اللہ کی یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے !
یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
سورة الْبَقَرَة 150
یعنی ہمارے اس حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے۔ ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 151
نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس امت کو دی گئی تھی۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(یعنی ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے حضرت ابراہیم ؑ کی ایک دعا جو درباب مقبولیت بناء کعبہ تھی اس طرح قبول کی) جس طرح (ان کی دوسری دعا جو درباب بعثت محمدیہ کے تھی قبول کی کہ) تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا (جو کہ) تم ہی میں سے (ہیں اور وہ) ہماری آیات (و احکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (خیالات و رسوم جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الہی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی (اور نہ کتب سابقہ یا عقل ان کے لئے کافی تھی اور اس شان کے رسول کے مبعوث ہونے کی ابراہیم ؑ کی دعاء تھی…
Read the full tafseer →كَمَا میں ک حرف تشبیہ ہے۔ اس وجہ سے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ کس چیز کی دی گئی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ " كَمَا " تقریبا اسی موقع میں استعمال ہوا ہے جس موقع میں ہم " چناچہ " کا لفظ استعمال کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ قبلہ کی تحویل اسی طرح اتمامِ نعمت اور ملت ابراہیم کی رہنمائی کے لیے کی ہے جس طرح دعائے ابراہیمی کے مطابق انہی مقاصد کے لیے ایک رسول تمہارے اندر بھیجا ہے۔ اس آیت پر آیت 129 کے تحت ہم مفصل بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر میں یہ جو فرمایا ہے کہ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ، یہ بنی اسماعیل پر ایک خاص فضل و کرم کا اظہار ہے…
Read the full tafseer →151۔ 1 کما (جس طرح) کا تعلق ما قبل کلام سے ہے یعنی یہ تمام نعمت اور توفیق ہدایت اس طرح ملی جس طرح اس سے پہلے تمہارے میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارا تزکیہ کرتا، کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا اور جن کا تمہیں علم نہیں وہ سکھاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
100: حضرت ابراہیم ؑ نے کعبے کی تعمیر کے وقت دو دعائیں کی تھیں، ایک یہ کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرمانبردار ہو، اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجئے (دیکھئے پیچھے آیات 128۔ 129) اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ (علی صاحبہا السلام) کو معتدل امت قرار دے کر پیدا فرمایا (دیکھئے آیت 143) اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بناکر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی تمہیں عطا کردی، جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنادیا گیا ہے، اسی طرح ہم…
Read the full tafseer →اس آیت کے مضمون پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں انہی باتوں کو دہرایا گیا ہے ، جن کی دعوت اس صورت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دی تھی ۔ اس وقت حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے ۔ جناب خلیل اللہ نے دعا فرمائی تھی کہ :” اے اللہ ، میری اولاد میں سے جو اس گھر کے جوار میں رہتی ہے ، ایک نبی مبعوث فرما ۔ جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے ۔ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کردے۔ “ یوں مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کا مبعوث کیا جانا ، اور خود ان کا بطور مسلمان پایاجانا ، یہ دراصل ان کے اباجان حضرت…
Read the full tafseer →3 یعنی یہ اتمام نعمت اور تکمیل ہدایت تم پر ایسی ہوئی جیسی ابتداء میں تم پر یہ اتمام نعمت و ہدایت ہوچکی ہے کہ تم میں ہی سے ایک رسول ایسا بھیجا جو تم کو احکام خداوندی سمجھا دے اور تم کو بری باتوں سے پاک کرے یعنی علما اور عملا تم کو کامل بنا دے۔
Read the full tafseer →آیت 151 کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ
یہاں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی دعا یاد کر لیجیے جو آیت 129 میں مذکور ہوئی۔ اس دعا کا ظہور تین ہزار برس بعد بعثت محمدی ﷺ ‘ کی شکل میں ہو رہا ہے۔ یہاں ایک نکتہ بڑا اہم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ یہاں اللہ نے اس کو بدل دیا ہے۔ دعا میں ترتیب یہ تھی : تلاوت آیات ‘ تعلیم کتاب و حکمت ‘ پھر تزکیہ۔ یہاں پہلے تلاوت آیات ‘ پھر تزکیہ…
Read the full tafseer →189 جیسا کہ اس سے پہلے میں تم پر یہ انعام کرچکا ہوں کہ تمہیں میں سے ایک ایسا رسول بھیجا ہے جو تمہیں اللہ کی آیات سناتا، تمہیں پاکیزہ بناتا اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس نعمت نے تمہاری کایا پلٹ دی۔ تم جاہل تھے اللہ نے تمہیں علم سے نوازا، تم ذلیل تھے۔ اللہ نے تمہیں سر بلند کیا۔ تم ہر وقت لڑتے مرتے اور بدامنی کا شکار تھے۔ اللہ نے تمہارے دل ملا دیئے اور آپس میں محبت ڈال دی، اور یہ سب کچھ اسی تعلیم کا نتیجہ تھا۔ پھر جس طرح تم میں رسول بھیجنا ایک بہت بڑا انعام تھا۔ اسی طرح کا دوسرا انعام تحویل قبلہ ہے۔ جس کے ذریعہ تمہیں دنیا کی امامت سونپی جا رہی ہے (تشریح کے لیے دیکھیے سورة آل عمران…
Read the full tafseer →557 ۔ (آیت) ” کما “ کا تعلق آیت ماقبل سے ہے۔ یعنی یہ اتمام نعمت اب استقبال کعبہ کے واسطے سے اسی طرح ہوگا، جیسے بعثت رسول کے ذریعہ سے اس کے قبل ہوچکا ہے۔ (آیت) ” کما ارسلنا “ متعلق باتم اے اتماما کا تمامھا بارسالنا الرسول (جلالین)
558 ۔ (ہر طرح کے فسق وعصیان اور اخلاقی آلودگیوں سے) رسول کی حیثیت محض پیام رساں اور مبلغ کی نہیں ہوتی، مزکی (پاک کرنے والے) کی بھی ہوتی ہے۔ رسول کی گوناگوں حیثیتوں پر حاشیے آیت نمبر 137 کے ذیل میں گزر چکے ہیں۔
559 ۔ رسول کی حیثیت معلم اور شارح کی بھی ہوتی ہے۔ (آیت) ” یعلمکم “ لفظ تعلیم سے اشارہ ادھر بھی ہوگیا کہ پیغمبر کے ارشاد محض لفظ وعبارت تک محدود نہیں رہتے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
لِئَلَّا یَکُوْنَ لِنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ ” خانہ کعبہ “ لکھا ہوا ہے اور بت المقدس کی جانب نماز پڑھتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یہاں ظلموا سے معاندین مراد ہیں یعنی اہل کتاب میں سے جو معاندین ہیں وہ یہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور حسد وعناد کہیں گے کہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر بالآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا اور بعض کے نزدیک اس سے مشرکین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ ( جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں) اس میں قریش کو خطاب ہے اور لوگ ان کے تابع ہیں کیونکہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے جب فرمایا تھا کہ اے ابراہیم ہم تم کو امام بنائیں گے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ اے اللہ میری اولاد میں سے بھی امام بنائیے تو یہ اس دعا کی قبولیت ہے کہ قریش اور لوگوں کے سردار ہیں۔ دوسرے لوگ ان کے تابع ہیں۔ جناب سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ لوگ قریش کے تابع ہیں کَمَا اَرْسَلْنَا لِاُتِمَّکے متعلق ہے اور معنی یہ ہیں کہ تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں جیسے کہ رسول بھیجنے کی نعمت پوری کی۔
محمد ابن جریر کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دو…
Read the full tafseer →(151) اور مجھے یاد کرو جس طرح کہ میں نے تمہاری طرف تمہارے ہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے، جو تمہارے سامنے قرآن کریم میں جو اوامرو نواہی (کرنے اور نہ کرنے کے کام بتاتا ہے) میں ان کو بخوبی تم پر تلاوت کرتا ہے اور توحید اور زکوٰۃ اور صدقہ کے ذریعے تم لوگوں کو گناہوں سے پاک کرتا ہے اور تمہیں تعلیم دیتا ہے اور قرآن کریم اور حلال و حرام کی تمہیں تعلیم دیتا ہے اور دوسرے احکام وحدود اور گزشتہ حالات سے تمہیں آگاہ کرتا ہے۔
جن حالات سے تم قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ سے پہلے ناواقف تھے۔
Read the full tafseer →كَمَآ یعنی کعبہ کو قبلہ قرار دے کر ہم نے ابراہیم ؑ کی دعا کو، جو انھوں نے کعبہ کے بارے میں کی تھی، اسی طرح قبول کیا ہے جیسے ہم نے ان کی اس دعا کو شرف قبولیت بخشا جو انھوں نے مکہ کے رہنے والوں کے لیے انھی میں سے ایک نبی مبعوث کرنے کے لیے کی تھی۔ (دیکھیے بقرہ : 129) قرآن میں (الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) سے مراد کتاب و سنت اور (مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ) سے مراد وہ مسائل ہیں جو انسان اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا، مثلاً تخلیق کی ابتدا، حشر نشر، نبوت اور ملائکہ وغیرہ۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 151
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کما ارسلنا کاف مصدر محذوف کی صفت کے اعتبار سے محل نصب میں ہے۔ معنی یہ ہے لاتم نعمتی علیکم اتماما مثل ما ارسلنا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ تمام اقوال میں سے بہتر قول ہے۔ یعنی تم پر ابراہیم کی سنت کے بیان میں اپنی نعمت مکمل کردوں جس طرح ہم نے رسول مبعوث کیا۔ بعض نے فرمایا اس کا معنی ہے لعلکم تھتدون اھتداء مثل ما ارسلنا، تاکہ تم ہدایت پاؤ ایسی ہدایت جو ہمارے رسول بھیجنے کی طرح تھی۔ بعض نے فرمایا : یہ محل نصب میں بحیثیت حال ہے۔ معنی ہے میں تم پر اس حال میں اپنی نعمت مکمل کر دوں۔ تشبیہ اس طرح واقع ہے کہ قبلہ میں نعمت، رسالت میں نعمت کی طرح ہے۔…
Read the full tafseer →(1) ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” کما ارسلنا فیکم رسولا منکم “ سے مراد ہے کہ جیسا کہ میں نے تم میں رسول بھیجے۔ سو تم (اس پر) میرا ذکر کرو۔
Read the full tafseer →(کَمَا : جیسا کہ ) (اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجا ) (فِیْکُمْ : تم لوگوں میں) (رَسُوْلًا : ایک ایسا رسول) (مِّنْکُمْ : تم لوگوں میں سے) (یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ : جو پڑھ کر سناتا ہے تم لوگوں کو) (اٰیٰتِنَا : ہماری آیات) (وَیُزَکِّیْکُمْ : اور جو تزکیہ کرتا ہے تم لوگوں کا) (وَیُعَلِّمُکُمُ : اور جو تعلیم دیتا ہے تم لوگوں کو) (الْکِتٰبَ : احکام کی ) (وَالْحِکْمَۃَ : اور حکمت کی ) (وَیُعَلِّمُکُمْ : اور جو تعلیم دیتا ہے تم لوگوں کو) ( مَّا : اس کی جو ) ( لَمْ تَــکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے تھے)
” کَمَا “ میں ” کَ “ حرفِ جار ” ما “ مصدریہ ” اَرْسَلْنَا “ فعل فاعل ” فِیْکُمْ “ جار مجرور…
Read the full tafseer →اہل ایمان کے لیے تکمیل نعمت
یہ ما قبل سے متعلق ہے۔ (ای ولا تم نعمتی علیکم فی امر القبلۃ او فی الاخرۃ کما اتممتھا بارسال رسول منکم) یعنی ہم نے تم کو کعبہ شریف کی طرف نمازوں میں رخ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ تم پر اپنی نعمت قبلہ کے بارے میں یا آخرت میں پوری کروں جیسا کہ میں نے اپنی نعمت تم پر اس طرح بھی پوری کی ہے کہ تمہارے اندر تمہیں میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ہماری آیتیں پڑھ کر تم کو سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے تم ظاہری باطنی برائی اور خرابی سے پاک ہوجاؤ گے۔ وہ تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ وہ باتیں بتاتا ہے جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ جن کے جاننے…
Read the full tafseer →بیان وظائف رسول اعظم کہ از قبلہ ابراہیمی وحرم محترم مبعوث باشد۔
قال تعالی، کماارسلنا فیکم رسولا منکم۔۔۔ الی۔۔ تعلمون۔
ربط) ۔ ابتداء قصہ میں بناء کعبہ کا ذکر تھا اور بعد ازاں حضرت ابراہیم کی دعا ذکر فرمائی ربنا وابعث فیھم رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتک۔ آیت۔ کہ اے اللہ اس حرم کعبہ کی سرزمین سے ایسا نبی مبعوث فرمایا کہ جو تیری آیات کی تلاوت کرے اور لوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے اللہ نے حضرت ابراہیم کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں خانہ کعبہ کو مرجع خلائق اور قبلہ عالم بنایا اور قبلہ ابراہیمی کے بارے میں جو سفہاء کے شبہات تھے تفصیل کے ساتھ ان کا جواب دیا اور خانہ کعبہ کا افضل قبلہ ہونابیان فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ربط آیات
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہت قبلہ کے متعلق فرمایا کہ تم جہاں کہیں ہو ، اپنا رخ بوقت نماز بیت اللہ شریف کی طرف کرلو۔ مگر یہود و نصاریٰ جو ظالم لوگ ہیں اور بات بات پر بےجا اعتراض کرتے ہیں ، ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ ان کے طعن وتشنیع اور اعتراضات کی پروا نہ کریں۔ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم منسوخ ہوچکا ہے۔ لہٰذا آپ ہر قسم کی مخالفت سے بےنیاز ہو کر بیت اللہ شریف کو اپنا قبلہ اپنا لیں۔ فرمایا اس کی غایت یہ ہے کہ ولا تم نعمتی علیکم تاکہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں۔ ولعلکم تھتدون اور تاکہ تم ہدایت پا جائو۔ مقصد یہ کہ قبلہ کی طرف رخ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک…
Read the full tafseer →كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ 151 ۭ ۛ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1]
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
1 ؎ یعنی قبلہ کی رہنمائی بھی ہمارا ایک ایسا ہی احسان ہے۔ جیسا کہ رسول کا بھیجنا احسان تھا۔ 12 منہ
ترکیب : کما میں کاف موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ یہتدون ہدایۃً کا ارسلنا اور اتماما کا ارسلنا اور بعض محققین کہتے ہیں فاذکرونی کما ارسلنا فعلی ہذا یکون منصوبا صفتہ للذکر اے ذکراً مثل ارسالی اور ما مصدریہ ہے منکم رسول کی صفت اور یتلوا ویزکیکم ویعلمکم حال ہے۔
تفسیر : خدا تعالیٰ نے دین محمد ﷺ کے منجانب اللہ ہونے پر چند وجوہ بیان فرمائیں۔ بعض ان میں سے الزامیہ ہیں کہ یہ دین ابراہیم (علیہ السلام) کا
دین ہے۔ پس اس کا قبول کرنا ضرور ہے۔ چناچہ اس آیت میں اسی طرف اشارہ تھا ومن یرغب عن ملۃ…
Read the full tafseer →کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰـتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 151)
(چنانچہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا تم ہی میں سے جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے)
تشبیہ کس چیز کی ؟
اس آیت کے آغاز میں ” کَمَا “ کا لفظ آیا ہے جس میں ” ک “ حرف تشبیہ ہے۔ اس حرف تشبیہ کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تشبیہ کس چیز میں دی گئی ہے۔ اگر ہم سیاق کلام کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خوف خدا کے بغیر آدمی نعمت ہدایت نہیں پاسکتا اور ہدایت کے لیے سنت رسول اور تعلیم نبوت لازم ہے۔ یہ فرد کی اصلاح اور قوموں کی فلاح کا راستہ ہے۔ اور یہی رسول محترم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہے۔
نبوّت کے مرکزی فرائض
(1) تلاوت آیات :
تلاوت سے مراد اللہ تعالیٰ کے ارشادات و احکامات سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے ‘ قرآن مجید کے ظاہری و باطنی آداب بتلانا، اس پر عمل کرنے اور اس کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ اس کی تلاوت کرنا اور تحفیظ القرآن کی ترغیب دینا ہے۔
(2) تعلیم :
تعلیم سے مراد باقاعدہ قرآن مجید کے اسراروعلوم سمجھنا ہے۔ کیونکہ آدمی کسی علم میں مہارت اور اس کے حقیقی مطالب حاصل نہیں کرسکتا جب تک…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 151:
کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عََلَیْکُمْ ٰایٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۔
(جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے جو پڑھتے ہیں تم پر ہماری آیات اور تم کو پاک و صاف کرتے ہیں اور کتاب و حکمت تم کو سکھاتے ہیں اور جو باتیں تم نہ جانتے تھے وہ تم کو بتاتے ہیں)
کاف کا تعلق ماقبل سے ہے یا ما بعد سے :
قول اوّل : ( کما ارسلنا۔ کاف کا تعلق ماقبل سے مانیں تو عبارت اس طرح ہوگی۔ ولا تم نعمتی علیکم فی الاٰخرۃ بالثواب کما اتممتہا علیکم فی الدنیا بارسال الرسول۔
اور تاکہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 151۔:
(آیت)” کما ارسلنا فیکم “ یہ کاف برائے تشبیہ ہے اور ایسی شیء کا محتاج ہے جس کی طرف یہ لوٹے ، پس بعض نے فرمایا یہ کاف ماقبل کی طرح راجع ہے، معناہ اس طرح ہوگا اور تاکہ میں تم پر نعمت تمام کروں ، جیسا کہ تم میں ایسا رسول بھیجا جو تم میں سے ہے ، حضرت محمد بن جریر (رح) فرماتے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دو دعائیں فرمائی تھیں ، ایک دعا (آیت)” ربناواجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک “ (کہ اے ہمارے رب ہمیں مسلم یعنی فرمانبردار بنائے رکھ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک اپنی فرمانبردار جماعت قائم رکھ) دوسری دعا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول تھا ۔ (آیت)” ربنا وابعث فیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(151 ۔ 152) ۔ یہ آیت پہلی آیت کے متعلق ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا کی اسی طرح اس کی یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری بنی اسماعیل میں کی نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا جھکاؤ باقی نہ رہے۔
قرآن شریف میں جہاں کتاب و حکمت کے دو لفظ ایک جگہ آئے ہیں ان کی تفسیر سلف نے قرآن۔ اور حدیث سے کی ہے اور اس تفسیر کی تائید اور مقدام بن معدیکرب کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ابو داؤد ابن ماجہ میں معتبر سند سے آئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی قرآن کی مانند حدیث اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، کعبہ شریف کی طرف تحویل قبلہ کے ذریعے سے ہم نے تمہیں جو نعمت عطا کی اور اس کے اتمام کے لئے شرعی احکام اور دیگر نعمتیں عطا کیں، یہ ہماری طرف سے کوئی انوکھا اور پہلا احسان نہیں، بلکہ ہم نے تمہیں بڑی بڑی نعمتیں عطا کیں اور پھر دیگر نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تکمیل کی۔ ان میں سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اس رسول کریم کو مبعوث کیا جو تم ہی میں سے ہے، جس کے حسب و نسب، اس کی صداقت و امانت اور اس کی خیر خواہی کو تم خوب جانتے ہو۔ (آیت) يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا ” وہ تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے “ اس کے عموم میں آیات قرآنی اور دیگر تمام آیات داخل ہیں۔ (ہمارا) رسول تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ذکر اللہ کے وجوب کا بیان
قول باری ہے : فاذکرونی اذکرکم ( لہٰذا تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا) یہ آیت اللہ کی یاد کے امر اور حکم کو متضمن ہے۔ ہم اللہ کو کئی طریقوں سے یاد کرسکتے ہیں، اس بارے میں سلف سے کئی اقوال منقول ہیں۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے تم مجھے میری اطاعت کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں اپنی رحمت کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے میری نعمتوں پر حمد و ثناء کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں تمہاری اطاعت کو سراہنے کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول ہے تم مجھے شکر کے ذریعے یاد رکھو میں تمہیں ثواب کے ذریعے یاد رکھوں گا۔ ایک اور قول کے مطابق تم مجھے دعا کے ذریعے یاد…
Read the full tafseer →415 بشریت رسول ایک عظیم الشان انعام خداوندی : سو رسول کا بشر اور اپنی قوم میں سے ہونا ایک مستقل انعام و احسان خداوندی ہے۔ یعنی تمہاری جنس اور تمہاری ہی قوم قبیلے میں سے، تاکہ وہ حیات بشری کی تمام جوانب و جہات میں تمہیں پاکیزہ اور عملی نمونہ دکھا سکے اور تمہیں اپنے اسوہ حسنہ سے سرفراز فرما سکے۔ اور یہ مقصد اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا کہ نبی بشر ہو، تاکہ وہ تمہیں وہ سب کچھ کھول کر بتائے جسکی تمہیں اور تمام بنی نوع انسان کو اپنی بشری زندگی کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ نبی اگر فرشتہ وغیرہ کوئی نوری مخلوق ہوتے، تو پھر نہ تو تمہیں ایسا اسوہ کاملہ مل سکتا تھا، اور نہ ہی تم ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
خانہ کعبہ، محمد ﷺ کی خصوصیات اور ذکر و شکر
تشریح : درس قرآن میں آیت 149 اور 150 کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : ” ان آیات میں بھی قبلہ کی تبدیلی کا حکم مذکور ہے اور ساتھ ہی ارشاد ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو تمہارے عمل سے حجت بازی کا موقع ملے اور مکہ کے کافر و مشرک یہ کہہ سکیں کہ یہ دین ابراہیمی کے اچھے پیرو کار ہیں جو ان کے کعبہ کو قبلہ بھی نہیں مانتے، جہاں تک ڈر کا تعلق ہے وہ صرف اللہ کا چاہئے۔ فضل و کرم کی تکمیل اور ہدایت و کامرانی اسی کے اختیار میں ہے “۔
جیسا کہ پہلے اکثر اسباق میں اسلام کی فضیلتوں اور نبی کریم ﷺ کی خصوصیات، تعلیمات اور مسلمان کی فضیلتوں کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیات 148- 152
اسرارو معارف
ولکل وجھۃ ھو مولیھا…………………ان اللہ علی کل شی قدیر۔
سب قوموں اور جملہ مذاہب کے لئے کوئی نہ کوئی نقطہ اتحاد ہے ۔ افکار و خیال کے لئے بھی اور عبادات و اعمال کے لئے بھی۔ کسی نے اس کو رنگ ونسل کی حد بندی سے واضح کیا ہے تو کسی نے محض طاقت کو اپنا قبلہ بنالیا ، جیسے آج کل مغرب میں سفید فام ہونا ہی معاشرے میں جگہ پانے کا سبب ہے اور سیاہ فام خواہ ان کا مذہب بھی قبول کرلے ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ یا ہندوازم کہ جو شے اپنے سے طاقت یا محض جسامت میں بڑی نظر آئی وہاں سر جھک گئے خواہ کوئی بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، درخت ہو یا جانور ، اسی طرح ؎
” ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گاہے…
Read the full tafseer →ف 2 اس تشبیہ کا مفہوم یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو قبلہ قرار دے کر ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو شرف قبولیت بخشا ہے جو انھوں نے کعبہ کے بارے میں کی تھی جس طرح کہ نبی آخرالزمان کو مبعوث فرماکر ان کی اس دعا کو قبول کیا ہے جو انہوں نے بعثت رسول کے بارے میں کی تھی۔ قرآن میں الکتاب والحکمتہ سے مرادت کتاب وہ سنت ہے اور مالم تکونواتعلمون سے مسائل یا بعد الطبیعیات ( حشر ونشر مبدء نبوت وغیرہ ( مراد ہیں دیکھئے آیت :129)
Read the full tafseer →(2:151) کما۔ میں ک حرف تشبیہ ہے اور ما مصدریہ ۔ کما ارسلنا کا تعلق یا تو لاتم سے ہے اور معنی یہ ہیں کہ ۔ تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں۔ جیسے کہ رسول بھیجنے کی نعمت پوری کی۔ یا اس کا تعلق لعلکم تھتدون سے ہے اور معنی ہوں گے تاکہ تم فلاح پاؤ جیسا کہ تم کو میرے تمہیں میں سے تمہارے پاس رسول بھیجنے سے ہدایت و فلاح نصیب ہوئی۔ (مظہری۔ تفہیم القرآن) ۔
یزکیکم۔ یزکی۔ مضارع واحد مذکر غائب تزکیہ (تفعیل) مصدر کم۔ ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو پاکیزہ کرتا ہے۔ وہ تم کو پاک بناتا ہے۔
مالم تکونوا تعلمون۔ ما موصولہ ہے لم تکونوا تعلمون مضارع نفی حجد بلم۔ تم نہیں جانتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152
لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 152
قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کی نعمت تم کو عطا فرمائی اسی طرح یہ بھی نعمت ہے کہ وہ ملت تمہاری قوم بنی اسماعیل کے نبی کی معرفت تم کو عطا ہوئی تاکہ غیر قوم کی اطاعت کا رکاؤباقی نہ رہے ۔ ابن ماجہ وغیرہ میں معتبر سند آئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو قرآن اور قرآن کے ساتھ ہی اس کے احکام مفصل طور پر بیان کرنے کو کہا گیا ہے ۔ یعنی نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ، ارکان دین کے اکثر مسئلے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر ذکر فرما کر ان کا تفصیلی بیان اپنے محبوب ﷺ کے سپرد کیا ہے کہ ان آیتوں کی تفصیل قول سے ، فعل سے اچھی طرح امت کے لوگوں کو سمجھادو تاکہ وہ لوگ قرآن کی آیتوں کے معنی میں فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
[99] یعنی ہمارے حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ قبلے کے سوا کسی دوسری سمت نماز پڑھتے دیکھا جائے ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ یہ اچھے مسلمان ہیں جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کئے جاتے ہیں۔
[001] اس فقرے کا تعلق اس عبارت سے ہے کہ '' اپنا منہ اس کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ''۔
Read the full tafseer →وظیفہ رسالت :
(ف 1) (آیت) ” کما ارسلنا “۔ سے مقصد یہ ہے کہ کعبہ کی ہادیانہ حیثیت اسی طرح ہے کہ جس طرح ایک رسول آیت اللہ کی تلاوت کرے اور تعلیم وتزکیہ کے رموز سمجھائے ، یا یہ بتانا مقصد ہے کہ تعین اس طرح کی ایک نعمت ہے جس طرح کہ بعثت رسول ﷺ ضمنا یہ بتایا ہے کہ وظیفہ رسول ﷺ کیا ہے ، یا انبیاء اور عام مصلحین میں کیا بین امتیاز ہے ؟ وہ یہ کہ عام مصلحین صرف کہتے ہیں ، صرف تعلیم دیتے ہیں ، لیکن انبیاء (علیہم السلام) تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ قلوب کو جلا بھی دیتے ہیں ، جیسے دماغوں کو معارف وحکم سے منور کرتے ہیں ‘ ویسے دلوں کی تاریک دیا کو بھی اجالے بخشتے ہیں ، ان کی نگاہیں علم ومعرفت کی سطح پر ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ف 1 جس طرح ہم نے کعبہ کو قبلہ مقرر کرکے تم پر اپنی نعمت کی تعمیل فرمائی اسی طرح ہم نے تم لوگوں میں ایک عظیم المرتبت رسول بھیجا جو تم میں ہی سے ہے اور اسکی شان یہ ہے کہ وہ تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہی اور تم کو م شرکو کفر کی گندگی سے پاک کرتا ہے اور محاسن اخلاق کے ساتھ تمہیں سنوارتا ہے اور تم کو کتاب الٰہی کی تعلیم دیتا ہے اور اس کتاب الٰہی کے احکام کی حکمتیں اور ان کے رموز سکھاتا ہے اور فہم و دانش کی باتیں بتاتا ہے اور تم کو وہ وہ باتیں بتاتا ہے جن کی تم کو نہ تو خبر تھی اور جن کو نہ تم خود جان سکتے تھے لہٰذاتم مجھ کو یاد کرو میں بھی تم کو اپنی رحمت و مہربانی سے یاد رکھوں گا اور میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
ف 2۔ اوپر کی آیات میں حقیقتا اللہ کی بڑی بری نعتموں کا ذکر تھا اس لیے آیت آئندہ میں منعم کے زکر اور ان کی نعمت کے شکر کا حکم فرما کر آیات مذکورہ کے مضمون کی بوجہ احسن تکمیل اور تمیم فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اہل اسلام کے لئے ساری نعمتوں سے بڑی نعمت رسول عربی (a) ہیں :
274: اب اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری ہی جنس کا ایک نبی مبعوث فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتاب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفسی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت و کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن کریم اور حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ بستہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے۔ پس آپ کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں مدتوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر عرصہ ہوا…
Read the full tafseer →These verses conclude the discussion on the theme of the Qiblah قبلہ or religious orientation. So, Verse 151 repeats the second part of the prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) with which the discussion had begun (Verses 127 - 129). He had, as one would recall, prayed Allah to accept his founding of the Ka'bah کعبہ ، and to send among his progeny a Messenger from among themselves. The subsequent discussion on the subject of the Qiblah قبلہ has already shown that the first prayer has been heard and accepted. Now, Verse 151 declares that similarly the second request has also been granted,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
150. The followers of the Prophet (peace be upon him) were asked to follow the order to turn towards the Ka'bah, and to do so strictly, since any lapse in this matter on their part would give their opponents a weapon to use against them in their polemics. They would be able to hold Muslims up to ridicule on the grounds that they had voilated what they themselves claimed to be from their Lord.
151. The 'favour' here refers to the position of world leadership and guidance from which God removed the children of israel and which was the conferred upon this ummah. The highest reward that can be…
Read the full tafseer →