پہلے حکم میں تو حضور ﷺ کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور ﷺ کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب حضور ﷺ کی توجہ بھی اسی کی طرف ہوگئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو بار بار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے واللہ اعلم۔ پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
سورة الْبَقَرَة 150
یعنی ہمارے اس حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ سَمْت کے سوا کسی دوسری سَمْت کی طرف نماز پڑھتے دیکھا جائے۔ ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ کیا خوب اُمّتِ وَسَط ہے، کیسے اچھے حق پرستی کے گواہ بنے ہیں، جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کیے جاتے ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 151
نعمت سے مراد وہی امامت اور پیشوائی کی نعمت ہے، جو بنی اسرائیل سے سَلْب کر کے اس امت کو دی گئی تھی۔ دنیا میں ایک اُمّت کی راست روی کا یہ انتہائی ثمرہ ہے کہ وہ اللہ کے اَمِر تَشْرِیْعِی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
خلاصہ تفسیر
اور (دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ عادۃ اللہ جاری ہے کہ) ہر (مذہب والے) شخص کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے (چونکہ شریعت محمدیہ بھی ایک مستقل دین ہے اس کا قبلہ بھی ایک خاص ہوگیا جب حکمت سب پر ظاہر ہوچکی) سو (مسلمانوں) تم (اب اس بحث کو چھوڑ کر اپنے دین کے) نیک کاموں میں آگے بڑہنے کی کوشش کرو (کیونکہ ایک روز اپنے مالک سے سابقہ پڑنا ہے چنانچہ) تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو (اپنے اجلاس میں) حاضر کردیں گے (اس وقت نیکیوں پر جزا اور اعمالِ بد پر سزا ہوگی اور) بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور (اس حکمت کا…
Read the full tafseer →اعادہ حکم کی حکمت : اوپر سفر اور حضرت دونوں حالتوں سے متعلق یہ دونوں حکم بیان ہوچکے ہیں۔ اس وجہ سے انہی دونوں حکموں کا معاً یہ اعادہ بعینہ انہی الفاظ میں اپنے اندر بظاہر کچھ تکرار کی سی گرانی رکھتا ہے اور یہ چیز قرآن میں، جو ایجاز و بلاغت کا ایک معجزہ ہے، طبیعت کو کچھ کھٹکتی ہے، لیکن یہ کھٹک محض قلت تدبر کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، یہاں ان احکام کے دہرانے سے مقصود ہرگز ہرگز ان احکام کو دوبارہ بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ان کی ان تین عظیم حکمتوں اور مصلحتوں کو بیان کرنا ہے جو ان احکام کے اندر اس امت کے لیے پیش نظر ہیں اور جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہ حکمتیں بحیثیت مجموعی دونوں ہی حکموں سے، جیسا کہ آگے…
Read the full tafseer →150۔ 1 قبلہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم تین مرتبہ دوہرایا گیا یا تو اس کی تاکید اور اہمیت واضح کرنے کے لئے یا چونکہ نسخ کا حکم پہلا تجربہ تھا اس لئے ذہنی خلجان دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اسے بار بار دھرا کر دلوں میں راسخ کردیا جائے۔ ایک علت نبی ﷺ کی مرضی اور خواہش تھی وہاں اسے بیان کیا گیا ہے۔ دوسری علت، ہر اہل ملت اور صاحب دعوت کے لئے ایک مستقل مرکز کا وجود ہے وہاں اسے دہرایا۔ تیسری، علت مخالفین کے اعتراضات کا ازالہ ہے وہاں اسے بیان کیا گیا ہے (فتح القدیر)
150۔ 2 یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ خانہ کعبہ ہے اور نماز یہ بیت المقدس کی طرف پڑھتے ہیں۔
150۔ 3 یہاں…
Read the full tafseer →99: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لے یہ لوگ ہمارے قبلے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم ؑ کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑ کر ان سے سنگین انحراف کرلیا ہے، اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہوگئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قراردے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے تو ان دونوں کی حجتیں ختم ہوجائیں گی، البتہ وہ کٹ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا ؛ لیکن مسلمانوں کو ان…
Read the full tafseer →تیسری مرتبہ پھر بالکل ایک جدید غرض کی خاطر ، قبلہ کے معاملے میں تاکید کی جاتی ہے ۔ مسلمان یہودیوں کے قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور یہودی اور دوسرے لوگ اس پر استدلال کرتے تھے کہ ان کا دین مسلمانوں کے دین سے زیادہ افضل ہے ۔ کیونکہ ان کا قبلہ اصل ہے ، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا نظام زندگی بھی اصل ہے ۔ اس لئے تحویل قبلہ کے حکم کی تاکید مزید کرکے اس استدلال کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا گیا ۔ (دوسری طرف مشرکین عرب بیت الحرام کو ایک مقدس مقام سمجھتے تھے اور اس کا بےحد احترام کرتے تھے ۔ وہ بھی بیت المقدس کے قبلہ ہونے پر یوں اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان تو یہودیوں کے تابع ہیں ۔ انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
5 تحویل قبلہ کا حکم مکرر سہ مکرر یا تو اس واسطے بیان فرمایا کہ اس کی علل متعدد تھیں تو ہر علّت کو بتلانے کے لئے اس حکم کا اعادہ فرمایا (قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ) 2 ۔ البقرۃ :114) سے معلوم ہوا کہ اپنے رسول کی رضا جوئی اور اظہار تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا اور لِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْہَا سے معلوم ہوا کہ عادت اللہ یہی ہے کہ ہر ملّت اور ہر ایک رسول صاحب شریعت مستقل کے لئے اس کے مناسب ایک قبلہ مقرر ہونا چاہیے اور (لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ) 2 ۔ البقرۃ :150) سے معلوم ہوا کہ حکم مذکور کی علت یہ ہے کہ مخالف کا الزام عائد نہ ہو سکے یا اس…
Read the full tafseer →دوبارہ فرمایا گیا :
آیت 150 وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ شَطْرَہٗ لا
تم خواہ امریکہ میں ہو یا روس میں ‘ نماز کے وقت تمہیں بیت اللہ ہی کی طرف رخ کرنا ہوگا۔
لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ لا
یعنی اہل کتاب بالخصوص یہود کے لیے تمہارے خلاف بدگمانی پھیلانے کا کوئی موقع باقی نہ رہ جائے۔ تورات میں مذکور تھا کہ نبی آخر الزماں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگا۔ اگر آنحضور ﷺ یہ قبلہ اختیار نہ کرتے تو علماء یہود مسلمانوں پر حجت قائم کرتے۔ تو یہ گویا ان کے اوپر اتمام حجت بھی ہو رہا ہے اور قطع عذر بھی۔
اِلاَّ…
Read the full tafseer →186 اس آیت کو مکرر اور سہ کرر لایا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجوہ الگ الگ ہیں۔ مثلاً آیت (قَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَاء) سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی رضا اور اظہار کی تکریم کی خاطر تحویل قبلہ کا حکم دیا، اور آیت ( وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ٌ 148۔ ) 2 ۔ البقرة :148) میں یہ ارشاد فرمایا، تحویل قبلہ کے مسئلہ پر جھگڑے کھڑے کرنا درست نہیں۔ اصل کام تو نیک کاموں کی طرف پیش قدمی ہے اور آیت (لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ 150ڒ) 2 ۔ البقرة :150) میں یہ واضح فرمایا کہ لوگوں کو تم مسلمانوں سے جھگڑنے کا موقع باقی نہ…
Read the full tafseer →549 ۔ الفاظ کی تکرار غالبا تاکید معنی کے لیے ہے۔ اور یہ اہل عرب کا عام دستور ہے۔ کر رت توکیدا (بحر) ھو الاکثر المعھود فی لسان العرب وھو ان تعاد الجملۃ مرۃ واحدۃ (بحر) بعض نے لکھا ہے کہ پہلا حکم تعمیم حال کے لیے ہے۔ یعنی سفر حضر میں جس حال میں بھی ہوں، توجہ کعبہ کی طرف کرلی جائے۔ اور دوسرا حکم تمیم مکان کے لیے ہے۔ یعنی دور ونزدیک، حاضر غائب، جہاں کہیں بھی ہوں، توجہ کعبہ کی طرف کرلی جائے۔ مفسرین نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق دوسری حکمتیں بھی اس تکرار حکم کی لکھی ہیں۔
550 ۔ (اے مسلمانو ! ) یعنی یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ ساری امت پر اس کی تعمیل فرض ہے، یہاں تک یہ حکم استقبال کعبہ کل ملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
لِئَلَّا یَکُوْنَ لِنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ یعنی اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ ہماری کتابوں میں تو ان کا قبلہ ” خانہ کعبہ “ لکھا ہوا ہے اور بت المقدس کی جانب نماز پڑھتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا یہاں ظلموا سے معاندین مراد ہیں یعنی اہل کتاب میں سے جو معاندین ہیں وہ یہ جاننے کے باوجود کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کا قبلہ خانہ کعبہ ہی ہوگا، وہ بطور حسد وعناد کہیں گے کہ بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو اپنا قبلہ بنا کر یہ پیغمبر بالآخر اپنے آبائی دین ہی کی طرف مائل ہوگیا اور بعض کے نزدیک اس سے مشرکین مراد ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ( اور اے محمد ﷺ جہاں کہیں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیجئے اور اے مسلمانو تم بھی جہاں کہیں ہو اپنے منہ اسی طرف کرلیا کرو) مفسرین نے کہا ہے کہ تحویل قبلہ سے تین امر مقصود تھے اور وہ تینوں امر گویا تحویل کی علت ہیں اوّل تو رسول اللہ ﷺ کا اظہار شرف و عظمت کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رضا کے موافق تبدیل قبلہ منظور فرمایا۔ دوسرے عادت اللہ اوّل سے جاری ہے کہ اولوالعزم پیغمبروں کے لیے مستقل جدا گانہ قبلہ مقرر فرماتے ہیں ( چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے الگ اور…
Read the full tafseer →(150) اور جس مقام پر بھی ہو خواہ پانی کا علاقہ ہو یا خشکی کا مسجد حرام کی طرف چہرہ کرلو تاکہ اس قبلہ کی تبدیلی میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں پر حجت نہ ہو کیوں کہ ان کی کتاب میں ہے کہ حرم محترم حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے، لہٰذا جب تم اس کی طرف نماز ادا کرو گے تو ان کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت قائم نہیں ہوگی۔
اور نہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی اور مشرکین کے لیے کوئی دلیل ہوگی جنہوں نے اپنی باتوں میں حد سے تجاوز کیا ہے قبلہ کی تبدیلی کے بارے میں ان سے خوف نہ کھاؤ بلکہ اس امر کے چھوڑنے پر مجھ سے خوف کھاؤ تاکہ قبلہ کے ذریعہ میں اپنے احسانات تم پر پورے کر دوں، جیسا کہ میں نے دین کو…
Read the full tafseer →اس آیت میں پچھلا حکم دہرایا گیا ہے، پہلے جملے ”فَوَلِّ وَجْهَكَ“ میں مخاطب نبی کریم ﷺ ہیں اور دوسرے جملے ”فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ“ میں تمام مسلمان مخاطب ہیں، تاکہ یہ حکم نبی ﷺ کے ساتھ خاص نہ سمجھا جائے۔ دہرانے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہاں بیت اللہ کو قبلہ مقرر کرنے کی مزید حکمتیں بیان کرنا مقصود ہے۔ جن میں سے پہلی حکمت یہ ہے کہ لوگوں میں سے کسی کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل باقی نہ رہے۔ اہل کتاب یہ نہ کہہ سکیں کہ پہلی کتابوں میں تو آخری نبی کا قبلہ مسجد حرام ہے، انھوں نے بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنا رکھا ہے ؟ اور کفار عرب یہ نہ کہہ سکیں کہ ملت ابراہیم کا قبلہ تو بیت اللہ ہے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
آیت نمبر 149 تا 150
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام بعض علماء نے فرمایا : یہ استقبال کعبہ کے امر کی تاکید اور اس کے اہتمام کے لئے ہے کیونکہ تحویل کا موقع لوگوں کے نفوس میں مشکل تھا تو معاملہ کو مؤکد فرمایا تاکہ لوگ اس کے اہتمام کو دیکھیں اور ان پر تخفیف ہوجائے اور ان کے نفوس کو تسکین حاصل ہوجائے۔ بعض علماء نے فرمایا : پہلے فول وجھک سے مراد کعبہ کی سمت ہے یعنی جب اسے دیکھ رہا ہو تو عین اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے پھر فرمایا حیث ما کنتم مسلمان جو دوسری تمام مساجد میں ہیں مدینہ طیبہ وغیرہ میں وہ کعبہ کی سمت منہ کریں۔ پھر فرمایا : ومن حیث خرجت یعنی سفر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(1) ابن جریر نے سدی سے انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس اور ابن مسعود اور بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے بعد (جب) کعبہ کی طرف رخ فرمایا تو مکہ کے مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اس کے دین نے حیرانی میں ڈال دیا ہے اب اس نے اپنا قبلہ تمہارا بنا لیا ہے اور انہوں نے جان لیا ہے کہ تم اس سے زیادہ ہدایت والے راستہ پر ہو اور عنقریب وہ تمہارے دین میں داخل ہوجائیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ، الا الذین ظلموا منھم، فلا تخشوھم واخشونی “۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ…
Read the full tafseer →(وَمِنْ حَیْثُ : اور جہاں سے ) (خَرَجْتَ : آپ ﷺ نکلیں) (فَوَلِّ : تو آپ ﷺ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَحَیْثُ مَا : اور جہاں کہیں بھی) (کُنْتُمْ : تم لوگ ہو) (فَوَلُّوْا : تو تم لوگ پھیرو) (وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو) (شَطْرَہٗ : اس کی طرف) (لِئَلاَّ یَکُوْنَ : تاکہ نہ ہو) (لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے
عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) (حُجَّۃٌ : کوئی حجت) (اِلاَّ الَّذِیْنَ : سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے) (ظَلَمُوْا : ظلم کیا
مِنْھُمْ : ان میں سے) (فَلَا تَخْشَوْھُمْ : پس تم لوگ مرعوب مت ہو ان لوگوں سے) (وَاخْشَوْنِیْ : اور مرعوب ہو مجھ سے)…
Read the full tafseer →قبلہ بدلنے پر یہودیوں کی حجت ختم ہوگئی :
آخر میں یہ جو فرمایا (لِءَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ) اس کے بارے میں مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ (فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ شریف کی طرف رخ پھیر دینے میں یہودیوں کی حجت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتراض تھا کہ توریت شریف میں تو یہ مذکور ہے کہ نبی آخر الزمان کا قبلہ کعبہ شریف ہوگا لیکن یہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ ہمارے دین کا انکار کرتے ہیں لیکن ہمارے قبلہ کا اتباع کرتے ہیں یہودیوں کے یہ دونوں اعتراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔
قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–153
286 آگے چونکہ تحویل قبلہ کی چوتھی دلیل کا بیان تھا جو دوسری اجمالی دلیل کی تفصیل ہے اس لیے تحویل قبلہ کے حکم کا یہاں پھر اعادہ فرمایا تاکہ دلیل بلا فصل حکم سے متعلق ہو سکے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ۔ یہ تحویل قبلہ کی دوسری تفصیلی علت ہے۔ الناس سے مراد تمام مخالفین ہیں۔ یہود ونصاریٰ اور مشرکین عرب، تورات اور انجیل میں یہ مذکور تھا کہ آخری نبی کا قبلہ کعبہ ہوگا تو اگر تحویل قبلہ کا حکم نہ دیا جاتا تو اہل کتاب کا اعتراض باقی رہتا کہ ہماری کتابوں میں اس کا قبلہ کعبہ لکھا ہوا ہے مگر یہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتا ہے۔ لہذا یہ نبی موعود نہیں۔ المنعوت فی التوراۃ قبلتہ الکعبۃ لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
ربط آیات
تحویل قبلہ کا حکم نازل کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بیوقوف لوگ یعنی متعصب یہود و نصاریٰ یہ ضرور اعتراض کریں گے کہ تحویل قبلہ کی ضروتر کیوں محسوس ہوئی۔ مگر اے نبی کریم آپ ان کے اعتراضات کو خاطر لائیں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ بیت المقدس کا استقبال عارضی حکم تھا اور کس خاص مصلحت کے تحت دیا گیا تھا مستقل قبلہ تو بیت اللہ شریف ہے جس کا حکم حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی دلی خواہش کے پیش نظر دیا گیا۔ یہ تقرر کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ سابقہ کتب سماویہ میں موجود تھا۔ کہ آخری دور اور آخری نبی کا قبلہ وہی خانہ کعبہ ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) لیہ السلام کا…
Read the full tafseer →وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 0 ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ 0 ۙ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــۃٌ 0 ۤۙ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْہُمْ 0 ۤ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ 0 ۤ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ 150 ۙۛ
شطر
شَطْرُ الشیء : نصفه ووسطه . قال تعالی: فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ
[ البقرة/ 144] ، أي : جهته ونحوه، وقال : وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ [ البقرة/ 150] ، ويقال : شَاطَرْتُهُ شِطَاراً ، أي : ناصفته، وقیل : شَطَرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
1 ؎ نماز میں 12
Read the full tafseer →وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھِکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَِہٗ لا لِئَـلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ لا اِلَّاالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ق فَـلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِیْ ق وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّـکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔
(البقرۃ : 150)
(اور آپ جس جگہ سے بھی نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف موڑلیاکریں اور تم لوگ بھی جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اس کی طرف پھیرلیا کروتا کہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے، سوا ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہیں۔ سو تم ان سے نہ ڈرو، مجھ ہی سے ڈروتا کہ میں اپنی نعمت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ :
پہلے بھی بیان ہوا ہے کہ تحویل قبلہ معمولی اقدام نہیں تھا۔ اس لیے رسول کریم ﷺ کو تیسری مرتبہ اور صحابہ ؓ کو دوسری بار مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم نماز کے وقت جہاں کہیں ہوبہر حال اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔ قرآن مجید میں صرف یہی ایسا مسئلہ ہے جس پر عمل درآمد کروانے کے لیے آپ کو تین بار حکم دیا گیا ہے۔ اس تاکید کے باوجود فرمان کے آخر میں مزید حکم دیا ہے کہ لوگوں سے ڈرنے کے بجائے صرف مجھ سے ڈرو۔ کیونکہ آدمی جب اللہ کا ڈر اپنے آپ میں پیدا کرلیتا ہے تو پھر کسی کا خوف اس پر غلبہ نہیں پاسکتا۔ قبول حق اور اس کے ابلاغ کے لیے یہ بات شرط اول کی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 150 … وجہ تاکید :
وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہ ‘: ( اور اے محمد ﷺ جہاں کہیں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیجئے۔ اور اے مسلمانو ! تم جہاں کہیں ہو تو اپنا منہ اس طرف کرلیا کرو۔ ) ومن حیث سے حکم کو دوبارہ بیان کر کے تاکید کردی اور حکم کو پختہ کردیا۔ کیونکہ نسخ کا حکم محل فتنہ اور شبہ کا باعث ہے پس مناسب ہوا کہ مسئلہ دوبارہ لائے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ہر ایک موقعہ سے وہ چیزیں معلق کیں جو دوسرے مقام میں معلق نہ کیں۔ جس سے دوبارہ لانے سے فوائد مختلف ہوگئے۔ پہلی مرتبہ شرف ِنبوی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 150۔:
(آیت)” ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام وحیثما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ “ تکرار آیت تاکید نسخ کے لیے ہے ۔ (آیت)” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ الا الذین ظلموا “ اس آیت کریمہ کی تاویل میں انہوں (مفسرین) نے اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ کے قول ” الا “ کی توجیہ میں بھی اختلاف کیا، پس بعض نے فرمایا کہ تحویل قبلہ بجانب کعبہ اس لیے کیا گیا تاکہ لوگوں کے لیے خلاف کوئی حجت نہ رہے، اس وقت جبکہ تم کعبہ شریف کی بجائے کسی اور جانب منہ کرو گے پس لوگ کہیں گے تمہارا تو کوئی قبلہ ہی نہیں ، سوائے ان لوگوں کے جو کہ ظالم ہیں اور وہ قریش اور یہود ہیں ۔ قریش کہیں گے کہ محمد ﷺ کعبہ کی طرف لوٹ آیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(149 ۔ 150) ۔ قرآن شریف میں یہ پہلا حکم ناسخ ہے جس سے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہوا ہے۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ یہود میں جہاں اور غلط باتیں رواج پکڑ گئی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم کبھی منسوخ نہیں ہوتا اپنے اس غلط اعتقاد کی وجہ سے تبدیل قبلہ کے باب میں وہ لوگ طرح طرح سے مسلمانوں کو بہکاتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے نازل فرمانے میں یہ اہتمام فرمایا کہ تمہید کے طور پر پہلے آیت { سَیَقُوْلُ السُّفَہَآ ئُ } نازل فرما کر مسلمانوں کو ہوشیار کردیا اور اب حکم تبدیل قبلہ کو بھی تاکید کے طور پر وہ دفعہ فرمایا تورات میں جہاں نبی آخر…
Read the full tafseer →(آیت) وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ ” جہاں سے بھی آپ نکلیں “ یعنی اپنے سفر وغیرہ میں۔ یہ عموم کے لئے ہے (آیت) فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ ” پس اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو عمومی طور پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ” اور تم جہاں بھی ہو، تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلو۔ “ فرمایا : (آیت) وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۭ” اور یہ یقیناً آپ کے رب کی طرف سے حق ہے “ اللہ تعالیٰ نے (ان) اور (لام) استعمال کر کے اس کو موکد کردیا ہے، تاکہ اس میں کسی کیلئے ادنیٰ سے شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
قول باری ہے : لئلا یکون للناس علیکم جحۃ الا الذین ظلموا منھم ( تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) اس آیت سے بعض لوگوں نے ایسے استثناء کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے نہ ہو۔ آیت میں مذکورہ استثناء کے بارے میں اہل لغت کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے خیال میں یہ استثنائے منقطع ہے اور آیت کے معنی ہیں لیکن ان میں سے جو ظالم ہیں وہ شبہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اسے حجت کا درجہ دیتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ( اس کے متعلق ) انہیں کوئی علم نہیں ہے لیکن بس اتباع…
Read the full tafseer →409 اِعادہ حکم برائے بیان مصالح و حکم : یہ تیسری مرتبہ پھر اس حکم و ارشاد کو دوہرایا گیا ہے، کہ تم جہاں سے بھی نکلو اپنے رخ مسجد حرام کی طرف پھیر دو تاکہ اس کے بعد ان تین فوائد و مصالح کو ذکر فرمایا جائے جو کہ تحویل قبلہ کے اس حکم پر مرتب ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور جو اس کے متصل بعد ذکر فرمائے جارہے ہیں۔ سو دوسری مرتبہ اسکا اعادہ و تکرار اس حکم کی تاکید، اور سفر و حصر کی دونوں حالتوں کے بیان حکم کے بیان کیلئے تھا۔ اور اب تیسری مرتبہ اسکا ذکر و اعادہ صرف ان مصالح و حکم کے بیان کیلئے ہے جو اس پر مرتب ہوتے ہیں۔
410 تحویل قبلہ سے لوگوں کی حجت بازی کا خاتمہ : کہ تحویل قبلہ کے اس حکم کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
خانہ کعبہ، محمد ﷺ کی خصوصیات اور ذکر و شکر
تشریح : درس قرآن میں آیت 149 اور 150 کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے : ” ان آیات میں بھی قبلہ کی تبدیلی کا حکم مذکور ہے اور ساتھ ہی ارشاد ہے کہ ایسا نہ ہو لوگوں کو تمہارے عمل سے حجت بازی کا موقع ملے اور مکہ کے کافر و مشرک یہ کہہ سکیں کہ یہ دین ابراہیمی کے اچھے پیرو کار ہیں جو ان کے کعبہ کو قبلہ بھی نہیں مانتے، جہاں تک ڈر کا تعلق ہے وہ صرف اللہ کا چاہئے۔ فضل و کرم کی تکمیل اور ہدایت و کامرانی اسی کے اختیار میں ہے “۔
جیسا کہ پہلے اکثر اسباق میں اسلام کی فضیلتوں اور نبی کریم ﷺ کی خصوصیات، تعلیمات اور مسلمان کی فضیلتوں کا ذکر بڑی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیات 148- 152
اسرارو معارف
ولکل وجھۃ ھو مولیھا…………………ان اللہ علی کل شی قدیر۔
سب قوموں اور جملہ مذاہب کے لئے کوئی نہ کوئی نقطہ اتحاد ہے ۔ افکار و خیال کے لئے بھی اور عبادات و اعمال کے لئے بھی۔ کسی نے اس کو رنگ ونسل کی حد بندی سے واضح کیا ہے تو کسی نے محض طاقت کو اپنا قبلہ بنالیا ، جیسے آج کل مغرب میں سفید فام ہونا ہی معاشرے میں جگہ پانے کا سبب ہے اور سیاہ فام خواہ ان کا مذہب بھی قبول کرلے ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ یا ہندوازم کہ جو شے اپنے سے طاقت یا محض جسامت میں بڑی نظر آئی وہاں سر جھک گئے خواہ کوئی بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، درخت ہو یا جانور ، اسی طرح ؎
” ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
ف 9 مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے کے حکم کا تین بار اعادہ کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ چونکہ اسلام میں نسخ ہے اس لیے تکرار برائے تاکید بعض نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ حکم اس شخص کو ہے جو قبلہ کے سامنے ہو اور دوسری مرتبہ اسے نظر نہ آتا ہو اور رتیسری مرتبہ نسخ قبلہ پر مفر ضین کے اعتراض کو ختم کرنا ہوجیسا کہ لئلایکون للناس علیکم حجتہ سے معلوم ہوتا ہے یعنی اہل کتاب کے لیے اس اعتراض کی گنجائش بھی نہ رہے کی نبی آخرالز مان کا قبلہ تو کعبہ ہوگا اور یہ بیت المقدس کی طرف ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر)
1 حتی کہ استفان کعبہ کا حکم بھی تمام نعمت کے طور پر ہے (المنار)
Read the full tafseer →(2:150) تولیۃ کے تکرار (آیات 144 ۔ 149 ۔ 150) کے متعلق مفسرین نے مختلف حکمتیں لکھی ہیں جو کہ کتب تفسیر میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں
لئلا۔ میں لام علت کی ہے۔ یعنی آیات سابقہ میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کی بار بار تاکید کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کو اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ الا۔ ان مصدریہ اور لا منفی سے مرکب ہے لئلا یکون تاکہ نہ ہو، یا نہ رہے۔
حجۃ۔ اعتراض۔ دلیل۔ جحج۔ جمع۔ منھم۔ میں من تبعیضیہ ہے ھم ضمیر جمع مذکر غائب الناس کے لئے ہے۔ فلا تخشوھم۔ لا تخشوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر، خشیۃ مصدر باب سمع ۔ تم مت ڈرو۔
ھم ضمیر جمع مذکر غائب۔ الذین ظلموا کی طرف راجع ہے۔
اختونی۔ اخشوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152
لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 152
قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ…
Read the full tafseer →توریت میں جہاں نبی آخر الزماں کی اور علامتوں اور نشانیوں کا ذکر تھا وہیں ایک علامت تبدیل قبلہ کی بھی تھی اس واسطے فرمایا کہ تبدیل قبلہ کے بعد ناانصافی سے اہل کتاب کو باتیں بنانے کے سوا توریت کے حوالہ سے کچھ بحث کرنے کا موقع باقی نہیں رہا ۔ پھر فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی شخص کچھ غلط حجت کرے بھی اس کا کچھ خوف نہیں کرنا چاہیے بلکہ خوف تو ہر مسلمان کو اس بات کرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہوجاوے کہ اس کا عذاب بھگتنا پڑے گا ، حالانکہ اس کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر اور بہت سخت ہے “۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کو بہ نسبت اور کسی کی مخالفت کے خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
[99] یعنی ہمارے حکم کی پوری پابندی کرو۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص مقررہ قبلے کے سوا کسی دوسری سمت نماز پڑھتے دیکھا جائے ورنہ تمہارے دشمنوں کو تم پر یہ اعتراض کرنے کا موقع مل جائے گا کہ یہ اچھے مسلمان ہیں جو یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہ حکم ہمارے رب کی طرف سے آیا ہے اور پھر اس کی خلاف ورزی بھی کئے جاتے ہیں۔
[001] اس فقرے کا تعلق اس عبارت سے ہے کہ '' اپنا منہ اس کی طرف کرلیا کرو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے ''۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
آیات کے تکرار کا سبب :
(ف 1) فول وجہ : کو تین دفعہ ذکر کیا ہے ، اس لئے بھی کہ مقصود تاکید ہے جو ان مواقع میں ضرور ہوجاتی ہے جبکہ کوئی اہم اور موجب شبہات حکم نازل ہو اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ہر وجہ کے بعدمعلول بھی ذکر کیا جائے یا یہ کہ پہلی صورت میں اس حالت کا ذکر ہے جب آپ کعبہ کے سامنے ہوں ، دوسری صورت وہ ہے جس میں آپ شہر کی دیگر مساجد میں نماز پڑھیں اور تیسری صورت میں مراد یہ ہے کہ جب تم مسافر ہو تو بھی تمہارا قبلہ کعبہ ہی رہے یعنی بہرحال مسلمان کا ہر جسدہ اور اس کی ہر عبادت نہایت درجہ منسلک اور ایک نظام کے ماتحت ہونی چاہئے ، ان آیات میں یہ بتایا کہ تحویل قبلہ سے دو فائدے یہ بھی ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 3 اور آپ جہاں کہیں سے بھی باہر سفر میں جائیں تو نماز پڑھتے وقت اپنے چہرے یعنی اپنے آپ کو مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے۔ اور اے مسلمانو ! تم بھی جہاں کہیں ہو یہ بات یاد رکھو کہ نماز پڑھنے میں اپنا منہ اسی مسجد حرام کی طرف رکھاکرو یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ تمہارے مخالف لوگوں کو تمہارے مقابلے میں کوئی اعتراض کرنے اور الزام قائم کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے مگر ہاں جو لوگ بالکل ہی ناانصاف اور ہٹ دھرم ہیں وہ تو باز آئیں گے نہیں سو ایسے غلط کار لوگوں سے کسی قسم کا خوف نہ کرو اور مجھ سے ڈرتے رہو اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کو اختیار کرنے کا حکم تم کو اس لئے بھی دیا تھا تاکہ تم پر…
Read the full tafseer →ف 1۔ بحث قبلہ کے آغاز و انجام کے اتحاد میں اشارہ ہے کہ کعبہ کا ان نبی کی شریعت میں قبلہ مقرر ہونا مقام تعجب نہیں کیونکہ کعبہ بناء ابراہیم ہے اور یہ نبی ابن ابراہیم ہیں اور اس کے بناء کے قبول ہونے کی اور اس کے ابن رسول ہونے کی انہوں نے دعا بھی کی تھی ہم نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔
Read the full tafseer →تکرار الفاظ کی حکمت ظاہری :
273: ” تم کہیں سے بھی نکلو اور جہاں کہیں بھی ہو چاہئے کہ عبادت نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرو۔ “ تین دفعہ دہرایا گیا۔ یہ تین دفعہ لانا تین مختلف غرضوں کے لئے ہے۔ پہلی مرتبہ تو اس اطمینان کے لئے کہا تھا کہ اب خانہ کعبہ بت پرستوں کے قبضہ میں نہ رہے گا گویا بطور پیشگوئی بیان فرمایا ہے کہ ہم تم کو اس کا متولی بنا دیں گے اس لئے تم اپنا منہ بیشک ادھر پھیر دو دوسری دفعہ یہ بتایا کہ ایک قبلہ پر قائم رہنے سے اصل غرض یکجہتی پیدا کرنا ہے چونکہ تم سب ایک ملت ہو تمہارا ایک ہی مرکز بھی ہونا ضروری ہے اور اس کا اعلان ہم تورات وانجیل میں کرچکے ہیں پھر تیسری بار فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
The change of Qiblah
The question of religious orientation being of the highest significance for an Ummah (or a traditional community), these verses continue and enlarge upon the theme of the Qiblah, and lay down further raisons d'etre for the change.
It is, the commentators point out, an observable fact that every traditional community has had a religious orientation of its own, whether appointed by Allah or chosen by itself. This being so, why should anyone object, or wonder that Allah has appointed for the Islamic Ummah a Qiblah قبلہ peculiar to it? After all, it is a regular and distinct…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
150. The followers of the Prophet (peace be upon him) were asked to follow the order to turn towards the Ka'bah, and to do so strictly, since any lapse in this matter on their part would give their opponents a weapon to use against them in their polemics. They would be able to hold Muslims up to ridicule on the grounds that they had voilated what they themselves claimed to be from their Lord.
151. The 'favour' here refers to the position of world leadership and guidance from which God removed the children of israel and which was the conferred upon this ummah. The highest reward that can be…
Read the full tafseer →