موسیٰ ؑ اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے ؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 153
منصب امامت پر مامور کرنے کے بعداب اس اُمّت کو ضروری ہدایات دی جارہی ہیں۔ مگر تمام دوسری باتوں سے پہلے انہیں جس پات پر متنبہ کیا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ کوئی پھُولوں کا بستر نہیں ہے، جس پر آپ حضرات لٹائے جارہے ہوں۔ یہ تو ایک عظیم الشّان اور پُر خطر خدمت ہے، جس کا بار اٹھانے کے ساتھ ہی تم پر ہر قسم کے مصائب کی بارش ہوگی، سخت آزمائشوں میں ڈالے جاؤ گے، طرح طرح کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے۔ اور جب صبر و ثبات اور عزم و استقلال کے ساتھ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے خدا کی راہ میں بڑھے چلے جاؤ گے، تب تم پر عنایات کی بارش ہوگی۔
سورة الْبَقَرَة 154
یعنی اس بھاری خدمت کا بوجھ…
Read the full tafseer →ربط
تحویل قبلہ میں جو مخالفین کی طرف سے اعتراض تھا اس کے دو اثر تھے ایک مذہب اسلام پر کہ اعتراض سے مذہب کی حقانیت میں شبہ پیدا کیا جایا کرتا ہے، اوپر کی آیتوں میں اس اعتراض کا جواب دے کر اس کا اثر کا دفع کرنا مقصود تھا دوسرا اثر طبائع اہل اسلام پر کہ اعتراض سے بالخصوص جواب دینے کے بعد بھی اس پر بےجا اصرار کرنے سے قلب میں رنج اور صدمہ پیدا ہوتا ہے آیت آئندہ میں تخفیف حزن کا طریقہ کہ صبر وصلوۃ ہے بتلا کر اس دوسرے اثر کو زائل فرماتے ہیں،
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! (طبیعتوں میں غم ہلکا کرنے کے بارے میں) صبر اور نماز سے سہارا (اور مدد) حاصل کرو بلاشبہ حق تعالیٰ (ہر طرح سے) صبر کرنے والوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →منصب امامت کی مشکلات اور ان کا علاج : اب اس آیت اور آگے کی چار آیات میں ان خطرات و مشکلات کے مقابلہ کی تدابیر بتائی جا رہی ہیں، جو اس منصب امامت کے بعد پیش آئیں گی یا پیش آسکتی ہیں۔ یہود کو مسلمانوں کے ساتھ جو عناد تھا وہ تو اچھی طرح اوپر واضح ہوچکا ہے مگر قبلہ کے اس اشتراک کی وجہ سے یہود اب تک اس تمام اختلاف و نزاع کے اندر اتفاق کی بھی ایک جھلک دیکھتے تھے۔ لیکن تحویل قبلہ کے بعد انہوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان اب ملت ابراہیم کے وارث کی حیثیت سے اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ ان سے بالکل ممیز ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ اس چیز نے قدرتی طور پر مسلمانوں کے خلاف ان کے غیظ و غضب کو دو چند کردیا۔…
Read the full tafseer →153۔ 1 انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں آرام اور راحت (نعمت) یا تکلیف و پریشانی۔ نعمت میں شکر الہی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے مدد کی تاکید ہے۔ حدیث میں ہے ـ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں۔ (صحیح مسلم) صبر کی دو قسمیں ہیں، برے کام کے ترک اور اس سے بچنے پر صبر اور لذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر۔ دوسرا احکام الٰہی کے بجا لانے میں جو مشکلیں اور تکلیفیں آئیں، انہیں صبر اور ضبط سے برداشت کرنا۔ بعض لوگوں نے اس کو اس طرح تعبیر کیا ہے۔ اللہ کی پسندیدہ باتوں پر عمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
101: اس سورت کی آیت نمبر 40 سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہوگیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہورہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے ؛ کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آرہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑرہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہورہے تھے یا…
Read the full tafseer →قرآن کریم میں صبر کا تذکرہ بتکرار ہوا ہے ۔ اس لئے کہ تحریک اسلامی کو سخت ترین مخالفتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اس راہ میں صبر و استقامت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ تحریک اسلامی کو مسلسل مشکلات اور لگاتار کشمکشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا لہٰذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل ایمان صبر سے کام لیں اور ان کے نفوس داخلی اور خارجی معاملات میں بیدار رہیں ۔ اہل ایمان کی قوتیں منظم رہیں اور ان کے اعصاب پختہ رہیں ۔ ایسے حالات میں صبر و استقامت کے سوا چارہ کار ہی کیا ہے ؟ اس طرح عبادت میں بھی صبر کی ضرورت ، گناہوں سے بچنے میں صبر کی ضرورت ، غرض ان مختلف النوع سازشوں کے خلاف صبر ،…
Read the full tafseer →5 چونکہ ذکر اور شکر اور ترک کفران جو پہلے مذکور ہوئے تمام طاعات اور منہیات شرعیہ کو محیط ہیں جن کا انجام دینا دشوار امر ہے اس کی سہولت کیلئے یہ طریقہ بتلایا گیا کہ صبر اور صلوٰۃ سے مدد لو کہ ان کی مداومت سے تمام امور تم پر سہل کردیئے جائیں گے اور اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جہاد میں محنت اٹھاؤ جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ اس میں صبر اعلیٰ درجہ کا ہے۔
Read the full tafseer →سورة البقرۃ کے انیسویں رکوع سے اب امت مسلمہ سے براہ راست خطاب ہے۔ اس سے قبل اس امت کی غرض تأسیس بایں الفاظ بیان کی جا چکی ہے : لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا ط آیت 143 ”تاکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول ﷺ تم پر گواہی دینے والا بنے“۔ گویا اب تم ہمیشہ ہمیش کے لیے ٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ ہو۔ ایک حدیث میں علماء حق کے بارے میں فرمایا گیا ہے : اِنَّ الْعُلَمَاءَ ھُمْ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَاءِ 17 ”یقیناً علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں“۔ اس لیے کہ اب نبوت تو ختم ہوگئی خاتم المرسلینٌ محمد رسول اللہ ﷺ ‘ پر ‘ لیکن یہ…
Read the full tafseer →192 مشکل اور آڑے وقت میں صبر اور نماز سے مدد لینے کا حکم پہلے اسی سورة کی آیت نمبر 45 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس مقام پر اس کی مناسبت یہ ہے۔ تحویل قبلہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو جس امامت کے لیے تیار کرنا مقصود ہے تو اس کی راہ میں بیشمار مشکلات اور مصائب پیش آنے والے ہیں۔ لہذا اے مسلمانو ! ایسے اوقات میں صبر اور نماز سے کام لو۔ صبر سے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پا لیتا ہے اور نماز ان حالات میں نفس انسانی کو اطمینان بخشتی ہے۔ بندہ کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے اور یہی توکل مشکلات میں ثابت قدم رہنے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا ثابت ہوتا ہے۔
193 صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسے…
Read the full tafseer →564 ۔ یعنی ہجوم مشکلات کے وقت بھی مشکل کشائے حقیقی سے تعلق برابر جوڑے رہو۔ اس پر بھروسہ رکھو، اس کے آگے جھکتے رہو، گرتے رہو۔ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کسی بڑی اور پر قوت ہستی سے تعلق قائم ہوجانے سے دل کو کتنی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ خطرہ کے وقت پولیس کے پہنچ جانے سے، کسی بڑے حاکم کے آجانے سے دل کو کیسی ڈھارس بندھ جاتی ہے، شدید بیماری کے وقت کسی نامور طبیب کے آجانے سے ٹوٹی ہوئی آس کیسی جڑ جاتی ہے۔ پھر جب دل کا ربطہ ہمہ بین وہمہ داں، ناصر حقیقی ومحافظ حقیقی سے قائم ہوجائے، تو انسان بےبنیان کی تسکین خاطر وتقویت قلب کا کیا پوچھنا ! دنیا میں رہ کر، زندگی کی کشمکش میں پڑکر، مشکلات ومصائب کا پیش آتے رہنا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 153 تا 158
ترجمہ : اے ایمان والو ! طاعت اور مصیبت پر صبر اور نماز سے آخرت کے لئے مدد چاہو نماز کو اس لے بار بار آنے اور اس کی عظمت شان کی وجہ سے خاص طور پر مکرر ذکر کیا ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا مدد کے ذریعہ ساتھ دیتا ہے اور راہ خدا کے شہدوں کو مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں جنت میں جہاں چاہیں گھومتی ہیں، اس مضمون کی حدیث کی وجہ سے، لیکن جس کیفیت میں وہ ہیں تم نہیں سمجھ سکتے اور ہم تم کو دشمن کے خوف اور قحط کی فاقہ کشی اور مال کے ضیاع کے ذریعہ نقصان نیز جانوں میں قتل اور امراض اور موت کے ذریعہ ضرور آزمائیں گے، اور پھلوں میں روگ سے نقصان کے…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ ( اے ایمان والو مدد چاہو صبر سے) یعنی اپنے حوائج دینی اور دنیوی میں خاص کر درجات قرب و معرفت کے حاصل کرنے میں صبر اور نماز سے مدد لو۔ صبر لغت میں روکنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اپنی خواہشات نفسانیہ کو رو کو کیونکہ جہنم ان ہی سے ڈھکی ہوئی ہے اور اپنے نفس کو جانی اور مالی مشقتوں اور سختیوں پر روکو کیونکہ جنت ان ہی سے گھری ہوئی ہے۔ نیز بری مجالس سے یکسوئی اور ذکر وطاعت پر نفس کو مجبور کرو کیونکہ رسول اللہ نے خلوت کی فضیلت میں فرمایا ہے کہ مسلمان کا عمدہ مال بکریاں ہیں کہ انہیں لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی میں چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو…
Read the full tafseer →(153) یعنی فرائض خداوندی کی ادائیگی اور گناہوں کے چھوڑنے اور رات دن نفلیں ادا کرنے اور گناہوں کے ختم کرنے پر ایسے لوگوں کا اللہ تعالیٰ مددگار اور حفاظت کرنے والا ہے اور صبر کرنے والوں کی مدد کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →ذکر و شکر کے ساتھ صبر اور نماز کی تعلیم دی ہے۔ احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں صبر اور نماز پر ہمیشگی ان مشکلات کا مقابلہ کرنے میں معاون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومن کا معاملہ عجیب ہے، کیونکہ اس کا سارا کام ہی خیر ہے اور یہ چیز کسی اور کو حاصل نہیں۔ (خیر اس طرح کہ) اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔“
[ مسلم، الزہد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر : 2999، عن صہیب ؓ ]
اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے تذکرہ کے بعد (جن میں بیت اللہ کو قبلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
آیت نمبر 152 تا 153
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذکرونی اذکرکم یہ امر اور جواب امر ہے۔ اس میں مجازاۃ کا معنی ہے۔ اس وجہ سے اسے جزم دی گئی ہے۔ ذکر کی اصل مذکور کے لئے دل کا متنبہ ہونا اور اس کے لئے دل کا بیدار ہونا۔ ذکر باللسان کو ذکر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ذکر قلبی پر دلالت کرتا ہے لیکن جب زبانی ذکر پر کثرت سے ذکر کا اطلاق ہوا تو یہی ذکر سمجھا جانے لگا۔ آیت کا معنی ہے : تم اطاعت کے ساتھ میرا ذکر کرو میں تمہارا ثواب اور مغفرت کے ساتھ ذکر کروں گا۔ یہ حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے اور اسی طرح فرمایا : ذکر، اللہ کی اطاعت نہ کی اس نے اس کا ذکر نہیں کیا، اگرچہ وہ کثرت سے تسبیح، تہلیل اور قرآن کی تلاوت…
Read the full tafseer →(1) امام الحاکم اور بیہقی نے دلائل میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ (میرے والد) عبد الرحمن بن عوف ؓ کو ان کے درد (کی شدت) میں غشی طاری ہوگئی لوگوں نے گمان کیا کہ (اس پر) ان کی جان چلی گئی (یعنی ان کی وفات ہوگئی) یہاں تک کہ لوگ ان کے پاس کھڑے ہوگئے اور ان کو کپڑا اوڑھا دیا۔ اور ان کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ ؓ مسجد میں گئیں مدد حاصل کر رہی تھی اس چیز کے ساتھ جس کا حکم کیا گیا تھا (یعنی) صبر اور نماز کے ساتھ وہ لوگ کچھ دیر ٹھہرے رہے اس حال میں کہ غشی میں تھے ان کو افاقہ ہوا۔
Read the full tafseer →(یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ) (اسْتَعِیْنُوْا : تم لوگ مدد طلب کرو (اللہ کی) بِالصَّبْرِ : ثابت قدمی کے ذریعے ) (وَالصَّلٰوۃِ : اور نماز کے ذریعے) (اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ) (مَعَ الصّٰبِرِیْنَ : ثابت قدم لوگوں کے ساتھ ہے)
ص ب ر
صَبَرَ (ض) صَبْرًا : مشکل اور ناموافق حالات میں عقل کے تقاضے پر قائم رہنا ‘ ثابت قدم رہنا ‘ برداشت کرنا۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّھُمْ ط } (الاحقاف :35) ” تو آپ ﷺ ثابت قدم رہیں جیسے کہ ثابت قدم رہے عزم والے رسولوں میں سے اور آپ ﷺ جلدی نہ کریں ان کے لیے (یعنی کافروں کے لیے…
Read the full tafseer →صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد مانگنے کا حکم
اس سے پہلی آیت میں ذکر اور شکر کا حکم فرمایا اور اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ صبر اور صلاۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ لفظ صبر کا لغوی معنی رکنے اور ٹھہر جانے کا ہے۔ شریعت میں یہ لفظ تین معنی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اول اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور طاعت و فرما نبرداری پر لگائے رہنا دوم اپنے نفس کو گناہوں سے روک کر رکھنا۔ سوم آفات اور مصائب پر جو تکلیف ہوا سے سہ جانا اور اس طرح سے گزر جانا کہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر راضی ہو اور اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرے اور دکھ تکلیف اور مصیبت پر ثواب کا امید وار رہے عام لوگ صبر صرف تیسرے…
Read the full tafseer →طریقہ تصیل ذکر وشکر وبیان فضیلت صبر۔
قال تعالی، یا ایھا الذین آمنواستعینوا۔۔۔ الی۔۔۔ الصابرین۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں ذکر وشکر کا حکم تھا اور کفران نعمت کی ممانعت تھی اور ذکر وشکر میں تمام احکام خداوندی کا بجالانا داخل تھا اور کفران نعمت کی ممانعت میں تمام منہیات اور ممنوعات سے بچنا داخل تھا اور تمام احکام کا بجالانا اور تمام ممنوعات سے بچنا بظاہر بہت دشوار ہے اس لیے آئندہ آیت میں مسلمانوں کو ذکر اور شکر کے حاصل کرنے کا طریقہ بتلاتے ہیں چناچہ ارشاد فرماتے ہیں اے ایمان والو اگر ذکر اور شکر اور درجات قرب اور معرفت کے حاصل کرنے میں دشواری معلوم ہو تو صبر اور نماز کی مدد اور سہارے سے اس کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
گزشتہ سے پیوستہ
بنی اسرائیل کا شکوہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر کیا۔ پھر حضور ﷺ کی رسالت کا تذکرہ فرمایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ” کما ارسلنا فیکم رسلواً منکم “ اور ملت ابراہیم کا ذکر فرمایا اور اس کے بنیادی اصول بیان کئے۔ بیت اللہ شریف کے قبلہ مقرر ہونے پر یہودیوں کے اعتراضات کا تذکرہ ہوا۔ اس کا مزید بیان آگے بھی آئے گا۔
” فاذ کرونی اذکرکم واشکروالی ولا تکفرون “ سے ایک نیا باب شروع ہوا۔ شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی اسے اپنی حکمت میں تہذیب الاخلاق سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس باب میں تہذیب الاخلاق کے بڑے بڑے اصول بیان ہوئے ہیں۔
برسر…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ 153
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
ترکیب : بالصبر متعلق ہے استعینوا سے لا تقولوا فعل انتم اس کا فاعل لمن یقتل الخ جملہ مفعول من چونکہ معنی جمع ہے اس لیے اموات میت کی جمع خبر میں لانا مناسب ہوا احیاء خبر مبتداء محذوف کی اے ہم احیاء ولَنَبْلُوَنکُمْ جواب ہے قسم محذوف کا من الخوف موضع جر میں ہے کس لیے کہ یہ صفت ہے۔ بشیء کی من الاموال موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے محذوف کی تقدیرہ و نقص شیء من الاموال لان النقص مصدر ھو متعدالی مفعول وقد حذف المفعول۔ الذین اذا اصابتہم موضع نصب میں ہے کس لیے یہ صفت ہے صابرین کی قالوا انا للہ جواب ہے شرط کا اولئک مبتداء و صلوات مبتداء ثانی اور علیہم اس کی خبر پھر یہ مجموعہ خبر ہے مبتدا اول کی اولئک…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْن۔
(البقرۃ : 153)
(اے ایمان والو ! ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو، بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے )
آیت کا پس منظر اور تہہ منظر
اس آیت کریمہ کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا پس منظر پیش منظر اور تہہ منظر بھی سمجھا جائے۔ اس کا پس منظر اور تہہ منظریہ ہے کہ یہ آیت کریمہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ہے اور مدینہ طیبہ میں آپ کے مخاطب اوس و خزرج کے علاوہ یہود کے تین قبیلے ہیں۔ مکہ معظمہ سے اگرچہ آپ ہجرت فرماچکے ہیں۔ لیکن وہ پس منظر میں رہ کرا بھی تک اسلام اور مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ذکر اور شکر کی بہترین صورت نماز ہے۔ شکر سے اعراض اور نماز کا انکار کفر ہے۔ اگلی آیات میں شہادت اور مختلف قسم کی آزمائشوں کا آنا یقینی فرمایا ہے۔ لہٰذا آزمائشوں اور کفار کے پروپیگنڈہ سے گھبرانے کے بجائے پہلے نماز اور صبر کے ذریعے مدد مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صبر ایک ایسی اخلاقی قدر اور قوت ہے جو انسان کی منفی قوتوں پر کنٹرول اور مثبت صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ان صلاحیتوں میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ گفتگو کے ضمن میں کئی بار یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جب اللہ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 153 :
یٰٓـاَ ۔ یُّـہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ : ( اے ایمان والو مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں) صبر سے ہر فضیلت حاصل کی جاتی ہے۔ الصلٰوۃ، نماز ہر رذیلہ سے روکنے والی ہے۔ مع الصابرین۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور قبول دعا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 153۔:
(آیت)” یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ ان اللہ مع الصابرین “ (یعنی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت اور قبول دعا سے صابروں کے ساتھ ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
(153 ۔ 154) ۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مسلمان آدمی کو ہر طرح بھلائی پہنچ سکتی ہے اگر وہ نعمت کے وقت شکر اور مصیبت کے وقت صبر کرے 3۔ پہلی آیت میں شکر نعمت کا ارشاد تھا اور اس آیت میں وصیبت کے وقت صبر کا ارشاد ہے اس لئے کہ انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا وہ صاحب نعمت ہوگا یا صاحب مصیبت ان دونوں حالتوں کے باہمی تعلق کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے صبر کا ذکر شکر نعمت کے بعد فرمایا تاکہ یہ آیت پہلی آیت کا ایک جز قرار پا کر شکر اور صبر کا حکم ایک جگہ ہوجاوے۔ مسند امام احمد (رح) ابو داؤد وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیاوی امور میں صبر اور نماز سے مدد لیں۔ پس صبر، نفس کو روکنے اور ان امور سے باز رکھنے کا نام ہے جن کو وہ ناپسند کرتا ہے۔ صبر کی تین قسمیں ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا حتیٰ کہ اسے بجا لائے۔
(2) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکنے پر صبر کرنا یہاں تک کہ وہ اس نافرمانی کو ترک کر دے۔
(3) تکلیف پہنچانے والی اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔
صبر سے ہر کام میں زبردست معونت حاصل ہوتی ہے لہٰذا بےصبر آدمی کے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرسکے، خاص طور پر دائمی مشقت سے بھر پور نیکیاں، کیونکہ اس قسم کی…
Read the full tafseer →قول باری ہے : یایھا الذین اٰمنو استعینوا بالصبروالصلاۃ ( ایے ایمان لانے والو، صبر اور نماز سے کام لو) اللہ سبحانہ نے اس آیت کا ذکر اپنے قول : فاذکرونی اذکرکم کے بعد فرمایا، جو اس امرپر دلالت کرتا ہے کہ صبر کرنا، نیز نماز پڑھنا اللہ کے ذکر کی ( جو اس کی ذات کی نشاندہی کرنے والے دلائل و براہین ، نیز اس کی قدرت و عظمت پر غور و فکر کا دوسرا نام ہے) انسانی عقول کے نزدیک ایک لطیف صورت ہے۔ یہ قول باری اس قول باری کی طرح ہے ان الصلوۃ تنھی علی الفحشاء والمنکر ( بیشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) اس کے بعد فرمایا : ولذکر اللہ اکبر۔ ( اور اللہ کا ذکر بڑھ کر ہے) یعنی اپنے دلوں کے اندر…
Read the full tafseer →422 صبر و صلوۃ مدد خداوندی سے سرفرازی کے دو اہم ذریعے : سو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے دو بڑے ذریعے صبر اور نماز۔ یعنی مدد تو ہمیشہ اللہ ہی سے مانگو کہ مدد دینا بہرحال اسی وحدہ لاشریک کی شان اور اسی کا کام ہے، جیسا کہ بخاری و مسلم وغیرہ کی مشہور و معروف حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " واِذَا ساَلْتَ فَاسْئَل اللّٰہٗ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَََاسْتَعِنْ باللّٰہ " ۔ کہ جب تمہیں کچھ مانگنا اور سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے مانگو۔ اور اسی سے سوال کرو۔ اور جب مدد طلب کرنا ہو تو اسی وحدہ لاشریک سے طلب کرو "۔ اسی لئے مومن کو تعلیم دی گئی کہ وہ اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں ۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ…
Read the full tafseer →صبر اور نماز
تشریح : سورة البقرہ کی آیت 45 میں صبر و نماز کی مکمل تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ بہرحال اللہ جل شانہ مومنین کو مخاطب کرتے ہوئے اکثر ان دو اعمال کا ذکر کرتے ہیں ظاہر ہوا کہ یہ دونوں عمل یعنی نماز اور صبر مشکلات اور مصیبتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین ہتھیار ہیں جو مسلمان کو دیئے گئے ہیں۔ صبر و سکون سے جو نماز پڑھی جائے وہ انسان کو اللہ کے بالکل قریب کردیتی ہے اور انسان کو اللہ جیسا مضبوط سہارا مل جائے تو پھر اس کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمیں اپنے اندر یہی دو صفات پیدا کر لینی چاہئیں اور بےخطر ہو کر دعوت و تبلیغ میں مشغول ہوجانا چاہئے۔ ” حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : ” رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →ف 4 ذکر وشکر کے ساتھ صبر وصلوہ کی تعلیم دی ہے احکام شریعت پر عمل کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں اور مصائب برداشت کرنے پڑتے ہیں صبر صلوہ پر دوام ان مشکلات کا مقابلہ کرنے لیے ہرحال میں بہتری ہے تکلیف کی حالت میں صبر کرتا ہے اور خوشحالی میں شکر گزار رہتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(2:152) اذکرکم۔ اذکر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) کا صیغہ متکلم ذکر مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو یاد رکھوں گا۔ لاتکفرون۔ فعل نفی جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم مذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–157
لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157
یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 153 تا 157
اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس…
Read the full tafseer →حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ اور نماز سے مدد چاہنے میں نماز استقساء وصلٰوۃ حاجت داخل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
[101] منصب امامت پر مامور کرنے کے بعد اب امت مسلمہ کو ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے یہ ہے کہ منصب امامت پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک عظیم الشان اور پرخطر خدمت بنی نوع انسان ہے جس کے نتیجہ میں طرح طرح کی مشکلات و مصائب کی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(ف 2) ان آیات میں دعوت ذکر ہے اور فلسفہ یاد الہی کا یہ بتایا ہے کہ جس طرح کا ایمان کسی شخص کے دل میں ہوگا اسی درجہ اللہ کی عنایات اس پر زیادہ ہوں گی ، حدیث میں آتا ہے ۔ انا عند ظن عبدی بی “ کہ میں بالکل ویسا ہی لوگوں سے سلوک روا رکھتا ہوں ‘ جیسا کہ وہ مجھ سے متوقع ہیں ، اس کے بعد اس کا ذکر ہے کہ جب تم کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ تو صبر سے کام لو ، گھبراؤ نہیں ، یعنی مصیبتیں اس لئے نہیں آتیں کہ مرد و مومن کے مضبوط دل میں رخنہ انداز ہوں اور اسے جادہ عافیت سے دور ہٹا دیں ، بلکہ اس لئے کہ وہ برداشت کرنے کا عادی ہوجائے اور خدا کے آستانہ پر وہ اور عبادت کے لئے جھک جائے ، یعنی کسی حالت میں بھی…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو ! تم محنت اٹھانے اور تکلیف برداشت کرنے اور نماز پڑھنے سے قوت اور سہارا حاصل کرو اور صبرو نماز سے مدد لو۔
اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ صبرکرنیوالوں کے ساتھی اور ہمراہی ہیں اور وہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (تیسیر)
چونکہ اوپر کی آیت میں شکر بجا لانے اور نا شکری اور ناسپاسی سے بچنے کا حکم فرمایا تھا شکرنام ہے اطاعت گزاری اور فرمانبرداری کا اور کفرنام ہے ترک شکر یعنی معصیت اور نافرمانی کا اور چونکہ ان دو باتوں کے بجا لانے میں انسان کو مختلف قسم کی تکالیف کا سامنا ہوتا ہے حکم کی بجا آوری میں بھی محنت اور حنطوظ نفس کو ترک کرنے میں ب ھی تکلیف اس لئے ان دونوں باتوں کے سہل اور…
Read the full tafseer →ف 3۔ جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جو اس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولی یہ بشارت ہوگی۔
Read the full tafseer →اللہ کا شکر ادا کرنے کے اہم ذرائع میں سے نماز اور صبر ہیں :
276: غم واندوہ کے ہلکا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ صبر اور نماز ہے ۔ امت مسلمہ کو بتایا جا رجا ہے کہ ہر مقصد کے حصول میں تکلیفوں اور مصیبتوں کا پیش آنا لازمی ہے تمام دنیا سے شرک و بت پرستی کو دور کرنا اس کے گوشہ گوشہ اور کونہ کونہ میں توحید کی نشرو اشاعت اور اقوام عالم پر برتری کا حصول بےانتہاء قربانیوں کے بغیر نہیں ہو سکتا اس لئے اپنے مقصد حیات پر مرنے کے لئے تیار رہنا اور مصایب وموانع کی بنا پر اپنے نصب العین کو نہ چھوڑنا صبر ہے ۔ سورة آل عمران کے آخر میں خلافت ارضی کی شرط اسی صبر کو قرار دیا۔ ارشاد فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ…
Read the full tafseer →As we have already seen, the enemies of Islam have been objecting to the change in the ‘orientation of Qiblah قبلہ ، wishing to produce in the minds of the people doubts about the validity of Islam as a religion. The earlier verses have, in answering these objections, removed all such misgivings. But some of the enemies simply ignored the answers, and still persisted in their hostility. This situation was likely to dishearten the Muslims. So, the present verse nullifies such a re-action on the part of the Muslims by prescribing the method of overcoming one's grief or anxiety.
The patience…
Read the full tafseer →153. Since the ummah has been invested with world leadership, a set of necessary directives is now provided for its guidance. Before laying down these directives it seemed necessary to caution the Muslims that the office which had been conferred on them was indeed no bed of roses. On the contrary, it was a great and perilous responsibility. Once they undertook it, they would be subjected to all kinds of afflictions, put to all kinds of trials and tribulations and made to bear all kinds of deprivation. If, however, the Muslims persisted along the path of God despite the perils they would be…
Read the full tafseer →