Al-Baqara 2:145

Al-Baqara · from ayah 145

2:145

وَلَىِٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ— وَمَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ— وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ؕ— وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ— اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۘوَلَئِنۡ اَ تَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ‌ۚ وَمَآ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَهُمۡ‌ۚ وَمَا بَعۡضُهُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَةَ بَعۡضٍؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you brought to those who were given the Scripture every sign, they would not follow your qiblah. Nor will you be a follower of their qiblah. Nor would they be followers of one another's qiblah. So if you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, indeed, you would then be among the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 17 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:145

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، او ر اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کی، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اگر تم ان کے پاس ہر قسم کی نشانیاں لے آؤ تب بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے۔ اور نہ تم ان کے قبلے پر عمل کرنے والے ہو، نہ یہ ایک دوسرے کے قبلے پر عمل کرنے والے ہیں اور جو علم تمہارے پاس آچکا ہے اس کے بعد اگر کہیں تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کرلی تو اس صورت میں یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر تم ان کتابیوں کے پاس ہر نشانی لے کر آ ؤ وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرو اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کے تابع نہیں اور (اے سننے والے کسے باشد) اگر تو ان کی خواہشوں پر چلا بعد اس کے کہ تجھے علم مل چکا تو اس وقت تو ضرور ستم گر ہوگا۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اوراگر آپ اہلِ کتاب کے پاس ہر ایک نشانی (بھی) لے آئیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ہی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، (امت کی تعلیم کے لئے فرمایا:) اور اگر (بفرضِ محال) آپ نے (بھی) اپنے پاس علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کی تو بیشک آپ (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یقینا اگر تو ان لوگوں کے پاس جنھیں کتاب دی گئی ہے، ہر نشانی بھی لے آئے وہ تیرے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تو کسی صورت ان کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور نہ ان کا بعض کسی صورت بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو بیشک تو اس وقت ضرور ظالموں سے ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان اہل کتاب کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے، نہ ہی آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرسکتے ہیں بلکہ کوئی بھی دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والا نہیں اور اگر آپ ﷺ اس علم کے بعد، جو آپ کے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو یقینا آپ کا شمار ظالموں میں ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں بھی پیش کر دو تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے۔ اور اگر تم اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کروگے تو بلاشبہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ) اگر آپ ان کو ہر نشانی بھی لا کر دے دیں، تو بھی انہوں نے آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کرنی، اور نہ ہی آپ پیروی کرسکتے ہیں ان کے قبلے کی (کسی بھی قیمت پر) اور نہ ہی یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں، اور اگر آپ نے (بفرض محال) پیروی کرلی ان کی خواہشات کی، بعد اس علم کے جو کہ آگیا آپ کے پاس (آپ کے رب کی جانب سے) تو یقینا اس صورت میں آپ ہوجائیں گے ظالموں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر آپ ان لوگوں کے سامنے جنہیں کتاب مل چکی ہے ساری ہی نشانیاں لے آئیں۔ (جب بھی) یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے۔ اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور نہ وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں۔ اور اگر (کہیں) آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگیں۔ بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔ تو یقیناً آپ (بھی) ظالموں میں (شمار) ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ان اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ ہی اب آپ پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلے کی اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے والے ہیں اور (اے نبی ﷺ ! بالفرض) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو بلاشبہ آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم ان اہل کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آؤ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلہ کی پیروی کرنے لگیں اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلہ کی پیروی کرو، اور ان میں سے بھی کوئی گروہ دوسرے کے قبلے کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اگر تم نے اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

Even though you may show every kind of sign to the people of the Book, they will not adopt your giblah, nor are you going to adopt their giblah; nor will any of them adopt the giblah of the other; therefore if, after the knowledge you have received, you follow their desires, you will certainly be counted among the transgressors.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even if you bring every sign to those who have been given the Book, they would not follow your Qiblah, and you are not to follow their Qiblah, nor are they to follow each other‘s Qiblah. If you were to follow their desires despite the knowledge that has come to you, you will then certainly be among the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani

Even if you bring every sign to those who have been given the Book, they would not follow your Qiblah, and you are not to follow their Qiblah, nor are they to follow each other‘s Qiblah. If you were to follow their desires despite the knowledge that has come to you, you will then certainly be among the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And even if you were to bring to the People of the Scripture (Jews and Christians) all the Ayat (proofs, evidences, verses, lessons, signs, revelations, etc.), they would not follow your Qiblah (prayer direction), nor are you going to follow their Qiblah. And they will not follow each other's Qiblah. Verily, if you follow their desires after that which you have received of knowledge (from Allah), then indeed you will be one of the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And even if thou broughtest unto those who have received the Scripture all kinds of portents, they would not follow thy qiblah, nor canst thou be a follower of their qiblah; nor are some of them followers of the qiblah of others. And if thou shouldst follow their desires after the knowledge which hath come unto thee, then surely wert thou of the evil-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you brought to those who were given the Scripture every sign, they would not follow your qiblah. Nor will you be a follower of their qiblah. Nor would they be followers of one another's qiblah. So if you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, indeed, you would then be among the wrongdoers.

— Saheeh International

Even if you were to bring all kinds of authoritative proof to the People of the Book, they still would not accept your qibla, nor would you accept theirs, nor would they accept each others. Were you to follow their desires after all the knowledge that has come to you, you would certainly have been one of the unjust.

— Muhammad Sarwar

And even if you bring to those who have been given the Book every sign they would not follow your qiblah, nor can you be a follower of their qiblah, neither are they the followers of each other's qiblah, and if you follow their desires after the knowledge that has come to you, then you shall most surely be among the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And shouldst thou bring unto those who are vouchsafed the Book every sign, they would not follow thy Qiblah, neither art thou to be a follower of their Qiblah; nor doth one part of them follow the Qiblah of the other. And shouldst thou follow their desires, after that which hath come unto thee of the knowledge, then verily thou wilt become one of the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Even if thou wert to bring to the people of the Book all the Signs (together), they would not follow Thy Qibla; nor art thou going to follow their Qibla; nor indeed will they follow each other's Qibla. If thou after the knowledge hath reached thee, Wert to follow their (vain) desires,-then wert thou Indeed (clearly) in the wrong.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:145

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کفر وعناد زدہ یہودی یہودیوں کے کفر وعناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول ﷺ کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت (ان الذین حقت علیھم کلمتہ ربک لا یومنون ولو جاء تھم کل ایت حتی یروا العذاب الالیم) یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آجائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں پھر اپنے نبی ﷺ کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی ﷺ ایسے نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 147 ”مطلب یہ ہے کہ قبلے کے متعلق جو حُجَّت و بحث یہ لوگ کرتے ہیں، اس کا فیصلہ نہ تو اس طرح ہوسکتا ہے کہ دلیل سے انہیں مطمئن کردیا جائے، کیونکہ یہ تعصّب اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں اور کسی دلیل سے بھی اس قبلے کو چھوڑ نہیں سکتے، جسے یہ اپنی گروہ بندی کے تعصّبات کی بنا پر پکڑے ہوئے ہیں۔ اور نہ اس کا فیصلہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ تم ان کے قبلے کو اختیار کرلو، کیونکہ ان کا کوئی ایک قبلہ نہیں ہے، جس پر یہ سارے گروہ متفق ہوں اور اسے اختیار کرلینے سے قبلے کا جھگڑا چُک جائے۔ مختلف گروہوں کے مختلف قبلے ہیں۔ ایک کا قبلہ اختیار کر کے بس ایک ہی گروہ کو راضی کرسکو گے۔ دوسروں کا جھگڑا بدستور باقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (باجود ان لوگوں کے سب کچھ سمجھنے کے ان کی ضد کی یہ حالت تھی) کہ اگر آپ (ان) اہل کتاب کے سامنے تمام (دنیا بھر کی) دلیلیں (جمع کرکے) پیش کردیں جب بھی یہ (کبھی) آپ کے قبلہ کو قبول نہ کریں اور (ان کی موافقت کی امید اس لئے نہ رکھنی چاہئے کہ آپ کا قبلہ بھی منسوخ ہونے والا نہیں اس لئے) آپ بھی ان کے قبلہ کو قبول نہیں کرسکتے (پس کوئی صورت موافقت کی باقی نہیں رہی) اور (جیسا ان اہل کتاب کو آپ سے ضد ہے ان میں باہم بھی موافقت نہیں کیونکہ) ان کا کوئی (فریق) بھی دوسرے (فریق) کے قبلہ کو قبول نہیں کرتا، (مثلا یہود نے بیت المقدس لے رکھا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کی سمت کو قبلہ بنا رکھا تھا) اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک التفات : یہ آیت بطور التفات کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دے رہی ہے کہ قبلہ کے معاملہ میں اہل کتاب کا یہ رویہ کسی شک و شبہ کی بنا پر نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، دیدہ و دانستہ محض ضد وعناد اور حسد کی بنا پر ہے۔ اس وجہ سے اگر تم ان کو دنیا جہان کے تمام معجزے بھی دکھا دو جب بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہیں۔ ان کو مطمئن کرنے والی کوئی چیز ہوسکتی ہے تو دلائل و معجزات نہیں بلکہ یہ کہ تم خود ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن جاؤ لیکن حق کے اچھی طرح واضح ہوچکنے کے بعد تمہارے لیے اس کا کوئی امکان باقی نہیں رہا کہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرسکو۔ پھر یہ بات بھی واضح فرما دی کہ یہ ضدم ضد کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

145۔ 1 کیونکہ یہود کی مخالفت تو حسد وعناد کی بنا پر ہے، اس لئے دلائل کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ گویا اثر پزیری کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا دل صاف ہو۔ 145۔ 2 کیونکہ آپ ﷺ وحی الٰہی کے پابند ہیں جب تک آپ ﷺ کو اللہ کی طرف سے ایسا حکم نہ ملے آپ ان کے قبلے کو کیونکر اختیار کرسکتے ہیں۔ 145۔ 3 یہود کا قبلہ بیت المقدس اور عیسائیوں کا بیت المقدس کی مشرقی جانب ہے۔ جب اہل کتاب کے یہ دو گروہ بھی ایک قبلے پر متفق نہیں تو مسلمانوں سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ان کی موافقت کریں گے۔ 145۔ 4 یہ وعید پہلے بھی گزر چکی ہے، مقصد امت کو متنبہ کرنا ہے کہ قرآن و حدیث کے علم کے باوجود اہل بدعت کے پیچھے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

95: وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ، میں یہ اعلان کردیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی رہے گا، اس سے یہود و نصاری کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ ، یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں، اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وہ کسی بھی دلیل سے مطمئن نہی ہوسکتے ۔ ان کے ہاں فہم دلیل کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ اگر وہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اخلاص ہے ۔ وہ ہوائے نفس کے بندے ہیں اور باجود علم کے ان میں حق وصداقت کے تسلیم کرنے کی استعداد نہیں ہے : وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ” تم ان اہل کتاب کے سامنے چاہے کوئی دلیل پیش کرو ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ۔ “ ان کی نکیل ہوائے نفس کے ہاتھ میں ہے ۔ دنیاوی مصالح انہیں ہانکے لے جارہے ہیں اور ذاتی اغراض ان کے لئے حدی خواں ہیں ۔ مخلصین میں سے بیشمار لوگ اب بھی ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ اسلام کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جب یہ بات ہے کہ اہل کتاب استقبال کعبہ کو حق جان کر بوجہ حسد وعناد حق پوشی کرتے ہیں تو ان سے اپنے قبلہ کی موافقت کی ہرگز توقع مت رکھو وہ تو ایسے متعصب ہیں کہ اگر ان کو تمام نشانیاں جو ممکن الوقوع ہیں دکھلا دو گے جب بھی تمہارے قبلہ کو نہ مانیں گے وہ تو اس ہوس میں ہیں کہ کسی طرح تم کو اپنا تابع بنا لیویں اسی وجہ سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے قبلہ پر قائم رہتے تو ہم سمجھتے کہ تم نبی موعود ہو کہ شاید پھر ہمارے قبلہ کی طرف رجوع کرلیں سو یہ ان کا خیال باطل اور طمع خام ہے تم کسی وقت میں بھی ان کے قبلہ کا اتباع نہیں کرسکتے اب استقبال کعبہ کا حکم قیامت تک منسوخ نہیں ہوسکتا اور دوسروں کے تابع بنانے کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 145 وَلَءِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَکَ ج وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ ج یہ تو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ والا معاملہ ہوگیا۔ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط۔ حد یہ ہے کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کی پیروی نہیں کرتے۔ اگرچہ یہود و نصاریٰ سب کا قبلہ یروشلم ہے ‘ لیکن عین یروشلم میں جا کر یہودی ہیکل سلیمانی کا مغربی گوشہ اختیار کرتے تھے اور مغرب کی طرف رخ کرتے تھے ‘ جبکہ نصاریٰ مشرق کی طرف رخ کرتے تھے ‘ اس لیے کہ حضرت مریم سلامٌ علیہا نے جس مکان میں اعتکاف کیا تھا اور جہاں فرشتہ ان کے پاس آیا تھا وہ ہیکل کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

180 اس لیے کہ ان کا یہ جھگڑا کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض حسد وعناد کی بنا پر ہے۔ یعنی اگر آپ یہ بات انہیں ان کی کتابوں سے دکھلا بھی دیں۔ تب بھی یہ ماننے والے نہیں۔ 181 یعنی اہل کتاب کے قبلے بھی مختلف ہیں۔ یہود کا قبلہ تو صخرہ بیت المقدس ہے۔ (بیت المقدس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تیرہ سو سال بعد تعمیر کیا تھا) اور نصاریٰ کا قبلہ بیت المقدس کی شرقی جانب ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نفخ روح ہوا تھا تو جب یہ لوگ آپس میں بھی کسی ایک قبلہ پر متفق نہیں تو آپ کے ساتھ کیسے اتفاق کرسکتے ہیں یا آپ ان میں سے کس کے قبلہ کی پیروی کریں گے۔ 182 رسول ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

531 ۔ یعنی اپنی پیغمبری کے سارے ممکن دلائل ومعجزات بھی۔ (آیت) ” الذین اوتوالکتب “ سے مراد یہود ہیں۔ 532 ۔ (یہ حد ہے ان کے ضد، عناد وتعصب کی، اس لیے آپ ﷺ کا ان کے اعتراضات کی طرف اعتناء کرنا ہی بےکار ہے) 533 ۔ اس لیے کہ اسرائیل کی امامت کے خاتمہ پر آپ ﷺ کو ایک مستقل، امتیازی، عالمگیر قبلہ عطا ہوچکا ہے، اور یہود ونصاری کو آپ ﷺ کی طرف سے اب ہمیشہ کے لیے مایوس ہوجانا چاہیے) 534 ۔ چناچہ یہود کا قبلہ آج تک ہیکل بیت المقدس ہے۔ اور نصاری کسی عمارت یا مکان کو نہیں، بلکہ سمت مشرق کو قبلہ بنائے ہوئے ہیں اور عجب نہیں کہ اندرونی اختلافات اس سے بھی زائد ہوں۔ بحمد اللہ کہ ہمارے قدیم مفسرین بھی یہود ونصاری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 144–147

آیت نمبر 144 تا 147 ترجمہ : قد تحقیق کے لئے ہے، ہم آپ کے چہرے کو آسمان کی طرف وحی کی طلب اور استقبال کعبہ کے شوق میں بار بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، اور آپ (کعبہ) کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ (کعبہ) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، اور اس لئے بھی کہ کعبہ کو قبلہ قرار دینا عربوں کو اسلام کی طرف بلانے میں زیادہ مؤثر (اپیل کرنے والا) تھا، سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیتے ہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں آپ اپنا رخ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی جانب پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو یہ امت کو خطاب ہے، اپنے چہرے کا (رخ) نماز میں اسی طرف کیا کریں اہل کتاب کو قطعی علم ہے کہ کعبہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ ( اور اگر آپ لے ہی آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب ملی ہے تو وہ پیروی نہ کریں گے آپ کے قبلہ کی) وَ لَءِنْ اَتَیْتَ ..... میں لام تمہید قسم کا ہے مَا تَبِعُوْا قِبْلَتِکَ جواب قسم قائم مقام جواب شرط کے ہے۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کا انکار اور اعتراض کسی شبہ پر مبنی نہیں اس لیے دلیل سے کوئی نفع نہیں۔ جو کچھ بکتے ہیں اس کا باعث حسد اور عناد ہے۔ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ( اور نہ آپ ہی پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلہ کی) مطلب یہ ہے کہ اب بیت اللہ ہمیشہ قبلہ رہے گا کبھی منسوخ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(145) اور اگر آپ اہل کتاب کے پاس تمام ان معجزات کے ساتھ جن کا انہوں نے آپ سے مطالبہ کیا ہے آئیں تو وہ نہ آپ کے قبلہ کی طرف نماز پڑھیں گے اور نہ آپ کے دین کو قبول کریں گے اور نہ آپ اہل کتاب کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں اور نہ یہود ونصاری میں سے کوئی بھی فریق ایک دوسرے کے قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ اور اگر آپ ہماری ممانعت اور اس چیز کے بیان کردینے کے بعد یہ حرم حضرت ابراہیم ؑ کا قبلہ ہے پھر ان کے قبلہ کی طرف مونہہ کرکے نماز پڑھیں گے تو آپ ﷺ اس کام کی وجہ سے اس وقت اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والوں میں سے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ) یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں، مگر ان کا عناد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ اس کی حقانیت پر خواہ دنیا بھر کے دلائل پیش کردیں وہ آپ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ (وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ) اور آپ بھی وحئ الٰہی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ ”بِتَابِــعٍ“ میں باء کے ساتھ نفی کی تاکید ہوگئی، اس لیے ترجمہ ”اور نہ تو کسی صورت۔۔“ کیا گیا ہے۔ (وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ) اور ان کے باہمی عناد کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرۂ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاریٰ بیت المقدس کی مشرقی جانب۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 145 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولئن اتیت۔۔۔۔ قبلتک، کیونکہ انہوں نے کفر کیا ہے حالانکہ ان کے لئے حق واضح ہوچکا ہے، انہیں آیات و علامات نفع نہیں دیں گی۔ قبلہ کی جمع مکسر قبل ہے اور جمع سالم قبلات ہے اور کسرہ کو فتحہ سے بدلنا جائز ہے اور تو کہے قبلات اور کسرہ کو حذف کرنا اور باکو ساکن کرنا جائز ہے اور لئن کا جواب لو کے جواب کے ساتھ دیا گیا ہے۔ یہ اس کی ضد ہے کیونکہ لو اپنے جواب میں ماضی اور وقوع کو طلب کرتا ہے اور لئن استقبال کو طلب کرتا ہے۔ فراء اور اخفش نے کہا : لو کے جواب کے ساتھ جواب دیا گیا ہے کیونکہ اس کا معنی ہے لواتیت۔ اسی طرح لئن کے جواب کے ساتھ لو کا جواب دیا جاتا ہے تو کہتا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

یہود کی ضد اور ہٹ دھرمی (1) سدی (رح) نے فرمایا لفظ آیت ” وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض “ سے مراد ہے کہ یہودی نصاری کے قبلہ کی تابعداری کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی نصاری یہودیوں کے قبلہ کی تابعداری کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(وَلَئِنْ : اور اگر ) (اَتَیْتَ : آپ ﷺ لے آئیں) (الَّذِیْنَ : ان کے پاس جن کو ) (اُوْتُوا الْکِتٰبَ : دی گئی کتاب) (بِکُلِّ اٰیَۃٍ : تمام نشانیاں (ہر نشانی) مَّا تَبِعُوْا : تو بھی وہ لوگ پیروی نہیں کریں گے) (قِبْلَتَکَ : آپ ﷺ کے قبلے کی ) (وَمَآ اَنْتَ : اور نہ آپ ﷺ ) (بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والے ہیں) (قِبْلَتَھُمْ : ان کے قبلے کی ) (وَمَا بَعْضُھُمْ : اور نہ ان کے کچھ لوگ ) (بِتَابِعٍ : پیروی کرنے والے ہیں) (قِبْلَۃَ بَعْضٍ : (اپنے) کچھ لوگوں کے قبلے کی) (وَلَئِنِ : اور اگر ) (اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی ) (اَھْوَآئَ ھُمْ : ان کی خواہشات کی) (مِّنْ بَعْدِ : اس کے بعد) (مَا جَآئَ کَ : کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہود و نصاری کی ضد اور عناد کا مزید تذکرہ اس آیت شریفہ میں یہود و نصاری کے عناد اور ضد کو مزید واضح کرکے بیان فرمایا اور صاف طور پر بتادیا کہ ان لوگوں سے قبول حق کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے جو آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کیا تو یہ کسی دلیل کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف مخالفت اور عناد اور مکابرہ پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ دلیلیں پیش کردیں۔ انہیں آپ کی موافقت کرنا نہیں ہے۔ نہ وہ آپ کے قبلہ کا اتباع کریں گے اور نہ ہی آپ ان کے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں۔ اہل کتاب نے دھوکہ دینے کے لیے کہا تھا۔ یا محمد عُدْ الی قبلتنا نومن بک ونتبعک (کہ اے محمد ! ہمارے قبلہ کی طرف واپس آجاؤ۔ ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 145–150

عناد اہل کتاب دربارہ قبلہ۔ قال تعالی، ولئن اتیت الذین۔۔۔ الی۔۔۔۔ تھتدون۔ ربط) ۔ گزشتہ آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اہل کتاب اس قبلہ کا حق ہونا بخوبی معلوم ہے اور خود ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی آخرالزمان کچھ روز بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں گے اور آخر کو کعبہ کی طرف اور یہی ان کا اصل اور دائمی قبلہ ہے جو ملت ابراہیمی کے موافق ہے مگر حسد اور عناد کی وجہ سے چھپاتے ہیں آئندہ آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ان کا عناد کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اگر آپ اس قبلہ کی حقیت اور فضیلت پر ہر قسم کے دلائل اور نشانات بھی لے آئیں تب بھی یہ لوگ آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کریں گے اور نہ آپ کبھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

280 یہاں بھی اہل کتاب کی ضد وعناد کا بیان ہے یعنی اس کے باوجود کہ یہ لوگ تحویل قبلہ کے حق ہونے کو جانتے ہیں مگر ضدوعناد اور حسد کی وجہ سے اپنا قبلہ چھوڑ کر آپ کا اتباع نہیں کریں گے۔ اگرچہ آپ تحویل قبلہ کی حقیت کے تمام دلائل ان کے سامنے پیش کردیں۔ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ۔ اہل کتابحضور ﷺ کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے تھے کہ اے محمد پھر سے بیت المقدس کو اپنا قبلہ مان لے تو ہم تجھے نبی مان لیں گے اور تیرا اتباع کریں گے (روح ص 11 ج 2) تو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی اس آرزو کو ختم کردیا کہ یہ امر محال ہے کہ تو اے محمد ﷺ ان کے قبلہ کو دوبارہ قبول کرلے اس لیے انہیں اس قسم کی کوئی امید نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 144–147

ربط آیات بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان لے کر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کون اللہ کے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو تعصب اور عناد پر ٹھہرا رہتا ہے۔ چناچہ اہل کتاب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ کیونکہ وہ لوگ قتل انبیاء ، ضد اور عناد میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا اور برائیوں میں منہمک ہوچکے تھے۔ وہ اگرچہ اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر ان میں نسبت کا شائبہ تک نہ تھا۔ تحویل قبلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَۃٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ۝ 0 ۚ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــــعٍ قِبْلَتَہُمْ۝ 0 ۚ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِـــعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ۝ 0 ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝ 0 ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 145 ۘ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ وبه شبّه الغریب فقیل : أتاويّ والإتيان يقال للمجیء بالذات وبالأمر وبالتدبیر، ويقال في الخیر وفي الشر وفي الأعيان والأعراض، نحو قوله تعالی: إِنْ أَتاكُمْ عَذابُ اللَّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : ولئن میں لام تو تطیہ قسم ہے۔ پھر یہ تمام جملہ شرط ہے اور ماتبعوا قبلتک جو اب ما بلحاظ لفظ ماضی داخل ہے ورنہ تبعوا بمعنی مستقبل ہے اور ما بمعنی لا اور اسی لیے جواب میں فا نہیں آیا اور اسی طرح ولئن اتبعت الخ شرط انک جواب اذا حرف ہے اور نون اس میں اصل ہے اور یہ خاص جواب میں مستعمل ہوتا ہے۔ الذین الخ مبتداء یعرفونہ الخ اس کی خبر کما صفت ہے مصدر محذوف کی اور ما مصدر یہ ہے الحق مبتدا من ربک خبر۔ تفسیر : چونکہ نبی ﷺ کو مخالفین کے حق پر آنے کی نہایت آرزو تھی کہ یہ کسی طرح وادی ضلالت سے نجاوت پاویں اور کاش آیات و معجزات ہی سے راہ پر آویں۔ بالخصوص تحویل قبلہ کے بارے میں مگر ان کا انکار ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَاتَبِعُوْا قِبْلَتَـکَ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ ج وَمَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا اِنَّـکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (اگر آپ اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں بھی لے کر آجائیں، تو بھی یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے ہیں۔ اگر تم اس علم کے بعدجو آپ کے پاس آچکا ہے، ان کی خواہشوں کی پیروی کریں گے تو بلا شبہ آپ ظالموں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 144–145

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ بیت اللہ میں رسول محترم ﷺ نماز کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے کہ بیک وقت آپ کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس کی جانب ہوا کرتا تھا۔ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں متضاد جوانب کے ساتھ واسطہ پڑا۔ اگر آپ بیت اللہ کی طرف رخ کرتے تو بیت المقدّس پیٹھ کی طرف ہوتا اور اگر بیت المقدّس کی طرف رخ کرتے تو بیت اللہ پیچھے کی جانب ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں رسول کریم ﷺ کی تمنّا تھی کہ ہمارا قبلہ مرکز ابراہیمی یعنی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ اسی انتظار میں سولہ سترہ ماہ گزر گئے۔ اس دوران آپ کے اشتیاق اور اضطراب میں اضافہ ہی ہوتا رہا جس کی وجہ سے بسا اوقات آپ کا چہرہ بےساختہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 145: وَلَپنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ بِکُلِّ ٰایَۃٍ مَّاتَبِعُوْا قِبْلَتَکَ : (اگر آپ لے آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب دی گئی تو وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے) عنادی لوگ : اوتوا الکتب۔ وہ لوگ مراد ہیں جو حسد وعناد رکھتے ہیں ٰایۃ سے مراد قطعی دلیل کہ کعبہ کی طرف رخ نہ کرنا ہی برحق ہے۔ ماتَبِعُوا قبلتک وہ آپ کے قبلہ کی اتباع نہیں کرینگے کیونکہ انکا آپ کی اتباع نہ کرنا۔ کسی شبہ کی وجہ سے نہیں کہ جس کو دلیل سے زائل کردیا جائے۔ تو وہ ماننے لگیں بلکہ ترک اتباع محض حسد وعناد اور ضد کی وجہ سے ہے اسلئے کہ وہ آپ کی صفات اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔ جس سے آپ کا حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 145۔: (آیت)” ولئن الذین اوتوا الکتاب “ یہود و نصاری نے کہا اپنے دعوی پر آپ ﷺ کوئی نشانی لائیں ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” ولئن اتیت الذین اوتوا الکتاب بکل آیۃ “ یعنی معجزہ ” ماتبعوا قبلتک “ یعنی کعبہ شریف (آیت)” وما انت بتابع قبلتھم وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض “ کیونکہ یہود بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے اور وہ مغرب کی طرف تھا اور عیسائی مشرق کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور مسلمانوں کا قبلہ کعبہ مقدسہ تھا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ حضور اقدس ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا قبلہ مشرق ومغرب کے درمیان ہے، حضور اقدس ﷺ نے یہ فرمان اہل مشرق کے حق میں فرمایا ، مشرق سے حضور ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

جو شخص حقیقت میں حق پسند ہوتا ہے مگر کبھی کسی حق بات کے سمجھنے میں اس کو کوئی شبہ پڑجاتا ہے۔ تو جب اس کا وہ شبہ رفع ہوجاتا ہے تو پھر وہ شخص فوراً راہ راست پر آجاتا ہے۔ لیکن جب کوئی شخص ضد یا حسد سے حق بات کے سمجھنے کا سرے سے قصد ہی نہیں کرتا تو اس کا راہ راست پر آنا مشکل ہے۔ اہل کتاب کا کفر کسی شک و شبہ کے سبب سے نہیں تھا بلکہ وہ جس طرح غیر کی اولاد میں سے اپنی اولاد کو پہچان سکتے تھے۔ اسی طرح ان اوصاف سے جو ان کی کتابوں میں تھے نبی آخر الزمان کو پہچانتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس حد سے سے کہ نبی آخر الزمان ان کی قوم میں کیوں نہیں پیدا ہوئے اللہ کی کتاب کی آیتوں کو بدل ڈالا اور اسی ضد و حسد سے وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

نبی اکرم ﷺ مخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انہیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کردیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ومرسلین ( علیہ السلام) کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم وعدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انہی میں سے پہلے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کا جہالت کی بنا پر نہیں، بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 145–148

قول باری ہے : ولکل وجھۃ ھو مولیھا ( اور ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے جس کی طرف وہ مڑتا ہے) ایک قول کے مطابق اس کی تفسیر یہ ہے کہ ہر ایک کے لئے ایک قبلہ ہے۔ یہ بات مجاہد سے مروی ہے جس نے کہا ہے : ہر ایک کے لئے ایک طریقہ ہے یعنی اسلام جسے اللہ تعالیٰ نے بطور شریعت جاری کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور السدی سے منقول ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں سے ہر ملت کے لئے ایک طریقہ مقرر ہے حسن بصری نے کہا ہے کہ ہر نبی کے لئے طریقہ تو ایک ہے یعنی اسلام اگرچہ احکام مختلف ہیں جس طرح یہ قول باری ہے ( لکل جعلنا منکم شرعۃ و مھا جاً ( ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے) قتادہ نے کہا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

399 ہٹ دھرمی میں کوئی بھی نشانی کام نہیں آسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر آپ ان لوگوں کے سامنے ہر نشانی بھی لا کر رکھ دیں تو بھی انہوں نے آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کرنی۔ کیونکہ یہ لوگ ضد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں اور ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے، اور اس کی وجہ سے انسان قبول حق کی توفیق وسعادت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم اے مسلمانو ! ان سے کسی خیر کی کوئی امید اور توقع مت رکھو کہ ہٹ دھرمی میں کوئی بھی نشانی کام نہیں آسکتی کہ میں نہ مانوں (I Never Agree) کا کوئی علاج نہیں۔ سو ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حق سے اعراض و روگردانی دارین کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

اہل کتاب کی ہٹ دھرمی تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمار ہے ہیں کہ یہود اتنے ضدی، ہٹ دھرم اور نافرمان ہیں کہ آپ جو چاہے نشانیاں ان کو دکھا دیں یہ خانہ کعبہ کو ہرگز قبلہ نہ مانیں گے کیونکہ آپ ﷺ کو افضل ترین قبلہ دیا گیا ہے۔ جو آپکے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ ہے۔ اس لئے آپ اس پر ہمیشہ قائم رہیں بھلا آپ اپنے قبلہ سے کیونکر پھر سکتے ہیں اور پھر اللہ جل شانہ آپ ﷺ کو تنبیہہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ کو تو اصل قبلہ کا علم اللہ کی طرف سے ہوچکا ہے اس لئے آپ کو ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے قبلہ پر قائم رہیں۔ لیکن اگر خدا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–147

آیات 142- 147 اسرارو معارف کچھ بیت اللہ شریف کے بارے میں : یوں تو یہودونصاریٰ ہر طرح سے لاجواب ہوگئے مگر ان کے یہ اعتراضات کہ برحق نبی کو سمت قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کس چیز نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا اور کیا پہلا قبلہ درست نہ تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پہلی نمازیں کیا ہوئیں یا جو لوگ اس تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا ؟ یہ سوال کج فہموں کے ذہنوں سے چپک گئے۔ کج فہم اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر طبیعت میں راستی اور فہم میں درستی ہو تو لا یعنی باتیں اور فضول بحثیں طبعاً ناپسندیدہ ہوجاتی ہیں اور ذہن درست باتوں کو قبول کرتا ہے کہ راستی کا یہی خاصہ ہے۔ یہاں اللہ کریم نے ان تمام لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی وہ کعبہ کے قبلہ ہونے کو خوب جانتے ہیں مگر ان کا عباد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ آپ ﷺ کے قبلہ کو تسلیم نہیں کریں گے۔2 اور آپ بھی حکم وحی کے پابند ہونے کی وجہ سے ان کے قبلہ کو اختیار نہیں کرسکتے۔ (شوکانی)3 اور ان کے باہمی عباد کا یہ حال ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کو پسند نہیں کرتے۔ یہود صخرہ کی طرف رخ کرتے ہیں اور نصاری بیت المقدس کی مشرق جانب کی طرف۔ (قرطبی)4 اس کے مخاطب تو آنحضرت ﷺ ہیں مگر مراد امت ہے اگر ایک شخص علم دین ہو کر اہل بد عت وہوی کی پیرعی کرتا ہے تو اس پر بھی عتاب ہے ( ابن کثیر۔ قرطبی) پھر کیا حال ہوگا ان علماء کا جو اہل بدعت کی مخالفت کی بجائے ا ان کی محفلوں (عیدمیلاد النبی،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:145) ولئن۔ واؤ حرف عطف، جملہ کا عطف وان الذین پر ہے لام تمہید قسم کا ہے الموطئۃ للقسم اور ما تبعوا قبلتک جو اب قسم قائم مقام جواب شرط ہے۔ ان حرف شرط ہے (اور اگر آپ لے ہی آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب مل ہے تو وہ پیروی نہیں کریں گے آپ کے قبلہ کی۔ وما بعضھم بتابع قبلۃ بعض۔ جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور نہ ان میں سے بعض دوسروں کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اس وقت یہود و نصاری میں خود قبلہ کے متعلق اختلاف تھا۔ اگرچہ بیت المقدس کو دونوں قبلہ مانتے تھے لیکن عیسائی عبادت کے وقت اپنا رخ مشرق کی طرف کرتے تھے (بیت المقدس مدینہ منورہ سے جانب شمال ہے) ۔ علاوہ ازیں خود یہودیوں میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 142–147

لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147 ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : وہ باوجود نبی کے معجزات کے دیکھنے کے راہ راست پر نہیں آتے تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی تسکین کے لئے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کا کفر عنادی ہے ، ان کو سینکڑوں معجزے بھی دکھائے جاویں تو کچھ فائدہ نہیں ۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ حق بات کو سمجھیں اور راہ راست پر آجائیں اور کعبہ کو تسلیم کریں ۔ پھر فرمایا کہ تمہارا قبلہ خدا کی طرف ٹھہر چکا ہے اس واسطے تم بھی مثل سابق کے اب بیت المقدس کو قبلہ نہیں بنا سکتے۔ پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب ٹھہرا کر امت کے لوگوں کو تنبیہ کے یہ سنایا کہ اللہ کی طرف سے ایک حکم آجانے کے بعد اب اگر کوئی مسلمان شخص اہل کتاب کے بہکاوے میں آجائے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[95] یہود کا قبلہ بیت المقدس ہے اور نصاریٰ کسی عمارت یا مکان کو نہیں بلکہ سمت مشرق کو قبلہ بنائے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں فرمایا کہ یہودی باوجود جاننے کے اعتراض ضرور کریں گے وہ کسی بات پر مطمئن نہیں ہوں گے ، ان کی ذہنیت مسخ ہوچکی ہے اس لئے آپ ﷺ کی جماعت بلا کسی خدشہ کے حق کے تابع رہے اور ان کے شبہات اور اعتراضات کی جانب بالکل توجہ نہ کرے ، ورنہ خطرہ ہے کہ خدا کے ہاں ظالم نہ ٹھہرائے جائیں گے ، آیت کا خطاب گو حضور ﷺ سے ہے لیکن مراد عام مسلمان ہیں لیکن ان کا منصب انہیں ہر نافرمانی سے روکتا ہے ، وہ بحیثیت نبی ہونے کے خدا کی منشاء کے خلاف کوئی حرکت کر ہی نہیں سکتے ۔ (آیت) ” بل ھم عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون “۔ یعنی گروہ انبیاء خدا کا وہ نیک گروہ ہے جو اس کی مخالفت نہیں کرتا ، بلکہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 145–147

ف 2 اور اے پیغمبر ﷺ ان اہل کتاب کی ضد اور مخالفت کا یہ حال ہے کہ اگر آپ ان اہل کتاب کے روبرو ہر قسم کے تمام دلائل بھی پیش کردیں تب بھی یہ آپ کے قبلہ کو ماننے والے نہیں اور چونکہ آپ کا قبلہ اب ہمیشہ کے لئے کعبہ مقررہوچکا ہے تو آپ بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور ان اہل کتاب کی تو یہ حالت ہے کہ یہ آپس میں بھی ایک فریق دوسرے فریق کے قبلہ کو نہیں مانتا اور اے پیغمبر ﷺ اگر آپ نے اس بات کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح اور قطعی علم آچکا ہے خدانخواستہ کہیں ان اہل کتاب کی خواہشات نفسانی کا اتباع کیا تو یقینا آپ بھی اس وقت ظالموں میں شمار ہوں گے جن لوگوں کو ہم نے کتاب آسمانی عطا کی ہے وہ اس پیغمبر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لیے یہ امر کہ آپ ان کے خیالات کو کہ منجملہ ان کے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کرلیں محال ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب دلائل کے ماننے والے ہوتے تو ان کے پاس بھی موجود تھے : 267: پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اہل کتاب کے بغض و حسد کی یہ حالت ہے کہ اگر آپ ﷺ ان کے سامنے تمام دلائل پیش کردیں جس سے ثابت ہو کہ بیت اللہ ہی قبلہ اصل ہے پھر بھی وہ بیت اللہ کو قبلہ نہیں مانیں گے اور چونکہ آپ ﷺ کو بہترین مرکز نوازش کیا گیا ہے اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس ادنیٰ ترین قبلہ کی طرف متوجہ ہوں۔ ہم نے پوری دنیا کو بیت اللہ قبلہ بنا کر دکھا دیا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ اسلامی سیلاب کے سامنے سب خس و خاشاک کی طرح بہتے چلے جائیں گے ۔ بیت اللہ شریف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In continuing the discussion on the subject of the Qiblah قبلہ ، or the divinely-ordained orientation, the present verse provides yet another instance of the maliciousness of the People of the Book اھل کتاب . It is not that they demand solid and convincing arguments in order to be able to accept the new injunction with regard to the Qiblah قبلہ : it is sheer stubbornness which does not allow them to give their assent, and no proof in the world, declares the Holy Qur'an, is ever going to satisfy them. In fact, their two groups display an equal malice even towards each other - the Jews have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

147. The purpose of this verse is to ask the Prophet not to be disturbed by the controversy and remonstrance to which some people had resorted as a result of this change in the direction of Prayer. It was difficult to convince those people by argument, since they suffered from prejudices and intransigence and were unwilling to abandon their traditional qiblah. It was also impossible for the matter to be resolved by adopting the qiblah of any of the contending groups; there were various groups and they were not agreed in respect of the qiblah. If the qiblah of one group had been adopted this…

Read the full tafseer →