیت اور صاف دل اور صیقل شدہ روح کے مالک ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ اگر اللہ کی راہ میں مارے جائیں تو وہ مردہ نہیں ہیں ۔ درحقیقت وہ زندہ ہیں ۔ یہ جائز نہیں کہ انہیں مردہ کہو ، نہ تو اپنے احساس اور شعور میں انہیں مردہ سمجھو اور نہ ہی زبان سے انہیں مردہ پکارو ۔ وہ تو زندہ ہیں اور اللہ اس پر گواہ ہے ۔ وہ زندہ ہیں یقیناً وہ زندہ ! چشم ظاہر بیں ، دیکھتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جس نے اللہ کے لئے جان دی وہ اس جہان میں جیتے ہیں مگر تم کو ان کی زندگی کی خبر اور اس کی کیفیت معلوم نہیں اور یہ سب صبر کا نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 154 وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ اب پہلے ہی قدم پر اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی بات آگئی ع شرطِ اوّل قدم ایں است کہ مجنوں باشی ! ایمان کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ جانیں دینے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لاَّ تَشْعُرُوْنَ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں ان کو جنت میں داخلہ کے لیے یوم آخرت تک انتظار نہیں کرنا ہوگا ‘ شہداء کو تو اسی وقت براہ راست جنت میں داخلہ ملتا ہے ‘ لہٰذا وہ تو زندہ ہیں۔ یہی مضمون سورة آل عمران میں اور زیادہ نکھر کر سامنے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

194 کیونکہ موت کا لفظ اور اس کا تصور انسان کے ذہن پر ایک ہمت شکن اثر ڈالتا ہے اور لوگوں میں جذبہ جہاد فی سبیل اللہ کے سرد پڑجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہذا شہداء کو مردہ کہنے سے روک دیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شہید کی موت قوم کی حیات کا سبب بنتی ہے اور شہید دراصل حیات جاوداں پا لیتا ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ رہتی ہے۔ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے جسم میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرش کے ساتھ کچھ قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ یہ روحیں جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں۔ (مسلم، کتاب الامارۃ باب فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

،566 ۔ (عالم برزخ میں ایک خاص حیات کے ساتھ، اور عام انسانوں کی طرح مردہ نہیں) (آیت) ” فی سبیل اللہ “ یعنی دین حق کی راہ میں۔ مذہب صحیح کی خاطر۔ اے فی طاعتہ واعلاء کلمتہ (روح) غزوہ بدر میں جب کچھ صحابہ شہید ہوگئے تو نافہم کافروں نے کہنا شروع کیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوادی۔ اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب مل رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو، اس میں وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں بڑھ کر ہر لذت سے لذت یاب ہورہے ہیں۔ اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں۔ برزخی زندگی اپنی عام صورت میں تو سب ہی کے لیے ہے۔ لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 154–157

شان نزول : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ غزوہ بدر میں جب چند صحابہ شہید ہوگئے جن کی تعداد چودہ تھی چھ مہاجر اور آٹھ انصار تھے تو نافہم منافقوں اور کافروں نے کہنا شروع کردیا کہ انہوں نے خواہ مخواہ اپنی زندگی گنوا دی، اور زندگی کے لطف سے محروم ہوگئے، انہیں جواب دیا جا رہا ہے کہ تم جس معنی میں انہیں مردہ سمجھ رہے ہو اس معنی کے اعتبار سے وہ سرے سے مردہ ہی نہیں بلکہ زندوں سے کہیں زیادہ لذت سے لذت یاب ہو رہے ہیں، اصطلاح میں ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں، برزخی زندگی اپنے عام معنی میں تو سب ہی کے لئے ہے لیکن شہیدوں کو اس عالم میں ایک خصوصی اور امتیازی زندگی نصیب ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ( اور نہ کہو جو لوگ مارے جائیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مردے ہیں) امْوَاتٌمبتدائے محذوف (ھُم) کی خبر ہے یہ آیت شہدائے بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ شہداء بدر میں چھ آدمی تو مہاجرین میں سے تھے اور آٹھ انصار سے لوگ ان کی نسبت کہا کرتے تھے کہ ہائے فلاں شخص مرگیا اور دنیا کی نعمت اس سے چھوٹ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کے ازالہ اور ان کے درجات پر آگاہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔ بَلْ اَحْيَاۗءٌ ( بلکہ وہ زندہ ہیں) شہداء کے زندہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ انکی ارواح کو جسم کی سی قوت عطا فرماتے ہیں کہ اسکے ذریعہ سے وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(154) بدر، احد اور تمام غزوات کے شہداء کے متعلق منافقین کا جو مقولہ تھا اب اللہ تعالیٰ اس کی تردید فرماتے ہیں یہ لوگ کہتے تھے کہ فلاں شخص مرگیا اور اس سے سرور اور نعمتیں ختم ہوگئیں تاکہ اس چیز سے کاملین کو صدمہ وافسوس ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ بدر اور تمام غزوات میں شہید ہوگئے ہیں وہ دوسرے مرنے والوں کی طرح نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت کی طرح جنت میں حیات ہیں، ان کو وہاں طرح طرح کے تحفے ملتے ہیں مگر تم ان حضرات کی کرامت و بزرگی اور ان کی حالت سے واقف نہیں ہو۔ شان نزول : ولا تقولوا لمن یقتل“ (الخ) ابن مندہ ؓ نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں سدی صیغر ؒ کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ کے حوالہ سے حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

جہاد میں سب سے بڑی مصیبت جان کا جانا ہے، اس پر صبر کی تلقین اس طرح فرمائی کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مت کہو کہ مردے ہیں، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم اس زندگی کو نہیں سمجھتے۔ آل عمران (169) میں شہداء کی اس زندگی کے عیش و آرام کا ذکر ہے۔ معلوم ہوا کہ وہ زندگی دنیاوی زندگی نہیں، نہ ہم اسے سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ مرنے کے بعد برزخ (قبر) میں ہر شخص کو زندگی حاصل ہے۔ (دیکھیے مومن : 11، 46۔ نوح : 25۔ ابراہیم : 27) مگر مومن کی روح راحت میں ہے اور کافر کی روح کو عذاب ہو رہا ہے۔ احادیث کے مطابق قبر ہی میں ان کے لیے جنت یا دوزخ کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ یہ زندگی انبیاء کو سب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 154 یہ اس آیت کی مثل ہے : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا، بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ (آل عمران) اس آیت کے تحت شہید اور شہداء کے احکام کا بیان آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جب اللہ تعالیٰ شہداء کو ان کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے تاکہ انہیں رزق دے تو جائز ہے کہ وہ کفار کو زندہ کرے تاکہ انہیں عذاب دے۔ اس آیت میں عذاب قبر پر دلیل ہے۔ شہداء زندہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ زندہ ہوں گے۔ اگر یہ معنی ہوتا تو شہداء اور دوسرے لوگوں میں فرق نہ ہوتا کیونکہ آئندہ تو ہر ایک زندہ ہوگا۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ولکن لا تشعرون بھی دلالت کرت ا ہے۔ مومنین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

شہید کی فضیلت کا ذکر (1) ابن منذر نے المعرفہ میں السدی الصغیر کے طریق سے الکلبی سے انہوں نے ابو صالح سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تمیم بن حمام ؓ بدر میں شہید ہوئے ان کے بارے میں اور ان کے علاوہ (دوسرے شہیداء) کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ (الآیہ) (2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لمن یقتل فی سبیل اللہ “ کا معنی ہے ” فی طاعۃ اللہ فی قتال المشرکین “ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشرکین سے جنگ کرنا۔ (3) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولا تقولوا لمن یقتل فی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَا تَقُوْلُوْا : اور تم لوگ مت کہو ] [ لِمَنْ : ان کے لیے جو ] [ یُّقْتَلُ : قتل کیے جاتے ہیں اور قتل ] [ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کی راہ میں کیے جائیں گے ] [ اَمْوَاتٌ : (کہ وہ لوگ) مردہ ہیں ] [ بَلْ : بلکہ ] [ اَحْیَـآئٌ : (وہ لوگ) زندہ ہیں ] [ وَّلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ لَّا تَشْعُرُوْنَ : تم لوگ شعور نہیں رکھتے اور نہ رکھو گے ] ترکیب : ” وائو “ عاطفہ ” وَلَا تَقُوْلُوْا “ فعل نہی ‘ فاعل وائو ضمیر۔ ” لِمَنْ “ میں ” لام “ حرفِ جر ” مَنْ “ اسم موصول ” یُقْتَلُ “ فعل مضارع مجہول ۔ اس میں ضمیر ” ھُوَ “ راجع بسوئے ” مَنْ “ ” فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ “ جار و مجرور متعلق ” یُقْتَلُ “۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

شہداء کے فضائل علامہ واحدی اسباب النزول (ص 40) میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت بدر میں شہید ہو جانیوالے مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جن میں آٹھ حضرات انصار میں سے اور چھ حضرات مہاجرین میں سے تھے۔ شہید ہوجانے والوں کے بارے میں بعض لوگوں نے یوں کہا کہ فلاں مرگیا اور دنیا میں لذت اور نعمت اس سے فوت ہوگئی تو آیات بالا کا نزول ہوا۔ 1 ھ اللہ کے دین کے پھیلانے اور حق کے آگے بڑھنے میں جو لوگ آڑے آتے ہیں ان سے نبٹنے کے لیے جہاد اور قتال کرنا پڑتا ہے جب جہاد کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ سب کافر ہی مقتول ہوں اس میں بہت سے مسلمان بھی مقتول ہوجاتے ہیں ان مقتول مسلمانوں کو شہداء کا معزز خطاب دیا گیا ہے۔ شہیدوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بیان حیات شہداء کے از ثمرات صبراست۔ قال تعالی، ولاتقولوا لمن یقتل۔۔۔ الی۔۔ لاتشعرون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں صبر کی فضیلت کا بیان تھا کہ صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت حاصل ہوتی ہے اور آگے ارشاد فرمایا کہ جو مقام صبر میں انتہاء کو پہنچ جائے کہ خدا کی راہ میں جان دے دینا بھی اس کو شیریں اور لذیذ معلوم ہو تو اس پر خداوندحی وقیوم کی بےچون وچگون حیات کا ایک عکس اور پر تو پڑتا ہے جس سے اس کو ایک خاص قسم کی حیات حاصل ہوتی ہے چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جن صابرین نے خدا کی راہ میں جان نثاری کی ہو ان کی حیات میں تردد نہ کرو اور جو صابر خدا کی راہ میں مارے گئے اور ان کی اس میں کسی قسم کی دنیوی اور نفسانی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

288 پہلے مصائب پر سبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ اب یہاں بیان فرمایا کہ تحویل قبلہ کے معاملہ میں اگر کوئی مسلمان یہودیوں کے ہاتھوں شہید ہوجائے تو اس کی موت چونکہ اللہ کی راہ میں واقع ہوئی ہے۔ اس لیے اسے مردہ مت کہو اسی طرح جو لوگ اللہ کے دین کی خاطر کافروں سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہو کرداغِ جدائی دے گئے کیونکہ وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں۔ انہیں بھی مردے مت کہو۔ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ بلکہ وہ تو زندہ ہیں۔ لیکن تمہیں اس کا ادراک نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی ایک بہت بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے کہ ان کو دنیا سے رخصت ہوجانے اور فی سبیل اللہ مقتول ہو کر طبعی موت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 153–154

گزشتہ سے پیوستہ بنی اسرائیل کا شکوہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور ﷺ کی رسالت کا تذکرہ فرمایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ” کما ارسلنا فیکم رسلواً منکم “ اور ملت ابراہیم کا ذکر فرمایا اور اس کے بنیادی اصول بیان کئے۔ بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر ہونے پر یہودیوں کے اعتراضات کا تذکرہ ہوا۔ اس کا مزید بیان آگے بھی آئے گا۔ ” فاذ کرونی اذکرکم واشکروالی ولا تکفرون “ سے ایک نیا باب شروع ہوا۔ شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی اسے اپنی حکمت میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس باب میں تہذیب الاخلاق کے بڑے بڑے اصول بیان ہوئے ہیں۔ برسر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ۝ 0 ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ۝ 154 قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 153–157

ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ طبَلْ َحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔ (البقرۃ۔ 154) (اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہوبل کہ وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے) زندگی اور موت سے متعلق اسلامی تصور حق و باطل کی کشمکش میں سب سے مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی خاطر جان دینی پڑے۔ انسان کتنا بھی بہادر ہو وہ بہرحال زندگی سے پیار کرتا ہے۔ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زندہ رہنا چاہتا ہے۔ زندگی اگر سب سے بڑی نعمت اور سرمایہ ہے تو اسے کھو دینا کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا۔ جب کوئی سننے والا یہ سنتا ہے کہ فلاں شخص اس راستے میں مارا گیا تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : شہادت کے وقت صبر کرنا کیونکہ یہ فوت ہونے والے اور لواحقین کے لیے بہت بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ شہداء کے مرتبہ ومقام، ان کے عظیم اور مقدس مشن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو عزت و تکریم دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جن لوگوں نے میرے راستے میں اپنے جسم کے ٹکڑے کروائے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ان کو مردہ شمار کرنے کے بجائے زندہ وجاوید تصور کیا جائے۔ بظاہر ان کے گرامی قدر وجود دنیائے فانی سے دار جاودانی میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بےمثال غیرت ایمانی اور قربانی کی وجہ سے اپنی قوم اور معاشرے میں یاد رکھے جائیں گے۔ کیونکہ ان کی موت سے قوم میں زندگی کا نیا جذبہ، جوش اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 154: شہدائے بدر : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآئٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ : ( اور تم نہ کہو ان کو جو لوگ مارے جائیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم سمجھ نہیں سکتے) ولا تقولوا یہ شہدائے بدر کے متعلق نازل ہوئی ان کی تعداد چودہ تھی۔ اموات یہ مبتدا محذوف ہُمْکی خبر ہے کہ وہ مردہ ہیں۔ بل احیاء یعنی وہ زندہ ہیں۔ عدم شعور کی تفسیر : لاتشعرون۔ یعنی تم اس کو نہیں جانتے۔ کیونکہ شہید کی زندگی حساً معلوم نہیں ہوسکتی۔ حضرت حسن ؓ سے مروی ہے کہ شہداء اللہ کے ہاں زندہ ہیں۔ ان کا رزق ان کی ارواح کو پہنچایا جاتا ہے پس ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

154۔ (آیت)” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “ یہ آیت کریمہ ان مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ بدر میں شہید ہوگئے اور یہ چودہ آدمی تھے چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے ، جو شخص راہ خدا میں شہید ہوجاتا لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے ” مات فلان “ کہ فلاں شخص مرگیا اور اس سے دنیا کی نعمتیں اور لذتیں چلی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بل احیاء ولکن لا تشعرون “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے شہداء احد کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت)” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ ۔ (آیت)” بل احیاء عند ربھم یرزقون “ حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 153–154

(153 ۔ 154) ۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان آدمی کو ہر طرح بھلائی پہنچ سکتی ہے اگر وہ نعمت کے وقت شکر اور مصیبت کے وقت صبر کرے 3۔ پہلی آیت میں شکر نعمت کا ارشاد تھا اور اس آیت میں وصیبت کے وقت صبر کا ارشاد ہے اس لئے کہ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا وہ صاحب نعمت ہوگا یا صاحب مصیبت ان دونوں حالتوں کے باہمی تعلق کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے صبر کا ذکر شکر نعمت کے بعد فرمایا تاکہ یہ آیت پہلی آیت کا ایک جز قرار پا کر شکر اور صبر کا حکم ایک جگہ ہوجاوے۔ مسند امام احمد (رح) ابو داؤد وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 154 چونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام احوال میں صبر سے مدد لینے کا حکم دیا ہے اس لئے اس نے ایک نمونہ ذکر فرمایا ہے جس میں صبر سے مدد لی جاتی ہے اور وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے جو سب سے افضل بدنی عبادت ہے۔ اپنی مشقت کی وجہ سے یہ نفوس انسانی پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے نیز یہ عبادت نفوس انسانی پر اس لئے بھی گراں ہے کہ اس کا نتیجہ موت اور عدم حیات ہے اور زندگی ایک ایسی چیز ہے کہ لوگ اس دنیا میں زندگی اور اس کے لوازم کے حصول میں رغبت رکھتے ہیں۔ پس ہر وہ چیز جس میں لوگ تصرف کرتے ہیں اس کے حصول کے لئے کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ضد کو دور کیا جاتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ عقل مند شخص اپنی محبوب چیز…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے : ولا تقولو ا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون ( اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا) اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو ان کی موت کے بعد زندہ کردیتا ہے۔ اس سے یہ مراد لینا درست نہیں کہ انہیں قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا، اس لئے کہ اللہ کی مراد یہ ہوتی تو یہ نہ فرماتا : ولکن لا تشعرون اس لئے کہ اللہ سبحانہ کا یہ ارشاد اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ موت کے بعد ان کی زندگی کا ہمیں علم نہیں ہے۔ اگر قیامت کے دن انہیں زندہ کرنا مراد ہوتا تو اہل ایمان کو اس کا شعور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

424 شہداء کی خصوصی حیات برزخی کا ذکر وبیان : سو وہ زندہ ہیں اپنی اس حیات برزخی کے اعتبار سے، جو کہ ان کو وہاں پر حاصل ہے اور جو دوسرے لوگوں کی حیات سے الگ ایک امتیازی شان رکھتی ہے (البیضاوی، المراغی، القاسمی، الروح، الصفوۃ اور الجامع وغیرہ) ۔ ورنہ یہ دنیاوی زندگی تو بہرحال ان سے منقطع ہوجاتی ہے۔ اور موت کے عمومی اثرات و احکام جو دوسرے لوگوں اور عام مردوں پر مرتب ہوتے ہیں، وہ ان پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ چناچہ ان کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، ان کو دفن کیا جاتا ہے، ان کی بیویاں بیوہ قرار پاتی ہیں، ان کے آگے نکاح کئے جاتے ہیں، ان کے بچے یتیم کہلاتے ہیں، اور ان کی میراث تقسیم کی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

شہادت کی موت تشریح : اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مارا جائے اس کو شہید کہتے ہیں اور اللہ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ دراصل مرتا نہیں بلکہ وہ زندہ رہتا ہے اور رزق سے نوازا جاتا ہے، اس کا شعور واقعی انسان کو ہرگز نہیں ہوسکتا، مگر مجاہد کے اوصاف اتنے اعلیٰ ، لازوال اور بلند ہوتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر سوچا جاسکتا ہے کہ اسے انسان تو کیا موت بھی شکست نہیں دے سکتی۔ مجاہد کے اوصاف اس کو ایک عام انسان سے بہت بلند کردیتے ہیں چناچہ ایک مجاہد مندرجہ ذیل صفات کا حامل ہوتا ہے۔ خلوص، شوق آخرت، شجاعت، صبر و استقامت، ظلم سے پرہیز، اطاعت امیر اور سب سے بڑھ کر اللہ اور رسول ﷺ کی محبت میں فنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 153–163

آیات 153- 163 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔ نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے : ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اوپر کی آیت میں اقامت دین کے لیے صبر وصلوہ سے کام لینے کا حکم دیا گیا ہے اب یہاں جہاد کی ترغیب ہے۔ ( کبیر) جب غزوہ بدر میں کچھ صحابہ (چودہ) شہید ہوگئے تو بعض لوگ کہنے لگے فلاں مرگیا۔ اس سے زندگی کا عیش و آرام چھین گیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شہدا کے متعلق کفا رنے اس قسم کی باتیں کیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (فتح البیان کبیر) شہیدوں کو بر زخی حیات حاصل ہے اور احادیث سے ثابت ہے کہ ان کی روحیں جنت میں عیش و آرام سے بسر کر رہے ہیں (دیکھئے آل عمران حاشیہ آیت 169 ۔ 170) اور قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد برزخ ( قبر) میں ہر شخص کو زندگی حاصل ہے۔ دیکھئے سورت غافر حاشیہ آیت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:154) بل۔ حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لیے آیا ہے۔ یعنی تمہارا ان کو (شہداء کو) اموات کہنا بالکل باطل بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ احیاء (زندہ) ہیں احیاء زندہ لوگ حی کی جمع ہے۔ لا تشعرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ شعور (باب نصر) مصدر۔ جس کے معنی بذریعہ حس جاننے کے ہیں۔ تم نہیں جانتے ہو۔ تم نہیں سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 153–157

لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157 یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 153 تا 157 اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شہداء کرام کا ذکر شان نزول : یہ آیت شہداء کے حق میں نازل ہوئی۔ لوگ شہداء کے حق میں کہتے تھے کہ فلاں کا انتقال ہوگیا وہ دنیوی آسائش سے محروم ہوگیا ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازہوئی کہ موت کے بعد بھی اللہ شہداء کو حیات عطا فرماتا ہے ، ان کی ارواح پر رزق پیش کئے جاتے ہیں ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، اجروثواب بڑھتا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ مسئلہ : اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کو قبر میں جنتی نعمتیں ملتی ہیں۔ شہید وہ مسلمان مکلف طاہر ہے جو تیز ہتھیار سے ظلماً مارا گیا ہو ، اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 153–155

[101] منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب امت مسلمہ کو ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے یہ ہے کہ منصب امامت پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک عظیم الشان اور پرخطر خدمت بنی نوع انسان ہے جس کے نتیجہ میں طرح طرح کی مشکلات و مصائب کی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

شہید زندہ ہیں : (ف 3) جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں اور خدا کے حضور اپنے خون کا ارمغان ثمین پیش کریں ‘ وہ ہر گو نہیں مرتے ، تاریخ کے صفحات میں ‘ دل کی گہرائیوں میں ‘ بہادروں کے تذکرے ہیں اور اللہ کے ہاں وہ زندہ ہوتے ہیں ، یعنی میدان جنگ میں مرنا موت نہیں ، بستر مرگ پر بزدلانہ جان دینا موت ہے کفار ان لوگوں کو جو جہاد میں شہید ہوجائیں ، کہتے ہیں کہ وہ ناحق مر گئے ، منافقین کا خیال تھا کہ وہ اگر میدان جنگ میں نہ جاتے تو موت کے مضبوط چنگل سے بچ جاتے ، قرآن حکیم کہتا ہے تم جسے موت سمجھتے ہو ‘ اس پر ہزار زندگیاں قربان ، اللہ کے ہاں جو ان کے مرتبے ہیں وہ تمہارے نہیں ، یہ زندگی جو شہدا کے لئے ‘…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 154–156

ف 3 اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردئیے جائیں ان کے متعلق یوں نہ کہو کہ وہ مردے ہیں اور وہ مرچکے ہیں بلکہ وہ تو زندہ ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ تم ان کی حیات کا ادراک نہیں کرسکتے اور یاد رکھو ہم تم کو مختلف آزمائشوں میں مبتلا کریں گے اور قدرے خوف اور کسی قدر فقرو فاقہ سے اور تھوڑے سے مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی سے تمہارا امتحان لیں گے اور اے پیغمبر آپ ایسے صبر کرنیوالوں کو بشارت دیدیجئے جن کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت بھی پہنچتی ہے تو وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور ہم سب کی بازگشت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اور ہم سب اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔ (تیسیر) اللہ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 154–156

ف 4۔ ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کے متعلق گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شہید کی موت کبھی موت نہیں ہوتی بلکہ وہی تو اصل حیات ہے : 277: اب ان آیات میں ان مواقع کا ذکر کیا جاتا ہے جہاں صبر کے بغیر چارہ نہیں اور جوہر راہ رو حق کے لئے ضروری و ناگزیر ہیں کہ بغیر ان تکالیف و مصائب کے اچھے اور برے میں تمیز نہیں ہوسکتی ۔ قرآن کریم نے اکثر مقامات پر جہاں لڑائیوں کا فلسفہ بیان کیا ہے وہاں باربار اس حقیقت کبریٰ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جنگ صرف اس لئے ہوئی اور ان مصیبتوں کا نزول اس بنا پر ہوا کہ منافق اور مؤمن میں تمیز ہوجائے چناچہ ارشاد الٰہی ہے : وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ 1ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ00140 وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 154–155

Earlier, alluding to an unpleasant incident, patience and steadfastness were inculcated and the excellence of Sabirun (the patient people) was mentioned. The next verses mention, in some detail, other unpleasant incidents and culminate in describing the excellence of pa-tience, and perseverance in it. Those verses give preference to the theme of war with infidels over other themes for two reasons: first, the sacrifice of life is a grand sacrifice; whoever steadfastly endures this loss will, undoubtedly, learn to be patient on losses of lesser magnitude; second, it is relevant to the situation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 154–155

155. The word 'death' as well as its general concept has a depressing effect. People have therefore been instructed not to refer to martyrs who laid down their lives for God as 'dead', since this might lead to the dissipation of the spirit which enables people to struggle and make sacrifices in God's cause. Instead, people have been instructed to bear in mind that anyone who lays down his life for God has in fact attained immortality. As well as being a statement of fact this also helps to arouse and sustain courage.

Read the full tafseer →