Al-Baqara 2:146

Al-Baqara · from ayah 146

2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ؕ— وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟ؔاَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡؕ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those to whom We gave the Scripture know him as they know their own sons. But indeed, a party of them conceal the truth while they know [it].

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 17 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:146

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اِس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے) ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو اتنی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ اور یقین جانو کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے حق کو جان بوجھ کر چھپا رکھا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنہیں ہم نے کتاب عطا فرمائی وہ اس نبی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسے آدمی اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے اور بیشک ان میں ایک گروہ جان بوجھ کر حق چھپاتے ہیں -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے وہ اس رسول (آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی شان و عظمت) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ بلاشبہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور یقیناً انہی میں سے ایک طبقہ حق کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ اس (کعبہ) کو یوں پہچانتے ہیں۔ جیسے اپنے بیٹوں کو۔ پھر بھی ان میں یقینا ایک گروہ ایسا ہے جو دیدہ دانستہ حق بات کو چھپا جاتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، وہ اس (پیغمبر) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو کہ (طرح طرح سے) چھپاتا ہے حق کو، حالانکہ وہ (اچھی اور) پوری طرح جان رہے ہوتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

جن لوگوں کو ہم کتاب دے چکے ہیں۔ وہ آپ کو پہچانتے ہیں اس طرح جیسے کہ اپنی نسل والوں کو پہچانتے ہیں۔ اور بیشک ان میں کے کچھ لوگ خوب چھپاتے ہیں حق کو حالانکہ جانتے ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جنہیں ہم نے کتاب دی ہے۔ وہ اسے ایسی اچھی طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو اور بیشک ان میں سے ایک فرقہ ہے جو حق کو جان بوجھ کر چھپاتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those to whom We gave the Book, they recognise the place (which has now been made giblah), as clearly as they recognise their own children. But some of them are knowingly concealing the truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those whom We have given the Book recognize him (the Holy Prophet) as they recognize their own sons. In fact, a group of them conceals the truth, while they know (it) .

— Muhammad Taqi Usmani

Those whom We have given the Book recognize him (the Holy Prophet) as they recognize their own sons. In fact, a group of them conceals the truth, while they know (it) .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those to whom We gave the Scripture (Jews and Christians) recognise him (Muhammad or the Ka`bah at Makkah) as they recognize their sons. But verily, a party of them conceal the truth while they know it ـ [i.e., the qualities of Muhammad which are written in the Tawrah and the Injil.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those unto whom We gave the Scripture recognise (this revelation) as they recognise their sons. But lo! a party of them knowingly conceal the truth.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those to whom We gave the Scripture know him as they know their own sons. But indeed, a party of them conceal the truth while they know [it].

— Saheeh International

Those to whom We have given the Book (Bible), know you (Muhammad) just as a well as they know their sons. It is certain that some of them deliberately hide the truth.

— Muhammad Sarwar

Those whom We have given the Book recognize him as they recognize their sons, and a party of them most surely conceal the truth while they know (it).

— Muhammad Habib Shakir

Those unto whom We have vouchsafed the Book recognise him even as they recognise their children; and verily a party of them hide the truth while they know.

— Abdul Majid Daryabadi

The people of the Book know this as they know their own sons; but some of them conceal the truth which they themselves know.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:146

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت " عرب " دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے ؟ اس نے کہا حضور ﷺ آپ بھی گواہ رہیئے آپ نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ قرطبی کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت عبداللہ بن سلام سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو حضرت محمد ﷺ کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 146–149

سورة الْبَقَرَة 148 یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اسے یوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی، جس طرح اسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے 13 سو برس بعد حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور انہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 146–147

خلاصہ تفسیر اس سے پہلی آیت میں اہل کتاب کا قبلہ مسلمین کو دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا ذکر تھا اس آیت میں انہی اہل کتاب کا صاحب قبلہ یعنی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح دل میں حق جاننے اور زبان سے نہ ماننے کا بیان ہے۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب (توراۃ و انجیل) دی ہے وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو (توراۃ و انجیل میں آئی ہوئی بشارت کی بناء پر بحیثیت رسالت) ایسا (بےشک وشبہ) پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو (ان کی صورت سے) پہچانتے ہیں (کہ بیٹے کی صورت دیکھ کر کبھی شبہ نہیں ہوتا کہ یہ کون شخص ہے مگر پہچان کر بھی سب مسلمان نہیں ہوتے بلکہ بعض تو ایمان لے آئے) اور بعضے ان میں سے (ایسے ہیں کہ اس) امر واقعی کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ سے مراد یہاں صالحین اہل کتاب کا گروہ ہے جو اپنے علم کے حد تک اپنے دین پر قائم اور ان تمام پیشین گوئیوں کے ظہور کا دل سے متمنی تھا جو آخری بعثت سے متعلق ان کے صحیفوں میں موجود تھیں۔ اس سے صالحین اہل کتاب مراد لینے کے وجود وہ دلائل پوری تفصیل کے ساتھ ہم آیت 121 کے تحت واضح کرچکے ہیں۔ يَعْرِفُوْنَهٗ میں ضمیر کا مرجع قرآن مجید اور اس کا یہ بیان ہے جو اس نے آخری بعثت اور اس کے قبلہ سے متعلق اوپر دیا ہے۔ یہ آیت بعینہ انہی الفاظ میں سورة انعام میں بھی وارد ہے اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ (انعام :20) جن کو ہم نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

146۔ 1 یہاں اہل کتاب کے ایک فریق کو حق کے چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان کے ایک فریق عبد اللہ بن سلام ؓ جیسے لوگوں کا بھی جو اپنے صدق و صفائے باطنی کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 146–147

96: اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے، کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں، ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور آپ ﷺ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے، اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مسلمانوں سے اس مختصر خطاب کے بعد اب روئے سخن پھر اصل موضوع پر لوٹ آتا ہے ۔ بات وہی ہے کہ اہل کتاب اس بات کو یقینی طور پر جانتے ہیں کہ حق وہی ہے جس کا اظہار قرآن شریف کرتا ہے اور جس کا حکم رسول ﷺ دیتے ہیں لیکن وہ اپنے اس یقینی علم کے باوجود ، اس حق کو چھپاتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اللہ پرست نہیں بلکہ نفس پرست ہیں ! الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” جن کو ، ہم نے کتاب دی ہے۔ وہ اس مقام کو (جسے قبلہ بنایا گیا ہے ) ایسا ہی پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں مگر ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 146–147

3 یعنی اگر تم کو یہ خیال ہو کہ کاش کعبہ کا مسلمانوں کے لئے قبلہ ہونا اہل کتاب بھی کسی طرح تسلیم کرلیں اور دوسرے لوگوں کو شبہ میں ڈالتے نہ پھریں تو میرے نبی موعود ہونے میں خلجان باقی نہ رہے تو جان لو کہ اہل کتاب کو تمہارا بہت پورا علم ہے آپ کے نسب و قبیلہ و مولد و مسکن و صورت وشکل و اوصاف و احوال سب کو جانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو آپ کا علم اور آپ کے نبی موعود ہونے کا ایسا یقین ہے جیسا بہت سے لڑکوں میں اپنے بیٹوں کو بلا تامل و تردّد پہچانتے ہیں مگر اس امر کو بعض تو ظاہر کرتے ہیں اور بعض دیدہ و دانستہ امرحق کو چھپاتے ہیں لیکن ان کے چھپانے سے کیا ہوتا ہے حق بات تو وہی ہے جو اللہ کی طرف سے ہو اہل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 146 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ ط۔ یہاں یہ نکتہ نوٹ کر لیجیے کہ قرآن حکیم میں تورات اور انجیل کے ماننے والوں میں سے غلط کاروں کے لیے مجہول کا صیغہ آتا ہے اُوْتُوا الْکِتٰبَ جنہیں کتاب دی گئی تھی اور جو ان میں سے صالحین تھے ‘ صحیح رخ پر تھے ‘ ان کے لیے معروف کا صیغہ آتا ہے ‘ جیسے یہاں آیا ہے۔ یَعْرِفُوْنَہٗ میں ضمیر ہٗ کا مرجع قبلہ بھی ہے ‘ قرآن بھی ہے اورٌ محمد رسول اللہ ﷺ بھی ‘ ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

183 عربوں میں یہ محاورہ ہے کہ جس چیز کے متعلق انہیں کسی طرح کا شک و شبہ نہ ہو تو سمجھتے ہیں کہ وہ اس بات کو یوں پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو علمائے یہود و نصاریٰ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم جن کی امت اور ملت ہونے کا یہ دم بھرتے ہیں، نے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اسے ہی قبلہ مقرر کیا تھا اور بیت المقدس تو تیرہ سو سال بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے تعمیر کیا تھا۔ پھر بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کا ذکر نہ کہیں تورات میں موجود ہے اور نہ انجیل میں۔ اس تاریخی واقعہ میں ان کے لیے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ قبلہ اول اور حقیقی قبلہ کعبہ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

538 ۔ عموم لفظ کے تحت میں مسیحی بھی داخل ہیں۔ لیکن خصوصیت کے ساتھ مراد یہود ہیں۔ توریت وصحف قدیم کو مسیحی بھی مانتے ہیں۔ علماء بلاغت نے اشارہ کیا ہے کہ اس موقع پر صیغہ معروف (آیت) ” اتینھم الکتب “ ضمیر متکلم کی تصریح کے ساتھ صیغہ مجہول (آیت) ” اوتوالکتب “ سے کہیں زیادہ بلیغ وپر معنی ہے ، 539 ۔ یعنی خوب اچھی طرح بغیر کسی اشتباہ والتباس کے۔ مطلب یوں ہوا کہ پچھلے نوشتوں میں ایک نبی آخر الزمان کی آمد کی بابت پیش گوئیاں اس صراحت سے مذکور ہیں کہ یہود کو آپ کی شناخت میں کوئی دقت نہیں ہوسکتی۔ وہ جس طرح اسرائیلی انبیاء کو پہچان لیتے تھے، ٹھیک اسی طرح آپ کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ (آیت) ” انبآء ھم “ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 144–147

آیت نمبر 144 تا 147 ترجمہ : قد تحقیق کے لئے ہے، ہم آپ کے چہرے کو آسمان کی طرف وحی کی طلب اور استقبال کعبہ کے شوق میں بار بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، اور آپ (کعبہ) کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ (کعبہ) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، اور اس لئے بھی کہ کعبہ کو قبلہ قرار دینا عربوں کو اسلام کی طرف بلانے میں زیادہ مؤثر (اپیل کرنے والا) تھا، سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیتے ہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں آپ اپنا رخ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی جانب پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو یہ امت کو خطاب ہے، اپنے چہرے کا (رخ) نماز میں اسی طرف کیا کریں اہل کتاب کو قطعی علم ہے کہ کعبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ ( وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں) حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کے علماء محمد ﷺ کو خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تورات میں ہے اور جن پر ایمان لانے اور جن کی مدد کرنے کا ہم کو حکم ہوا ہے اس تفسیر کے موافق یَعْرِفُوْنَہمیں ضمیر ہٗ محمد ﷺ کی طرف راجع ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ علم یا قرآن یا تحویل قبلہ کی طرف راجع ہے مگر محمد ﷺ کی طرف راجع ہونا زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اگر قرآن یا علم یا تحویل قبلہ کی طرف راجع ہوتی تو۔ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ( جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو) فرمانا مناسب نہ تھا۔ بیٹوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(146) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل کتاب میں سے مومنین حضرات کا ذکر فرماتے ہیں کہ جن حضرات کو جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی جن کو ہم نے توریت کے علم سے بہرہ ور کیا ہے وہ حضور اکرم ﷺ کو آپ ﷺ کے اوصاف اور صفات کے ساتھ اس طرح پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ حضور اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو خفیہ رکھتا ہے اس کے باوجود کہ وہ اپنی کتابوں کے ذریعے یہ بات خوب جانتے ہیں کہ آپ اللہ کی جانب سے بھیجے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ برحق ہونے کو خوب جانتے تھے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو رسول اللہ ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ان میں سے اہل علم کا ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بعض علماء جیسے (یہود میں سے) عبداللہ بن سلام (اور نصاریٰ میں سے) تمیم داری اور صہیب ؓ وغیرہ وہ بھی تھے جو آپ ﷺ کے نبی صادق ہونے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 146 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اتینھم۔۔۔۔ ابنآءھم، الذین مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور یعرفونہ خبر ہے۔ الظلمین کی صفت ہونے کی بنا پر جر میں ہونا بھی صحیح ہے اور یعرفون کا حال ہونا صحیح ہے یعنی وہ آپ ﷺ کی نبوت اور آپ کی رسالت کی صداقت کو جانتے ہیں۔ ضمیر کا مرجع حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یہ مجاہد اور قتادہ وغیرہما کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کا پھرنا جانتے تھے کہ وہ حق ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، ابن جریج، ربیع اور قتادہ کا قول ہے۔ معرفت میں ابناء (بیٹوں) کو ذکر کیا ہے ان کے نفسوں کا ذکر نہیں کیا اگرچہ نفس زیادہ قریب ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اوتوا الکتب بکل ایۃ ما تبعوا قبلیک “ سے مراد یہود و نصاری (اور) ” یعرفونہ “ یعنی ان کا پہچاننا رسول اللہ ﷺ کو اپنی کتاب میں لفظ آیت ” کما یعرفون ابناء ہم “ (جیسے اپنے بیتوں کو پہچانتے ہیں) ۔ (2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” الذین اتینھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم “ سے مراد ہے کہ وہ اس بات کو پہچانتے تھے کہ بیت الحرام ہی قبلہ ہے۔ (3) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” الذین اتینھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم “ سے مراد ہے کہ وہ اس بات…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(اَ لَّذِیْنَ : وہ لوگ ) (اٰتَیْنٰھُمُ : ہم نے دی جن کو ) (الْکِتٰبَ : کتاب) (یَعْرِفُوْنَــہٗ : وہ لوگ پہچانتے ہیں اس کو) (کَمَا : جیسے کہ ) (یَعْرِفُوْنَ : وہ پہچانتے ہیں ) (اَبْنَائَ ھُمْ : اپنے بیٹوں کو) (وَاِنَّ : اور یقینا) (فَرِیْقًا : ایک ایسا فریق) (مِّنْھُمْ : ان میں ہے ) (لَـیَکْتُمُوْنَ : جو چھپاتا ہے ) (الْحَقَّ : حق کو ) (وَھُمْ : اس حال میں کہ وہ لوگ ) (یَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں) ترکیب : ” اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ “ مبتدأ ہے اور ” یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَائَ ھُمْ “ اس کی خبر ہے۔ ” اِنَّ “ کا اسم ” فَرِیْقًا “ ہے جو نکرہ موصوفہ ہے۔ ” مِنْھُمْ “ جار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل کتاب رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہیں اور حق چھپاتے ہیں اس آیت شریفہ میں اہل کتاب کا مزید عناد اور تمرد بیان فرمایا کہ اہل کتاب صرف قبلہ کے بارے میں ہی عناد قائم نہیں بلکہ وہ تو نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت ہی کے منکر ہیں اور ان کا یہ انکار خالص عناد پر مبنی ہے۔ وہ اپنی کتابوں میں آپ کی صفات جلیلہ اور آپ کی تشریف آوری کی بشارت عظیمہ پڑھتے رہے ہیں اور وہ نعوت اور صفات خوب اچھے طرح واضح طور پر دیکھ کر آپ کی نبوت کو اس طرح پہچان گئے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں کہ یہ ہمارے بیٹے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پہچاننے میں ان کو ذرا شک و شبہ نہیں ہے۔ (تفسیر درمنثور ص 147 ج 1) حضرت عبداللہ بن سلام ؓ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 145–150

عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔ قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 146–147

282 الذین سے اہل کتاب کے اہل علم لوگ مراد ہیں۔ وان کان عاما بحسب اللفظ لکنہ مختص بالعلماء منھم (کبیر ص 37 ج 2) یعرفونہ کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کے ان اوساف کی طرف راجع ہے جن کا ذکر بطور خطاب سے بیان کیے گئے ہیں کہ علماء اہل کتاب حضور ﷺ کی صداقت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تورات وانجیل میں حضور ﷺ کے اوصاف اس وضاحت کی ذات کو بنانا اگرچہ فی نفسہ صحیح ہے لیکن سیاق سباق کے مناسب نہیں لہذا یعرفونہ کی ضمیر اور قبلہ کی طرف راجع ہے۔ القول الثانی الضمیر فی قولہ یعرفونہ راجع الی امر القبلۃ (کبیر ص 38 ج 2) تو مطلب یہ ہوگا کہ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو اہل کتاب اسی طرح…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 144–147

ربط آیات بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان لے کر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کون اللہ کے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو تعصب اور عناد پر ٹھہرا رہتا ہے۔ چناچہ اہل کتاب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ کیونکہ وہ لوگ قتل انبیاء ، ضد اور عناد میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا اور برائیوں میں منہمک ہوچکے تھے۔ وہ اگرچہ اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر ان میں نسبت کا شائبہ تک نہ تھا۔ تحویل قبلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَہٗ كَـمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ۝ 0 ۭ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْہُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۝ 146 ؔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . {…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 146–147

اَلَّذِیْنَ اٰتَـیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَـہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ھُمْ ط وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْھُمْ لَیَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَـلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۔ (البقرۃ : 146 تا 147) (جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو حق کو چھپاتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے۔ یہی حق ہے جو آپ کے رب کی جانب سے ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو) اس آیت کریمہ میں غور کرنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتاب جو ایک امی پر نازل ہوئی وہ تاریخ کے بعض ایسے گوشوں کو بےنقاب کر رہی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 146–147

فہم القرآن ربط کلام : یہاں معنوی ربط ہے کہ اہل کتاب جس طرح رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو پہچانتے ہیں اسی طرح بیت اللہ کو قلبی طور پر قبلہ تسلیم کرتے ہیں۔ جہاں تورات و انجیل میں آپ کی نبوت کے ثبوت ہیں وہاں بیت اللہ کے قبلہ ہونے کا ثبوت بھی موجود ہے۔ اظہارِ حق اور نبی کریم ﷺ کے اطمینان اور مسلمانوں کی تسلی کے لیے مزید فرمایا جا رہا ہے کہ اہل کتاب آپ ﷺ کی ذات اور حیثیت کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں ذرّہ برابر شک نہیں کرتا، جب انہوں نے آپ کو اچھی طرح پہچان لیا ہے تو پھر آپ کی نبوت سے انحراف اور قبلہ کے انکار کا کیا معنیٰ ؟ لیکن اس کے باوجود کتمانِ حق کا جرم ہمیشہ سے ان میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت یعرفون ابناء ھم 146: اَلَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ہُمْ : (جن کو ہم نے کتاب دی وہ محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں) نحو۔ الذین یہ کلام مبتدا اور یعرفونہ اس کی خبر ہے ہٗ کی ضمیر سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ یہی را جح ہے۔ بعض نے قرآن اور تحویل قبلہ بھی کہا مگر وہ مرجوح ہے۔ کیونکہ کما یعرفون ابناء ھم فرمایا۔ اگر ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی تو ابناء کی بجائے تورات لاتے۔ عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا میں آپ کو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ پہچانتا ہوں۔ عمر ؓ نے کہا وہ کیسے ؟ تو انہوں نے جواب دیا مجھے محمد ﷺ کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ باقی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 146۔ : (آیت)” الذین اتیناھم الکتاب “ مؤمنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھی ” یعرفونہ “ یعنی محمد کریم ﷺ کو پہچانتے ہیں، (آیت)” کما یعرفون ابناء ھم “۔ (جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں) بچوں کے درمیان سے ۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ہے (آیت)” الذین اتیناھم الکتاب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم “ تو یہ پہچاننا کیسا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے فرمایا اے عمر ! میں نے حضور ﷺ کو جب دیکھا تھا پہچان لیا تھا جیسے کہ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں اور حضور ﷺ کی پہچان اس پہچان سے بھی شدید…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 146–147

(146 ۔ 147) ۔ پہلی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی علامتیں بہت صراحت سے تھیں اس لئے اہل کتاب ان علامتوں سے آپ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے لیکن نبی آخر الزمان کے بنی اسرائیل میں پیدا نہ ہونے سے ان لوگوں کو حضرت سے ایک دشمنی سی ہوگئی تھی جس کے سبب سے ان لوگوں نے وہ علامتیں بدل ڈالی تھیں اور آپ کی نبوت کے انکار کرنے پر کمر باندھ لی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں کچھ شک و شبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخر الزمان کی پوری علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 146–147

اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انہیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انہیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انہیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفیٰ ﷺ کی پہچان انکے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا نکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپالیا۔ درآنحالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا : (آیت) ومن اظلم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 145–148

قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

402 معاندین و مکابرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو یہ ان معاندین اور مکابرین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کو پوری طرح جاننے کے باوجود نہیں مانتے۔ یعنی جس طرح اپنے بیٹوں کو شکل و صورت سے دیکھنے کے بعد انسان کو ان کے پہچاننے میں کوئی دقت و دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی طرح یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی ان نعوت وصفات کی بنا پر جو کہ ان کی کتابوں میں بیان فرمائی گئی ہیں، پوری طرح جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی برحق ہیں جن کی خبر گزشتہ کتابوں میں دی گئی تھی مگر اس کے باوجود یہ مانتے نہیں، محض ضد اور عناد وغیرہ کی وجہ سے۔ سو ہٹ دھرم اور معاند انسان قبول حق کی سعادت و توفیق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 146–147

اہل کتاب کا حق کو چھپانا تشریح : اللہ جل شانہ نبی کریم ﷺ کو یقین دلا رہے ہیں کہ اہل کتاب آپ کو مانیں یا نہ مانیں آپ بالکل پریشان نہ ہوں اور نہ ہی آپ کی رسالت اور امامت میں کوئی فرق آئے گا۔ آپ اپنے کام میں لگے رہیں۔ ” یہود و نصاریٰ کو آپ کی آمد، آپ کی خصوصیات اور قرآن مجید کے بارے میں سب کچھ بتا دیا گیا ہے۔ آپ کو انہوں نے خوب اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں، اتنی اچھی طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتا ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پھر ان لوگوں نے آپ کی نشانیوں کو چھپانے کی کوشش کی اور سب کچھ جانتے بوجھتے آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–147

آیات 142- 147 اسرارو معارف کچھ بیت اللہ شریف کے بارے میں : یوں تو یہودونصاریٰ ہر طرح سے لاجواب ہوگئے مگر ان کے یہ اعتراضات کہ برحق نبی کو سمت قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کس چیز نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا اور کیا پہلا قبلہ درست نہ تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پہلی نمازیں کیا ہوئیں یا جو لوگ اس تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا ؟ یہ سوال کج فہموں کے ذہنوں سے چپک گئے۔ کج فہم اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر طبیعت میں راستی اور فہم میں درستی ہو تو لا یعنی باتیں اور فضول بحثیں طبعاً ناپسندیدہ ہوجاتی ہیں اور ذہن درست باتوں کو قبول کرتا ہے کہ راستی کا یہی خاصہ ہے۔ یہاں اللہ کریم نے ان تمام لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ پر حق ہونے کو خوب جانتے تھے مگر بوجہ ضد اور ہٹ دھرمی کے انکار کرتے تھے اب اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو آنحضرت ﷺ کے نبی آخرالز مان ہونے کچھ شبہ نہیں ہے مگر پھر بھی ان سے اہل علم کا ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں بعض علماء جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ بھی تھے جو آنحضرت ﷺ کی صداقت کے جاننے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ،_ (ابن کثیر۔ قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

الذین اتیناھم الکتب۔ اہل کتاب یہود و نصاری۔ یعرفونہ۔ وہ اس کو پہچانتے ہیں۔ اس کو جانتے ہیں۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع یا (1) علم ، قرآن یا تحویل قبلہ سے یا (2) یہ ضمیر رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے گو ما سبق ان کا ذکر نہیں ہے۔ یہی زیادہ راجح ہے۔ یعرفون کی ضمیر علماء اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ فریقا منھم۔ میں من تبعیضیہ ہے اور ہم سے مراد الذین لم یسلموا جو جانتے ہوئے بھی آپ کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ یکتمون۔ لام یاکید کا ہے۔ یکتمون۔ فعل مضارع جمع مذکر غائب کنتم باب نصر مصدر سے وہ چھپاتے ہیں۔ وہ چھپا رہے ہیں۔ الحق۔ مفعول ۔ حق بات۔ حقیقت ۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کی صفت اور آپ کا نبی قبلتین ہونا جو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 142–147

لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147 ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 146–147

شان نزول : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر فرمایا کہ اگرچہ اصل کتابیں تو ان لوگوں نے بدل ڈالی ہیں مگر جب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بتلا دیا ہے تو کسی مسلمان کو اس میں شک وشبہ نہیں کرنا چاہیے کہ نبی آخرالزماں کی پوی علامتیں اہل کتاب کی کتابوں میں موجود ہیں ۔ یہود میں سے عبداللہ بن سلام ؓ مشرف بااسلام ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے ان سے دریافت کیا کہ آیۃ یعرفُون میں جو معرفت بیان کی گئے ہے اس کی کیا شان ہے ؟ ۔ انہوں نے فرمایا : ” اے ابن عمر ! ؓ میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا تو بےاشتباہ پہچان لیا اور میرا آنحضرت ﷺ کو پینچاننا اپنے بیٹوں کو پہنچاننے سے بدرجہا زیادہ بہتر ہے “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 146–147

[96] یعنی بیت الحرام کو بہ حیثیت قبلہ۔ [97] یعنی خوب اچھی طرح بغیر کسی شک و شبے کے جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) (آیت) ” یعرفونہ “ کی ضمیر یا تو تحویل قبلہ کی طرف راجع ہے ، جیسا کہ ظاہر سباق سے واضح ہے اور یا حضور ﷺ کی طرف جو گو مذکور نہیں لیکن سننا سمجھے جاسکتے ہیں یعنی جس طرح یہ اپنے بچوں کو بغیر کسی دلیل منطقی کے پہنچان لیتے ہیں اور کبھی انہیں شبہ نہیں ہوتا اسی طرح یہ خوب جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ درست و صحیح ہے یعنی ان کی مذہبی کتابوں میں جب اس کا ذکر ہے تو پھر شک وشبہ کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ۔ اگر ضمیر حضور ﷺ کو طرف راجع ہو تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی نبوت اس قدر جلی اور اظہر ہے کہ کم از کم ان لوگوں کے لئے انکار کی کوئی وجہ نہیں ، وہ جو صبح ومساتین سال تک متواتر آپ کے انوار و تجلیات کو برملا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 145–147

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ان اہل کتاب کی ضد اور مخالفت کا یہ حال ہے کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے روبرو ہر قسم کے تمام دلائل بھی پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلہ کو ماننے والے نہیں اور چونکہ آپ کا قبلہ اب ہمیشہ کے لئے کعبہ مقررہوچکا ہے تو آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور ان اہل کتاب کی تو یہ حالت ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک فریق دوسرے فریق کے قبلہ کو نہیں مانتا اور اے پیغمبر ﷺ اگر آپ نے اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے خدانخواستہ کہیں ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کا اتباع کیا تو یقینا آپ بھی اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے جن لوگوں کو ہم نے کتاب آسمانی عطا کی ہے وہ اس پیغمبر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 146–149

ف 4۔ رسول اللہ ﷺ کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب آپ کو اور آپ کے قبلہ کو اس طرح پہچانتے ہیں جیسے ہر انسان اپنی اولاد کو : 269: اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں ان میں کبھی اشتباہ نہیں ہوتا کہ یہ بچہ میرا ہے یا میرا نہیں اس طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہ ﷺ کی بشارت اور آپ ﷺ کی واضح علامات ونشانات کا ذکر آیا ہے اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کو بھی یقینی طور پر جانتے ، پہچانتے ہیں۔ ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے ۔ جس طرح کوئی شخص اپنے بیٹوں کے شناخت کرنے میں غلطی نہیں کرسکتا بالکل اسی طرح یہ بھی آپ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 146–147

Verses 144 and 145 have told us how the People of the Book اھل الکتاب knew in their hearts that a divine commandment itself had instituted the Baytullah بیت اللہ as the Qiblah قبلہ of the Muslims, and yet denied this fact in public. Now, the two present verses show that their conduct towards the Holy Prophet ﷺ was equally dishonest and malicious. The Torah and the Evangel had already foretold the coming of the Holy Prophet ﷺ ، and set down the signs and indications which should help the people to recognize him. On the basis of the irrefutable evidence provided by their own Sacred Books, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 146–147

148. 'To recognize something as well as one recognizes one's sons' is an Arabic idiom. It is used with regard to things which one knows without the least shadow of a doubt. The Jewish and Christian scholars were well aware that the Ka'bah had been constructed by Abraham and that Jerusalem had been built by Solomon some thirteen hundred years after that, and that in his time it was made the qiblah. This is an unquestionable historical fact and they knew it to be so.

Read the full tafseer →