Al-Baqara 2:143

Al-Baqara · from ayah 143

2:143

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا ؕ— وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْهِ ؕ— وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ ؕ— وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِىۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَآ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ‌ؕ وَاِنۡ كَانَتۡ لَكَبِيۡرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus we have made you a just community that you will be witnesses over the people and the Messenger will be a witness over you. And We did not make the qiblah which you used to face except that We might make evident who would follow the Messenger from who would turn back on his heels. And indeed, it is difficult except for those whom Allah has guided. And never would Allah have caused you to lose your faith. Indeed Allah is, to the people, Kind and Merciful.

— Saheeh International

Juz 2 · Ruku 17 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:143

اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک "امت وسط" بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو پہلے جس طرف تم رخ کرتے تھے، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ اور رسول ﷺ تم پر گواه ہوجائیں، جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے (ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے اور جس قبلے پر تم پہلے کار بند تھے، اسے ہم نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رسول کا حکم مانتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے ؟ اور اس میں شک نہیں کہ یہ بات تھی بڑی مشکل، لیکن ان لوگوں کے لیے (ذرا بھی مشکل نہ ہوئی) جن کو اللہ نے ہدایت دے دی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو ضائع کردے۔ درحقیقت اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بات یوں ہی ہے کہ ہم نے تمہیں کیا سب امتوں میں افضل، کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ اور اے محبوب! تم پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور بیشک یہ بھاری تھی مگر ان پر، جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور اللہ کی شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے بیشک اللہ آدمیوں پر بہت مہربان، رحم والا ہے۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تمہیں (اعتدال والی) بہتر امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور (ہمارا یہ برگزیدہ) رسول ﷺ تم پر گواہ ہو، اور آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم (پرکھ کر) ظاہر کر دیں کہ کون (ہمارے) رسول ﷺ کی پیروی کرتا ہے (اور) کون اپنے الٹے پاؤں پھر جاتا ہے، اور بیشک یہ (قبلہ کا بدلنا) بڑی بھاری بات تھی مگر ان پر نہیں جنہیں اﷲ نے ہدایت (و معرفت) سے نوازا، اور اﷲ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان (یونہی) ضائع کردے، بیشک اﷲ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے اور ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا، مقرر نہیں کیا تھا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اس رسول کی پیروی کرتا ہے، اس سے (جدا کر کے) جو اپنی دونوں ایڑیوں پر پھرجاتا ہے اور بلاشبہ یہ بات یقینا بہت بڑی تھی مگر ان لوگوں پر جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور اللہ کبھی ایسا نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کر دے۔ بیشک اللہ لوگوں پر یقینا بےحد شفقت کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسی طرح (اے مسلمانو !) ہم نے تمہیں امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول (محمد ﷺ تم پر گواہ ہو اور ہم نے آپ کے لیے پہلا قبلہ (بیت المقدس) صرف اس لیے بنایا تھا کہ ہمیں معلوم ہو کہ کون ہے جو رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے۔ یہ قبلہ کی تبدیلی ایک مشکل۔ سی بات تھی مگر ان لوگوں کے لیے (چنداں مشکل نہیں) جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ وہ تو لوگوں کے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک بیچ کی امت بنایا تکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے۔ اور جس قبلہ پر تم تھے ہم نے اس کو صرف اس لیے ٹھہرایا تھا کہ ہم الگ کردیں ان لوگوں کو جو رسول کی پیروی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے جو پیٹھ پیچھے پھرجانے والے ہیں۔ بیشک یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ ہدایت نصیب کرے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنا چاہے، اللہ تو لوگوں کے ساتھ بڑا مہربان اور رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک توسط (و اعتدال) والی امت بنایا، تاکہ تم باقی لوگوں پر گواہ ہوؤ، اور (تمہارے) رسول تم پر گواہ ہوں، اور ہم نے نہیں بنایا اس قبلہ کو (آپ کا قبلہ اے پیغمبر !) جس پر آپ (اس سے کچھ عرصہ کے لئے) تھے، مگر (اس لئے کہ) تاکہ ہم دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے، اور کون (اس راہ سے) الٹے پاؤں پھرجاتا ہے، اور بیشک (تحویل قبلہ کا) یہ معاملہ بڑا ہی بھاری ہے، مگر ان لوگوں پر، جن کو اللہ نے ہدایت (کے اطمینان بخش نور) سے نوازا ہوتا ہے، اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کر دے تمہارے ایمان کو بیشک اللہ (تعالیٰ) لوگوں پر بڑا ہی شفقت فرمانے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح ہم نے تمہیں۔ ایک امت عادل بنادیا ہے۔ تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر۔ اور رسول گواہ رہیں تم پر۔ اور جس قبلہ پر آپ (اب تک) تھے۔ اسے تو ہم نے اسی لئے رکھا تھا کہ ہم پہچان لیں رسول کا اتباع کرنے والوں کو الٹے پاؤں واپس چلے جانے والوں سے۔ اور یہ (حکم) بہت گراں ہے مگر ان لوگوں کو نہیں جنہیں اللہ نے راہ دکھا دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع ہوجانے دے تمہارے۔ ایمان کو اور اللہ تو لوگوں پر بڑا شفیق ہے بڑا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے مسلمانو !) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہو اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر (اے نبی !) آپ پہلے تھے مگر یہ جاننے کے لیے (یہ ظاہر کرنے کے لیے) کہ کون رسول ﷺ کا اتباع کرتا ہے اور کون پھرجاتا ہے الٹے پاؤں ! اور یقیناً یہ بہت بڑی بات تھی مگر ان کے لیے (دشوار نہ تھی) جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ہرگز تمہارے ایمان کو ضائع کرنے والا نہیں ہے یقیناً اللہ تعالیٰ انسانوں کے حق میں بہت ہی شفیق اور بہت ہی رحیم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”امت وسط“ بنایا ہے، تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول ﷺ تم پر گواہ ہوں اور ہم نے وہ قبلہ نہیں مقرر کیا تھا جس پر تو پہلے تھا۔ مگر اس واسطے کہ معلوم کریں۔ کون رسول کا تابع رہے گا اور کون الٹے پاؤں پھر جائے گا یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت، مگر ان لوگوں کے لئے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہرگز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus have We made you a Community of the "Golden Mean" so that you may be witnesses in regard to mankind and the Messenger may be a witness in regard to you. We had appointed the former giblah towards which you used to turn your face merely to test who would follow the Messenger and who would turn back. It was indeed a hard test but not for those who had been blessed with Guidance from Allah. Allah will not let go to waste this faith of yours; rest assured that He is full of pity and mercy for mankind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In the same way We made you a moderate Ummah (community) , so that you should be witnesses over the people, and the Messenger a witness to you. And We did not prescribe the Qiblah which you used to observe except to know the one who follows the Messenger as distinct from the one who turns on his heels. It was burdensome indeed, but not on those whom Allah guided. Allah will not allow your faith go to waste. Certainly Allah is very kind, very merciful to the people.

— Muhammad Taqi Usmani

In the same way We made you a moderate Ummah (community) , so that you should be witnesses over the people, and the Messenger a witness to you. And We did not prescribe the Qiblah which you used to observe except to know the one who follows the Messenger as distinct from the one who turns on his heels. It was burdensome indeed, but not on those whom Allah guided. Allah will not allow your faith go to waste. Certainly Allah is very kind, very merciful to the people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus We have made you [true Muslims ـ real believers of Islamic Monotheism, true followers of Prophet Muhammad and his Sunnah (legal ways)], a Wasat (just and the best) nation, that you be witnesses over mankind and the Messenger (Muhammad) be a witness over you. And We made the Qiblah which you used to face, only to test those who followed the Messenger (Muhammad) from those who would turn on their heels (i.e., disobey the Messenger). Indeed it was great (heavy, difficult) except for those whom Allah guided. And Allah would never make your faith (prayers) to be lost (i.e., your prayers offered towards Jerusalem). Truly, Allah is full of kindness, the Most Merciful towards mankind.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus We have appointed you a middle nation, that ye may be witnesses against mankind, and that the messenger may be a witness against you. And We appointed the qiblah which ye formerly observed only that We might know him who followeth the messenger, from him who turneth on his heels. In truth it was a hard (test) save for those whom Allah guided. But it was not Allah's purpose that your faith should be in vain, for Allah is Full of Pity, Merciful toward mankind.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus we have made you a just community that you will be witnesses over the people and the Messenger will be a witness over you. And We did not make the qiblah which you used to face except that We might make evident who would follow the Messenger from who would turn back on his heels. And indeed, it is difficult except for those whom Allah has guided. And never would Allah have caused you to lose your faith. Indeed Allah is, to the people, Kind and Merciful.

— Saheeh International

We have made you (true Muslims) a moderate nation so that you could be an example for all people and the Prophet an example for you. The direction which you had been facing during your prayers (the qibla) was only made in order that We would know who would follow the Messenger and who would turn away. It was a hard test but not for those to whom God has given guidance. God did not want to make your previous prayers worthless; God is Compassionate and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And thus We have made you a medium (just) nation that you may be the bearers of witness to the people and (that) the Apostle may be a bearer of witness to you; and We did not make that which you would have to be the qiblah but that We might distinguish him who follows the Apostle from him who turns back upon his heels, and this was surely hard except for those whom Allah has guided aright; and Allah was not going to make your faith to be fruitless; most surely Allah is Affectionate, Merciful to the people.

— Muhammad Habib Shakir

And in this wise We have made you a community justly balanced, that ye may be witness against the man kind and that the apostle may be in regard to you a witness. And We appointed not the Qiblah which thou hast had save in order that We might know him who followeth the apostle from him who turnoth back upon his heels. And of a surety the change is grievous save unto those whom Allah hath guided. And Allah is not one to let your faith go wasted; verily Allah is unto mankind Tender, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus, have We made of you an Ummat justly balanced, that ye might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves; and We appointed the Qibla to which thou wast used, only to test those who followed the Messenger from those who would turn on their heels (From the Faith). Indeed it was (A change) momentous, except to those guided by Allah. And never would Allah Make your faith of no effect. For Allah is to all people Most surely full of kindness, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:143

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہےحضور ﷺ اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے اور صلوۃ وسطی یعنی افضل تر نماز جو عصر ہے جیسے صحیح احادیث سے ثابت ہے اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلی تھی اس لئے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا (هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 144 یہ اُمّتِ محمد ﷺ کی امامت کا اعلان ہے۔ ”اسی طرح“ کا اشارہ دونوں طرف ہے اللہ کی اس رہنمائی کی طرف بھی، جس سے محمد ﷺ کی پیروی قبول کرنے والوں کو سیدھی راہ معلوم ہوئی اور وہ ترقی کرتے کرتے اس مرتبے پر پہنچے کہ ”اُمّتِ وَسَط“ قرار دیے گئے، اور تحویل قبلہ کی طرف بھی کہ نادان اسے محض ایک سَمْت سے دوسری سَمْت کی طرف پھرنا سمجھ رہے ہیں، حالانکہ دراصل بیت المقدس سے کعبے کی طرف سَمْت قبلہ کا پھرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو دنیا کی پیشوائی کے منصب سے باضابطہ معزول کیا اور اُمّتِ محمدیہ کو اس پر فائز کردیا۔ ”اُمتِ وَسَط“ کا لفظ اس قدر وسیع معنویت اپنے اندر رکھتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (اے متبعان محمد ﷺ اسی طرح ہم نے تم کو ایسی ہی ایک جماعت بنادی ہے جو (ہر پہلو سے) نہایت اعتدال پر ہے تاکہ (دنیا میں شرف و امتیاز حاصل ہونے کے علاوہ آخرت میں بھی تمہارا بڑا شرف ظاہر ہو کہ) تم (ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء (علیہم السلام) ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالف قومیں ہوں گی ان مخالف) لوگوں کے مقابلہ میں گواہ (تجویز) ہو اور (شرف بالائے شرف یہ ہوا کہ) تمہارے (قابل شہادت اور معتبر ہونے کے) لئے رسول اللہ ﷺ گواہ ہوں (اور اس شہادت سے تمہاری شہادت معتبر ہونے کی تصدیق ہو پھر تمہاری شہادت سے اس مقدمہ کا حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں فیصلہ ہو اور مخالفین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

كَذٰلِكَ کا اشارہ اوپر والے معاملہ کی طرف ہے یعنی جس طرح ہم نے قبلہ کے معاملہ میں یہود و نصاریٰ کے پیدا کردہ پیچ و خم اور مشرق و مغرب کے چکر سے تمہیں نکال کر صراط مستقیم کی طرف تمہاری رہنمائی کی، اسی طرح ہم نے تم کو یہودیت اور نصرانیت کی پگڈنڈیوں سے بچا کر دین کی بیچ شاہراہ پر قائم رہنے والی امت بنایا تاکہ رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دیں اور تم خلق خدا پر اللہ کے دین کی گواہی دو۔“ امت وسط ”: وَسَط لفظ وَلَد کی طرح مذکر اور مونث، واحد اور جمع سب کے لیے آتا ہے، اس کے معنی ہیں وہ شے جو دو طرفوں کے درمیان بالکل وسط میں ہو۔ یہیں سے اس کے اندر بہتر ہونے کا مفہوم پیدا ہوگیا اس لیے کہ جو شے دو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

143۔ 1 وسط کے لغوی معنی تو درمیان کے ہیں لیکن یہ بہتر اور افضل کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی جس طرح تمہیں بہتر قبلہ عطا کیا گیا اسی طرح تمہیں سب سے افضل امت بھی بنایا گیا اور مقصد اس کا یہ ہے کہ تم لوگوں پر گواہی دو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے (لِیَکُون الرَّسُولُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْ اشُھَدَآ ءَ عَلَی النَّاسِ) 22:28 رسول تم پر اور تم لوگوں پر گواہ ہو اس کی وضاحت بعض احادیث میں اس طرح آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ پیغمبروں سے قیامت والے دن پوچھے گا کہ تم نے میرا پیغام لوگوں تک پہنچایا تھا وہ ہاں میں جواب دیں گے ٫ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

90: یعنی جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں دوسری جہتوں کو چھوڑ کر کعبہ کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا اور تمہیں اسے دل وجان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن امت بنایا ہے (تفسیر کبیر) چنانچہ اس امت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیام قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکیں، معتدل امت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس امت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کرام کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب روئے سخن امت مسلمہ کی طرف ہوجاتا ہے ۔ اے بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات میں وہ کس عظیم مرتبے کی حامل ہے اور اس کرہ ارض پر اسے کیا فرائض سر انجام دینے ہیں ؟ عالم انسانیت میں اسے کیا فضیلت و برتری حاصل ہے ؟ لوگوں کی زندگی میں اسے کیا رول ادا کرنا ہے ۔ اس مقام اور مرتبے کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک ہی خاص قبلہ ہو ۔ وہ ایک مخصوص تشخص کا مالک ہو۔ چھوڑئیے اور باتیں اس رب عظیم کی سنئے جس نے اس امت کو عظیم مشن کے لئے منتخب کیا : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ” اس طرح تو ہم نے تمہیں ایک امت وسط بنایا “ تاکہ تم دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جیسا تمہارا قبلہ کعبہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ اور تمام قبلوں سے افضل ہے ایسا ہی ہم نے تم کو سب امتوں سے افضل اور تمہارے پیغمبر کو سب پیغمبروں سے کامل اور برگزیدہ کیا تاکہ اس فضیلت اور کمال کی وجہ سے تم تمام امتوں کے مقابلہ میں گواہ مقبول الشہادۃ قرار دیئے جاؤ اور محمد رسول اللہ ﷺ تمہاری عدالت و صداقت کی گواہی دیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ جب پہلی امتوں کے کافر اپنے پیغمبروں کے دعوے کی تکذیب کرینگے اور کہیں گے کہ ہم کو تو کسی نے بھی دنیا میں ہدایت نہیں کی اس وقت آپ کی امت انبیاء کے دعوے کی صداقت پر گواہی دے گی اور رسول اللہ ﷺ جو اپنے امتّیوں کے حالات سے پورے واقف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 143 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا اب یہ خاص بات کہی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو ! تم اس تحویل قبلہ کو معمولی بات نہ سمجھو ‘ یہ علامت ہے اس بات کی کہ اب تمہیں وہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے : لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط۔ اب یہ تمہارا فرض منصبی ہے کہ رسول ﷺ نے جس دین کی گواہی تم پر اپنے قول و عمل سے دی ہے اسی دین کی گواہی تمہیں اپنے قول اور عمل سے پوری نوع انسانی پر دینی ہے۔ اب تمٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور نوع انسانی کے درمیان واسطہ link بن گئے ہو۔ اب تک نبوت کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک نبی کی تعلیم ختم ہوجاتی یا اس میں تحریف ہوجاتی تو دوسرا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

176 یعنی جس طرح ہم نے قبلہ اول کو تمہارے لیے مستقل قبلہ بنادیا ہے۔ اسی طرح ہم نے تمہیں امت وسط بھی بنادیا ہے۔ امت وسط سے مراد ایسا اشرف اور اعلیٰ گروہ ہے جو عدل و انصاف کی روش پر قائم ہو اور افراط وتفریط، غلو اور تخفیف سے پاک ہو اور دنیا کی قوموں کے درمیان صدر کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا بڑھایا کہ انہیں خدا ہی بنادیا اور یہود نے اتنا گھٹایا کہ ان کی پیغمبری سے انکار بھی کیا اور ان کی جان کے بھی لاگو ہوگئے اور اس امت وسط کی روش یا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے پیارے پیغمبر اور روح اللہ تھے۔ بیشمار عقائد و احکام میں آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

516 ۔ (اے مسلمانو ! ) اسی طرح ایک اسی مسئلہ پر موقوف نہیں، ہر معاملہ میں ، 517 ۔ یعنی ایسی امت جو ہر اعتبار اور ہر معیار سے غایت اعتدال پر ہو۔ ہر کجی اور ہر افراط وتفریط سے پاک (آیت) ” وسطا “ عربی زبان میں یہ لفظ خاص مدح کے موقع پر آتا ہے۔ واما الوسط فانہ فی کلام العرب الخیار (ابن جریر) استعیر للخصال المحمودۃ بوقوعھا بین طرفی افراط وتفریط (بیضاوی) حدیث نبوی میں وسط کی تفسیر عدل سے آئی ہے۔ عن ابی سعید الخدری عن النبی ﷺ امۃ وسطا قال عدلا (ابن کثیرعن احمد) اور ائمہ لغت سے بھی یہی معنی منقول ہیں۔ قال الجوھری فی الصاح امۃ وسطا اے عدلا وھو الذی قالہ الاخفش والخلیل وقطرب (کبیر) آیت سے یہ استنباط بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 142–143

آیت نمبر 142 تا 143 ترجمہ : نادان جاہل لوگ یعنی یہود و مشرکین عنقریب کہیں گے کہ کس چیز نے پھیر دیا ان کو ؟ یعنی نبی اور مومنین کو اس قبلہ سے جس پر وہ تھے یعنی نماز میں اب تک جس قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے اور وہ بیت المقدس ہے اور سین استقبالیہ کو لانا اخبار بالغیب کے قبیل سے ہے، اور کہہ دیجئے کہ مشرق و مغرب کا مالک اللہ ہی ہے، یعنی تمام جہات اسی کی ملک ہیں، لہٰذا اس کو حق ہے کہ جس جہت کی جانب چاہے رخ کرنے کا حکم دے، اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں، وہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کو سیدھی (یعنی) دین اسلام کی راہ دکھا دیتا ہے اور ان میں (اے مومنو ! ) تم بھی ہو جن کو راہ مستقیم دکھائی، اور ہم نے اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَكَذٰلِكَ ( اور اسی طرح) اے امت محمد ﷺ ذالِکَکا مشارٌ الیہ یا تو پہلی آیت کا مضمون ہے اس صورت میں حاصل ہوگا کہ جس طرح ہم نے تم کو سیدھی راہ کی ہدایت کی اسی طرح تم کو امت معتدل اور بہتر بنایا اور یا آیت وَلَقَدِ اصْطَفَیْنَاہُ فِی الدُّنْیَا [ الایۃ ] کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا اسی طرح تم کو بہتر امت بنایا جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا ( ہم نے تم کو بنایا ہے امت معتدل) یعنی ہم نے تم کو دوسروں سے بہتر اور عادل علم و عمل و معرفت سے آراستہ بنایا۔ امام احمد اور حاکم نے بروایت حضرت ابو سعید خدری ؓ مرفوعاً بیان کیا اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(143) اور جیسا کہ ہم نے تمہیں حضرت ابراہیم ؑ کے دین اور ان کے قبلہ کی وجہ سے عزت دار اور مکرم بنایا ہے، اسی طرح اعتدال پسندامت بھی بنایا ہے، تاکہ لوگوں پر ان احکامات کو ظاہر کرنے کے لیے اور حضور اکرم ﷺ تم کو پاک وصاف کرنے اور اعتدال پسند بنانے والے کے لیے گواہ بن جائیں اور جس قبلہ کی طرف آپ نے انیس مہینوں تک (صحیح 16 یا 17 ماہ) نماز پڑھی ہے، اس قبلہ کو تبدیل نہیں کیا ہم مگر اس لیے تاکہ ہم دیکھ سکیں اور (لوگوں کے سامنے) فرق کردیں کہ کون قبلہ کے مسئلہ میں حضور اکرم ﷺ کی بات مانتا ہے اور کون اپنے دین اور قبلہ کی طرف واپس لوٹ جاتا ہے۔ اور جن لوگوں کے دلوں کی اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی ہے، ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وسط کا معنی درمیان ہے، افضل چیز کو بھی وسط کہہ لیتے ہیں، کیونکہ درمیانی چیز سب سے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں مراد سب سے بہتر ہے، جیسا کہ فرمایا : (كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ) [ آل عمران : 110] ”تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی۔“ کیونکہ دو نقطوں کے درمیان سب سے مختصر اور صحیح خط مستقیم ہی ہوتا ہے۔ ابو سعید خدری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا معنی یہاں ”عدل“ روایت کیا ہے۔ [ بخاری، التفسیر : 4487 ] عدل کا معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہے، اعتقاد و اخلاق اور اعمال میں معتدل اور پہلی امتوں کی افراط و تفریط سے پاک بھی۔ نہ یہاں یہود کی سختی ہے نہ نصاریٰ کی نرمی۔ (کبیر،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 143 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: وکذلک جعلنکم امۃ وسطا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کعبہ زمین کے درمیان ہے اسی طرح تمہیں امت وسط بنایا یعنی تمہیں انبیاء سے کم درجہ اور دوسری امتوں سے بلند درجہ بنایا۔ الوسط کا مطلب العدل ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ اچھی چیز درمیانی چیز ہوتی ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ وکذلک جعلنکم امۃ وسطا کے تحت روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : عدلا یعنی وسط سے مراد عدل ہے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ قرآن میں ہے : قال اوسطھم یعنی درمیان والے اور بہتر شخص نے کہا۔ زبیر نے کہا : ھم وسط یرضی الانام بحکمھم اذا نزلت احدی اللیالی بمعظم ایک اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) سعید بن منصور، احمد، ترمذی، نسائی (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن حبان الاسماعیلی نے (اپنی صحیح میں) اور حاکم (انہوں نے اسے صھیح کہا ہے) نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ میں وسطا کا معنی ہے عدل انصاف کرنے والی۔ (2) ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا “ کا مطلب ہے عدلا یعنی انصاف کرنے والی۔ (3) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” جعلنکم امۃ وسطا “ سے مراد ہے کہ تم کو انصاف کرنے والی امت بنایا ہے۔ امت وسط امت محمدیہ ﷺ ہے (4) امام ابن سعد نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(وَکَذٰلِکَ : اور اس طرح ) (جَعَلْنٰـکُمْ : ہم نے بنایا تم لوگوں کو) (اُمَّۃً وَّسَطًا : ایک معتدل امت) ( لِّــتَــکُوْنُوْا : تاکہ تم لوگ ہو جائو) (شُھَدَآئَ : گواہ) (عَلَی النَّاسِ : لوگوں پر) ( وَیَکُوْنَ : اور تاکہ ہوجائیں) (الرَّسُوْلُ : یہ رسول ﷺ ) (عَلَیْکُمْ : تم لوگوں پر) (شَھِیْدًا : گواہ) (وَمَا جَعَلْنَا : اور ہم نے نہیں بنایا) (الْقِبْلَۃَ : اس قبلہ کو) (الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا : جس پر آپ ﷺ تھے) (اِلاَّ : سوائے اس کے) (لِنَعْلَمَ : تاکہ ہم جان لیں کہ ) (مَنْ : کون) (یَّـتَّبِعُ : پیروی کرتا ہے) (الرَّسُوْلَ : ان رسول ﷺ کی) (مِمَّنْ : اس میں سے جو ) (یَّنْقَلِبُ : پلٹ جاتا ہے)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

امت محمدیہ ساری امتوں سے افضل ہے ابھی قبلہ کا مضمون باقی ہے۔ درمیان میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کی فضیلت بیان فرمادی۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تمہارا قبلہ سب قبلوں سے افضل بنا دیا اسی طرح ہم نے تم کو اعتدال والی امت بنا دیا اور ساری امتوں سے افضل امت بنا دی۔ اس امت کی افضلیت کا ظہور میدان حشر میں اس طرح سے ہوگا کہ یہ امت تمام امتوں کے بارے میں گواہی دے گی اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے کہ ہاں میری امت عدل ہے ثقہ ہے اس کی گواہی معتبر ہے۔ دوسری امتوں کے مقابلہ میں اس امت کی گواہی اور اس پر فیصلے : حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تمام امتوں پر امت محمدیہ کی فضیلت۔ قال تعالی، وکذالک جعلناکم۔۔۔ الی۔۔۔ شھیدا۔ اور جس طرح ہم نے تمہارے لیے بہتر قبلہ تجویز کیا کہ وسط زمین میں ہے اور تمہارا مبدا ترابی ہے اور حق جل شانہ کے انوار تجلیات کا مرکز ہے اسی طرح ہم نے تم کو امت متوسط بنایا کہ جو اخلاقی اور اعمال اور عقائد کے اعتبار سے متوسط اور معتدل ہے افراط اور تفریط کے درمیان میں واقع ہے گویا کہ یہ امت اپنے کمال توسط اور کمال اعتدال کے اعتبار سے حلقہ امم کے درمیان عین مسند پر بیٹھی ہوئی ہے اور تمام امتیں اطراف و جوانب سے اس کی جانب متوجہ ہیں اور ہم نے تم کو اس توسط اور اعتدال کی فضیلت اس لیے عطا کی کہ تاکہ تمہاری عدالت علی وجہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 272 مفسرین نے کذالک کو تشبیہ کے لیے قرار دیا ہے۔ لیکن حضرت شیخ نے فرمایا کہ کذالک یہاں تشبیہ متعارف کے لیے نہیں ہے لہذا مشبہ اور مشبہ بہ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ وسط کے معنی خیار اور بہتر کے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ اس طرح ہم نے تم کو بہترین اور خیر امت بنادیا ہے یعنی یہ ہمارا کمال ہے اسی طرح اور بھی کئی جگہوں میں کاف تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کیلئے ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَکَذٰلِکَ اَنْز (رح) لْنٰہُ حُکْماً عَرَبِیاً (رعد ع 5) یعنی قرآن کو ایسا حکم عربی بنانا ہمارا کمال ہے۔ چونکہ دنیا کی رہنمائی اور پیشوائی تمہارے سپرد ہونے والی ہے اس لیے کعبہ کو جو جغرافیائی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 142–143

تحویل قبلہ اس سے پہلے ملت ابراہیمی اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ بیت اللہ شریف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کا قبلہ رہا۔ قیام مکہ کے دوران حضور ﷺ کا قبلہ بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں ہی تھے بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آپ دوران نماز بیت اللہ شریف کی طرف اس طرح رخ کرتے تھے کہ یہ رخ بیت المقدس کی طرف بھی ہوجاتا تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کیا اور تمام مسلمان اسی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے ، اس میں مصلحت تھی۔ بیت المقدس بھی سابقہ انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور اسی طرح…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُہَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَہِيْدًا۝ 0 ۭ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝ 0 ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَۃً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللہُ۝ 0 ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝ 143 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : وکذلک میں کاف موضع نصب میں ہے۔ صفت ہے مصدر محذوف کی تقدیرہ و مثل ہذا اتینا من نشاء جعلنا کم اور جعلنا بمنزلہ صیر نا علی الناس متعلق ہے۔ شہداء سے قبلۃ مفعول اول ہے۔ جعلنا کا اور مفعول ثانی محذوف ہے اور التی مع صلہ اس محذوف کی صفت ہے تقدیرہ وما جعلنا القبلۃ القلبلۃ الخ من یتبع میں من بمعنی الذی موضع نصب میں ہے نعلم اے ممن ینقلب میں من متعلق ہے نعلم سے۔ ای لیفصل المتبع عن المنقلب علی عقیبہ موضع نصب میں ہے بوجہ حال ہونے کے ای راجعا وان کانت میں ان مخففہ ہے ثقلہ سے اور اسم اس کا محذوف ہے۔ اس پر سیاق دلالت کرتا ہے۔ اے وان کانت التولیۃ الاعلی الذین میں علی کبیرنا سے متعلق ہے اور الا نے صرف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّ سَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیِْکُمْ شَھِیْدًاط وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ط وَاِنْ کَانَتْ لَکَبِیْرَۃً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ ط وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ بِالنَّاسِ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ (اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ” امت وسط “ بنایاتا کہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے اور جس قبلہ پر تم تھے ہم نے اس کو صرف اس لیے قبلہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ مستقبل قریب میں تحویل قبلہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے لفظ ” کَذٰلِکَ ‘ ا ستعمال کیا ہے۔ اصل لفظ ” ذَالِکَ “ ہے جس میں حرف ” ک “ کا اضافہ فرمایا گیا ہے۔ اسے عربی زبان میں حرف تشبیہ کہا جاتا ہے ‘ جس کا معنی ‘ مانند ‘ جیسے ہے۔ یہاں اشارتاً یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس طرح جغرافیائی لحاظ سے تمہارا قبلہ زمین کے وسط میں واقع ہے اسی طرح ہی ہدایت اور فکر وعمل کے اعتبار سے تمہیں امت عدل اور وسط بنایا گیا ہے۔ محشر کے دن جب پہلی امتوں سے ان کے انبیاء کے بارے میں سوال ہوگا کہ انبیاء نے میرا پیغام آپ تک پہنچایا تھا یا نہیں ؟ بعض اُمّتیں واضح طور پر اپنے نبیوں کی جدوجہد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 143: وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا : (اسی طرح ہم نے تم کو معتدل امت بنایا) کذٰلک جعلنٰکم اس عجیب بنانے کی طرح ہم نے تمہیں بنایا۔ نحوی تحقیق : نحو : کذلک میں کاف تشبیہ کے لئے ہے اور ذَا اسم اشارہ ہے جو کاف کا مجرور ہے لامؔ اشارہ قریب (ذا) اور اشارہ بعید کے درمیان فرق کے لئے لایا گیا۔ ک،ؔ ضمیر خطاب ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں۔ امت وسط کا معنی : امۃ وسطا نمبر 1۔ افضل و بہتر۔ بہتر کو وسط بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ خرابی اطراف میں جلد اثر پذیر ہوتی ہے اور درمیان محفوظ رہتا ہے۔ سب سے بہتر قبلہ : مطلب یہ ہے جس طرح میں نے تمہارا قبلہ سب قبلوں سے بہتر بنایا۔ اسی طرح میں نے تمہیں سب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

143۔ (آیت)” وکذالک جعلنا کم امۃ وسطا “ ان رؤساء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت معاذ ؓ کو کہا کہ محمد ﷺ نے ہمارے قبلہ کو محض حسد کی بنیاد پر چھوڑا ہے اور بیشک ہمارا قبلہ تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کا قبلہ ہے اور بیشک محمد پاک ﷺ اس (حقیقت) کو بخوبی جانتے ہیں کہ لوگوں میں عدل (پرقائم) ہیں، پس حضرت معاذ ؓ نے فرمایا میں حق و انصاف پر ہوں ، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” کذالک “ یعنی اور اسی طرح اور بعض نے کہا کہ ” کاف تشبیہ کے لیے ہے اور یہ (کاف تشبیہ) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت)” ولقد اصطفیناہ فی الدنیا “ کی طرف لوٹایا گیا ہے یعنی جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 142–143

(142 ۔ 143) ۔ صحیح بخاری میں براء بن عازب سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سولہ سترہ مہینے تک اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت المقدس کو قبلہ ٹھہرا کر نماز پڑھی۔ لیکن آپ کو اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم جلدی سے ہوجاوے کیونکہ آپ ملت ابراہیمی پر تھے اس لئے اس ملت کے قبلہ کی آپ کو آرزو تھی۔ اور اس سولہ سترہ مہینے میں دس مہینے کے قریب مدینہ منورہ کے قیام کے ہیں۔ باقی مکہ کے کیونکہ قریش کے طر طرح کے جھگڑوں کے سبب سے آپ کے قیام مکہ ہی کے زمانہ میں آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوگیا تھا۔ اب حکم تبدیل قبلہ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اس امت پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اسے امت وسط بنایا۔ فرمایا : (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) ” اور اس طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا۔ “ یعنی معتدل اور بہترین امت “ ” وسط “ کے علاوہ اور اطراف خطرے کی زد میں ہیں اللہ تعالیٰ نے دین کے ہر معاملے میں اس امت کو معتدل امت بنایا ہے۔ انبیاء کرام کے ساتھ عقیدت کے حوالے سے بھی امت مسلمہ کو ان امتوں کے مابین معتدل امت بنایا ہے جو انبیاء ( علیہ السلام) کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں جیسے عیسائی ہیں اور انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ ظلم و جفا کرنے والوں کے مابین بھی اسے معتدل امت بنایا کہ وہ سب پر اس طرح ایمان لائے جو ان کی شان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

اجماع کی صحت پر بحث قول باری ہے۔ وکذلک جعلنا کم امۃ وسطاً لتکونو ا شھداء علی الناس ( اور اسی طرح تو نے تمہیں ایک امت وسط بنایا تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو) اہل لغت کے قول کے مطابق وسط عدل، یعنی معتدل کو کہتے ہیں اور عدل وہ ہے جو کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے درمیان ہو۔ ایک قول کے مطابق وسط کے معنی ہیں خیار یعنی بہترین، یہ دونوں معنی یکساں ہیں اس لئے کہ عدل خیار، یعنی بہترین ہی ہوتا ہے۔ زہیر کا شعر ہے ؎ ھم وسط یرضی الانام بحکمھم اذا طرقت احدی اللیا بعظم (اگر لوگوں کو کوئی اہم مسئلہ پیش آ جائے تو ایسے موقعہ پر میرے ممدوحین اس قدر معتدل اور بہترین لوگ ثابت ہوئے ہیں کہ ان کے صادر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 143–144

389 بہترین امت کیلئے بہترین قبلہ : یعنی جس طرح ہم نے تمہیں ایسے بہترین قبلے سے نوازا، جو اپنے موقع و محل کے لحاظ سے بھی بےمثل ہے، اور ان انوار و برکات کے اعتبار سے بھی، جو کہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے برابر اس پر برستی رہتی ہیں۔ اسی طرح ہم نے تم کو بھی افراط وتفریط کی ان انتہاؤں سے بچا کر ایک وسط و معتدل اور بہترین امت بنایا ہے، جن میں دوسری بہت سی قومیں مبتلا ہوئی ہیں تاکہ تم ان انتہاؤں سے محفوظ رہو جن میں یہود و نصاری وغیرہ کی دوسری اقوام مبتلا ہو کر راہ راست سے بھٹک گئیں، اور اس طرح وہ صراط مستقیم کی سعادت سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ سو ہم نے تمہیں کرم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

معتدل امت تشریح : یہودیوں کی بدعملیوں کی وجہ سے امامت ان سے چھین لی گئی اور نبوت محمد ﷺ کے سپرد کردی گئی اور ان کی امت کو ” امت وسط “ کا اعزاز دیا گیا۔ ” وسطا “ کا مطلب ہے معتدل یعنی ہر لحاظ سے درمیانی روش اختیار کرنے والی امت۔ ہمارے رسول ﷺ ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان تھے، انہوں نے جو کتاب اور جو اللہ تعالیٰ کا پیغام امت کو دیا وہ کسی لحاظ سے بھی قابل اعتراض یا انسان کو مشقت میں ڈالنے والا نہیں ہے اور یہ ہر قسم کی خرابی سے پاک صاف اور بہترین ہے۔ اسلامی تعلیمات، انسان میں ہر قسم کی خرابی دور کرکے اس کو ایک مکمل اور اللہ تعالیٰ کا مقبول ترین بندہ بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر سورة آل عمران میں امت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–147

آیات 142- 147 اسرارو معارف کچھ بیت اللہ شریف کے بارے میں : یوں تو یہودونصاریٰ ہر طرح سے لاجواب ہوگئے مگر ان کے یہ اعتراضات کہ برحق نبی کو سمت قبلہ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کس چیز نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کیا اور کیا پہلا قبلہ درست نہ تھا ؟ اگر ایسا ہے تو پہلی نمازیں کیا ہوئیں یا جو لوگ اس تبدیلی سے پہلے فوت ہوگئے ان کا کیا ہوگا ؟ یہ سوال کج فہموں کے ذہنوں سے چپک گئے۔ کج فہم اس لئے کہا گیا ہے کہ اگر طبیعت میں راستی اور فہم میں درستی ہو تو لا یعنی باتیں اور فضول بحثیں طبعاً ناپسندیدہ ہوجاتی ہیں اور ذہن درست باتوں کو قبول کرتا ہے کہ راستی کا یہی خاصہ ہے۔ یہاں اللہ کریم نے ان تمام لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 صراط مستقیم۔ اصل میں تو جملہ افکار واخلاق اور اعمال میں راہ اعتدال کا نام ہے یہاں اس امر کی طرف اشارہ کہ کعبہ کو قبا قرار دینا بھی صراط مستقیم کی طرف ہدایت میں داخل ہے یہود اور منافقین کے اعتراضات محض حسد کی بنا پر ہیں حدیث میں ہے کہ تین باتوں پر یہود مسلمانوں سے حسد کرتے ہیں کے کعبہ قبلہ ہونے پر۔ جمعہ کے دن پر اور امام کے پیچھے آمین کہنے پر۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)4 الوسط کے معنی بہتر اور افضل کے ہیں اور ابو سعید الخدری ؓ سے مرفو عا ثابت ہے کہ یہاں وسط بمعنی ہے جس کے معنی ثقہ اور قابل اعتماد بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ اعتقاد واخلاص اور اعمال میں معتدل اور امم سابقہ کی افراط وتفریط سے پاک اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:143) کذلک۔ اسی طرح۔ ایسے ہی ۔ کاف اول حرف تشبیہ ہے ذا۔ اسم اشارہ واحد مذکر ۔ ل علامت اشاعر بعید۔ کاف آخر، حرف خطاب واحد مذکر حاضر کے لئے۔ اور واحد مؤنث حاضر کے لئے کذلک۔ اور جمع مذکر حاضر کے لئے کذلکم۔ اور جمع مذکر حاضر کے لئے کذلکن۔ اس کا مشبہ بہ۔ (1) یا ارشاد باری تعالیٰ ولقد اصطفینہ فی الدنیا (2:13) ہے یا قولہ تعالیٰ بھدی من یشاء الی صراط مستقیم۔ آیت ماقبل (2:142) ہے۔ اور یہ معطوف ہے ہر دو کا۔ (2) یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تمہارے لئے ایسا قبلہ مقرر کر رکھا ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان وسط میں ہے۔ اسی طرح تم کو امۃ وسطا بنایا۔ جو افراط و تفریط سے مبرا ہے نہ نصاری جیسی افراط۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 142–147

لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147 ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابہ نے وفات پائی ان کے رشتپ دارواں نے تحویل قبلہ کے بعد ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اطمینان دلایا گیا کہ ان کی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں ان پر ثقب ملے گا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[88] یعنی ایسی امت جو ہر اعتبار اور معیار سے غایت اعتدال پر ہو۔ [89] یعنی جب آخرت میں تمام انسانوں کو حساب کے لئے جمع کیا جائے گا اس وقت نبی ﷺ گواہی دیں گے کہ جو احکام اللہ نے آپ کو دیئے تھے وہ آپ نے بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے اور عملاً ان کے مطابق کام کر کے دکھادیا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے امت محمدیہ کو تمام انسانوں پر گواہی دینی ہوگی کہ رسول اکرم ﷺ نے جو کچھ انہیں پہنچایا اور عملاً کر کے دکھایا اس کے پہنچانے اور اس پر عمل کر کے دکھانے میں ان سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

زمین میں خدا کے مبلغ : (ف 2) اس آیت میں مسلمان کے منصب ودرجہ کی توضیح ہے ۔ ” کذلک “ سے یہ مراد ہے کہ جس طرح کعبہ تمام کائنات کا روحانی مرکز ہے ، اسی طرح مسلمان کو خدا نے تمام انسانوں کا مرکز عمل بنایا ہے ، لوگوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کے نقش قدم پر چلیں ، اس لئے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں جسے عمل وتبلیغ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہوں وہ دنیا کے لئے حیات وعمل کا بہترین نمونہ ہے (آیت) ” شھدآء علی الناس کی تفسیر ہے ، مبلغین وعاملین کی جماعت سے اسی آیت کی تشریح میں حضور ﷺ نے مسلمانوں کو فرمایا کہ ” انتم شھدآء اللہ فی الارض “ یعنی تم زمین میں خدا کے مبلغ ہو ۔ تحویل قبلہ کا فلسفہ : (ف 3) تبدیلی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور جس طرح ہم نے تم کو صراط مستقیم کی توفیق عنائت فرمائی اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل اور بہترین برگزیدہ امت بنایا تاکہ تم اس شرافت اور بزرگی کے اعتبار سے قیامت میں لوگوں کے مقابلے میں انبیاء (علیہم السلام) کے حق میں گواہ ہو اور رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے تمہارے قابل اعتبار ہونے پر شاہد اور گواہ ہوں۔ (تیسیر) وسط ایک ایسی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں جس کی ساخت ہر طرف سے برابر ہو اور کسی طرف میں زیادتی کی نہ ہو پھر اس کا استعمال عام ہوگیا اور ہر اس چیز کو کہا جانے لگا جو افراط وتفریط سے پاک ہو اور چونکہ درمیانی چیز قدرتاً بہتر اور برگزیدہ ہوتی ہے اس لئے شرافت و برگزیدگی کے لئے بھی یہ لفظ استعمال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ یعنی تم ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالفت قومیں ہوں گی ان مخالف لوگوں کے مقابلہ میں شہادت دو گے اور شرف بلائے شرف یہ ہے کہ تمہارے قابل شہادت اور معتبر ہونے لیے رسول اللہ ﷺ گواہ ہوں گے۔ 1۔ اعتراض تحویل قبلہ کا حاکمانہ جواب دے کر اب حکیمانہ جواب شروع ہوتا ہے جس میں کئی حکمتوں کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بہترین قبلہ بیت اللہ ہے اور بہترین امت امت ِمسلمہ ہے : 261: جس طرح تمہیں بہترین مرکز نوازش کیا گیا ہے ایسا ہی ہم نے تم کو بہترین امت ، امت عادلہ پیدا کیا ہے جس میں یکسر خیر و برکت ہی ہے تاکہ تم تمام دنیا کے لئے راہ اعتدال و توسط میں نمونہ ہو۔ ہر قوم و ملت تمہاری نگرانی میں راہ مستقیم حاصل کرے کہ طریق استقامت صرف تمہارے ہی پاس ہے اور تمہارے لئے رسول اللہ کی ذات اقدس نمونہ ہو ” وسط “ کے معنی عدول ہی کے آتے ہیں۔ لیکن بعض کے نزدیک اس کے معنی درمیان کے ہیں یعنی غلو اور تقصیر کے درمیان اسلام کی تعلیم ہے ۔ نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارہ میں غلو کیا اور یہودیوں نے تحریف و تبدیل سے کام لیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The verse qualifies the Islamic nation (Ummah) with the objective Wasat which signifies "moderate, middle or central", and is usually applied to a thing considered to be the best of its kind. According to a hadith reported by al-Tirmidhi from the blessed Companion Abu Said al-Khudri ؓ ، the word Wasat وَسَطً is to be interpreted as "just" - in the sense of being "the best" (Qurtubi). The verse points out that just as Allah has granted to the Muslims a Qiblah قبلہ which is superior to all other orientations, in the same way He has bestowed upon the Islamic Ummah the unparalleled distinction of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

144. This constitutes the proclamation appointing the religious community (ummah) consisting of the followers of Muhammad to religious guidance and leadership of the world. ' And it is thus', which precedes this proclamation, contains two allusions. It alludes, in the first place, to that Divine Guidance which enabled the followers of Muhammad to know the Straight Way so that they could attain progress to the point of being proclaimed 'the community of the middle way' (or 'the mid-most community' or 'the community justly balanced' - Ed.) In the second place there is an allusion to the change…

Read the full tafseer →