سچا قبلہ
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں ابو العالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت (مولیھا) کی دوسری قرأت (مولاھا) ہے جیسے اور جگہ ہے آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا) 5۔ المائدہ :48) یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
سورة الْبَقَرَة 148
یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اسے یوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی، جس طرح اسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور انہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
خلاصہ تفسیر
اور (دوسری حکمت تحویل قبلہ میں یہ ہے کہ عادۃ اللہ جاری ہے کہ) ہر (مذہب والے) شخص کے واسطے ایک ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ (عبادت میں) منہ کرتا رہا ہے (چونکہ شریعت محمدیہ بھی ایک مستقل دین ہے اس کا قبلہ بھی ایک خاص ہوگیا جب حکمت سب پر ظاہر ہوچکی) سو (مسلمانوں) تم (اب اس بحث کو چھوڑ کر اپنے دین کے) نیک کاموں میں آگے بڑہنے کی کوشش کرو (کیونکہ ایک روز اپنے مالک سے سابقہ پڑنا ہے چنانچہ) تم خواہ کہیں ہوگے (لیکن) اللہ تعالیٰ تم سب کو (اپنے اجلاس میں) حاضر کردیں گے (اس وقت نیکیوں پر جزا اور اعمالِ بد پر سزا ہوگی اور) بالیقین اللہ تعالیٰ ہر امر پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور (اس حکمت کا…
Read the full tafseer →لفظ ‘ کل ’ کا مفہوم :‘ کل ’ کا لفظ اگرچہ لفظاً نکرہ ہے لیکن عموماً اس سے مراد وہ خاص گروہ یا اشخاص ہی ہوتے ہیں جن کا ذکر کلام میں اوپر گزر چکا ہوتا ہے مثلاً وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَكُلا جَعَلْنَا نَبِيًّا (مریم :49) ، ہم نے اس کو عطا کیے اسحاق اور یعقوب اور ان میں سے ہر ایک کو نبی بنایا۔ : وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ كُلٌّ مِنَ الصابرین (انبیاء : 85) اور اسماعیل، ادریس اور ذوالکفل، ان میں سے ہر ایک صابروں میں سے تھا۔ چناچہ یہاں بھی ‘ لکل ’ سے مراد یہود و نصاری کے وہی گروہ ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ ان کے متعلق فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
148۔ 1 یعنی ہر مذہب والے نے اپنا پسندیدہ قبلہ بنا رکھا ہے جس کی طرف وہ رخ کرتا ہے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ کہ ہر ایک مذہب نے اپنا ایک راستہ اور طریقہ بنا رکھا ہے، جیسے قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ آیت (لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا ۭوَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ) 5:48 یعنی اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور ضلالت دونوں کی وضاحت کے بعد انسان کو ان دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنے کی جو آزادی دی ہے، اس کی وجہ سے مختلف طریقے اور دستور لوگوں نے بنا لئے ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ایک ہی…
Read the full tafseer →97: جو لوگ قبلے کی تبدیلی پر اعتراض کررہے تھے ان پر حجت تمام کرنے کے بعد مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے قبلے الگ الگ بنارکھے ہیں اور تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں ان کو کسی ایک قبلے پر جمع کرسکو، لہذا اب ان لوگوں سے قبلے کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں اپنے کام میں لگ جانا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نامہ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اضافہ کرو اور اس کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو، آخری انجام یہ ہوگا کہ تمام مذہبوں والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے پاس بلائے گا اور اس وقت ان سب کی ترکی تمام ہوجائے گی وہاں سب کا قبلہ ایک ہی ہوجائے گا،…
Read the full tafseer →اب بات کا رخ اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی باتوں پر کان ہی نہ دھریں ۔ ان کی ہدایات و رہنمائی قبول ہی نہ کریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے طریق زندگی اور اپنے نقطہ نظر کی طرف بڑھتے چلے جائیں ۔ ہر گروہ کا اپنا رخ رفتار ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا رخ نیکی اور خیر کی طرف ہے ۔ انہیں چاہئے کہ کسی چیز کی طرف بھی نظریں نہ اٹھائیں اور بڑھتے چلے جائیں ۔ آخر کار انہیں خداوند قیامت کے سامنے حاضر ہونا ہے جو اس پر اچھی طرح قدرت رکھتا ہے کہ انہیں جمع کرے ۔ وہ قادر ہے کہ وہاں سب کو جزا وسزا دے : وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَمَا…
Read the full tafseer →4 یعنی اللہ نے ہر ایک امت کے لئے ایک ایک قبلہ کا حکم فرمایا جس کی طرف بوقت عبادت اپنا منہ کیا کریں یا ہر ایک قوم مسلمان کعبہ سے جدا جُدا سمت میں واقع ہے کوئی مشرق میں کوئی مغرب میں سو اس میں جھگڑنا فضول اور اپنے قبلہ یا اپنی سمت پر ضد کرنا عبث ہے جو نیکیاں مقصود و مطلوب ہیں ان کی طرف البتہ پیش قدمی کرو اور اس بحث کو چھوڑو جس جگہ اور جس قبلہ اور جس سمت کعبہ کی طرف تم ہوگے لائے گا تم سب کو اللہ میدان حشر میں اور تمہاری نمازیں ایسی سمجھی جائیں گی گویا ایک ہی جہت کی طرف ہوئی ہیں پھر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 148 وَلِکُلٍّ وِّجْہَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیْہَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط تو مسلمانو ! ۔
ہم نے تمہارے لیے ایک رخ معینّ کردیا ‘ یعنی بیت اللہ۔ اور ایک باطنی رخ تمہیں یہ اختیار کرنا ہے کہ نیکیوں کی راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ جیسے نماز کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے باوضو ہو کر قبلے کی طرف رخ کرلیا اور ارکان نماز ادا کیے۔ جبکہ نماز کا باطن خشوع و خضوع ‘ حضور قلب اور رقتّ ہے۔ انسان کو یہ احساس ہو کہ وہ پروردگار عالم کے روبرو حاضر ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
185 یعنی اصل چیز رخ کرنا نہیں بلکہ وہ بھلائیاں ہیں جن کے لیے تم نماز پڑھتے ہو۔ لہذا سمت اور مقام کے جھگڑوں میں پڑنے کے بجائے تمہیں اصل مقصد یعنی نیکیوں کے حصول کی فکر کرنا چاہیے۔ اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کوشش کرنا چاہیے۔ کیونکہ قیامت کے دن یہی نیکیاں تمہارے کام آئیں گی۔
Read the full tafseer →542 ۔ ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے ! یعنی ہر قوم ہر امت نماز و عبادت کے لیے ایک مرکزی رخ مقرر رکھتی ہے، سو امت اسلامیہ کے لیے بھی ایک متعین قبلہ ناگزیر ہے۔ (آیت) ” لکل “ ہر ایک “ سے مراد ہر قوم یا ہر امت ہے اور حذف مضاف کی طرح حذف مضاف الیہ کی مثالیں عربی میں عام ہیں۔ ولم یقل لکل قوم اوامۃ لانہ معروف المعنی عندھم (کبیر) یعنی ذلک اھل الادیان (ابن کثیر) لکل طائفۃ من اھل الادیان (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض صوفیہ عارفین نے آیت کو حدیث نبوی کل میسرلما خلق لہ (ہر ایک کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے) سے مؤید کر کے اس کی شرح میں کہا ہے کہ تکوینی وتشریعی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
آیت نمبر 148 تا 152
ترجمہ : ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ طرف وہ اپنی عبادت میں رخ کرتی ہے اور ایک قراءت میں مُوَلَّاھَا ہے (جس کی طرف پھیرا گیا ہے) نیکیوں کی طرف سبقت کرو یعنی طاعتوں اور اس کے قبول کی جانب جلدی کرو، تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم کو جمع کر لائے گا (یعنی) روز قیامت تم کو جمع کرے گا، اور تمہارے اعمال کی جزا دے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اے محمد ﷺ ! ) آپ جہاں سے بھی سفر شروع کریں (نماز میں) رخ مسجد حرام کی جانب کریں، یہی آپ کے رب کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے تاء اور یاء کے ساتھ، اسی جیسی آیت گزر چکی ہے، سفر و حضر میں حکم کی یکسانیت کو…
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا ( اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس طرف کو وہ منہ کرتا ہے) لِکُلِّ میں تنوین مضاف الیہ (امت) کے عوض میں ہے وجھۃ اس جانب کو کہتے ہیں جس طرف منہ کرتے ہیں یعنی ہر امت اور گروہ کا ایک قبلہ ہے اور ضمیر ھو کل کی طرف راجع ہے مُوَلِّیْھَا کا دوسرا مفعول وجہہ محذوف ہے یعنی جس کی طرف وہ اپنا رخ کرنے والا ہے چناچہ عرب ولیتہ و ولیت الیہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی شے کی طرف توجہ کی جائے اور ولیت عنہ اس وقت بولتے ہیں جب اعراض کیا جائے ابن عامر نے مُوَ مُوَلَّاھَاپڑھا ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے وہ پھیرا گیا ہے اس کی طرف حاصل یہ ہے کہ عادت اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اسی طرح ہے…
Read the full tafseer →(148) اور ہر دین والے کے لیے ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہوتا ہے۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ہر ایک بنی کے لیے ایک قبلہ اور کعبہ ہے جس کی جانب اسے چہرہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسے محمد ﷺ کی امت تم تمام پہلی امتوں سے زیادہ اطاعت خداوندی کرو۔
Read the full tafseer →وِّجْهَةٌ وہ جگہ جس طرف منہ کیا جائے۔ اس کا وزن ”فِعْلَۃٌ“ ہے، جو اس ”فِعْلٌ“ کا مؤنث ہے جو بمعنی مفعول ہے، جیسے ”ذِبْحٌ“ بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ (ابن عاشور)
اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ ابراہیم ؑ کا قبلہ اگرچہ کعبہ تھا، مگر بعد میں ہر ایک نے اپنی اپنی مرضی سے کسی نہ کسی سمت کو اپنا قبلہ مقرر کرلیا۔ چناچہ یہود نے بیت المقدس کے صخرہ کو قبلہ قرار دے لیا اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی مشرقی جانب کو۔ اب تمہارے لیے کعبہ کو قبلہ مقرر کردیا گیا ہے، اس لیے ان لوگوں سے اس بحث کا کوئی خاص فائدہ نہیں کہ کون سی سمت افضل ہے۔ اصل چیز نیکیوں میں سبقت ہے، اس کا اہتمام کرو، کیونکہ تم جہاں بھی ہو گے تمہیں اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 148
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکل وجھۃ، الوجھۃ کا وزب فعلۃ ہے اور یہ المراجھۃ سے ہے۔ الوجھۃ، الجھۃ اور الوجہ کا ایک معنی ہے۔ اس سے مراد قبلہ ہے یعنی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور آپ ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے خواہ حق ہے یا خواہش نفس ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھو مولیھا، ھو ضمیر لفظ کل کی طرف لوٹ رہی ہے نہ کہ اس کے معنی کی طرف کیونکہ اگر معنی کی طرف راجع ہوتی تو ھم مولو تھا ہوتا۔ ھا ضمیر مفعول اول ہے اور دوسرا مفعول مولی کا محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوتی ھو مولیھا وجھہ ونفسہ، مطلب یہ ہے کہ ہر…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولکل وجھۃ “ سے مراد ہے اہل ادیان پھر فرماتے ہیں ہر دین والوں کے لئے ایک قبلہ ہوتا ہے جو وہ پسند فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ادھر ہی قبلہ پھیر دیا جدھر ایمان والوں نے توجہ کی۔
(2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکل وجھۃ ھو مولیہا “ میں ” کل “ کو ” وجھۃ “ کی طرف مضاف کرتے ہیں پھر فرمایا کبھی انہوں نے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی جبکہ اس سے پہلے کعبہ کی طرف نماز پڑھی
(3) ابو داؤد نے الناسخ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکل وجھۃ ھو مولیہا “ سے مراد ہے کہ ان کی نماز بیت المقدس کی طرف اور ان…
Read the full tafseer →( وَلِکُلٍّ : اور سب کے لیے ) ( وِّجْھَۃٌ : توجہ کرنے کی کچھ سمتیں ہیں ) ( ھُوَ : وہ ) ( مُوَلِّیْھَا : پھیرنے والا ہے (خود کو) اس کی طرف ) ( فَاسْتَـبِقُوا : پس تم لوگ آگے نکلنے کا مقابلہ کرو ) ( الْخَیْرٰتِ : بھلائیوں میں ) ( اَیـْنَ مَا : جہاں کہیں بھی ) (تَــکُوْنُوْا : تم لوگ ہو گے ) ( یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ : اللہ لے آئے گا تم لوگوں کو ) ( جَمِیْعًا : سب کے سب کو ) ( اِنَّ اللّٰہَ : بیشک اللہ ) ( عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ : ہر چیز پر ) ( قَدِیْرٌ: قدرت رکھنے والا ہے )
وَجَہَ (ض) وَجْھًا فُلَانًا : مُنہ پر مارنا اور رد کرنا۔ لوگوں کے نزدیک وجاہت میں بڑھ جانا۔
وَجُہَ (ک) وَجَاھَۃً : وجیہہ ہونا…
Read the full tafseer →ہر ملت کا قبلہ الگ الگ ہے
اس میں لکل کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ ای لکل اھل ملۃ أو جماعۃ من المسلین والیھود و النصاریٰ یعنی ہر مذہب اور ملت اور ہر جماعت کا عبادتوں میں اپنا رخ الگ ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردیا گیا ہو۔ خواہ لوگوں نے کوئی جہت اپنے طور پر مقرر کرلی ہو پھر اگر نبی اکرم خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے قبلہ ابراہیمی مقرر کردیا گیا جو دوسروں کے قبلہ سے مختلف ہے تو اس میں اعتراض اور تعجب کی کیا وجہ ہے۔ اور یہ معنی بھی لیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کا رخ مختلف بلاد و امصار اور مختلف آفاق و اطراف میں مختلف ہوتا ہے۔ چار جہات ( مشرق مغرب جنوب شمال) میں سے کوئی جہت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔
قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…
Read the full tafseer →284 کُلٍ کی تنوین عوض کے لیے ہے۔ ای لکل قوم اور وجھۃ کے معنی قبلۃ کے ہیں (مدارک ص 65 ج 1) مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کا ایک علیحدہ قبلہ ہے اور ہر مذہب وملت کے متبعین اپنے اپنے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ۔ خطاب مسلمانوں سے ہے یعنی ہر قوم اپنے اپنے قبلہ کا اتباع کرتی ہے۔ تم اللہ کے حکم کے مطابق نیکی کے کاموں میں سب پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور جس طرف اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے اسی طرف منہ کرو۔ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا۔ یہ تخویف اخروی ہے تم سب مسلمان اور تمہارے دشمن جہاں کہیں بھی ہونگے وہ تمہیں قیامت کے دن ایک جگہ جمع کردیگا اور تمہارے تمام جھگڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
ربط آیات
تحویل قبلہ کا حکم نازل کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ بیوقوف لوگ یعنی متعصب یہود و نصاریٰ یہ ضرور اعتراض کریں گے کہ تحویل قبلہ کی ضروتر کیوں محسوس ہوئی۔ مگر اے نبی کریم آپ ان کے اعتراضات کو خاطر لائیں نہ لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ بیت المقدس کا استقبال عارضی حکم تھا اور کس خاص مصلحت کے تحت دیا گیا تھا مستقل قبلہ تو بیت اللہ شریف ہے جس کا حکم حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی دلی خواہش کے پیش نظر دیا گیا۔ یہ تقرر کوئی نیا نہیں ہے ، بلکہ سابقہ کتب سماویہ میں موجود تھا۔ کہ آخری دور اور آخری نبی کا قبلہ وہی خانہ کعبہ ہوگا جو ابراہیم (علیہ السلام) لیہ السلام کا…
Read the full tafseer →وَلِكُلٍّ وِّجْہَۃٌ ھُوَمُوَلِّيْہَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ 0 ۭ۬ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللہُ جَمِيْعًا 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 148
وِجْهَةٌ
ويقال للقصد : وجْهٌ ، وللمقصد جهة ووِجْهَةٌ ، وهي حيثما نتوجّه للشیء، قال :
لِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيها[ البقرة/ 148] إشارة إلى الشّريعة، کقوله : شِرْعَةً [ المائدة/ 48] وقال بعضهم : الجاه مقلوب عن الوجه لکن الوجه يقال في العضو والحظوة، والجاه لا يقال إلّا في الحظوة . ووجّهت الشیء : أرسلته في جهة واحدة فتوجّه، اور جھۃ اور وجھۃ کے معنی مقصد کے ہیں یعنی کسی چیز کی طرف متوجہ ہونے کی جگہ قرآن پاک :۔ لِكُلٍّ…
Read the full tafseer →ترکیب : وجہۃ مبتداء لکل اس کی خبر لفظ وجہۃ میں قیاس چاہتا تھا کہ جہۃ ھومثل عدۃ اور زینۃ کے ھو (ای اللہ) مبتداء 2 ؎ مولیہا بکسر اللام اس کی خبر تقدیرہ اللہ مولیٰ تلک الجھۃ ذلک الفریق اے یا مرہ بہا امرا تکوینیا فحذف المفعول الثانی اور احتمال ہے کہ ضمیر ہو کل کی طرف رجوع کرے۔ اے ذلک الفریق مولی الجھۃ نفسہ۔ یہ تمام جملہ صفت وجہۃ کی ہوگا اَیْنَمَا ظرف ہے تکونوا کا ومن حیث خرجت اس جگہ شرط کے لیے نہیں۔ پس من متعلق فول کے ساتھ ہے ٗ وحیث ماکنتم میں دونوں احتمال ہیں۔ لئلا میں لام محذوف کے ساتھ متعلق ہے۔ تقدیرہ فعلنا ذلک لئلا الخ حجۃ اسم کان اور للناس اس کی خبر اور علیکم صفت حجۃ اصل میں مؤخر تھی مگر…
Read the full tafseer →وَلِکُلِّ وِّجْھَۃٌ ھُوَمُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰاتِ ط اَیْنَ مَاتَـکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 148)
(ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے اور وہ اسی کی طرف رخ کرنے والا ہے۔ تم نیکیوں کی راہ میں سبقت کرو، جہاں کہیں تم ہوگے اللہ تم سب کو جمع کرے گا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے)
کُلکامفہوم اور وِجْہَۃٌ کا مفہوم
لِکُلِّ وِّجْھَۃٌ ” اس کے ترجمے کی ایک صورت یہ ہے کہ ” کُل “ کے بعد مضاف الیہ محذوف مانیں۔ عربی زبان میں جس طرح مضاف محذوف مانا جاتا ہے اسی طرح مضاف الیہ کا محذوف ماننا بھی رائج ہے۔ اور وِجْھَۃٌ کا لغوی معنی ہے ” وہ چیز جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ
ہر مذہب کے لوگوں نے عبادت کے لیے ایک جہت مقرر کر رکھی ہے۔ وہ اسی طرف ہی راغب اور رخ کیے ہوئے ہیں۔ ہندو اپنے عبادت خانوں میں مورتی (بت) کی طرف اور اگر مورتی یعنی بت نہ ہو تو سورج کی طرف منہ کرتے ہیں۔ سکھ اپنی کتاب گرنتھ کی جانب منہ کرتے ہیں۔ کتاب موجود نہ ہونے کی صورت میں جس طرف چاہیں چہرہ کرلیتے ہیں۔ بدھ مت بدھا کی مورتی کی طرف، یہودی بیت المقدس میں بھی دیوار گریہ کی طرف اور عیسائی مسجد اقصیٰ کی اس جانب منہ کرتے ہیں جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) نے جنم لیا تھا۔
یہ تو مسلمانوں کا امتیاز ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں بیت اللہ کی طرف منہ کرتے ہیں۔ اس لیے ارشاد ہورہا…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 148:
وَلِکُلٍّ وِّجْھَۃٌ ہُوَ مُوَلِّیْھَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ: ( ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے جس کی طرف وہ منہ کرنے والا ہے پس تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو۔ تم جہاں کہیں ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا لائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) یعنی ادیان مختلفہ میں سے ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے۔
مرجع ضمیر :
حضرت ابی ؓ کی قراءت میں وجھۃ کو وجھہٗ پڑھا۔ ہُوَ ۔ یہ کل کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہے۔ مولیھا۔ نمبر 1۔ ہا ضمیر وجھۃ کی طرف لوٹتی ہے۔ یعنی ہو مولیھا وجھۃ۔ وہ پھیرنے والا ہے اس کی طرف اپنا منہ۔ پس…
Read the full tafseer →148۔ (آیت)” ولکل وجھۃ “ یعنی ہر ملت و مذہب والوں کے لیے ایک قبلہ ہے۔ ” وجھۃ “ اس (جانب) کا نام ہے جس کی طرف توجہ کی جائے ، ” ھومولیھا “ اس کی طرف متوجہ ہونے والا ہے ۔ ” ولیتہ اور ولیت الیہ “ تو اس وقت کہے گا جب تو اس پر متوجہ ہوگا اور ” ولیت عنہ “ تو اس وقت کہے گا جب تو اس سے پیٹھ پھیرے گا ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں (آیت)” ھو مولیھا وجھہ “ وہ اس جانب اپنے منہ کو پھیرنے والا ہے ، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ ” مولی “ کا معنی پھیرنے والا اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے ، معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ امتوں کے منہ پھیرنے والا ہے ان کے قبلہ کی طرف اور ابن عامر (رح) نے ” ھومولاھا “ پڑھا ہے معنی…
Read the full tafseer →قبلہ کی تبدیلی کے بعد اہل کتاب اور اہل مکہ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ہر ایک امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ لوگ منہ کرتے ہیں۔ یہود کا قبلہ مثلاً بیت المقدس ہے نصاریٰ کا مشرق اور مسلمانوں کا قبلہ جب تک حکم تھا بیت المقدس رہا اب ان کا قبلہ۔ کعبہ قرار پایا ہے قبلہ کا مسئلہ اس قدر بڑھانا اور اس میں ہر وقت بحث کرنا کچھ فائدہ کی بات نہیں ہے۔ دین کی بڑی بڑی باتیں مثلاً اہل مکہ کا شرک
کو چھوڑ کر اسلام لانا اہل کتاب اپنی کتابوں پر پورا عمل کر کے نبی آخر الزمان پر ایمان لانا ان باتوں میں سبقت کرنی چاہیے کہ یہ باتیں نجات عقبیٰ کا موجب اور اصل دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
یعنی ہر ملت اور ہر دین والوں کے لئے ایک جہت مقرر ہے وہ اپنی عبادت میں اس کی طرف منہ کرتے ہیں۔ استقبال قبلہ کوئی بڑا معاملہ نہیں، اس لئے کہ یہ ان شریعتوں میں سے ہے جو احوال و زمان کے بدلنے کے ساتھ بدلتی رہی ہیں، اس میں نسخ اور ایک جہت سے دوسری جہت میں منتقل ہونا بھی داخل ہے، لیکن اصل اور اہم معاملہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اس کا تقرب اور اس کے قرب میں حصول درجات ہے یہی سعادت کا عنوان اور دلایت کا منشور ہے۔ یہی وہ وصف ہے کہ اگر نفوس اس سے متصف نہ ہوں تو دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑجاتے ہیں جیسے اگر نفوس اپنے آپ کو اس وصف سے متصف کرلیں تو یہی حقیقی منافع ہے۔ تمام شریعتوں میں یہ متفق علیہ امر ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے…
Read the full tafseer →405 نیکیوں میں آگے بڑھنے کی ہدایت : کہ اصل مقصد یہی ہے کہ دنیا کی اس کھیتی سے کسب آخرت کا سامان کیا جائے، اور جتنا ہوسکے کیا جائے۔ وباللہ التوفیق ۔ لہذا اس مقصد کو بھول کر تم لوگ فضول باتوں میں اپنا وقت ضائع مت کرو، بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی فکرو کوشش کرو، کیونکہ فضول باتوں اور بیکار بحثوں میں الجھ کر اپنی متاع وقت کو ضائع کرنا بہت بڑا خسارہ ہے۔ ایسا بڑا کہ پھر اس کی تلافی بھی ممکن نہیں۔ کیونکہ متاع وقت کی جو دولت ہاتھ سے نکل گئی، وہ پھر کسی بھی قیمت پر دوبارہ نہیں مل سکتی۔ سو اس کا ضیاع بہت بڑا خسارہ ہے ۔ والْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ سو منکرین و معاندین اگر حق کو ماننے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
نیکی میں سبقت کرنا
تشریح : اس آیت میں سمت یعنی قبلہ کی اہمیت بتاتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ ٹھیک ہے یکجہتی اور نظم و ضبط کے لئے قبلہ کا تعین ضروری ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے۔ نیکی، بھلائی اور سیدھی راہ اختیار کرنے میں تم ایک دوسرے سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ اگر امت نیکی پر ایکا کرلے اور اپنی زندگیاں نیک کاموں کے لئے وقف کر دے تو نیکی، بھلائی اور راست بازی میں اتنی طاقت ہے کہ خدا کے فضل سے تمام لوگ ایک ہی مرکز پر جمع ہوجائیں گے آپس کی تمام مخالفتیں اور ناچاقیاں ختم ہوجائیں گی۔ دراصل قبلہ کا تعین اسی چیز کے لئے کیا گیا ہے کہ تمام لوگ سچائی کی راہ پر اکٹھے ہو کر چلیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیات 148- 152
اسرارو معارف
ولکل وجھۃ ھو مولیھا…………………ان اللہ علی کل شی قدیر۔
سب قوموں اور جملہ مذاہب کے لئے کوئی نہ کوئی نقطہ اتحاد ہے ۔ افکار و خیال کے لئے بھی اور عبادات و اعمال کے لئے بھی۔ کسی نے اس کو رنگ ونسل کی حد بندی سے واضح کیا ہے تو کسی نے محض طاقت کو اپنا قبلہ بنالیا ، جیسے آج کل مغرب میں سفید فام ہونا ہی معاشرے میں جگہ پانے کا سبب ہے اور سیاہ فام خواہ ان کا مذہب بھی قبول کرلے ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔ یا ہندوازم کہ جو شے اپنے سے طاقت یا محض جسامت میں بڑی نظر آئی وہاں سر جھک گئے خواہ کوئی بڑا پہاڑ ہو یا دریا ، درخت ہو یا جانور ، اسی طرح ؎
” ہر قوم راست را ہے دینے و قبلہ گاہے…
Read the full tafseer →ف 7 اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ کسی بھی ددر میں تعین قبلہ کے حکم کو اصول دین کو حیثیت حاصل نہیں ہوتی کہ اس میں رد وبد نہ ہو سکے دوسرے احکام کی طرح اس میں نسخ ہوتا رہا ہے۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ صخرہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نصاری بیت المقدس کی شرقی جانب کی طرف رخ کرت ہیں طرح ان پہلی امتوں کے لیے بھی ایک سمت مقرر تھی اس اصل تحت تمہارے لیے کعبہ کو قبلہ قرار دے دیا تمہیں چاہیے کہ نیک کاموں میں سبقت کرو۔ (ابن کثیر۔ المنار) اس میں اشارہ ہے کہ نماز بھی اول وقت ادا کرنے چاہیے حدیث میں ہے خیر الاعمال الصلوہ الاول قعتھا۔ کہ سب سے بہتر عمل اول وقت پر نماز ادا کرنے ہے۔ (بخاری مسلم) فائدہ۔ حاظ ابن…
Read the full tafseer →(2:148) ولکل وجھۃ۔ واؤ عاطفہ۔ اور کل میں تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے تقدیر کلام یوں ہے ولکل امۃ وجھۃ۔ وجھۃ۔ مصدر بمعنی قبلہ۔ یا اسم مکان۔ یعنی وہ سمت جس کی طرف رخ کیا جائے۔ اول صورت میں واؤ کا موجود ہونا غیر قیاسی ہے ۔ قیاس کا تقاضا ہے کہ اس کو حذف کردیا جائے (جیسا کہ عدۃ وزنۃ میں واؤ محذوف ہے) صرف اصل پر تنبیہ کرنے کے لئے باقی رکھا گیا ہے۔
دوسری صورت میں واؤ کا موجود ہونا قیاسی ہے۔ مراد دونوں صورتوں میں وہ سمت ہے جس کی طرف رخ کیا جاتا ہے۔ ھو ضمیر واحد مذکر غائب یہ کل کی طرف راجع ہے۔
مولیہا۔ ولی یولی تولیۃ (تفعیل) سے۔ مولی اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ مضاف ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152
لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔
تشریح : آیت نمبر 148 تا 152
قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
شان نزول : قبلہ کی تبدیلی کے بعد اہل کتاب اور اہل مکہ طرح طرح کی باتیں بناتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ناز فرمائی اور فرمایا کہ ہر امت کا ایک قبلہ ہے جس کی طرف وہ لوگ منہ کرتے ہیں۔ یہود کا قبلہ مثلاً بیت المقدس ہے۔ نصاریٰ کا مشرق اور مسلمانوں کا قبلہ جب تک حکم تھا بیت المقدس رہا ، اب ان کا قبلہ کعبہ قرار پایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
[98] مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھتے وقت بہرحال کسی نہ کسی سمت کی طرف منہ تو کرنا ہی ہوگا مگر اصل چیز سمت نہیں ہے جو دین کے اصول و مہمات میں سے ہو اور اسے حق و باطل کا معیار سمجھ لیا جائے بلکہ اصلی چیز جو سمجھنے اور کرنے کی ہے وہ نیک عمل ہے۔ پس چاہئے کہ اس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
(ف 3) ان آیات میں بتایا ہے کہ ہر امت وگروہ کا ایک قبلہ عبادت ہوتا ہے ، اس لئے بحث ومناظرہ کی ضرورت نہیں ، تم جہاں کہیں بھی ہو اور جس قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہو بہرحال اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اس میں اشارہ ہے کہ صرف استقبال سے تم نے کیوں سمجھ لیا کہ مسلمان صحیح راستے پر نہیں رہے تم یہ دیکھو کہ ان میں سبقت الی الخیرات کا جذبہ موجود ہے یا نہیں یعنی نمازوں کا مقصد وفائدہ اکثر قائم ہے اور مسلمان حسب سابق خدا کی اطاعت میں سرگرم ہیں اور حصول تقوی میں وہ پہلے کی طرح پرجوش ہیں تو صرف اس لئے انہوں نے جہت کی تبدیلی کرلی ہے اور وہ بھی خدا کے حکم اور اجازت سے محروم ہوگئے ہیں ، یعنی اصل شے جو صداقت…
Read the full tafseer →ف 1 اور آخر اس کعبہ کی جہت کو قبلہ مقرر کرنے میں تعجب کی کیا بات ہے ہر قوم ہر گروہ اور ہر ایک ملت کا ایک قبلہ رہا ہے جس کی طرف وہ اپنی عبادت کے وقت منہ کرتا رہتا ہے تو اس میں بحث کرکے اپناوقت کیوں ضائع کرتے ہو تم نیک اعمال میں بڑھنے اور آگے نکلنے کی کوشش کرو تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تم سب کو اپنے حضور میں حاضر کرے گا یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس عالم میں ہر گروہ کی خواہ وہ اہل باطل ہو یا اہل حق ہو ایک نہ ایک ایسی جہت ہوا کرتی ہے جس کی طرف وہ اپنی عبادت کے وقت منہ کرتا ہے اہل حق ہو یعنی کسی آسمانی کتاب کا عامل ہو تو آسمانی حکم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
ف 4۔ رسول اللہ ﷺ کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔
Read the full tafseer →امت مسلمہ کا قبلہ ہی امت مسلمہ کا مرکز ہے :
271: اب تک بنی اسرائیل کو الزامی و تحقیقی جواب دیا گیا اور تحویل قبلہ کی بعض مصلحتوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اب بیان کیا جاتا ہے کہ تمام امت مسلمہ کے لئے ایک ہی قبلہ مقرر کرنے سے اصلی مقصد کیا ہے اور کو نسی غرض وغایت پیش نظر ہے۔
بیت اللہ کا قبلہ بنانا اس لئے ہے کہ ایک عالمگیر اخوت قائم کر کے اس کے لئے تمام عالم میں ایک مرکز بنا دے کہ وحدت مقصد کے ساتھ وحدت مرکز ہونا ضروری ہے پس مسلمانوں کی ہر جماعت کا فرض ہے کہ وہ جس طرف بھی جائے اور جدھر کا سفر کرے نماز پڑھتے وقت اس بیت اللہ کی جانب رخ کرے جب مرکز ایک ہی ہے تو ہم میں سے ہر ایک اس امر کی سعی و کوشش کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
The change of Qiblah
The question of religious orientation being of the highest significance for an Ummah (or a traditional community), these verses continue and enlarge upon the theme of the Qiblah, and lay down further raisons d'etre for the change.
It is, the commentators point out, an observable fact that every traditional community has had a religious orientation of its own, whether appointed by Allah or chosen by itself. This being so, why should anyone object, or wonder that Allah has appointed for the Islamic Ummah a Qiblah قبلہ peculiar to it? After all, it is a regular and distinct…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
149. There is a subtle gap between this sentence and the next, a gap which the reader can fill with just a little reflection. The idea conveyed here is that anyone who prays will, after all, have to turn his face in some direction. But what is of real significance is not the turning of one's face in some specific direction but one's orientation to righteousness for the sake of which one performs the ritual Prayer. A man's real concern should be moral excellence rather than controversies regarding such formal regulations as the direction of Prayer.
Read the full tafseer →