تین بار نزول حکم
یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد حرام کی طرف منہ کرنا چاہئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لئے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
سورة الْبَقَرَة 148
یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اسے یوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی، جس طرح اسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور انہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
خلاصہ تفسیر
اور (دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ عادۃ اللہ جاری ہے کہ) ہر (مذہب والے) شخص کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے (چونکہ شریعت محمدیہ بھی ایک مستقل دین ہے اس کا قبلہ بھی ایک خاص ہوگیا جب حکمت سب پر ظاہر ہوچکی) سو (مسلمانوں) تم (اب اس بحث کو چھوڑ کر اپنے دین کے) نیک کاموں میں آگے بڑہنے کی کوشش کرو (کیونکہ ایک روز اپنے مالک سے سابقہ پڑنا ہے چنانچہ) تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو (اپنے اجلاس میں) حاضر کردیں گے (اس وقت نیکیوں پر جزا اور اعمالِ بد پر سزا ہوگی اور) بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور (اس حکمت کا…
Read the full tafseer →سفر میں اہتمامِ قبلہ کی ہدایت : اوپر آیت 143 میں تحویل قبلہ کے اصلی حکم کے ضمن میں یہ بات تو واضح ہوگئی تھی کہ آدمی جہاں کہیں بھی ہو قبلہ ہی کی طرف رخ کرے لیکن سفر کی حالت سے متعلق وہاں کوئی تصریح نہیں تھی کہ اس صورت میں بھی اس حکم کی پابندی ضوری ہے یا اس میں کچھ ڈھیل ہے۔ سفر کی حالت میں کسی متعین قبلہ کی جستجو اور تحقیق ایک دشوار کام ہے۔ اس وجہ سے خیال یہی ہوتا ہے کہ اس میں کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اوپر قبلہ کی جو اہمیت بیان ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کسی حالت میں بھی اس روحانی پاور ہاؤس سے انسان کا تعلق منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر سفر کی حالت میں آزادی دے دی جاتی تو اس سے قبلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
148۔ 1 یعنی ہر مذہب والے نے اپنا پسندیدہ قبلہ بنا رکھا ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ کہ ہر ایک مذہب نے اپنا ایک راستہ اور طریقہ بنا رکھا ہے، جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ) 5:48 یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور ضلالت دونوں کی وضاحت کے بعد انسان کو ان دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی جو آزادی دی ہے، اس کی وجہ سے مختلف طریقے اور دستور لوگوں نے بنا لئے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی…
Read the full tafseer →98: اللہ تعالیٰ نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے، اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتلانی مقصود ہے، دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کا رخ کرنا صرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو ؛ بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے اور کہیں دور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا، البتہ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمت کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ کعبے کا رخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سوفیصد سیدھ میں ہو بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم پورا ہوجائے گا اور انسان اس معاملے میں اتنا…
Read the full tafseer →پھر تحویل قبلہ کی بات دھرائی جاتی ہے ، تاکیدا حکم دیا جاتا ہے کہ جدید قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھاکرو ، جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے ، اس موقع پر کچھ نئی تعریفات مرتب ہوئی ہیں اور کچھ نتائج نکالے جاتے ہیں ۔ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ” تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے۔ “
اس تاکیدی حکم میں یہودیوں کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی قبلے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
5 تحویل قبلہ کا حکم مکرر سہ مکرر یا تو اس واسطے بیان فرمایا کہ اس کی علل متعدد تھیں تو ہر علّت کو بتلانے کے لئے اس حکم کا اعادہ فرمایا (قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ) 2 ۔ البقرۃ :114) سے معلوم ہوا کہ اپنے رسول کی رضا جوئی اور اظہار تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسا کیا اور لِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْہَا سے معلوم ہوا کہ عادت اللہ یہی ہے کہ ہر ملّت اور ہر ایک رسول صاحب شریعت مستقل کے لئے اس کے مناسب ایک قبلہ مقرر ہونا چاہیے اور (لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ) 2 ۔ البقرۃ :150) سے معلوم ہوا کہ حکم مذکور کی علت یہ ہے کہ مخالف کا الزام عائد نہ ہو سکے یا اس…
Read the full tafseer →آیت 149 وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ‘ یہاں کلام بظاہر آنحضور ﷺ سے ہے ‘ مگر اصل میں آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں سے خطاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
185 یعنی اصل چیز رخ کرنا نہیں بلکہ وہ بھلائیاں ہیں جن کے لیے تم نماز پڑھتے ہو۔ لہذا سمت اور مقام کے جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے تمہیں اصل مقصد یعنی نیکیوں کے حصول کی فکر کرنا چاہیے۔ اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کوشش کرنا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے دن یہی نیکیاں تمہارے کام آئیں گی۔
Read the full tafseer →546 ۔ مطلب یہ کہ یہ حکم استقبال کعبہ، سفر وحضر کہیں سب کے لیے ہے۔ محض قیام مدینہ کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بین بھذا تساوی الحالین اقامۃ وسفرا فی انہ مامور باستقبال البیت الحرام (بحر) ۔
547 ۔ یعنی امر ثابت شدہ جس میں اب کسی نسخ وتبدیلی کا امکان نہیں۔ ھوالحق اے ثابت الذی لا یعرض لہ نسخ ولا تبدیل (بحر) (آیت) ” انہ “ میں ضمیر حکم استقبال کعبہ کی طرف ہے۔
548 ۔ ایک جزئی حکم کے بعد کلی تنبیہ اسلوب قرآنی کے خصائص میں سے ہے۔ اور صیغہ واحد سے صیغہ جمع کی طرف منتقل ہوجانا عربی اسلوب بلاغت میں عام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
آیت نمبر 148 تا 152
ترجمہ : ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ طرف وہ اپنی عبادت میں رخ کرتی ہے اور ایک قراءت میں مُوَلَّاھَا ہے (جس کی طرف پھیرا گیا ہے) نیکیوں کی طرف سبقت کرو یعنی طاعتوں اور اس کے قبول کی جانب جلدی کرو، تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم کو جمع کر لائے گا (یعنی) روز قیامت تم کو جمع کرے گا، اور تمہارے اعمال کی جزا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اے محمد ﷺ ! ) آپ جہاں سے بھی سفر شروع کریں (نماز میں) رخ مسجد حرام کی جانب کریں، یہی آپ کے رب کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے تاء اور یاء کے ساتھ، اسی جیسی آیت گزر چکی ہے، سفر و حضر میں حکم کی یکسانیت کو…
Read the full tafseer →وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ ( اور جس جگہ سے آپ نکلیں) من حیث خرجتکا معطوف علیہ مقدر ہے اور معنی شرط کو شامل و متضمن ہے اسی واسطے جوابفوَل پر فاء لائے معنی یہ ہوں گے کہ اے محمد ﷺ جہاں کہیں تم ہو اور جس جگہ سے نکلو تو اپنا منہ مسجد حرام کی جانب کرلو اور بعض مفسرین نے کہا ہے و من حیث خرجت کے معنی بطور مجاز کے یہ ہیں کہ آپ جہاں کہیں ہوں اور جس طرف متوجہ ہوں اور علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ حیث مضاف ہے اور خرجت مضاف الیہ اور مضاف مضاف الیہ سے مل کر مِن کا مجرور ہے جار مجرور مل کر متعلق ہے فولِّکے اور ایسے موقع پر فا کا ما بعد بھی اپنے ما قبل میں عمل کرتا ہے لیکن اس ترکیب کے موافق واو اور فا کا اجتماع…
Read the full tafseer →(149) خواہ تم خشکی کے علاقہ میں ہو یا دریائی علاقہ میں اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئے گا اور سب کو جمع کرے گا اور پھر تمہیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ دے گا اللہ تعالیٰ تمہارے جمع کرنے اور بدلہ دینے پر قادر ہے، تو تم نماز میں حرم محترم کی طرف چہرہ کرلو، یہ حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے اور حضرت ابراہیم ؑ کے قبلہ کے بارے میں جو کچھ تم خفیہ رکھتے ہو یعنی چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے لاعلم نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →یعنی فرض نماز میں قبلہ کی طرف رخ کرنا ایسا حکم ہے کہ سفر میں بھی اس کا اہتمام ضروری ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ سفر کی مشقت کی بنا پر یہاں تخفیف ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : (ۭ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ) اس حکم کی تاکید کے لیے ہے اور (وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ) اس کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ہے، تاکہ اسے معمولی سمجھ کر کوئی نظر انداز نہ کرے۔ (ابن عاشور)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
آیت نمبر 149 تا 150
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام بعض علماء نے فرمایا : یہ استقبال کعبہ کے امر کی تاکید اور اس کے اہتمام کے لئے ہے کیونکہ تحویل کا موقع لوگوں کے نفوس میں مشکل تھا تو معاملہ کو مؤکد فرمایا تاکہ لوگ اس کے اہتمام کو دیکھیں اور ان پر تخفیف ہوجائے اور ان کے نفوس کو تسکین حاصل ہوجائے۔ بعض علماء نے فرمایا : پہلے فول وجھک سے مراد کعبہ کی سمت ہے یعنی جب اسے دیکھ رہا ہو تو عین اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے پھر فرمایا حیث ما کنتم مسلمان جو دوسری تمام مساجد میں ہیں مدینہ طیبہ وغیرہ میں وہ کعبہ کی سمت منہ کریں۔ پھر فرمایا : ومن حیث خرجت یعنی سفر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(1) ابن جریر نے سدی سے انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس اور ابن مسعود اور بعض صحابہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے بعد (جب) کعبہ کی طرف رخ فرمایا تو مکہ کے مشرکوں نے کہا کہ محمد ﷺ کو اس کے دین نے حیرانی میں ڈال دیا ہے اب اس نے اپنا قبلہ تمہارا بنا لیا ہے اور انہوں نے جان لیا ہے کہ تم اس سے زیادہ ہدایت والے راستہ پر ہو اور عنقریب وہ تمہارے دین میں داخل ہوجائیں گے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” لئلا یکون للناس علیکم حجۃ، الا الذین ظلموا منھم، فلا تخشوھم واخشونی “۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ…
Read the full tafseer →(وَمِنْ حَیْثُ : اور جہاں سے ) (خَرَجْتَ : آپ ﷺ نکلیں) (فَوَلِّ : تو آپ ؐ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَاِنَّــہٗ : اور بیشک یہ) (لَلْحَقُّ : حق ہے ) (مِنْ رَّبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی جانب سے) (وَمَا اللّٰہُ : اور اللہ نہیں ہے ) (بِغَافِلٍ : غافل ) (عَمَّا : اس سے جو ) ( تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کرتے ہو)
ترکیب :” واو “ استیناف ” مِنْ “ حرف ِجر ” حَیْثُ “ مجرور۔ جار مجرور متعلق ” فَوَلِّ “ (متأخر) لیکن ” فَوَلِّ “ کو متعلق ماننے سے لازم آتا ہے اعمال ” مَا بَعْدَ الْفَائِ فِیْمَا قَبْلَھَا وَھُوَ مُمْتَنِعٌ فَالْاَوْلٰی تَعْلِیْقُھُمَا…
Read the full tafseer →دنیا میں جہاں بھی ہوں مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ جس جگہ سے بھی کہیں سفر میں باہر نکلیں۔ نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور فرمایا کہ یہ حکم حق ہے آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ اللہ سب کاموں کو دیکھتا ہے کسی کے عمل سے غافل نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حکم کا دوبارہ اعادہ فرمایا اور ساتھ ہی عامۃ المسلمین کو بھی خطاب فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو نمازوں میں اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو۔ (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ ) سے لے کر (لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) تک (فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) تین مرتبہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔
قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…
Read the full tafseer →ف 285 تحویل قبلہ سے متعلق پہلا حکم بھی اگرچہ عام تھا لیکن یہاں اس بات کی صراحت فرما دی کہ یہاں حکم قیام مدینہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام احوال سفر وحضر کو شامل ہے۔ وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔ اور یہ استقبال کعبہ کا حکم اللہ کی طرف سے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ استقبال ھذہ القبلۃ ھو الحق ای الثابت الذی لا یعرض لہ نسخ ولا تبدیل (بحر ص 639 ج 1) ای الثابت الموافق للحکمۃ (روح ص 16 ج 2) وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ تمہارے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں اور وہ تمہارے نیک وبد اعمال کے مطابق تمہیں جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
ربط آیات
تحویل قبلہ کا حکم نازل کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بیوقوف لوگ یعنی متعصب یہود و نصاریٰ یہ ضرور اعتراض کریں گے کہ تحویل قبلہ کی ضروتر کیوں محسوس ہوئی۔ مگر اے نبی کریم آپ ان کے اعتراضات کو خاطر لائیں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ بیت المقدس کا استقبال عارضی حکم تھا اور کس خاص مصلحت کے تحت دیا گیا تھا مستقل قبلہ تو بیت اللہ شریف ہے جس کا حکم حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی دلی خواہش کے پیش نظر دیا گیا۔ یہ تقرر کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ سابقہ کتب سماویہ میں موجود تھا۔ کہ آخری دور اور آخری نبی کا قبلہ وہی خانہ کعبہ ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) لیہ السلام کا…
Read the full tafseer →وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 0 ۭ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 149
حيث
حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] .
( ح ی ث ) حیث
( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
1 ؎ نماز میں 12
Read the full tafseer →وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَاِنَّـہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّـکَ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 149)
(اور جہاں کہیں سے بھی تم نکلوتو اپنا رخ مسجد حرام کی ہی طرف کرو، بیشک یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے )
سفر اور حضر میں ایک ہی حکم ہے
اس سے پہلے آیت نمبر 143 میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم گزرچکا۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو الگ حکم دیا گیا اور آپ کی امت کو الگ حکم دیا گیا۔ لیکن اس حکم کا تعلق صرف حضر کی حالت سے تھا۔ یعنی قیام کی حالت سے کہ اگر تم اپنے گھروں میں ہو یا اپنے شہر میں ہو یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ
ہر مذہب کے لوگوں نے عبادت کے لیے ایک جہت مقرر کر رکھی ہے۔ وہ اسی طرف ہی راغب اور رخ کیے ہوئے ہیں۔ ہندو اپنے عبادت خانوں میں مورتی (بت) کی طرف اور اگر مورتی یعنی بت نہ ہو تو سورج کی طرف منہ کرتے ہیں۔ سکھ اپنی کتاب گرنتھ کی جانب منہ کرتے ہیں۔ کتاب موجود نہ ہونے کی صورت میں جس طرف چاہیں چہرہ کرلیتے ہیں۔ بدھ مت بدھا کی مورتی کی طرف، یہودی بیت المقدس میں بھی دیوار گریہ کی طرف اور عیسائی مسجد اقصیٰ کی اس جانب منہ کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے جنم لیا تھا۔
یہ تو مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں بیت اللہ کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اس لیے ارشاد ہورہا…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 149:
وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔ وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ : (جس جگہ سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیں اور وہی حق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ ان کاموں سے جو تم کرتے ہو بیخبر نہیں) ومن حیث یعنی شہر سے تم سفر کے لئے نکلو تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو۔ جب نماز پڑھو۔ وانہٗ ۔ بیشک یہ حکم تیرے رب کی طرف سے برحق ہے اور اللہ تعالیٰ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو۔
قراءت : ( ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا۔ یعملون۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 149۔:
(آیت)” ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام وانہ للحق من ربک وما اللہ بغافل عما تعملون “ ” تعملون “ کو ابو عمرو نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(149 ۔ 150) ۔ قرآن شریف میں یہ پہلا حکم ناسخ ہے جس سے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم منسوخ ہوا ہے۔ یہ اوپر گذر چکا ہے کہ یہود میں جہاں اور غلط باتیں رواج پکڑ گئی تھیں ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ احکام الٰہی میں سے کوئی حکم کبھی منسوخ نہیں ہوتا اپنے اس غلط اعتقاد کی وجہ سے تبدیل قبلہ کے باب میں وہ لوگ طرح طرح سے مسلمانوں کو بہکاتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس حکم کے نازل فرمانے میں یہ اہتمام فرمایا کہ تمہید کے طور پر پہلے آیت { سَیَقُوْلُ السُّفَہَآ ئُ } نازل فرما کر مسلمانوں کو ہوشیار کردیا اور اب حکم تبدیل قبلہ کو بھی تاکید کے طور پر وہ دفعہ فرمایا تورات میں جہاں نبی آخر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لئے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لئے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے یہی سعادت کا عنوان اور دلایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑجاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کرلیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
قول باری ہے : لئلا یکون للناس علیکم جحۃ الا الذین ظلموا منھم ( تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ ملے۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی) اس آیت سے بعض لوگوں نے ایسے استثناء کے جواز کے لیے استدلال کیا ہے جس میں مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس میں سے نہ ہو۔ آیت میں مذکورہ استثناء کے بارے میں اہل لغت کے مابین اختلاف رائے ہے۔ بعض کے خیال میں یہ استثنائے منقطع ہے اور آیت کے معنی ہیں لیکن ان میں سے جو ظالم ہیں وہ شبہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑے رکھتے ہیں اور اسے حجت کا درجہ دیتے ہیں جس طرح یہ قول باری ہے۔ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ( اس کے متعلق ) انہیں کوئی علم نہیں ہے لیکن بس اتباع…
Read the full tafseer →407 اعادہ حکم برائے تاکید حکم : سو اس حکم کو پھر لوٹایا گیا تاکہ واضح ہوجائے کہ یہ دائمی ہے، کسی خاص جگہ، یا وقت کے ساتھ مختص نہیں، بلکہ اب ہمیشہ کیلئے اہل ایمان کا قبلہ یہی رہے گا۔ پس تم جہاں کہیں بھی ہوؤ خواہ سفر میں ہو یا حضر میں۔ اور سفر بھی خواہ قریب کا ہو یا دور کا، اب تم نے بہرصورت اپنا رخ اسی قبلے کی طرف کرنا ہے۔ پس کسی بھی حالت میں انسان کا تعلق اپنے اس روحانی پاور ہاؤس سے منقطع نہیں ہونا چاہیئے، اور سفر و حضر کی ہر حالت میں وہی اسکا قبلہ توجہ ہونا چاہیئے کہ اب قبلہ بہرحال یہی اور صرف یہی ہے اور ہر حال میں مرکز توجہ یہی ہونا چاہیے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
نیکی میں سبقت کرنا
تشریح : اس آیت میں سمت یعنی قبلہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ ٹھیک ہے یکجہتی اور نظم و ضبط کے لئے قبلہ کا تعین ضروری ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے۔ نیکی، بھلائی اور سیدھی راہ اختیار کرنے میں تم ایک دوسرے سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ اگر امت نیکی پر ایکا کرلے اور اپنی زندگیاں نیک کاموں کے لئے وقف کر دے تو نیکی، بھلائی اور راست بازی میں اتنی طاقت ہے کہ خدا کے فضل سے تمام لوگ ایک ہی مرکز پر جمع ہوجائیں گے آپس کی تمام مخالفتیں اور ناچاقیاں ختم ہوجائیں گی۔ دراصل قبلہ کا تعین اسی چیز کے لئے کیا گیا ہے کہ تمام لوگ سچائی کی راہ پر اکٹھے ہو کر چلیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیات 148- 152
اسرارو معارف
ولکل وجھۃ ھو مولیھا…………………ان اللہ علی کل شی قدیر۔
سب قوموں اور جملہ مذاہب کے لئے کوئی نہ کوئی نقطہ اتحاد ہے ۔ افکار و خیال کے لئے بھی اور عبادات و اعمال کے لئے بھی۔ کسی نے اس کو رنگ ونسل کی حد بندی سے واضح کیا ہے تو کسی نے محض طاقت کو اپنا قبلہ بنالیا ، جیسے آج کل مغرب میں سفید فام ہونا ہی معاشرے میں جگہ پانے کا سبب ہے اور سیاہ فام خواہ ان کا مذہب بھی قبول کرلے ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ یا ہندوازم کہ جو شے اپنے سے طاقت یا محض جسامت میں بڑی نظر آئی وہاں سر جھک گئے خواہ کوئی بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، درخت ہو یا جانور ، اسی طرح ؎
” ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
ف 9 مسجد حرام کی طرف متوجہ ہونے کے حکم کا تین بار اعادہ کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ چونکہ اسلام میں نسخ ہے اس لیے تکرار برائے تاکید بعض نے لکھا ہے کہ پہلی مرتبہ حکم اس شخص کو ہے جو قبلہ کے سامنے ہو اور دوسری مرتبہ اسے نظر نہ آتا ہو اور رتیسری مرتبہ نسخ قبلہ پر مفر ضین کے اعتراض کو ختم کرنا ہوجیسا کہ لئلایکون للناس علیکم حجتہ سے معلوم ہوتا ہے یعنی اہل کتاب کے لیے اس اعتراض کی گنجائش بھی نہ رہے کی نبی آخرالز مان کا قبلہ تو کعبہ ہوگا اور یہ بیت المقدس کی طرف ہو کر نماز پڑھتے ہیں۔ (کبیر۔ ابن کثیر)
1 حتی کہ استفان کعبہ کا حکم بھی تمام نعمت کے طور پر ہے (المنار)
Read the full tafseer →(2:149) حیث۔ جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے۔ مبنی برضمہ ہے۔
من حیط خرجت۔ جس جگہ سے آپ نکلیں۔ بطور مجاز کے اس کے معنی یہ ہوں گے۔ آپ جہاں کہیں ہوں یہ معنی شرط کو شامل و متضمن ہے اسی لئے اگلے جملہ میں فول پر فاء (بطور جواب شرط) لائے ہیں۔
فول وجھک ۔ ای فول وجھک اذا نملیت۔ جب نماز پڑھو تو اپنا منہ پھیرلیا کرو۔ ول فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولیہ (تفعیل) مصدر۔ تو پھیر لے۔ انہ۔ ای التولیۃ الی القبلۃ۔ قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ للحق۔ میں لام زائدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152
لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 152
قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
شان نزول : قبلہ کی تبدیلی کے بعد اہل کتاب اور اہل مکہ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز فرمائی اور فرمایا کہ ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ لوگ منہ کرتے ہیں۔ یہود کا قبلہ مثلاً بیت المقدس ہے۔ نصاریٰ کا مشرق اور مسلمانوں کا قبلہ جب تک حکم تھا بیت المقدس رہا ، اب ان کا قبلہ کعبہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
[98] مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت بہرحال کسی نہ کسی سمت کی طرف منہ تو کرنا ہی ہوگا مگر اصل چیز سمت نہیں ہے جو دین کے اصول و مہمات میں سے ہو اور اسے حق و باطل کا معیار سمجھ لیا جائے بلکہ اصلی چیز جو سمجھنے اور کرنے کی ہے وہ نیک عمل ہے۔ پس چاہئے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
آیات کے تکرار کا سبب :
(ف 1) فول وجہ : کو تین دفعہ ذکر کیا ہے ، اس لئے بھی کہ مقصود تاکید ہے جو ان مواقع میں ضرور ہوجاتی ہے جبکہ کوئی اہم اور موجب شبہات حکم نازل ہو اور اس کے لئے ضروری تھا کہ ہر وجہ کے بعدمعلول بھی ذکر کیا جائے یا یہ کہ پہلی صورت میں اس حالت کا ذکر ہے جب آپ کعبہ کے سامنے ہوں ، دوسری صورت وہ ہے جس میں آپ شہر کی دیگر مساجد میں نماز پڑھیں اور تیسری صورت میں مراد یہ ہے کہ جب تم مسافر ہو تو بھی تمہارا قبلہ کعبہ ہی رہے یعنی بہرحال مسلمان کا ہر جسدہ اور اس کی ہر عبادت نہایت درجہ منسلک اور ایک نظام کے ماتحت ہونی چاہئے ، ان آیات میں یہ بتایا کہ تحویل قبلہ سے دو فائدے یہ بھی ہیں کہ…
Read the full tafseer →ف 2 اور آپ جس جگہ سے بھی کہیں باہر سفر میں تشریف لے جائیں تو اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف رکھا کیجئے اور یقینا یہ حکم حق اور امر واقعی ہے اور آپ کے رب کی جانب سے نازل شدہ ہے اور تم جو کام کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ خواہ آپ مقیم ہوں یا مسافر آپ کا قبلہ کعبہ ہی ہوگا البتہ جہاد کے موقعہ پر اگر کوئی خطرہ پیش ہو یا سفر میں سواری پرنوافل پڑھنے ہوں تو اس کے احکام جدا ہیں اور ان کا مبنیٰ مجبوری یا رعایت ہے اگرچہ آیت میں حضر کا ذکر نہیں ہے لیکن اول تو سفر سے ہی حضر کا حکم سمجھا جاتا ہے نیز جب آپ کو ابتداء بیت المقدس سے کعبہ کی جانب پھرجانے کا حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
ف 4۔ رسول اللہ ﷺ کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔
Read the full tafseer →بیت اللہ کو قبلہ بنانے کی تاکید مزید :
272 ایک لمحہ کے لئے بھی کسی مسلمان کو قبلہ بدلنے اور رسول کے طرز عمل سے استدلال کرنے کا خیال نہ پیدا ہو بلکہ اب اس میں کبھی تبدیلی نہ ہوگی ورنہ لوگوں کو یہکہنے کا موقعہ مل جائے گا کہ مسلمانوں کا کوئی اصول بھی قابل اعتماد نہیں ، رہے ظالم و بدکار سو وہ تو اپنی کٹ حجتیوں سے کبھی باز نہ آئیں گے۔ عیسائی اب تک یہی کہتے ہیں کہ عربوں کو اپنے ساتھ ملانے کی خاطر بیت اللہ قبلہ بنایا گیا حالانکہ ابراہیمی عہد انہیں خوب یاد ہے اور وہ بھی جانتے ہیں کہ جس شخص نے صدہا سال کی بت پرستی کو فنا کردیا جو اس قوم کے نزدیک بےانتہا عزیز و محبوب اور لازمہ قومیت تھی وہ اپنی قوم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
The change of Qiblah
The question of religious orientation being of the highest significance for an Ummah (or a traditional community), these verses continue and enlarge upon the theme of the Qiblah, and lay down further raisons d'etre for the change.
It is, the commentators point out, an observable fact that every traditional community has had a religious orientation of its own, whether appointed by Allah or chosen by itself. This being so, why should anyone object, or wonder that Allah has appointed for the Islamic Ummah a Qiblah قبلہ peculiar to it? After all, it is a regular and distinct…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
149. There is a subtle gap between this sentence and the next, a gap which the reader can fill with just a little reflection. The idea conveyed here is that anyone who prays will, after all, have to turn his face in some direction. But what is of real significance is not the turning of one's face in some specific direction but one's orientation to righteousness for the sake of which one performs the ritual Prayer. A man's real concern should be moral excellence rather than controversies regarding such formal regulations as the direction of Prayer.
Read the full tafseer →