موسیٰ ؑ اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے ؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
سورة الْبَقَرَة 150
یعنی ہمارے اس حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے۔ ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 151
نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس امت کو دی گئی تھی۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے…
Read the full tafseer →ذکر اللہ کے فضائل
بے شمار ہیں اور یہی ایک فضیلت کچھ کم نہیں ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد فرماتے ہیں ابو عثمان نہدی نے کہا کہ میں اس وقت کو جانتا ہوں جس وقت اللہ تعالیٰ ہمیں یاد فرماتے ہیں لوگوں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوسکتا ہے فرمایا اس لئے کہ قرآن کریم کے وعدے کے مطابق جب کوئی بندہ مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے یاد کرتے ہیں اس لئے سب کو یہ سمجھ لینا آسان ہے کہ جس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہوں گے تو اللہ تعالیٰ بھی یاد فرمائیں گے،
اور معنی آیت کے یہ بھی ہیں کہ تم مجھے اطاعت احکام کے ساتھ یاد کرو تو میں تمہیں ثواب…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اور امت مسلمہ کے درمیان ایک عظیم معاہدہ : تحویل قبلہ کے حکم کے بعد یہ امت ایک بالکل ممتاز امت کی حیثیت سے سامنے آگئی۔ یہود امامت کے منصب سے معزول ہوئے اور شہادت علی الناس کی ذمہ داری قیامت تک کے لیے اس امت کے سپرد ہوئی۔ اس اہم موقع پر یہ یاد دہانی کی گئی ہے کہ تم مجھے یاد رکھو گے تو میں تمہیں یاد رکھوں گا، میری شکر گزاری کرتے رہنا، ناشکری نہ کرنا، اس یاد دہانی کی نوعیت اللہ تعالیٰ اور اس امت کے درمیان ایک عظیم معاہدے کی ہے اور خدا کو یاد رکھنے سے مقصود ان تمام ذمہ داریوں اور فرائض کو یاد رکھنا اور ان کی بجا آوری ہے جو اس امت کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔ ان ذمہ داریوں اور فرائض کی بجا…
Read the full tafseer →152۔ 1 پس ان نعمتوں پر تم میرا ذکر کرو اور شکر کرو۔ کفران نعمت مت کرو۔ ذکر کا مطلب ہر وقت اللہ کو یاد کرنا ہے، یعنی اس کی تسبیح اور تکبیر بلند کرو اور شکر کا مطلب اللہ کی دی ہوئی قوتوں اور توانائیوں کو اس کی اطاعت میں صرف کرنا ہے۔ خداداد قوتوں کو اللہ کی نافرمانی میں صرف کرنا، یہ اللہ کی ناشکر گزاری (کفران نعمت) ہے شکر کرنے پر مزید احسانات کی نوید اور ناشکری پر عذاب شدید کی وعید ہے۔ جیسے (لَئِنْ شَکَرْ تُمْ لَاَزَیْدَنَّکُمْ ْ وَلَئِنَ کَفَرْ تُمْ اِنَّ عذَابِیْ لَشَدِیْد) 14:7
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
100: حضرت ابراہیم ؑ نے کعبے کی تعمیر کے وقت دو دعائیں کی تھیں، ایک یہ کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرمانبردار ہو، اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجئے (دیکھئے پیچھے آیات 128۔ 129) اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کو معتدل امت قرار دے کر پیدا فرمایا (دیکھئے آیت 143) اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بناکر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی تمہیں عطا کردی، جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنادیا گیا ہے، اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ ” تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ “ یہ وہ کرم ہے جس کا صدور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے ہوسکتا ہے جس کے خزانوں میں کمی نہیں ، جس کے خزانوں پر کوئی چوکیدار نہیں اور جس کی دادوہش کا نہ حساب ہے ، نہ محاسب ۔ اس کے خزانوں سے طلب اور بلاسبب دادوہش ہوتی رہتی ہے ، اس لئے نہیں کہ ضرورت مند ہے ، بلکہ اس کے وہ معطی ہے ، وہ فیاض ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے :” جس نے مجھے دل میں یاد کیا میں بھی اسے دل میں یاد کروں گا ، جس نے مجھے بھری مجلس میں یاد کیا میں بھی اسے ایسے لوگوں میں یاد کروں گا ، جو اس کے لوگوں سے افضل واخیر ہوں گے۔ “ (حدیث صحیح)
ایسی ہی ایک دوسری حدیث شریف کا مضمون…
Read the full tafseer →4 جب ہماری طرف سے تم پر اتمام نعمت مکرر ہوچکا تو اب تم کو لازمی ہے کہ ہم کو زبان سے دل سے فکر سے ہر طرح سے یاد کرو اور اطاعت کرو ہم تم کو یاد کریں گے یعنی نئی نئی رحمتیں اور عنایتیں تم پر ہوتی رہیں گی اور ہماری نعمتوں کا شکر خوب ادا کرتے رہو اور ہماری ناشکری اور معصیت سے بچتے رہو۔
Read the full tafseer →آیت 152 فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ
یہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایک بہت بڑا میثاق اور معاہدہ ہے۔ اس کی شرح ایک حدیث قدسی میں بایں الفاظ آئی ہے : اَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ ‘ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ ‘ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَاءٍ ذَکَرْتُہٗ فِیْ مَلَاءٍ خَیْرٍ مِنْھُمْ 16 میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں ‘ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں ‘ اور اگر وہ مجھے کسی محفل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہت بہتر محفل میں یاد کرتا ہوں۔ اس کی محفل تو بہت بلند وبالا ہے ‘ وہ ملأاعلیٰ کی محفل…
Read the full tafseer →190 لہذا تمہیں لازم ہے کہ ہر دم مجھے یاد کرتے رہو، اور اگر تم مجھے یاد کرو گے تو میں تمہیں یاد کروں گا چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتا ہوں اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے دل میں یاد کرے تو میں بھی اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ کسی مجمع میں مجھے یاد کرے تو میں اس سے بہتر جماعت میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے نزدیک ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے نزدیک ہو تو میں ایک کلاوہ (دونوں بازو پھیلائے) اس کے…
Read the full tafseer →561 ۔ (طاعت و عبادت کے ذریعہ سے) بندہ کا اپنے مالک کو یاد کرنا یہی ہے کہ اس کی بتلائی ہوئی راہ پر ہمت اور شوق سے چلتا ہے اور یاد الہی کسی خاص وقت کے ساتھ محدود ومقید نہیں لکھتے پڑھتے، بولتے چالتے، ملتے جلتے، سوتے جاگتے، سب میں رضاء الہی کو مقدم رکھنا یہ بندہ کی طرف سے یاد الہی ہے۔ (آیت) ” فاذکرونی “۔ ابوبکر جصاص رازی (رح) نے ذکر سے مراد لی ہے آیات الہی اور ان کی عظمت وقدرت کا تفکر۔ وذکروا بالفکر فی دلائلہ وایاتہ وقدرتہ وعظمتہ (احکام القرآن) اور اسی کو سارے اذکار سے افضل اور ان کی اصل قرار دیا ہے۔ وھو افضل الذکر، سائر وجوہ الذکر مبنیۃ علیہ وتابعۃ لہ (احکام القرآن)
562 ۔ (اپنے لطف و عنایت خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
لِئَلَّا یَکُوْنَ لِنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ ” خانہ کعبہ “ لکھا ہوا ہے اور بت المقدس کی جانب نماز پڑھتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یہاں ظلموا سے معاندین مراد ہیں یعنی اہل کتاب میں سے جو معاندین ہیں وہ یہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور حسد وعناد کہیں گے کہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر بالآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا اور بعض کے نزدیک اس سے مشرکین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →فَاذْكُرُوْنِيْٓ ( تو یاد رکھو تم مجھ کو) ابن کثیر نے فاذْکُرُوْنِی کی یا کو مفتوح پڑھا ہے اور باقی قراء نے ساکن پڑھا ہے۔
اَذْكُرْكُمْ ( میں یاد رکھوں گا تم کو) ابو الشیخ نے اور دیلمی نے مسند فردوس میں جو یبر کے واسطے سے جویبر نے ضحاک سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے رویت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُمْ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب بندو ! تم مجھ کو میری عبادت سے یاد کرو۔ یعنی میری عبادت کرو میں تم کو مغفرت سے یاد رکھوں گا میں تمہارے گناہوں سے درگذر کروں گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جیسا میرے…
Read the full tafseer →(152) اور اطاعت کے ذریعے مجھے بخوبی یاد کرو، میں جنت کے ساتھ تمہیں یاد کروں گا۔
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ فراخی اور خوشحالی میں مجھے یاد کرو میں تنگیوں اور پریشانیوں میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میری نعمت کا شکر ادا کرو اور اس شکر گزاری کو ہرگز بھی نہ چھوڑو۔
Read the full tafseer →(ړفَاذْكُرُوْنِيْٓ) اس میں ”فاء“ کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے رسول اور قرآن کے ذریعے سے نعمت پوری کرنے کا انعام تم پر کیا ہے، سو تم پر بھی لازم ہے کہ تم مجھے یاد کرو اور یاد رکھو۔ ذکر کا معنی زبان سے یاد کرنا بھی ہے اور دل اور عمل سے بھی۔ یہ نسیان (بھولنے) کی ضد ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ) [ آل عمران : 135 ] ”اور وہ لوگ کہ جب کوئی بےحیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔“ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
آیت نمبر 152 تا 153
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذکرونی اذکرکم یہ امر اور جواب امر ہے۔ اس میں مجازاۃ کا معنی ہے۔ اس وجہ سے اسے جزم دی گئی ہے۔ ذکر کی اصل مذکور کے لئے دل کا متنبہ ہونا اور اس کے لئے دل کا بیدار ہونا۔ ذکر باللسان کو ذکر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ذکر قلبی پر دلالت کرتا ہے لیکن جب زبانی ذکر پر کثرت سے ذکر کا اطلاق ہوا تو یہی ذکر سمجھا جانے لگا۔ آیت کا معنی ہے : تم اطاعت کے ساتھ میرا ذکر کرو میں تمہارا ثواب اور مغفرت کے ساتھ ذکر کروں گا۔ یہ حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے اور اسی طرح فرمایا : ذکر، اللہ کی اطاعت نہ کی اس نے اس کا ذکر نہیں کیا، اگرچہ وہ کثرت سے تسبیح، تہلیل اور قرآن کی تلاوت…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فاذکرونی اذکرکم “ سے مراد ہے کہ مجھ کو یاد کرو میری اطاعت سے میں تم کو یاد کروں گا اپنی مغفرت سے۔
(2) ابو الشیخ اور دیلمی نے جویبر سے انہوں نے ضحاک سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” فاذکرونی اذکرکم “ یعنی اے میرے بندوں کی جماعت مجھے یاد کرو میری اطاعت سے میں تم کو یاد کروں گا اپنی مغفرت سے۔
(3) ابن لا، دیلمی، ابن عساکر نے ابو ھند الداری ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے یاد کرو میری اطاعت کے ساتھ میں تم کو یاد کرو کروں گا اپنی مغفرت کے ساتھ جو مجھے یاد…
Read the full tafseer →(فَاذْکُرُوْنِیْ : پس تم لوگ یاد کرو مجھ کو) (اَذْکُرْْکُمْ : تو میں یاد رکھوں گا تم لوگوں کو) (وَاشْکُرُوْا لِیْ : اور تم لوگ شکر ادا کرو میرا) ( وَلَا تَــکْفُرُوْنِ : اور تم لوگ ناشکری مت کرو میری)
ترکیب : ” فائ “ فصیحۃ ای اذا شئتم الاھتداء الی محجۃ الصواب فاذکرونی “ ۔ ” اذْکُرُوْنِیْ “ فعل امر مبنی علی حذف النون۔” واو “ فاعل ” ن “ وقایہ ” یائ “ ضمیر متکلم مفعول بہ۔ ” اَذْکُرْکُمْ “ فعل مضارع مجزوم جواب امر ہونے کی بنا پر۔ فاعل ” اَنَا “ ضمیر مستتر۔ ” کُمْ “ ضمیر مفعول بہ۔ ” وَاشْکُرُوْالِیْ “ عطف ہے ” اذْکُرُوْنِیْ “ پر۔ فعل ” شَکَرَ “ متعدی بلاواسطہ اور کبھی متعدی بواسطہ حرف الجر ہوتا…
Read the full tafseer →فَاذْ کُرُوْنِیٓ اَذْکُرْکُمْ کی تفسیر :
مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ فاذکرونی باطاعتی اذکرکم بالثواب یعنی تم مجھے فرمانبرداری کے ساتھ یاد کرو میں تمہیں ثواب دے کر یاد کروں گا، دل سے زبان سے اللہ کو یاد کرنا یہ بھی یاد ہے اور فرمانبرداری اور اطاعت میں لگنا یہ بھی یاد ہے۔ اللہ کے خوف سے گناہوں کو چھوڑ دینا یہ بھی یاد ہے محققین نے فرمایا ہے۔ کل مطیع اللہ فھو ذاکر۔ یعنی ہر وہ شخص جو اللہ کی فرمانبرداری میں مشغول ہو وہ ذاکر ہے۔ زبان سے یاد کرنے کی بھی بہت زیادہ فضیلت ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے اور میری…
Read the full tafseer →تلقین ذکر وشکر۔
قال تعالی، فاذکرونی اذکرکم۔۔۔ الی۔۔۔ تکفرون۔
پس جب کہ میں نے تم کو ایسی عظیم نعمتوں سے سرفراز فرمایا اور تم میں ایسا عظیم الشان رسول بھیج کر تم کو یاد کیا تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ تم بھی مجھ کو ہمیشہ یادر کھو کسی وقت میری یاد سے غافل نہ ہو میں تم کو اپنے لطف و عنایت سے یاد کروں گا اور ملاء اعلی میں تمہارے ذکر کا ذکر کروں گا کہ یہ میرے یاد کرنے والے بندے ہیں جس سے ملاء اعلی اور ملائکہ مقربین کی عنایات تم پر مبذول ہوں گی۔
ف) ۔ قلب سے حجابات غفلت دور کرنے کے لیے ذکر الٰہی سے بہتر کوئی شے نہیں جس طرح قلب سے حرص اور طمع کا فاسد مادہ دور کرنے کے لیے انفاق فی سبیل الہ سے بڑھ کر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہت قبلہ کے متعلق فرمایا کہ تم جہاں کہیں ہو ، اپنا رخ بوقت نماز بیت اللہ شریف کی طرف کرلو۔ مگر یہود و نصاریٰ جو ظالم لوگ ہیں اور بات بات پر بےجا اعتراض کرتے ہیں ، ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ ان کے طعن وتشنیع اور اعتراضات کی پروا نہ کریں۔ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ ہر قسم کی مخالفت سے بےنیاز ہو کر بیت اللہ شریف کو اپنا قبلہ اپنا لیں۔ فرمایا اس کی غایت یہ ہے کہ ولا تم نعمتی علیکم تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔ ولعلکم تھتدون اور تاکہ تم ہدایت پا جائو۔ مقصد یہ کہ قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک…
Read the full tafseer →فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِيْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ 152 ۧ
ذكر
الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل :
الذّكر ذکران :
ذكر بالقلب .
وذکر باللّسان .
وكلّ واحد منهما ضربان :
ذكر عن نسیان .
وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
1 ؎ یعنی قبلہ کی رہنمائی بھی ہمارا ایک ایسا ہی احسان ہے۔ جیسا کہ رسول کا بھیجنا احسان تھا۔ 12 منہ
ترکیب : کما میں کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ یہتدون ہدایۃً کا ارسلنا اور اتماما کا ارسلنا اور بعض محققین کہتے ہیں فاذکرونی کما ارسلنا فعلی ہذا یکون منصوبا صفتہ للذکر اے ذکراً مثل ارسالی اور ما مصدریہ ہے منکم رسول کی صفت اور یتلوا ویزکیکم ویعلمکم حال ہے۔
تفسیر : خدا تعالیٰ نے دین محمد ﷺ کے منجانب اللہ ہونے پر چند وجوہ بیان فرمائیں۔ بعض ان میں سے الزامیہ ہیں کہ یہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کا
دین ہے۔ پس اس کا قبول کرنا ضرور ہے۔ چناچہ اس آیت میں اسی طرف اشارہ تھا ومن یرغب عن ملۃ…
Read the full tafseer →فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَـکْفُرُوْنِ ۔ (البقرۃ :۔ 152)
(پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا میری شکرگزاری کرتے رہنا میری ناشکری نہ کرنا)
اللہ تعالیٰ اور اس امت کے درمیان ایک معاہدہ
آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری، قرآن کریم کے نزول اور تحویلِ قبلہ کے حکم کے بعد اس امت کے وجود اس کی شیرازہ بندی اور اس کی بقا کے تمام سامان میسر ہوگئے یہ قافلہ حق اپنے سفر پر روانہ ہوچکا ہے۔ اب اس کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی ہے۔ اور اس دنیا میں اپنے مفوضہ کردار کو ادا کرنا ہے۔ اسے خوب معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے وجود کی پہلی اینٹ اللہ کی یاد سے اٹھائی گئی ہے۔ اس کی زندگی کا سارا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نعمتوں کے بدلے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور شکر کرنا چاہیے۔
بیت اللہ کو مرکز بنانا ‘ امّتِ مسلمہ کو پیشوائی کے منصب پر فائز کرنا، تبدیلی سے قبل کی نمازوں کا اجر عطا فرمانا، بیت اللہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دینے کے بجائے صرف اس سمت رخ کرنے کی سہولت عنایت فرمانا، نبی آخر الزماں ﷺ کی صورت میں مہربان مربیّ اور عظیم قائد عطا فرما کر حکم دیا جارہا ہے کہ ہمیشہ مجھے یاد رکھنا اور میرے شکر گزار رہتے ہوئے میرے احکام کی بجاآوری کرتے رہنا کسی کا خیال اور خوف دل میں ہرگز نہ لانا تاکہ تمہیں ہدایت کے راستے پر استقامت اور مزید رہنمائی سے نوازا جائے۔
ذکر کی اہمیّت
ذکر کی جامع تعریف یہ ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 152… ذکر کی بابت چھ اقوال :
فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ : ( تم مجھے یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا۔ اور میرا احسان مانو اور میری ناشکری نہ کرو) نمبر 1۔ فاذکرونی پس تم مجھے مقدور بھر یاد کرو۔ اذکرکم میں تمہیں مغفرت سے یاد کروں گا۔
دوسرا قول : تم مجھے ثناء سے یاد کرو۔ میں عطاء سے یاد کروں گا۔
تیسرا قول : تم سوال سے یاد کرو۔ میں نوال سے یاد کروں گا۔
چوتھا قول : تم توبہ سے یاد کرو۔ میں معافی سے یاد کروں گا۔
پانچواں قول : تم اخلاص سے یاد کرو۔ میں چھٹکارے سے یاد کروں گا۔
چھٹا قول : تم مناجات سے یاد کرو۔ میں نجات سے یاد کروں گا۔
واشکروالی۔ تم میرا ان…
Read the full tafseer →152۔ (آیت)” فاذکرونی اذکرکم “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں (اس کا معنی ہے) تم میری فرمانبرداری کرکے مجھے یاد کرو ، میں تمہاری مدد کر کے تمہارا ذکر کروں گا ، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں تم میرا ذکر میری اطاعت کرکے کرو میں تمہاری مغفرت کرکے تمہارا ذکر کروں گا بعض نے کہا کہ تم نعمت اور خوشحالی میں میرا ذکر کرو میں مشکل اور مصیبت میں تمہارا ذکر کروں گا اس کا بیان (آیت)” فلولا انہ کان من المسبحین للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ یعنی اگر حضرت یونس (علیہ السلام) میری تسبیحات کرنے والے (خوشحالی میں) نہ ہوتے تو مچھلی کے پیٹ میں تاقیامت رہتے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(151 ۔ 152) ۔ یہ آیت پہلی آیت کے متعلق ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا کی اسی طرح اس کی یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری بنی اسماعیل میں کی نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا جھکاؤ باقی نہ رہے۔
قرآن شریف میں جہاں کتاب و حکمت کے دو لفظ ایک جگہ آئے ہیں ان کی تفسیر سلف نے قرآن۔ اور حدیث سے کی ہے اور اس تفسیر کی تائید اور مقدام بن معدیکرب کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ابو داؤد ابن ماجہ میں معتبر سند سے آئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی قرآن کی مانند حدیث اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمہیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لئے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں، بلکہ ہم نے تمہیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیر خواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ (آیت) يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا ” وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے “ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ذکر اللہ کے وجوب کا بیان
قول باری ہے : فاذکرونی اذکرکم ( لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا) یہ آیت اللہ کی یاد کے امر اور حکم کو متضمن ہے۔ ہم اللہ کو کئی طریقوں سے یاد کرسکتے ہیں، اس بارے میں سلف سے کئی اقوال منقول ہیں۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے تم مجھے میری اطاعت کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں اپنی رحمت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے میری نعمتوں پر حمد و ثناء کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں تمہاری اطاعت کو سراہنے کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے شکر کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں ثواب کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول کے مطابق تم مجھے دعا کے ذریعے یاد…
Read the full tafseer →418 ذکر خداوندی سے سرشاری کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ مجھے یاد کرو۔ یعنی تم مجھے یاد کرو میری ان صفات اور حقوق و اختیارات کے ساتھ جو میرا خاصہ ہیں، یاد کرو دل و جان سے بھی، اور زبان وبیان سے بھی، اور اپنے اعمال و اخلاق سے بھی اس کا ثبوت دو ، صفات سے مراد یہ ہے کہ دینے والا، بخشنے والا، اور عطاء فرمانے والا، وہی وحدہ لا شریک ہے، جو کہ وہاب و کریم ہے۔ پس ہر ضرورت و حاجت کیلئے دست سوال و دعاء اسی کے حضور پھیلاؤ، اور حاجت روا و مشکل کشا، اسی وحدہ لاشریک کو جانو، اور غائبانہ اسی کو پکارو۔ اور حقوق سے مراد یہ ہے، کہ عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کیلئے خاص اور اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
خانہ کعبہ، محمد ﷺ کی خصوصیات اور ذکر و شکر
تشریح : درس قرآن میں آیت 149 اور 150 کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : ” ان آیات میں بھی قبلہ کی تبدیلی کا حکم مذکور ہے اور ساتھ ہی ارشاد ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو تمہارے عمل سے حجت بازی کا موقع ملے اور مکہ کے کافر و مشرک یہ کہہ سکیں کہ یہ دین ابراہیمی کے اچھے پیرو کار ہیں جو ان کے کعبہ کو قبلہ بھی نہیں مانتے، جہاں تک ڈر کا تعلق ہے وہ صرف اللہ کا چاہئے۔ فضل و کرم کی تکمیل اور ہدایت و کامرانی اسی کے اختیار میں ہے “۔
جیسا کہ پہلے اکثر اسباق میں اسلام کی فضیلتوں اور نبی کریم ﷺ کی خصوصیات، تعلیمات اور مسلمان کی فضیلتوں کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیات 148- 152
اسرارو معارف
ولکل وجھۃ ھو مولیھا…………………ان اللہ علی کل شی قدیر۔
سب قوموں اور جملہ مذاہب کے لئے کوئی نہ کوئی نقطہ اتحاد ہے ۔ افکار و خیال کے لئے بھی اور عبادات و اعمال کے لئے بھی۔ کسی نے اس کو رنگ ونسل کی حد بندی سے واضح کیا ہے تو کسی نے محض طاقت کو اپنا قبلہ بنالیا ، جیسے آج کل مغرب میں سفید فام ہونا ہی معاشرے میں جگہ پانے کا سبب ہے اور سیاہ فام خواہ ان کا مذہب بھی قبول کرلے ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ یا ہندوازم کہ جو شے اپنے سے طاقت یا محض جسامت میں بڑی نظر آئی وہاں سر جھک گئے خواہ کوئی بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، درخت ہو یا جانور ، اسی طرح ؎
” ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گاہے…
Read the full tafseer →ف 3 فاذکر ونی فار تفر یع لاکر اشارہ فرمایا ہے کہ مذکورہ انعامات کا تقاضا یہ ہے کہ میری شکرگزاری کے لیے مجھے دیا کرتے ہو ذکر الہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبر داری کا نان ہے ایک حدیث میں ہے من اطاع اللہ فقد ذکر اللہ یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا ایسی احادیث میں ذکر کی بہت فضیلت آئی ہے ( ابن کثیر ) ، ( نیز دیکھئے سورت احزاب 41)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(2:152) اذکرکم۔ اذکر۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) کا صیغہ متکلم ذکر مصدر سے۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو یاد رکھوں گا۔ لاتکفرون۔ فعل نفی جمع مذکر حاضر۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم مذوف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152
لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 152
قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا فرمائی اسی طرح یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری قوم بنی اسماعیل کے نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا رکاؤباقی نہ رہے ۔ ابن ماجہ وغیرہ میں معتبر سند آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی اس کے احکام مفصل طور پر بیان کرنے کو کہا گیا ہے ۔ یعنی نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ، ارکان دین کے اکثر مسئلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ذکر فرما کر ان کا تفصیلی بیان اپنے محبوب ﷺ کے سپرد کیا ہے کہ ان آیتوں کی تفصیل قول سے ، فعل سے اچھی طرح امت کے لوگوں کو سمجھادو تاکہ وہ لوگ قرآن کی آیتوں کے معنی میں فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
[99] یعنی ہمارے حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ قبلے کے سوا کسی دوسری سمت نماز پڑھتے دیکھا جائے ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ یہ اچھے مسلمان ہیں جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کئے جاتے ہیں۔
[001] اس فقرے کا تعلق اس عبارت سے ہے کہ '' اپنا منہ اس کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 152–153
(ف 2) ان آیات میں دعوت ذکر ہے اور فلسفہ یاد الہی کا یہ بتایا ہے کہ جس طرح کا ایمان کسی شخص کے دل میں ہوگا اسی درجہ اللہ کی عنایات اس پر زیادہ ہوں گی ، حدیث میں آتا ہے ۔ انا عند ظن عبدی بی “ کہ میں بالکل ویسا ہی لوگوں سے سلوک روا رکھتا ہوں ‘ جیسا کہ وہ مجھ سے متوقع ہیں ، اس کے بعد اس کا ذکر ہے کہ جب تم کسی مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ تو صبر سے کام لو ، گھبراؤ نہیں ، یعنی مصیبتیں اس لئے نہیں آتیں کہ مرد و مومن کے مضبوط دل میں رخنہ انداز ہوں اور اسے جادہ عافیت سے دور ہٹا دیں ، بلکہ اس لئے کہ وہ برداشت کرنے کا عادی ہوجائے اور خدا کے آستانہ پر وہ اور عبادت کے لئے جھک جائے ، یعنی کسی حالت میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ف 1 جس طرح ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے تم پر اپنی نعمت کی تعمیل فرمائی اسی طرح ہم نے تم لوگوں میں ایک عظیم المرتبت رسول بھیجا جو تم میں ہی سے ہے اور اسکی شان یہ ہے کہ وہ تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہی اور تم کو م شرکو کفر کی گندگی سے پاک کرتا ہے اور محاسن اخلاق کے ساتھ تمہیں سنوارتا ہے اور تم کو کتاب الٰہی کی تعلیم دیتا ہے اور اس کتاب الٰہی کے احکام کی حکمتیں اور ان کے رموز سکھاتا ہے اور فہم و دانش کی باتیں بتاتا ہے اور تم کو وہ وہ باتیں بتاتا ہے جن کی تم کو نہ تو خبر تھی اور جن کو نہ تم خود جان سکتے تھے لہٰذاتم مجھ کو یاد کرو میں بھی تم کو اپنی رحمت و مہربانی سے یاد رکھوں گا اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ف 2۔ اوپر کی آیات میں حقیقتا اللہ کی بڑی بری نعتموں کا ذکر تھا اس لیے آیت آئندہ میں منعم کے زکر اور ان کی نعمت کے شکر کا حکم فرما کر آیات مذکورہ کے مضمون کی بوجہ احسن تکمیل اور تمیم فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →امت ِمسلمہ کو ذکر الٰہی کی ہدایت اور اس کے ثمرات :
275: ذکر کرنے کے اصل معنی یاد کرنے کے ہیں جس کا تعلق قلب سے ہے ۔ زبان سے ذکر کرنے کو بھی ذکر اسلئے کہا جاتا ہے کہ زبان ترجمان قلب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ذکر زبانی وہی معتبر ہے جس کے ساتھ دل میں بھی اللہ کی یاد ہو ۔ مولانا رومی نے اسی کے متعلق فرمایا ہے۔
؎ برزبان تسبیح در دل گا وخر ۔ ایں چنیں تسبیح کے دار واثر
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی شخص زبان سے ذکر و تسبیح میں مشغول ہو مگر اس کا دل حاضر نہ ہو اور ذکر میں نہ لگے تو وہ بھی فائدے سے خالی نہیں کیونکہ اور کچھ بھی نہیں تو ایک عضو یعنی زبان تو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مصروف ہے…
Read the full tafseer →The merits of 'Dhikr' ذکر (Rememberance)
Dhikr ذکر : or "Remembrance" essentially pertains to the heart, but in so far as the tongue is the interpreter of the heart the oral recitation of a Divine Name or a verse of the Holy Qur'an is also described as Dhikr ذکر . In other words, oral Dhikr ذکر can be worth the name only when it is accompanied by the "remembrance" of the heart. As the great Sufi poet Rumi points out, the recitation of a Divine Name can have no efficacy if one keeps thinking of cows and donkeys while repeating it mechanically with the tongue. One must, however, bear in mind…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
150. The followers of the Prophet (peace be upon him) were asked to follow the order to turn towards the Ka'bah, and to do so strictly, since any lapse in this matter on their part would give their opponents a weapon to use against them in their polemics. They would be able to hold Muslims up to ridicule on the grounds that they had voilated what they themselves claimed to be from their Lord.
151. The 'favour' here refers to the position of world leadership and guidance from which God removed the children of israel and which was the conferred upon this ummah. The highest reward that can be…
Read the full tafseer →