خشوع و خضوع ضروری ہے
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے حضور ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہاں کے اکثر باشندے یہود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھنے کا حکم دیا یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ آپ کئی ماہ تک اسی رخ نماز پڑھتے رہے لیکن خود آپ ﷺ کی چاہت قبلہ ابراہیمی کی تھی آپ اللہ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے بالاخر آیت (قد نری) الخ نازل ہوئی اس پر یہود کہنے لگے کہ اس قبلہ سے یہ کیوں ہٹ گئے جس کے جواب میں کہا گیا کہ مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور فرمایا جدھر تمہارا منہ ہو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے اور فرمایا کہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 146
یہ ہے وہ اصل حکم، جو تحویل قبلہ کے بارے میں دیا گیا تھا۔ یہ حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں نازل ہوا۔ ابن سعد کی روایت ہے کہ نبی ﷺ بِشْر بن براء بن مَعْرُور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ظہر کا وقت آگیا اور آپ لوگوں کو نماز پڑھانے کھڑے ہوئے۔ دو رکعتیں پڑھا چکے تھے کہ تیسری رکعت میں یکایک وحی کے ذریعے سے یہ آیت نازل ہوئی اور اسی وقت آپ اور آپ کی اقتدا میں جماعت کے تمام لوگ بیت المقدس سے کعبے کے رخ پھرگئے۔ اس کے بعد مدینہ اور اطراف مدینہ میں اس کی عام منادی کی گئی۔ بَراء بن عازب کہتے ہیں کہ ایک جگہ منادی کی آواز اس حالت میں پہنچی کہ لوگ رکوع میں تھے۔ حکم سنتے ہی سب کے سب اسی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ جو دل سے کعبہ کے قبلہ ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور امید وحی میں بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھتے ہیں کہ شاید فرشتہ حکم لے آوے سو) آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں (اور چونکہ ہمیں آپ کی خوشی پورا کرنا منظور ہے) اس لئے (ہم وعدہ کرتے ہیں کہ) آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کردیں گے جو آپ کو پسند ہے (لو پھر ہم حکم ہی دئیے دیتے ہیں کہ) اب سے اپنا چہرہ نماز میں مسجد حرام کی طرف کیا کیجئے اور (یہ حکم صرف آپ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ سب لوگ پیغمبر بھی اور امتی بھی) جہاں کہیں موجود ہو (خواہ مدینہ منورہ میں یا اور جگہ یہاں تک کہ خود بیت المقدس میں بھی) اپنے…
Read the full tafseer →قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا۔
عربی زبان کا ایک خاص اسلوب : یہاں عربی زبان کا ایک خاص اسلوب اچھی ذہن نشین کرلینا چاہیے وہ یہ کہ افعال ناقصہ کے صیغے عموما مضارع سے پہلے حذف کردیے جاتے ہیں مثلاً“ کان یفعل ”میں صرف یفعل کو کافی سمجھیں گے۔ کلام عرب اور قرآن مجید دونوں میں اس کی بکثر مثالیں ملتی ہیں۔ چند مثالیں ہم قرآن سے پیش کرتے ہیں۔ سورة ہود میں ہے فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هٰٓؤُلَاۗءِ ۭ مَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ (ھود :109) پس تم ان چیزوں سے شک میں نہ پڑو جن کو یہ پوجتے ہیں ؟ یہ ان…
Read the full tafseer →144۔ 1 اہل کتاب کے مختلف مقدس کتابوں میں خانہ کعبہ کے قبلہ آخر الانبیاء ہونے کے واضح اشارات موجود ہیں۔ اس لئے اس کا برحق ہونا انہیں یقینی طور پر معلوم تھا، مگر ان کا نسلی غرور و حسد قبول حق میں رکاوٹ بن گیا۔
Read the full tafseer →93: جب بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تو آنحضرت ﷺ کو یہ اندازہ تھا کہ یہ حکم عارضی ہے اور چونکہ بیت اللہ بیت المقدس کے مقابلے میں زیادہ قدیم بھی تھا اور اس سے حضرت ابراہیم ؑ کی یادیں بھی وابستہ تھیں، اس لئے آپ کی طبعی خواہش بھی یہی تھی کہ اسی کو قبلہ بنایا جائے، چنانچہ آنحضرت ﷺ قبلے کی تبدیلی کے انتظار اور اشتیاق میں کبھی کبھی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے تھے، اس آیت میں آپ کی اسی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔
94: یعنی اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قبلے کی تبدیلی کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بالکل برحق ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ؑ کو مانتے تھے اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت تھی…
Read the full tafseer →ہر کسی کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ، جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رخ (نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف پھیر دو ، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل برحق فیصلہ ہے ۔ اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔ اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رخ مسجد حرام کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت نہ رہے ۔ ہاں جو ظالم ہیں ان کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی تو ان سے تم نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ اور اس…
Read the full tafseer →7 چونکہ آپ کا اصلی قبلہ اور آپ کے کمالات کے مناسب خانہ کعبہ تھا اور سب قبلوں سے افضل اور حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کا بھی قبلہ وہی تھا ادھر یہود طعن کرتے تھے کہ یہ نبی شریعت میں ہمارے مخالف اور ملت ابراہیمی کے موافق ہو کر ہمارا قبلہ کیوں اختیار کرتے ہیں ان وجوہ سے جس زمانہ میں آپ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو دل یہی چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم آجائے اور اس شوق میں آسمان کی طرف منہ اٹھا کر ہر طرف کو دیکھتے تھے کہ شاید فرشتہ حکم لاتا ہو اس پر یہ آیت اتری اور استقبال کعبہ کا حکم آگیا۔
8 یعنی کعبہ کی طرف اور اسکو مسجد الحرام اس لئے کہتے ہیں کہ وہاں مقاتلہ کرنا اور شکار کرنا…
Read the full tafseer →آیت 144 قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ ج
معلوم ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کو تحویل قبلہ کے فیصلے کا انتظار تھا اور آپ ﷺ پر بھی یہ وقفہ شاق گزر رہا تھا جس میں نماز پڑھتے ہوئے بیت اللہ کی طرف پیٹھ ہو رہی تھی۔ چناچہ آپ کی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی تھیں کہ کب جبریل امین تحویل قبلہ کا حکم لے کر نازل ہوں۔
فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰٹہَاص
اس آیت میں ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے اللہ کی طرف سے بڑی محبت ‘ بڑی شفقت اور بڑی عنایت کا اظہار ہو رہا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے ساتھ بڑی محبت تھی ‘ اس کے ساتھ آپ ﷺ ‘ کا ایک رشتۂ قلبی تھا۔
فَوَلِّ وَجْہَکَ…
Read the full tafseer →179 کیونکہ ان کی کتابوں میں مذکور ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ عرب میں پیدا ہوں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے طریق پر ہوں گے اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں گے۔
Read the full tafseer →525 ۔ (انتظار وحی میں اے پیغمبر ! ) رسول اللہ ﷺ کو صحیح جذبہ دینی کے ماتحت اس کا یقین تھا کہ اب جب کہ امامت بنی اسرائیل سے چھن چکی ہے تو ان کا قبلہ بھی قبلہ امت نہیں رہ سکتا تحویل قبلہ کا حکم اب آکر رہے گا۔ اور فرشتہ وحی کے انتظار میں آپ کی نظر بار بار آسمان کی طرف بھی اٹھ جاتی تھی۔ یہاں اسی کیفیت کا بیان ہے۔ حق تعالیٰ اگرچہ ہرگز کسی جہت کا پابند، کسی مکان سے محدود نہیں، تاہم تجلیات خاصہ کو قرآن میں آسمان کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ اسی لیے محققین نے لکھا ہے کہ بوقت اضطرار ودعا آسمان کی طرف منہ کرنا موجبات قبول میں سے ہے، بلکہ اس نسبت علوی سے کمال یقین اور تصفیہ قلب میں اور مدد ملتی ہے۔ آیت ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
آیت نمبر 144 تا 147
ترجمہ : قد تحقیق کے لئے ہے، ہم آپ کے چہرے کو آسمان کی طرف وحی کی طلب اور استقبال کعبہ کے شوق میں بار بار اٹھتا ہوا دیکھ رہے ہیں، اور آپ (کعبہ) کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ (کعبہ) ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، اور اس لئے بھی کہ کعبہ کو قبلہ قرار دینا عربوں کو اسلام کی طرف بلانے میں زیادہ مؤثر (اپیل کرنے والا) تھا، سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیتے ہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں آپ اپنا رخ نماز میں مسجد حرام یعنی کعبہ کی جانب پھیر لیں اور (اے مسلمانو ! ) تم جہاں کہیں بھی ہو یہ امت کو خطاب ہے، اپنے چہرے کا (رخ) نماز میں اسی طرف کیا کریں اہل کتاب کو قطعی علم ہے کہ کعبہ…
Read the full tafseer →قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ( ہم دیکھ رہے ہیں آپ کے منہ کا آسمان کی طرف پھر پھرجانا) سرور عالم ﷺ کا دل اس بات کو چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوجائے کیونکہ وہ قبلہ ابراہیمی تھا نیز مشرکین کو ایمان کی طرف اور یہود کو مخالفت کی طرف زیادہ مائل کرنے والا تھا یہ آیت تحویل قبلہ کے قصہ کا ابتدائی حصہ ہے تلاوت میں اس کو مؤخر کردیا گیا ہے ہجرت کے بعد احکام شرعیہ میں سے اوّل جو حکم منسوخ ہوا وہ یہی قبلہ تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ ہجرت سے پہلے قبلہ بیت اللہ تھا یا بیت المقدس بعض کہتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف توجہ فرماتے تھے اور کعبہ بھی سامنے…
Read the full tafseer →(144) تبدیلی قبلہ کے لیے حضور اکرم ﷺ نے جو دعا فرمائی ہے، اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ ہم آسمان کی طرف آپ کی نظر اٹھانے کو دیکھ رہے ہیں، تاکہ جبریل امین ؑ آپ ﷺ پر تحویل قبلہ کا حکم لے کر آئیں، چناچہ ہم نماز ہی کے اندر میں آپ ﷺ کو ایسے قبلہ کی طرف یعنی قبلہ ابراہیم ؑ کی طرف جس کی آپ ﷺ پسند کرتے ہیں پھیر دیں گے ،
لہذا آپ ﷺ اپنے چہرہ کو نماز ہی کی حالت میں مسجد حرام کی طرف موڑ لیجیے اور خواہ تم خشکی میں ہو یا تری میں اپنے چہروں کو نماز میں اسی طرف پھیر لیں۔
اور اہل کتاب (یعنی یہودی) اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حرم محترم حضرت خلیل اللہ کا قبلہ ہے لیکن وہ اس چیز کو خفیہ رکھتے ہیں اور…
Read the full tafseer →(فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) یہ قبلہ بدلنے کا اصل حکم ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں پہلا نسخ قبلے کا ہے۔ [ ابن أبی حاتم عن ابن أبی طلحۃ، عن ابن عباس ؓ ] براء ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے سولہ یا سترہ ماہ نماز پڑھی اور آپ کو پسند یہ تھا کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو اور آپ نے پہلی نماز (بیت اللہ کی طرف) عصر کی نماز پڑھی۔ [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : (سیقول السفہاء۔۔) : 4486 ]
آپ ﷺ کو بیت اللہ کا قبلہ ہونا اس قدر پسند تھا کہ قبلہ بدلنے کی امید میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ واضح رہے کہ بیت المقدس شام میں ہے اور یہ مدینہ سے شمال کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 144
علماء نے فرمایا : یہ آیت، سیقول السفھاء کے قول پر نزول کے اعتبار سے مقدم ہے۔ تقلب وجھک کا معنی ہے : تیرا آسمان کی طرف اپنا چہرہ پھیرنا۔ یہ طبری کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : آسمان کی طرف آپ کی نظریں پھیرنا۔ دونوں معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ السماء کو ذکر کے ساتھ خاص فرمایا کیونکہ یہ جو چیز اس کی طرف منسوب ہوتی ہے اس کی تعظیم کے ساتھ مختص ہے اور آسمان سے نازل ہوتی ہے مثلاً بارش، رحمت اور وحی۔ ترضاھا یعنی آپ جس کو پسند کرتے ہیں۔ آپ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قد نریٰ تقلب وجھک فی السمآء۔
ابو اسحاق نے حضرت براء سے روایت کیا ہے،…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ماجہ نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف اٹھارہ مہینے نماز پڑھی اور آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے دو ماہ بعد کعبہ کی طرف قبلہ پھیرا گیا اور رسول اللہ ﷺ جب بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو اکثر اپنے چہرہ مبارک کو آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو نبی ﷺ کے دل کی کیفیت معلوم ہوئی کہ آپ کعبہ کی طرف رخ کرنا چاہتے ہیں جبرئیل اوپر جب چڑھتے تو رسول اللہ ﷺ ان کو دیکھتے رہتے جب وہ آسمان و زمین کے درمیان ہوتے تھے تو انتظار فرماتے ان کے حکم لانے کا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” قد نری تقلب وجھک فی السماء “ الایہ۔ رسول…
Read the full tafseer →(قَدْ نَرٰی : ہم نے دیکھا ہے) (تَقَلُّبَ وَجْھِکَ : آپ ﷺ کے چہرے کا پلٹنا) (فِی السَّمَآئِ : آسمان میں) (فَلَنُوَلِّیَنَّکَ : تو ہم لازماً پھیر دیں گے آپ ﷺ ‘ کو) (قِبْلَۃً : اس قبلہ کی طرف) (تَرْضٰٹھَا : آپ ﷺ راضی ہوں جس سے) (فَوَلِّ : پس آپ پھیریں) (وَجْھَکَ : اپنے چہرے کو) (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام کی طرف) (وَحَیْثُ مَا : اور جہاں کہیں بھی ) (کُنْتُمْ : تم لوگ ہو ) (فَوَلُّوْا : تو تم لوگ پھیرو) (وُجُوْھَکُمْ : اپنے چہروں کو ) (شَطْرَہٗ : اس کی طرف
وَاِنَّ الَّذِیْنَ : اور بیشک وہ لوگ جن کو) (اُوْتُوا الْکِتٰبَ : دی گئی کتاب) (لَــیَعْلَمُوْنَ : یقینا جانتے ہیں) (اَ نَّہُ…
Read the full tafseer →کعبہ شریف کی طرف رخ کرنے کا حکم اور آنحضرت ﷺ کو شدت سے اس کا انتظار
حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ جس زمانہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ سلام پھیر کر آسمان کی طرف (اس انتظار میں) منہ اٹھاتے کہ کعبہ شریف قبلہ مقرر کیا جائے۔ لہٰذا آیت (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ ) نازل ہوئی۔ علامہ واحد ی اسباب نزول ص 39 میں لکھتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود کے قبلہ سے ہٹا کر میرے لیے کوئی دوسرا قبلہ مقرر فرما دے اور مقصد یہ تھا کہ کعبہ شریف قبلہ مقرر ہوجائے کیونکہ وہ قبلہ ابراہیمی ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ…
Read the full tafseer →تحویل قبلہ کا حکیمانہ جواب۔
قال تعالی، قد نری تقلب وجھک فی السماء۔۔۔ الی۔۔۔ عما یعملون۔
گزشتہ آیات میں تحویل قبلہ پر شبہ کا حاکمانہ جواب تھا اور اب حکیمانہ جواب ارشاد فرماتے ہیں اور تحویل قبلہ کی حکمتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔
حکمت اول) ۔ رافت اور رحمت کی وجہ سے اگرچہ استقبال بیت المقدس میں بھی اجر کامل مل جائے مگر قبلہ کاملہ درحقیقت کعبہ معظمہ ہے اور کامل کا میلان طبعی کامل ہی کی طرف ہوتا ہے اس لیے آپ ﷺ بار بار آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تھے کہ شاید فرشتہ کامل قبلہ کے استقبال کا حکم لے کر نازل ہو چناچہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تحقیق ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ کے چہرہ کا بار بار وحی کے انتظار میں…
Read the full tafseer →277 آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ کعبہ کو آپ کا قبلہ بنادیا جائے کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا۔ نیز اہل عرب کے لیے اس میں زیادہ کشش تھی۔ اور انہیں اسلام سے قریب لانے کا ایک عمدہ ذریعہ تھا۔ اہل کتاب میں سے جنہوں نے ایمان لانا تھا وہ لا چکے تھے اور جو باقی تھے ان کے ایمان سے آپ مایوس تھے جسا کہ اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُۤوْمِنُوْا لَکُم الایۃ اور وَلَنْ تَرْضیٰ عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی الایۃ۔ سے واضح ہے اور آپ کو یہ توقع بھی کہ تحویل قبلہ ہوجائے گی۔ کیوں کہ اب دین کی امات وسیادت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔ اس لیے اب ضروری تھا کہ قبلہ وہی مقرر ہو۔ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
ربط آیات
بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ شریف کو قبلہ مقرر کرنے کی ایک وجہ یہ بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ امتحان لے کر ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ کون اللہ کے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون ہے جو تعصب اور عناد پر ٹھہرا رہتا ہے۔ چناچہ اہل کتاب اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔ کیونکہ وہ لوگ قتل انبیاء ، ضد اور عناد میں مبتلا تھے۔ انہوں نے اپنی کتابوں کو تبدیل کردیا تھا اور برائیوں میں منہمک ہوچکے تھے۔ وہ اگرچہ اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ مگر عملی طور پر ان میں نسبت کا شائبہ تک نہ تھا۔
تحویل قبلہ…
Read the full tafseer →قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْہِكَ فِي السَّمَاۗءِ 0 ۚ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَۃً تَرْضٰىھَا 0 ۠ فَوَلِّ وَجْہَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ 0 ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَہٗ 0 ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ 144
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ…
Read the full tafseer →ترکیب : نریٰ فعل مضارع ضمیر نحن اس کا فاعل تقلب الخ مفعول فی السماء متعلق ہے تقلب کے نولین فعل بافاعل کے مفعول اول قبلۃ موصوف ترضہا صفت مجموعہ مفعول ثانی وَلَّ فعل انت ضمیر فاعل کی اس میں مستقر اس کا فاعل وجہک مفعول اول شطر الخ مفعول ثانی حیث ظرف ہے۔ فولوا الخ کا من ربہم موضع نصب میں بوجہ حال ہونے کے۔
تفسیر : جب خدا تعالیٰ قبلہ کے بارے میں مخالفوں کے شکوک و شبہات رد کرچکا اور یہ بات بھی بتلا چکا کہ چند روز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ایک امتحان اور سرباطنی کے لیے تھا اور دراصل ہمیشہ کے لیے قبلہ کعبہ ہی ہونا چاہیے تھا ( ان اسرار کی وجہ سے کہ جن کا ذکر اوپر ہوا) تو اب اس آیت سے پیشتر…
Read the full tafseer →قَدْنَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِیْ السَّمَآئِ ج فَلَنُوَلِّیَنَّـکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا ص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّـہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 144)
(ہم دیکھتے رہے ہیں آسمان کی طرف آپ کے چہرے کے باربار اٹھنے کو، سو ہم پھیرے دیتے ہیں آپ کو اسی قبلے کی طرف جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ پس پھیر دیجئے اپنا رخ مسجد حرام کی طرف، اب جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنے رخ اسی کی طرف کروجن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–145
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
بیت اللہ میں رسول محترم ﷺ نماز کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے کہ بیک وقت آپ کا رخ بیت اللہ اور بیت المقدس کی جانب ہوا کرتا تھا۔ جب ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو وہاں متضاد جوانب کے ساتھ واسطہ پڑا۔ اگر آپ بیت اللہ کی طرف رخ کرتے تو بیت المقدّس پیٹھ کی طرف ہوتا اور اگر بیت المقدّس کی طرف رخ کرتے تو بیت اللہ پیچھے کی جانب ہوتا تھا۔ اس صورت حال میں رسول کریم ﷺ کی تمنّا تھی کہ ہمارا قبلہ مرکز ابراہیمی یعنی بیت اللہ ہونا چاہیے۔ اسی انتظار میں سولہ سترہ ماہ گزر گئے۔ اس دوران آپ کے اشتیاق اور اضطراب میں اضافہ ہی ہوتا رہا جس کی وجہ سے بسا اوقات آپ کا چہرہ بےساختہ…
Read the full tafseer →توقع رسول اللہ ﷺ :
144 : قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِ : (ہم دیکھ رہے ہیں آپ کے منہ کا آسمان کی طرف بار بار پھرنا) تقلبؔ کا معنی بار بار چہرے کا لوٹانا۔ اور نگاہ کا آسمان کی طرف پھیرنا۔
رسول اللہ ﷺ اپنے رب سے توقع رکھتے تھے۔ کہ وہ آپ کا رخ کعبہ کی طرف ابراہیم ( علیہ السلام) کی موافقت اور یہود کی مخالفت میں پھیر دیں گے۔ اسلئے کہ آپ اہل عرب کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور کعبہ اہل عرب کیلئے باعث فخر زیارت گاہ اور طواف کا مقام تھا۔
فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا : (بس ضرور پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں)
فلنولینک کا معنی۔ نمبر 1۔ ضرور ہم آپ کو اس…
Read the full tafseer →(تفسیر) 144۔: (آیت)” قدنری تقلب وجھک فی السمائ “ یہ آیت کریمہ اگرچہ تلاوت میں بعد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے مقدم ہے کیونکہ یہ آیت قصہ کا آغاز ہے ، تحویل قبلہ پہلا وہ معاملہ ہے جو شرع شریف میں منسوخ ہوا اور یہ اس طرح کہ حضور اقدس ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے جب آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم فرمایا کہ صخرہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں تاکہ یہ امر یہود کا حضور ﷺ کی تصدیق کرنے کے زیادہ قریب ہوجائے ، کیونکہ جب آپ ﷺ ان کے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھیں گے تو آپ ﷺ کا یہ عمل…
Read the full tafseer →شطر کے معنی جہت کے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس سے اس تفسیر میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے خاص کعبہ مسجد الحرام ہے اور جہت حرم سب روائے زمین کے رہنے والوں کا قبلہ ہے۔ 1۔ امام ابوحنیفہ (رح) امام مالک (رح) اور امام احمد (رح) کا مذہب اسی حدیث کے موافق ہے۔ بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس کی سند کو ضعیف بتلایا ہے۔ لیکن یہ حدیث کئی سندوں سے روایت کی گئی جیسے ایک سند کو دوسری سند سے قوت ہوجاتی ہے۔ اس لئے تین اماموں نے اپنے مذہب کا مدار اس حدیث پر رکھا ہے۔ صحیح بخاری صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حالت سفر میں نفل نماز سواری پر جدہر سواری کا منہ ہو ادھر ہوجاتی ہے۔ 2۔…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : (آیت) قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ۚ ” ہم تمہارا آسمان یک طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ “ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں ناول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے (آیت) وجھک۔ ارشاد فرمایا ہے (بصرک) نہیں، کیونکہ اس سے نبی ﷺ کے فکر و غم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔” سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔ “ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لئے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے (آیت) قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠” اس قبلہ…
Read the full tafseer →استقبال قبلہ پر بحث
قول باری ہے : قد نری تقلب وجھک فی السماء فلنو لینک قبلۃ ترضھا ( یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں، لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو) ایک قول کے مطابق تقلب کے معنی تحول ( بار بار پھرنے) کے ہیں۔ حضور ﷺ آسمان کی طرف بار بار اپنا چہرہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے ساتھ تحویل قبلہ کا وعدہ کرلیا گیا تھا۔ اس لئے آپ ﷺ اس سلسلے میں وحی کے منتظر تھے اور اللہ سے اس کی درخواست کرتے تھے۔ اس لئے آپ ﷺ کو اپنا چہرہ مبارک بار بار آسمان کی طرف کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ انبیاء (علیہم السلام) اللہ کی طرف سے اجازت کے بعد ہی اس سے درخواست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–144
389 بہترین امت کیلئے بہترین قبلہ : یعنی جس طرح ہم نے تمہیں ایسے بہترین قبلے سے نوازا، جو اپنے موقع و محل کے لحاظ سے بھی بےمثل ہے، اور ان انوار و برکات کے اعتبار سے بھی، جو کہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے برابر اس پر برستی رہتی ہیں۔ اسی طرح ہم نے تم کو بھی افراط وتفریط کی ان انتہاؤں سے بچا کر ایک وسط و معتدل اور بہترین امت بنایا ہے، جن میں دوسری بہت سی قومیں مبتلا ہوئی ہیں تاکہ تم ان انتہاؤں سے محفوظ رہو جن میں یہود و نصاری وغیرہ کی دوسری اقوام مبتلا ہو کر راہ راست سے بھٹک گئیں، اور اس طرح وہ صراط مستقیم کی سعادت سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو ہم نے تمہیں کرم…
Read the full tafseer →تحویل قبلہ
تشریح : تحویل قبلہ کا حکم رجب یا شعبان 2 ہجری میں اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ حضرت بشر بن براء بن معرور کے ہاں مدعو تھے وہیں پر ظہر کی نماز شروع کروائی تھی ابھی دو رکعت ادا کی تھیں کہ وحی کے ذریعے مذکورہ آیت نازل ہوئی جس پر تمام نمازیوں نے آپ کی پیروی کرتے ہوئے کعبہ کی طرف منہ پھیرلیا اور باقی دورکعتیں مسجد حرام کی طرف منہ کرکے ادا کیں۔ مسجد حرام یعنی حرمت والی مسجد اس کے اندر ہی خانہ کعبہ واقع ہے اس کے چاروں طرف بڑے بڑے دالان ہیں، اکتالیس دروازے، چھ مینار اور 150 سے زیادہ گنبد ہیں۔ یہاں جنگ کرنا اور شکار کرنا حرام ہے یہ امن کی جگہ ہے۔ اصل میں یہود و نصاریٰ کے نکتہ چینی اور مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
آیات 142- 147
اسرارو معارف
کچھ بیت اللہ شریف کے بارے میں :
یوں تو یہودونصاریٰ ہر طرح سے لاجواب ہوگئے مگر ان کے یہ اعتراضات کہ برحق نبی کو سمت قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کس چیز نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا اور کیا پہلا قبلہ درست نہ تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پہلی نمازیں کیا ہوئیں یا جو لوگ اس تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا ؟
یہ سوال کج فہموں کے ذہنوں سے چپک گئے۔ کج فہم اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر طبیعت میں راستی اور فہم میں درستی ہو تو لا یعنی باتیں اور فضول بحثیں طبعاً ناپسندیدہ ہوجاتی ہیں اور ذہن درست باتوں کو قبول کرتا ہے کہ راستی کا یہی خاصہ ہے۔
یہاں اللہ کریم نے ان تمام لوگوں…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی تمہیں دونوں قبلوں کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ (ابن کثیر) بخاری میں حضرت براء ؓ عہ بن عازب اور ترمذی ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تحویل پر مسلمان ان لوگوں کو متعلق تشویش میں پڑگئے جو اس سے قبل وفات پاچکے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کو تسل دی۔ (ابن کثیر) نماز، نیت، قول اور عمل جو ارح پر مشتمل ہے اور ان تینوں کے مجموعہ کا نام ایمان سے اس لیے نماز کو ایمان فرمایا۔ (قرطبی)8 یہ تحویل قبلہ کا صل حکم ہے مکہ میں تو آنحضرت ﷺ دونوں رکنوں کے درمیان کھڑے ہو کر صخرہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے اس طرح نماز پڑھتے رہے کہ کعبہ بھی سامنے ہوتا اور دونوں طرف رخ ہوجاتا…
Read the full tafseer →(2:144) قد نری۔ ہم دیکھ رہے ہیں۔۔ قد جب مضارع پر داخل ہو تو علاوہ دیگر معانی کے تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے۔ آیہ ہذا میں صاحب کشاف نے قد نری کے معانی ربما نری ہم اکثر دیکھتے ہیں لکھا ہے۔ نری۔ رؤیۃ (باب فتح) سے۔ مضارع کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ ہم دیکھتے ہیں۔
تقلب۔ تفعل کے وزن پر مصدر ہے۔ پھر پھرجانا۔ پھرنا۔ مضاف ہے۔ وجھک مضاف ، مضاف الیہ مل کر تقلب کے جملہ تقلب رجھک فی السمائ۔ مفعول ہے قد نری کا۔
فلنو لینک۔ فاء سببیہ ہے۔ ماقبل مابعد کا سبب ہے یعنی بہ سبب آپ کے بار بار آسمان کی طرف منہ اٹھانے کے (برائے تحویل قبلہ) ہم ضرور پھیر دیں گے۔ لام تاکید کا ہے اور نولین مضارع تاکید بانون ثقیلہ بصیغہ جمع متکلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147
ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو…
Read the full tafseer →تبدیلی قبلہ کا ذکر شان نزول : سید عالم ﷺ کو کعبہ کا قبلہ بنایا جانا پسند خاطر تھا ، اور آنحضرت ﷺ اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف پھرگئے ۔ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اسی طرف رخ کیا ۔ توریت میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف کے سلسلہ میں یہ بھی مذکور تھا کہ آپ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھریں گے اور ان کے انبیاء نے بشارتوں کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ نشان بتایا تھا کہ آپ بیت المقدس وکعبہ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔ مسائل القرآن : صحیح بخاری ، صحیح مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ حالت سفر میں نفل نماز سواری پر جدھر سواری کا منہ ہو…
Read the full tafseer →[90] جب تک بنی اسرائیل کی امامت قائم رہی قبلہ بیت المقدس رہا۔ لیکن جب دعوت حق کا مرکز خانہ کعبہ قرار پایا تو ناگزیر ہوگیا کہ وہی قبلہ بھی قرار پائے اس لئے رسول اللہ ﷺ کو یقین تھا کہ تحویل قبلہ کا حکم اب
ضرور آئے گا چناچہ فرشتہ وحی کے انتظار میں آپ کی نظر بار بار آسمان کی طرف اٹھ جاتی تھی۔ یہاں اسی کیفیت کا بیان ہے۔
[91] یہ وعدہ ہے تحویل قبلہ کا۔ یہ جو فرمایا کہ ہم تم کو اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے تم چاہتے ہو اس سے رسول اللہ ﷺ کی کمال رفعت مراتب و بلندی درجات ظاہر ہے۔ کیا ٹھکانا ہے اس مرتبہ کا کہ مولا خود رضائے عبد کا احساس فرمائے۔
[92] مسجد حرام یعنی عزت و حرمت والی مسجد۔ اس سے مراد مکہ…
Read the full tafseer →ملکہ نبوت :
(ف 1) ان آیات میں بتایا کہ تحویل قبلہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تم (یعنی حضور ﷺ یہی چاہتے تھے ہم نے تمہاری رضا مندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے قبلہ بدل دیا ، بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) میں ایک ملکہ نبوت ہوتا ہے جو پہلے سے موجود رہتا ہے اور جس کی روشنی سے انبیاء (علیہم السلام) استفادہ کرتے ہیں ، یہ سراج نبوت ان کے دماغ میں ہر وقت روشن رہتا ہے ۔
صحف انبیاء اور قبلہ :
(ف 2) اس آیت میں ” تحویل قبلہ “ کو حق کہا ہے اور فرمایا ہے اہل کتاب اس کو جانتے ہیں لیکن انہیں یہ منظور نہیں کہ بیت المقدس کی تقدیس چھین کر بیت اللہ کو دے دی جائے بائیبل میں ” شوکت کا گھر “ بیت الحرام کا ٹھیٹھہ ترجمہ…
Read the full tafseer →ف 1 اور اے نبی ؐ ہم آپ کا وحی کے انتظار میں باربار اپنے منہ کو آسمان کی طرف پھیرنا اور منہ اٹھا اٹھا کر دیکھنا ملاحظہ فرما رہے ہیں لہٰذا آپ اطمینان فرمائیے کہ ہم آپ کو اسی قبلہ کی جانب پھیر دیں گے اور متوجہ ہونیکا حکم دیدیں گے جس قبلہ کو آپ پسند کرتے ہیں سو اب آپ اپنا منہ مسجد حرام کی جانب پھیر لیجئے اور مسجد حرام کی جانب منہ کرکے نماز پڑھا کیجئے اور تم سب یعنی مسلمان اور پیغمبر جہاں کہیں بھی ہو آئندہ نماز میں اپنا منہ مسجد حرام کی ہی جانب کیا کرو اور یہ اہل کتاب عام طور سے ا س بات کو جانتے ہیں کہ یہ کعبہ کو قبلہ معین و مقرر کرنیکا حکم بالکل صحیح، ٹھیک اور ان کے رب کی جانب سے نازل شدہ ہے اور…
Read the full tafseer →ف 2۔ اس آیت سے بیت المقدس کا منسوخ کرنا اور کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا منظور ہے حاصل حکمت کا یہ ہے کہ ہم کو آپ کی خوشی منظور تھی اور آپ کی خوشی کعبہ کے قبلہ مقرر ہونے میں دیکھی۔ اس لیے اسی کو قبلہ مقرر کردیا رہا یہ کہ آپ کی خوشی اس میں کیوں تھی وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی علامات نبوت میں سے ایک علامت نبوت میں سے ایک علامت یہ بھی تھی کہ آپ کے قبلہ کی یہ جہت ہوگی اللہ نے آپ کے نورانی قلب میں اسی کے موافق خواہش پیدا کردی۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ وہی چاہتے تھے جو رضائے الٰہی ہوتی :
264: رسول اللہ ﷺ کو جذبہ دین کے ماتحت اس کا یقین تھا کہ اب جب کہ امامت بنی اسرائیل سے چھن چکی ہے تو ان کا قبلہ بھی قبلہ امت نہیں رہ سکتا ، تحویل قبلہ کا حکم اب آکر رہے گا۔ اور وحی الٰہی کے انتظار میں آپ ﷺ کی نظر بار بار آسمان کی طرف بھی اٹھ جاتی تھی۔ اس جگہ اسی کیفیت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ بیشک کسی جہت کا پابند اور کسی مکان میں محدود نہیں تاہم تجلیات خاصہ کو قرآن کریم میں آسمان کی جانب منسوب کیا گیا ہے۔ گویا آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ حیران ومضطرکیوں ہوتے ہیں ہم نے خوب دیکھ لیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ کی خواہش کیا ہے ؟ ” یقین جانو ہم…
Read the full tafseer →The orientation to Qiblah قبلہ
This verse begins by speaking of how deeply the Holy Prophet ﷺ ،; wished that the Ka'bah کعبہ be appointed as the Qiblah قبلہ of the Muslims. This inclination has been explained in different ways, but there is no real contradiction involved in these different views. For example, it has been said that before prophethood was conferred on him, he used to follow, out of the impulsion of his own nature, the way of Sayyidna Ibrahim ؓ (Araham) , and that when he began to receive the Revelation, the Holy Qur'an itself designated his Shari'ah as being in total accord…
Read the full tafseer →146. This is the injunction concerning the change in the direction of Prayer and was revealed in Rajab or Sha'ban. 2 A.H. According to a Tradition in the Tabaqat of Ibn Sa'd, the Prophet was at the house of Bishr b. Bara'b. Ma'rur where he had been invited to a meal. When the time of zuhr prayer came, the Prophet rose to lead it. He had completed two rak'ahs and was in the third when this verse was suddenly revealed. Soon after the revelation of this verse everybody, following the leadership of the Prophet, turned the direction of Prayer away from Jerusalem to the Ka'bah. A public…
Read the full tafseer →