صفا اور مروہ کا طواف
حضرت عائشہ ؓ سے حضرت عروہ دریافت کرتے ہیں کہ اس آیت سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طواف نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں آپ نے فرمایا بھتیجے تم صحیح نہیں سمجھے اگر یہ بیان مد نظر ہوتا تو ان لا یطوف بھما ہوتا۔ سنو آیت شریف کا شان نزول یہ ہے کہ مثلل (ایک جگہ کا نام ہے) کے پاس مناۃ بت تھا اسلام سے پہلے انصار اسے پوجتے تھے اور جو اس کے نام لبیک پکار لیتا وہ صفا مروہ کے طواف کرنے میں حرج سمجھتا تھا، اب بعد از اسلام ان لوگوں نے حضور ﷺ سے صفا مروہ کے طواف کے حرج کے بارے میں سوال کیا تو یہ آیت اتری کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسی کے بعدحضور ﷺ نے صفا مروہ کا طواف کیا اس لئے مسنون ہوگیا…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 157
ذُوالحجّہ کی مقرر تاریخوں میں کعبے کی جو زیارت کی جاتی ہے، اس کا نام حج ہے اور ان تاریخوں کے ماسوا دوسرے کسی زمانے میں جو زیارت کی جائے، وہ عُمْرَہ ہے۔
سورة الْبَقَرَة 158
“ صَفَا اور مَرْوَہ مسجد حرام کے قریب دو پہاڑیاں ہیں، جن کے درمیان دوڑنا منجملہ ان مناسک کے تھا، جو اللہ تعالیٰ نے حج کے لیے حضرت ابراہیم ؑ کو سکھائے تھے۔ بعد میں جب مکّے اور آس پاس کے تمام علاقوں میں مشرکانہ جاہلیّت پھیل گئے، تو صَفَا پر ”اِساف“ اور مَرْوَہ پر ”نائلہ“ کے استھان بنا لیے گئے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ پھر جب نبی ﷺ کے ذریعے سے اسلام کی روشنی اہل عرب تک پہنچی، تو مسلمانوں کے دلوں میں یہ…
Read the full tafseer →ربط
آیات متقدمہ میں وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ سے دور تک خانہ کعبہ کا مفصل ذکر ہوا ہے جس کے اول میں خانہ کعبہ کے جائے عبادت ہونے کا بیان تھا اور اس کے آگے دعائے ابراہیمی کی حکایت تھی کہ انہوں نے یہ درخواست کی تھی کہ ہمیں احکام مناسک سکھلا دئیے جاویں اور مناسک میں حج وعمرہ بھی داخل ہے پس بیت اللہ کا معبد ہونا جیسے اس کے قبلہ نماز بنانے سے ظاہر کیا گیا اسی طرح حج وعمرہ میں بیت اللہ کو مقصد بنا کر اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا،
اب آیت آئندہ میں اس کے مقصد حج وعمرہ بننے کے متعلق ایک مضمون کا بیان ہے وہ یہ کہ صفا ومروہ دو پہاڑیاں مکہ میں ہیں حج وعمرہ میں کعبہ کا طواف کرکے ان کے درمیان میں…
Read the full tafseer →اصل سلسلہ کلام کی طرف رجوع : یہ آیت اصل سلسلسہ بحث یعنی قبلہ کی بحث سے متعلق ہے، اوپر والا مضمون، جیسا کہ واضح ہوا، ضمناً محض ایک تنبیہ کے طور پر آگیا تھا کہ یہ قبلہ کی تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے بہت سی آزمائشوں کا پیش خیمہ ہے جن سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے صبر اور نماز وسیلہ کا رہیں۔ اس ضمنی مضمون کے بعد اصل سلسلہ بحث کو پھر لے لیا اور صفا ومروہ کے شعائر اللہ میں سے ہونے اور ان سے متعلق احکام وہدایات کا ذکر فرمایا۔ اس لیے کہ یہود نے جس طرح بیت اللہ کے قبلہ ابراہیمی ہونے کے معاملہ کو چھپانے کی کوشش کی، جس کا ذکر تفصیل سے اوپر ہوچکا ہے، اسی طرح مروہ کو بھی جو حضرت…
Read the full tafseer →158۔ 1 شَعْآئِرُ جس کے معنیٰ علامتیں ہیں یہاں حج کے وہ مناسک (مثلا سعی اور قربانی کو اشعار کرنا وغیرہ) مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔
158۔ 2 صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج کا ایک رکن ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ) 2:158 سے بعض صحابہ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید ضروری نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا (فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا) 2:158۔ جب لوگ مسلمان ہوئے تو ان کے ذہین میں آیا کہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی تو شاید گناہ ہو، کیونکہ اسلام سے قبل دو بتوں کی وجہ سے سعی کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس…
Read the full tafseer →103: صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دوپہاڑیاں ہیں، جب حضرت ابراہیم ؑ اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ ؓ کو اپنے دودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل ؑ کے ساتھ چھوڑ کرگئے تو حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں، حج اور عمرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قراردیا ہے، اگرچہ سعی واجب ہے مگر یہاں“ کوئی گناہ نہیں ”کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹالئے گئے مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو، آیت نے یہ شک دور کردیا۔
Read the full tafseer →اس آیت کی شان نزول میں متعدد روایات منقول ہیں ۔ اسلام نے مہاجرین وانصار کے سابقون الاولون کے دلوں میں جس قسم کا تصور حیات پیدا کیا تھا اس کی نوعیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ موضوع اور اس وقت نفیساتی منطق کے مطابق کتب حدیث کی وہ روایت ہے جس میں کہا گیا ہے :” بعض مسلمان حج وعمرہ کے موقع پر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت محسوس کرتے تھے ۔ کیونکہ جاہلیت کے زمانے میں ان پہاڑیوں کے درمیان وہ اس لئے سعی کرتے تھے کہ یہ مقامات دو بتوں ، اساف ونائلہ کے استھان تھے ۔ اس لئے اسلام آنے کے بعد اب مسلمان اس سعی میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے اور اسے زمانہ جاہلیت کا ایک فعل تصور کرنے لگے تھے ۔…
Read the full tafseer →9 پہلے ذکر تھا تحویل الی الکعبہ کا اور کعبہ کے سب قبلوں سے افضل ہونے کا، اب اس کے محل ادائے حج وعمرہ ہونے کو بیان فرماتے ہیں تاکہ (ولاتم نعمتی علیکم) کی تصدیق اور تکمیل خوب ہوجائے یا یوں کہیئے کہ اس سے پہلے صبر کی فضیلت مذکور تھی اب یہ فرمایا کہ دیکھو صفاو مروہ جو شعائر اللہ میں داخل ہوئیں اور ان میں سعی کرنا حج وعمرہ میں ضروری ہوا اس کی وجہ یہی تو ہے کہ یہ فعل صابرین یعنی حضرت ہاجرہ اور ان کے صاحبزادہ حضرت اسماعیل کے آثار میں سے ہے حدیث و تفسیر و تاریخ میں یہ قصّہ مصرح مذکور و مشہور ہے جس کے دیکھنے سے ( ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :153) کی تصدیق ہوتی ہے۔
1 صفا اور مروہ دو…
Read the full tafseer →آیت 158 اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآءِرِ اللّٰہِ ج۔
یہ آیت اصل سلسلۂ بحث یعنی قبلہ کی بحث سے متعلق ہے۔ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ حج کے مناسک میں یہ جو صفا اور مروہ کی سعی ہے تو اس کی کیا حقیقت ہے ؟ فرمایا کہ یہ بھی اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ شعائر ‘ شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو شعور بخشے ‘ جو کسی حقیقت کا احساس دلانے والی اور اس کا مظہر اور نشان ہو۔ چناچہ وہ مظاہر جن کے ساتھ اولوالعزم پیغمبروں یا اولوالعزم اولیاء اللہ کے حالات و واقعات کا کوئی ذہنی سلسلہ قائم ہوتا ہو اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے بطور ایک نشان اور علامت مقرر کیے گئے ہوں شعائر…
Read the full tafseer →197 صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے نزدیک دو پہاڑیاں ہیں۔ جن کے درمیان سات بار دوڑنا مناسک حج میں شامل تھا۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سکھلائے تھے۔ زمانہ مابعد میں جب مشرکانہ جاہلیت پھیل گئی تو مشرکوں نے صفا پر اساف اور مروہ پر نائلہ کے بت رکھ دیئے تھے اور ان کے گرد طواف ہونے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں یہ سوال کھٹکنے لگا کہ آیا صفا اور مروہ کے درمیان سعی حج کے اصلی مناسک میں سے ہے یا یہ محض مشرکانہ دور کی ایجاد ہے ؟ چناچہ اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس غلط فہمی کو دور کر کے صحیح بات کی طرف رہنمائی فرما دی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
عاصم…
Read the full tafseer →573 ۔ (نہ کہ دیوی دیوتاؤں کی یادگاروں میں سے) صفاومروہ کسی زمانہ میں مسجد الحرام کے پاس دو پہاڑیاں تھیں۔ اب معمولی بلندیاں محض چٹان کی سی رہ گئی ہیں۔ صفا حرم شریف کی داہنی جانب ہے اور مروہ بائیں جانب۔ دونوں کے درمیان فاصلہ 493 قدم کا ہے، یا تقریبا 7 فرلانگ۔ صفا کے لغوی معنی صاف پتھر یا خالص چٹان کے ہیں اور مروہ کے بھی لفظی معنی سفید نرم پتھر کے ہیں۔ الصفا الحجارۃ الصافیۃ (راغب) قال المبرد وھو کل حجر لا یخالطہ غیرہ من طین اوتراب (روح) المروۃ فی الاصل الحجر الابیض (روح) حدیث صحیح میں یہ مضمون آیا ہے کہ حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو شیر خوارگی کے زمانہ میں خانہ کعبہ کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللہِ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا، حض کا ایک رکن ہے لیکن قرآن کے الفاظ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا سے بعض صحابہ ؓ کو یہ شبہ ہوا کہ شاید یہ ضروری نہیں ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے فرمایا : اگر اس کا یہ مطلب ہوتا تو پھر اللہ تعالیٰ یوں فرماتا : فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ ان لایطَّوَّف بھمَا اگر ان کا طواف نہ کرے تو کوئی گناہ نہیں، پھر حضرت عائشہ ؓ نے اس آیت کا شان نزول بیان فرمایا کہ انصار قبول اسلام سے پہلے مناۃ طاغیہ (بت) کے نام کا تلبیہ پکارتے تھے جس کی وہ مشلل پہاڑی کے اوپر عبادت کرتے تھے، اور پھر…
Read the full tafseer →اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ ( بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی آداب گاہوں میں سے ہیں) صفا اور مروہ مکہ میں دو پہاڑ ہیں۔ شَعَاءِر جمع شَعِیْرَۃً بمعنی علامت یہاں مراد شَعَاءِر سے عبادت کے طریقے ہیں اور شعائر انہیں اس لیے فرمایا کہ وہ طاعت الٰہی کی علامت ہیں صفا اور مروہ میں سعی کرنا سب کے نزدیک واجب ہے لیکن امام احمد سے روایت ہے کہ انہوں نے سنت فرمایا ہے اور ان کی دلیل یہ آیت ہے۔
فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ( تو حج کرے خانہ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ طواف کرے ان دونوں میں بھی) کیونکہ اللہ…
Read the full tafseer →(158) مشرکین مکہ نے صفا ومروہ پر دو بت رکھے ہوئے تھے اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے درمیان دوڑنے میں تنگی اور کراہت محسوس ہوتی تھی اللہ تعالیٰ اب اس کا ذکر فرماتے ہیں۔
کوہ صفا ومروہ کے درمیان سعی ان احکام میں سے ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے مناسک حج میں حکم دیا ہے لہٰذا ان کے درمیان سعی کرنے میں کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں اور جو واجب طواف سے زیادہ طواف کرے، اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول کرتے ہیں اور وہ تمہاری نیتوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نیک اعمال کی قدر دانی کرنے والے ہیں تھوڑے عمل کو بھی قبول کرلیتے ہیں اور اس پر بہت زیادہ ثواب بھی دے دیتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ان الصفاوالمروۃ“۔…
Read the full tafseer →(يَّطَّوَّفَ) یہ باب تفعل سے ہے، ”طَافَ یَطُوْفُ“ کا معنی طواف کرنا، چکر لگانا ہے، جب باب تفعل میں حروف زیادہ ہوئے تو اس کا معنی ”خوب طواف کرے“ ہوگیا۔ ”شَعَاۗىِٕرِ“ یہ ”شَعِیْرَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی نشانی ہے۔ بعض لوگوں نے صفا اور مروہ کو جاہلیت کے بتوں کی نشانی سمجھ کر ان کے طواف کو گناہ سمجھا، تو اس پر فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔
صفا اور مروہ کعبہ کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا (دوڑنا) ابراہیم ؑ کے زمانے سے حج اور عمرہ کے مناسک (یعنی احکام) میں شامل تھا، مگر زمانۂ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے مناسک میں کئی شرکیہ رسوم شامل کرلی تھیں، حتیٰ کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 158
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: بخاری نے عاصم بن سلیمان سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے حضرت انس بن مالک سے صفا ومروہ کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ہم دیکھتے تھے کہ صفاء ومروہ زمانہ جاہلیت کے امور سے ہیں۔ جب اسلام آیا تو ہم ان کے طواف سے رک گئے، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل کیا : ان الصفا۔۔۔۔ الخ۔ ترمذی نے حضرت عروہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے حضرت عائشہ سے کہا : میں کسی پر کوئی گناہ نہیں دیکھتا جو صفا ومروہ کے دعمیان طواف نہ کرے اور میں بھی کوئی پروا نہیں کرتا کہ میں ان کے درمیان طواف نہ کروں۔ حضرت عائشہ نے کہا : اے میرے بھانجے ! تو نے بری بات کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →صفا ومروہ کے درمیان سعی
(1) امام مالک نے موطا میں امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن ابی داؤد، ابن الانباری نے مصاحف میں، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے سنن میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ عروہ نے (جو ان کے بھانجے تھے) ان سے پوچھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت ” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ کے بارے میں بتائیے میرا خیال یہ ہے کہ جو آدمی ان کا طواف نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کیا ؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اے میرے بھانجے تو نے غلط کہا ہے اگر یہ مطلب ہوتا جو تو نے بیان کیا ہے تو عبارت اس طرح ہوتی ” فلا جناح علیہ…
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ : صفا اور مروہ ہیں ] [ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ : اللہ کا شعور حاصل کرنے کی علامتوں میں سے ] [ فَمَنْ : پس جس نے ] [ حَجَّ الْبَیْتَ : زیارت کی اس گھر کی ] [ اَوِ اعْتَمَرَ : یا عمرہ کیا ] [ فَلَا جُنَاحَ : تو کسی قسم کا کوئی گناہ نہیں ہے ] [ عَلَیْہِ : اس پر ] [ اَنْ یَّطَّوَّفَ : کہ وہ بتکلف چکر لگائے ] [ بِھِمَا : ان دونوں میں ] [ وَمَنْ : اور جس نے ] [ تَطَوَّعَ : نفلاً کی ] [ خَیْرًا : کوئی بھلائی ] [ فَاِنَّ اللّٰہَ : تو یقینا اللہ ] [ شَاکِرٌ : قدر دان ہے ] [ عَلِیْمٌ: جاننے والا ہے ]
ج ن ح
جَنَحَ (ض) جُنُوْحًا : کشتی کا کسی جانب جھک جانا ‘ کسی…
Read the full tafseer →حج وعمرہ میں صفا مروہ کے درمیان سعی کرنے کی مشروعیت اور اس کی ابتداء
شعائر شعیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی علامت کے ہیں صفا اور مروہ مکہ معظمہ میں دو پہاڑیاں ہیں جو کعبہ شریف سے تھوڑے سے فاصلے پر واقع ہیں ان میں صفابہ نسبت مروہ کے کعبہ شریف سے زیادہ قریب ہے۔ حج اور عمرہ میں سات مرتبہ ان دونوں پر آنا جانا ہوتا ہے۔ اس کو سعی کہا جاتا ہے۔ یہ حج اور عمرہ دونوں میں واجب ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے صفا اور مروہ کو شعائر اللہ میں سے فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ کے دین کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ان کے درمیان سعی کی جاتی ہے۔ جو مناسک حج میں سے ہے اور حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ہے اس اعتبار سے دین…
Read the full tafseer →استشہاد برفضیلت صبر۔
قال تعالی، ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ علیم۔
ربط) ۔ گزشتہ آیات میں صابرین کے لیے اپنی معیت اور صلوات اور رحمت اور ہدایت کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں اس کی ایک دلیل اور ایک شاہد ذکر کرتے ہیں یعنی حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے صبر جمیل کی ایک یادگار ذکر فرماتے ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی اسی صبر کی یادگار ہے جن کو صبر کی برکت سے معیت خاصہ سے سرفراز فرمایا اور اپنی صلوات اور رحمتیں نازل کیں اور اس یادگار صبر کے بیان سے بحث قبلہ اور مناسک حج وعمرہ کی بھی تکمیل ہوجائے گی اور اذا ابتلی ابراہیم ربہ۔ آیت۔ سے بھی سلسلہ کلام مربوط ہوجائے گا ابتلاء اور امتحان ہی سے…
Read the full tafseer →291 یہ دوسرے شبہ کا جواب ہے۔ یہ صفا ومروہ وہی دونوں پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ ؓ نے اپنے معصوم بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لیے پانی کی تلاش میں سات چکر کاٹے تھے۔ بعد میں مشرکین نے ان پہاڑیوں پر دو بت نصب کردئیے اور ان کی پوجا پاٹ شروع کردی۔ صفا پر اساف کا بت اور مروہ پر نائلہ کا بت تھا۔ مشرکین صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرتے وقت ان بتوں کو بھی ہاتھ لگاتے اور چومتے تھے۔ غلبہ اسلام کے بعد ان بتوں کو توڑ دیا گیا لیکن ان بتوں کی وجہ سے اور گذشتہ زمانے میں ان دونوں پہاڑیوں کے مشرکوں کا تیرتھ بنے رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کے میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے کراہت اور انقباض سا پیدا…
Read the full tafseer →صفا اور مردہ
تہذیب الاخلاق کے تین اصول پہلی آیات میں بیان ہوچکے ہیں اور وہ ہیں ذکر الٰہی ، شکر الٰہی ، صبر اور دعا اس آیت میں ایک اور اہم اصول شعائر اللہ کا بیان ہے۔ منجملہ دیگر شعائر کے اس آیت میں صفاء اور مردہ کو خاص طور پر شعائر اللہ کہا گیا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الصفا و المروۃ من شعآئر اللہ بیشک صفا اور مردہ اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے ہیں۔ یہ دونوں پہاڑیاں بیت اللہ شریف سے متصل واقع ہیں۔ زیادہ اونچی نہیں ہیں۔ اس زمانہ میں بھی یہ چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں۔ بس اردگرد کے خطے سے ذرا بھری ہوئی تھیں۔ اب تو جغرافیہ ہی بدل چکا ہے …… ان کا بیشتر حصہ کاٹ دیا گیا ہے اور نشان کے طور پر…
Read the full tafseer →اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِ اللہِ 0 ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْہِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِہِمَا 0 ۭ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا 0 ۙ فَاِنَّ اللہَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ 158
صفا
أصل الصَّفَاءِ : خلوصُ الشیءِ من الشّوب، ومنه : الصَّفَا، للحجارة الصَّافِيَةِ. قال تعالی:
إِنَّ الصَّفا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ [ البقرة/ 158] ، وذلک اسم لموضع مخصوص، ( صو ) الصفاء کے اصل معنی کسی چیز کا ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور صاف ہونا کے ہیں اسی سے الصفا ہے جس کے معنی صاف اور چکنا پتھر کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ الصَّفا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–159
ترکیب : صفا اور مروہ دونوں اسم ان من شعائر اللہ اس کی خبر فمن حج البیت الخ شرط فلا جناح الخ جواب شرط اسی طرح من تطوع الخ شرط فان اللہ الخ جواب
تفسیر : اول آیت میں صابرین کی مدح اور صبر کے فضائل تھے (جس طرح کہ اس سے پہلی آیت میں ذکر اور شکر کا ذکر تھا) ۔ کس لیے کہ انسان کی دو حالت ہیں۔ نعمت و مصیبت اول میں شکر اور دوسرے میں صبر کرنا مقتضی ایمان ہے۔ یہاں خدا تعالیٰ صابرین کے صبر کا نتیجہ ذکر کرتا ہے کہ صفا اور مروہ جو خانہ کعبہ کی متصل دو چھوٹی سی پہاڑیاں ہیں۔ وہ ہاجرہ والدہ حضرت اسماعیل کے صبر کی وجہ سے خدا کی نشانیاں اور مقدس و متبرک جگہ ہوگئیں۔ جب ہاجرہ اپنے معصوم بچے اسماعیل کو لے کر اس خشک…
Read the full tafseer →اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِاللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْـبَیْتَ اَوِعْتَمَرَ فَـلَا جُنَاحْ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا ط وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا لافَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔ (البقرۃ : 158)
(بےشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے کوئی نیکی خوشدلی کے ساتھ کی تو اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے )
اصل سلسلہ کلام کی طرف رجوع
گزشتہ چند آیات سے پہلے سلسلہ کلام یہ جاری تھا کہ مسلمانوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تاریخ کے آئینہ میں یہ بتایا جارہا تھا کہ تم اس نبی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پارے کی ابتدا سے تحویل قبلہ کا بیان ہورہا ہے۔ اس دوران زندگی میں پیش آنے والی مشکلات پر ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری سنائی گئی۔ اب صفا ومروہ کی سعی کے حوالے سے گذشتہ مضمون سے پیوستہ کردیا گیا ہے۔
اسلام سے قبل اہل مکہ کے چار بڑے بت تھے جنّ میں سے ہبل کو بیت اللہ میں رکھا گیا اور مناۃ بحر احمر کے کنارے اور لات کو شہر طائف میں رکھا گیا۔ جب کہ عزی کو وادئ نخلہ میں نصب کیا گیا تھا۔ صفا اور مروہ کی دو مقدس پہاڑیوں پر اسااور نائلہ کے بت رکھے گئے تھے۔ اہل مکہ چونکہ اساف اور نائلہ کو خدائی اوتار تسلیم نہیں کرتے تھے ‘ جس کی وجہ سے مناۃ کے ماننے والے صفا اور مروہ کی سعی سے گریز…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 158:
اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآپرِ اللّٰہِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ: (بےشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے۔ تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے اور جو شوق سے کوئی نیکی کرے۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ قدر دان واقف کار ہیں)
ان الصفا و المروۃ۔ صفا ومروہ مکہ میں دو پہاڑ ہیں۔ من شعائر اللّٰہ۔ شعائر جمع شعیرۃ علامت کو کہتے ہیں۔ شعائر اللہ سے مراد عبادت کے مقام اور حج کے مقامات ہیں حج البیت کا معنی کعبہ کا قصد…
Read the full tafseer →(تفسیر) 158۔:
(آیت)” ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ “ صفا، صفاۃ کی جمع ہے اور یہ سخت اور چکنا پتھر ہے ، صفاۃ بھی کہا جاتا ہے اور ” صفا “ بھی جسے حصاۃ بھی کہا جاتا ہے اور ” حصی “ بھی اور نواۃ بھی اور نوی بھی ۔ المروہ نرم پتھر اس کی جمع مروات ہے اور جمع کثیر ” مرو “ ہے جیسے تمرۃ اور تمرات اور تمر صفا اور مراد مقام سعی کے ارد گرد مکہ کی دو مشہور پہاڑیاں ہیں ، اسی وجہ سے ان دونوں پر الف لام داخل کیا گیا اور شعائر اللہ سے مراد دین کے نشان ہیں ، اصل اس کی اشعار ہے جس کے معنی اعلام کے ہیں بتلانا مطلع کرنا شعائر کی واحد شعیرۃ ہے ، نیکی کا ہر وہ عمل جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف قرب حاصل کیا جائے ،…
Read the full tafseer →158: اساف و نائلہ دو شخص تھے انہوں نے کعبہ کے اندر زنا کیا اللہ تعالیٰ ن ان کو پتھر کا کردیا اس وقت کے لوگوں نے ان دونوں پتھروں کو کعبہ کے باہر رکھ دیا تھا تاکہ لوگ ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں پھر رفتہ رفتہ وہ صفا ومروہ پر اس طرح رکھ دئیے گئے کہ صفا پر اساف کو رکھ دیا اور مروہ پر نائلہ کو اور مثل اور بتوں کے ان کی بھی پوجا ہونے لگی اسلام کے بعد لوگوں کو اس سے صفا مروہ کے ما بین دورڑنے میں تامل ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو عبادات حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں۔ صفا مروہ کا دوڑنا بھی انہیں میں سے ہے کیونکہ ہاجرہ (علیہ السلام) پانی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے (آیت) اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ” بیشک صفا اور مروہ ‘ یعنی صفا اور مروہ وہ معروف پہاڑیاں (آیت) مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ ” اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ “ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے دین کی ظاہری علامتیں ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی عبدیت کو جانچتا ہے اور جب صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کے شعائر میں شمار ہوتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے شعائر کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوب (الحج 32) ” اور جو کوئی اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے تو یہ فعل دلوں کا تقویٰ ہے۔ “
دونوں نصوص مجموعی طور پر اس امر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
صفا اور مروہ کے درمیان سعی
ارشاد باری ہے : ان الصفاء والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت او امتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما ( یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ا ن دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے) ابن عینیہ سے مروی ہے انہوں نے زہری سے اور انہوں نے عروہ سے روایت بیان کی ہے کہ میں نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت حضرت عائشہ ؓ کے سامنے کرکے ان سے کہا کہ اگر میں سعی نہ کروں تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔ یہ سن کر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : بھانجے تم نے بہت بری بات کہی۔ حضور ﷺ نے ان کے درمیان سعی کی ہے اور…
Read the full tafseer →430 صفا ومروہ " شعائر اللہ " میں سے ہیں : اسلام سے قبل مشرکین مکہ نے صفا ومروہ کی پہاڑیوں پر " اساف " اور " نائلہ " نامی دو بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا پاٹ کیا کرتے تھے۔ اب جبکہ نور اسلام کے طلوع کے بعد، حج وعمرہ کے دوران صفا ومروہ کے درمیان سعی کا حکم دیا گیا، تو مسلمانوں کو اس بارے میں اشتباہ ہوا کہ جب ان دونوں پہاڑیوں پر شرک و بت پرستی کا ارتکاب کیا گیا، تو اب اس مقام پر سعی جیسے مبارک عمل کو کیسے بجا لائیں، تو اس پر اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دونوں پہاڑیاں تو اللہ پاک کے شعائر میں سے ہیں، اور مشرکوں نے ان پر جس شرک کا ارتکاب کیا تھا، اس کا ازالہ کردیا گیا ہے۔ لہذا اب ان…
Read the full tafseer →حج کے مناسک
تشریح : صفا اور مردہ یہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان سوا فرلانگ کا فاصلہ ہے اور یہ دونوں مسجد حرام کے قریب ہی ہیں ” صفا “ بیت اللہ کے جنوب مشرق اور ” مروہ “ شمال مشرق میں واقع ہیں۔ ان کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دودھ پیتے بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ان کی ماں حضرت ہاجرہ کے ساتھ وادی فاران میں چھوڑ گئے تھے۔ جب ان کا کھانا پانی ختم ہوگیا تو بچہ کی پیاس کی وجہ سے برا حال ہونے لگا تو حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں کبھی ایک پہاڑی پر چڑھتی تھیں اور کبھی دوسری پر ان کے اسی عمل کی یادگار میں سعی کو حج وعمرہ کے مناسک میں شامل کیا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–163
آیات 153- 163
اسرارو معارف
یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوٰۃ ان اللہ مع الصابرین۔
نیک آدمی کو بھی عام انسانی حالات ہی سے سابقہ پڑتا ہے :
ذکر الٰہی سے کوئی اس غلط فہمی میں نہ پڑے کہ وہ کوئی مافوق البشر خاصیت حاصل کر گیا ہے اور اب جو حوائج عام انسانوں کو درپیش ہیں وہ اسے نہ ہوں گے ۔ نہ بھوک لگے گی ، نہ پیاس ، نہ بیماری آئے گی نہ افلاس ، نہ کوئی دشمن ہوگا نہ مخالف بلکہ اسے تمام امور کے لئے سینہ سپر ہونا پڑے گا ، بلکہ عام آدمی کی نسبت مصائب کچھ زیادہ ہی ہوں گے کہ ایک تو وہ تکالیف جو دنیا کی زندگی کا خاصہ ہیں اور جن سے سب کو سابقہ پڑتا ہے ۔ مثلاً معاشی مسائل یا گھریلو اور خاندانی امور میں…
Read the full tafseer →ف 1 صفا اور مروہ مسجد حرام کے قریب دو چھوٹی پہاڑیوں کے نام ہیں۔ ان کے درمیان سعی کرنا حضرت ابراہیم کے زمانہ سے مناسک حج وعمرہ شامل تھا مگر زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے حج اور عمرہ کے منا سک میں کئی رسوم شرکیہ شامل کرلی تھیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ صفا اور مروہ پر دو بت نصب کر رکھے تھے۔ ایک کا نام اساف اور دو سے کا نائلہ تھا جب ان کے درمیان سعی کرتے۔ تو ان بتوں کا استلام بھی کرتے۔ مسلمان ہونے کے بعد ان کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا کہ یہ سعی محض جاہلیت کی ایک رسم ہے۔ اسے نہیں کرنا چاہیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ سعی کے ضرور ہونے پر تو مسلمان متفق تھے تاہم آیت کے ظاہری الفاظ دیکھ کر بعض لوگوں کے دلوں…
Read the full tafseer →(2:158) شعائر۔ شعیرۃ۔ کی جمع ہے شعیرۃ بروزن فعیلۃ بمعنی مفعلۃ ہے مشعرۃ کے معنی نشانی کے ہیں۔ شعائر اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی نشانیاں۔ شعائر اللہ۔ عرف شریعت میں عبادات کے مکانات اور زمانوں اور علامات کو کہتے ہیں ۔ مکانات عبادت جیسے کعبہ۔ عرفہ، مزدلفہ، جمرات ثلاث صفا مروہ۔ منی و جمیع مساجد وغیرہ۔ زمانے (اوقات) جیسے رمضان اور اشہر حج۔ عیدین ۔ جمعہ اور علامات جیسے اذان، اقامت، نماز باجماعت وغیرہ۔
اعتمر۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعتمار (افتعال) مصدر اس نے عمرہ کیا۔ عمرہ زیارت بیت اللہ کے سلسلہ میں ایک مخصوص عبادت کا نام ہے۔ اس کا طریق یہ ہے کہ احرام باندھے جن دنوں چاہے اور طواف کعبہ کرے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163
شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–161
شان نزول : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عبادات کو حج جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھائے گئے ہیں ، صفامروہ کا دوڑنا بھی انہی میں سے ہے ۔ کیونکہ حضرت ہاجرہ ؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑوں کے مابین زمزم کا چشمہ نکلنے سے پہلے دوڑی تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو حج کی عبادات میں داخل کردیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →[103] صفا اور مروہ خانہ کعبہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان سات پھیرے لگانا جسے سعی کہتے ہیں مناسک حج وعمرہ میں سے ہے۔ اسلام سے پہلے ان دونوں پہاڑیوں پر دو بت رکھے ہوئے تھے۔ بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا ان بتوں کے طواف کی غرض سے رہا ہوگا اس لئے سعی کرنے سے جھجکنے لگے۔ یہاں اسی شبہ کو دور کیا گیا ہے۔
[104] حج وعمرہ میں فرق یہ ہے کہ حج ذی الحج کی مقررہ تاریخوں میں ہوتا ہے اور عمرہ ان تاریخوں کے سوا کسی زمانے میں کیا جاسکتا ہے۔ عمرے کے ارکان یہ ہیں۔ احرام باندھنا، طواف کعبہ اور سعی لیکن حج میں اس کے اہم ارکان عرفات میں ٹھہرنا اور منیٰ میں کنکریاں پھینکنا ہیں جسے…
Read the full tafseer →اللہ کے شعائر :
(ف 2) صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان دوڑ ہوتی ہے ، یہ ان معنوں میں اللہ کے شعائر ہیں کہ ان سے مناسک کا وہ حصہ وابستہ ہے جس کی ادائیگی سے عجیب طرح کی للہیت پیدا ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ یہ مقام خلوص و ایمان کے بےپناہ جذبات کے پیدا کرنے میں ممدو معاون ہیں ۔ انہیں اللہ کے شعائر اس لئے کہا کہ ہم مناسک کی روحانیت کو فراموش نہ کریں اور صرف ظاہری رسوم کو صحیح نہ سمجھیں ، بلکہ اس کی روحانیت اور اثر کو برقرار رکھیں ، (آیت) ” لا جناح “ اس لئے کہا کہ پہلے ان دو پہاڑیوں پر بت رکھتے تھے ، صحابہ ؓ اجمعین نے اس لئے کہ شائبہ شرک نہ ہو ‘ طواف کرنے سے تامل کیا ، اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →ف 5 بلاشبہ صفا اور مروہ منجملہ نشانات خداوندی اور علامات عبادت ہیں لہٰذا جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ بجا لائے تو ان دونوں پہاڑوں کے مابین سعی کرنے اور آنے جانے میں اس پر کچھ بھی گناہ نہیں اور جو شخص اپنی رغبت اور خوشی سے کوئی کار خیر کرے اور کچھ نیکی بجا لائے تو یقین مانو !
اللہ تعالیٰ بڑا قدر دان اور شخص کے خلوص اور اس کی نیت کو جاننے والا ہے۔ (تسہیل)
شعائر یا تو شعیرہ کی جمع ہے یا شعارہ کی جس کے معنی ہیں علامت کے۔ شعائر اللہ سے مراد مذہبی اصطلاح میں وہ مکان اور زمان اور وہ علامات و اوقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے مقرر ہوں ان کو شعائر اللہ کہتے ہیں مثلاً کعبہ، عرفات، مزولفہ،…
Read the full tafseer →ف 6۔ حج اور عمرہ اور سعی کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سعی امام احمد کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے کہ ترک سے ایک بکری ذبح کرنا پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جو بیت اللہ کے بالکل قریب ہیں :
281: ہر تعلیم کی کامیابی کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہے : ! نصاب تعلیم ،" معلم اور # تعلیم گاہ ، تینوں ہی چیزیں جتنی معیاری ہوں گی تعلیم اتنی ہی صحیح ہوگی ۔ اسلام نے ان تینوں ضرورتوں کو بہترین طریقہ سے پورا کیا غور کیجئے کہ :
! نصاب تعلیم بہترین ہو کہ اس سے قوم کے بچوں میں حس و بیداری پیدا ہوگی ، جوش وولولہ عمل سے قوم زندہ ہوجائے گی اور جذبہ قومیت ووطنیت ہر شخص میں نظر آئے گا۔ اسلام نے قرآن کریم کو نصاب تعلیم تجویز کیا فرمایا : لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ 1ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ…
Read the full tafseer →The subject of the Ka'bah کعبہ ، as we would do well to recollect, started all the way back from Verse 124 : 'And when his Lord put Ibrahim to a test', later opening with the statement that the Ka'bah کعبہ was made a place for repeated convergence, a sanctuary, and a centre of divine worship as ordained (Verse 125). Then came the famous prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) in which he requested Allah Almighty that he and his people be initiated into the correct method of performing the manasik مناسک ، the required rites, or acts of worship (126 - 129); which is inclusive of the Hajj and `…
Read the full tafseer →157. The pilgrimage to the Ka'bah along with a set of other rites on certain fixed dates of Dhu al-Hijjah is known as hajj. Pilgrimage at other times is known as 'Umrah.
158. Safa and Marwah are the names of two hillocks near the Holy Mosque in Makka. To run between these two hillocks was among the rites which God had taught Abraham in connection with hajj. Later, when Pagan Ignorance prevailed in Makka and the neighbouring regions, altars were built for Isaf at Safa and for Nai'lah at Marwah, and people began to circumambulate them. After the advent of the Prophet, when the light of Islam…
Read the full tafseer →