Al-Baqara 2:140

Al-Baqara · from ayah 140

2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی ؕ— قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ؕ— وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ ؕ— وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۟اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطَ كَانُوۡا هُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰى‌ؕ قُلۡ ءَاَنۡـتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَتَمَ شَهَادَةً عِنۡدَهٗ مِنَ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you say that Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants were Jews or Christians? Say, "Are you more knowing or is Allah?" And who is more unjust than one who conceals a testimony he has from Allah? And Allah is not unaware of what you do.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 16 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:140

یا پھر کیا تما را کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو: "تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چھپائے؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اوﻻد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کہ کیا تم زیاده جانتے ہو، یا اللہ تعالیٰ؟ اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیاده ﻇالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولادیں یہودی یا نصرانی تھیں ؟ (مسلمانو ! ان سے) کہو : کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو ایسی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے پہنچی ہو ؟ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ تم یوں کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ و اسحاقؑ و یعقوب ؑ اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، تم فرماؤ کیا تمہیں علم زیادہ ہے یا اللہ کو اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جس کے پاس اللہ کی طرف کی گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے اور خدا تمہارے کوتکوں (برے اعمال) سے بے خبر نہیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے اہلِ کتاب!) کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب (علیھم السلام) اور ان کے بیٹے یہودی یا نصرانی تھے، فرما دیں: کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اس گواہی کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے (کتاب میں موجود) ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے بے خبر نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی تھے یا عیسائی ؟ کہہ دے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ ؟ اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے وہ شہادت چھپالی جو اس کے پاس اللہ کی طرف سے تھی اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے اہل کتاب) کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور انکی اولاد سب یہودی یا عیسائی تھے ؟ بھلا تم یہ بات زیادہ جانتے ہو یا اللہ تعالیٰ ؟ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جس کے پاس اللہ کی طرف سے شہادت موجود ہو پھر وہ سے چھپائے ؟ اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے بیخبر نہیں ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم دعوی کرتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب اور ان کی ذریت کے لوگ یہودی یا نصرانی تھے۔ پوچھو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائیں۔ اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم لوگ یہ کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، اور یعقوب، اور ان کی اولاد، یہودی، یا نصرانی تھے ؟ کہو کیا تم لوگ زیادہ جانتے ہو، یا اللہ ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو چھپائے اس گواہی کو جو خود اس کے پاس موجود ہو اللہ کی طرف سے ؟ اور اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کر رہے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم (یہ) کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد (یعقوب علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے ؟ ۔ آپ کہیے تم واقف تر ہو یا اللہ ؟ ۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اس شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کے ہاں سے پہنچ چکی ہے ؟۔ ورنہ اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر تو ہے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم اسماعیل اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہیے : تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اور (کان کھول کر سن لو) اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی طرف سے ایک گواہی تھی جسے اس نے چھپالیا ؟ اور اللہ ہرگز غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا پھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم ؑ ، ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے ؟ کہو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جس کے ذمہ اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے تمہاری حرکات سے اللہ تو غافل نہیں ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do you say that Abraham, Ismail, Isaac, Jacob and his children were all Jews or Christians? Ask them, "Do you know more than Allah does? And who is more unjust than the one who hides the testimony which Allah has entrusted to him? Allah is not unaware of what you are doing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or, would you say that Ibrahim, Ismai'l, IsHaq, Ya'qub and their children were Jews or Christians? Say: :Do you know better or does Allah? Who can be more unjust than the one who conceals the testimony he has from Allah? Allah is not unaware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani

Or, would you say that Ibrahim, Ismail, IsHaq, Yaqub and their children were Jews or Christians? Say: :Do you know better or does Allah? Who can be more unjust than the one who conceals the testimony he has from Allah? Allah is not unaware of what you do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or say you that Ibrahim, Isma`il, Ishaq, Ya`qub and Al-Asbat, were Jews or Christians Say, "Do you know better or does Allah And who is more unjust than he who conceals the testimony he has from Allah And Allah is not unaware of what you do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or say ye that Abraham, and Ishmael, and Isaac, and Jacob, and the tribes were Jews or Christians? Say: Do ye know best, or doth Allah? And who is more unjust than he who hideth a testimony which he hath received from Allah? Allah is not unaware of what ye do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you say that Abraham and Ishmael and Isaac and Jacob and the Descendants were Jews or Christians? Say, "Are you more knowing or is Allah?" And who is more unjust than one who conceals a testimony he has from Allah? And Allah is not unaware of what you do.

— Saheeh International

Everyone will be responsible for his own deeds. Do you (People of the Book) claim that Abraham, Ishmael, Isaac, and their descendants were Jews or Christians?" Ask them, "Who possesses greater knowledge, you or God? Who is more unjust than one who refuses to testify to the truth that God has given to him?" God is not unaware of what you do.

— Muhammad Sarwar

Nay! do you say that Ibrahim and Ismail and Yaqoub and the tribes were Jews or Christians? Say: Are you better knowing or Allah? And who is more unjust than he who conceals a testimony that he has from Allah? And Allah is not at all heedless of what you do.

— Muhammad Habib Shakir

Or say ye that Ibrahim and Ismai'l and Ishaq and Ya'qub, and the tribes were Jews or Nazarenes? Say thou: are ye the more knowing or is Allah? And who is more unjust than he who hideth a testimony that is with him from Allah? And Allah is not neglectful of that which ye Work.

— Abdul Majid Daryabadi

Or do ye say that Abraham, Isma'il Isaac, Jacob and the Tribes were Jews or Christians? Say: Do ye know better than Allah? Ah! who is more unjust than those who conceal the testimony they have from Allah? but Allah is not unmindful of what ye do!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:140

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 139–141

مشرکین کے اعمال پر بیزاری مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی ﷺ کو دے رہا ہے کہ " تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں " اور جگہ فرمایا آیت (فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ) 6۔ الانعام :147) یعنی " اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے (نیک) کام سے اور میں تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 140–141

سورة الْبَقَرَة 140 یہ خطاب یہود و نصاریٰ کے ان جاہل عوام سے ہے جو واقعی اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ یہ جلیل القدر انبیا سب کے سب یہودی یا عیسائی تھے۔ سورة الْبَقَرَة 141 یہ خطاب ان کے علما سے ہے، جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہ تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیّات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ حق کے اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے اور عوام کو اسی غلط فہمی میں مبتلا رکھتے تھے کہ انبیا کے مدّتوں بعد جو عقیدے، جو طریقے اور جو اجتہادی ضابطے اور قاعدے ان کے فقہا، صوفیہ اور متکلّمین نے وضع کیے، انہیں کی پیروی پر انسان کی فلاح اور نجات کا مدار ہے۔ ان علما سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

خلاصہ تفسیر آپ (ان یہود و نصاری سے) فرما دیجئے کہ کیا تم لوگ (اب بھی) ہم سے حجت کئے جاتے ہو حق تعالیٰ کے معاملہ میں (کہ وہ ہم کو قیامت میں نہ بخشیں گے) حالانکہ وہ ہمارا اور تمہارا (سب کا) رب (اور مالک) ہے (سو ربوبیت میں تو تمہارے ساتھ کوئی خصوصیت نہیں جیسا تمہارے بعض دعو وں سے اختصاص مفہوم ہوتا ہے مثل نحن ابناء اللہ) اور ہم کو ہمارا کیا ہوا ملے گا اور تم کو تمہارا کیا ہوا ملے گا (یہاں تک تو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہے) اور (اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ) ہم نے صرف حق تعالیٰ (کی خوشنودی) کے لئے اپنے (دین) کو (شرک وغیرہ سے) خالص کر رکھا ہے (بخلاف تمہارے طریقہ موجودہ کے کہ علاوہ منسوخ ہونے کے خود شرک سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ یہود و نصاری سے حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کے باب میں ان کے دعوے کو پھر دہرانے کا مطالبہ بطور اتمام حجت کے کیا ہے۔ یعنی کیا فی الواقع تم یہ سنگین بات کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کے اخلاف یہودی یا نصرانی تھے، پھر سرزنش کے انداز میں سوال کرایا ہے کہ ان لوگوں کے مذہب و عقیدہ کا حال تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ پھر بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ ان لوگوں سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو چھپائیں، یعنی تورات موجود ہے، اس میں ان لوگوں کے مذہب و عقیدہ کی تفصیلات موجود ہیں، اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کے زمانوں میں یہودیت اور نصرانیت کا کہیں نام و نشان بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

140۔ 1 تم کہتے ہو کہ یہ اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھی، جب کہ اللہ تعالیٰ اس کی نفی فرماتا ہے۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ زیادہ علم اللہ کو ہے یا تمہیں۔ 140۔ 2 تمہیں معلوم ہے کہ یہ انبیاء یہودی یا عیسائی نہیں تھے، اسی طرح تمہاری کتابوں میں آنحضرت کی نشانیاں بھی موجود ہیں، لیکن تم ان شہادتوں کو لوگوں سے چھپا کر ایک بڑے ظلم کا ارتکاب کر رہے ہو جو اللہ تعالیٰ سے خفیہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 140–141

88: یہ حقیقت دراصل ان کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیاء کرام توحید خالص کا درس دیتے رہے ہیں اور ان بےبنیاد عقیدوں سے انبیاء کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے اور ان میں نبی آخرالزمان ﷺ کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم ان کو چھپائے بیٹھے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب اس ناقابل نزاع موقف سے روئے سخن ایک دوسرے موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ، جس میں اختلاف موجود تھا ، لیکن بتایا جاتا ہے کہ اس میں جو بھی اختلاف کیا گیا وہ بھی غیر ضروری اور غیر معقول اختلاف ہے ۔ فرماتے ہیں أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى یا پھر تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اولاد یعقوب سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ “ یہ لوگ تو حضرت موسیٰ سے بھی پہلے گزرے ہیں اور یہودیت اور نصرانیت کے وجود میں آنے سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ اور ان کے دین کی حقیقت اللہ نے بیان بھی کردی ہے ۔ اور اس کی گواہی دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی بابت یہود اور نصاریٰ کا یہ دعویٰ کہ وہ یہودی یا نصرانی تھے دروغ صریح ہے علاوہ ازیں حق تعالیٰ تو فرماتا ہے (آیت) ماکان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا تو اب بتلاؤ تم کو علم زیادہ ہے یا اللہ تعالیٰ کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 140 اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی ط تم جو کہتے ہو کہ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی تب ہدایت پاؤ گے ‘ تو کیا ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے یا نصرانی ؟ اور اسحاق ‘ یعقوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کون تھے ؟ یہی بات آج مسلمانوں کو سوچنی چاہیے کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب رض دیوبندی تھے ‘ بریلوی تھے ‘ اہل حدیث تھے یا شیعہ تھے ؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ ان تقسیموں سے بالاتر رہا جائے۔ ٹھیک ہے ایک شخص کسی فقہی مسلک کی پیروی کر رہا ہے ‘ لیکن اس مسلک کو اپنی شناخت بنا لینا ‘ اسے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

172 اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق تیسری اور چوتھی صدی قبل مسیح میں معرض وجود میں آئی تھی۔ اور عیسائیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے مابعد کی پیداوار ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے عالم لوگ اس بات کو خوب جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اسماعیل (علیہ السلام) ، اسحاق علیہ السلام، یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) وغیرہم۔ اس قسم کی یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے وفات پاچکے تھے، مگر ان علمائے یہود و نصاریٰ نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

503 ۔ یعنی کیا تمہارا یہ دعوی ہے کہ ان پیغمبروں، بزرگوں اور تمہارے مورثوں کے عقائد ذات وصفات باری کے باب میں بجائے دین توحید واسلام کے یہودیت ونصرانیت کے تھے ؟ (آیت) ” ام تقولون “۔ خطاب اہل کتاب خصوصا یہود سے ہے۔ اور لہجہ خطاب میں زجر کا پہلو شامل ہے۔ صیغۃ استفھام ومعناہ التوبیخ (معالم) جتنے اسماء واعلام یہاں آئے ہیں، ان سب پر حاشیے آیت 136 کے ذیل میں اور اس کے قبل گزر چکے۔ 504 ۔ (ان حضرات کے دین و عقائد کے باب میں) اور اللہ کی شہادت یہ ہے کہ یہ سب توحید خالص کے پیرو تھے۔ نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے بڑے عالم وفاضل موجود تھے۔ ان سب کو چیلنج دے کر ایک امی کی زبان سے کہلایا جارہا ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَھَادَۃً الخ یہ خطاب دراصل ان علماء یہود کو ہے جو خود بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں تھے کہ یہودیت اور عیسائیت اپنی موجودہ خصوصیات کے ساتھ بہت بعد میں پیدا ہوئی مگر اس کے باوجود وہ حق کو اپنے ہی فرقوں میں محدود سمجھتے تھے، نزول قرآن کے وقت یہود میں بڑے بڑے عالم فاضل موجود تھے ان سب کو چیلنج دیکر ایک امی کی زبان سے کہلایا جا رہا ہے کہ تم واقعات کو توڑ مروڑ کر صداقتوں کا گلانٹ کر کچھ بھی کہے جاؤ، واقعہ اور حقیقت اچریات جو کچھ ان حضرات کے دین کی بابت کہہ رہے ہیں جس کی تفصیل گزرچکی ہے وہ اسی قرآنی متن کی شرح اور اسی امی کے لائے ہوئے کلام کے اجمال کی تفصیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَمْ تَقُوْلُوْنَ ( کیا تم کہتے ہو) ام تقولون میں ام منقطعہ ہے اور ہمزہ انکار کیلئے ہے اور بعض نے کہا کہ ام بمعنی ہمزہ ہے اور مراد توبیخ ( دھمکانا) ہے ابن عامر حمزہ اور کسائی اور حفص نے تقولون ( کو صیغہ خطاب سے اور باقی قراء نے صیغہ غائب سے پڑھا ہے۔ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ( کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ) یعنی تم تو ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب (علیہم السلام) کو یہودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(140) اے یہود ونصاری کی جماعتو ! جیسا کہ تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، ویعقوب (علیہم السلام) اور حضرت یعقوب ؑ کی اولاد یہ سب یہودی یا نصاری تھے، اے محمد ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ کیا تم ان کے دین سے زیادہ واقف ہو یا اللہ سے زیادہ واقف ہے۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس بات سے مطلع فرما دیا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، اور اس شخص سے بڑا منکر کون ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور دلیری کرے اور توریت میں جو رسول اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی ہے اس کو چھپائے یہ لوگ جو اس گواہی اور شہادت کو چھپاتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہودیت اپنے موجودہ نظریات و عقائد کے مطابق موسیٰ ؑ کے بہت بعد اور نصرانیت اپنے مخصوص نظریات و عقائد کے مطابق عیسیٰ ؑ کے بہت بعد وجود میں آئی۔ یہود و نصاریٰ کے عالم لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب ؑ اور ان کی اولاد اس یہودیت و نصرانیت سے، بلکہ موسیٰ اور عیسیٰ ؑ سے بھی بہت پہلے ہو گزرے ہیں، مگر یہود و نصاریٰ کے ان علماء نے عوام کے ذہن میں یہ بات پختہ کردی تھی کہ یہ تمام انبیاء یہود کے قول کے مطابق یہودی تھے اور نصاریٰ کے قول کے مطابق نصرانی تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے علمائے یہود و نصاریٰ کی اس بددیانتی کو ظاہر فرمایا ہے اور شہادت چھپانے کے مجرم قرار دے کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 140 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تقولون یہ بمعنی قالوا ہے۔ حمزہ، کسائی اور عاصم نے اور ایک روایت میں حفض نے تقولون تاء کے ساتھ پڑھا ہے یہ عمدہ قراءت ہے کیونکہ مفصل ہے۔ گویا معنی ہے : کیا تم اللہ کے دین کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو یا تم کہتے ہوا نبی اء کرام تمہارے دین پر تھے۔ یہ ام متصلہ ہے اور جنہوں نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ان کی قراءت پر ام منقطعہ ہے پس یہ دو کلام ہوں گے۔ اور ام بمعنی بل ہوگا۔ ھودًا یہ کان کی خبر جملہ میں ہے اور غیر قرآن میں ھودا کو رفع ان کی خبر کی حیثیت سے جائز ہے اور کان ملغہ ہوگا۔ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ءانتم اعلم ام اللہ یہ تقریر اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 139–141

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” اتخاصمونا “ یعنی کیا ہم سے جھگڑا کرتے ہو۔ (2) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” قل اتحاجوننا “ سے مراد ہے ” قل اتحاجوننا “ یعنی تم ہم سے جھگڑتے ہو۔ (3) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ومن اظلم ممن کتم شھادۃ عندہ من اللہ “ میں یہودیوں کا وہ قول مراد ہے جو انہوں نے ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے بارے میں کہا تھا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس کوئی شہادت ہے تو مجھ سے وہ شہادت نہ چھپاؤ۔ اور تحقیق اللہ تعالیٰ جانتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

(اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ : یا تم لوگ کہتے ہو کہ) ( َ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ : ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل ) ( (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولادیں ‘) (کَانُوْا : وہ سب تھے) (ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : یہودی یا عیسائی) (قُلْ : کہو) (ئَ اَنْتُمْ : کیا تم لوگ) (اَعْلَمُ : زیادہ جانتے ہو ) (اَمِ اللّٰہُ : یا اللہ (زیادہ جانتا ہے) وَمَنْ : اور کون ) (اَظْلَمُ : زیادہ ظالم ہے) (مِمَّنْ : اس سے جس نے ) (کَتَمَ : چھپایا) (شَھَادَۃً : اس گواہی کو جو ) (عِنْدَہٗ : اس کے پاس ہے ) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ (کی طرف) سے)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہود و نصاری کے اس قول کی تردید کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب یہودی یا نصرانی تھے یہودی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد جن کو اللہ نے نبوت سے سر فراز فرمایا یہودی تھے۔ اور نصاری کہتے تھے کہ یہ حضرات نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان لوگوں کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ یہ حضرات ملت ابراہیمی پر تھے یہودیت اور نصرانیت اور توریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہیں جن سے تم اپنا جوڑ لگاتے ہو پھر ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اور پوتے یہودیت اور نصرانیت اور توریت پر کیسے ہوسکتے ہیں تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے۔ ظاہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 139–141

تلقین جواب از مجادلۂ اہل کتاب قال تعالیٰ قل اتحاجوننا فی اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ وال تسئلون عما کانوا یعملون اور اگر اہل کتاب آپ سے اس بارے میں مجادلہ کریں کہ ہم خدا کے رنگ کے ساتھ رنگین ہیں ہمارا دین اور ہماری کتاب تمہارے دین اور تمہاری کتاب سے مقدم ہے نبوت و رسالت ہمیشہ ہمارے ہی خاندان میں رہی اور ہم اللہ کے محبوب ہیں تو آپ ان کے جواب میں یہ کہدیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں مجادلہ کیے چلے جاتے ہو۔ حالانکہ وہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اس کی ربوبیت کسی کے ساتھ مخصوص نہیں سب کو عام ہے جو اس کے حکم کے مطابق طاعت اور عبادت کرے گا وہ قبول ہوگی ورنہ رد۔ اور ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

265 جب یہود ونصاریٰ کو ہر طرح کے دلائل سے لاجواب کردیا گیا اور کہا گیا کہ اگر توحید معیارِ صداقت ہے تو ہم موحد ہیں۔ اور اگر اتباع معیار حق ہے تو ہم تمام انبیاء پر ایمان لاتے اور ان کے پیغام توحید کو مانتے ہیں۔ مگر جب ان سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا تو انہوں نے یہ غلط پروپیگنڈا شروع کردیا۔ کہ پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) تو ان کے مذہب پر تھے۔ یہودیوں کا دعویٰ تھا کہ وہ سب یہودی تھے اور نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ وہ سب نصرانی تھے تو اللہ تعالیٰ نے بطور زجر فرمایا کہ کیا اب تم یہ کہتے ہو کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) تمہارے مذہب پر تھے اور تمہاری طرح عیاذاً باللہ مشرک تھے۔ قُلْ ءَاَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 139–141

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یہود ونصاری مسلمانوں کو اپنے باطل مذہب کی طرف دعوت دیتے تھے کہ یہودی اور نصرانی ہوجاؤ تو ہدایت پا جاؤ گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے کہلوایا کہ ہم تو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے اور شرک کرنے والوں میں نہیں تھے اس کے بعد ملت اسلام اور ملت ابراہیم کا اہل اصول اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بیان کیا گیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ تم اعلان کر دو کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اس کی توحید اور اس کی کتاب کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف نازل کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْـبَاطَ كَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى۝ 0 ۭ قُلْ ءَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللہُ۝ 0 ۭ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللہِ۝ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۝ 140 أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 140–141

ترکیب : قل فعل بافاعل اہمزئہ استفہام انکاری اتحاجوننا الخ جملہ استفہامیہ اس کا مقولہ ام معادلۃ للہمزۃ فی قولہ تعالیٰ اتحا جو ننا یعنی ان دونوں باتوں میں سے کون سی کرتے ہو۔ ہم سے خدا میں جھگڑا کرتے ہو کہ وہ خاص ہمارا ہی خدا ہے بغیر یہودی یا نصرانی ہونے کے نجات ممکن نہیں۔ اس پر کوئی دلیل یا برہان بھی رکھتے ہو یا محض تقلید اور افترا سے کام لیتے ہو یا یہ کہو کہ ابراہیم اور اسماعیل و اسحاق و یعقوب و اسباط یہودی و نصرانی تھے ہم ان کے پیرو ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ام اللہ مبتدا و الخبر محذوف ای ام اللہ اعلم ام متصلہ ہے۔ ای ایکم اعلم استفہام انکاری ہے۔ شہادۃ موصوف عند ثابت کے متعلق…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ کَانُوْا ھُوْدًا اَوْنَصٰرٰیط قُلْ ئَ اَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰہُط وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللّٰہِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (کیا تم دعویٰ کرتے ہو کہ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد یہودی تھے یا نصرانی۔ پوچھو ! تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائے اور اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو) (البقرۃ : 140) بحث کو ختم کرتے ہوئے پھر ایک دفعہ یہود…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 140–141

فہم القرآن ربط کلام : انبیائے کرام فرقہ واریت سے مبرّا حضرات تھے اور ان کو فرقہ واریت میں گھسیٹنا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو ٹھکرانے اور چھپانے کے مترادف ہے۔ یہود و نصاریٰ انتہائی ہٹ دھرم لوگ ہیں جو جغرافیائی حقائق ‘ تاریخی شواہد اور الہامی دلائل سننے کے باوجود بھی رسول معظم ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک اپنی ضد پر قائم اور جھوٹا دعو ٰی کیے جا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہودی اور عیسائی ہونے میں ہے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء کو یہودی اور عیسائی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کو حکم دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

140۔ اَمْ تَقُوْلُوْنَ : (کیا تم کہتے ہو) قراءت۔ یہ شامی اور کوفی نے ابوبکر کے علاوہ تائؔ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ام کونسا ہے ؟ نمبر 1۔ اس صورت میں اَمْ ہمزہ کے معادل ہے جو اَتُحَاجُّوْنَنَا میں ہے یعنی کونسا کام تم کرو گے ؟ اللہ کے حکم میں حجت بازی یا دعویٰ یہودیت اور نصرانیت انبیاء ( علیہ السلام) کے متعلق ؟ نمبر 2 دوسرا قول : اَمْ منقطعہ ہے یعنی بلکہ کیا تم کہتے ہو ؟ یقولونؔ دوسروں نے یائؔ سے پڑھا ہے اس صورت میں ہمزہ منقطعہ ہی ہوسکتا ہے۔ اِنَّ اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَ سْبَاطَ کَانُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی : (کہ ابراہیم، اسماعیل ٗ اسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد یہودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

140۔ (آیت)” ام تقولون “ بمعنی ” اتقولون “ ہے یہ استفہام (پوچھنے) کا لفظ ہے اور اس کا معنی توبیخ یعنی ڈانٹنا ہے ، ابن عامر حمزہ کسائی حفص نے (آیت)” ام تقولون “ کو تاء کے ساتھ پڑھا ہے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کیء (آیت)” قل اتحاجوننافی اللہ “ اور اس کے بعد فرمایا (آیت)” قل انتم اعلم ام اللہ “ (مقصد یہ کہ آگے پیچھے چونکہ خطاب کے صیغے ہیں اس لیے (آیت)” ام تقولون “ بھی تاء کے ساتھ بصیغہ خطاب ہوگا) اور باقیوں نے یاء کے ساتھ بصیغہ غائب پڑھا ہے ۔ معنی ہوگا یہود و نصاری کہتے ہیں (آیت)” ان ابراھیم واسماعیل واسحاق و یعقوب والاسباط کونوا ھودا اونصاری قل ” یامحمد “ انتم اعلم “ ان کے دین کے بارے میں (تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 139–141

(139 ۔ 141) ۔ اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ہے جو انہوں نے کہی تھی۔ کہ { کُوْنُوْا ھُوْدًا اَّوْ نَصَرٰی } مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم تم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور راودوں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء کے عبد اللہ بن سلام وغیرہ جو سلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر روقت قائل کرتے ہیں اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے۔ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ ان کی طرف سے ایک اور دعویٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے بارے میں ایک اور مباحثہ ہے۔ انہوں نے گمان کیا کہ وہ مسلمانوں کی نسبت مذکورہ رسولوں کے زیادہ قریب ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ) ” کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (مَا كَانَ اِبْرٰہِيْمُ يَہُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا۝ 0ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 67) ” ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے اور مشرکین میں سے بھی نہ تھے۔ “ اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابراہیم ( علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 138–142

قول باری ہے : سیقول السفھاء من الناس ماولھم عن قبلتھم التی کانوا علیھا ( نادان لوگ ضرور کہیں گے، انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اس سے یکا یک پھرگئے) ابوبکر حصاص کہتے ہیں کہ اہل اسلام کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ حضور ﷺ مکہ میں نیز ہجرت کے بعد ایک عرصے تک مدینہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت براء بن عازب ؓ نے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی مدینہ تشریف آور کے سترہ مہینے بعد تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ قتادہ نے کہا ہے کہ سولہ ماہ بعد۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ یہ عرصہ نو ماہ یا دس ماہ کا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

384 اللہ سے کچھ مخفی نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بیخبر نہیں ان کاموں سے جو تم لوگ کرتے ہو "۔ اور اس نے تمہارے سب کرتوتوں کا ریکارڈ بھی تیار کرا رکھا ہے اور پوری باریکی اور نہایت محکم طریقے کے ساتھ جس کے مطابق تمہیں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ پس تم سوچو اور پوری طرح سے سوچ اور دیکھ لو کہ تم کس انجام کی طرف جا رہے ہو۔ اور آگے تم لوگوں کو کس مہیب نتیجہ و انجام سے سابقہ پیش آنے والا ہے۔ لہذا اس کو سوچ کر تم اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے، اور تمہیں ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ العلی العظیم۔ اور اس طرح کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 137–140

مسلمان کی وضاحت تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے ایمان کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایمان اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہی مقبول ہے جیسا ایمان آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا اس کے علاوہ اگر ذرا بھی نفاق، شرک اور نافرمانی کا اثر موجود ہو تو ایسا ایمان اللہ تعالیٰ کو نامنظور ہے۔ رب جل شانہ فرماتے ہیں : اے پیغمبر ﷺ آپ نے ہمارا پیغام پہنچا کر اپنا فرض ادا کردیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی نجات چاہتے ہیں تو اسلام قبول کرکے کامیاب ہوجائیں، ہم ان کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیں گے اور اگر یہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور نافرمانی پر اڑے رہتے ہیں تو آپ ﷺ اس کی بالکل فکر نہ کریں ہم ان کے ظاہر و باطن سے پوری طرح آگاہ ہیں تو ہم ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 130–141

آیات 130- 141 اسرارو معارف حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا اسوہ حسنہ ، آپ کا مذہب ، آپ کے عقائد اور اعمال انسانیت کی معراج ہیں۔ ان سے پھرنے والا شخص وہی ہوسکتا ہے جو انسانی قدروں سے بالکل ہی واقفیت نہ رکھتا ہو اور انتہائی درجے کا احمق ہو۔ ورنہ جسے فطرت سلیمہ نصیب ہوگی وہ ان کمالات کو اپنانے کی کوشش کرے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) ایسی مبارک ہستی ہیں کہ ہم سرفراز فرما کر اپنے لئے چن لیا اور آخرت میں بھی وہ اللہ کے مقرب ومقبول بندوں میں سے ہیں تو ایک ایسا کردار ، جو دو عالم میں سر بلندی و سرفرازی عطا کرے اور قرب الٰہی کا سبب اور وسیلہ بنے اسے کوئی ہو ش مند انسان تو چھوڑنے سے رہا بلکہ جس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ انبیاء نہ یہودی اور نصرانی ہونے کا دعوی کرتے ہو پھر تم ہی بتاؤ زیادہ علم تم کو ہے یا اللہ تعالیٰ کو ؟ 5 یعنی تم اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ انبیاء یہودی یا نصرانی نہیں تھے بلکہ سب کا دین وہی اسلام تھا جس کی طرف آج محمد ﷺ دعوت دے رہے ہیں۔ مگر بایں ہمہ تم اس شہادت کو چھپا رہے ہو نیز تمہیں اپنی کتابوں کو ذریعہ خوب معلوم ہے کہ نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے سچے اور آخری نبی ہیں جب کے متعلق تمہاری کتابوں میں بشارت تیں موجود ہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ قرآن واقعی اللہ تعالیٰ آخری کتاب ہے مگر تم ان سب شہادتوں کو محض تعصب اور حسد اور نغض کی بنا پر چھپا رہے ہو پھر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 140–141

(2:140) ام۔ معادلۃ للھمزۃ ہے (یعنی ہمزہ استفہام انکاری جو اوپر اتحاجوننا میں آیا ہے اسی معنی میں یہ آتا ہے) (ای وقل یا محمد) ام تقولون ۔۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور اسباط یہودی یا نصرانی تھے ؟ تمہارا کہنا بھی بےبنیاد اور ناقابل تسلیم اور افتراء ہے کیونکہ یہودیت اور نصرانیت تو ان حضرات (علیہم السلام) کے بعد کی بات ہے انما حدثت الیہودیۃ والنصرانیۃ بعدھم وثبت کذبکم یا معشر الیہود والنصری علی ابراہیم وبنیہ۔ مقصود یہ ہے کہ تمہاری یہ دونوں باتیں محاجۃ فی دین اللہ وقولکم کانوا ابراہیم ۔۔ الخ۔ ھودا اور نصاری بالکل غلط ہیں۔ قل (ای قل یا محمد) تو کہہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 130–141

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 139–141

شان نزول : اہل کتاب کی اس بات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جو انہوں نے کہی تھی کہ ہم سب ایک خدا کے بندے اور فرمانبردار ہیں پھر تم جو اپنے آپ کو صاحب ہدایت اور اوروں کو گمراہ سمجھتے ہو اس کی دلیل تمہارے پاس کیا ہے ۔ رہی ہماری دلیل وہ خود تمہاری کتابیں ہیں ۔ جن میں یہ موجود ہے کہ نبی آخر الزماں کے پیدا ہونے اور نبی ہوجانے کے بعد اور کوئی دین قائم نہیں رہ سکتا ۔ اگرچہ تم نے اپنی کتابوں کی وہ آیتیں بدل ڈالی ہیں لیکن تمہارے علماء میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ جو اسلام لے آئے ہیں وہ تم کو ہر وقت قائل کرتے ہیں۔ اس پر بھی تم کو کچھ حجت ہے تو ہمارا کیا ہمارے آگے آوے گا اور تمہارا کیا تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 140–141

[85] شہادت چھپانے سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی شہادت جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور اب بھی اس کا پتہ چلتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) ان آیات میں پھر اس وہم کی تردید ہے کہ سابقہ ابنیاء یہودی تعصب اور عیسائی جہالت کے متعقد تھے ، فرمایا کہ یہ سب خرافات اور غلط عقائد جو ان میں رائج ہوگئے ہیں اور جن سے یہ آج دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں کتمان شہادت کا نتیجہ ہیں ، اگر یہ خدا کے احکام صحیح صحیح صورت میں رہنے دیتے اور اپنی نفسانی خواہشات کے تابع نہ بناتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ جو کچھ کہا گیا ہے ‘ اس میں کسی طرح شک وشبہ نہیں ، فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر بات کو دیکھ رہے ہیں ، وہ تمہاری بداعمالیوں سے غافل نہیں ، تمہیں غرہ ہے اپنی مال و دولت کا اور تم یہ سمجھتے ہو کہ مال و دولت سے بہرہ وری تمہارے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 139–140

ف 2 اے نبی آپ ان اہل کتاب سے فرمائیے کیا تم لوگ ہم سے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کج بحثی اور کٹ حجتی کئے جاتے ہو حالانکہ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم نے تو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے اعمال کو اور اپنے دین کو خالص کر رکھا ہے کیا تم اب یہی کہے جاتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد یہ سب لوگ یہودی یا نصرانی تھے آپ ان سے فرماتے اچھا یہ تو بتائو تم زیادہ ان لوگوں کے دین سے واقف ہو یا اللہ تعالیٰ حالانکہ تم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ جب یہ حضرات یہود و نصاری نہ تھے تو تم طریقہ دین میں ان کے موافق کب ہوئے پھر تمہارا حق پر ہونا بھی ثابت نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے اہل کتاب ذرا عقل کے ناخن لو کیا کہہ رہے ہو ؟ 255: کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم ، اسماعیل ، اسحٰق ، یعقوب اور اولاد یعقوب (علیہم السلام) سب کے سب یہودی یا نصرانی تھے ؟ اس جواب کو سمجھنے کے لئے دو باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ یہودیت اور عیسائیت دونوں بعد کی پیداوار ہیں۔ ” یہودیت “ اپنے اسی نام اور اپنی مذہبی خصوصیات اور رسوم و قواعد کے ساتھ تیسری چوتھی صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئی اور ” عیسائیت “ جن عقائد اور مخصوص مذہبی تصورات کے مجموعے کا نام ہے وہ حضرت مسیح کے بھی ایک مدت بعد وجود میں آئے۔ اب سوال یہ خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے برسر ہدایت ہونے کا مدار یہودیت یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 139–141

These three verses bring to an end the section of the Surah in which certain claims of the Jews and the Christians have been refuted -- for example, their assertion that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) (Abraham), Sayyidna Ismail (علیہ السلام) (Ishmael), Sayyidna Ishaq (علیہ السلام) (Isaac), Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) (Jacob) and the prophets (علیہم السلام) in his lineage were either Jews or Christians, and the claim that they were the chosen people and would have the exclusive privilege of being sent straight to Paradise which would be denied to Muslims. The earlier verses have established…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 140–141

140. This remark is addressed to the ignorant mass of Jews and Christians who sincerely believed that all the Prophets belonged to their religious denomination. 141. This remark is addressed to the Jewish and Christian theologians who were not unaware that Judaism and Christianity, with their existing characteristics, had emerged at a relatively late period in history. They nevertheless considered Truth to he confined to their own religious sects. They also perpetuated the misunderstanding that man's ultimate happiness and success lay in following the beliefs, institutions and legal codes…

Read the full tafseer →