پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
سورة الْبَقَرَة 148
یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اسے یوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی، جس طرح اسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور انہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
خلاصہ تفسیر
اس سے پہلی آیت میں اہل کتاب کا قبلہ مسلمین کو دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا ذکر تھا اس آیت میں انہی اہل کتاب کا صاحب قبلہ یعنی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا بیان ہے۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب (توراۃ و انجیل) دی ہے وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو (توراۃ و انجیل میں آئی ہوئی بشارت کی بناء پر بحیثیت رسالت) ایسا (بےشک وشبہ) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو (ان کی صورت سے) پہچانتے ہیں (کہ بیٹے کی صورت دیکھ کر کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ یہ کون شخص ہے مگر پہچان کر بھی سب مسلمان نہیں ہوتے بلکہ بعض تو ایمان لے آئے) اور بعضے ان میں سے (ایسے ہیں کہ اس) امر واقعی کو…
Read the full tafseer →مبتدا کو محذوف کرنے کی بلاغت : " الحق " ہمارے نزدیک خبر ہے اور مبتدا اس کا محذوف ہے۔ اگر مبتدا کو واضح کردیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی۔ ھذا ھو الحق۔ یعنی یہی بات حق ہے۔ من ربک خبر سے متعلق ہے۔ مبتداء کو عموماً عربی میں اس موقع پر حذف کردیتے ہیں جہاں مخاطب کی پوری توجہ خبر پر مرکوز کردینی ہو۔ اَلْحَقُّ آیت 144 میں خبر ہی کے محل میں وارد ہے اور اسی حیثیت سے وہ آیت 149 میں بھی آیا ہے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ کا خطاب ظاہر میں آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن تنبیہ و عتاب کا رخ مخالفین کی طرف ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 145۔ (خطاب کے مختلف پہلوؤں کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مناسب ہے کہ مولانا فراہی…
Read the full tafseer →147۔ 1 پیغمبر پر اللہ کی طرف سے جو بھی حکم اترتا ہے، وہ یقینا حق ہے اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
96: اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے، کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں، ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور آپ ﷺ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے، اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔
Read the full tafseer →اہل کتاب کے سلسلے میں بیان کے بعد اب روئے سخن نبی ﷺ کی ذات کی طرف ہوجاتا ہے الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ” یہ ایک قطعی امر حق ہے ، جو تمہارے رب کی طرف سے ہے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہرگز کسی شک میں نہ پڑو۔ “
کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی شک کیا ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ ایک دوسری آیت میں جب کہا گیا : فَاِن کُنتَ فِی شَکٍّ مِّمَّا اَنزَلنَا اِلَیکَ فَساَلِالَّذِینَ یَقرَءُونَ الکِتَابَ مِن قَبلِکَ ” جو کلام ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ، اگر تمہیں اس کے بارے میں کوئی شک ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کتاب پڑھتے چلے آرہے ہیں ۔ “
اس پر آپ ﷺ نے فرمایا !” نہ مجھے شک ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
3 یعنی اگر تم کو یہ خیال ہو کہ کاش کعبہ کا مسلمانوں کے لئے قبلہ ہونا اہل کتاب بھی کسی طرح تسلیم کرلیں اور دوسرے لوگوں کو شبہ میں ڈالتے نہ پھریں تو میرے نبی موعود ہونے میں خلجان باقی نہ رہے تو جان لو کہ اہل کتاب کو تمہارا بہت پورا علم ہے آپ کے نسب و قبیلہ و مولد و مسکن و صورت وشکل و اوصاف و احوال سب کو جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو آپ کا علم اور آپ کے نبی موعود ہونے کا ایسا یقین ہے جیسا بہت سے لڑکوں میں اپنے بیٹوں کو بلا تامل و تردّد پہچانتے ہیں مگر اس امر کو بعض تو ظاہر کرتے ہیں اور بعض دیدہ و دانستہ امرحق کو چھپاتے ہیں لیکن ان کے چھپانے سے کیا ہوتا ہے حق بات تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے ہو اہل…
Read the full tafseer →آیت 147 اَلْحَقُّ مِنْ رَّ ‘ بِّکَ
اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے
فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ
خطاب کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے اور آپ ﷺ ‘ کی وساطت سے دراصل ہر مسلمان سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ اپنے پاس مت آنے دو کہ یہی تو حق ہے تمہارے پروردگار کی طرف سے۔
Read the full tafseer →184 یعنی مسلمان جس ملک میں ہوں گے وہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں گے۔ اس طرح کعبہ کی سمتیں الگ الگ بھی ہوسکتی ہیں کسی ملک سے کعبہ مغرب کی جانب ہوگا کسی سے مشرق کی طرف اور کسی سے شمال یا جنوب کی طرف، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا اور نہ اس بات میں شک کی ضرورت ہے کیونکہ تمہارا یہ قبلہ ہمیشہ کے لیے ہے جس میں آئندہ کبھی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →541 ۔ (اے مخاطب) آیت کا یہ جزوتاکید کلام کے لیے ہے۔ یعنی یہاں جو کچھ بھی بیان ہورہا ہے خواہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے متعلق ہو، یا امر تحویل قبلہ سے متعلق۔ بہرحال وبہر صورت یہ اللہ ہی کا کلام ہے، اور ہرگز بےالتفاتی یا کم التفاتی کے قابل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
آیت نمبر 144 تا 147
ترجمہ : قد تحقیق کے لئے ہے، ہم آپ کے چہرے کو آسمان کی طرف وحی کی طلب اور استقبال کعبہ کے شوق میں بار بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، اور آپ (کعبہ) کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ (کعبہ) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، اور اس لئے بھی کہ کعبہ کو قبلہ قرار دینا عربوں کو اسلام کی طرف بلانے میں زیادہ مؤثر (اپیل کرنے والا) تھا، سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیتے ہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں آپ اپنا رخ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی جانب پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو یہ امت کو خطاب ہے، اپنے چہرے کا (رخ) نماز میں اسی طرف کیا کریں اہل کتاب کو قطعی علم ہے کہ کعبہ…
Read the full tafseer →اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ (حق وہی ہے جو خدا کی طرف سے ہے) الحق یا تو خبرمبتدا محذوف کی ہے اور من ربک یا حال ہے یا خبر ہے یا فاعل فعل کا مقدرکا ہے تقدیر اس صورت میں اس طرح ہوگی جاءَ کَ الحق (آیا آپ کے پاس حق) یا الحق مبتدا ہے اور من ربک خبر ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے حق وہی ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے ثابت ہے اور جس پر آپ ہیں اور سوائے اس کے جس پر اہل کتاب ہیں خلاف حق اور باطل ہے۔
فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ( سو آپ ﷺ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں) اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو اس کے پروردگار کی طرف سے ہونے میں شک کرتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ ان لوگوں…
Read the full tafseer →(147) آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ لہٰذا اس چیز کے متعلق شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ وہ اس چیز کو جانتے نہیں۔
Read the full tafseer →(اَلْحَقُّ) میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ حق“ کیا گیا ہے، یعنی یہ حق جسے یہود و نصاریٰ چھپا رہے ہیں آپ کے رب کی طرف سے ہے، اس لیے آپ کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہوں۔
الْمُمْتَرِيْنَ یہ ”اِمْتِرَاءٌ“ یعنی باب افتعال سے اسم فاعل کی جمع ہے، مصدر ”مِرْیَۃٌ“ (بمعنی شک) سے فعل مجرد نہیں آتا، بلکہ ہمیشہ باب افتعال سے آتا ہے۔ (ابن عاشور)
Read the full tafseer →آیت نمبر 147
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الحق من ربک، الحق سے مراد استقبال کعبہ ہے۔ نہ وہ جو یہود نے آپ کو اپنا قبلہ بنایا۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے الحق کو منصوب پڑھا، یعلمون کی وجہ سے یعنی وہ حق کو جانتے ہیں اور الزم الحق کی تقدیر پر بھی اس کی نصب صحیح ہے اور رفع مبتدا ہونے کے اعتبار سے ہے یا مبتدا کے اضمار کی بنا پر ہے۔ تقدیر عبارت ہوگی ھو الحق، یا فعل کے اضمار پر ہوگا یعنی جاء الحق۔۔۔ نحاس نے کہا : سورة الانبیاء میں الحق فھم معرضون۔ ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اسنے منصوب کے علاوہ پڑھا ہو۔ ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ سورة بقرہ میں آیت کے آغاز میں جبکہ سورة انبیاء میں ایسا نہیں ہے۔
اللہ…
Read the full tafseer →(1) ابو داؤد نے الناسخ میں اور ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو فرمایا لفظ آیت ” الحق من ربک فلا تکونن من الممترین “ یعنی اے محمد ! آپ ہرگز شک نہ کریں بلاشبہ کعبہ ہی آپ کا قبلہ ہے اور آپ سے پہلے (دوسرے) انبیاء کرام کا بھی (یہی) قبلہ تھا۔
Read the full tafseer →(اَلْحَقُّ : (یہ ہی) حق ہے ) ( مِنْ رَّبِّکَ : آپ ﷺ کے رب کی طرف سے) (فَلَا تَـکُوْنَنََّ : پس آپ ﷺ ہرگز نہ ہوں) (مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ : شک کرنے والوں میں سے)
م ری
مَریٰ (ض) مِرْیَۃً : شک کی وجہ سے جھگڑا کرنا۔
مِرْیَۃٌ ( اسم ذات ) : شک ‘ شبہ ۔ { فَلَا تَکُ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْہُ ق } (ھود :17) ” تو آپ ﷺ نہ ہوں کسی شبہ میں اس سے۔ “
مَارٰی (مفاعلہ) مِرَائً : ایک دوسرے سے جھگڑنا۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنُ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ ۔ } (الشوریٰ ) ” بیشک جو لوگ جھگڑتے ہیں اس گھڑی میں (یعنی قیامت کے بارے میں ) وہ دور کی گمراہی میں ہیں۔ “
لَا تُمَارِ (فعل نہی) : تو مت جھگڑ۔ { فَلَا…
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا کہ یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لہٰذا آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں۔ صاحب روح المعانی ص 14 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق اپنی جگہ ثابت اور متحقق ہے اور ظاہر و باہر ہے اس میں کسی کو کچھ بھی شک کرنے کی گنجائش نہیں۔ صیغہ نہی کا ہے لیکن مقصود اخبار ہے۔ حق میں شک کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–150
عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔
قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔
ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
282 الذین سے اہل کتاب کے اہل علم لوگ مراد ہیں۔ وان کان عاما بحسب اللفظ لکنہ مختص بالعلماء منھم (کبیر ص 37 ج 2) یعرفونہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کے ان اوساف کی طرف راجع ہے جن کا ذکر بطور خطاب سے بیان کیے گئے ہیں کہ علماء اہل کتاب حضور ﷺ کی صداقت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تورات وانجیل میں حضور ﷺ کے اوصاف اس وضاحت کی ذات کو بنانا اگرچہ فی نفسہ صحیح ہے لیکن سیاق سباق کے مناسب نہیں لہذا یعرفونہ کی ضمیر اور قبلہ کی طرف راجع ہے۔ القول الثانی الضمیر فی قولہ یعرفونہ راجع الی امر القبلۃ (کبیر ص 38 ج 2) تو مطلب یہ ہوگا کہ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو اہل کتاب اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
ربط آیات
بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان لے کر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کون اللہ کے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو تعصب اور عناد پر ٹھہرا رہتا ہے۔ چناچہ اہل کتاب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ کیونکہ وہ لوگ قتل انبیاء ، ضد اور عناد میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا اور برائیوں میں منہمک ہوچکے تھے۔ وہ اگرچہ اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر ان میں نسبت کا شائبہ تک نہ تھا۔
تحویل قبلہ…
Read the full tafseer →اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 147 ۧ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
1 ؎ یعنی نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کو۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
اَلَّذِیْنَ اٰتَـیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَـہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ھُمْ ط وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَـلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔
(البقرۃ : 146 تا 147)
(جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو حق کو چھپاتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے۔ یہی حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو)
اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتاب جو ایک امی پر نازل ہوئی وہ تاریخ کے بعض ایسے گوشوں کو بےنقاب کر رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
فہم القرآن
ربط کلام : یہاں معنوی ربط ہے کہ اہل کتاب جس طرح رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو پہچانتے ہیں اسی طرح بیت اللہ کو قلبی طور پر قبلہ تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں تورات و انجیل میں آپ کی نبوت کے ثبوت ہیں وہاں بیت اللہ کے قبلہ ہونے کا ثبوت بھی موجود ہے۔
اظہارِ حق اور نبی کریم ﷺ کے اطمینان اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ اہل کتاب آپ ﷺ کی ذات اور حیثیت کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرّہ برابر شک نہیں کرتا، جب انہوں نے آپ کو اچھی طرح پہچان لیا ہے تو پھر آپ کی نبوت سے انحراف اور قبلہ کے انکار کا کیا معنیٰ ؟ لیکن اس کے باوجود کتمانِ حق کا جرم ہمیشہ سے ان میں…
Read the full tafseer →الحق کی مراد :
147۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ : (حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے پس آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں) الحق۔ نمبر 1۔ الف لام جنس کا ہے یعنی حق وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ نہ کہ کسی غیر کی طرف سے۔
مطلب یہ ہے کہ حق وہی ہے جس کا برحق ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثابت ہو۔ جیسا کہ وہ جس پر آپ ہیں اور جس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہونا ثابت نہ ہو وہ باطل ہے۔ جیسا کہ اہل کتاب جس کو لیے پھرتے ہیں۔
نمبر 2: یا الف لام عہد کا ہے اس سے خاص وہ حق مراد ہے۔ جس پر رسول اللہ ﷺ تھے۔
نحو : الحق مبتداء من ربک خبر ہے۔ یا مبتداء محذوف ہو اور یہ خبر…
Read the full tafseer →147۔ (آیت)” الحق من ربک “ یعنی لفظ الحق خبر ہے مبتداء محذوف کی اصل تھا ” ھذا الحق “ بعض نے کہا ” الحق “ فعل محذوف کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے عبارت یہ ہے (آیت)” جاء الحق من ربک “ (فلاتکونن من الممترین) تک کرنے والوں (سے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
(146 ۔ 147) ۔ پہلی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی علامتیں بہت صراحت سے تھیں اس لئے اہل کتاب ان علامتوں سے آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے بنی اسرائیل میں پیدا نہ ہونے سے ان لوگوں کو حضرت سے ایک دشمنی سی ہوگئی تھی جس کے سبب سے ان لوگوں نے وہ علامتیں بدل ڈالی تھیں اور آپ کی نبوت کے انکار کرنے پر کمر باندھ لی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں کچھ شک و شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخر الزمان کی پوری علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انہیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انہیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیٰ ﷺ کی پہچان انکے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا نکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپالیا۔ درآنحالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا : (آیت) ومن اظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے…
Read the full tafseer →404 خطاب پیغمبر سے لیکن تنبیہ و عتاب کا رخ مخالفین کی طرف : پس تم شک میں نہیں پڑنا ان لوگوں کی تلبیسات وغیرہ کی وجہ سے۔ خطاب اگرچہ یہاں بھی حسب سابق پیغمبر ہی کو ہے۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ، محاسن التاویل، المراغی، روح، معارف للکاندہلوی (رح) وغیرہ) ۔ اور اس اسلوب بیان میں بلاغت و تاثیر زیادہ ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر حاشیہ نمبر 40 1 میں گزرا۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے یہ واضح فرما دیا گیا ہے کہ حق بہرحال وہی ہوتا ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آتا ہے، اور رب کی وحی چونکہ پیغمبر ہی کی طرف ہوتی ہے اس لیے نور حق و ہدایت کی دولت دنیا کو پیغمبر کے ذریعے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
اہل کتاب کا حق کو چھپانا
تشریح : اللہ جل شانہ نبی کریم ﷺ کو یقین دلا رہے ہیں کہ اہل کتاب آپ کو مانیں یا نہ مانیں آپ بالکل پریشان نہ ہوں اور نہ ہی آپ کی رسالت اور امامت میں کوئی فرق آئے گا۔ آپ اپنے کام میں لگے رہیں۔ ” یہود و نصاریٰ کو آپ کی آمد، آپ کی خصوصیات اور قرآن مجید کے بارے میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ آپ کو انہوں نے خوب اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں، اتنی اچھی طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پھر ان لوگوں نے آپ کی نشانیوں کو چھپانے کی کوشش کی اور سب کچھ جانتے بوجھتے آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
آیات 142- 147
اسرارو معارف
کچھ بیت اللہ شریف کے بارے میں :
یوں تو یہودونصاریٰ ہر طرح سے لاجواب ہوگئے مگر ان کے یہ اعتراضات کہ برحق نبی کو سمت قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کس چیز نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا اور کیا پہلا قبلہ درست نہ تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پہلی نمازیں کیا ہوئیں یا جو لوگ اس تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا ؟
یہ سوال کج فہموں کے ذہنوں سے چپک گئے۔ کج فہم اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر طبیعت میں راستی اور فہم میں درستی ہو تو لا یعنی باتیں اور فضول بحثیں طبعاً ناپسندیدہ ہوجاتی ہیں اور ذہن درست باتوں کو قبول کرتا ہے کہ راستی کا یہی خاصہ ہے۔
یہاں اللہ کریم نے ان تمام لوگوں…
Read the full tafseer →ف 6 اس میں تنبیہ ہے کہ منافقین اور یہود کے پر وپکنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے آنحضرت ﷺ حق لے کر آئے ہیں جو شک وشبہ سے بالا تر ہے۔ (قرطبی۔ المنار)
Read the full tafseer →(2:147) الحق من ربک۔ کلام مستانفہ ہے۔ الحق مبتدا۔ من ربک خبر۔ حق تو آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے۔ الممترین، اسم فاعل جمع مذکر الممتری۔ واحد۔ امتراء (افتعال) مصدر شک میں پڑنے والے تردد کرنے والے۔ مری۔ مادہ۔ امتری یمتری امترائ۔ شک میں پڑنا۔ مریۃ۔ شک۔ جھگڑا۔ مراء جھگڑا۔ بحث مباحثہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147
ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
شان نزول : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں شک وشبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخرالزماں کی پوی علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ یہود میں سے عبداللہ بن سلام ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے ان سے دریافت کیا کہ آیۃ یعرفُون میں جو معرفت بیان کی گئے ہے اس کی کیا شان ہے ؟ ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے ابن عمر ! ؓ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو بےاشتباہ پہچان لیا اور میرا آنحضرت ﷺ کو پینچاننا اپنے بیٹوں کو پہنچاننے سے بدرجہا زیادہ بہتر ہے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
[96] یعنی بیت الحرام کو بہ حیثیت قبلہ۔
[97] یعنی خوب اچھی طرح بغیر کسی شک و شبے کے جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
(ف 3) ان آیات میں بتایا ہے کہ ہر امت وگروہ کا ایک قبلہ عبادت ہوتا ہے ، اس لئے بحث ومناظرہ کی ضرورت نہیں ، تم جہاں کہیں بھی ہو اور جس قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہو بہرحال اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اس میں اشارہ ہے کہ صرف استقبال سے تم نے کیوں سمجھ لیا کہ مسلمان صحیح راستے پر نہیں رہے تم یہ دیکھو کہ ان میں سبقت الی الخیرات کا جذبہ موجود ہے یا نہیں یعنی نمازوں کا مقصد وفائدہ اکثر قائم ہے اور مسلمان حسب سابق خدا کی اطاعت میں سرگرم ہیں اور حصول تقوی میں وہ پہلے کی طرح پرجوش ہیں تو صرف اس لئے انہوں نے جہت کی تبدیلی کرلی ہے اور وہ بھی خدا کے حکم اور اجازت سے محروم ہوگئے ہیں ، یعنی اصل شے جو صداقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ان اہل کتاب کی ضد اور مخالفت کا یہ حال ہے کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے روبرو ہر قسم کے تمام دلائل بھی پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلہ کو ماننے والے نہیں اور چونکہ آپ کا قبلہ اب ہمیشہ کے لئے کعبہ مقررہوچکا ہے تو آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور ان اہل کتاب کی تو یہ حالت ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک فریق دوسرے فریق کے قبلہ کو نہیں مانتا اور اے پیغمبر ﷺ اگر آپ نے اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے خدانخواستہ کہیں ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کا اتباع کیا تو یقینا آپ بھی اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے جن لوگوں کو ہم نے کتاب آسمانی عطا کی ہے وہ اس پیغمبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–149
ف 4۔ رسول اللہ ﷺ کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔
Read the full tafseer →حق ہمیشہ اپنی دلیل آپ ہوتا ہے :
270: کسی بات کا حق ہونا ہی اس کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ حق کے معنی ہی قائم و ثابت رہنے کے ہیں اور جو بات قائم و ثابت رہنے والی ہے اس کے لئے اس کے قیام و ثبات سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہوسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
Verses 144 and 145 have told us how the People of the Book اھل الکتاب knew in their hearts that a divine commandment itself had instituted the Baytullah بیت اللہ as the Qiblah قبلہ of the Muslims, and yet denied this fact in public. Now, the two present verses show that their conduct towards the Holy Prophet ﷺ was equally dishonest and malicious.
The Torah and the Evangel had already foretold the coming of the Holy Prophet ﷺ ، and set down the signs and indications which should help the people to recognize him. On the basis of the irrefutable evidence provided by their own Sacred Books, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
148. 'To recognize something as well as one recognizes one's sons' is an Arabic idiom. It is used with regard to things which one knows without the least shadow of a doubt. The Jewish and Christian scholars were well aware that the Ka'bah had been constructed by Abraham and that Jerusalem had been built by Solomon some thirteen hundred years after that, and that in his time it was made the qiblah. This is an unquestionable historical fact and they knew it to be so.
Read the full tafseer →